پہاڑ کا پیغام

⚟ پہاڑ کا پیغام ⚞
منقول از اردو ورڈ بلاگ

تصور کریں کہ ایک خوبصورت پہاڑ ہے، جس کی چوٹی برف سے ڈھکی ہوئی ہے۔ جب آپ اسے دیکھیں تو آپ محسوس کریں کہ اس کا اندرونی حصہ مستقل طور پر پرسکون اور درجہ حرارت اطمینان بخش ہے؛ کہ باہر جیسا بھی موسم ہو، اس کی وجہ سے اندر کے ماحول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

اب یہ تصور کریں کہ موسم بدلنا شروع ہوتا ہے۔ موسمِ گرما اور برسات کی آمد ہوتی ہے تو گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشیں ہوتی ہیں، اور جنگلوں میں آگ بھڑک اُٹھتی ہے؛ تاہم پہاڑ کے باطنی حصے میں ٹھہراؤ اور سکون رہتا ہے۔

گرمیاں خزاں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، اور تیز ہواؤں کے جَھکڑ چلنا شروع ہو جاتے ہیں، درختوں کے پتے گرنے لگتے ہیں؛ پھر سردیاں آجاتی ہیں اور ساتھ میں برف اور جما دینے والی ٹھنڈ؛ اور پھر یہ بھی بہار میں بدل جاتی ہیں، برف پگھلنے لگتی ہے اور برفانی تودے گرنے لگتے ہیں۔

ان کے باوجود پہاڑ کا باطنی حصہ، پہاڑ کی گہری غار میں موجود یہ خوبصورت حصہ، موسموں کی ان تبدیلیوں کی وجہ سے مُتاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔

ہم بھی اس پہاڑ کی طرح ہیں۔ ہمیں ضرورت نہیں کہ ہم باہر کے واقعات کو اپنی خوشی، ہم آہنگی اور اتفاق لوٹنے دیں؛ چاہے وہ واقعات کتنے ہی مضبوط طوفانی غصہ کی صورت میں ہوں یا ہوائیں کتنی ہی تیز کیوں نہ ہوں۔

ہم سب کے باطن میں بھی ایک حصہ ہے جو پُرسکون اور مطمئن ہوتا ہے۔ یہ اس وقت بھی موجود ہوتا ہے جب ہمیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اپنے باطن کے اس حصہ میں جا کر خود کو شفایاب کر سکتے ہیں۔

پہاڑ کا باطنی حصہ کامل ہوتا ہے ― اور ہمارا بھی۔

اب دوبارہ تصور کریں کہ سیاح اس پہاڑ پر آتے ہیں۔ کوئی ریل گاڑی میں آتا ہے، کوئی ہوائی جہاز میں، کوئی بذریعہ گاڑی، کوئی کشتی، اور کوئی کسی اور ذریعہ سے۔ تو ان سب کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ: یہ پہاڑ اتنا خوبصورت نہیں جتنا میں نے کہیں اور دیکھا تھا۔ یہ بہت چھوٹا ہے، یا بہت زیادہ بڑا ہے، یا بہت سمٹا ہوا ہے، یا بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ لیکن پہاڑ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہی تو اس کا اصل اور مثالی جوہر ہے۔

ہم، ایک مرتبہ پھر، پہاڑ کی مانند ہیں۔ لوگ ہمارے بارے میں چاہے کچھ بھی کہیں، چاہے جو تنقید کریں یا جیسا چاہیں ہمارے بارے میں سوچیں، ہمیں خدا نے کامل بنایا ہے اور اپنی قوتوں سے نوازا ہے۔ ہم پر دوسروں کی رائے اثرانداز نہیں ہونی چاہیے، حتیٰ کہ ان کی بھی نہیں جو ہمارے قریبی ہیں، جیسے ہمارے خاندان کے افراد، یا وہ جنہیں پیشہ کے اعتبار سے ہم جواب دہ ہیں، یا وہ جن سے ہمارا محبت کا رشتہ ہے۔

اس تصور کے تحت ہم پہاڑ کی طرح مضبوط ہیں اور زمین پر جمے ہوئے ہیں۔ ہم دل کی گہرائی میں یہ جانتے ہیں کہ ہمارا اصل وجود ایک مثالی اور کامل روح ہے۔ دوسروں کے الفاظ ہمارا باطنی سکون اور خوشی نہیں چھین سکتے جب تک کہ ہم خود انہیں اختیار نہ دیں۔

ہمیں اپنی عظمت اور شرافت کو یاد کرتے رہنا چاہیئے؛ اس خوبصورت پہاڑ کی طرح، ہم بھی شاندار ہیں۔ ہم ہمیشہ ہی سے ہیں۔


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

⚟ پہاڑ کا پیغام ⚞ منقول از اردو ورڈ بلاگ تصور کریں کہ ایک خوبصورت پہاڑ ہے، جس کی چوٹی برف سے ڈھکی ہوئی ہے۔ جب آپ اسے دیکھیں تو آ...

اکیلے ہوتے جاؤگے


اکیلے ہوتے جاؤ گے
شاعر: اعجاز رضا آرائیں

کسی سے اُونچا بولو گے
کسی کو  نِیچا سمجھو گے
کسی کے حق کو مارو گے
بھرم ناحق دکھاؤ گے
تو لوگوں کو گنواؤ گے

اکیلے ہوتے جاؤ گے

ذرا سی دیر کو سوچو
زباں کو روک کر دیکھو
تسلی سے سُنو سب کی
تسلی سے کہو اپنی
جو یونہی طیش کھاؤ گے

اکیلے ہوتے جاؤ گے

خِرد مندوں کا کہنا ہے
یہ دنیا اک کھلونا ہے
بساطِ بے ثباتی ہے
تمناؤں کی گھاٹی ہے
جو خواہش کو بڑھاؤ گے

اکیلے ہوتے جاؤ گے

یہ جتنے رشتے ناطے ہیں
اثاثہ ہی بناتے ہیں
محبت آزماتے ہیں
محبت بانٹ جاتے ہیں
جو اِن سے دُور جاؤ گے

اکیلے ہوتے جاؤ گے



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

اکیلے ہوتے جاؤ گے شاعر: اعجاز رضا آرائیں کسی سے اُونچا بولو گے کسی کو  نِیچا سمجھو گے کسی کے حق کو مارو گے بھرم ناحق دکھاؤ...

صدقہ والا پتھر


"صدقہ والا پتھر"

ایسے پتھر خلافت عثمانیہ کے دور میں سرِ راہ رکھے جاتے تھے، اس میں ہاتھ ڈالنے والے کا بھرم باقی رہتا تھا اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہ صدقہ دینے کے لیے ہاتھ ڈال رہا ہے یا لینے کے لیے۔


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

"صدقہ والا پتھر" ایسے پتھر خلافت عثمانیہ کے دور میں سرِ راہ رکھے جاتے تھے، اس میں ہاتھ ڈالنے والے کا بھرم باقی رہتا تھا ...

آج کی بات۔ 476


آج کی بات

جو چیز با آسانی میسر آجائے اس کی قدر کوئی صاحبِ ظَرف ہی جانتا ہے.



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

❁ آج کی بات ❁ جو چیز با آسانی میسر آجائے اس کی قدر کوئی صاحبِ ظَرف ہی جانتا ہے. تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکری...

نیت کا پھل


من كانت له نيّة سيئة فإن الله يُظهرها عليه بحيث يستعمله في الباطل، فيظن الناس أنه انتكس وتغيّر وإنما هي سريرته جعلها الله علانيته

(عبد العزيز الطريفي)

ترجمہ
جس شخص کی بری نیت ہو تو اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دیتا ہے اس طرح کہ وہ اس کو باطل کام میں استعمال کرتا ہے، پس لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ نیکی کے بعد برائی کی طرف آ گیا ہے اور (اب ) وہ بہت بدل گیا ہے جبکہ بلاشبہ وہ اس کا راز تھا جس کو اللہ عزوجل نے (اب ) علانیہ ظاہر کردیا ۔




تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

من كانت له نيّة سيئة فإن الله يُظهرها عليه بحيث يستعمله في الباطل، فيظن الناس أنه انتكس وتغيّر وإنما هي سريرته جعلها الله علانيته ...

آج کی بات ۔ 475


◉◁ آج کی بات ▷◉

’’ اس بات کو سمجھ لیں کہ کوئی ہمارے ساتھ برا نہیں کرتا۔
یا تو ہم اسے اجازت دیتے ہیں۔ یا وہ ہماری تقدیر ہوتی ہے۔‘‘

حالم از نمرہ احمد



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

◉◁ آج کی بات ▷◉ ’’ اس بات کو سمجھ لیں کہ کوئی ہمارے ساتھ برا نہیں کرتا۔ یا تو ہم اسے اجازت دیتے ہیں۔ یا وہ ہماری تقدیر ہوتی ہے۔...

تربیت ۔۔۔۔ ایک مکالمہ


تربیت ۔۔۔۔ ایک مکالمہ

◁ میں نے بچوں کے لئے رسالہ خریدا ہے۔
◄ کون سا؟
◁ تعلیم و تربیت۔
◄ بہت اچھا قدم۔ اس سے پڑھائی کی عادت بھی بنے گی اور اصل بات تک رسائی بھی ہو گی۔
◁ اصل بات؟
◄ اصل بات یعنی تربیت۔ اچھے لوگ ، ماحول، دوست اور کتابیں تربیت کرتے ہیں۔
◁ اور کوئی بُری چیز بھی تربیت کرتی ہے؟
◄ ہاں۔ بُرے حالات۔ برے حالات سب سے اچھے استادوں میں سے ہیں۔
◁ ہاہا۔ خوب۔
◄ اور تربیت ہی وہ چیز ہے جو تعلیم کو رُخ دیتی ہے۔
◁ وہ کیسے؟
◄ تعلیم جاننے کا نام ہے۔ تربیت ماننے کا۔
◁ پر جاننا بھی تو اہم ہے۔
◄ ضرور۔ جاننا اتنا ہی اہم ہے ، جتنا ضروری ہو۔ اور کِتنا ضروری ہے ، یہ تربیت بتاتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ جاننا  بھوک سے زیادہ کھانے کے مترادف ہے۔
◁ اچھا ایک بات بتائیں۔
◄ پوچھیئے۔
◁ تربیت کا پتا کیسے چلتا ہے؟
◄ تربیت کا پتا چلانا ہو ، تو  مشکل حالات میں انسان کا رویہ دیکھ لیں۔ رویہ ، انسانوں کے ساتھ ، حالات کے ساتھ ، چیزوں کے ساتھ ۔  سٹریس  ، نامساعد حالات اور مصیبت کا وقت دراصل انسان کی  تربیت ہی تو سامنے لاتا ہے۔   



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

تربیت ۔۔۔۔ ایک مکالمہ از: عمر الیاس ◁ میں نے بچوں کے لئے رسالہ خریدا ہے۔ ◄ کون سا؟ ◁ تعلیم و تربیت۔ ◄ بہت اچھا قدم۔ اس سے ...

نصیحت آموز خط


ایک والد کا اپنے بچے کو نصیحت آموز خط 
(منقول)

ہانگ کانگ کے ایک مشہور ٹی وی براڈ کاسٹر (جو کہ بچوں کا ماہر نفسیات بھی ہے) کا اپنے بیٹے کو خط :
خط کے الفاظ کا اطلاق ہم سب پر ہوتا ہے (چاہے بچہ ہے یا بچی ، جوان ہے یا بوڑھا)

پیارے بیٹے!!

تین وجوہات مجھے یہ سب کچھ لکھنے پہ مائل کررہی ہیں

1 - زندگی میں اچھی بری قسمت اور حادثات کا غیر متوقع ظہور ایک فطری عمل ہے ۔ کسی کو علم نہیں کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہے گا ۔ اس لئے مناسب ہے کہ آپ کو پہلے سے کچھ الفاظ کہہ دوں

2 - میں آپ کا والد ہوں ۔ اگر میں آپ کو کچھ نہ بتاسکا تو کوئی اور یہ سب کچھ نہیں بتائے گا ۔

3 - میں جو کچھ لکھ رہا ہوں ، یہ میرے تلخ تجربات کا نچوڑ ہے اور شاید ان پر عمل کرنے سے آپ بے شمار غیر ضروری پریشانیوں سے بچ جائیں گے.

درج ذیل چیزیں یاد رکھیں

1۔ جن لوگوں کا آپ سے اچھا رویہ نہ ہو ' ان کے بارے میں شکایت نہ کیجیے ۔ سوائے میرے اور آپ کی ماں کے کوئی اور آپ سے اچھے رویہ برتنے کا ذمہ دار نہیں ۔جو لوگ آپ کے ساتھ اچھا برتاوُ کریں ' ان کی قدر کیجیے اور ان کا شکر گزار رہیے ۔ ہاں آپ کو خبردار ہونا چاہیے کہ ہر فرد کے اچھے رویے کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے ۔ اگر کوئی آپ سے اچھا برتاؤ کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ کو پسند کرتا ہے۔۔ آپ کو محتاط رہنا چاہیے ۔ جلد بازی میں اسے حقیقی دوست نہ سمجھیے ۔

دنیا میں کوئی بھی فرد ناگزیر نہیں ہے ۔ لازمی نہیں کہ دنیا میں ہر چیز آپ کی ملکیت ہو ۔ اگر یہ خیال آپ کے ذہن میں پختہ ہو جائے تو آپ کے لئے زندگی گزارنا آسان ہو جائے گی بالخصوص ایسے حالات میں جب آپ کے اردگرد لوگ آپ کو مزید برداشت نہ کرنا چاہیں یا آپکی محبوب چیز آپ کے پاس مزید نہ رہے۔

زندگی مختصر ہے ۔اگر آپ آج اپنی زندگی کے لمحات ضائع کرتے ہیں ' تو آنے والا کل آپ کو بتارہا ہوگا کہ زندگی آپ کو چھوڑ کے جارہی ہے ۔ جتنا جلد آپ اپنی زندگی میں مہیا خزانوں سے فائدہ اٹھا سکے ' اتنا ہی زیادہ آپ زندگی کا لطف اٹھائیں گے۔

زندگی عارضی احساسات کا نام ہے ۔ اور وقت / عمر/موڈ کے ساتھ ساتھ یہ احساسات دھندلے پڑجاتے ہیں ۔ اگرکوئی محبوب شےآپ کو چھوڑ دیتی ہے تو صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ' وقت کے ساتھ ساتھ زخم اور دکھ مندمل ہو جائیں گے ۔ کبھی بھی محبت اور حسن کے بیان میں مبالغہ آرائی سے کام نہ لیں ۔ اسی طرح محبت کے جانے کے دکھ میں بھی مبالغہ سے کام نہ لیں ۔

5۔ دنیا میں بے شمار کامیاب لوگوں اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ مطالعہ میں محنت سے کام نہ لیں ۔ آپ جو بھی علم حاصل کرتے ہیں وہ آپ کا ہتھیار بن جاتا ہے ۔ ہر کوئی کامیابی تک پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ وہ آغاز تو کرے چا ہے وہ آغاز انتہائی بے وقعت چیز سے کیوں نہ ہو ۔

6۔ میں اس توقع میں نہیں جی رہا ہوں کہ جب میں بوڑھا ہوجاؤں گا تو آپ مجھے مالی سہارا دیں گے ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جب آپ بڑے ہوجائیں تو میری آپ کو سہارا دینے کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا ہے یا لیموزین جیسی قیمتی کار میں ' امیر بننا ہے یا غریب ۔

آپ کو اپنے قول کا پاس رکھنا چاہیے ۔ لیکن دوسروں سے یہ توقع نہ رکھیے کہ وہ بھی ایسا کر پائیں گے ۔آپ لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں لیکن دوسروں سے ایسی کوئی توقع نہ رکھیے ۔ اگر آپ یہ بات سمجھ نہیں رہے ہیں تو آپ عملی میدان میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرسکتے ہیں ۔

8۔میں نے ان گنت سال لاٹریاں خریدیں لیکن کبھی بھی لاٹری کا انعام نہیں پایا ۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ دولت مند بننے کے لئے آپ کو سخت محنت کرنا پڑے گی ۔ مفت میں روٹی نہیں ملتی ۔

9۔ نہ معلوم میرا اور آپ کا ساتھ اس دنیا میں کتنا ہوگا۔ آئیں جو وقت ہمیں میسر ہے' اس مہیا وقت کے خزانے سے لطف اندوز ہوں ۔ ہم نہیں جانتے کہ آئندہ زندگی میں ہمیں ایک دوسرے سے ملنا نصیب بھی ہوگا یا نہیں ۔

آپ کا والد 




تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

ایک والد کا اپنے بچے کو نصیحت آموز خط  (منقول) ہانگ کانگ کے ایک مشہور ٹی وی براڈ کاسٹر (جو کہ بچوں کا ماہر نفسیات بھی ہے) کا اپن...

اردو شرمسار


خوبصورت لفظ جو آئے عرب ایران سے
ان کو ہندوستان نے اپنا لیا جی جان سے

اہلِ دانش کی رہی جب تک نظر ہر لفظ پر
اپنی اپنی ہی جگہ قائم رہے زیر و زبر

جب ادھورے علم کا اردو پہ قبضہ ہو گیا
مَدرَسَہ جس کا تلفظ تھا مَدَرسَہ ہو گیا

توتلے ہکلے چلا لیتے ہیں جیسے اپنا کام
مطمئن ہیں نا سمجھ اِنعَام کو کہہ کر اِنَام

جہل کے دریا میں اہل علم و فن بہنے لگے
انتہا یہ ہے کہ سَر کو لوگ سِر کہنے لگے

جب زباں سے ان پڑھوں کی آشنائی ہو گئی
جس کو کہتے تھے دَوَا وہ بھی دَوَائی ہو گئی

کوئی جب اَسرَار سے اِسرَار احمد ہو گیا
اور تھا مقصد مگر کچھ اور مقصد ہو گیا

ایسے ویسوں نے تو رِفعَت کو بھی رَفعَت کر دیا
نام رکھا تھا مَسَرَّت اور مُسَرَّت کر دیا

شَمَع کو نا تجربہ کاروں نے کر ڈالا شَمَا
نَفَع کو بازار والوں نے بنا ڈالا نَفَا

اچھے خاصے لفظ کا اک حرف آدھا کر دیا
جو زِیَادَہ تھا اسے ہم وزنِ زَادَہ کر دیا

لگ رہا ہے اب زبر سے زیر پر سارا دماغ
جن کو ہونا تھا چَرَاغ اب ہو گئے ہیں وہ چِرَاغ

ہو رہا ہے ختم اب اردو زباں کا بانکپن
وَزن کو اب تو پڑھے لکھے بھی کہتے ہیں وَزَن

لوگ ظاہر کر رہے ہیں نا مکمل علم و فن
شَہرکو کہہ کر شَہَر اور اَمن کو کہہ کر اَمَن

کم پڑھے لکھوں نے سب کچھ الٹا سلٹا کر دیا
تَجرِبَہ پڑھنا نہیں آیا تَجُربَہ کر دیا

کیا کہا جائے وہاں کیا تھا یہاں کیا ہو گیا
مُدَّعَا آیا عرب سے اور مُدَّا ہو گیا

کچھ کہیں پر بڑھ گیا اور کچھ کہیں کم ہو گیا
فارسی کا لفظ مَوسِم تھا جو مَوسَم ہو گیا

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی جہالت کی مثال
جس کو کہتے تھے وَبَال اب ہو گیا ہے وہ بَوَال

ایسے ایسے لوگ بھی ہیں با ہنر اور با کمال
راہ میں مَشعَل جلاتے ہیں تو کہتے ہیں مَشَال

مطمئن ہیں اچھے اچھے خَتم کو کہہ کر خَتَم
نَرم کو کہہ کر نَرَم اور گَرم کو کہہ کر گَرَم

ہے وَقَار اور نازیہؔ کہتے ہیں جو اس کو وِقَار
ایسے لوگوں سے بھی اردو ہو رہی ہے شرمسار

شاعرہ: نازیہ سحری


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

خوبصورت لفظ جو آئے عرب ایران سے ان کو ہندوستان نے اپنا لیا جی جان سے اہلِ دانش کی رہی جب تک نظر ہر لفظ پر اپنی اپنی ہی جگہ قائ...

تین لکیریں


↬ تین لکیریں ↫
منقول

ایک دن پروفیسر صاحب  سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘
 پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘
بچے کا اگلا سوال تھا’’کیسے؟‘‘

پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا، اوراس کےکھوکھے کی دیوار پردائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘

پہلی لکیر پر محنت، محنت اور محنت لکھا‘
دوسری لکیر پر ایمانداری، ایمانداری اور ایمانداری لکھا
اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر (Skill) لکھا۔

بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا، پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا:

"ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں پہلا زینہ محنت ہے.
 آپ جو بھی ہیں، آپ اگر صبح، دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے.
آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان، فیکٹری، دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے۔ آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔

 پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں، یہ محنت نہیں کرتے، آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں، آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں".

اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے.

ایمانداری چارعادتوں کا پیکج ہے.
وعدے کی پابندی، 
جھوٹ سے نفرت،
 زبان پر قائم رہنا
 اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔

آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو،
 وعدہ کرو تو پورا کرو، جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو، 
زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو
 اور ہمیشہ اپنی غلطی، کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو، تم ایماندار ہو جاؤ گے۔

کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے.
آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے. اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے.
آپ کا پروفیشنل ازم، آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا. "آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘.

پروفیسر نے بچے کو بتایا۔

 ’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر،  پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے، آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں. لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔

آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا،
ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا،
آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا‘‘۔

پروفیسر نے بچے کو بتایا۔

 "میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا،  کیوں؟ کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی،  اور میں نے دنیا کے بے شمار بےہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘-

تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو،  تم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے‘‘



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

↬ تین لکیریں ↫ منقول ایک دن پروفیسر صاحب  سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا ’’ ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا...

کہاوت کہانی ۔02


↭کہاوت کہانی ↭

"حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں​"
مطلب یہ کہ تھوڑا علم خطرناک ہوتا ہے۔یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی شخص تھوڑا سا علم حاصل کر کے خود کو بہت قابل سمجھے اور جب اس علم پر عمل کرنے بیٹھے تو اپنی بے وقوفی کی وجہ سے نقصان اٹھائے، مگر نقصان کی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آئے۔

اس کی کہانی یہ ہے کہ ایک صاحب زادے نے حساب کا علم سیکھنا شروع کیا۔ ایک روز استاد نے اوسط کا قاعدہ بتایا۔ انہوں نے اسے رٹ لیا۔ شام کو گھر گئے تو گھر والے دریا پار جانے کو تیار بیٹھے تھے۔ یہ حضرت بھی ساتھ ہو لیے۔ دریا کے کنارے پہنچنے پر گھر والوں نے کشتی تلاش کرنی شروع کی۔ یہ صاحب زادے اوسط کا قاعدہ پڑھ چکے تھے۔ جب کشتی والوں سے انہیں معلوم ہوا کہ دریا کناروں سے دو دو فٹ گہرا ہے اور درمیان میں آٹھ فٹ تو فورا دونوں کناروں کی گہرائی یعنی دو اور دو چار فٹ اور درمیان کی گہرائی آٹھ فٹ جمع کر کے کل بارہ فٹ کو تین پر تقسیم کر دیا۔ جواب آیا "اوسط گہرائی چار فٹ"۔ اس قاعدے سے تو دریا کی گہرائی بالکل کم تھی۔ اس لئے انہوں نے خوشی خوشی گھر والوں کو بتایا کہ کشتی کا کرایہ بچ جائے گا۔ بغیر کشتی کے بھی دریا پار کیا جا سکتا ہے۔ میں نے حساب لگا کر دیکھا ہے۔ اس دریا کی اوسط گہرائی چار فٹ ہے۔ یہ سن کر گھر والے دریا پار کرنے کو تیار ہو گئے۔ پورا کنبہ یعنی گھر والے سامان لے کر دریا میں کود پڑے اور دریا کے بیچ میں پہنچ کر آٹھ فٹ گہرے پانی میں ڈوبنے لگے۔ کشتی والوں نے بڑی مشکل سے انہیں بچایا۔ صاحب زادے پانی میں شرابور کنارے پر پہنچے تو دوبارہ حساب جوڑا۔ وہی جواب آیا۔

پریشان ہو کر بولے، "حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں؟"​ 😏


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

↭کہاوت کہانی ↭ "حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں​" مطلب یہ کہ تھوڑا علم خطرناک ہوتا ہے۔یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب ک...

Idiot Box


Idiot Box
تحریر: ابو یحییٰ

آج کل یہ بات عام طور پر کہی جا رہی ہے کہ ٹیلیوژن کے آنے کے بعد کتاب اور قلم کا زمانہ ختم ہوگیا ہے۔ اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عصرِحاضر میں الیکٹرونک میڈیا کے عام ہونے کے بعد مطالعے کا رواج بہت کم ہوگیا ہے۔ یہ بات ہماری سوسائٹی کے اعتبار سے ٹھیک ہے مگر اہل مغرب کے ہاں آج بھی کتاب علم سیکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ان کے ہاں الیکٹرونک میڈیا خبر، کھیل اور تفریح (Infotainment) کے معاملے میں تو یقیناً بہت زیادہ موثر ہوگیا ہے مگر علم کی دنیا میں آج بھی کتاب و قلم کی حکمرانی ہے۔ ان کے ہاں ٹیلیوژن کو Idiot Box کہا جاتا ہے۔ اس یقین کی بنا پر کہ بہت زیادہ ٹیلیوژن دیکھنا انسان کی ذہنی سطح کو کم تر کر دیتا ہے۔

.Watching too much television causes stupidity

یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ کیونکہ ٹیلیوژن دیکھنے کے عمل میں انسان اپنی عقل کو، جو اس کا اصل شرف ہے، بہت کم استعمال کرتا ہے۔ جبکہ مطالعہ کرنا ایک بھرپور ذہنی ورزش ہے جس میں انسان کی علمی و عقلی صلاحیتیں بے پناہ بڑھ جاتی ہیں۔

ٹیلیوژن دیکھنے والے شخص کے مقابلے میں کتاب پڑھنے والا شخص اپنے ذہن کا بہت زیادہ استعمال کرتا ہے۔ جب وہ الفاظ پڑھتا ہے تو ان کے معنی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر بات سمجھ میں نہ آئے تو دو تین دفعہ رک کر دیکھتا ہے۔ اپنے تخیل کو استعمال کر کے وہ ان کو تصورات میں تبدیل کرتا ہے۔ ان کا تجزیہ کرتا ہے۔ الفاظ نئے ہوں تو ڈکشنری سے ان کے معنی دریافت کرتا ہے۔ اس طرح نہ صرف اس کا علم بڑھتا ہے بلکہ اس کی تخیلاتی طاقت (Imagination Power) اس عمل سے مضبوط ہوتی ہے۔ اس کی تجزیہ (Analysis) کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ چیزوں کو سمجھنے اور اخذ کرنے کی استعداد میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔

جبکہ مطالعہ نہ کرنے اور صرف ٹیلیوژن پر انحصار کرنے والا کبھی اس عمل سے نہیں گزرتا۔ وہ اس Idiot Box پر ہر چیز اپنے سامنے مجسم دیکھتا ہے۔ ہر پیغام اور ہر واقعہ آواز، تصویر، رنگ اور روشنی کی مدد سے اس طرح اس کے سامنے برہنہ ہوکر آجاتی ہے کہ عقل کا استعمال کرنے کی ضرورت بہت کم ہوجاتی ہے۔ آہستہ آہستہ اس کی ذہنی صلاحیت کو زنگ لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ اور آخرکار وہ اتنی کمزور ہوجاتی ہے کہ اور وہ حق و باطل اور صحیح وغلط کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھتا ہے۔ اس کی زندگی بس سنی سنائی باتوں میں گزرنے لگتی ہے۔

یہ ہماری قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں مطالعے کی روایت جو پہلے ہی بہت کمزور تھی اب کم و بیش ختم ہوتی جارہی ہے۔ لوگ اول تو اپنی معاشی اور معاشرتی مصروفیات ہی سے وقت نہیں نکال پاتے۔ اور جو وقت انہیں ملتا بھی ہے وہ ٹیلیوژن کے چینل بدلتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ لوگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے پاس مطالعے کا وقت نہیں ہے یا پھر مطالعہ کرنا انہیں بہت مشکل لگتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص بڑے فخر سے بتائے کہ وہ ورزش نہیں کرتا۔ ایسے شخص کا جسم بے ڈول اور دل کمزور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مطالعہ نہ کرنے والے اور کیبل کے چینل بدلتے رہنے والے افراد ذہنی طور پر اسمارٹ نہیں رہتے۔ ذہنی طور پر پسماندہ ہوجاتے ہیں۔ ذہنی پسماندگی کی اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ لوگ خود اپنی جہالت کو فخریہ طور پر بیان کرنے لگیں۔

اجتماعی طور پر جس قوم کے افراد میں مطالعہ کی عادت ختم ہوجائے وہاں علم کی روایت کمزور ہوجاتی ہے۔ علم کی مضبوط روایت کے بغیر دنیا کی کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود دنیا میں بہت پیچھے ہے۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے ٹیلیوژن کے سامنے کتاب کو شکست ہورہی ہے۔ یہ شکست زندگی کے ہر میدان میں ہماری شکست کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ مگر کیا کیجیے اسے پڑھنے کے لیے بھی مطالعے کی عادت ہونی چاہیے جو بدقسمتی سے ہم میں نہیں۔

ایسے میں ہر باشعور شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ مطالعے کی عادت کو فروغ دینے کے لیے کوشش کرے۔ آج اس سے بڑی کوئی قومی خدمت ممکن نہیں۔



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

Idiot Box تحریر: ابو یحییٰ آج کل یہ بات عام طور پر کہی جا رہی ہے کہ ٹیلیوژن کے آنے کے بعد کتاب اور قلم کا زمانہ ختم ہوگیا ہے۔ ...

آج کی بات - 474


↻ آج کی بات ↺

انسان بھولتا تو کچھ بھی نہیں مگر بہت بار یہ ظاہر ضرور کرنا پڑتا ہے
 کہ اسے کچھ بھی یاد نہیں ۔ ۔ ۔


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

↻ آج کی بات ↺ انسان بھولتا تو کچھ بھی نہیں مگر بہت بار یہ ظاہر ضرور کرنا پڑتا ہے  کہ اسے کچھ بھی یاد نہیں ۔ ۔ ۔ تبصرہ کرک...

کہاوت کہانی -01


↭کہاوت کہانی ↭

عربی کہاوت ہے ، ”اکثر باتیں کہنے والے کو کہتی ہیں ، ہمیں مت کہو‘‘۔
 مطلب یہ کہ جو بات غیر ضروری طور پر کی جائے وہ اپنے گلے آجاتی ہے۔

 اس کہاوت سے جڑی حکایت ہے کہ کوئی بادشاہ ایک ٹیلے پر اپنے غلام اور وزیر کے ساتھ کھڑا تھا۔ غلام مسلسل ٹیلے کی ڈھلوان کو دیکھتا جارہا تھا۔ بادشاہ نے اس کی محویت دیکھی تو پوچھا ،" کیا دیکھتا ہے"۔ غلام نے فوراً بات بنائی اور کہا، ”بادشاہ سلامت میں سوچ رہا ہوں کہ اس ڈھلوان پر اگر کسی کو ذبح کیا جائے تو اس کا خون کہاں تک جائے گا‘‘۔ بادشاہ سلامت کو یہ نکتہ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے فوری طورپر جلّاد کو حکم دیا کہ نکتہ سنج غلام کو اسی ڈھلوان پر ذبح کرکے دیکھے کہ اس کا خون کہاں تک بہتا ہے۔
ظاہر ہے جلّاد نے آقا کا حکم بجا لانا تھا؛
 البتہ اس نے غلام کواس کی گردن کاٹنے سے پہلے اتنا ضرور سمجھا دیا کہ بہت سی باتیں کہنے کی نہیں ہوتیں۔


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں نیز فیس بک تبصرے کے ذریعے بھی آپ اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔۔ شکریہ

↭کہاوت کہانی ↭ عربی کہاوت ہے ، ” اکثر باتیں کہنے والے کو کہتی ہیں ، ہمیں مت کہو ‘‘۔  مطلب یہ کہ جو بات غیر ضروری طور پر کی ج...

کچھ نصیحتیں

کچھ نصیحتیں

آج جب اپنے ماضی کے پچھلے اوراق پلٹ رہا تھا تو ایک واقعہ یاد آیا جو آپ لوگ سے شیئر کرنا چاہوں گا جو شاید آج کل کے بہت سے نوجوانوں کی ضرورت بھی ہے ...
..............
یہ ان دنوں کی بات ہے جب باوا جی سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی تب میں بہت ہی زیادہ الجھا ہوا تھا نہیں سمجھ لگتی تھی کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے بس ایک جنوں تھا اسلام کے لئے کچھ کرنے کا
پر نماز ایک نہیں پڑھنی ..
قرآن پاک کی حقانیت کے خلاف کوئی بات کرے تو جی چاہتا تھا اسکی جان ہی لے لوں
پر یاد نہیں کبھی قران پاک پڑھا ہو
اسی طرح الله پاک جی جتنی ذمہ داریاں مسلمان پر ڈالتا ہے ان میں سے کوئی 90٪ تو مجھے پتا ہی نہیں تھی پر خود سے بڑا مسلمان شاید ہی کسی کو سمجھتا ہوں گا ..
................
جب باوا جی سے ملاقات ہوئی تو انہیں میرے اندر یہ چیزیں دِکھ گئی پہلے تو میری غلطیوں کو نظر انداز کرتے گئے پھر ایک دن مجھے بٹھایا اور کہا جب تک میں بات مکمل نہ کر لوں ایک لفظ بھی نہ کہنا صرف سننا ..
پتر یہ کہاں اپنے دماغ کی سوچوں کے گھوڑے بھگاتا رہتا ہے کہاں کہاں بھگاۓ گا ؟
تو بھاگ کس سے رہا ہے ؟ اپنے آپ سے ؟؟ اپنے الله سے ؟
دھوکہ کس کو دےرہا ہے ؟
خود کو؟ یا الله پاک جی کو ؟؟
نماز تو ایک نہیں پڑھتا قرآن پاک تو نہیں کھولتا پھر باتیں کرتا ہے بڑی بڑی ...
تیری باتوں میں اثر کیسے ہو جب تو رب سوہنے سے بات ہی نہیں کرتا ..
تیری بات سن کر کوئی کیسے اثر پکڑے جبکہ تو خود قرآن پاک نہیں سنتا ..
فضول ہے تیرا بھاگنا نہ تو خود سے بھاگ سکتا اور نہ ہی سوہنے الله پاک جی سے ایک لازم ہے تو دوسرا ملزوم ...
...............................
رک جا اب اور ٹھہر جا اپنے دماغ کی بھاگتی سوچوں کو لگام دے اور اپنے پاس بٹھا اپنی سوچوں کو بات چیت کر پھر جو الله کی مقررہ کردہ حدود میں رہنا چاہیں انہیں ایک حد تک اپنے دماغ میں دوڑنے کی اجازت دے باقی سب کو نکال باہر پھینک..
یا رب کا ہوجا یا اپنی بے لگام سوچوں کا ۔۔ میرے پتر اس رشتے میں منافقت نہیں چلتی ..
...............................
اور یاد رکھ جو سنتے ہیں وہی سیکھتے ہیں۔ پہلے سننے والا بن پھر بولنا شروع کر،  پہلے خود کو اس قابل بنا کہ سن سکے،  اصل علم والے وہی ہوتے ہے پتر جو سنتے ہیں دھیان لگاتے ہیں پھر دیکھنا تجھے چڑیوں کی چہچہاہٹ سے لیکر شیر کی دھاڑ اور گھوڑے کے ہنہنانے میں بھی سبق ملے گا۔ "بولنا " تو بہت بعد کا عمل ہوتا ہے پتر! تھوڑا بولنا جب بھی بولنا.. اور فضول بولنے سے بہتر ہے تو رب پاک سے دعا کر کہ تجھے گونگا ہی کردے تا کہ کوئی مسلمان تیری فضول گوئی سے بھٹکے نہ ..
.............................
اگر کوئی سچی بات کڑوے لہجے میں بھی کہے تو اس سے لڑ نہیں نہ ہی اپنی انا کا مسئلہ بنا،  اگر انا پیاری ہے تو یہیں سے لوٹ جا،  یہ رب سوہنے کا دین ہے یہاں اپنی انائیں نہیں چلتیں۔ کوئی سکھاۓ تو سیکھ جا آنکھ بند کئے،  بس سکھانے والا حق سکھا رہا ہو۔ غلطی کر تو مان جا، جو غلطی نہ مانے اس کا بھی یہاں کوئی کام نہیں،  غلطی مانے گا تو یہ غلطی ہی تجھے علم سکھاۓ گی ورنہ یہ غلطی تجھے بھٹکنے میں ایک لمحے کا توقف نہیں کرے گی ....
...........................
یہ میری زندگی کا سب سے پہلا سب سے لمبا اور سب سے مشکل سبق تھا پر میری طبیعت میں ٹھہراؤ اور سنجیدگی شاید اسی سبق کی مرہون منّت ہے یہاں ایک بہت ہی قابل دوست کا بھیجا ہوا شعر یاد آرہا ہے ..

"ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا......
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی روّیوں کی خاک چھانی "

آج تقریباً ہر نوجوان کے اندر مجھے وہی الجھا ہوا جہانگیر دکھائی دیتا ہے بہت کچھ کرنے کا جنوں پر سمجھ نہیں کے شروعات کہاں سے کی جاۓ یا کیسے کی جاۓ ہر جگہ ہاتھ ماریں گے پر اپنے دل اور دماغ کو چھوڑ کر ..
جناب ہر چیز کی شروعات " میں " کو مار کر ہوتی ہے اسلئے اپنی ذات سے شروع کیجئے،  اپنا رابطہ اپنے الله پاک جی سے بڑھائیے پھر میدان میں آئیں ورنہ کچھ ہی دنوں بعد اپنے ہی دین کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں گے کیونکہ دشمن پوری تیاری سے حملہ آور ہوا ہے اپنی اخلاقی اور دماغی تربیت کیجئے،  گالی کے بجاۓ سوال کرنے والے بنئے .. سوال کرنے کا ہنر ہی آدھا علم ہے اور باقی کا آدھا علم اس سوال کی جستجو میں چھپا ہوتا ہے۔ یہ کر کے دیکھئے الله پاک بیشک سب سے بہترین جواب دینے والا ہے .....

" پیچیدہ تخلیق "


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

کچھ نصیحتیں از ملک جہانگیر اقبال آج جب اپنے ماضی کے پچھلے اوراق پلٹ رہا تھا تو ایک واقعہ یاد آیا جو آپ لوگ سے شیئر کرنا چاہوں گا ج...

آج کی بات - 473


↫ آج کی بات ↬

پرفیکشن اور خوبصورتی کے بھوت نے اصل زندگی کا خون پینا اور گوشت کھانا شروع کردیا ہے۔ 
اس نے ہماری ہنسی اور ہماری معصومیت چھین لی ہے، ہمیں پرفیکشن کا غلام بنا دیا ہے۔

اقتباس از "ام الیقین" (سمیرا حمید)


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

↫ آج کی بات ↬ پرفیکشن اور خوبصورتی کے بھوت نے اصل زندگی کا خون پینا اور گوشت کھانا شروع کردیا ہے۔  اس نے ہماری ہنسی اور ہماری مع...

خطبہ مسجد الحرام: بلیک میلنگ کی قباحتیں --- 04 اکتوبر 2019


خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس)
موضوع:  بلیک میلنگ کی قباحتیں
بتاریخ: 5 صفر 1441 بمطابق 04 اکتوبر 2019
امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم
ترجمہ: فرہاد احمد سالم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ تعالی نے مسجد حرام میں 5 صفر 1441 کا خطبہ " بلیک میلنگ کی قباحتیں " کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ: بلیک میلنگ ایک جارحانہ کام ہے جس کے پیچھے غیر قانونی اور ذاتی خواہشات کو پانے کا حد سے زیادہ گھمنڈ ہوتا ہے ، یہ دھوکے کا ایک تیز ہتھیار ہے جسے بزدل اور کمزور لوگ اپنا اخلاقی اور مادی شکار کرنے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ ۔ بلیک میلنگ برا اخلاق اور گھٹیا کام ہے ،جو کہ بد طینت نفس اور سفاک دلی کی دلیل ہے ۔ بلیک میلر لوگوں کو ان کے معاملات کو ظاہر کر دینے کی دھمکی دیتا ہے ، جس کی وجہ سے آدمی اس کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے اور چار و ناچار اس کے مطالبات پورے کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بلیک میلر ایک مغرور شخص ہوتا ہے جو اپنے شکار کے نقصانات کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل چاہتا ہے ۔ بلیک میلر میں انسانیت نہیں ہوتی، بلکہ وہ انسانی جسم میں سرکش شیطان ہوتا ہے۔ ہمارے موجودہ دور میں سب سے زیادہ بلیک میلنگ اخلاق اور آبرو کے معاملے میں ہوتی ہے۔ بلیک میلنگ کے معاملات میں نوٹ کیا گیا ہے کہ عموماً نوجوان لڑکے نوجوان لڑکیوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکوں میں جوشِ جوانی ہوتا ہے اور لڑکیوں میں جذبات ، اس سلسلے میں دونوں فریق اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہو سکتے، بہرحال یہ ایک اخلاقی جرم ہے ۔ بلیک میلنگ کا مقابلہ کسی خاص فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تو پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

↫ منتخب اقتباس ↬

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں ، جو گناہوں کو بخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا اور صاحب قوت ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں نیز اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے اعضا ء کو درست کیا، اس کا تخمینہ لگایا اور اس کو راستہ دکھایا۔ اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائیاں ہیں، نیز اسی کی طرف تمام معاملات لوٹائے جاتے ہیں ، اسی کے لیے دنیا و آخرت کی تعریفیں ہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم متقین کے امام اور جہانوں کے سردار ہیں۔ اللہ نے آپ کو ہدایت اور کھلی نشانیاں دے کر مبعوث فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تا قیامت سارے جہانوں کے لیے رحمت اور نمونہ ہیں ۔

اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ، آپ کی پاکیزہ آل ، مومنوں کی مائیں آپ کی بیویاں ، نیز آپ کے روشن بابرکت صحابہ ، اور اچھے طریقے سے قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں پر درود اور کثرت سے سلامتی نازل فرمائے۔

اللہ کے بندو! میرے اور آپ کے لیے ،خلوت و جلوت، اقوال و افعال ، اور غضب و رضا مندی میں اللہ جل جلالہ کے تقوی اور اس کی خشیت کی وصیت کی گئی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدة: 35] 
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف قرب تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

اللہ کے بندو! مجموعی طور پر لوگ اس وقت تک الفت ، باہمی محبت ، آپس میں رحم و کرم ، اور خوشحالی میں ہوتے ہیں ، جب تک کہ ان پر سخت فحش زبانیں ، اور تکلیف دینے والے ہاتھ مسلط نہیں ہو جاتے۔ اس لیے کہ زبان اور ہاتھ دو ایسے کدال ہیں، جو معاشرے کی سیسہ پلائی ہوئی عمارت کو ڈھانے اور ان میں دراڑیں ڈالنے کے ذمہ دار ہیں ۔

جس قدر معاشرے کی دیوار پر ان دو کدالوں کی مار ہو گی تو اسی قدر اس معاشرے میں نفسیاتی اور عملی استحکام ہو گا ۔ اسی لیے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر لوگوں اور خاص طور پر ہر فرد کے لئے زبان اور ہاتھ کے اثرات کو بیان کیا ، اور بتایا کہ ہاتھ اور زبان والوں کے لیے اسلام اور ایمان کا یہ وصف کیا معنی رکھتا ہے۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
( الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ) 
مسلمان (کامل ) وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن (کامل ) وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ سمجھیں'۔ ( اسے احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل صحیحین میں ہے۔)

اللہ کے بندو ! یہ بات جان لینی چاہیے کہ ہاتھ اور زبان کے ذریعے سب سے بری چیز جو لوگوں میں واقع ہوتی ہے وہ مکروہ کام اور برا تنازعہ ہے ، یہ دونوں چیزیں سیاہ دل میں قرار پکڑتی ہیں ۔ چنانچہ ان برائیوں میں مبتلا شخص دوسروں کی کمزوری کو بلیک میلنگ اور استحصالی کے ذریعے اپنی سیڑھی بناتا ہے ، تاکہ اس پر چڑھ کر اپنے قبیح مقاصد اور برے اہداف حاصل کر سکے۔

اللہ کے بندو! بلیک میلنگ وہ تیز ہتھیار ہے جسے بزدل اور کمزور لوگ اپنا اخلاقی اور مادی شکار کرنے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ یہ دھوکے کا ہتھیار ہے نہ کہ مدافعت کا ، کیونکہ اسے کبھی بھی بہادر ، طاقتور ، اور درست لوگوں کے ہتھیاروں میں شمار نہیں کیا گیا۔

اللہ کے بندو! بلیک میلنگ (استحصالی ) ایک جارحانہ کام ہے، جس کے پیچھے غیر قانونی اور ذاتی خواہشات کو پانے کا حد سے زیادہ گھمنڈ ہوتا ہے۔ چنانچہ بلیک میلر کی معاملات کو ظاہر کر دینے کی دھمکیوں کے آگے آدمی بے بس ہو جاتا ہے اور چار و ناچار اس کے مطالبات کے آگے جکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ آدمی یہ گوارا نہیں کرتا کہ لوگوں کے سامنے اس کا راز کھلے ، اس لئے بادل نا خواستہ اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تاکہ اس خبیث انسان سے خود کو بچا سکے، جو جانتا ہے کہ اسے اپنے گھوڑے کی لگام کہاں سے کھینچنی ہیں ۔

اللہ کی قسم، یہ منحوس دباؤ ہے جس سے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پناہ مانگی ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: 
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»
 "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم اور پریشانی سے، عاجزی اور کاہلی سے، بخل اور بزدلی سے، قرضے کے بوجھ اور لوگوں کے دباؤ سے۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے)

اللہ کے بندو ! بلیک میلنگ ایک وسیع میدان ہے جس میں مختلف طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں، لیکن کم ظرفی ، شدت ، دشمنی، خود پسندی، اور دوسروں کے شانوں پر چڑھنے میں یہ سب مشترک ہوتے ہیں۔

بلیک میلنگ صرف عداوت اور مخاصمت سے ہی خاص نہیں، بلکہ عین ممکن ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ، بہن اپنے بھائی کے ساتھ، اور دوست اپنے دوست کے ساتھ اس میں ملوث ہو ۔اس لئے کہ جب نفس خبیث ہو جاتا ہے تو اس کو کوئی لگام نہیں ہوتی ، اور پھر اس کے سامنے دوست دشمن برابر ہو جاتے ہیں۔ مگر جس پر اللہ تعالی رحم کرے ،جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بات سنی، اسے سمجھا اور جو سنا اس پر عمل بھی کیا۔

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے ، بلند آواز سے پکارا اور فرمایا: ' اے ان لوگوں کی جماعت جو زبانی اسلام لائے ہیں مگر ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا ہے! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو عار مت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب ڈھونڈتا ہے ، اسے رسوا و ذلیل کر دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو '

اللہ کے بندو! ہمارے موجودہ دور میں سب سے زیادہ بلیک میلنگ اخلاق اور آبرو کے معاملے میں ہوتی ہے۔ یہ سنگین دروازہ ہے، ممکن ہے کہ بلیک میلر اس سے داخل ہو اور اس کا شکار اس کے آگے گھٹنے ٹیک دے۔ بالخصوص سوشل میڈیا کے جدید دور میں کہ جس میں مکاری، پھنساؤ اور دھوکہ عام ہے، اور لوگوں کی عزت و آبرو اس طرح پامال کی جاتی ہے، جیسے پاگل بھیڑیے اور چور لوگوں کی دیواروں پر بے خوف پھرتے ہیں۔

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عزت اور آبرو کا شمار ضروریات خمسہ میں ہوتا ہے، جن کی حفاظت پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بلیک میلر اس ضرورت کی خلاف ورزی کرنے والا، اور معاشرے کے اخلاقی امن کو ختم کرنے والا ہوتا ہے۔

پس بلیک میلر ڈکیت، چور اور حملہ آور فاجر ہوتا ہے ۔ابن قیم ؒ اس اور اس جیسوں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ خواہش نفس اس کا امام ، شہوت اس کا قائد ، جہالت اس کی رہنما اور غفلت اس کی سواری ہوتی ہے، نیز وہ اپنے دنیاوی اغراض کے حصول میں غرق ، خواہش نفس کے نشے اور دنیا کی محبت میں مست رہتا ہے، اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتا ہے۔

اللہ کے بندو ! یہ بلیک میلر کی تصویر ہے ،وہ ایک مغرور شخص ہوتا ہے جو اپنے شکار کے نقصانات کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل چاہتا ہے ۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس وہ اچھی عادات نہیں ہیں کہ جس سے وہ بلیک میلنگ کے بغیر، قانونی طریقے سے اپنی ضروریات پوری اور خواہشات کی تکمیل کر سکے۔ چنانچہ وہ بھوکے بھیڑیے کی شکل میں بدل جاتا ہے اور پھر بلیک میلنگ کے دانت اور انانیت کے پنجے نکال کر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ بلیک میلر میں انسانیت نہیں ہوتی، بلکہ وہ انسانی جسم میں سرکش شیطان ہوتا ہے۔

بلیک میلنگ کے معاملات میں کثرت اور تنوع کے باوجود نوٹ کیا جاتا ہے کہ عموماً نوجوان لڑکے نوجوان لڑکیوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکوں میں جوش جوانی ہوتا ہے اور لڑکیوں میں جذبات۔ اور بھلا جذبات کب جوانی کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، بلکہ یوں سمجھیے کہ قیدی قید کرنے والے کی بیڑیوں کو کیسے کھول سکتا ہے، جبکہ وہ جذباتی وعدوں اور دھوکے کے میدانوں میں داخل ہو چکا ہو۔

اگرچہ نوجوان لڑکے مجرم اور بڑی غلطی پر ہیں، لیکن ان کا یہ جرم نوجوان لڑکیوں کو ان کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں کرتا، کہ جب ایک لڑکی اپنے اعتماد اور عزت کو ایک ایسے شخص کے سامنے پھینکتی ہے کہ جس کے اخلاق ، دین اور امانت کو وہ جانتی ہی نہیں ۔ اور پھر ایسا کیوں نہ ہو ، کہ اسی نے تو حقیقت سے ہٹ کر ظاہر سے دھوکا کھایا اور دل کے فریب پر بھروسہ کر بیٹھی ۔

اس میں تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس نے اپنی قبر آپ ہی کھودی ہے۔ اور جو اپنے گھر کا دروازے مضبوطی سے بند نہیں کرتا تو یقیناً وہ اسے چوروں کے نشانے پر چھوڑ دیتا ہے۔

بلیک میلر کو بلیک میلنگ پر ابھارنے والی چیز شکار کو حقیر اور کمزور سمجھنا ہی ہے ،اگر ایسا نہ ہو تو وہ کبھی اپنا گمشدہ مال نہ پاسکے ۔ بلیک میلر کے دل میں اتری ہوئی برائی کی دلیل کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ لوگوں کے بھیدوں اور مخصوص معاملات کا سودا کرتا ہے ۔ اس لیے کہ آدمی جب برا ہوتا ہے تو وہ دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے اور پھر ان کی حرمتوں کی پرواہ بھی نہیں کرتا۔

جیسے کہ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
«بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»
 "کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہیں۔" ۔(اسے مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔)

بلیک میلنگ اپنے تمام مفہوم میں ایذا رسانی سے باہر نہیں ہے، عقل مندوں نے جب بھی اس کی چھان بین کی تو اس کو تکلیف کے دائرہ سے باہر نہیں پایا۔ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے: 
{وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا} [الأحزاب: 58] 
اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ان کے کسی قصور کے بغیر دکھ پہنچاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بار اٹھا لیا۔

جان لیجئے ! بہت سے فکر مند لوگوں نے بلیک میلنگ کے بارے میں بہت سی گفتگو کی ہے ، بعض نے تو بہت گہری اور بعض نے طویل، ان میں سے کچھ نے اس کو مشکل سے تعبیر کیا ہے اور بعض نے ظاہری رجحان سے۔ یہ جو کچھ بھی ہو بہرحال یہ ایک اخلاقی جرم ہے ، اور مسلم معاشرے کے عقلمند لوگوں پر واجب ہے کہ اس کا نوٹس لیں ۔ ان کو یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ دوا تب ہی فائدہ دے گی کہ جب بیماری اور اس کے اسباب کی صحیح تشخیص ہو گی ۔ اسی طرح یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ بلیک میلنگ کا مقابلہ کسی خاص فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تو پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے ، چنانچہ ہر آدمی کو اپنی ذمہ داری کے بقدر اس کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ پس خاندان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں شامل لوگوں کو آگاہ کریں، اسی طرح مدارس، تعلیم یافتہ لوگ اور امن و امان کے ذمہ داروں کی بھی ذمہ داری ہے۔

بلیک میلنگ کا علاج امنی ، اخلاقی اور تربیتی ہر سطح پر کرنا ہو گا ،ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تکمیل کے لئے ضروری ہے ، اور صرف امنی ، اخلاقی اور تربیتی گوشہ ہی کافی نہیں ، رہی امنی کے علاج کی بات ہے تو وہ واقع ہونے کے بعد کا علاج ہے ، اور جہاں تک اخلاقی اور تربیتی علاج کی بات ہے تو وہ واقع ہونے سے پہلے کا علاج ہے ۔اس لئے اگر اسے ختم نہ کیا جا سکے تو کم سے کم اسے روکنا تو ضروری ہے ، نیز تمام عقلمندوں کا اس بات پر اکتفا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے ۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں ، اپنے لئے اور آپ سب اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، آپ بھی اسی سے توبہ کریں ، بےشک وہ بہت معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس) موضوع:  بلیک میلنگ کی قباحتیں بتاریخ: 5 صفر 1441 بمطابق 04 اکتوبر 2019 امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈ...

تسلسل ٹوٹ جائے گا


تسلسل ٹوٹ جائے گا
شاعر: محسنؔ بھوپالی​


نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو
ان اُڑتی تتلیوں ، آوارہ بھنوروں کو ،
تسلسل ٹوٹ جائے گا !

فضا محو سماعت ہے ،
حسین ہونٹوں کو نغمہ ریز رہنے دو ،
نگاہیں نیچی رکھو
اور
مجسم گوش بن جاؤ
اگر جنبش لبوں کو دی ،
تسلسل ٹوٹ جائے گا !

افق میں ڈوبتے سورج کا منظر
اس بلندی سے ذرا دیکھو
اسی رنگین کنارے پر ،
شفق سونا لٹائے گی
یونہی تم بےحس و ساکت رہو
ایسے میں پلکیں بھی ذرا جھپکیں
تسلسل ٹوٹ جائے گا !

وہ خوابیدہ ہے ، خوابیدہ ہی رہنے دو
نا جانے خواب میں کن وادیوں کی سیر کرتی ہو
بلندی سے پھسلتے آبشاروں میں کہیں گم ہو
فلک آثار چوٹی پر کہیں محو ترنم ہو
اگر آواز دی تم نے
تسلسل ٹوٹ جائے گا !

میں شاعر ہوں ،
میری فکر رساں ، احساس کی اس سطح پر ہے
جس میں خوشبو رنگ بنتی ہے
صدا کو شکل ملتی ہے
تصور بول اٹھتا ہے
خاموشی گنگناتی ہے
یہ وہ وقفہ ہے _ _ _ _ _ _ ایسے میں ،
اگر داد سخن بھی دی
تسلسل ٹوٹ جائے گا !​

تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

تسلسل ٹوٹ جائے گا شاعر: محسنؔ بھوپالی​ نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو ان اُڑتی تتلیوں ، آوارہ بھنوروں کو ، تسلسل ٹ...

آج کی بات - 472


↝ آج کی بات ↜

ہر شخص اپنی پسند میں آزاد ہے ۔ جو چاہے پسند کرے
لیکن اپنی پسند کے نتائج کا بھی وہ خود ہی ذمہ دار ہے۔




تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

↝ آج کی بات ↜ ہر شخص اپنی پسند میں آزاد ہے ۔ جو چاہے پسند کرے لیکن اپنی پسند کے نتائج کا بھی وہ خود ہی ذمہ دار ہے۔ تبص...

مکالمہ ۔۔۔ بہترین راستہ



ایمان اور اسلام میں کیا فرق ہے؟

اسلام راستہ ہے ، اور ایمان منزل۔

پر یہ جو دوسرے مذاہب کے لوگ ، اور کچھ علماء بھی کہتے ہیں ، کہ سب مذاہب ایک ہی اصول پر قائم ہیں ، بس روپ کا فرق ہے۔

شاید ہاں ۔ پر یقیناً نہیں۔

کیسے؟

اگر سب مذاہب دراصل ایک ہی ہیں ، اور صرف روپ کا فرق ہے ، تو پھر اُن کے پیروکار ایک جیسے کیوں نہیں؟

یہ تو پیروکاروں کا مسئلہ لگتا ہے، مذاہب کا نہیں۔

یہ پیروکاروں سے زیادہ اُس مذہب کا مسئلہ ہے ، جو وقت کے ساتھ فکری و عملی ارتقاء کا حامل نہیں ہو سکا ، لہٰذا اسکے ماننے والے بھی نہیں ہو سکے۔

پر مذہب کا ارتقاء ، پیروکار کا کام تو نہیں ہے ناں۔

بالکل۔ آپ سمجھ گئے۔ مذہب کا ارتقاء وہی کرے گا ، جس نے مذہب کو پیدا کیا ، اور جو ایک سے بہتر ایک مذہبی فکر دُنیا میں لایا ، حتیٰ کہ دین مُکمل ہو گیا۔

پر ، کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ منزل ایک ہی ہے ، بس  راستے مُختلف ہیں۔

یہ بات کہنے والے ایک چھوٹے سے قصبے میں بھی ایک سے دوسری جگہ بہترین راستے سے جاتے ہیں ، جس میں رش کم ہو ، سڑک اچھی ہو ، خوبصورتی ہو، مسائل کم ہوں ، سب سہولتیں ہوں ، اور سب سے بڑھ کر ، منزل پر پہنچنے کی گارنٹی ہو۔ اور یہ بات کہنے والے ایک سے دوسرے شہر ، یا بین الاقوامی سفر کے دوران تو سب سے اچھے رستے ، بہترین ہائی ویز / موٹر ویز ، اعلیٰ معیار کی ائیر لائنز اور سب سے بہتر ذرائع آمدورفت استعمال کرتے ہیں۔

جی۔ وہ تو ظاہر سی بات ہے۔

اب آپ بالکل اچھی طرح سمجھ گئے۔

ایمان اور اسلام میں کیا فرق ہے؟ اسلام راستہ ہے ، اور ایمان منزل۔ پر یہ جو دوسرے مذاہب کے لوگ ، اور کچھ علماء بھی کہتے ہیں ، ...

داستانِ سفر مجھ کو یوں مت سنا


داستانِ سفر مجھ کو یوں مت سنا
تحریر: ابو شہیر

حج ایک ایسی تمنا ہے جو بلا شبہ ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے ۔ ایک ایسی آرزو جس کے پورے ہونے کے خواب دیکھے جاتے ہیں ۔ جس نے مقامات مقدسہ کو نہیں دیکھا ، وہ ایک بار حاضری کی تمنا کرتا ہے اور جس کو ایک مرتبہ حاضری کا شرف حاصل ہو جاتا ہے وہ پھر باربار حاضری کی دعا کرتا ہے۔  بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے حرمین شریفین کو نہیں دیکھا اس کی تو طلب ہے اور جو دیکھ آیا  اس کی تڑپ ہے۔

عازمین حج و عمرہ کی قسمت پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے بلکہ ان معاملات میں تو حسد بھی جائز ہے ۔ جس وقت حجاج کرام روانہ ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کے متعلقین ان کو بڑی حسرت کے ساتھ رخصت کرتے ہیں اور جب وہ مقامات مقدسہ کی زیارت کر کے واپس لوٹتے ہیں تو جا جا کر ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ ان کی داستان سفر بڑے ذوق و شوق سے سنتے ہیں ۔ قابل مبارکباد اور لائق تحسین ہیں وہ نفوس جو اس عظیم عبادت کی ادائیگی کا شرف حاصل کر چکے ہیں یا کرنے والے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ہمارے بہت سے متعلقین حج و عمرہ کا شرف حاصل کر کے واپس لوٹے ۔ ان میں سے کئی افراد کے تاثرات جان کر خاصا دکھ ہوا کہ ان کے منہ سے شکوہ شکایت کے علاوہ کچھ نہ سنا ۔پہلے تو یہ دیکھ لیجئے کہ شکایات کیا تھیں ؟ کسی نے کہا : اس قدر گرمی تھی کہ توبہ توبہ ! کوئی بولا : رش بہت تھا ۔ کسی نے کہا : رہائش حرم سے بہت دور تھی ۔ کسی نے شکوہ کیا : پیدل چل چل کے بھیا میری تو ٹانگیں ٹوٹ گئیں ۔ کسی کو کھانے کا ذائقہ سمجھ نہیں آیا ۔ کسی کو مہنگائی نے پریشان کیا ۔ کسی کو عرب باشندوں کے رویہ میں درشتگی کی شکایت رہی ۔ یہاں تک کہ ایک صاحب کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ تو ہجوم دیکھ کر اس قدر بوکھلائے کہ کہہ بیٹھے : دوبارہ نہیں آؤں گا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

ایسے لوگوں کو اول تو توبہ کرنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ ان کی شکایات کس قدر بے جا ہیں ۔ ہم ایسے لوگوں کی خدمت میں بصد ادب یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ کو کسی نے نہیں بتایا تھا کہ وہاں کا موسم کس قدر گرم ہوتا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ وہاں کس قدر اژدھام ہوتا ہے ؟  کم و بیش پچیس لاکھ افراد ، وہ بھی مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے ۔ سب کا رہن سہن الگ ۔ طور طریقے الگ ۔ معاشرت الگ ۔ تو ایسے مختلف النوع افراد کے اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنا کوئی آسان کام ہے ؟ رہائش حرم سے دور تھی تو کیا یہ بات آپ کے علم میں نہیں تھی ؟ سرکاری اسکیم میں فارم بھرتے وقت آپ کو معلوم ہو جانا چاہئے تھا کہ حرم شریف سے آپ کی رہائش کا کم سے کم فاصلہ اتنے کلومیٹر ہو گا ۔ اور پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج پر جانے والوں کو بھی ٹور آپریٹر بتا دیتے ہیں کہ ان کی رہائش حرم سے کتنے فاصلے پر ہو گی ۔ تو اس فاصلے پر شکایت و برہمی کیسی ؟ اور پھر ذرا یہ تو سوچئے کہ کیا پچیس کے پچیس لاکھ افراد حرم شریف سے بالکل متصل رہائش حاصل کر سکتے ہیں؟ بہت مبالغہ کر لیا جائے تو شاید تین چار لاکھ افراد قریب کی رہائش گاہوں میں قیام پذیر ہو سکیں، بقیہ حجاج کرام کو تو یقیناً درجہ بدرجہ پیچھے ہی جانا ہو گا ۔ پیدل چلنے کی شکایت کرنے والوں کو بھی تربیت کے دوران بتا دیا جاتا ہے کہ میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے ، اس کے لئے ذہنی و جسمانی طور پر تیار رہئے ۔ لیکن ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ برصغیر کے اکثر باشندوں کو ڈھلتی یا آخر عمر میں حج کا خیال آتا ہے ۔ اور پھر یہی لوگ واپس آ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میاں !حج تو جوانی کی عبادت ہے ۔ تو اب بڑھاپے میں تو دو قدم چلنا بھی مشکل ہوا کرتا ہے ، میلوں چلنے کا دم کہاں۔کھانے کا ذائقہ سمجھ نہیں آ رہا تھا تو بھائی خود پکا لیتے۔ لیکن وہاں پہنچ کر خواتین صاف کہہ دیتی ہیں کہ ہم یہاں ہانڈی چولہا کرنے نہیں آئے  اور کسی حد تک وہ حق بجانب بھی ہوتی ہیں کہ ان بے چاریوں کی عمر کا بیشتر حصہ باورچی خانے کی نذر ہو جاتا ہے ۔ تاہم اگر چند لوگ خدمت کے جذبے کے ساتھ باری باری کھانا بنا لیا کریں تو کسی پر بار بھی نہیں ہو گا اور لذت کے علاوہ خاطر خواہ بچت کا بھی باعث ہو گا ۔ عرب باشندوں کے رویہ کی شکایت کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ پچیس لاکھ افراد کا مجمع جو کہ ان کی زبان نہیں سمجھ سکتا اور نہ وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں تو اس مجمع کو کنٹرول کرنا کس قدر مشکل کام ہے ؟ سوچئے تو سہی کہ اپنا ہی بچہ بات نہ مانے یا بیوی آپ کی بات نہ سمجھے تو کس قدر غصہ آتا ہے ۔ وہاں تو معاملہ ہی مختلف ہے۔

خیر یہ تو شکایات کے پلندے کا جواب ہو گیا ۔ اب ذرا نعمتوں  اور رحمتوں کا تذکرہ  ہو جائے ۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ آپ کے اطراف میں ایسے کتنے لوگ ہیں جن کی مالی حیثیت آپ سے کہیں زیادہ ہےلیکن حج عمرہ ابھی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور آپ کی خوش نصیبی کہ آپ کو یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔ حج عمرہ کی توفیق ہو جانا بھی در حقیقت اللہ کا بہت بڑا انعام ہے ۔  بہت سے لوگ اس بہانے ہوائی جہاز کا سفر بھی کر لیتے ہیں ، تو ہو سکتا ہے آپ کا بھی یہ پہلا ہوائی سفر ہو ۔ چلئے یہ خواہش بھی پوری ہو گئی ۔ تمام عمر نمازوں کی نیت کرتے وقت “منہ میرا کعبہ شریف کی طرف ” کہتے رہے ، آج اس کعبہ شریف کی زیارت کا شرف حاصل ہو گیا ۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ اس گھر کا طواف کر لیا بلکہ ان گنت طواف کر لئے ۔ اس گھر کے اندر نوافل ادا کر لئے ۔ (جی ہاں حطیم خانہ کعبہ کا ہی حصہ ہے جو کہ تعمیر نہیں کیا گیا ) ۔ ملتزم سے لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگ لیں ، حدیث مبارکہ کے مطابق جہاں کوئی دعا رد نہیں ہوتی ۔ کس قدر خوش نصیبی کی بات ہے ۔صفا مروہ جیسے مبارک مقامات کو دیکھ لیا ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کے نشان کی زیارت کر لی۔حرم مکی میں نمازیں ادا کر لیں کہ جہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے ۔ پھر وہ وادی جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر  کے گلے پر چھری چلائی ، جہاں شیطان کو کنکریاں ماریں اس وادی یعنی منیٰ کو بھی دیکھ لیا  ۔ اور بالآخر وہ مبارک ساعت آن پہنچی کہ جب نو ذی الحج کو زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کا وقت میدان عرفات میں گزارا ، جہاں اللہ رب العزت کی بارگاہ سے مغفرت کے پروانے حاصل ہوئے ۔ تمام گناہ معاف کر دئیے گئے ۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ کتنی بڑی ۔۔۔ کتنی بڑی سعادت ہے ۔ کتنی بڑی کامیابی ہے ۔ کتنا بڑا انعام ہے ۔

اور پھر حبیب کبریا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر بنفس نفیس درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کا شرف بھی حاصل ہو گیا ۔  کتنی بڑی سعادت حاصل ہو گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود سے آراستہ مسجد کی زیارت ہو گئی ۔ اس مسجد میں خوب نمازیں پڑھیں جہاں ایک نماز کا ثواب ایک روایت کے مطابق ایک ہزار کے برابر ہے ۔ پھر جنت (ریاض الجنۃ) میں داخل ہو گئے … کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ میرے حجرے سے میرے منبر تک کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جنت کہا تو میں کیوں نہ کہوں کہ ریاض الجنۃ میں پہنچ گئے گویا جنت میں پہنچ گئے۔ سو جنت میں بھی پہنچ گئے۔ کتنی بڑی سعادت ہے ۔ اسلام کی پہلی مسجد یعنی مسجد قبا میں نوافل ادا کئے اور مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے عمرہ کا شرف حاصل ہوا ۔ جی ہاں ! حدیث مبارکہ کے مطابق مسجد قبا میں دو رکعت اخلاص کے ساتھ ادا کرنے پر مقبول عمرہ کا ثواب ہے ۔ مسجد قبلتین کی زیارت ہوئی ۔ احد پہاڑ کی زیارت ہوئی جس کے بارے میں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔ اللہ اکبر ۔ جنت البقیع میں آرام فرما صحابہ کرام اور احد کے دامن میں شہدائے احد کے مقبروں پر فاتحہ خوانی کا شرف حاصل ہوا ۔ کیا کیا گنِواوَں!

عبادات سے ہٹ کر دیکھئے ! ایئر کنڈیشنڈ کمرے ۔ ایئر کنڈیشنڈگاڑیاں ۔ ایئر کنڈیشنڈ مسجدیں ۔ ایئر کنڈیشنڈ خیمے ۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے کبھی ایئر کنڈیشنڈکمروں میں آرام کیا ؟ ایئر کنڈیشنڈگاڑیوں میں سفر کیا؟ اب تو وہاں ہر جگہ سہولیات میسر ہیں ۔ سوچیں تو سہی کہ اگر یہ سب سہولیات نہ ہوتیں تو کیا ہوتا ؟ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ دنیا جہان کی نعمتیں آج اس شہر میں موجود ہیں جو کبھی قرآن کی گواہی کے مطابق بے آب و گیاہ وادی ہوا کرتا تھا ۔ دودھ ، گوشت ، اناج ، چائے کی پتی ، چینی اور مصالحہ جات سے لے کر سبزیوں اور موسم و بے موسم کے پھلوں تک ہر چیز اس شہر میں موجود ہے ۔  دودھ جوس کولڈڈرنگ لسی پانی آئس کریم چائے کافی وغیرہ وغیرہ ۔ اور ان سب سے بڑھ کر آب زم زم ۔ وہ مقد س پانی جو ایک نبی کے قدموں سے جاری ہوا اور پھر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا جھوٹا پانی اس میں شامل ہوا۔ جی ہاں ! میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم کے کنویں سے ڈول میں پانی بھر کر پیش کیا گیا ۔ آپ نے خوب سیر ہو کر پیا اور باقی پانی واپس کنویں میں انڈیل دیا ۔ یاد کیجئے کہ وہ پانی جو کبھی گھونٹ دو گھونٹ تبرک کی شکل میں ملتا تھا ، اس مقدس سفر کے دوران کتنا پی لیا ؟ بلا مبالغہ سینکڑوں گلاس ۔ یاد کیجئے ! خوب یا د کیجئے ! کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے زم زم کے کولر کے نیچے گلاس رکھ کر بٹن دبایا ہو اور پانی نہ آیا ہو؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے وضو کرنے کے لئے یا بیت الخلاء میں طہارت کے لئے نل کھولا ہو اور پانی نہ آیا ہو ؟ کیا کبھی کسی چیز کی قلت دیکھی ؟ مقامی باشندوں کے علاوہ پچیس لاکھ افراد کا مجمع ایک شہر میں جمع ہے۔ کیا کبھی دودھ کی قلت ہوئی ؟کبھی ایسا ہوا کہ چائے نہ ملی ہو ؟ یا آٹا شارٹ ہو گیا ہو ؟ یا چینی نہ مل رہی ہو ؟ یا کولڈرنک مارکیٹ سے غائب ہوئی ہو ؟ چلو یہ تو شہر ہے ۔ منیٰ مزدلفہ عرفات میں بھی سب کچھ مل رہا ہے ۔ پھر راستوں میں جگہ جگہ بڑے بڑے ٹرالرز سے اشیائے خورد و نوش اللہ کے مہمانوں پر مفت نچھاور کی جا رہی ہیں ۔ سرد موسم میں نلکوں میں گرم پانی آ رہا ہے تو گرمی کی تمازت سے بچانے کے لئے حجاج کرام پر  فواروں سےٹھنڈے پانی کی پھواریں ماری جا رہی ہیں۔ کون کر رہا ہے یہ سب کچھ؟ کیا انسانوں کے بس کی بات ہے ؟ کیا کیا نہ کھلایا رب کعبہ نے ۔ کیا کیا نہ پلایا رب کعبہ نے۔

رب کعبہ نے شیخ عبد الرحمٰن السدیس کی بلند و بالا تلاوت سے فیض یاب ہونے کے مواقع عطا کئے ۔ شیخ سعود الشریم کی مسحور کن قرات سنوا دی ۔ کیسٹ یا سی ڈی یا ٹی وی پر سننے اور براہ راست سننے میں فرق محسوس کیا آپ نے ؟ شیخ علی احمد ملا کی فلک شگاف  ، شیخ فاروق ابراہیم حضراوی کی گھمبیر اور شیخ محمد ماجد حکیم کی مسحور کن آواز وں میں بلند ہونے والی اذانیں ،شیخ صلاح البدیر کی رقت آمیز تلاوتیں ، کیا کیا گِنواوَں؟ کون کون سی رحمت کا تذکرہ کروں ؟  مقصد یہ باور کرانا تھا کہ بھائی ! کتنا کچھ ہوتا ہے حاجی کے پاس بتانے کو !

اے مدینے کے زائر !خدا کے لئے  داستان سفر  مجھ کو یوں مت سنا
دل مچل جائے گا ، بات بڑھ جائے گی ، میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے

جی ہاں!داستان سفر اس طرح سنائیے کہ سننے والے کا بھی دل مچل جائے وہاں جانے کو ۔ حسرت سے اس کی آنکھیں جل تھل ہو جائیں ۔ اس کے شوق کی چنگاری بھڑک کر شعلے میں تبدیل ہو جائے ۔ آپ ضیوف الرحمٰن یعنی اللہ تعالیٰ کے مہمانوں میں شامل رہے … گویا اللہ تعالیٰ آپ کی میزبانی کرتا رہا ۔۔۔ اس کیفیت ، اس سعادت کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذکورہ بالا رحمتوں کو یاد کیجئے اور ان کا تذکرہ کیجئے ۔ زحمتوں اور تکالیف کو فراموش کر دیجئے ، بھول جائیے ۔ اور اگر کبھی مشکلات کا تذکرہ بھی کریں تو تربیت کی غرض سے ، سکھانے کے لئے ، اگلے کو دشواری سے بچانے کے لئے ، آگاہی دینے کے لئے ۔۔۔ نہ کہ شکوہ شکایت کے لئے ۔ خدانخواستہ نا شکری میں شمار نہ ہو جائے ۔

چلتے چلتے صبیح رحمانی کی ایک نظم ملاحظہ فرمائیے ۔ دیکھئے شاعر نے اپنے مشاہدات ِحرم کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔

کعبے کی رونق ! کعبے کا منظر !اللہ اکبر اللہ اکبر
دیکھوں تو دیکھے جاوَں برابر !اللہ اکبر اللہ اکبر

حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو
لایا کہاں مجھ کومیرا مقدر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

حمد خدا سے تر ہیں زبانیں ، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں
بس اک صدا آ رہی ہے برابر ، اللہ اکبر اللہ اکبر

مانگی ہیں میں نےجتنی دعائیں منظور ہوں گی مقبول ہوں گی
میزاب رحمت ہے میرے سر پر اللہ اکبر اللہ اکبر

یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں ، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں
رویا غلاف کعبہ پکڑ کر اللہ اکبر اللہ اکبر

اپنی عطا سے بلوا لیا ہے ، مجھ پر کرم میرے رب نے کیا ہے
پہنچا ہوں پھر سے حطیم کے اندر  اللہ اکبر اللہ اکبر

قطرے کو جیسے سمندر سمیٹے ، مجھ کو مطاف اپنے اندر سمیٹے
جیسے سمیٹے آغوش مادر اللہ اکبر اللہ اکبر

باب کرم پر آئے ہوئے ہیں ، پھر ملتزم پر آئے ہوئے ہیں
اے سچے داتا !تیرے گداگر اللہ اکبر اللہ اکبر

بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے ، چوما ہے تجھ کو خود مصطفیٰ نے
اے حجر اسود تیرا مقدر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

جس پر نبی کے قدم کو سجایا ، اپنی نشانی کہہ کے بتایا
محفوظ  رکھا رب نے وہ پتھر اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھا صفا بھی ، مروہ بھی دیکھا  رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا
دیکھا رواں اک سروں کا سمندر اللہ اکبر اللہ اکبر

کعبے کے اوپر سے جاتے نہیں ہیں ، کس کو ادب یہ سکھاتے نہیں ہیں !
کتنے موَدب ہیں یہ کبوتر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

تیرے کرم کی کیا بات مولا ! تیرے حرم کی کیا بات مولا!
تا عمر کر دے آنا مقدر اللہ اکبر اللہ اکبر

مولا! صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے ؟ بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے
بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر اللہ اکبر اللہ اکبر




تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

داستانِ سفر مجھ کو یوں مت سنا تحریر: ابو شہیر حج ایک ایسی تمنا ہے جو بلا شبہ ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے ۔ ایک ایسی آرزو جس کے پ...