حُبِّ رسول ﷺ کے تقاضے


اللہ تعالی نے ہمارے نبی محمد ﷺ کو تمام لوگوں اور سب مخلوقات سے چنیدہ ، برگزیدہ اور فضیلت والا بنایا، اللہ تعالی نے آپ کو جہانوں کیلیے رحمت اور خاتم الانبیاء وا لمرسلین بنا کر اس امت کی جانب مبعوث فرمایا، اللہ تعالی نے آپ کو گواہ، خوش خبری دینے والا، ڈرانے والا، اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔

اللہ تعالی نے آپ کا اختیار اعلی اور معزز ترین خاندان اور شہر سے کیا آپ کیلیے بہترین زمان و مکان چنا، آپ کا تزکیہ کامل، احسن اور افضل ترین صفات و اخلاقیات سے فرمایا۔

آپ کو اپنی تمام مخلوقات پر فوقیت دی، آپ کی شرح صدر فرمائی، آپ کا بول بالا فرمایا، آپ کی لغزشیں بھی معاف فرما دیں، بلکہ ہر چیز میں آپ کو خاص مقام عطا فرمایا، چنانچہ :

آپ کی عقل و دانش کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى}
 تمہارا ساتھی نہ راہ بھولا ہے اور نہ ہی بھٹکا ہے۔[النجم: 2]

آپ کے اخلاق کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا:
 {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ}
 اور بیشک آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔[القلم: 4]

آپ کے حلم و بردباری کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
 {بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} 
مومنوں کیلیے نہایت رحم دل اور مہربان ہیں۔[التوبہ: 128]

آپ کے علم کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى} 
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے۔[النجم: 5]

آپ کی صداقت کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى} 
وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا ۔[النجم: 3]

آپ کے سینے کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا:
 {أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ} 
کیا ہم نے آپ کی شرح صدر نہیں فرمائی۔[الشرح: 1]

آپ کے دل کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى}
 جو کچھ اس نے دیکھا دل نے اسے نہیں جھٹلایا۔[النجم: 11]

آپ کی شان کو خاص قرار دیتے ہوئے فرمایا: 
{وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ} 
اور ہم نے آپ کی شان بلند کر دی۔[الشرح: 4]

آپ کو چنیدہ بنا کر آپ کو راضی بھی کیا اور فرمایا: 
{وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} 
اور عنقریب آپ کو آپ کا رب اتنا عنایت کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔[الضحى: 5]

اللہ تعالی نے اپنی اطاعت کو آپ ﷺ کی اطاعت سے اور اپنی محبت کو آپ ﷺ کی محبت سے نتھی فرمایا، چنانچہ اللہ کی بندگی اور قرب الہی کا وہی طریقہ روا ہو گا جو اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی زبانی بیان کروایا، لہذا جنت کیلیے آپ ﷺ کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔

آپ ہی لوگوں کیلیے ہدایت اور نجات کا باعث ہیں، آپ ہی شفاعت کبری کے حقدار ہیں جس دن انسان اپنے بھائی ، ماں، باپ، دوست اور اولاد سے راہِ فرار اختیار کرے گا۔

سلیم فطرت اور مثبت ذہنوں میں ان صفات اور اخلاق کی مالک شخصیت کی محبت رچ بس جاتی ہے۔

ہمارے نبی محمد ﷺ کو محبت کا بہت وافر اور بڑا حصہ ملا، چنانچہ آپ ﷺ سے محبت تاکیدی فرض، واجب رکن اور ایمان کی شرط ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ}
آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے [آل عمران: 31]

رسول اللہ ﷺ سے محبت ایسی عبادت ہے جو قرب الہی کا باعث ہے، اور یہ شریعت کے دائرے میں بند ہے، اس کے ایسے مظاہر اور علامات ہیں جن سے محبت کی حقیقت اور سچائی آشکار ہوتی ہے۔

مَنْ اِدَّعَى مَحَبَّةَ اللهِ وَلَمْ
يَسِرْ عَلَى سُنَّةِ سَيِّدِ الْأُمَمِ

جو اللہ سے محبت کا دعوے دار ہو لیکن وہ تمام امتوں کے سربراہ کی سنت پر نہ چلے

فَذَاكَ كَذَّابٌ أَخُوْ مَلَاهِيْ
كَذَّبَ دَعْوَاهُ كِتَابَ اللهِ


تو وہ انتہائی جھوٹا ترین اور ہوس پرستی کا دلدادہ شخص ہے، اس کے دعوے کو اللہ کے قرآن نے مسترد کر دیا ہے۔

اور آپ سے محبت کی اہم ترین علامت یہ ہے کہ: آپ کی سنت پر چلے اور آپ کا طریقہ اپنائے؛ کیونکہ فرمانبرداری اور اطاعت محبت کا تقاضا ہے:
 {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ}
 آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے [آل عمران: 31]

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ: آپ کی محبت میں غلو نہ کیا جائے؛ کیونکہ غلو آپ ﷺ کی مخالفت اور تصادم ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا}
 اور رسول تمہیں جو کچھ دے دے لے لو، اور جس چیز سے روک دے تو اس سے رک جاؤ۔[الحشر: 7]

اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (میرا مقام ایسے بڑھا چڑھا کر بیان مت کرو جیسے عیسائیوں نے عیسی بن مریم کے ساتھ کیا، یقیناً میں صرف اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں) بخاری

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ: آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں، آپ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں؛ کیونکہ یہ بھی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کی سیرت، سوانح، اوصاف اور اخلاقیات کے متعلق معرفت حاصل کریں، جس کے بارے میں آپ بالکل نہیں جانتے اس کی محبت دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی، نہ اس کا آپ کبھی دفاع کریں گے ، اسی طرح آپ ﷺ کی سنت کا دفاع بھی انہیں جانے اور سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔

مقتبس از خطبہ جمعہ مسجد نبوی (04 نومبر 2016)

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

حجاج کرام کے لیے الوداعی نصیحتیں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ہجرتِ مصطفی کا منظوم واقعہ

الفاظ کی نئی دنیا (صراحہ)

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، کچھ دل سے حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ المؤمنون سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل