ہفتہ, نومبر 30, 2013

ذرا سوچئیے



  • گلی میں کوڑا کرکٹ پڑا ہے تو حکومت صاف کرے
  • سٹریٹ لائٹ خراب ہوگئی ہے تو حکومت ٹھیک کرے
  • گٹر بند ہوگیا ہے تو حکومت کھلوائے
  • ہم نے اپنی دکان کا سامان سڑک پر دور تک پھیلا کر یہ گلہ کرنا ہے کہ حکومت ناجائز تجاوزات ختم نہیں کرواتی رستے تنگ ہوگئے ہیں
  • ہم نے سارا دن دفتر میں بیٹھ کر گپیں مارنی ہیں اور گلہ کرنا ہے کہ سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہوتا اور حکومت سوئی ہوئی ہے
  • ہم نے اپنی مرضی سے چیزوں کی قیمت بڑھا کر اور دو نمبر چیزیں بیج کر کہنا ہے کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے حکومت کچھ نہیں کر رہی
  • ہم نے کوشش کرنی ہے کہ ہمیں اپنے کام کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے کچھ دے دلا کر ہمارا کام جلدی ہوجائے اور پھر گلہ کرنا ہے کہ یہاں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا
  • ہم غلط جگہ پر رکشہ ، گاڑی یا وین کھڑی کرکے سڑک بند کردیتے ہیں اور چالان ہونے پر کہتے ہیں کہ یہ حکومت تو غریبوں کی دشمن بنی ہوئی ہے ۔
کیا ہمارا کوئی فرض نہیں ، کیا ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ، کیا یہ سب کچھ حکومت کے ذمہ ہے ۔ ہم چاہے کریں ، جیسے مرضی رہیں
افسوس کے ہم خود کچھ کرنے کو تیارنہیں اور برا حکومت کو کہتے ہیں

امید


"اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمار اندر باہر خشک ہوتا ہے۔ اور ہمہیں ذندگی میں کوئ کشش کوئی رنگینی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔باہر کا موسم اچھا بھی ہو تو ھمارے من کی ویرانی اور پیاس ہمیں بیرونی فضا سے محظوظ ہونے نہیں دیتی۔۔۔مگر۔۔۔۔پھر ایک وقت آتا جب ایک چھوٹی سی بات،ایک چھوٹی سی ُامید،ایک اچھوتا سا خوشی کا َننھا سا احساس ہمارے اندر جل تھل کر دیتا ہے۔۔۔اور ہمارا تن من سیراب ہو جاتا ہے، اور ھمارے اندر اُمید کی ایک بے ساختہ خوشی کی پھوار برسنے لگتی ہے۔۔۔۔اور اس ُپھوار میں بھیگ کر ہماری روح تک سرشار ھو جاتی ہے۔۔۔۔من کی یہ حسین اور دل فریب جل تھل دراصل اس بیرونی خوشی کی امید کا نتیجہ ھوتا ہے، جو نامحسوس طریقے سے ہمارے اندر ُسرایت کر جاتی ہے۔۔۔اور ہمارے اندر کی ساری کثافت دھو کر ہر طرف خوشی اور اُمید کا سبزہ کھلا دیتی ہے،اور ہم خود کو اتنا ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں جتنا باہر کی فضا بارش کے بعد اپنے آپ کو محسوس کرتی ہے۔"
-Wajeeha Sehar -

جمعرات, نومبر 28, 2013

آج کی بات 28 نومبر 2013


اگر صبر وہاں کیا جہاں عمل کرنا تھا تو یقین مانو یہ صبر نہیں کاہلی ہے ... خاموشی وہاں اختیار کی جہاں الفاظ کی ضرورت تھی تو یہ عقلمندی نہیں بزدلی ہے

از: ملک جہانگیر اقبال

بدھ, نومبر 27, 2013

اخلاص


کبھی کبھی سوچتی ہوں یہ اخلاص بھی کیسی عجب دولت ہے. قرآن میں سوره اخلاص میں کیسے الله پاک نے اپنے محبوب
صلى الله عليه و آله و صحبه و سلم کو اپنے متعلق بیان کرنے کو فرمایا!

کہہ دیجیے وہ الله ایک ہے!

الله بےنیاز ہے!

الله خود خالص ہے اور الله کو اخلاص والے پسند ہیں! اخلاص والوں کی عبادت خالص، دنیا خالص، محبت خالص، اب لگتا ہے کے اخلاص میں عبادت، محبت، دنیا سب الگ کہاں سب ضم ہو جاتا ہے!

خیر .. یہ خالص لفظ جیسے ذھن میں ٹھہر سا جاتا. بہت عرصے پہلے یہ سوچتی تھی کے کاش ایسی دولت ہوتی، کسی دکان سے جا کر اخلاص خرید لاتی!.... پھر اپنی سوچ پر ہنسی آئ کے بھلا ایسی دکان کہا ہو گی؟ ایسا دکان دار کہاں؟ ایسی دولت کہاں سے لوں؟ اور جب اخلاص خرید لوں گی تو رکھوں گی کہاں؟

پھر کچھ وقت گزرا…… سنا کے ایک ایسا دکان دار ہے، سنا کے وہ دکان دار تو ہر دولت سے, مال سے بےنیاز ہے، وہ خود بہت غنی ہے. پھرایک اور احساس دلایا گیا کے اخلاص تو بدلے کا نام ہی نہیں! یہ کچھ دے کر کچھ لیا نہیں جاتا یہ تو سب نچھاور کر کے کسی بھی چیز کی توقع نہ رکھنے کا نام ہے.

اور پھر ایک اور سوال نے بڑی معصومیت سے سراٹھایا. سب دے کر؟

اندر سے آواز آئ. محترمہ .. آپکا تھا کیا؟

آپ کیا لائیں تھیں اپنے ساتھ؟

جو دے سکیں؟

سب اسی کا تو تھا!

تو اسکو دیا نہیں! اسکی امانت اس کے مانگنے پر لوٹا دی!

انا لللہ وانا الیہ راجعون اور الحمدللہ کہیے:)

پھر ایک اور احساس نے اپنے ہونے کا احساس اٹھایا. لگتا کوئی خواہش پوری نہ ہو سکنے کا غم، ہاں وہ غم تو میراہی ہوا ناں!

پھر کچھ وقت گزرا .. غم کو ہم نے خود کو ستانے دیا.. پھر ایک اور احساس عطا ہوا .. کے لو جی اگر کوئی خواہش پوری نہ ہو تو اس میں تو اس جان سے پیارے کی میرے ہی حق میں مصلحت ہے!

اس کا دینا بھی اسکی عطا .. اس کا نہ دینا بھی اسکی عطا الحمدللہ !!!

پھر احساس ہوا کے اخلاص تو الله کے ہو جانے، الله کے لئے ہو جانے کا نام ہے!

جہاں سے منسلک ہو ہر حال میں اسی دھاگے سے بندھ جانے، اسی ڈور سے بندھے رہنے، وفا نبھانے کا نام اخلاص ہے!

ویسے سچ بتاؤں؟ وہ دکان دارعجب ہے، دنیا کے دکانداروں سے بالکل الگ، بالکل مختلف! اس مہربان بےنیاز کے پاس تو کوئی خالی ہاتھ روتا سسکتا بلکتا جائے تو وہ اسے وہ نواز دیتا ہے جو اس بےبس فقیر کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا ماشا الله ! مزے کی بات یہ ہے کے دنیا کے دکاندار فقیروں سے جان چھڑاتے ہیں اور وہ سوہنا ایسا دکان دار ہے کے بہانے دے دے کر بلواتا ہے، عطا کے بہانے جو ڈھونڈتا ہے وہ اپنوں پر، اور وہ بہانے پھر کبھی کیسے ہی اذیت ناک سہی، اس رب ذُوالجلال والاکرم کی نگاہ لطف کے بعد تو ان بہانوں کا ان سرابوں کا بھی شکر کیا جاتا ہے الحمدللہ.

ارے پیاس سے حلق میں کانٹے نہ اگ آئیں تو بھلا میٹھے پانی کی لذّت کا احساس کیسے ممکن ہو؟

اب لگتا ہے سب عطا ہے، یہ کمائی نہہیں جاتی! ایسی تو خواہش بھی دل میں آ جانا ہی الحمدللہ سراسرعطیہ خداوندی ہے. الله عز و جل ہم سب کو توفیق دیں کے ہم الله کے لئے اخلاص کی خواہش رکھ سکیں، الله پاک اپنی پرخلوص محبت میں جینے مرنے اور مر کر جی اٹھنے کی توفیق دیں، الله پاک اپنی محبت کی چادر میں بہت محبت سے ڈھانپیں رکھیں، ہم سب سے راضی ہو جایں، ایک پل نہ چھوڑیں، دو جہاں میں محبت سے تھامیں رکھیں، بس اپنا بنا لیں بس اپنا بنا لیں الله ھمّ آمین!

مآخذ: https://www.facebook.com/urdu.duniya1/posts/503171286448254

میری آدھی عمر گزر گئی


یونہی بے یقیں یونہی بے نشاں میری آدھی عمر گزر گئی
کہیں ہو نہ جائوں میں رائیگاں، میری آدھی عمر گزر گئی


کبھی سائبان نہ تھا بہم، کبھی کہکشاں تھی قدم قدم
کبھی بے مکاں، کبھی لا مکاں، میری آدھی عمر گزر گئ


تیرے وصل کی جو نوید ہے، وہ قریب ہے یا بعید ہے؟
مجھے کچھ خبر تو ہو جان جاں، میری آدھی عمر گزر گئ


کبھی مجھ کو فکر معاش ہے، کبھی آپ اپنی تلاش ہے
کوئی گُر بتا میرے نکتہ داں، میری آدھی عمر گزر گئ


کوئی طعنہ زن میری ذات پر، کوئی خندہ زن کسی بات پر
پہءِ دل نوازی دوستاں، میری آدھی عمر گزر گئ


ابھی وقت کچھ میرے پاس ہے، یہ خبر نہیں ہے قیاس ہے
کوئی کر گلہ میرے بد گماں، میری آدھی عمر گزر گئ


اُسے پا لیا، اُسے کھو دیا، کبھی ہنس دیا، کبھی رودیا
بڑی مختصر ہے یہ داستاں، میری آدھی عمر گزر گئ


تیری ہر دلیل بہت بجا، مگر انتظار بھی تھا کُجا
میری بات سن میرے رازداں، میری آدھی عمر گزر گئ


کہاں کائنات میں گھر کروں، میں یہ جان لوں تو سفر کروں
اسی سوچ میں تھا نا گہاں، میری آدھی عمر گزر گئ

خدا کے کمالات


کسی جادوگر کی چھڑی سے ایک پتھر کوئی آواز نکالے تو اس کو دیکھ کر سارے لوگ حیران رہ جائیں گے اور خدا بے شمار انسانوں کو مادہ سے بنا بنا کر کھڑا کر رھا ھے اور وہ نہایت بامعنی الفاظ میں کلام کر رھے ھیں مگر اس کو دیکھ کر کسی پہ حیرانی طاری نہیں ھوتی..

کیسے اندھے ھیں وہ لوگ جن کو جادوگر کے کرشمے دکھائی دیتے ھیں لیکن خدا کے کرشمے دکھائی نہیں دیتے..

کیسے بے عقل ھیں وہ لوگ جو جھوٹے کرشمے دکھانے والوں کے سامنے سراپا عقیدت مند بن جاتے ھیں مگر جو ھستی سچے کرشمے دکھا رھی ھے اس کے لئے ان کے اندر عقیدت و محبت کا جذبہ نہیں امنڈتا..

حقیقت یہ ھے کہ انسان اگر خدا کو پا لے تو وہ اس کے کمالات میں گم ھو جائے ' خدا کے سوا کسی دوسری چیز کا اسکو ھوش نہ رھے..!!

منگل, نومبر 26, 2013

جو رَد ہوئے تھے


گزشتہ عہد گزرنے میں ہی نہیں آتا
یہ حادثہ بھی لکھو معجزوں کے خانے میں
جو رَد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں

جون ایلیا

دل چسپ حقیقت


ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺩﮬﭽﮑﺎ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﯾﺎ ﺑﯿﺲ ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻭﺭ
ﺗﮭﻨﮑﻨﮓ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔

مسبب الاسباب


اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔

وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چلے گئے۔ ڈاکٹر احمد بھی دیگر مسافروں کے ساتھ طیارے کی فنی خرابی کے درست ہونے کا انتظار کرنے لگے۔تھوڑی دیر کے بعد ائیر پورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا:خواتین وحضرات! انجینئر نے بتایا ہے کہ فنی خرابی کے درست ہونے کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا مسافروں کے لیے متبادل طیارہ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ کب آئے گا ؟کسی کو علم نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد نیا اعلان ہوا کہ متبادل طیارہ کل ہی آسکتا ہے۔ ہم اس زحمت کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ اب آپ کو ہوٹل پہنچا دیا جائے گا۔

ڈاکٹر احمدکے لیے یہ اعلان نہایت تکلیف دہ اور پریشان کر دینے والا تھا۔ آج رات تو اس کی زندگی کی نہایت اہم رات تھی۔ وہ کتنے ہفتوں سے اس رات کا منتظر تھا کہ جب اس کی تکریم ہونی تھی۔ وہ کرسی سے اٹھا اور ائیر پورٹ کے اعلی افسر کے پاس جا پہنچا، اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میں انٹر نیشنل لیول کا ڈاکٹر ہوں۔ میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔ مجھے آج رات دارالحکومت میں مقالہ پڑھنا ہے۔ پوری دنیا سے مندوبین اس سیمینار میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگ ہمیں یہ خبر سنا رہے ہیں کہ متبادل طیارہ ۱۶ گھنٹے بعد آئے گا۔متعلقہ افسر نے اسے جواب دیا: محترم ڈاکٹر صاحب ہم آپ کی عزت اور قدر کرتے ہیں ۔

ہمیں آپ کی اور دیگر مسافروں کی مشکلات کا اندازہ ہے۔ لیکن یہ ہمارے بس کی بات نہیں اور نیا طیارہ فوری طور پر فراہم کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔البتہ وہ شہر جہاں آپ کو کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا ہے، یہاں سے بذریعہ کار سے صرف تین چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اگر آپ کو بہت جلدی ہے تو ائیر پورٹ سے کرایہ پر گاڑی حاصل کریں اور خود ڈرائیو کرتے ہوئے متعلقہ شہر پہنچ جائیں۔ ‘‘

ڈاکٹر احمدلمبی ڈرائیونگ کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ مگر اب یہ مجبوری تھی اس کے پاس کوئی متبادل راستہ تھا ہی نہیں۔اس نے متعلقہ آفیسرکے مشورے کوپسند کیا اور ایئر پورٹ سے کار کرایہ پر لے کر متعلقہ شہر کی جانب روانہ ہو گیا۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیاتھا کہ اچانک موسم خراب ہو نا شروع ہو گیا۔آسمان پر گہرے بادل نمو دار ہوئے۔تیز آندھی اس پر مستزادتھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زور دار بارش شروع ہوگئی اور ہر طرف اندھیر ا چھا گیا۔ موسم کی خرابی کی و جہ سے اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔ دو گھنٹے تک وہ مسلسل چلتا گیا،بالآخر اسے یقین ہو گیاکہ وہ راستے سے بھٹک چکا ہے۔

اب اسے بھوک اور تھکاوٹ کااحساس بھی بڑی شدت سے ہونے لگا۔اس نے سوچا تھا : تین چار گھنٹے ہی کا سفر تو ہے ، ا س لیے اس نے اپنے ساتھ کھانے پینے کی کوئی چیز بھی نہ لی تھی۔اب اسے کسی ایسے ٹھکانے کی تلاش تھی جہاں سے اسے کھانے پینے کی کوئی چیز مل سکے۔وقت تیزی سے گزرتا رہا تھا۔ چاروں طرف رات کا اندھیرا بھی چھا چکا تھا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے غیر شعوری طور پراپنی گاڑی ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے روک دی۔

اس کا ہاتھ گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا جب اندر سے ایک بوڑھی عورت کی نحیف و ناتواں آوازاس کے کانوں میں پڑی جو کہہ رہی تھی:جو بھی ہو اندر آجاؤ دروازہ کھلا ہے۔ ڈاکٹراحمدگھر میں داخل ہو اتو دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت متحرک کرسی پر بیٹھی ہے۔ اس نے خاتون سے کہا: اماں! میرے موبائل کی بیٹری ختم ہو چکی ہے، کیا میں اپنا موبائل چارج کر سکتا ہوں؟

بوڑھی عورت مسکرا کر کہنے لگی: میرے بیٹے کون سے فون کی بات کررہے ہو؟ تمھیں معلوم نہیں اس وقت تم کہاں ہو؟ ہما رے ہاں نہ تو بجلی ہے نہ ٹیلی فون،یہ تو ایک چھوٹا سا گائوں ہے، جہاں شہری سہولتوں کاکوئی تصور نہیں ہے پھر اس نے مزید کہا! میرے بیٹے وہ سامنے میز پر چائے اور کھانا رکھاہے۔لگتا ہے کہ تم بھوکے اور پیاسے ہو۔راستہ بھٹک گئے ہو۔تم پہلے کھانا لو پھر بات کریںگے۔ لگتا ہے تم خاصا طویل فاصلہ طے کر کے آئے ہو۔ ڈاکٹر احمدنے اس بوڑھی خاتون کا شکریہ ادا کیا اور کھانے پر ٹوٹ پڑا ۔سفر کی تھکاوٹ سے اسے شدید بھوک لگ رہی تھی ۔اچانک خاتون کی کرسی کے ساتھ والی چارپائی پر حرکت ہوئی اور ایک معصوم نے رونا شروع کر دیا۔خا تون نے اس بچے کوتھپک کر سلایا اور اسے دعائیں دینا شروع کیں۔وہ اس بچے کی صحت اور سلامتی کے لیے لمبی لمبی دعائیں کر رہی تھی۔

ڈاکٹراحمدنے کھانا کھایا اور بوڑھی اماں سے کہنے لگا: اماں جان! آپ نے اپنے اخلاق ‘کرم اور میز بانی سے میرا دل جیت لیا ہے۔آ پ لمبی لمبی دعائیں مانگ رہی ہیں ۔ امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کی دعائیں ضرور قبول کرے گا۔ ’’میرے بیٹے! وہ بوڑھی گویا ہوئی۔‘‘ میرے اللہ نے میری تمام دعائیں سنی اور قبول کی ہیں۔ہا ں بس ایک دعا باقی ہے جو میرے ضعفِ ایمان کی وجہ سے پور ی نہیں ہوئی ۔تم تو مسافرہو، دعا کرو کہ وہ بھی قبول ہو جائے۔

ڈاکٹر احمدکہنے لگا: اماں جان وہ کونسی دعا ہے جو قبول نہیں ہوئی۔آپ مجھے اپنا کام بتائیں میں آ پ کے بیٹے کی طرح ہوں ۔اللہ نے چاہا تو میں اسے ضرورکروں گا۔آپ کی جو مدد میرے بس میں ہو گی ضرور کروں گا۔ خاتون کہنے لگی: میرے عزیز بیٹے !وہ دعا اور خواہش میرے اپنے لیے نہیںبلکہ اس یتیم بچے کے لیے ہے جو میرا پوتا ہے۔اس کے ما ں باپ کچھ عرصہ پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ اسے ہڈیوں کی ایک بیما ری ہے جس کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذو ر ہے۔میں نے قریبی حکیموں، مہمانوں سے اس کے بڑے علاج کرائے ہیں مگر تمام اطباء اس کے علاج سے عاجز آ گئے ہیں ۔

لوگو ں نے مشورہ دیا ہے کہ اس ملک میں ایک ہی ڈا کٹر ہے جو اس ہڈیوں کے علاج کا ما ہر ہے، اس کی شہرت دور دور تک ہے ۔ وہ بڑا مانا ہوا سرجن ہے۔ وہی اس کا علاج کر سکتاہے، مگر وہ تو یہاں سے بہت دو ر رہتا ہے پھر سنا ہے بہت مہنگا بھی ہے۔ اس تک پہنچنا کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔ تم میری حالت تو دیکھ ہی رہے ہو،میں بوڑھی جان ہوں۔کسی وقت بھی بلاوا آ سکتا ہے۔مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد اس بچے کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔میں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ کوئی سبب پیدا کر دے کہ اس بچے کا اس ڈاکٹر سے علاج ہو سکے۔ عین ممکن ہے کہ اس یتیم بچے کو شفاء اسی ڈاکٹر کے ہاتھوں مل جائے۔

ڈاکٹر احمداپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: اماں جان! میرا طیارہ خراب ہوا، راستے میں اُترنا پڑا کار کرائے پر لی، خوب طوفان آیا‘ آندھی او ر بارش آئی، راستہ بھول گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے گھر زبر دستی بھجوا دیا۔اما ں آپ کی آخری دعا بھی قبول ہو چکی ہے۔اللہ رب العزت نے ایسے اسباب مہیا کر دیے ہیں کہ وہ ہڈیوں کا بڑا ڈاکٹر خود چل کر آپ کے گھر آگیا ہے۔ اب میں آپ کے پوتے کا علاج کروں گا۔‘‘

جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کی سنتا ہے تو پھر اس کوپورا کرنے کے لیے اسباب بھی خود ہی مہیا فرما دیتا ہے۔کائنات کی ساری مخلوق چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان، اللہ کے حکم اور اس کی مشیّت کی پابند ہے۔ اس واقعے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالی نے زمین وآسمان کی مختلف قوتوں کو کام میں لا کر بوڑھی اماں کی دعا کو پورا کرنے میں لگا دیا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو.
سورة النمل - الآية 62

 

اتوار, نومبر 24, 2013

ذندگی اور فیس بک



آج کل کی زندگی بھی فیس بک کی طرح ھے، لوگ آپ کے مسائل اور پریشانیاں لائیک کریں گے، انھیں حل کرنے کی فرصت شاید کسی کے پاس بھی نہیں، کیونکہ سب اپنے اپنے مسائل ""آپ ڈیٹ "" کرنے میں مصروف ھیں۔

وقت

 
 
وقت کے سمجھانے کا طریقہ سخت اور کرب ناک ہوتا ہے،
 مگر یہ بھی سچ ہے کہ وقت کی سمجھائی بات حتمی ہوتی ہے
 اور ساری زندگی کے لیے سمجھ آ جاتی ہے۔

بدھ, نومبر 20, 2013

نادان چوہا


کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا۔ ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا۔ بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مذید اُلجھ گیا۔ اِسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سےخون رسنے لگا۔ اتنے میں قریب سے ایک چوہے کا گزر ہوا۔ بھیڑیا اُسے دیکھتے ہی انتہائی لجاجت سےبولا: بھائی چوہے!میری مدد کرو میں اس جال میں بری طرح پھنس گیا ہوں، تم مہربانی کرو اور اپنے تیز دانتوں سے اس جال کو کاٹ دو تا کہ میں آزاد ہو جاؤں۔ چوہا بولا : نہ بابا نہ! اگرمیں نے تمہیں آزاد ی دلا دی تو تم سب سے پہلے مجھے ہی ہڑپ کر جاؤ گے۔ بھیڑیا بولا: تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میری فطرت کچھ ایسی ہی ہے مگر تمہارے اس احسان کے بدلے میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف میں اپنے آپ پر قابو رکھوں بلکہ جب تمہیں کسی اور درندے نے تنگ کیا تو میں تمہاری مدد کر وں گا۔ قصہ مختصر کافی دیر تک منت سماجت کرنے کے بعد بھیڑیے نے چوہے کو راضی کر ہی لیا اور یوں چوہے نے اس جال کو اپنے تیز دانتوں سے کتر ڈالا۔

بھیڑیے نے آزاد ہوتے ہی چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہو گے اور مجال ہے کہ جنگل کا کوئی دوسرا جانور تمھاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ چوہا بہت ہی خوش ہو گیا اور ننھا سا سینہ پھلا کر جنگل میں گھومنے لگا۔ جب بھی کوئی لگڑبھگا، جنگلی بلی، گیدڑ، لومڑی، وغیرہ اس کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھتے وہ فوراً بھیڑیے کو بلا لیتا اور بھیڑیا بھی فوراً ہی لبیک کہتا ہوا چوہے کی مدد کو آن پہنچتا اور حملہ آور کو مار بھگاتا۔ یہ دیکھ کر چوہے کی ہمت اتنی بڑھ گئی کے راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے جانور کی بے عزتی کرنے لگا اور یوں جنگل کے تمام جانور چوہے سے نفرت کرنے لگے۔ ایک دن کچھ شکاری دوبارہ جنگل میں آئے اور انہوں نے بھیڑیے پر گولی چلائی۔ گولی بھیڑیے کی ٹانگ پر لگی پر جان بچ گئی۔ لنگڑا بھیڑیا اب شکار کرنے کے قابل نہ رہا۔ معذوری کی حالت میں بھوک کی شدت بڑھتی گئی مگر کوئی بھی جانور شکار نہ کر سکا۔ دوسری طرف بھیڑیے کی پشت پناہی کے زعم میں چوہے نے سرے راہ ایک لومڑی کی بے عزتی کر دی۔ لومڑی غصہ میں آ کر چوہے کو پکڑنے کے لیے لپکی تو چوہا فوراً بھاگ کر بھیڑیے کے پاس آ گیا۔ لومڑی یہ دیکھ کر دور ہی رُک گئی مگر موٹے تازے چوہے کو دیکھ کربھیڑیے کی نیت میں فتور آگیا اور بھوک چمک اُٹھی۔ اُس نے ایک ہی پنجہ مار کر چوہے کو دبوچ لیا ۔ چوہے نے جو بھڑیے کے خطرناک تیور دیکھے تو خوفزدہ ہو کر بولا: بھائی بھیڑیے یہ کیا کر رہے ہو؟ میرے احسان کا یہ بدلہ دے رہے ہو؟ بھیڑیا بولا: کمبخت تو نے بھی تو اُس دن کے بعد سے جنگل کے تمام جانوروں کو بے عزت کر کے اپنی اوقات سے زیادہ مزے کیے ہیں اور کسی خوف کے نہ ہونے کے سبب کھا کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہے۔ چل اب میرا خالی شکم سیر کر۔ بھیڑیے نے یہ کہا اور ایک ہی بار میں سالم چوہے کو ہڑپ کر گیا۔

سبق:
- عادت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر فطرت پر قابو پانا ممکن نہیں۔ سانپ کو لاکھ دودھ پلاؤ مگر وہ کاٹےگا ضرور!
- بے جوڑ دوستی اکثر اوقات دیرپا نہیں ہوتی اور کبھی نہ کبھی نقصان پہنچاتی ہے۔
- کسی پر کیے گئے احسان کی قیمت کبھی نہیں وصول کرنی چاہیے۔ اس سے نیکی بھی ضائع ہوتی ہے اور انسان کا وقار بھی مٹی میں مل جاتا ہے۔
- طاقتور کے مزاج اور وعدے کا کوئی بھروسا نہیں۔ وہ جب چاہے اسے بدل دیتا ہے۔
- انسان کو ہمیشہ اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اللہ کے بعد صرف اپنے ہی قوت بازو پر بھروسا کرنا چاہیے۔
- زرا سی طاقت ملتے ہی کم ظرف کی طرح بے جا اچھل کود اور اکڑفوں نفرت کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے جس سے آخر کارنقصان ہی ہوتا ہے۔

حقیقت


ﺍُﺱ ﻧﮯ "ﮐُﻦ" ﮐﮩﺎ
ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐُﭽﮫ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ۔ ۔
ﻭﮦ "ﮐُﻦ" ﮐﮩﮯ ﮔﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ ۔ ۔
ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﮯ
ﮔﺎ۔ ۔ ۔
ﮨﻢ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ۔ ۔
ﯾﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ۔ ۔ ۔
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ۔

منگل, نومبر 05, 2013

آج کی بات 05 نومبر 2013





اہمیت الفاظ کی ہوتی ہے لیکن اثر ہمیشہ لہجے کا ہوتا ہے- اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے لہجے کو نرم رکھیں جس سے دوسروں پر ہماری شخصیت کا اچھا تاثر پڑے-

عبادت


زمانہ نے عجب پلٹا کھایا ہے ، پچھلے لوگ عبادت چھپ کر اس لیے کرتے تھے کہ کہیں شہرت نہ ہو جائے - اور اب اس لیے چھپا کر کرتے ہیں کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں

سوموار, نومبر 04, 2013