تدبر القرآن ۔۔۔ سورہ الکھف ۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ-2

تدبرِ القرآن
سورہ الکھف
استاد نعمان علی خان
حصہ-2

اعوذ باللہ من الشیطان الرجی

إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا - 18:7

"یقیناً ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے زینت اسکے لیے تاکہ ہم آزمائش کریں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل کے لحاظ سے"

اس دنیا کی تمام خوبصورتی؛ پہاڑ، دریا، درخت، پھول، ہر شے، اللہ نے فرمایا: 
یہ "زینت" ہے۔ یہ سب صرف اس دنیا کی سجاوٹ کے لیے ہے۔ اور اس کا مقصد کیا ہے؟ 
لِنَبْلُوَھُمْ : اس کا مقصد انسان کو آزمانا ہے۔
اللہ تعالی نے دنیا میں جتنی بھی خوبصورتی رکھی ہے وہ سب ہماری آزمائش کے لیے ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے جو یہ تمام نظام موجود ہے، یہ جو گھر ہے، یہاں موجود ہر شے کس لیے ہے؟؟؟ 
ہمارے امتحان کے لیے۔
جب آپ کمرہ امتحان میں موجود ہوتے ہیں تو وہاں مکمل خاموشی ہوتی ہے نا؟ ہر کوئی ایک مخصوص طریقے سے بیٹھا ہوتا ہے، کسی کتاب کو ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی، کچھ بھی ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔
ہے نا؟؟ 
وہ سب کیوں ہوتا ہے؟؟ 
تاکہ آپ آسانی سے پرچہ حل کر سکیں۔ آپ دھیان سے اپنا پرچہ مکمل کر سکیں۔ کوئی ڈسٹربنس نہ ہو۔ کوئی ڈسٹریکشن نہ ہو۔
اصل کمرہ امتحان کیا ہے؟؟ 
یہ دنیا جس میں ہم رہ رہے ہیں، جو پر کشش چیزوں سے بھری پڑی ہے۔
تو پھر امتحان کس بارے میں ہے؟ 
امتحان یہ ہے کہ کون اس خوبصورتی میں رہتے ہوئے بھی اپنی نفس کو قابو میں رکھ کر نیک اعمال کرتا ہے۔ 
"کون کس شے کا انتخاب کرتا ہے
یہ ہے ہمارا امتحان۔۔ 
کون اس خوبصورتی میں گُم جاتا ہے اور کسے اس بات کا احساس ہے کہ یہ سب کچھ وقتی ہے، اور ہمارا مقصد یہ سب حاصل کرنا نہیں،
یہ ہمارا امتحان ہے کہ کون اللہ کو یاد رکھتا ہے، اور کون بھول جاتا ہے۔۔۔

وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا - 18:8

"اور یقیناً ہم بنادیں گے جو کچھ اس (زمین) پر ہے صاف میدان بنجر"

چاہے آپ اس دنیا کی خوبصورتی کو جتنا بھی سراہیں، جتنی بھی اس سے محبت کریں، اس پہ جو کچھ بھی ہے، یاد رکھیں، یہ سب ختم ہوجائے گا۔
بڑی بڑی عمارات، وہ سب جو انسان نے بنایا ہے، ہر شے، بڑی یا چھوٹی، سب ختم ہوجائے گا اور زمین بالکل بنجر ہو کر رہ جائے گی۔ کچھ بھی اس پہ باقی نہ رہے گا۔ کوئی پہاڑ، کوئی تنکا نہیں بچے گا۔
آج جب ہم یہاں رہ رہے ہیں تو ہمیں اس کی حقیقت سے واقف ہونا چاہیے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ "آج کیا ہے"؟ آج امتحان کا دن ہے۔
اور "کل کیا ہے"؟؟ حساب کا دن۔
اور اس کے بعد؟؟؟ کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی۔ جو اس چیز پہ انحصار کرتی ہے کہ ہم اپنا "آج" کیسے گزارتے ہیں۔ ہمارا "آج" اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ ہماری اگلی زندگی کیسی ہوگی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔



تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ہجرتِ مصطفی کا منظوم واقعہ

الفاظ کی نئی دنیا (صراحہ)

آخری خواہش

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل کچھ دل سے استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورہ المؤمنون سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل