ہفتہ, دسمبر 31, 2016

نو جوان۔۔ قیمتی سرمایہ (خطبہ جمعہ مسجد نبوی)


نوجوانوں کی صلاحیتیں عظیم ترین ذخیرہ اور بہترین خزانہ ہیں، ان کی رہنمائی کے ذریعے ہمہ قسم کی کامیابیاں حاصل ہو سکتی ہیں، نو عمری کا مرحلہ لڑکپن، صغر سنی اور نا تجربہ کاری سے کنایہ ہے، اس مرحلے میں انسان کی قوتِ ادراک کمزور اور فکر و سوچ ناقص ہوتی ہے، صغر سنی میں انسان دوسروں سے متاثر اور مرعوب ہونے کا رسیا ہوتا ہے

جس وقت بھی نو عمر لڑکوں یا لڑکیوں کو کوئی بھی مثالی شخصیت نظر آئے تو اسی کی طرف میلان کر لیتے ہیں، اسی کی صفات اپنا کر اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ویسے ہی کام کرتے ہیں، عام طور پر اسی کا ذکر زبان زد عام ہوتا ہے، اسی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، اسی کے گن گاتے ہیں اور اپنی شکل و صورت اسی جیسی بناتے ہیں، اپنی چال ڈھال اور لباس اسی جیسا اپناتے ہیں، نو عمر اپنی سوچ اور رویے میں اسی کو آئیڈیل سمجھتے ہیں۔

کچھ لوگ درندہ صفت اور چیر پھاڑ کر دینے والے بھیڑیے اور شکاری پرندے کی طرح اچکنے والے ہوتے ہیں، انہیں انتظار ہوتا ہے کہ کب سرپرست کی توجہ ہٹے اور پدری شفقت رکھنے والا باپ اپنے بچوں سے غافل ہو اور ہم معصوموں کو اچک لیں۔

جو شخص اپنی اولاد کو لہو و لعب اور گناہوں کے لیے کھلا چھوڑ دے کہ پر فتن زمین پر ٹامک ٹوئیاں ماریں، لوگوں کی بھیڑ میں گھسیں، جسے چاہیں مرضی سے دوست بنائیں، ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہ ہو، بلا روک ٹوک گھر سے باہر رات گزاریں، بغیر کسی وجہ کے گھر سے دور رہیں، تو اس نے اپنی اولاد پر بہت ظلم کیا۔

سرپرست اور والدین! عبرت حاصل کریں، اور اپنی اولاد کا خصوصی خیال رکھیں، آپ کے آس پاس گھومنے پھرنے والے لوگوں پر کڑی نظر رکھیں، ان کی دھوکا دہی سے بچیں یہ مکر و فریب کے ساتھ نظریات کو زہر آلود کرتے ہیں اور نو عمر لڑکوں کو سبز باغ دکھا کر اپنے چنگل میں پھنسا لیتے ہیں۔

بچے جب لڑکپن سے بلوغت کو پہنچنے لگیں تو انہیں خصوصی وقت دیں، ان کا پہلے سے زیادہ خیال رکھیں، آپ کی اولاد آپ کی اسی وقت بنے گی جب تک آپ ان کے لیے الفت، پیار، نرمی، محبت، شفقت، اور خیر خواہی والا معاملہ اپنائیں گے، اور اگر آپ حقارت، ہتک عزت اور اہانت کریں گے تو وہ آپ کے ہاتھ سے نکل کر دشمن کی جھولی میں جا بیٹھے گی۔ لہذا ان کی بات غور سے سنو، اگر تم سے کچھ پوچھیں تو انہیں بتلاؤ، اگر کچھ سیکھنا چاہیں تو انہیں سکھاؤ، اور جب تم سے مشورہ مانگیں تو ان کے سامنے اپنی زندگی کے تجربات رکھو، لہذا ہر سوال پر طیش مت کھاؤ، اور تشنگی باقی مت رہنے دو، کبھی بھی آگ بگولا ، اور اتنا سخت مزاج مت بنو کہ ہر وقت غیض و غضب سے بھرے رہو۔

محبت بھرے کلمات دل صاف کر دیتے ہیں، حکمت بھری باتوں سے تسلی ملتی ہے، اور صاحب عقل کے لیے عقلمند ی پر مبنی بات چیت ہی کافی ہے۔

ہر بندے کے ذمے دی جانے والی رعایا کے بارے میں اللہ تعالی پوچھے گا کہ ان کا حق ادا کیا یا زیادتی کرتا رہا؟! چنانچہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی تمام ذمہ داران سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔ان کے حقوق ادا کیے یا ضائع کیے؟ یہاں تک کہ ہر آدمی سے اس کے اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جائے گا) ابن حبان

جمعہ, دسمبر 30, 2016

اللہ الرحمٰن الرحیم


شیطان کا ایک بہت عجب جال ہوتا ہے ۔۔۔ کہ اللہ ہم سے ناراض ہو گیا ہے ۔۔ اور کسی بھی بےجا خوف کے تحت وہ ہمیں اللہ سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔ اور وہ ہمارا اللہ جس نے بارہا کہا میرا رحم میرے غضب پر غالب ہے ۔۔ جس نے قرآن کریم میں 113 سورتوں میں اپنی صفت رحمٰن و رحیم بتائی ۔۔ اور فقط ایک سورہ جس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے نہیں تو اسکا نام ہی سورۃ التوبہ ہے ۔۔ جس میں معبودِ حقیقی کا مخفی پیغام ہے اے میرے عبد توبہ کر اور میں تجھے گلے لگانے کو تیار ہوں۔ 

ویسے جس کے دل میں یہ خوف ہے کہ اللہ اس سے ناراض ہے اس سے اللہ بھلا کیسے ناراض ہوسکتا ہے ۔۔ یہ تو بس تب تک ایک شیطانی جال ہے اگر یہ آپکو اللہ کی رحمت سے ہٹا کر اسکے غضب میں ہی مبتلا رکھے، جب تک یہ خوف انسان کو اللہ سے دور رکھے اور جسے وہ سچے اشکِ ندامت بہا کر یہ کہہ کر توڑنا ہے کہ میرا گناہ میری رب کی رحمت و مغفرت سے بڑا نہیں ۔۔ وہ معاف کرنے والا ہے وہ مجھے معاف کر دے ۔۔ مجھے توفیق دے میں اسی کی رضا میں جیوں مروں اٹھوں ۔۔ اسکے لیے اسی کی توفیق سے گناہ سے بچوں اسکے لیے نیک اعمال کروں ۔۔ اسے راضی کروں ۔۔ اسکی محبت کی ٹھنڈک اس کے چین کا نور میرے دل میں ایسا ہو جیسے سخت جون جولائی کے مہیںوں میں کسی کو ٹھنڈا میٹھا پانی پی کر قرار آجاۓ ۔۔ جیسے کوئی جل رہا ہو اور ٹھنڈی بارش کی پھوار میں نہا جائے ۔۔ جیسے کوئی تنہا صحرا میں بلکتا ہو تو وہ اسکے جھلستے سر پر کسی سایہ دارابرِ رحمت سا ہو ۔۔ شاید ناراض ہونا چاہے تو وہ ان سے ہو جنہیں وہ اپنی ذات سے غافل کر دیتا ہے ۔۔ جنہیں اس احساس سے بھی محروم کر دیتا ہے کہ کوئی ہے ۔ ۔ جس نے انہیں پیدا کیا جس کے وہ بال بال مقروض ہیں ۔۔ مگر سچ کہوں بے پرواہ وہ ان سے بھی نہیں ہوتا جو اس سے بےپرواہ ہو چلے ۔۔ ان کے ساتھ کیا کیا نہیں کر سکتا مگر نبھاہ رہا ہے کیوںکہ اس سے بڑھ کر باوفا کوئی نہیں کیوںکہ اس سے بڑھ کر صبور کوئی نہیں وہ تو انکو بھی بےبہا دے رہا ہے جو اس کا شریک اسی کی مخلوق کو ٹھہراتے ہیں۔۔ اس پرتہمت لگاتے ہیں اسی کا کھا کر پہن کر اسی کی زمین پر چل کر اسی کے آسمان کی چادر تلے اسی پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔۔ وہ تو سب کو دیئےہی دیئے جا رہا ہے ۔۔ بے بہا دیئے جا رہا ہے ۔۔ 

تو الحمد للہ اللہ ہم سے ناراض نہیں ۔۔ مگر ہاں اسکو راضی کرنا ایک الگ معاملہ ہے ۔۔ شاید ایک مسلمان کو خوف ہوتا ہے اللہ ناراض نہ ہو جائے اور مومن کو یہ فکر رہتی ہے کہ اللہ کو راضی کیسے کرنا ہے ۔۔۔ جو کہ بلاشبہ عطا ہے ۔۔ کہ اللہ انکو ہی اپنے سے راضی ہونے کی لگن دیتا ہے جو اسے اچھے لگتے ہیں ۔۔ اور بھلا کون ہے وہ تخلیق کار جسے اپنی ہی تخلیق بری لگے اور اللہ بے انتہا خوش ہوتا ہے بندے کے اپنے پاس پلٹ آنے کے لیۓ۔ بندے سے اللہ سے بڑھ کر کوئی پیار نہیں کر سکتا اور بندہ کیسا بندہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر سب سے پیار کرتا ہے۔۔ جانے کیوں ہم نے اللہ کو ایک عذاب دینے والی ہستی ناراض رہنے والی ہستی سمجھ لیا ہے حالانکہ وہ تو ہم سے ہماری ماں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔ بلکہ اسی نے تو ہمیں ماں بھی دی الحمد للہ رب العالمین۔ 

ہاں بس اسکے پیار کا طریقہ الگ ہے ۔۔ جیسے ایک چھوٹا بچہ جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا مگر اپنے تجسس اور شوق میں وہ نادانی میں آگ پکڑنے لگا یے تو ماں کیسے بھی کر کے اسکو آگ سے بچاتی ہے کبھی آگ اس سے دور کرتی ہے کبھی اسکو آگ سے دور کر دیتی ہے کبھی کسی اورکھلونے سے بہلا لیتی ہے ۔۔ اگر بچہ پھر بھی بضد ہو تو اسے ڈانٹنے یا مارنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ کیوں؟ کیوںکہ وہ جانتی ہے کہ بچہ نادانی میں جو خواہش کر رہا ہے وہ خواہش اسے جلا دے گی ۔۔ تو ہمارے پیارے سے اللہ پاک ۔۔ جنہوں نے خود ہمیں اتنے پیار سے اپنے لیۓ بنایا کیا وہ ہماری خواہش کو اہم نہیں جانیں گے؟ مگر ہم اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنے شوق کے ہاتھوں جس شے کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ دراصل اسکی ہمارے حق میں اور ہمارے حق میں اسکی اصل ماہیت سے نا آشنا ہوتے ہیں مگر ہمارا اللہ علیم و حکیم آشنا ہے ۔۔ تو جیسے بچہ جب برا محسوس کرتا ہے کہ اسکی ماں نے اسکو آگ سے دور کر دیا ۔۔ اسی طرح نادان انسان اللہ کی حکمت بھی نہیں سمجھ پاتا ۔۔ اور شکوے شکایات کا ایک دفتر کھول دیتا ہے ۔۔ اب بھلا کوئی بچہ آپ کے پاس منہ بسور کر آئے اور کہے میری ماما نے مجھے آگ پکڑنے پر ایک تھپڑ رسید فرمانے کی دھمکی ارشاد فرمائی ہے۔۔ تو آپ اس نادان کو کیسے دیکھیں گے۔۔ یقیناۤ مسکراتے ہوئے ۔۔ اور پھر سمجھاتے ہوۓ کہیں گے کہ بیٹا اس میں آپکی بہتری ہے ۔۔ اب اللہ کے فیصلوں پر اگر کوئی آپ کو بہتری کا پہلو دکھائے تو وہ یقیناۤ آپ سے مخلص ہے مگر اگر کوئئ آپ کو آپکی ہی ماں کے خلاف اکسائے یا بھڑکائے تو ذرا اسکے اخلاص کے حوالے سے سوچ لیجیے

۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ کسی شے کو بس ذرا لے کر دیکھتا ہے کہ کیا اسکا بندہ اللہ کہ اللہ جانتا ہے یا اپنی خواہش کو معبود مانتا ہے سو بس آزماتا ہے سو اگر سرخروئی عطا ہو تو اللہ دہ جہاں میں صلہ بڑھا کر عطا کرتا ہے مگر اللہ وہی کرتا ہے جس میں اسے اپنے بندے کی سب سے زیادہ خیر نظر آتی ہے ۔۔

اللہ پاک ہے .. بلاشبہ بہت رحمن غفور الرحیم ہے. اور وہ صرف اپنے بندے کی نیت دیکھتا ہے. وہ سینوں کے بھید دلوں کی حقیقت نیتوں کا حال سب جانتا ہے. وہ ہماری توبہ کی حقیقت کو بھی جانچتا ہے. وہی پاک ہے وہی پاک کر سکتا ہے. ہم بس اللہ کو سچے دل سے خود سپردگی دیں اور اسے کہیں وہ ہم پر قابض ہے وہی ہم پر قابض رہے.. پل بھر کو بھی ظالم نفس کے حوالے نہ کرے. وہ اور صرف وہی ہماری شکستہ سامانیوں کے باوجود.. ہماری کوتاہیوں زیادتیوں کے باوجود .. صرف ایک سچے رجوع پر ہمیں گلے لگانے کو تیار ہے.

ہاں اسکی عظمت بے نیازی کا خوف ہونا بھی چاہیے. مگر اگر ہم اسکی رضا میں تحلیل ہو جائیں تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم اسکے خوف سے اس سے دور ہوجائیں

وہ ایک واحد ذات وہ ہے جہاں ہمیں کسی ریجیکشن کا خوف نہیں. وہ جس نے ہمیں بنایا ہے ہماری شخصی کمزوریوں سے آگاہ. . صرف ہمارے سچ سے ہمارے سچے ہونے کا منتظر ..کہ اسے جھوٹ فریب دھوکہ منافقت پسند نہیں .. کہ اس میں اسکا نہیں .. ہمارا نقصان ہے... اللہ ہمیں اپنے احسان شناسی سے مالامال کر دے اپنی محبتوں کے حصار میں ہمیں اور مضبوطی سے تھام لے اللھم آمین!

تحریر: حیا ایشم

جمعرات, دسمبر 29, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 29 دسمبر 2016

آج کی بات

آدمی کی چھ غلطیاں :
1- یہ غلط فہی کہ دوسروں کو کچلے بغیر ذاتی فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا.
2- ایسی باتوں کے بارے میں فکر اور پریشانی کی عادت جنہیں نا تو بدلا جاسکتا ہےاور نہ ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے.
3- یہ خیال کہ جو کام ہم نہیں کر سکے وہ نا ممکن ہے.
4- معمولی اختلافِ رائے پر اڑ جانے کی عادت.
5- ذہنی ترقی اور نفاست کے لیے کوشش نہ کرنا اور کتابوں کے مطالعے اور دنیاوی مشاہدے کی عادت نہ ڈالنا.
6- دوسروں پر زور دینا کہ جس بات کو ہم صحیح سمجھتے ہیں وہ بھی اُسے صحیح سمجھیں اور جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں وہ بھی ویسی ہی زندگی گزاریں.

کوشش کریں کہ ان غلطیوں سے بچا جاۓ

بدھ, دسمبر 28, 2016

منگل, دسمبر 27, 2016

اتوار, دسمبر 25, 2016

پیغامِ قائد



بانئِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا:

"میں اپنا کام کرچکا ہوں قوم کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے مل گئی ہے، اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اسے تعمیر کرے۔"

قائداعظم محمد علی جناح كو خراج عقیدت پیش كرنے كا بہترین طریقہ یہ ہے كہ ان كے افكار اور تعلیمات پر سچے دل سے عمل پیرا ہو كر اپنی صلاحیتوں كو پاكستان كی تعمیروترقی كے لیے وقف كردیا جائے۔ اور اپنی حیثیت کے مطابق اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔


بدھ, دسمبر 21, 2016

اتوار, دسمبر 11, 2016

حُبِّ رسول ﷺ کے تقاضے


اللہ تعالی نے ہمارے نبی محمد ﷺ کو تمام لوگوں اور سب مخلوقات سے چنیدہ ، برگزیدہ اور فضیلت والا بنایا، اللہ تعالی نے آپ کو جہانوں کیلیے رحمت اور خاتم الانبیاء وا لمرسلین بنا کر اس امت کی جانب مبعوث فرمایا، اللہ تعالی نے آپ کو گواہ، خوش خبری دینے والا، ڈرانے والا، اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔

اللہ تعالی نے آپ کا اختیار اعلی اور معزز ترین خاندان اور شہر سے کیا آپ کیلیے بہترین زمان و مکان چنا، آپ کا تزکیہ کامل، احسن اور افضل ترین صفات و اخلاقیات سے فرمایا۔

آپ کو اپنی تمام مخلوقات پر فوقیت دی، آپ کی شرح صدر فرمائی، آپ کا بول بالا فرمایا، آپ کی لغزشیں بھی معاف فرما دیں، بلکہ ہر چیز میں آپ کو خاص مقام عطا فرمایا، چنانچہ :

آپ کی عقل و دانش کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى}
 تمہارا ساتھی نہ راہ بھولا ہے اور نہ ہی بھٹکا ہے۔[النجم: 2]

آپ کے اخلاق کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا:
 {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ}
 اور بیشک آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔[القلم: 4]

آپ کے حلم و بردباری کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
 {بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} 
مومنوں کیلیے نہایت رحم دل اور مہربان ہیں۔[التوبہ: 128]

آپ کے علم کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى} 
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے۔[النجم: 5]

آپ کی صداقت کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى} 
وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا ۔[النجم: 3]

آپ کے سینے کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا:
 {أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ} 
کیا ہم نے آپ کی شرح صدر نہیں فرمائی۔[الشرح: 1]

آپ کے دل کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى}
 جو کچھ اس نے دیکھا دل نے اسے نہیں جھٹلایا۔[النجم: 11]

آپ کی شان کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ} 
اور ہم نے آپ کی شان بلند کر دی۔[الشرح: 4]

آپ کو چنیدہ بنا کر آپ کو راضی بھی کیا اور فرمایا: 
{وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} 
اور عنقریب آپ کو آپ کا رب اتنا عنایت کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔[الضحى: 5]

اللہ تعالی نے اپنی اطاعت کو آپ ﷺ کی اطاعت سے اور اپنی محبت کو آپ ﷺ کی محبت سے نتھی فرمایا، چنانچہ اللہ کی بندگی اور قرب الہی کا وہی طریقہ روا ہو گا جو اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی زبانی بیان کروایا، لہذا جنت کیلیے آپ ﷺ کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔

آپ ہی لوگوں کیلیے ہدایت اور نجات کا باعث ہیں، آپ ہی شفاعت کبری کے حقدار ہیں جس دن انسان اپنے بھائی ، ماں، باپ، دوست اور اولاد سے راہِ فرار اختیار کرے گا۔

سلیم فطرت اور مثبت ذہنوں میں ان صفات اور اخلاق کی مالک شخصیت کی محبت رچ بس جاتی ہے۔

ہمارے نبی محمد ﷺ کو محبت کا بہت وافر اور بڑا حصہ ملا، چنانچہ آپ ﷺ سے محبت تاکیدی فرض، واجب رکن اور ایمان کی شرط ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ}
آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے [آل عمران: 31]

رسول اللہ ﷺ سے محبت ایسی عبادت ہے جو قرب الہی کا باعث ہے، اور یہ شریعت کے دائرے میں بند ہے، اس کے ایسے مظاہر اور علامات ہیں جن سے محبت کی حقیقت اور سچائی آشکار ہوتی ہے۔

مَنْ اِدَّعَى مَحَبَّةَ اللهِ وَلَمْ
يَسِرْ عَلَى سُنَّةِ سَيِّدِ الْأُمَمِ

جو اللہ سے محبت کا دعوے دار ہو لیکن وہ تمام امتوں کے سربراہ کی سنت پر نہ چلے

فَذَاكَ كَذَّابٌ أَخُوْ مَلَاهِيْ
كَذَّبَ دَعْوَاهُ كِتَابَ اللهِ


تو وہ انتہائی جھوٹا ترین اور ہوس پرستی کا دلدادہ شخص ہے، اس کے دعوے کو اللہ کے قرآن نے مسترد کر دیا ہے۔

اور آپ سے محبت کی اہم ترین علامت یہ ہے کہ: آپ کی سنت پر چلے اور آپ کا طریقہ اپنائے؛ کیونکہ فرمانبرداری اور اطاعت محبت کا تقاضا ہے:
 {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ}
 آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے [آل عمران: 31]

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ: آپ کی محبت میں غلو نہ کیا جائے؛ کیونکہ غلو آپ ﷺ کی مخالفت اور تصادم ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا}
 اور رسول تمہیں جو کچھ دے دے لے لو، اور جس چیز سے روک دے تو اس سے رک جاؤ۔[الحشر: 7]

اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (میرا مقام ایسے بڑھا چڑھا کر بیان مت کرو جیسے عیسائیوں نے عیسی بن مریم کے ساتھ کیا، یقیناً میں صرف اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں) بخاری

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ: آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں، آپ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں؛ کیونکہ یہ بھی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کی سیرت، سوانح، اوصاف اور اخلاقیات کے متعلق معرفت حاصل کریں، جس کے بارے میں آپ بالکل نہیں جانتے اس کی محبت دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی، نہ اس کا آپ کبھی دفاع کریں گے ، اسی طرح آپ ﷺ کی سنت کا دفاع بھی انہیں جانے اور سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔

مقتبس از خطبہ جمعہ مسجد نبوی (04 نومبر 2016)

ہفتہ, دسمبر 10, 2016

جمعرات, دسمبر 08, 2016

بہارِ باغِ دنیا



ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز
دیکھ لو اس کا تماشہ چند روز

لاکھ دارا اور سکندر ہو گئے
آج بولو وہ کہاں سب کھو گئے
آئی ہچکی موت کی اور سو گئے
ہر کسی کا ہے بسیرا چند روز

کل تلک رنگیں بہاریں تھیں جہاں
آج کب روکے وہاں دیکھے نشاں
رنگ بدلے ہر گھڑی یہ آسماں
عیش و غم جو کچھ بھی دیکھا چند روز

کیا ملے گا دل کسی کا توڑ کے
لے دعا ٹوٹے دلوں کو جوڑ کے
جا مگر کچھ یاد اپنی چھوڑ کے
ہو تیرا دنیا میں چرچا چند روز

ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز
دیکھ لو اس کا تماشہ چند روز


 


بدھ, دسمبر 07, 2016

قدردان

 ~!~ حکایت سعدی سے اقتباس ~!~

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ کشتی پر سوار تھا۔ کشتی میں ایک عجمی لڑکا بھی سوار تھا۔ اس لڑکے نے اس سے قبل کبھی دریا کا سفر نہیں کیا تھا چنانچہ جب کشتی روانہ ہوئی اس نے رونا شروع کر دیا اور ڈر کے مارے اس کا بدن کانپنے لگا۔ بادشاہ چونک نازک طبع ہوتے ہیں اس لیے اس لڑکے کے رونے اس اس کا سفر کا مزہ حراب ہو گیا۔
لوگوں نے بہتیری کو شش کی کہ وہ لڑکا خاموش ہو جائے مگر اس لڑنے نے رونا بند نہ کیا۔ ایک دانا شخص جو کشتی میں سوار تھا اس نے بادشاہ سے کہا کہ اگر حکم ہو تو میرے پاس ایک ایسا طریقہ ہے کہ یہ لڑکا رونا بند کر دے گا؟
بادشاہ نے کہا کہ اگر ایسا کوئی طریقہ ہے تو وہ آزمایا جائے تاکہ اس لڑکے کا رونا ختم ہو۔ اس دانا شخص نے لڑکے کو پکڑا اور دریا میں پھینک دیا۔ جب اس لڑکے کو چند غوطے لگے تو اسے بالوں سے پکڑ کر واپس کشتی میں بٹھا دیا۔ وہ لڑکا اب چپ ہو کر ایک کونے میں نہایت اطمینان سے بیٹھ گیا۔
بادشاہ حیران ہوا اور اس نے اس دانا شخص سے کہا کہ تو نے یہ کیا کیا اور اس میں کون سی دانائی پوشیدہ ہے ؟ دانا شخص نے جواب دیا کہ آرام کی قدر اسی کو ہے جس نے کوئی تکلیف دیکھی ہو۔ یہ لڑکا ڈوبنے کی تکلیف سے ناواقف تھا اور اسے کشتی کی قدر و قیمت کا اندازہ نہ تھا ج اب چند غوطے لگانے کے بعد اسے کشتی کی قدروقیمت کا اندازہ ہو گیا ہے۔
جنت کی حوروں کے لیے تو اعراف ہی دوزخ ہے اور دوزخیوں کے لیے وہ جنت ہے۔ جس کا محبوب اس کے پاس ہو اس میں اور جو محبوب کی آمد کا منتظر ہو دونوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔

مقصود بیان:
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ نعمت ملنے پر اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنا چاہیے اور مصیبت آنے پر واویلا نہیں مچانا چاہیے کہ یہ بھی اللہ عزوجل کی جانب سے ہے اور اس کے لیے ایک آزمائش ہے اگر وہ اس آزمائش میں پورا اترتا ہے تو اس کے لیے بے شمار انعام و اکرام ہیں۔ انعام و اکرام کی قدر اسی کو ہو سکتی ہے جو کسی آزمائش کے بعد ان کا حقدار ہو ا ہو نہ کہ وہ جسے بغیر آزمائش کے انعام و اکرام سے نواز دیا جائے۔

منگل, دسمبر 06, 2016

ممتا (ایک احساس)

~!~ ممتا ~!~

تیرا میرا ازل کا ہے رشتہ
تیرے دم سے ہے دم رواں میرا
تیرے ہوتے ہوئے کبھی سر پر
میں نے دیکھا نہ درد کا سایا
تیری آغوش ہے پناہ مری
تیری ممتا ہے آسرا میرا
تُو سلامت تو میں سلامت ہوں
تیرے ہونے سے ہے مرا ہونا

شاعرہ: ناز بٹ

آج کی بات ۔۔۔ 06 دسمبر 2016

 ~!~آج کی بات ~!~

راستے پر کنکر ہوں تو اچھا جوتا پہن کر اس راستے پر آسانی سے چلا جا سکتا ہے.
لیکن اگر اس اچھے جوتے کے اندر ایک بھی کنکر چلا جائے تو سڑک کتنی بہی اچھی کیوں نہ ہو,
چلنا مشکل ہو جاتا ہے.... یعنی
***باہِر کے چیلنجز سےنہیں ,ہم اپنی اندرکی کمزوریوں سے ہارتے ہیں.****

غفلت (اسباب اور تدارک)


اللہ کے بندو!

دلوں کیلیے بہتری کا باعث بننے والی چیزوں سے دلوں کی اصلاح کرو اور دلوں کو گدلا کرنے والی چیزوں سے اسے بچاؤ؛ کیونکہ دل دیگر تمام اعضا کا سلطان ہے، جیسے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (خبردار! جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو تو مکمل جسم صحیح ہے اور جب وہی خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، خبردار! وہ لوتھڑا دل ہے) بخاری و مسلم نے اسے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

کیا آپ کو دلوں کی سب سے بڑی بیماری کا علم ہے؟ یہ بیماری جسے لگ جائے تو وہ خیر کے تمام مواقع سے محروم ہو جاتا ہے، یا بہت سے خیر کے مواقع سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے! دلوں کی سب سے بڑی بیماری غفلت ہے، دلوں پر اچھی طرح چھائی ہوئی غفلت وہ ہے جن کی وجہ سے کفار اور منافقین بد بختی میں مبتلا ہیں، یہی غفلت ان کیلیے جہنم میں دائمی جلنے سڑنے کا باعث بنے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (106) ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (107) أُولَئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ
جو شخص ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے ما سوائے اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو ، مگر جو کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ [106] اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے زیادہ محبوب بنایا، یقیناً اللہ تعالی کافر لوگوں کو راہ راست نہیں دکھاتا [107] یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں ،کانوں اور جن کی آنکھوں پر مہر لگا دی گئی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں ۔[النحل: 106 - 108]

غفلت اسے کہتے ہیں کہ: اچھا کام کرنے کا ارادہ کیا جائے اور نہ ہی اچھے کاموں سے لگاؤ ہو، مزید بر آں دل میں علم نافع اور عمل صالح بھی نہ ہو، یہ ٖانتہا درجے کی غفلت ہے جو کہ تباہی کا سبب ہے، ایسی غفلت کفار اور منافقین میں پائی جاتی ہے، جس سے بچاؤ اور خلاصی صرف توبہ کی صورت میں ہے، جب انسان پر ایسی غفلت غالب آ جائے تو وہ صرف گمان اور ہوس کے پیچھے ہی چلتا ہے، شیطان ان چیزوں کو مزین کر کے دکھاتا اور من مانیاں اس کے دل میں ڈال دیتا ہے، یہ ہے وہ غفلت جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے منافقوں اور کفار کو دنیا و آخرت میں سزا دی، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ
بہت سے ایسے جن اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ ان کے دل تو ہیں مگر ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں۔ ایسے لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے اور یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ [الأعراف: 179] 

کفار اور منافقین کی غفلت مکمل طور پر انسان کو اپنے قابو میں کرنے والی غفلت ہے جس کی وجہ سے انسان دائمی جہنم کا ایندھن بنے گا، اور وہ یہ ہے کہ اچھا کام کرنے کا ارادہ ہی نہ کیا جائے اور نہ ہی اچھے کاموں سے دل میں محبت ہو، مزید بر آں دل میں خواہش پرستی کے ساتھ علم نافع اور عمل صالح بھی نہ ہو، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا}
اور آپ اس کی اطاعت نہ کریں جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور وہ ہوس پرستی میں مبتلا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔[الكهف: 28] 

مفسرین اس آیت کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: "آپ ایسے شخص کے پیچھے مت لگیں جس کے دل کو ہم نے قرآن اور اسلام سے غافل کر دیا ہے اور اس کا معاملہ اب تباہی اور بربادی ہے"

جبکہ مسلمان کی غفلت یہ ہوتی ہے کہ وہ چند ایسے نیک کاموں سے غافل ہو جاتا ہے جن کا ترک کرنا اسلام کے منافی نہیں ہوتا ، یا ایسے گناہوں میں وہ ملوث ہو جاتا ہے جو کفریہ نہیں ہوتے، اسی طرح مسلمان گناہوں کی سزاؤں سے غافل ہو جاتا ہے۔

مسلمان کے غافل ہونے کا نقصان اور خمیازہ بہت سنگین ہوتا ہے، اس کے خطرناک نتائج تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، غفلت کی وجہ سے مسلمان کیلیے نیکی کے دروازے بند ہو سکتے ہیں۔

-کامل عقیدہ توحید کی معرفت سے غافل انسان کامل عقیدے سے محروم رہتا ہے،

-نماز کے ارکان اور واجبات کے سیکھنے میں غفلت برتنے سے انسان کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے، جب انسان نماز با جماعت کے ثواب سے غافل ہو تو اس کی ادائیگی میں سستی کا شکار ہو جاتا ہے

-جب زکاۃ ادا کرنے کا ثواب اوجھل ہو اور غفلت کی وجہ سے زکاۃ روکنے والے کی سزا ذہن میں نہ رہے تو یہ زکاۃ کی ادائیگی میں سستی کا باعث بن جاتی ہے

-والدین کی نافرمانی کی سزا سے غافل اولاد ؛ والدین کی نافرمان بن جاتی ہے، اور ان کے بارے میں نبی ﷺ کا یہ فرمان سچ ہو جاتا ہے کہ : (تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے: والدین کا نافرمان، دیوث اور مردوں کی مشابہت کرنے والی خواتین)

-قطع رحمی کی سزا سے غفلت پر قطع رحمی کرنے والے کیلیے وعید ہے، چنانچہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (جنت میں قطع رحمی کرنے والا داخل نہیں ہو گا) بخاری

-ظالم کو ملنے والی سزاؤں سے غفلت کی وجہ سے روئے زمین پر ظلم و زیادتی بڑھ جاتی ہے، ناحق قتل ہوتے ہیں، دوسروں کی دولت لوٹی جاتی ہے اور عزتیں تار تار ہوتی ہیں، تعمیری سوچ تخریب کاری میں بدل جاتی ہے، زر خیز زمین بنجر ہو جاتی ہے، فصلیں اور نسلیں تباہ ہو کر رہ جاتی ہیں، چہار سو ہو کا عالم ہوتا ہے، نیز ظالم پر بھی ظلم کے بدلے میں سزائیں نازل ہوتی ہیں۔

غفلت حقیقت میں تمام برائیوں کی کنجی ہے، غفلت کی وجہ سے مسلمان بہت سے اجرو ثواب سے محروم رہ جاتا ہے، مسلمان کے اجر و ثواب میں کمی غفلت کی وجہ سے ہی آتی ہے، لہذا غفلت سے نجات میں سعادت ہے، بندگی کے اعلی درجوں تک جانے کیلیے غفلت سے دوری لازمی امر ہے، یہی وجہ ہے کہ غفلت سے بچاؤ کی صورت میں دنیاوی سزاؤں سے تحفظ ملتا ہے اور مرنے کے بعد دائمی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔

غفلت سے بچاؤ اسی وقت ممکن ہے جب غفلت کے اسباب سے ہم دور رہیں اور انسان کو دھوکے میں ڈالنے والی دنیا کی جانب مائل نہ ہوں۔

غفلت سے بچاؤ کیلیے معاون چیز یہ بھی ہے کہ نماز با جماعت کا اہتمام خشوع اور حاضر قلبی کے ساتھ کیا جائے؛ کیونکہ نماز میں دلوں کی زندگی ہے اس لیے کہ نماز اپنے اندر عظیم معنی خیزی رکھتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} اور میری یاد کیلیے نماز قائم کر۔[طہ: 14]

ہر حال میں اللہ کا ذکر بھی غفلت سے نجات دہندہ ہے؛ کیونکہ ذکر دل کو زندہ رکھتا ہے اور شیطان کو دور بھگاتا ہے، روح کا تزکیہ کرتا ہے، بدن میں نیکی کرنے کیلیے قوت پیدا کرتا ہے، بلکہ خواب غفلت سے بھی بیدار کر دیتا ہے، اسی طرح دائمی طور پر ذکر میں مشغول رہنے سے انسان گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے

قرآن کریم کی تلاوت بھی غفلت سے بچاتی ہے؛ تلاوتِ قرآن کریم کا معاملہ بہت تعجب خیز ہے، تلاوتِ قرآن میں دلوں کیلیے شفا ہے، تلاوت ہمہ قسم کی نیکی اور بھلائی کرنے پر ابھارتی ہے، ہمہ قسم کے گناہوں سے روکتی ہے

علمائے کرام اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے بھی انسان کو غفلت سے تحفظ ملتا ہے؛ کیونکہ وہ اللہ کی یاد دلاتے ہیں اور شرعی علم سے بہرہ ور کرتے ہیں

لہو و لعب ، فسق و فجور اور برے دوستوں کی محفل سے دوری بھی غفلت سے بچاؤ کا سبب ہے

فانی دنیا سے آشنائی بھی غفلت سے نجات کیلیے معاون ثابت ہوتی ہے، اگر اس کی رنگ رنگینیوں سے دھوکا نہ کھائیں اور آخرت کو مت بھولیں تو انسان غفلت سے بچ جاتا ہے، دنیا کی محبت بہت سے لوگوں کو آخرت اور راہِ ہدایت پر چلنے سے روکتی ہے۔

گناہوں سے دوری بھی غفلت سے بچاؤ کیلیے مفید ہے؛ کیونکہ انسان کوئی بھی گناہ کرے تو وہ حقیقت میں غفلت کی بنا پر ہی کرتا ہے

مسلمان کو غفلت اور غفلت کے مضر اثرات سے محفوظ کرنے کا سب سے عظیم سبب موت اور اس کے بعد ہونے والے امور کی یاد دہانی ہے؛ کیونکہ موت بلیغ ترین نصیحت ہے، موت دیکھی سنی چیز ہے، اسے یقینی طور پر چکھنا ہے، موت اچانک آتی ہے، اور یقینی طور پر آ کر رہتی ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (لذتوں کو پاش پاش کر دینے والی یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو) ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے۔

لہذا جو شخص موت کو جتنا یاد رکھے گا اس کا دل اتنا ہی بہتر ہو گا، اس کے اعمال پاکیزہ ہوں گے، وہ غفلت سے سلامت رہے گا۔

انسان کی اصل عمر تو وہی ہے جو اطاعت کے کاموں میں گزر جائے، لہذا گناہوں میں گزرے لمحات تو زندگی کا خسارہ ہیں!!

پیر, دسمبر 05, 2016

زندگی کی گاڑی


اچھی ڈرائیونگ سے مراد یہ ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ سڑک پر آپ کا بہترین دوست اور خیرخواہ درحقیقت "بریک" ہے ، ایکسیلیٹر نہیں۔

بریک کے بروقت استعمال کا اولین فائدہ یہ ہے کہ صورتحال کا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں رہتا ہے جب کہ ایکسیلیٹر پر بھروسہ آپ کو دوسروں کی صوابدید کے سپرد کر دیتا ہے ۔

بریک آپ کو فیصلہ سازی کا موقع ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ اس پر عمل درآمد کی مہلت بھی عطا کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بریک آپ کو "دوسرا موقع" دیتی ہے کہ آپ کسی نقصان سے گزرے بغیر اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کر سکیں۔ یہ نہ صرف آپ کی زندگی کے تحفظ کا باعث بنتا ہے بلکہ دوسروں کی زندگیوں کی حفاظت کا ضامن بھی ہوتا ہے، کم از کم آپ کے حوالہ سے۔

نیز بریک کے استعمال کے لیے ہمہ وقت آمادگی نہ صرف آپ کو ٹریفک قوانین کی مد میں کسی بھی ممکنہ قانون شکنی سے دور رکھتی ہے بلکہ آپ کو ٹھہراو ، حلم اور بردباری بھی عطا کرتی ہے۔ اس کی ایک بڑی نشانی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کی جانب سے ہارن کا استعمال ناقابل یقین حد تک کم ہوتا چلا جاتا ہے ۔

ایکسیلیٹر کا بے محابہ استعمال آپ کو ان راستوں کا مسافر بنا سکتا ہے جو آپ کی مطلوبہ منزل کو نہیں جاتے۔ کسی کی گاڑی کو اپنے سے آگے نکلتے دیکھ کر مقابلہ پر اتر آنا اس کو تو کچھ نقصان نہیں دے گا لیکن آپ کے لیے ضرر کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ وہ تو اپنے "حساب" سے اپنی منزل مقصود کی جانب جا رہا تھا تاہم اب آپ بھی اس کے حساب سے ہی جا رہے ہیں ۔۔۔۔ لیکن کہاں ؟؟؟ اپنی منزل پر اپنی رفتار سے پہنچنا ہی دانشمندی ہے۔

زندگی کی گاڑی کے بھی ہوبہو یہی اصول ہیں ۔ تیز رفتاری نہیں ۔۔۔ احتیاط، حلم اور بردباری ۔
خود کو موقع دیجیے، زندگی بھی موقع دے گی۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

جمعہ, دسمبر 02, 2016

ابابیل


ابابیل اپنا گھونسلہ کنوئیں میں بناتی ھے.. اس کے پاس اپنے بچوں کو اڑنے کی عملی تربیت دینے کے لئے نہ تو کوئی اسپیس یا سہولت دستیاب ھوتی ھے اور نہ ھی وہ کچی تربیت کے ساتھ بچوں کو اڑنے کا کہہ سکتی ھے کیونکہ پہلی اڑان میں ناکامی کا مطلب پانی کی دردناک موت ھے.. مزید کسی ٹرائی کے امکانات زیرو ھیں..
آج تک اگر کسی نے ابابیل کے کسی مرے ھوئے بچے کو کنوئیں میں دیکھا ھے تو بتا دے..ابابیل بچوں کے حصے کی تربیت بھی اپنی ذات پر کرتی ھے.. بچوں سے پہلے اگر وہ اپنے گھونسلے سے دن بھر میں 25 اڑانیں لیتی تھی تو بچے انڈوں سے نکلنے کے بعد 75 اڑانیں لیتی ھے.. یوں ماں اور باپ 150 اڑانیں لیتے ھیں تا آنکہ اپنے بچوں کا دل و دماغ اس یقین سے بھر دیتے ھیں کہ یہاں سے اڑ کر سیدھا باھر جانا ھے اور بس !! اور کوئی آپشن نہیں ھے.. ایک دن آتا ھے کہ بچہ ھاتھ سےنکلے ھوئے پتھر کی طرح گھونسلے سے نکلتا ھے اور سیدھا جا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ جاتا ھے !!!
ھماری اولاد ھمارے یقین میں سے اپنا حصہ پاتی ھے.. اگر ھم خود یقین اور عمل سے تہی دست ھونگے تو اولاد کو کیا دیں گے..؟ بچوں کو کہانیاں نہ سنایئے بلکہ عمل کر کے دکھایئے.. یقین کریں وہ جتنا آپ پر اعتماد کرتے ھیں دنیا کے کسی کتابی ھیرو پہ نہیں کرتے

میری طرح آپ نے بھی یہ بات کئی بار کئی جگہ پڑھی ہوگی ۔۔ بلاشبہ اس میں پیغام بہت اچھا دیا گیا ہے۔ لیکن ابابیل کے گھونسلے کے بارے میں میرا کچھ تجسس بڑھا تو سوچا کیوں نہ کچھ تحقیق کی جائے اور اپنی معلومات میں اضافہ کیا جائے اس حوالے سے سو اس کے لیے گوگل کی مدد لی۔

ابابیل کے گھونسلے کی کچھ تصاویر

وکشنری کے مطابق 'ابابیل' ایک چھوٹی سی چڑیا جس کے پر سیاہ اور سینہ سفید ہوتا ہے۔ پرانے گنبدوں ۔ کھنڈروں اور تاریک مقامات پر مٹی کا گھونسلا بنا کر رہتی ہیں۔



ابابیل کی کچھ اقسام درختوں کی کھوہ میں بھی اپنا گھر بناتی ہیں۔

 یہ تو تھی کچھ انٹرنیٹ کی معلومات۔۔ 

اس سلسلے میں میں نے جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ:

" ابابیل میں نے جموں اور سیالکوٹ میں دیکھے تھے ۔ پھر کہیں نظر نہیں آئے

ابابیل کو قریب سے بھی دیکھا تھا یعنی زخمی ابابیل کو ہتھیلی پر رکھ کر

ابابیل کی ٹانگیں بہت نازک ہوتی ہیں اور وہ ان پر چڑیا کی طرح کھڑی نہیں ہو پاتی

سیالکوٹ میں ابابیل کے گھر جنہیں وہاں کی مقامی زبان میں آلنا کہتے ہیں دریا کے قریب کچی پہاڑی یعنی مٹی کی پہاڑی کے سوراخوں میں تھے

صرف ایک بار میں نے ابابیل کا بچہ دیکھا جسے ایک لڑکے نے ہتھیلی پر رکھا ہوا تھا اور اُس پر ترس کھا رہا تھا کہ بیچارہ نہ معلوم کیسے زمین پر گِر گیا ۔ اُسے آلنے میں کیسے پہنچایا جائے ؟ کیونکہ آلنے بہت اُونچے تھے اور پہاڑی تقریباً عمودی تھی ۔ کچی ہونے کی وجہ سے اس پر چڑھنے کی کوشش بڑی حماقت تھی۔"

سننے کو یہ بھی سنا ہے کہ مسجد الحرام میں ابابیل کعبے کا طواف بھی کرتی ہیں .... خانی کئبہ کے گرد اڑتے پرندے (دن اور رات دونوں اوقات میں) تو میں نے بھی دیکھے ہیں ،، واللہ اعلم بالثواب


اور


جمعرات, دسمبر 01, 2016

بدھ, نومبر 30, 2016

سوال جواب (حکمتِ رومی)




ایک مرید نے مولانا روم سے چند سوالات پوچھے جن کے انہوں نے بہت خوبصورت، مختصر اور جامع جوابات عطا فرمائے جو بالترتیب پیش خدمت ہیں:


1- زہر کسے کہتے ہیں؟

جواب: ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زائد ہو وہ ہمارے لیے زہر ہے۔ خواہ وہ قوت و اقتدار ہو، دولت ہو، بھوک ہو، انانیت ہو، لالچ ہو، سستی و کاہلی ہو، محبت ہو، عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو۔


2- خوف کس شے کا نام ہے؟

جواب: غیر متوقع صورت حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کرلیں تو وہ ایک ایڈونچر، ایک مہم جوئی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔


3- حسد کسے کہتے ہیں؟

جواب: دوسروں میں خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر ہم اس خوبی کو تسلیم کرلیں تو یہ رشک اور انسپائریشن بن کر ہمارے لیے ایک مہمیز کا کام انجام دیتی ہے۔


4- غصہ کس بلا کا نام ہے؟

جواب: کو امور ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر ہم ان کو تسلیم کرلیں تو عفو درگزر اور تحمل اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔


5- نفرت کسے کہتے ہیں؟

جواب: کسی شخص کو جیسا کہ وہ ہے، تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اسے تسلیم کرلیں اسے محبت کہیں گے۔

منگل, نومبر 29, 2016

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

پلیٹ میں تین چیزیں نظر آرہی ہیں،
غور سے دیکھیں اور انکے نام کمنٹ میں لکھ دیں.
 
پہلی نظر میں ذہن میں یہی آئے گا کہ پلیٹ پر انڈے اور آلو چیپس ہیں..لیکن حقیقت میں:
انڈے کی زردی (آڑو) ھے.
انڈے کی سفیدی (دہی) ھے.
آلو کے چپس (سیب کے سلائس) ھے.

لہذا ظاھری شکل اور خبر پر بلاتحقیق کوئی فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اسکی تحقیق ضروری ھے، جس طرح قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں 

{ يٰأَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُوۤاْ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوۤاْ أَن تُصِيبُواْ قَوْمَا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ}.الحجرات:6

مومنو! اگر کوئی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے.

اس پوسٹ کے ساتھ سوال کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کون تحقیق اور سوچ سمجھ کے جواب دیتا ھے اور کون جلدی بازی میں کوئی فیصلہ صادر کرتا ھے.!
لہذا اس پوسٹ کا مقصد کوئی گیم یا ٹائم پاس نھیں بلکہ ایک مثال کیساتھ اہم پوائنٹ کی وضاحت مقصود تھا، کیونکہ بلاتحقیق کسی پر رائے قائم کرنے والی بیماری آج کل بھت عام ھوچکی ھے..

بشکریہ: اردو دعوۃ

کچن باغیچہ

ہمارا کچن باغیچہ

بہت عرصے سے کئی جگہ سننے اور دیکھنے کے بعد ہمیں بھی شوق ہوا 'کچن گارڈننگ" کا تو ہم نے بھی سوچا تجربہ کرکے دیکھتے ہیں۔ تقریباً چھ آٹھ مہینے کی کوشش کے بعد ہمارا باغیچہ کچھ ایسا ہے۔

گملے میں عجوہ کھجور کا باغ :)

گاجر (مرحلہ وار)

ادرک

لہسن

پیاز اور لیموں

ہری مرچ

ٹماٹر

گھیگوار (ایلو ویرا)

کینو

پیاز (پانی میں اگانے کا تجربہ)

تو کیسا لگا آپ کو ہمارا کچن باغیچہ؟؟



پیر, نومبر 28, 2016

آج کی بات ۔۔۔۔ 28 نومبر 2016

 آج کی بات

عام لوگ جن میں اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی شامل ہیں آئے دن کچھ ایسے عمل کرتے رہتے ہیں جو گناہ ہیں لیکن اُنہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں
اِن عوامِل کو ایک اہلِ عِلم نے آسان زبان میں لکھا ہے تاکہ عوام کی سمجھ میں آ جائیں اور وہ اِن گناہوں سے بچ سکیں
1 ۔ ریا کاری ۔ عبادت یا نیکی کرتے ہوئے دِکھانا ۔ آج کل کئی لوگوں کا معمول بن گیا ہے کہ وہ حج یا عمرہ کیلئے جاتے ہیں تو احرام پہنے اور حرم شریف کے اندر تصاویر کھینچ کر عزیز و اقارب کو بھیجتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں سوشل میڈیا جیسے فیس بُک پر لگا دیتے ہیں
2 ۔ بد گمانی ۔ کسی کیلئے غلط خیال دل میں لانا
3 ۔ دھوکہ ۔ عیب چھُپا کر مال بیچنا ۔ یا بیچتے ہوئے عیب دار مال کا عیب نہ دکھانا
4 ۔ ٹوہ میں رہنا ۔ دوسرے کی سرگرمی پر نظر رکھنا
5 ۔ غیبت ۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا (خواہ وہ برائی اُس میں موجود ہو)
6 ۔ طعنہ دینا ۔ احسان کر کے جتانا
7 ۔ تکبّر ۔ اپنے آپ کو بڑا یا بہتر سمجھنا (کئی بڑے نمازی اور خیرات کرنے والے اپنے نوکروں یا حاجت مندوں کو سامنے کھڑا رکھتے یا زمین پر بٹھاتے ہیں جبکہ خود صوفہ پر بیٹھے ہوتے ہیں)
8 ۔ چُغلی ۔ ایک کی بات کسی دوسرے سے بیان کرنا
9 ۔ سازش ۔ دوسرے کے خلاف کوئی منصوبہ بنانا یا کسی کو منصوبہ بنانے کی ترغیب دینا
10 ۔ اسراف ۔ ضرورت سے زیادہ خرچ یا استعمال کرنا ۔ جیسے گلاس بھر کر پانی لینا لیکن سارا نہ پینا اور چھوڑ دینا
11 ۔ حسد ۔ کسی کی خوشی یا ترقی سے بُرا محسوس کرنا
12 ۔ کانا پھُوسی ۔ محفل میں کھُلی بات کرنے کی بجائے کسی ایک کے کان میں کہنا

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ- 19

تدبر قرآن (سورہ بقرہ) حصہ 19

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 اس مثال آپ کو ایسے سمجھائی جا سکتی ہے کہ یہ دو مختلف تصویریں ہیں. ایک تصویر مختصر ہو گی اور دوسری تفصیل سے. میں پہلے ایک تصویر کے بارے میں مختصراً آپ کو بتاؤں گا آپ کو بس تصور کرنا ہے کہ الله پاک نے کیسے اس کا نقشہ کھینچا ہے پھر ہم اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے. تو الله پاک فرماتے ہیں

مَثَلُهُمْ كَمَثَل

الله پاک فرماتے ہیں کہ آیت نمبر ۱۶ میں جن کا ذکر ہے

 أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾

 جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور ان کی تجارت کا انہیں کوئی فائدہ بھی نہ ہوا اور اصل میں انہیں ہدایت حاصل کرنے میں دلچسپی تھی بھی نہیں.
 ان کے پاس جو بھی ہدایت بچی تھی اس سے انہیں کوئی لگاؤ تھا ہی نہیں اس لیے تو سستے داموں بیچ ڈالی. اللہ پاک یہاں ان ہی لوگوں کی مثال بیان کرتے ہیں.
عربی زبان کی وسعت کی وجہ سے جہاں یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ مَثَلُھُم الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا "ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آگ جلانے کی کوشش کرے". مگر قرآن پاک میں ایسے نہیں کہا گیا. قرآن پاک میں اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا

مثل کا لفظ دو بار استعمال کیا گیا اور اس میں ایک اور لفظ جوڑ دیا گیا کَ.
تکنیکی باریکی میں جائے بغیر اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کو درپیش مسئلے کا ایک بہت چھوٹا حصہ اس تصویر میں دکھایا جا رہا ہے. اگر یہ تصویر منافقین کے کردار یا ان کافروں کے کردار کو مکمک طور پر پیش کرتی تو پھر لفظ مَثََلُھُم کے بعد سیدھا ان الفاظ کا استعمال ہوتا الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا. مگر چونکہ یہاں دونوں کلموں کے درمیان  فاصلہ ہے تو آپ کو اس پہیلی کے ایک چھوٹے سے حصے کی ہی سمجھ آئے گی. اب یہاں پہیلی کے ایک ہی حصے کا تذکرہ الله پاک نے کیوں فرمایا؟ کیونکہ پہیلی کے باقی حصے الله پاک آپ کو قرآن پاک کے مختلف حصوں میں پیش کریں گے. بس آپ کو تصویر کو مکمل کرنے کے لیے پزل کے باقی حصوں کی تلاش جاری رکھنی ہے. یہاں ان الفاظ میں صرف ایک جھلک ہی ہمیں دکھائی گئی ہے کہ
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا.

کہتے ہیں کہ عرب لفظ " مَثَلِ " کا استعمال کسی عام مثال کے لیے نہیں کرتے تھے. وہ لفظ  " مَثَلِ " کا استعمال تب کرتے تھے جب کسی عجیب و غریب چیز کی مثال دینا مقصود ہو. تو جب لفظ  "مَثَلِ" کا استعمال ہو تو آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ آگے کوئی عجیب حقیقت آشکار ہونے جا رہی ہے. کسی عام چیز کی بات نہیں ہو رہی، اگر کسی عام  چیز کا  ذکر ہوتا تو اس کے لیے حرف  " كَ " تشبیہہ دینے کے لیے استعمال ہوتا، لیکن اگر کوئی مختلف سی، عجیب چیز ہو تو  تشبیہہ دینے کے لیے لفظ  " مَثَلِ " کا استعمال کیا جاتا. عرب کسی عام سادہ چیز کے لیے لفظ  " مَثَلِ " کا استعمال نہیں کرتے تھے. اب قرآن کی اس آیت کے پیشِ نظر آپ سب  تصور کریں اور اپنے ذہن میں منظر کشی کریں ،

 الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا

تو ان کی مثال اس ایک شخص کی سی جس نے آگ جلانے کی کوشش کی. عرب میں یہ تصور اور منظر کشی نہایت عام تھی کہ ایک انسان رات کی تاریکی میں صحرا کے وسط میں بھٹک رہا ہے ، وہ صحیح راستے کی تلاش میں ہے لیکن گھپ اندھیرا ہے اور اسے سیدھا راستہ مل ہی نہیں رہا تو وہ ایک جگہ رکتا ہے تاکہ آگ جلا سکے اور کم ازکم اس تاریکی سے تو نجات پا لے ، اب اس تاریک صحرا کے وسط میں ایک شخص آگ جلانے کی کوشش کرتا ہے ، اور ابھی اس نے آگ روشن نہیں کی ، اگر کہا جاتا " اَوْقَدَ نَارًا "  تو اس کے معنی ہیں اس نے آگ جلائی ، لیکن اسْتَوْقَدَ نَارًا کے معنی ہیں اس نے آگ جلانے کی کوشش کی ، تو وہ شخص بھرپور کوشش کر رہا ہے آگ جلانے کی . صحرا میں رات کا اندھیرا چھایا ہے، شدید سردی ہے. اور جانوروں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں. یعنی وہ شخص خطرے میں ہے اور اس تاریکی میں صحرا میں رات بسر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے تو اپنی حفاظت کے لیے  آگ جلانا ناگزیر ہے ، ہو سکتا ہے آگ کی روشنی سے جانور گھبرا کر دور بھاگ جائیں، اور ویسے بھی آگ کی حدت کے بغیر سردی سے ہی مر جانے  کا خطرہ ہے، تو وہ شخص آگ جلانے کی کوشش کرتا ہے اور آگے ہی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ

 " فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ "

اور جب آگ نے اس کے گردوپیش کو روشن کر دیا

یعنی آگ جل اٹھی اور چاروں طرف روشنی پھیل گئی. جب صرف آگ روشن ہو تو کہا جاتا ہے نارا، لیکن جب آگ بھڑک کر الاؤ کی شکل اختیار کر لے تو اسے ضَؤ کہا جاتا ہے، یعنی ایسا عظیم الاؤ جس کے شعلے آسمانوں سے باتیں کریں تو اس بندے کی لگائی گئی چنگاری سے عظیم الاؤ بھڑک اٹھا اور اس کے گردوپیش کو روشن کر دیا، ' "مَا حَوْلَهُ ".
   ضَاءَ عربی میں ضَؤ سے نکلا ہے جا کے معنی روشنی کے ہیں، اردو بولنے والوں میں ضیاء نام بہت عام ہے، جس کے معنی روشنی کے ہیں .  لیکن ضَؤ اور نور میں بہت فرق ہے، ضَؤ ایسی روشنی ہے جس میں حدت یا گرمی  ہوتی ہے، اور نور وہ ہے جس میں گرمی نہیں ہوتی اور نور منعکس شدہ روشنی کو کہا جا سکتا ہے. دوسرے لفظوں میں صبح صادق کے وقت جو آپ روشنی آسمان پر دیکھتے ہیں وہ ضَؤ نہیں بلکہ نور ہوتا ہے ، کہ اس وقت آپ سورج کی روشنی براہ راست نہیں دیکھتے ، آپ سورج کی روشنی آسمان پر منعکس ہوتے دیکھتے ہیں، تو اسے نور کہا جاتا ہے لیکن جب سورج طلوع ہو جائے اور اس کی روشنی حدت پکڑ لے تو اسے ضَؤ کہتے ہیں اور اس روشنی میں حدت بھی ہوتی ہے. تو یہ ہے سورج کی روشنی.

 هُوَ الَّذِى جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً
وہی ہے جس نے سورج کو ضیاء( روشنی) اور چاند کو نور کا ذریعہ بنایا، کیونکہ چاند سورج کی ہی روشنی منعکس کرتا ہے ، اسی لیے چاند کی روشنی کو پرنور کہا جاتا ہے.

-نعمان علی خان

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

جمعہ, نومبر 18, 2016

جہاں دیکھو خدا کے نام کے بعد ان کا نام ائے



نبی آتے رہے آخر میں نبیوں کے امام آئے
وہ دنیا میں خدا کا آخری لے کر پیام آئے

جھکانے آئے بندوں کی جبیں اللہ کے در پر
سکھانے آدمی کو آدمی کا احترام آئے

وہ آئے جب تو عظمت بڑھ گئی دنیا میں انساں کی
وہ آئے جب تو انساں کو فرشتوں کے سلام ائے

پرِ پرواز بخشے اس نے ایسے آدمیت کو
ملائک رہ گئے پیچھے کچھ ایسے بھی مقام آئے

وہ آئے جب تو دنیا اس طرح سے جگمگا اٹھی
کہ خورشید درخشاں جس طرح بالائے بام آئے

خدا شاہد یہ ان کے فیضِ صحبت کا نتیجہ تھا
شہنشاہ گر پڑے قدموں میں جب ان کے غلام آئے

وہ ہیں بے شک بشر لیکن تشہد میں ،اذانوں میں
جہاں دیکھو خدا کے نام کے بعد ان کا نام ائے

بروزِ حشر امیںؔ جب نفسانفسی کا سماں ہوگا 
وہاں وہ کام آئیں گے جہاں کوئی نہ کام آئے

صلی اللہ علیہ وسلم

جمعرات, نومبر 17, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 17 نومبر 2016

~!~ آج کی بات ~!~

سوچ, لہجہ اور الفاظ میں سے اگر کوئی ایک  بھی نا مناسب ہو تو آپ اپنی بات کی اہمیت کھو دیتے ہیں.
لیکن اگر سوچ پاکیزہ ہو, لہجہ نرم ہو اور الفاظ دل میں اترنے والے ہوں تو کوئی آپ کی بات کو رد نہیں کر سکتا.

بدھ, نومبر 16, 2016

نو باتیں


کتنی زبردست ہیں یہ نو باتیں ، کوشش کریں کہ ہم اسے اپنے عمل میں لائیں!!!

1- *فتبينوا:*
کوئ بھی بات سن کر آگے کرنے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے
۔
2 - *فأصلحوا:*
دو بھایوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

3- *وأقسطوا:*
ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

4 - *لا يسخر:*
کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے قریب تم سے بہتر ہو۔

5 - *ولا تلمزوا:*
کسی کو بے عزّت مت کرو۔

6- *ولا تنابزوا:*
لوگوں کو برے القابات (الٹے ناموں) سے مت پکارو.

7- *اجتنبوا كثيرا من الظن:*
زیادہ گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرہ میں آتے ہیں۔

8 - *ولا تجسَّسُوا:*
ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔

9- *ولا يغتب بعضكم بعضا:*
تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔

(سورہ الحجرات)

الله کریم اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی تو فیق دے۔
آمین یاربُّ العالمین۔

منگل, نومبر 15, 2016

سب سرمئی ہیں


چند سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق انسان پہلے چھ ماہ تک بلیک اینڈ وائٹ دیکھتا ہے۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو ہم ایک عمر تک بلیک اینڈ وائیٹ ہی دیکھتے رہتے ہیں، بچپن میں اور پھر ٹین ایج میں ہر انسان بلیک یا وائٹ لگتا ہے ہمیں۔ bad guys اورgood guys ۔۔۔ نیک لوگ اور گناہ گار لوگ ۔۔ ہم اگر کسی اداکار، اسکالر یا سیاستدان سے محبت کرنے لگیں تو اس کو ایسا سفید مجسمہ بنا دیتے ہیں کہ اس میں خامی نظر نہیں آتی اور جب خامی دیکھ لیں تو اسے دیکھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن 'مسعود صاحب' جب ہم میں سے اکثر لوگ میری عمر کو پہنچتے ہیں تو جان پاتے ہیں کہ یہاں نہ کوئی سفید ہے نہ سیاہ، سب سرمئی (grey) ہیں، کوئی گہرا سرمئی، کوئی ہلکا سرمئی، کوئی مٹیالہ، کوئی کم گدلا، مگر بے داغ کوئی نہیں۔

نمرہ احمد کے ناول 'نمل' سے اقتباس۔

ہفتہ, نومبر 12, 2016

ہم ارب پتی ہیں


"ہم ارب پتی ہیں"
منقول

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا

’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔

میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘

صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-

ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔

ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘

مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘

مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘

مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘

ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں-

 سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘

مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘

 سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں

جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔

ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘

 صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘

ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘

 ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘

دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘

ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘

آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘

دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘

 آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘

 دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘

قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘

دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘

آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘

شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں

 اور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘

منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘

ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیں

تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘

 ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔

اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں.....

➰ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے.