بدھ, مارچ 18, 2015

آج کی بات ۔۔۔۔ 18 مارچ 2015



اپنی سوچ کا اظہار کرنا آپ کا حق ہے مگر اپنی سوچ کو دوسروں پہ مسلط کرنا جہالت ...

صبر کا اجر


صابرین کا مصیبت کے وقت پہ بس 'انا للہ وانا الیہ راجعون' کہہ دینا کافی نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ الفاظ ان دو عقائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن پر جمے بغیر کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ 'انا للہ' (بے شک ہم اللہ کے لئے ہیں) عقیدہ توحید ہے اور 'وانا الیہ راجعون' (بے شک ہم اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) عقیدہ آخرت پر ایمان ہے کہ ہر دکھ اور مصیبت ایک دن ختم ہو جائے گی اور اگر کچھ ساتھ رہے گا تو صرف آپ کے صبر کا اجر

اقتباس از مصحف ۔۔۔ نمرہ احمد

سوموار, مارچ 16, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 16 مارچ 2015


عافیت اس بات میں نہیں کہ ہم معلوم کریں کہ کشتی میں سوراح کون کر رہا ھے۔ ...!
عافیت اس بات میں ھے کہ کشتی کنارے لگے۔...!

سوموار, مارچ 09, 2015

یہی وہ آبگینے ہیں




ذرا دھیرے سے تم چلنا
! کہ یہ تو آبگینے ہیں
____ یہی وہ آبگینے ہیں
کبھی ہو پیاس کی شدت تو یہ پانی پلاتے ہیں
کبھی سورج کی ہو حدت تو یہ سایہ بناتے ہیں
یہ ہیں آنگن کے تارے جو ہمیشہ جگمگاتے ہیں
مکاں کو گھر بناتے ہیں
انہی میں وہ قرینے ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں
یہی وہ آبگینے ہیں
کہ جو گھر بھر کی زینت بھی
یہی آنکھوں کی ٹھنڈک
یہی فرحت بھی، یہی راحت بھی
انہی سے رونق محفل
انہی سے حرمت محمل
بھری شاداب دنیا میں
یہی سرسبز اک حاصل
یہی جنت کے زینے ہیں
کہ ہیں یہ ماں
یہی بیٹی، یہی بہنا
یہی ہیں ہاتھ کا گہنا
محاذوں پر جو نکلو تو
! کبھی پیروں کی بیڑی بھی ___
بنیں پسلی سے ہیں یہ
! اس لیے تھوری ٹیڑھی بھی
مگر تم توڑ مت دینا
انہیں مستور ہی رکھنا
کہ عصمت کے نگینے ہیں
! کہ یہ تو آبگینے ہیں
کبھی سوچا بھی ہے تم نے
? یہ کتنا دکھ اٹھاتی ہیں
? تمہاری زندگی کو کس طرح شاداں بناتی ہیں
تمہاری راہ کے کانٹے
یہ چن لیتی ہیں پلکوں سے
سفر آساں بناتی ہیں
سنور جایئں اگر
! اک نسل کا ایماں بناتی ہیں
پھر ان معصوم کلیوں کو
___اا یہی بصری
  ! یہی سفیاں بناتی ہیں

احسن عزیز شہید

آج کی بات ۔۔۔۔ 09 مارچ 2015



کتنے نادان ہوتے ہیں نا ہم جو یہ خواہش کر بیٹھتے ہیں کہ سب ہم سے خوش رہیں ، بھلا سب کے سب کیسے خوش ہوسکتے ہیں آپ سے ، کسی نہ کسی کا گِلہ باقی رہ ہی جاتا ہے !!!

ہفتہ, مارچ 07, 2015

ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ




ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ
ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ

رشتوں کی عجب یہ دنیا ہے ۔۔۔۔ ذاتی کاوش



اس فانی دنیا میں ہم کو
کتنے ہی رشتے ملتے ہیں
سب سے پیارے خوں کے رشتے
جو رب نے ہم کو بخشے ہیں
جن سے ناتا ہے عمروں کا
وہ اپنی روح کے رشتے ہیں
کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں
جو دل کے رشتے ہوتے ہیں
احساس کے رشتے ہوتے ہیں
 کبھی بن جائیں وہ پل بھر میں
کبھی ان کو صدیاں لگ جائیں
کچھ انجانے سے لوگ ہمیں
ان راہوں میں مل جاتے ہیں
 بس جاتے ہیں وہ دھڑکن میں
دل میں پیہم ہو جاتے ہیں
پر اکثر یہ دل کے رشتے
شیشے سے نازک ہوتے ہیں
کبھی گرم ہوا جو چُھو جائے
خود سے ہی پگھلنے لگتے ہیں
اعتبار کو گر کوئی ٹھیس لگے
پل میں یہ بکھر بھی جاتے ہیں
پر ہو جائیں راہیں بھی جدا
دل سے نہ دور یہ جاتے ہیں
رشتوں کی عجب یہ دنیا ہے
رشتوں کی ریت نرالی ہے
لیکن ان سب رشتوں میں ہی
اک دنیا ہم نے پا لی ہے

سیما آفتاب

جمعرات, مارچ 05, 2015

خواب و خیال



دُنیا ہے خواب، حاصلِ دُنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

عمرِ دو روزہ واقعی خواب و خیال تھی
کچھ خواب میں گُزر گئی، باقی خیال میں

بدھ, مارچ 04, 2015

وہ جو دھیان تھا کِسی دھیان میں،



کوئی خواب دشتِ فراق میں سرِشام چہرہ کشا ہُوا
مِری چشمِ تر میں رُکا نہیں کہ تھا رَتجگوں کا ڈسا ہُوا

مِرے دِل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گُل فشاں
وہی ایک لفظ جو آپ نے مِرے کان میں ہے کہا ہُوا

ہے نِگاہ میں مِری آج تک وہ نِگاہ کوئی جُھکی ہُوئی
وہ جو دھیان تھا کِسی دھیان میں، وہیں آج بھی ہے لگا ہُوا

مِرے رَتجگوں کے فشار میں, مِری خواہشوں کے غبار میں
وُہی ایک وعدہ گلاب سا سرِ نخل جاں ہے کِھلا ہُوا

تری چشمِ خُوش کی پناہ میں کِسی خواب زار کی راہ میں
مِرے غم کا چاند ٹھہر گیا کہ تھا رات بھر کا تھکا ہُوا

ہے یہ مُختصر، رہِ عشق پر، نہیں آپ ہم، رہے ہم سَفر
تو لو کس لیے یہ مباحثہ، کہاں, کون, کیسے, جُدا ہُوا

کِسی دل کُشا سی پُکار سے اُسی ایک بادِ بہار سے
کہیں برگ برگ نمو مِلی، کہیں زخم زخم ہَرا ہُوا

ترے شہرِ عَدل سے آج کیا سبھی درد مند چلے گئے
نہیں کاغذی کوئی پیر ہن، نہیں ہاتھ کوئی اُٹھا ہُوا

محبت کے راز


محبت کے راز صرف نصیب والوں پر آشکار ہوا کرتے ہیں- جو محبتیں ظاہر کر دی جائیں وه غرض ہوتی ہیں, اور غرض کبھی کبھی پوری نہیں بھی ہوتی-
دل ميں رکھی گئی محبتیں آخر کار دعا بن جاتی ہیں , مگر يہ بات ہر کوئی سمجھ نہیں پاتا......!!!

منگل, مارچ 03, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 03 مارچ 2015



انسان کو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہنا چاہیۓ اس لیے کہ پانی بھی ایک عرصے تک ایک جگہ کھڑا رہے تو ناقابل برداشت ہو جاتا ہے اور یہ بدلاؤ ہمیشہ مثبت ہونے چاہیئے..