سوموار, جولائی 27, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 27 جولائی 2015



کچھ باتیں عقل سے اور بہت سی باتیں عمر سے سمجھ آتی ہیں۔
دعا یہ کرنا چاہیے کہ جب ہماری عمر اُن باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو جائے تو ہماری عقل بھی سلامت رہے ورنہ عمر کے تجربے بےکار ٹھہرتے ہیں۔
اور عقل سے بات سمجھنے کا بس ایک اصول ہے کہ مانتے جاؤ ۔۔سنتے جاؤ اور فیصلے صادر نہ کرو وقت خود ہی ہر شے کی اصلیت ظاہرکر دیتا ہے۔

تحریر: نورین تبسم 

قرآن شریف کا قدیم ترین نُسخہ برمنگھم یونیورسٹی میں دریافت

سُبحان اللہ ۔ نہ مُلک مسلمانوں کا ۔ نہ یونیورسٹی مسلمانوں کی ۔ نہ محقق مُسلم ۔ اور ثبوت کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے زمانہ سے آج تک قرآن کی عبارت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ تفصیل کچھ یوں ہے

اتحادیوں کی سلطنت عثمانیہ پر 1908ء سے 1918ء تک یلغار کے نتیجہ میں شرق الاوسط (مشرقِ وسطہ) اتحادیوں کے قبضہ میں چلا گیا ۔ آج کا عراق اُن دنوں تعلیم کا گڑھ تھا ۔ 1920ء میں کلدائی قوم کا ایک پادری (بابل کا باشندہ) الفانسو مِنگانا (Alphonse Mingana) مُوصل سے عربی کے 3000 قلمی نُسخے برطانیہ لے کر گیا تھا ۔ یہ نُسخے 95 سال سے مِنگانا کا ذخیرہ (Mingana Collection) کے نام سے برمنگھم یونیورسٹی کی لائبریری میں گُمنام حیثیت میں پڑے تھے اور کسی کے عِلم میں نہ تھا کہ ان میں قرآن شریف کا دنیا کا قدیم ترین نُسخہ بھی ہے
قرآن شریف کے اس نُسخے کی عمر کا تعین ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radiocarbon dating) یعنی جدید سائنسی طریقہ کے ذریعہ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ نسخہ کم از کم 1370 سال پرانا ہے ۔ چنانچہ یہ قرآن شریف کے دنیا میں اب تک حاصل کئے گئے قدیم ترین نسخوں میں سے ایک ہے ۔ برطانیہ کے لائبریری ماہر ڈاکٹر محمد عیسٰے والے کا کہنا ہے کہ یہ ایک حیران کُن دریافت ہے جس سے مسلمانوں کو مُسرت ہو گی
یہ اوراق بھیڑ یا بکرے کی کھال کے ہیں
  پرانے ترین نُسخے
جب پی ایچ ڈی کرنے والے محقق البا فیڈیلی (Alba Fedeli) ان اوراق کی باریک بینی کی تو ان کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور نتیجہ حیران کن نکلا ۔ ٹیسٹ کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کے ریڈیو کاربن ایکسلریٹر یونٹ (Oxford University Radiocarbon Accelerator Unit) نے بتایا کہ بھیڑ اور بکرے کی کھال پر لکھے گئے قرآن شریف کے نسخے بہت پرانے ہیں ۔ یونیورسٹی کے مخصوص مخازن کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ یہ نسخہ اتنا پرانا ہو گا

2

برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ تھامس (Prof David Thomas) جو اسلام اور عیسائیت کے پروفیسر ہیں نے کہا ”جس کسی نے بھی اسے لکھا ہو گا وہ ضرور رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو قریب سے جانتا ہو گا اور اُس نے اُنہیں بولتے ہوئے بھی سُنا ہو گا ۔ ان ٹیسٹوں سے جو 95 فیصد درست ہوتے ہیں قرآن شریف کے نسخے کے مختلف اوراق کی تاریخیں 568ء اور 645ء کے درمیان نکلتی ہیں ۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ اس کی لکھائی طلوعِ اسلام کے چند سال کے اندر شروع ہوئی“۔
پروفیسر ڈیوڈ تھامس نے مزید کہا ”مسلمانوں کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم پر قرآن شریف کا نزول 610ء اور 632ء کے درمیان ہوا جبکہ 632 اُن کے وصال کا سال ہے“۔
3


پروفیسر ڈیوڈ تھامس نے بتایا کہ قرآن شریف کے کچھ حصے کھال کے بنے کاغذ ۔ پتھر ۔ کھجور کے پتوں اور اونٹ کے کشانے کی چوڑی ہڈی پر بھی لکھے گئے تھے ۔ ان سب کو کتابی شکل لگ بھگ 650ء میں دی گئی تھی ۔ متذکرہ نسخے کی عبارت تقریباً وہی ہے جو آج کے قرآن شریف کی ہے ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے قرآن شریف میں کوئی تحریف نہیں ہوئی یا بہت ہی کم تبدیلی ہوئی ہے“۔
حجازی رسم الخط میں لکھا ہوا قرآن شریف کا نسخہ سب سے پرانے نسخوں میں سے ایک ہے ۔ برمنگھم یونیورسٹی میں موجود نسخہ زیادہ سے زیادہ 645ء کا ہو سکتا ہے
یہ معلومات سین کوفلان (Sean Coughlan) کے 22 جولائی 2015ء کو شائع ہونے والے مضمون سے لی گئیں

اتوار, جولائی 26, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 26 جولائی 2015


جو چیز آسانی سے حاصل ہو جائے وہ ہمیشہ نہیں رہتی، اور
جو ہمیشہ رہ جائے وہ آسانی سے نہیں ملتی۔

ہفتہ, جولائی 25, 2015

’ﺍللہ ’ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﺮ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ



ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ
’ﺍللہ ’ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﺮ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ 

ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﭧ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ 
 ﺍﺱ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺫﺍﺕ ﻧﮯ ﯾﻮﻧﺲ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ
ﺟﺐ ﺁﮒ ﺳﮯ ﻧﻤﺮﻭﺩ ﮐﺎ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮔﺮﻡ ﺗﮭﺎ 
 ﺍﺳﮑﮯ ﮐﺮﻡ ﻧﮯ ﺁﮒ ﮐﻮ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﺑﻨﺎﯾﺎ 
 ﻭﮦ ﺩﻭﺭ ﮨﮯ ﮐﺐ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ گوﺷﮧ ﻧﺸﯿﻦ ﮨﮯ 
’ﺍللہ ’ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﺮ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﻣﺸﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ نہ ﺁﯾﺎ ﻧﻈﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮩﺎﺭﺍ 
 ﻣﻮﺳﯽ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﻣﻮﻻ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺍ 
 ﺁﮔﮯ ﺗﮭﺎ ﻧﯿﻞ , ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺗﮭﯽ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﮐﯽ ﻓﻮﺟﯿﮟ 
 ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﻧﯿﻞ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﻨﺎﺭﮦ 
 ﺍﺗﻨﺎ ﮐﺮﯾﻢ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺳﻮﭼﻮ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﮨﮯ 
 ’ﺍللہ ’ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﺮ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﺍﻣﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﻧﺎ ﮐﺴﯽ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﻭ 
 ﮔﮭﺒﺮﺍﺅ ﻧﮩﯿﮟ , ﺻﺒﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻧﺎ ﺗﻮﮌﺩﻭ 
 ﺗﻘﻮﯼ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺧﺪﺍﺋﯽ 
 ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﺑﻨﺎ ﮐﻮﻥ ﺳﻨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺩﮨﺎﺋﯽ 
 ﻭﮦ ﺫﺍﺕ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ شہ رگ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﯿﻦ ﮨﮯ
 ’ﺍللہ ’ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﺮ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﻣﺎﯾﻮﺱ کبھی ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ 
 ’ﺍللہ ’ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﺮ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

مسافر سفر اور منزل






سفر ….درحقیقت خود کو دریافت کرنے کا عمل ہے ….ایک گم گشتہ ”خود“ کی دریافت کا عمل ….خود کو بازیافت کرنے کا عمل ! …. اِس یافت اور بازیافت کے دائرے میں سفر کرتا ہوامسافر اپنی ” میں “ کھو بیٹھتاہے ….تاکہ وہ کسی ”تو“ کے حضور باریاب ہوسکے ۔ ”میں “ …. جب ”تو“ کے حضور پہنچتی ہے تو ”من و تو“ کی بحث ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ کوئی ”در“ یافت ہوجائے تو نایافت …. یافت ہونے لگتاہے ۔ باہر ”تو“ دریافت ہوتے ہی ”من ‘ ‘ کا ”اندر“ بازیافت ہوجاتاہے
 !!
یہ سفر نہیں بلکہ اندازِ سفر ہے جومسافر کی منزل کا پتہ دیتاہے۔ کوئی منفی انداز کسی مثبت منزل تک نہیں لے جاسکتا۔ کوئی متغیر اور منفی طرزِ فکر اُس منزل تک رسائی نہیں پاسکتاجسے ثبات اور اثبات کانام دیاجاتاہے ۔ بہت سے مسافر سوئے کعبہ روانہ ہوئے مگر اُن کی نیّت اُنہیں ذات کی بجائے ذاتیات میں لے گئی …. اُن کا اندازِ سفر اُنہیں اپنے مفادات کے سومنات کی طرف لے گیا۔ درحقیقت سوئے حرم جانے والے مسافر کی راہ میں ہر غرض ایک بُت ہے ….ہر مفاد ایک معبود

مسافر سفر اور منزل کے درمیان ایک راز عجب ہے ۔ مسافر سفر کرتا ہوا خود ہی نشانِ منزل بن جاتاہے …. اور آخر ِ کارخود ہی منزل!!

گویا مسافرجب اپنے سفر کے اختتام کو پہنچتاہے تو خود کو بصورتِ منزل پاتا ہے...... بلاشبہ خود کو پانا ہی منزل پانا ہے.

جمعہ, جولائی 24, 2015

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو



یا رب میں گناہگار ہوں، توبہ قبول ہو
عصیاں پہ شرمسار ہوں، توبہ قبول ہو
جاں سوز و دل فگار ہوں، توبہ قبول ہو
سر تا پا انکسار ہوں، توبہ قبول ہو
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

گزری تمام عمر میری لہو لعب میں
نیکی نہیں ہے کوئی عمل کی کتاب میں
صالح عمل بھی کوئی نہیں ہے حساب میں
دستِ دعا بلند ہے تیری جناب میں
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

عیش و نشاط ہی میں گزاری ہے زندگی
ہر زاویئے سے اپنی سنواری ہے زندگی
میرا خیال یہ تھا کہ جاری ہے زندگی
لیکن یہ حال اب ہے کہ بھاری ہے زندگی
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

تیرے کرم کو، تیری عطا کو بھلا دیا
اعمال کی جزا و سزا کو بھلا دیا
طاقت ملی تو کرب و بلا کو بھلا دیا
ہر ناتواں کی آہِ رساں کو بھلا دیا
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں تو سمجھ رہا تھا کہ دولت ہے جس کے پاس
اس کو نہ کوئی خوف ہے، اس کو نہ کوئی ہراس
ہوگا نہ زندگی میں کسی وقت وہ اداس
لیکن یہ میری بھول تھی، اب میں ہوں محو یاس
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں ہوں گناہگار مگر، تو تو ہے کریم
میں ہو سیاہ کار مگر، تو تو ہے رحیم
میں ہوں فنا پذیر مگر، تو تو ہے قدیم
میں ادنیٰ و حقیر سہی، تو تو ہے عظیم
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

یا رب تیرے کرم، تیری رحمت کا واسطہ
یا رب تیری عطا، تیری نعمت کا واسطہ
یا رب تیرے جلال و جلالت کا واسطہ
یارب رسولِ حق کی رسالت کا واسطہ
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں اعتراف کرتا ہوں اپنے قصور کا
میں ہو گیا تھا ایسے گناہوں میں مبتلا
جن کی ہے آخرت میں کڑی سے کڑی سزا
لیکن مجھے تو تیرے کرم سے ہے آسرا
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

اب تیری بندگی میں بسر ہوگی زندگی
موڑوں گا منہ نہ تیری عبادت سے اب کبھی
اب اتباع کروں گا میں تیرے رسول ﷺ کی
تازندگی کروں گا شریعت کی پیروی
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

اکبر، اکابر اور اکابرین


اکبر ، اکابر اور اکابرین
=============
اللہ نے ہمارے لئے ایک دین اسلام، ایک کتاب قرآن کو نازل کیا اور ایک آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ ہمیں ہر نماز سے قبل اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا لگانے کی تلقین کی۔
لیکن ہمارا ”ایک“ سے ”گزارا“ نہ ہوا تو ہم نے ایک دین کے مقابلے میں بہتر فرقے اور مسالک بنالئے اس وعید کے باوجود کے قرآن و سنت والے واحد دین سے ہٹ کر بنائے جانے والے تمام فرقے جہنمی ہوں گے۔ اور ہم عملاً یہ بھول بیٹھے کہ اللہ نے ہم سے کہا تھا : اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقے نہ بناؤ۔
یوں تو جھوٹے نبوت کے دعویدار بھی بہت پیدا ہوئے لیکن ایک سچے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ”مبینہ پیروکاروں“ نے بھی اپنے اپنے فرقوں میں (اللہ) اکبر کے بالمقابل اتنے اکابر بلکہ اکابرین ”جمع“ کرلئے ہیں کہ ہمارا اصلی دین ان (نام نہاد) اکبرین کے میلے میں کہیں کھو سا گیا ہے۔ اب تو ماشاء اللہ ہر فرقے کے ”اکابرین“ کی فوج ظفر موج نہ صرف ایک دوسرے کے بالمقابل صف آرا ہے بلکہ ایک دوسرے سے لڑنے، مرنے اور مارنے کو تیار بھی ہے۔ ہم حقیقی ”اکبر“ (اللہ) اور اس کی تعلیم (قرآن) کو بھلا کر اپنے اپنے اکابرین کے اقوال و افعال کو ہی اپنا دین و ایمان بنا بیٹھے ہیں۔ ذرا کسی مسلک کے کسی بھی ”اکبر“ کے کسی بھی قول و فعل پر انگلی اٹھا کر تو دیکھئے، انگلی اور انگلی والے ہاتھ کاٹنے کے لئے بہت سے ہاتھ سامنے آجائیں گے۔
بُرا ہو اس سوشیل میڈیا کا، جس نے ایسے ایسے لوگوں کو بھی ہم پر ”مسلط“ کرکے اپنے اپنے فرقوں کو ”اصل دین“ اور باقی تمام فرقوں کو باطل قرار دینے کا موقع دے دیا جو قبل ازیں ریگولر میڈیا میں دو لفظ بولنے یا دو سطر لکھنے کے بھی ”قابل“ نہ تھے۔ پھر یہ فیس بُکی علامے اور وڈیرے، الامان و الحفیظ۔۔ عملی دنیا میں بے شک انہیں جاننے والے، سننے والے، فالو کرنے والے دوچار لوگ بھی موجود نہ ہوں، فیس بُک کی دنیا مین اسی بات پر اترانے لگتے ہیں کہ میری فرینڈ لسٹ میں میرے اتنے ہزار ”مزارع“ موجود ہیں۔ خبردار جو کسی نے میری وال پر یہ کیا، وہ کیا، مجھے ٹیگ کیا، کمنٹس میں تنقید کی وغیرہ وغیرہ ۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے فی الفور تختہ دار پر ”بلاک“ کردیا جائے گا۔
یہ سب فتنہ اکابر اور اکابرین کی عملاً پرستش ہی کا تو نتیجہ ہے۔ جس نے ہمیں ایک دین سے جدا کرکے فرقوں کے خانوں میں بانٹ ڈالا ہے۔ ہم قرآن اور حدیث کم پڑھتے ہیں یا بالکل نہیں پڑھتے لیکن اپنے اپنے اکابرین کی سو سو کتب ضرور خرید کر اپنی لائبریری میں سجاتے ہیں تاکہ ”اُن“ کا دھندہ بھی چلے اور فرقہ بھی فروغ پذیر ہو۔ جی ہاں کسی بھی یکے از مشہور اکابرین کا نام لے لیجئے، سو سے کیا کم کتب تصنیف و تالیف کی ہوں گی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہوگا۔ اب تو بہت سے ”اکابرین“ نے اپنی اپنی ایسی ٹیم تیار کرلی ہے، جو ان کے نام سے کتب تصنیف و تالیف کرتی ہے۔ بہتر فرقوں کے ہزاروں اکابرین کی لاکھوں کتب میں قرآن و حدیث، اللہ کی رسی کہیں کھو سی گئی ہے، جسے مضبوطی سے تھامنے کی ہمیں تلقین کی گئی تھی۔


اناللہ و انا الیہ راجعون


تحریر: یوسف ثانی

جمعرات, جولائی 23, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 23 جولائی 2015


اﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﺅُﮦ ﺑﮩﺖ ﺳﻮﭺ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔

منگل, جولائی 21, 2015

ایک سبق

ایک سبق
تحریر: ابو یحییٰ

(ایک خاص شخصیت کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع کے پس منظر میں یہ آرٹیکل سر ابو یحیی نے کافی عرصے قبل لکھا تھا ۔ تاہم شخصیات کو زیر بحث لانا سر ابو یحیی کا طریقہ نہیں اس لیے اس شخصیت کا نام حذف کرکے اس ٓآرٹیکل کو کئی ماہ بعد اگست 2015 کے ماہنامہ انذار اور انذار کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا۔ بدقسمتی سے اسی اثنا میں اسی پس منظر کا ایک دوسرا واقعہ پیش آگیا۔ تاہم قارئین سے درخواست ہے کہ شخصیت کو حذف کرکے صرف اصل سبق اور اصل مسئلے پر توجہ رکھیں جس کی نشانی سر ابو یحیی نے کی ہے۔ اہمیت شخصیات کی نہیں رویوں کی ہوتی ہے۔ شخصیات کے بارے میں رائے دینا درست نہیں۔ رویوں کو زیر بحث لانا چاہیے۔ یہی سر ابو یحیی کا پیغام ہے۔ ایڈمن)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصے قبل ایک معروف داعی کی ایک وڈیو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے حوالے سے ان کے ایک بیان پر ان کے خلاف ایک ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت بھی ہماری رائے یہ تھی کہ یہ جان بوجھ کرسیدہ کی شان میں گستاخی کا کوئی عمل نہیں بلکہ ایک انسانی غلطی ہے۔ بعد میں خود انھوں نے ایک وڈیو بیان میں یہ کہا کہ جہالت کی وجہ سے ان سے غلطی ہوگئی۔ اس طرح کی غلطی پر رائی کا پہاڑ بنا لینا اور کسی کے خلاف ایسی مہم چلانا جس سے اس کی جان تک کو خطرہ ہوجائے اپنی ذات میں ایک انتہائی ناپسندیدہ رویہ ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔
تاہم اس سارے ہنگامے سے قطع نظر جو اُس وڈیو پر ہوا اس واقعے میں ایک ایسا سبق تھا جسے سیکھ لیا جائے تو ہم میں سے ہر شخص قیامت کی شرمندگی سے بچ سکتا ہے۔ نہیں سیکھے گا تو اسے قیامت کی بدترین ذلت اور رسوائی کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔
یہ معروف داعی اس واقعے سے قبل بھی ٹی وی پر کئی دفعہ خواتین سے متعلق اپنے ایک خاص نقطہ نظر کا اظہار کر چکے تھے۔ یہ نقطہ نظر صحیح ہے یا غلط ہمیں فی الوقت اس سے بحث نہیں۔ تاہم یہ نقطہ نظر قائم کر کے جب انھوں نے صحیح بخاری کی ایک روایت کو سنا یا پڑھا تو انھوں نے روایت سے وہ بات نہیں سمجھی جو اس میں بیان ہوئی۔ یعنی آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے کریمانہ مزاج کی بنا پر ازواج مطہرات کا حد سے زیادہ خیال کرنا۔ یہ وہی سبق ہے جو ایک دوسری روایت میں اس طرح دیا گیا ہے کہ’’ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے ساتھ بہترین ہے اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں ‘‘۔ اس کے برعکس انھوں نے وہاں سے وہ بات برآمد کی جو کسی صورت بیان نہیں ہو رہی۔ یعنی خواتین کے بارے میں ایک منفی نقطہ نظر اور اس میں بطور ثبوت بالکل غلط طور پر ہماری ماں سیدہ عائشہ سے متعلق ایک غلط رویے کو منسوب کرنا۔
جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے کہ اس غلطی کے بعد انھوں نے فوراً ایک وڈیو بیان جاری کیا جس میں خود انھوں نے یہ اعترف کیا کہ جہالت کی وجہ سے ان سے غلطی ہوگئی۔ تاہم جس طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ غلطی جان بوجھ کر نہیں کی گئی تھی اسی طرح پوری دیانت داری سے یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ یہ غلطی جہالت کی وجہ سے بھی نہیں ہوئی تھی۔ جس شخص نے ساری زندگی دین کے لیے لگادی ہو۔ برسہا برس سے علماء کی صحبت میں بیٹھتا اور دنیا بھر میں درس دیتا ہو اورصحیح بخاری کی روایت نقل کر رہا ہو وہ جاہل نہیں رہتا۔ اس غلطی کے پیچھے اصل عامل جہالت نہیں تھی۔ اصل عامل خواتین کے متعلق ایک متعصبانہ نقطہ نظر تھا۔ یہی اصل مسئلہ ہے کہ جب اپنے تعصبات کے تحت ہم قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اکثر غلط نتائج تک پہنچتے ہیں ۔
تعصب صرف یہی خرابی پیدا نہیں کرتا کہ وہ ہمیں غلط نتائج فکر تک پہنچا دیتا ہے، بلکہ وہ ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کی کوئی وضاحت ہم روز قیامت اللہ کے حضور نہیں کرسکیں گے ۔ مثلاً اسی معاملے میں دیکھیے کہ جن لوگوں نے ان صاحب کے خلاف ایک نفرت انگیز مہم چلائی ، ان میں سے بیشتر کا تعلق ایک مخالف فرقے سے تھا۔ جبکہ جن لوگوں نے آگے بڑھ کر ان کی معافی کو قبول کیا اور ان کی حمایت میں بیانات دیے، ان میں سے بیشتر لوگ حق شناسی کے بجائے یہ اس وجہ سے کر رہے تھے کہ اس دفعہ تو ’’اپنا ‘‘آدمی زد میں آ گیا ہے ۔ ورنہ یہی لوگ تھے جو کسی اور کو ایسے کسی معاملے میں کسی قسم کی معافی دینے یا اس کی معافی قبول کرنے کے قائل ہی نہیں تھے ۔
ٍحقیقت یہ ہے کہ لوگ خدا کے حضور آخرت کی پیشی اور اس کی اس پکڑ کا یقین کر لیں تو کبھی اپنے تعصبات کو قرآن و سنت پر حاوی نہ ہونے دیں۔ ان سے کبھی غلطی ہوبھی جائے تو توجہ دلانے پروہ فوراً اپنی اصلاح کریں گے۔ اپنی رائے کے درست ہونے کا یقین ہو تب بھی اس کی بنیاد پر دوسروں کو کافر اور گمراہ قرار دے کر ان پر چڑھائی نہیں کریں گے ۔ کیونکہ یہ صرف انبیاء علیہم السلام ہیں جو غلطی نہیں کرتے ، باقی ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے ۔
یہ وہ سبق ہے جو اس واقعے میں پوشیدہ ہے مگر آج کا کوئی مذہبی انسان یہ سبق سیکھنے پر تیار نہیں ۔

جمعرات, جولائی 16, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 16 جولائی 2015



اپنی زبان کو کسی کے عیبوں سے آلودہ نہ کرو...
کیونکہ عیب تمھارے بھی ہیں اور زبانیں دوسروں کی بھی ہیں.

سوموار, جولائی 13, 2015

توکلت علی اللہ


جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے کرنے سے ہوتا ہے میرے کرنے سے نہیں ہوتا۔ تو مبارک ہےوہ جو جو خدا کے کرنے پر راضی ہو۔
جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے چاہنے سے ہوتا ہے میرے چاہنے سے نہیں ہوتا۔ تو مبارک ہے وہ جو وہی چاہے جو خدا چاہے۔
جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے میرے حکم سے نہیں ہوتا۔ تو بابرکت ہے وہ شخص جو اللہ کے حکم کو مان کر جھک جائے۔
جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے فیصلے سے ہوتا ہے میرے فیصلے سے نہیں ہوتا۔ تو عظیم ہےوہ جو خدا کے فیصلہ پر خوش و خرم ہوجائے۔
جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی اجازت سے ہوتا ہے میری اجازت سے نہیں ہوتا۔ تو سعادت مند ہے وہ جو خدا کے اذن پر ممنون ہوجائے۔
جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے ارادے سے ہوتا ہے میرے ارادے سے نہیں ہوتا۔ پس بڑا نصیبوں والا ہے وہ جو اپنا ارادہ خدا کے ارادے میں فنا کردے۔

یہ تحریر اپنے ہاتھ سے لکھئے خواہ ای میل پر یا سادہ کاغذ پر۔ اللہ آپ کو اپنا یقین ، توکل اور تفویض عطا فرمائیں گے انشاءاللہ

پروفیسر محمد عقیل