آج کی بات... 31 دسمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

کچھ کھونے کا ڈر ہی آپ کی زندگی کو جینے لائق بناتا ہے۔۔۔

~!~ آج کی بات ~!~ کچھ کھونے کا ڈر ہی آپ کی زندگی کو جینے لائق بناتا ہے۔۔۔

آج کی بات ۔۔۔ 30 دسمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

اگر انسانی رویوں میں الجھوگے تو زندگی الجھن میں گزرے گی.
 بس اپنا ذاتی رویہ سلجھائے رکھو، الجھنیں اور مسائل دور‎ ‎ہوتے جائیں گے.

~!~ آج کی بات ~!~ اگر انسانی رویوں میں الجھوگے تو زندگی الجھن میں گزرے گی.  بس اپنا ذاتی رویہ سلجھائے رکھو، الجھنیں اور مسائل دور‎...

اسرا و معراج ، فضائل و اسباق - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ  نے مسجد نبوی میں 11  -ربیع الثانی- 1439 کا خطبہ جمعہ " اسرا و معراج،،، فضائل و اسباق" کے عنوان پر ارشاد فرمایا  جس میں انہوں نے  کہا  کہ اسرا اور معراج کے طویل سفر کو اللہ تعالی نے اپنی قدرت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا ، اس سفر میں بہت زیادہ اسباق  اور نصیحتیں ہیں کہ اس سفر کی سعادت صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، بیت المقدس اگرچہ انبیائے کرام کا گہوارہ ہے لیکن امامت کا شرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلمکو ہی ملا آپ نے خود اقامت کہی اور جماعت کروائی، تمام انبیائے کرام نے محمدی طریقے کے مطابق نماز ادا کی جو کہ شریعت محمدی  کے لیے شرف ہے۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى}
 پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصی  کی سیر کروائی۔ [الإسراء: 1]، 
میں لا تعداد اور بے شمار نعمتوں پر اللہ کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں ، اور  گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ بلند و بالا ہے،  میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ کو معراج کے سفر میں آسمانوں کی  بلندیوں پر لے جایا گیا۔  اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل  ،اور تمام صحابہ کرام    سمیت آپ کے تابعداروں پر رحمتیں  نازل فرمائے ۔

اسراء کا سفر بیان کر کے اللہ تعالی نے اپنی رفعت، عظمت  اور شان بیان کی کہ اس جیسی قدرت اور طاقت کا مالک کوئی نہیں جو کسی کو راتوں رات اتنی دور کی سیر کروا دے، اللہ تعالی کی قدرت اس حیرت انگیز سفر  اور ہمیشہ یاد رکھے جانے والے معجزے میں واضح ہوئی ، اس نے عقل کو دنگ اور  انسانی دماغ چکرا کر رکھ دیا ؛ کیونکہ اُس وقت اتنا تیز سفر انسانی سوچ سے ماورا تھا، اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک کا  طویل سفر چند لمحوں میں کروایا گیا، آپ نے اس طویل سفر میں اللہ تعالی کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، پروردگار کی بادشاہی کا جلال دیکھا اور پھر اسی رات واپس بھی آ گئے۔

اسرا اور معراج کا سفر نبوت کی بہت بڑی نشانی اور عظیم ترین معجزہ تھا، اس سفر میں حکمتیں ، احکام اور بڑے بڑے سبق ہیں۔ اس سفر کو اللہ تعالی نے اپنے خلیل اور چنیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مختص فرمایا، یہ بیت اللہ  سے بیت المقدس کی جانب سفر تھا ، بیت المقدس انبیاء کا گہوارہ  اور قبلۂ اول ہے؛ بیت المقدس کی جانب سفر اس لیے کیا گیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت  اور شان و شوکت عیاں ہو، آپ کے عزائم مضبوط ہونے کے ساتھ آپ مزید ثابت قدم ہو جائیں، یہ سفر  اللہ تعالی کی جانب سے جیتا جاگتا معجزہ  تھا کہ ایک بشر کو  آسمانوں میں لے جایا گیا اور پھر دوبارہ زمین پر لوٹا دیا گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ساری کی ساری کائنات اللہ سبحانہ و تعالی کے کنٹرول میں ہے، اللہ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی اس کے علاوہ ہمارا کوئی پروردگار ہے۔

اسرا کے سفر میں اسلام کی عظمت بھی عیاں ہوتی ہے ، یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اسلام کو سابقہ تمام شریعتوں کا خلاصہ بنایا ، چنانچہ دین اسلام تمام سابقہ شریعتوں کے مقابلے میں آخری شریعت ہے، اسرا کے سفر نے انبیائے کرام کے مابین بھائی چارے کے تعلقات کو مضبوط بنایا اور یہ بھی بتلایا کہ سب کا پیغام رسالت ایک ہی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی آسمان  کے پاس پہنچتے تو تمام انبیائے کرام نے آپ کا: (خوش آمدید! پارسا بھائی اور نیک نبی ) کہہ کر استقبال کیا، انہی انبیائے کرام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:  (تمام انبیائے کرام کا باپ ایک ہے اور ان کی مائیں الگ الگ ہیں، ان کا دین ایک ہی ہے، اور میرا عیسیٰ بن مریم کے ساتھ تعلق سب سے بڑھ کر ہے)

تمام انبیائے کرام  نے جمع ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مسجد اقصی میں نماز ادا کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان  اور مقام بہت بلند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام تر انبیائے کرام سے افضل ہیں ،امامت کروانے کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسرا کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے خود فرمایا: (موسی علیہ السلام کھڑے نماز ادا کر رہے تھے  آپ  کا قد درمیانہ  اور جسم ٹھوس  تھا نیز آپ شنوءہ قبیلے  کے افراد جیسے  دکھ رہے تھے، اور اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی کھڑے نماز ادا کر رہے تھے، آپ کی  شباہت میں سب سے قریب ترین عروہ بن مسعود ثقفی  ہیں، ایسے ہی ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز ادا کر رہے تھے اور آپ سے تمہارے ساتھی  -یعنی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم - کی شکل سب سے زیادہ ملتی ہے، تو میں نے نماز کی اقامت کہی  اور ان کی امامت کروائی) انبیائے کرام کے اس طریقے اور سلیقے سے تمام داعیانِ حق کو سبق ملتا ہے کہ وہ بھی انبیائے کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اطاعت، نیکی اور تقوی کے امور پر متحد ہو جائیں، اختلاف اور تفریق پیدا کرنے والے اسباب  سے پرہیز کریں۔

جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک تیز رفتاری کے ساتھ سفر کروایا  گیا؛ بالکل اسی طرح پوری دنیا میں اسلام بھی بڑی تیزی کے ساتھ پھیلا، اسی لیے تو دین اسلام  آفاقی دین ہے کوئی بھی سرحد یا حد بندی اس کے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ: (یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک دن اور رات  ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالی مٹی یا اون کے بنے ہوئے گھروں میں بھی اس دین کو داخل کر کے چھوڑے گا؛ چاہے اس کی وجہ سے کسی کو عزت ملے یا ذلت۔اللہ تعالی عزت اسلام اور مسلمانوں کو جبکہ ذلت شرک اور مشرکوں کو دے گا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکا یہ فرمان بالکل سچ  ثابت ہو چکا ہے؛ کیونکہ اسلام  اس دھرتی کے طول و عرض میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے بلکہ دشمنوں کی زبانیں اور قلمیں بھی اسی کی گواہی دے رہی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی بلندیوں تک لے جایا گیا ، اور آپ کو یہ رتبہ بلند اس لیے ملا کہ آپ نے اپنی شخصیت میں عبدیت کا اعلی ترین مقام سمو رکھا تھا ، اور اسی عبدیت کے اعلی مقام  کی وجہ سے اللہ تعالی نے  آپ کی تعریف کے اعلی ترین مقام پر بھی آپ کو عبدیت  کے ساتھ ہی ذکر کیا اور فرمایا: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ} پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کروائی۔ [الإسراء: 1]

اسرا اور معراج کے اس سفر کے دوران آپ کو  مسجد الحرام ، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے مابین  انتہائی مضبوط تعلق  اور ناطہ پڑھنے کو ملے گا، اور اس تعلق  میں امت کے لیے بالکل واضح اشارہ ہے کہ مسجد اقصی کے بارے میں معمولی سی سستی کا شکار نہ ہو؛ کیونکہ مسجد اقصی کے مقام، قدسیت اور برکت کا یہی تقاضا ہے۔

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (تین مساجد کے علاوہ رخت سفر نہ باندھا جائے:  میری یہ مسجد، مسجد الحرام اور مسجد اقصی) بخاری

اسرا کے معجزے سے ہم اللہ تعالی کی مدد اور نصرت کے حوالے سے اہم ترین سبق حاصل کرتے ہیں کہ   جو بھی اللہ کے دین اور  اللہ تعالی کے احکامات پر کار بند ہو گا اللہ تعالی اس کے ساتھ ہوتا ہے، اور اللہ تعالی کے ساتھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے اس بندے کی حفاظت فرماتا ہے، اسے کامیابیوں سے نوازتا ہے، اس کی مدد اور نصرت فرماتا نیز غلبہ عطا کرتا ہے۔ اس سبق کی وجہ سے ان جان نثاروں کے زخم مندمل ہوتے ہیں جو اخلاص کے ساتھ دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں  نچھاور کر رہے ہیں۔

مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے والے اور ان کے خلاف گھات لگانے والے یہ بات سمجھ لیں کہ   مسلمانوں کی مدد کے لیے اللہ سبحانہ و تعالی کو اسباب کی ضرورت نہیں ہے، اگرچہ مسلمان تنہا ہوں  تب بھی اللہ تعالی ان کی مدد فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ} 
کتنی ہی چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پا لیتی ہیں، اللہ تعالی ڈٹ جانے والوں کے ساتھ ہے۔ [البقرة: 249]

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تاریخ کے اوراق میں ایک الگ ہی واقعہ ہے  جو کہ عبرتوں سے بھر پور ہے، وہ اس طرح کہ مشرکین  لیلۃ الاسرا کے بعد صبح کے وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ بتانے آئے کہ تمہارے دوست کا دعوی ہے کہ انہیں مکہ سے بیت المقدس لے جایا گیا  اور  پھر رات ہی  کو واپس بھی لوٹ آئے۔ مشرکین نے یہ سمجھا کہ ابو بکر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو جھٹلا دیں گے؛ لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک مشہور جملہ اور قاعدہ کلیہ بیان کیا کہ: " اگر انہوں نے کہا ہے تو یہ سچ ہے"

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دل میں موجود یہ راسخ تصدیق  در حقیقت ایمان کا نتیجہ تھا۔ لیکن جس وقت  ایمان ہی  متزلزل ہو جائے اور لوگوں کے دلوں میں یقین کمزور ہو جائے، تو کچھ اپنے ہی ایسے لوگ  رونما ہو جاتے ہیں جو دین اسلام کے متعلق شک کریں اور مسلمہ اصولوں  کو توڑیں، یہ قرآنی نصوص اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا کر اپنی ناقص عقل کے مطابق کتاب و سنت کا محاکمہ کرتے ہیں.

لیکن جن مومنوں کے دلوں میں ایمان جا گزین ہو چکا ہو  تو وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی اس بات کا عملی نمونہ بن جاتے ہیں:  "ہم اللہ تعالی پر  اور اللہ تعالی کی وحی  اسی طرح ایمان لاتے ہیں جیسے اللہ تعالی کی مراد ہے، اسی طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر  اور آپ کی احادیث پر  اسی طرح ایمان لاتے ہیں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد  تھی"

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی بھلائی مانگتے ہیں چاہے کوئی جلدی ملنے والی یا دیر سے، یا اللہ ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی برائی سے پناہ مانگتے ہیں چاہے  چاہتے وہ جلد آنے والی  ہے یا دیر سے ۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!




اسرا و معراج ، فضائل و اسباق - خطبہ جمعہ مسجد نبوی ترجمہ: شفقت الرحمان مغل فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ  ن...

آج کی بات ۔۔۔۔ 29 دسمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

خوش رہا کرو -
پریشان رہنے والوں کو کبھی کچھ نہیں ملا -
اگر ملا بھی تو وہ اس سے لطف اندوز کبھی نہیں ہو سکے !

~!~ آج کی بات ~!~ خوش رہا کرو - پریشان رہنے والوں کو کبھی کچھ نہیں ملا - اگر ملا بھی تو وہ اس سے لطف اندوز کبھی نہیں ہو سکے ! ...

آج کی بات ۔۔۔ 28 دسمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

جب انسان کے دل میں لوگوں کیلئے سچی محبت ہوتی ہے تو ان کی گفتگو میں سچی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
 اور رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات کاٹنے یا مختصر کرنے کی کوئی وجہ تلاش نہیں کی جا رہی، 
اور نہ ہی کسی دل بہلانے والی بات پر ہنسنے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ ہوتی ہے۔


~!~ آج کی بات ~!~ جب انسان کے دل میں لوگوں کیلئے سچی محبت ہوتی ہے تو ان کی گفتگو میں سچی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔  اور رویے سے ظاہر ہو...

آج کی بات ۔۔۔ 27 دسمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

اچھا فیصلہ کرنے کی صلاحیت تجربے سے پیدا ہوتی ہے؛
 لیکن تجربہ خراب فیصلوں سے آتا ہے۔ 
یہی زندگی ہے۔ 
لہٰذا پچھتاوا نہ کریں۔ 
غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور زندگی میں قدم آگے بڑھاتے رہیں۔

~!~ آج کی بات ~!~ اچھا فیصلہ کرنے کی صلاحیت تجربے سے پیدا ہوتی ہے؛  لیکن تجربہ خراب فیصلوں سے آتا ہے۔  یہی زندگی ہے۔  لہٰذا پچ...

بھلے لوگوں کی صفات۔۔۔۔ خطبہ مسجد الحرام (اقتباس)


مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ فیصل بن جمیل الغزاوی

جمعۃ المبارک 4 ربیع الثانی 1439 ہ بمطابق 22 دسمبر 2017

 ترجمہ محمد عاطف الیاس

اللہ رب العالمین کے لیے بے انتہا، پاکیزہ  اور  بابرکت تعریف ہے۔ بالکل ویسی تعریف جیسی ہمارے رب کو پسند ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ دنیا وآخرت میں ساری تعریف اسی کے لیے ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین رحمت اور ہدایت کے ساتھ مبعوث کیے گئے تھے۔ اللہ کی رحمتیں برکتیں اور سلامتی ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پاکیزہ اور نیک اہل بیت پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں امہات المومنین پر، تمام صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

اے مسلمان بھائیو!

بھلا ہونا، اہل ایمان کی صفت ہے، جس سے ان کی بھلائی، اچھے اوصاف  اور بہترین اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسے بھلا کہا جائے اور برائی سے متصف ہونے کو ہر کوئی نا پسند کرتا ہے، بلکہ ہر کوئی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ برے لوگوں سے دور رہے اور بھلے لوگوں کے قریب رہے۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اچھے لوگ کون ہیں اور ان کی صفات کیا ہیں؟ انہیں ممتاز کرنے والی چیز کون سی ہے اور وہ کس طرح رہتے ہیں؟

امام احمد کی کتاب مسند الامام احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت منقول ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے۔ وہ بھلی چیز کھاتی ہے اور اچھی چیز ہی پیدا کرتی ہے۔ جہاں بھی جاتی ہے، نہ کوئی چیز توڑتی ہے اور نہ کوئی چیز خراب کرتی ہے۔

اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس مومن کی مثال بتائی ہے کہ جس کے اندر تمام بھلی صفات پائی جاتی ہیں اور جو ظاہری طور پر اسلام کے اخلاق اپنائے ہوئے ہے۔ بتایا کہ مومن شہد کی مکھی جیسا ہے جو اللہ تعالی کے حکم سے مختلف پھلوں سے کھاتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ہر طرح کے پھلوں کا رس چوسو۔‘‘ (النحل)

وہ جو چیز بھی بناتی ہے، بہت خوب بناتی ہے۔ اس کے جسم سے کوئی ناپاک چیز نہیں نکلتی۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اِس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔‘‘ (النحل)

مومن بھی ایسا ہی ہوتا ہے، بھلے کام کرنے والا، اچھے اخلاق والا اور نیکی میں سبقت لے جانے والا۔

اے مسلم معاشرے کے لوگو!

بھلا مسلمان وہ ہوتا ہے جو خود پاکیزہ ہوتا ہے اور جسے اللہ تعالی کی طرف سے پاکیزگی عطا کی گئی ہوتی ہے۔ وہ ہر برائی، کمی، گناہ اور  جہالت  سے پاکیزہ رہنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ اسی طرح وہ علم و حیا اپناتا ہے اور اچھے اخلاق پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے نفس کی اصلاح، بہتری اور پاکیزگی میں لگا رہتا ہے۔ اس طرح اس کا دل اللہ تعالیٰ کی پہچان سے، اسکی زبان اللہ کے ذکر اور حمد و ثنا کے بیان سے اور اس کے اعضاء اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے بھلے ہو جاتے ہیں۔

اے مسلمانو!

مسلمان ہر معاملے میں بھلا ہوتا ہے، اپنے معاملات میں اور اپنے لین دین میں، اپنے آنے جانے میں اور اٹھنے بیٹھنے میں، وہ اپنی زندگی میں بھی بھلا ہوتا ہے اور اپنی موت کے بعد بھی بھلا ہوتا ہے۔ اگر مسلمان کی روح کے متعلق بات کی جائے تو مسلمان کی روح بھی بہت بھلی ہوتی ہے۔

میرے بھائیو!

مومن کلمہ طیبہ کو بھی دہراتا رہتا ہے، وہ اپنی زندگی میں اور موت کے وقت اسے بار بار زبان پر لاتا رہتا ہے۔ کلمہ طیبہ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں۔‘‘ (ابراہیم: 24۔ 25)

کلمہ طیبہ سے مراد لاالہ الا للہ ہے۔ تو اے مسلمان! اس کلمہ طیبہ سے خوش ہو جا! اسے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا لے اور اسے ہمیشہ یاد رکھ۔ کیونکہ جس کی زندگی کے آخری الفاظ لا الہ الا اللہ ہوں وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ تو موت تک اللہ تبارک وتعالیٰ سے ثابت قدمی کا سوال کرتا رہ۔

فرمان الٰہی ہے:

’’ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی اور انہیں قابل تعریف الہ کا راستہ دکھایا گیا۔‘‘ (الحج: 24)

یعنی اللہ تعالی نے اہل ایمان کو بھلے بول سکھائے ہیں، سب سے اچھا بول لا الہ الاللہ ہے۔ اور اس کے بعد سب سے افضل الفاظ وہ الفاظ ہیں جن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور جن میں اللہ کے بندوں کے ساتھ نرمی ہوتی ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:

’اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے۔‘‘ (فاطر: 10)

اس آیت میں پاکیزہ بول سے مراد تلاوت، تسبیح، حمدوثنا اور ہر وہ پاکیزہ قول جو انسان اپنے منہ سے نکلتا ہے۔ یہ سب بول اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور وہ ذکر کرنے والے کے حق میں گواہی دیتے ہیں۔

اللہ کے بندو!

بھلے مرد اور بھلی عورتیں ایک دوسرے کا خیال کرتے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں جوان ہی جیسے کام کرتے ہیں۔ فرمان الہی ہے:

’پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔‘‘ (النور: 26)

بھلے بول بھی افضل اور بہترین بول ہوتے ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل کیجئے۔ فرمان نبوی ہے:

لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور بھلا بول بولو۔ اسے امام طبرانی نے حضرت علی رضی اللہ تعالئ عنہ سے روایت کیا ہے۔

مومن اس چیز کا بھی خاص خیال کرتا ہے کہ اس کی کمائی پاکیزہ اور بھلی ہو۔

امام مسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ ہو تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اے لوگو! اللہ بڑا پاکیزہ ہے اور وہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو بھی وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو دیا ہے۔ فرمایا:

’’اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں۔‘‘ (المومنون :51)

امام قرطبی علی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالی نے انبیاء کو اور مومنین کو برابر مخاطب کرتے ہوئے حلال کھانے کا اور حرام سے بچنے کا حکم دیا اور پھر آیت کے آخر میں سب کو یہ کہتے ہوئے خبردار کیا کہ میں آپ کے کاموں کو خوب جانتا ہوں!

اللہ کے رسولوں پر رحمتیں اور سلامتی ہو، اگر ان کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو پھر ہمارا معاملہ کیسا ہوگا!

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ صدقہ دیتے وقت بھلی کمائی میں سے دیں اور ناجائز کمائی سے صدقہ نہ دیا جائے بلکہ نیک کمائی سے صدقہ دیا جائے تو وہ بہت بھلا ہے چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ ہو تعالئ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ تعالی پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے، تو جو اپنے پاکیزہ مال سے صدقہ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے، چاہے وہ صدقہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، وہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں یوں بڑھتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے جانور یا پودے کو پالتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی کھجور ایک پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اے میرے بھائیو!

مومن کی بھلائی کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، ایسا کرنا بھی نیکی ہے اور ایسا کرنے والا ایک بھلے کام میں مصروف رہتا ہے۔

میرے بھائیو!

لوگوں کے دلوں میں خوشی پیدا کرنا بھی بھلے لوگوں کی علامت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے جو لوگوں کے حقوق مکمل حد سے زیادہ ادا کر دیتے ہیں، فرمایا:

اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جو حق ادا کر دیتے ہیں اور دوسروں کے دل میں خوشی ڈالتے ہیں، اسے امام طبرانی نے سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

دل کی طرف جانے والا مختصر ترین راستہ بھلے بول کا راستہ ہے۔ فرمان نبوی ہے:

آگ سے بچنے کی کوشش کرو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے سے، اور جو یہ بھی نہ کرسکے وہ بھلے بول ہی کے ذریعے آگ سے بچنے کی کوشش کرے۔ اسے امام بخاری نے عادی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔

مومن اپنی زندگی بڑی خوشی اور ثابت قدمی سے جیتا ہے، کیونکہ اس کا دل اطمینان سے اور نفس سکون اور سینہ ٹھنڈک سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ بہترین اور بھلی زندگی گزارتا ہے۔ اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالی کا یہی وعدہ ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘ (النحل: 97)

نیک زندگی گزارنے کے بعد اللہ تعالی اہل ایمان کو بھلی موت نصیب فرما تا ہے اور انہیں پاکیزہ موت نصیب فرما تا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ اُن متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں “سلام ہو تم پر، جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ (النحل: 32)

یعنی فرشتے انہیں کہتے ہیں کہ تم شرک سے پاکیزہ ہو کر آئے ہو، تمہارے کام اور تمہارے بول بہت اچھے ہیں۔ چناچہ انہیں بہت بھلی موت نصیب ہوتی ہے اور روح بڑی آسانی سے نکل جاتی ہے، انہیں روح نکلنے کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی، موت کی شدت انہیں تنگ نہیں کرتی اور وہ عذاب قبر سے محفوظ رہتے ہیں۔ انہیں فرشتے خوش آمدید کہتے ہیں اور کہتے ہیں: تم پر سلامتی ہو، تاکہ ان کے دل مطمئن ہو جائیں۔ پھر انہیں بشارت دیتے ہیں کہ داخل ہو جاؤ جنت میں اپنے اعمال کی وجہ سے۔

اللہ اکبر! رب کعبہ کی قسم! یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں اور ان کے پاس اللہ تعالی کی بے انتہا نعمتیں ہوں گی۔ فرمان الہی ہے:

’’ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (التوبہ : 72)

اے میرے بھائیو!

جنت میں پاکیزہ اور نیک لوگوں کے ساتھ ان کا امام اور سردار، اشرف المخلوقات، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہوں گے۔ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! زندگی میں بھی آپ بھلے تھے اور موت کے بعد بھی آپ بہت بھلے ہیں۔ اس رب کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اللہ تعالی آپ کو دہری موت کبھی نہ دے گا۔ اسے امام بخاری نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے۔

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرو، ان کی راہ پر چلو، ان کی شریعت پر عمل کرو۔ پاکیزہ زندگی گزارو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔

اے اللہ ہم تم سے بھلائی کا سوال کرتے ہیں برائی سے دور رہنا مانگتے ہیں اے اللہ ہم تجھ سے نیک اور بھلی اور پاکیزہ زندگی مانگتے ہیں اے اللہ ہم کھلے اور چھپے فتنوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں

وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

بھلے لوگوں کی صفات مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ فیصل بن جمیل الغزاوی جمعۃ المبارک 4 ربیع الثانی 1439 ہ بمطابق 22 دسمبر 20...

یا رب تو اپنے فضل سے آنا قبول کر



یا رب تو اپنے فضل سے آنا قبول کر
تیرے سوا نہیں سہارا قبول کر

سوغاتِ فَقر دور سے لایا ہوں میں یہں
وللہ تجھ کو فَقر ہے پیارا قبول کر

تیرے سوا نہیں سہارا قبول کر

الجھا ہے قلب خانہ کعبہ کی زلف میں
تو ملتزم سے سینہ ملانا قبول کر

تیرے سوا نہیں سہارا قبول کر

زمزم ہے رشکِ و کوثر و تسنیم و سلسبیل
زمزم سے دل کی آگ بجھانا قبول کر

تیرے سوا نہیں سہارا قبول کر

ہو رحم تیرا مجھ پہ تو آؤں گا بار بار
اب بھی بلایا تو نے کریما قبل کر

تیرے سوا نہیں سہارا قبول کر

اسود حجر کے چہرے پہ بوسہ ہے خوب تر
بوسہ نہ ہو سکے تو اشارہ قبول کر

تیرے سوا نہیں ہے سہارا قبول کر

آنسو بہا رہا ہوں تیرے گھر کے سامنے
پلکوں  پہ آنسوؤں کا سجانا قبول کر

تیرے سوا نہیں ہے سہارا قبول کر

عرفات کی دعائیں، منیٰ کے نَسک ہیں خوب
قربانیوں کا خون بہانا قبول کر

تیرے سوا نہیں ہے سہارا قبول کر

تیری رضا کے واسطے ماری ہے کنکری
شیطاں کے دل پہ تیر چلانا قبول کر

تیرے سوا نہیں ہے سہارا قبول کر

احرام کے لباس میں ملبوس ہے رضاؔ
دیوانگی کا حال ہے شاہا قبول کر

تیرے سوا نہیں ہے سہارا قبول کر
یارب تو اپنے فضل سے آنا قبول کر

کلام: مفتی رضا الحق











یا رب تو اپنے فضل سے آنا قبول کر تیرے سوا نہیں سہارا قبول کر سوغاتِ فَقر دور سے لایا ہوں میں یہں وللہ تجھ کو فَقر ہے پیارا قبو...

خوشی کا حصول


خوشی کا حصول 

خوشی ہر آدمی  چاہتا ہے -  لیکن مطلوب خوشی کسی کو نہیں ملتی - چنانچہ خوشی عملاً ایک ناقابل حصول چیز بنی ہوئی ہے -  برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے خوشی( happiness ) کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے -  اس میں وہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں خوشی کسی کے لیے قابل حصول نہیں -  اس معاملے میں اسلام نے ایک فطری فارمولا اختیار کیا ہے -  قرآن میں بتایا گیا ہے اطمنان قلب انسان کو صرف اللہ کی یاد( الرعد :28) سے حاصل ہوتا ہے -  یعنی قرآن میں دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا ہے،  مادی لذت( physical pleasure ) اور ذہنی اطمنان( intellectual satisfaction ) -  اللہ کے نقشہ تخلیق کے مطابق،  مادی لذت کامل معنوں میں صرف جنت میں ملے گی -  اس دنیا میں جو چیز مل سکتی ہے، وہ ہے ذہنی اطمنان -  اور وہ بلاشبہ ہر انسان کے لیے قابل حصول ہے - 

ذہنی اطمنان یہ ہے کہ آدمی صورتحال کی معقول توجیہہ دریافت کر سکے -  مثلاً آپ ٹرین پکڑنے کے لیے اسٹیشن گئے -  آپ اسٹیشن پر ٹرین کے مقرر وقت کے مطابق جاتے ہیں -  وہاں پہنچ کر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ٹرین دو گھنٹہ لیٹ ہے -  اگر آپ کو لیٹ ہونے کا سبب معلوم نہ ہو تو آپ پریشان ہو جائیں گے -  لیکن اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ ٹرین کے لیٹ ہونے کا واقعی سبب کیا ہے -  تو آپ مطمئن ہو جائیں گے اور ذہنی سکون کے ساتھ ٹرین کی آمد کا انتظار کریں گے - 

خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے اور آخرت کو انعام کے لیے -  اس لیے موجودہ دنیا میں مادی لذت کسی کو پورے معنوں میں نہیں مل سکتی -  لیکن یہ ممکن ہے کہ آدمی صورتحال کی توجیہہ کر کے ذہنی اطمنان حاصل کر لے -  اسلام کے مطابق خوشی کا فارمولا یہی ہے -  مادی لذت کے معاملے میں آپ یہ کیجئے کہ ملے ہوئے پر قناعت کیجئے -  اور نہ ملے ہوئے کو آخرت کے خانے میں ڈال دیجئے -  اس طرح آپ کا ذہن آزاد ہو جائے گا اور واقعات کی صحیح توجیہہ کر کے آپ ذہنی اطمنان حاصل کر لیں گے - خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق خوشی کے حصول کا یہی قابل عمل فارمولا ہے - 

مولانا وحیدالدین خان

خوشی کا حصول  خوشی ہر آدمی  چاہتا ہے -  لیکن مطلوب خوشی کسی کو نہیں ملتی - چنانچہ خوشی عملاً ایک ناقابل حصول چیز بنی ہوئی ہے -  بر...

اج کی بات ۔۔۔۔۔ 20۔دسمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

ایک کونے میں زبان کٹے، گونگے اور بہرے کی طرح بیٹھ جانا اس شخص سے بہتر ہے جس کو اپنی زبان پر قابو نہ ہو۔

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ

~!~ آج کی بات ~!~ ایک کونے میں زبان کٹے، گونگے اور بہرے کی طرح بیٹھ جانا اس شخص سے بہتر ہے جس کو اپنی زبان پر قابو نہ ہو۔ شیخ سع...

آج کی بات ۔۔۔ 19 دسمبر 2017

~!~آج کی بات ~!~

جس روز مجھے یہ یقین ہو گیا کہ در کھولنا مخلوق کی قدرت سکت و استطاعت میں نہیں. .
 میں نے اس روز سے مخلوق کا در کھٹکھٹانا چھوڑ دیا..


~!~آج کی بات ~!~ جس روز مجھے یہ یقین ہو گیا کہ در کھولنا مخلوق کی قدرت سکت و استطاعت میں نہیں. .  میں نے اس روز سے مخلوق کا در کھٹ...

یہ مکہ کی فضا ہے


یہ مکہ کی فضا ہے

میری قسمت مجھے اللہ نے دکھلا دیا کعبہ
میری قسمت مجھے اللہ نے دکھلا دیا کعبہ

یہ مکہ کی فضا اور میں ہوں
یہاں دار العطا ہے اور میں ہوں


طوافوں میں مگن ہے ایک دنیا
بھلی رسمِ وفا ہے اور میں ہوں

یہ مکہ کی فضا ہے اور میں ہوں
یہی دارالعطا ہے اور میں ہوں


سکوں کیسا یہ زمزم بخشتا ہے
بہم آبِ بقا ہے اور میں ہوں

یہ مکہ کی فضا ہے اور میں ہوں
یہی دارالعطا ہے اور میں ہوں


صفا مروہ کے چکر لگ رہے ہیں
زباں پر ہر دعا ہے اور میں ہوں

یہ مکہ کی فضا ہے اور میں ہوں
یہی دارالعطا ہے اور میں ہوں


میری قسمت مجھے اللہ نے دکھلا دیا کعبہ
میری قسمت مجھے اللہ نے دکھلا دیا کعبہ

اللھم ارزقنا حج بیت الحرام

یہ مکہ کی فضا ہے میری قسمت مجھے اللہ نے دکھلا دیا کعبہ میری قسمت مجھے اللہ نے دکھلا دیا کعبہ یہ مکہ کی فضا اور میں ہوں ی...

آج کی بات ۔۔۔ 16 دسمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

" عزت وقتی طور پر ایک “غیر مستحق” کو بھی مل جاتی ہے ،
 مگر آخرت میں ساری عزت ان لوگوں کا حصہ ہو گی 
جو واقعی اس کا “استحقاق”  رکھتے ہوں۔"

~!~ آج کی بات ~!~ " عزت وقتی طور پر ایک “ غیر مستحق ” کو بھی مل جاتی ہے ،  مگر آخرت میں ساری عزت ان لوگوں کا حصہ ہو گی  جو ...

بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 27-ربیع الاول- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل " ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین ہر مسلمان کا مسئلہ ہے کوئی بھی اسلامی ملک یا  معاشرہ اس مسئلے کو ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل نہیں کر سکتا، ایسا اس لیے ہے کہ مسجد اقصی اور بیت المقدس کا اسلام میں بہت اعلی مقام ہے؛ یہ قبلہ اول، رسول اللہ ﷺ کی جائے اسرا ہے، یہاں ایک نماز کا ثواب مسجد نبوی کے مقابلے میں ایک چوتھائی ہے، یہ جگہ مقام حشر ہے، اس کی تعمیر سلیمان بن داود علیہما السلام نے فرمائی۔ چنانچہ انہی امور کے پیش نظر علمائے کرام اس خطے کے فضائل اور حقوق لوگوں تک پہنچانے کے لیے تسلسل سے کتابیں تحریر کرتے آئے ہیں انہوں نے متعدد کتابوں کے نام اور مؤلفین بھی ذکر کئے۔ بیت المقدس اسلامی دار الحکومت ہے، مسئلہ فلسطین عرب کا نہیں مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور اس چیز کی گواہی الہامی شریعتوں اور عالمی قوانین میں واضح طور پر موجود ہے۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:

تمام  تعریفیں اللہ کےلیے ہیں جس نے مخصوص جگہوں کو بلند مقام عطا فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلی اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے  اور اس کے  رسول ہیں، آپ کو اللہ تعالی نے مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک راتوں رات سیر کروائی، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ 
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ} 
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں [حق و باطل کے مابین] تفریق کی قوت عطا کرے گا، تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے [الأنفال: 29]

ہر مسلمان کے دل میں ایک بہت ہی اہم مسئلہ جا گزین ہے اور وہ ہے مسجد اقصی کا مسئلہ ؛ بیت المقدس قبلہ اول ، حرمین شریفین کے بعد تیسری اعلی ترین مسجد اور سید ثقلین  صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اسرا ہے ۔

یہ عصر حاضر کا ایسا اہم ترین مسئلہ ہے کہ مسلم معاشرے کے ہر فرد  کے ذہن میں ہر وقت اجاگر رہتا ہے؛ چاہے وہ مسلم  معاشرہ بذات خود کسی بھی بحران کا شکار ہو یا ان کے اپنے حالات جس قدر بھی خراب ہوں مسئلہ فلسطین کبھی بھی ذہنوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔

بیت المقدس اور اس کے احاطے میں مسجد اقصی  کا وجود  مسلمانوں کے ہاں عقیدے سے متعلقہ مسئلہ ہے، اس کا مسلمانوں کی تاریخ سے نا قابل فراموش اور گہرا تعلق ہے، بیت المقدس اور مسجد اقصی کے اس تاریخی تعلق کو کسی بھی صورت اسلامی تاریخ سے نکالنا ممکن نہیں؛ کیونکہ  یہ امت کی پہچان  ہے، یہ امت اسلامیہ کی اساسی علامت  اور امت اسلامیہ کے ہاں مقدس مقام ہے۔

بیت المقدس کو یہ مقام حاصل کیوں نہ ہو! اللہ کی کتاب صبح شام ہمیں یاد کرواتی ہیں کہ:
 {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}
 پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصی  کی سیر کروا دی، جس مسجد کے ارد گرد ہم نے برکت فرمائی، تا کہ ہم اپنے بندے کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ [الإسراء: 1]

مسجد اقصی ان تین مساجد میں سے ایک ہے جن کی جانب قرب الہی کی جستجو میں رخت سفر باندھا جا سکتا ہے، ان تینوں جگہوں کی جانب اللہ کا فضل طلب کرنے کے لیے سفر کر سکتے ہیں، جیسے کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث ثابت ہیں۔

سر زمین بیت المقدس محشر [جمع ہونے] اور منشر [دوبارہ زندہ ہونے]کی جگہ ہے؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا  کہتی ہیں کہ: "میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتلائیں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  (وہ جمع ہونے اور زندہ ہونے کی جگہ ہے)  اس روایت کو ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

بیت المقدس کی اسلام میں اتنی فضیلت کیوں نہ ہو! یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اسرا ہے، یہاں سے ہی آپ کو آسمانوں کی جانب لے جایا گیا؛

بیت المقدس کے عظیم فضائل میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی روایت بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس وقت سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالی سے تین دعائیں مانگیں: 1) قوت فیصلہ جو اللہ تعالی کے فیصلوں کے عین مطابق ہو۔ 2) ایسی بادشاہی جو ان کے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ 3) اور اس مسجد میں نماز کی نیت سے آنے والا کوئی بھی ہو وہ جب یہاں سے واپس نکلے تو اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پہلی دو دعائیں تو ان کی قبول  ہو گئیں تھیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی قبول ہو گئی ہو گی)  نسائی، ابن ماجہ نے اسے روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

اسلامی بھائیو!

بیت المقدس اور مسجد  اقصی کی اسلام میں بہت فضیلت اور امتیازی خوبیاں ہیں، انہی خوبیوں نے بہت سے مسلم علمائے کرام کو مجبور کیا کہ صدیوں سے بیت المقدس کی فضیلت ،شان  اور حقوق کے متعلق مستقل تالیفات لکھتے چلے آئیں، چنانچہ اہل علم کی بہت بڑی تعداد نے مسجد اقصی اور بیت المقدس  کی مسلمانوں کے ہاں اہمیت اور فضیلت اجاگر کرنے کے لیے کتابیں لکھیں۔

اسی لیے تمام کے تمام مسلمان چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک اور خطے سے ہو ، وہ کسی بھی جگہ کے رہائشی ہوں، سب مسلمان  کسی بھی ایسے اقدام کو تسلیم نہیں کرتے جو مسئلہ قدس اور مسجد اقصی پر منفی اثرات مرتب کرے؛ کیونکہ یہ اسلامی مقدسات ہیں کسی صورت میں ان کی بے حرمتی کی گنجائش نہیں۔ بلکہ بیت المقدس کے متعلق منفی اقدامات  مسلمانوں کو اپنے مسلّمہ حقوق مزید پر زور طریقے سے مانگنے پر ابھارتے ہیں، ان کے مطالبے اپنے حقوق لینے، ظالم کو روکنے اور مظلوم کی مدد کے مقررہ اصولوں کے عین مطابق ہیں، ان کے یہ مطالبے سابقہ تمام آسمانی شریعتوں اور عالمی دستور میں بھی موجود ہے۔

مسلم اقوام!

امت مسلمہ کے مسائل دھواں دھار تقریروں اور زرق برق نعروں کے ذریعے حل نہیں ہوں گے، مسلمانو! مذمت، اظہارِ تشویش ، احتجاج اور مظاہروں سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا؛ کیونکہ مسلمانوں نے یہ تمام کام پہلے کتنی بار کر لیے ہیں، ماضی میں تسلسل کے ساتھ ان پر عمل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ایسا رد عمل ہوتا ہے جو ظلم نہیں روک پاتا، ان سے نقصانات کا ازالہ نہیں ہوتا، ایسے اقدامات سے مسلح کاروائیوں اور جارحیت میں کمی نہیں آتی، اس لیے مسلمانو! اللہ تعالی کی جانب حقیقی رجوع کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اللہ تعالی کی طرف اخلاص اور گڑگڑا کر رجوع لازمی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے بھر پور کوشش اور محنت بھی ہو۔

امت مسلمہ کی مدد اور فتح دل و جان کے ساتھ دینِ الہی کی مدد سے ہو گی، دین الہی کو تسلیم کر کے اس پر عمل پیرا ہوں اور اسے عملی شکل دیں۔ چنانچہ جس دن بھی امت دین الہی پر عمل پیرا ہو جائے گی، اللہ تعالی کے احکامات اور شریعت کی پابند بن جائے گی، پوری امت اپنے تمام تر عملی اقدامات حقیقی دین  سے حاصل کرے گی کہ جس دین کی بنیاد پر مسجد اقصی کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے تو تب امت  مؤثر علاج  اور مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ} 
اگر تم اللہ [کے دین]کی مدد کرو تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم بنا دے گا۔ [محمد: 7] 

کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ تمام تر صحابہ کرام نے مسجد اقصی کو تب آزاد کروایا تھا جب انہوں نے غلبہ اسلام کیلیے دل و جان سے عملی اقدامات کئے تھے۔

اسلامی بھائیو!

جس دن دلوں پر قرآن و سنت کا راج ہو گا، زندگی کے تمام شعبے عملی طور پر اس کی گواہی دیں گے  تو مسلمان کبھی بھی کمزور اور ذلیل نہیں ہوں گے، انہیں کسی قسم کی پستی اور تنزلی کا سامنا نہیں ہو گا؛ کیونکہ اللہ تعالی نے سچا وعدہ بتلا دیا ہے کہ: 
{وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} 
اور نہ ہی کمزوری دکھاؤ اور غم بھی نہ کرو، اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب ہو۔ [آل عمران: 139]

مسلمان جس وقت بھی اپنی حالت کو اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل طور پر ڈھال لیں گے کہ کسی بھی اعتبار سے کمی باقی نہ رہے، اسلامی تعلیمات کو ہی مکمل طور پر بالا دستی دیں ، ظاہر و باطن ہر طرح سے شریعت پر ہی عمل پیرا ہوں، اسلامی تعلیمات کے سائے تلے اسلام کے لیے زندگی گزاریں جیسے کہ سلف صالحین نے اپنی زندگیاں گزاریں، جیسے کہ صحابہ کرام اور ان کے بعد مسلمانوں نے زندگی گزاری، تو ان کی کوئی بھی کوشش اور کاوش ناکام نہیں ہو گی چاہے حالات کتنے ہی بگڑ جائیں، ان کے راستے میں کبھی اندھیرا نہیں ہو گا چاہے کتنی ہی رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں، شرط یہ ہے کہ  جب تک وہ اسلام پر قائم رہیں، اسلامی احکامات کی پابندی کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سنتوں پر عمل پیرا ہوں اور انہی کو مضبوطی سے تھام کر رکھیں، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا} 
بیشک اللہ تعالی ایمان لانے والوں کا دفاع فرماتا ہے۔ [الحج: 38]

بصورت دیگر جب امت میں شہوت پرستی ، گمراہ کن لہو و لعب، ہوس پرستی، اور شبہات کا راج رہے تو امت پر جارحیت، مصیبتیں اور ہر قسم کی بلائیں اور بحران آتے رہیں گے؛ کیا اللہ تعالی نے ہمیں صاف لفظوں میں نہیں فرمایا: 
{وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ}
 اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے کیے دھرے کی وجہ سے ہے، اور اللہ بہت سی چیزوں سے درگزر فرما لیتا ہے۔[الشورى: 30] 
اسی طرح اللہ تعالی نے غزوہ احد کے متعلق نہیں فرمایا! 
{أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} 
بھلا جب (احد کے دن) تم پر مصیبت آئی تو تم چلا اٹھے  کہ "یہ کہاں سے آ گئی ؟" حالانکہ اس سے دو گنا صدمہ تم کافروں کو پہنچا چکے ہو؟ آپ ان مسلمانوں سے کہہ دیں کہ: یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔[آل عمران: 165]

تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے چاہے وہ کسی بھی منصب پر فائز ہیں کہ اقصی ، بیت المقدس، اور فلسطین جیسے بنیادی مسئلے  کی حمایت میں صرف اسلام کی بنیاد پر کھڑے ہو جائیں، مؤثر انداز میں متحد ہوں، ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھیں کہ جن کی بدولت ثمرات سامنے آئیں اور اہداف پورے ہو سکیں۔
 {وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ}
 تم اقدامات کرو؛  تمہاری پیش قدمی کو اللہ، اللہ کا رسول اور مومنین عنقریب ملاحظہ کر لیں گے۔[التوبۃ: 105]

کسی بھی اقدام کے لیے گہری بصیرت  اور کامل حکمت کا ہونا از بس ضروری ہے کہ انہی دونوں کی بدولت امت اسلامیہ متنوع چیلنجز کا مقابلہ ہر صورت میں کر سکتی ہے۔ اس کے لیے آپس میں تعاون، مدد اور شانہ بشانہ چلیں نہ کہ گالم گلوچ، ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کھول لیں۔ اس طریقے پر عمل کریں تو ظالم کو ظلم سے روکا جا سکتا ہے اور امت اسلامیہ کو فتح اور کامیابی حاصل ہو گی۔

نیز امت کو در پیش مسائل کے لیے گہری نظر و فکر کی ضرورت ہے کہ جن کی بدولت جذباتی بھنور کی بجائے ٹھوس عملی اقدامات سامنے آئیں، متوازن اور بہتر طریقہ کار اپنا کر مخلص کاوشوں کو یکجا کریں، اپنائے گئے ٹھوس موقفوں کو مضبوط طریقے سے مربوط بنائیں، دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں سید الانبیاء  والمرسلین  کی شریعت  کے سائے تلے  اقدامات کریں جو کہ پوری دنیا کو امن و سلامتی، خوشحالی اور امان  کی جانب گامزن کر سکتی ہے۔

نیز اللہ تعالی کے اس فرمان کی تعمیل بھی ضروری ہے:
 {إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ} 
یقیناً یہ تمہاری امت حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری عبادت کرو۔ [الأنبياء: 92]

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! ہمیں تیری طرف کامل صورت میں رجوع کرنے والا بنا، یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! سب مسلمانوں کو تیری طرف کامل صورت میں رجوع کرنے والا بنا، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو صرف انہی کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند فرماتا ہے، یا اللہ! انہیں صرف انہی کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند فرماتا ہے، جن کے ذریعے غلبہ اسلام ممکن ہو، تیرے نیک بندوں کے لیے جو ممد و معاون ہوں، یا حیی! یا قیوم! آمین!!

بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل -  خطبہ جمعہ مسجد نبوی ترجمہ: شفقت الرحمان مغل فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آ...

اور کتنی دیر


جاہ و جلال, دام و درم اور کتنی دیر
ریگِ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر

اب اور کتنی دیر یہ دہشت، یہ ڈر، یہ خوف
گرد و غبار عہدِ ستم اور کتنی دیر

حلقہ بگوشوں، عرض گزاروں کے درمیان
یہ تمکنت، یہ زعمِ کرم اور کتنی دیر

پل بھر میں ہو رہے گا حسابِ نبود و بود
پیچ و خم و وجود و عدم اور کتنی دیر

شام آ رہی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر 

(افتخار عارف)

جاہ و جلال, دام و درم اور کتنی دیر ریگِ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر اب اور کتنی دیر یہ دہشت، یہ ڈر، یہ خوف گرد و غبار عہدِ ستم اور کت...

آج کی بات۔۔ 13 دسمبر 2017


~!~ آج کی بات ~!~

’اگر آپ کے جذبات آپ کے قابو میں نہیں، اگر آپ کو خود آگہی نہیں، اگر آپ پریشان کن جذبات کو منظم نہیں کرسکتے، اگر آپ کے اندر شفقت نہیں، اگر آپ کے تعلقات استوار نہیں۔۔۔ تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنے ذہین ہیں، آپ زیادہ دُور نہیں چل سکیں گے!‘


~!~ آج کی بات ~!~ ’اگر آپ کے جذبات آپ کے قابو میں نہیں، اگر آپ کو خود آگہی نہیں، اگر آپ پریشان کن جذبات کو منظم نہیں کرسکتے، ...

ڈائلاگ (تعارف).. از عمر الیاس

Image result for diamond people
ڈائلاگ (تعارف)

“آپ کیا کرتے ہیں؟”

“ہیرے چُنتا ہوں۔”

“کیسے چُن لیتے ہیں ہیرے؟”

“نظر آ جاتے ہیں۔ مِل جاتے ہیں، دِکھا دیے جاتے ہیں۔”

“پر پہچانتے کیسے ہیں آپ اُنھیں؟”

ہیرا پہچاننا نہیں پڑتا۔ اُسکی چمک، دمک سب بتا دیتی ہے۔ اور، محض اُسکی موجودگی ہی سب کُچھ سجا دیتی ہے۔  سب سے بڑی خصوصیت، جو اُسے ہیرا بناتی ہے، اُسکی مضبوطی ہے۔ ہر طرح کا دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت۔ ہر ہیرا منفرد ہوتا ہے۔ بہت ہی خاص۔ قیمتی۔ کم یاب۔ نایاب۔ اُسکی شفافیت……… “۔

آپ تو یوں بتا رہے ہیں، جیسے وہ کوئی انسان ہو۔ جیتا جاگتا۔ جیسے آپکا کوئی دوست ہو ” ۔”

”   بتایا تھا ناں۔ ہیرے چُنتا ہوں۔” :)

ڈائلاگ (تعارف) از عمر الیاس “آپ کیا کرتے ہیں؟” “ہیرے چُنتا ہوں۔” “کیسے چُن لیتے ہیں ہیرے؟” “نظر آ جاتے ہیں۔ مِل جاتے ہ...

آج کی بات ... 12 دسمبر 2017

~!~ آج کی بات~!~ 

بے تکلفی کے لمحات ہوں یا کمزوروں کے ساتھ تمھارے معاملات،
 یہی وہ دو فیصلہ کن لمحے ہیں جو خدا کی نظر میں تمھارا مقام طے کر دیتے ہیں ۔


~!~ آج کی بات~!~  بے تکلفی کے لمحات ہوں یا کمزوروں کے ساتھ تمھارے معاملات ،  یہی وہ دو فیصلہ کن لمحے ہیں جو خدا کی نظر میں تمھارا...

موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

Image result for holy kaaba and masjid aqsa
 خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹرعبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 20 ربیع الاول 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس" ارشاد فرمایا انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ، دن رات کا آنا جانا اور گرمی سردی یہ سب کچھ اللہ کی نشانیاں ہیں اور اللہ تعالی کے محکم نظام اور دستور کے مطابق ایک وقت تک چلتا رہے گا، اس نظام  میں صرف مشیت الہی کار گر ہے، کسی  دوسرے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ آخر میں انہوں نے بیت المقدس کے متعلق کہا کہ یہ ہر کلمہ گو مسلمان کی جگہ ہے اور مملکت سعودی عرب اپنے دو ٹوک موقف پر قائم ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، اس کے بعد انہوں نے جامع دعا کروائی۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:

"یقیناً تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں جس کے حکم سے زمانہ چل رہا ہے، اسی کے حکم سے صدیاں تسلسل کے ساتھ گزرتی جا رہی ہیں، وہی رات کو دن پر اور دن کو رات پر غلاف بنا دیتا ہے، اسی نے سورج کو ضیا اور چاند کو منور بنایا، اسی نے ان کی منزلیں بنائیں تا کہ تم سالوں کا اور دیگر امور کا حساب رکھ سکو، میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں وہی ثنا اور تعریف کا اہل ہے، میں اس کی بے شمار اور لا تعداد نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے لوگوں کو رضائے الہی کی دعوت دی، اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دین اسلام دے کر بھیجا تا کہ تمام ادیان پر اسلام کو غالب کر دے، چاہے یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار گزرے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام ،آپ کی ہدایات اور سنتوں پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

اللہ کے بندو!

میں تمہیں اور اپنے آپ کو خلوت اور جلوت میں تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ تقوی ہی فانی دنیا میں باعث نجات اور سرمدی آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔

مسلم اقوام!

زمانے کے آنے جانے ، موسموں اور مہینوں کے گزرنے اور دن رات کے تسلسل میں نصیحتیں، عبرتیں، یاد دہانیاں اور نشانیاں ہیں
 {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} 
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور شب و روز کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔[آل عمران: 190]

اللہ کے بندو!

سال کے بدلتے موسم ، جھلسا دینے والی گرمی اور ہڈیو میں گھس جانے والی سردی ؛ یہ سب کچھ اللہ تعالی کی حکمت اور منصوبہ بندی کے تحت معینہ مدت تک کے لیے ہے۔

آپ سب موسم سرما میں داخل ہو چکے ہو، یہ مومنوں کی بہار ،متقی اور عبادات گزاروں کے لیے گلزار ہے، محنت کرنے والوں کے لیے میدان عمل بھی ہے، اللہ تعالی نے ان ایام کی راتوں کو قیام کرنے والوں کے لیے لمبا کر دیا ہے چنانچہ ان کی حالت یہ ہے کہ: 
{ قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ (17) وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} 
وہ رات میں کم ہی سوتے ہیں [17] اور سحری کے وقت میں استغفار کرتے ہیں۔[الذاريات: 17، 18]

نیز ان دنوں کو اللہ تعالی نے روزہ رکھنے والوں کے لیے مختصر بنا دیا ؛ جس کی وجہ سے کامیابی کے متلاشی لوگوں کے لیے یہ کسی غنیمت سے کم نہیں، لہذا ان میں بڑھ چڑھ کر روزے رکھنے چاہییں،
{وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا}
 اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا، اس کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے یا شکر گزار بننا چاہتا ہے۔[الفرقان: 62]

اس لیے تم بھی اپنے لیے نیکیاں کرو اور اللہ سے ڈرو، تا کہ تم پر بھی رحم کیا جائے، نیز ایسے قیمتی مواقع ضائع مت کرو؛ کیونکہ تم سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

جب تمہارے حق میں ہوائیں چلیں تو انہیں غنیمت سمجھو؛ کیونکہ ہوا نے لازمی تھمنا ہے۔ان موقعوں میں عمدہ کارکردگی سے غافل مت رہنا؛ کیونکہ نہیں معلوم کہ کون سی گھڑی سراپا سکون بن جائے

اللہ کے بندو!

لوگ گرمی کی لو اور تپتی دھوپ سے بچتے ہیں تو اسی طرح سردی کی یخ بستہ ہواؤں سے بچنے کے لیے موٹے لباس اور چادریں اوڑھ لیتے ہیں، اس بدلتی صورت حال میں عقلمندوں کے لیے بہت بڑی نصیحت اور عبرت ہے؛ کیونکہ تڑاکے کی گرمی اور شدید سردی جہنم کے دو سانسوں کی وجہ سے ہوتی ہے، جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب شدید گرمی ہو تو نماز کو قدرے ٹھنڈے وقت میں پڑھو؛ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لو کی وجہ سے ہے) نیز ایک اور حدیث میں ہے کہ: (جہنم نے اپنے پروردگار کو شکایت کی اور کہا: "پروردگار! میرا وجود ایک دوسرے کو کھا رہا ہے" تو اللہ تعالی نے جہنم کو دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردی میں اور دوسرا سانس گرمی میں، تو جو شدت کی گرمی یا سخت ترین سردی محسوس کرتے ہوئے اسی وجہ سے ہوتی ہے) متفق علیہ

تو اللہ کے بندو! تمہارا اس جہنم کے بارے میں کیا تصور ہے؟ یہ جہنم اللہ تعالی کی دہکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اس آگ سے انتہائی بڑے بڑے شعلے نکلیں گے ان کا حجم بڑے بڑے محلات جتنا ہو گا، ان کا رنگ زرد سیاہی مائل اونٹوں جیسا ہو گا، یہ آگ گوشت اور ہڈی کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی بلکہ چمڑی کو تباہ کر کے رکھ دے گی، 

اس آگ کو ہزار سال بھڑکایا گیا کہ اس کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر مزید ہزار سال اسے جلایا گیا تو وہ سفید ہو گئی اور اس کے بعد بھی مزید ہزار سال دہکایا گیا تو اس کا رنگ سیاہ ہو گیا، تو اب یہ آگ کالی سیاہ ہے، اس کے انگارے روشنی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے شعلے بجھتے ہیں، اس لیے اس آگ سے بچ جاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔

مسلم اقوام!

نظام کائنات ایک محکم دستور کے مطابق چل رہا ہے، اللہ تعالی کے فیصلے اس دستور میں اٹل ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی ان فیصلوں کے ذریعے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے، اور جسے چاہتا ہے نقصان پہنچا دیتا ہے، تو در حقیقت یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہیں، اس کائنات میں کسی بھی چیز کی کوئی مرضی ، یا تدبیر نہیں چلتی ، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ} 
یہی ہے تمہارا پروردگار اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور جنہیں تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ تو قطمیر کے بھی مالک نہیں ہیں۔[فاطر: 13]

چنانچہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کی طوفان کے ذریعے مدد فرمائی اور اسی طوفان سے ان کی قوم کو غرق کر دیا، ایمان والوں کو آپ کے ساتھ بچا لیا۔

ایسے ہی اللہ تعالی نے سمندر میں موسی علیہ السلام کو گزار کر فتح یاب فرمایا اور فرعون وہیں پر اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہو گیا۔

اسی طرح اللہ تعالی نے ہود علیہ السلام کی قوم کو تیز آندھی کے ذریعے تباہ کیا؛ یہ ایسی تباہ کن اندھیری تھی کہ جس چیز سے گزرتی تو اسے بوسیدہ بنا ڈالتی۔

ایسے ہی صالح علیہ السلام کی اللہ تعالی نے مدد فرمائی تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی قوم کو ایک چیخ کے ذریعے تباہ کر دیا اور وہ کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی نہ رکھ پائے نہ ہی اور کوئی ان کی مدد نہیں کر سکا۔

اس لیے اس کائنات میں رونما ہونے والی تمام تر تبدیلیاں اللہ تعالی کے ہاتھ اور اختیار میں ہیں ، نیز ان اختیارات میں اس کا کوئی شریک بھی نہیں۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ:
 {وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ}
 اور اللہ تعالی کے لیے ہی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ تعالی کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔[النور: 42]

اللہ کے بندو!

سردی میں یخ بستہ موسم مشقت کا باعث ہے، چنانچہ اس مشقت کو شرعی احکام نے نظر انداز نہیں کیا، بلکہ سردی کے پیش نظر جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت عطا فرمائی، بلکہ پانی سے وضو کرنے میں نقصان کا خدشہ ہو تو تیمم کی اجازت بھی دی، اسی طرح اگر قحط سالی ہو تو بارش کے نماز استسقا بتلائی اور ضرورت پڑے تو بارش تھمنے کی دعائیں بھی سکھلائیں۔

ان تمام امور سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مشقت پیدا ہو رہی ہو تو وہاں قدرے آسانی والے احکامات لاگو ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے دینی معاملات میں تشدد نہیں رکھا، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ یہ رخصتیں عیاشی اور آوارگی کے لیے نہیں ہیں۔

اللہ تعالی نے اپنے نبی کے لیے کرۂ ارضی کا درمیانی خطہ اس لیے اختیار فرمایا کہ یہاں جنوبی قطب کی انتہا درجے کی گرمی بھی ہے اور شمالی قطب کی یخت بستہ سردی بھی، ان زمینی حقائق کا تقاضا یہ تھا کہ یہاں کے لوگ طبعی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھال لیں، اور پھر گرم یا سرد دونوں قسم کے خطوں میں جا کر اسلام کا پیغام پہنچائیں۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سخت گرمی اور سردی دونوں کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دلاتے تھے، بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی تربیت بھی دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تاکید فرماتے کہ جتنی محنت اتنی اجرت پاؤ گے، کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑے گا، جنت کو مشقتوں سے گھیرا گیا ہے جبکہ جہنم کو شہوتوں سے گھیرا گیا ہے، نیز ناز و نخرے کے ساتھ نعمتیں نہیں ملتیں۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے ہم پر بے شمار نعمتیں کی ہیں، ہم پر ظاہری اور باطنی نعمتوں کے دریا بہا دئیے ہیں، یہ سب اللہ تعالی کا کرم، فضل اور رحم ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اس لیے ہمیں اپنے آپ کو آسانی ہو یا مشکل ، تنگی ہو یا فراخی، خوش حالی ہو یا بد حالی ہر حال میں صرف اسی کی اطاعت کے لیے مگن کرنا ہو گا۔

یہ بھی ہم پر لازمی ہے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کو اسی کی اطاعت میں استعمال کریں، ہم کوشش کریں کہ ان نعمتوں کو اللہ تعالی کی رضا مندی کے لیے معاون بنائیں، تا کہ یہ چیزیں ہمارے جنت میں جانے کا باعث بن جائیں۔

اللہ کے بندو!

نیکی کرنے والے کو بری موت سے بچا لیا جاتا ہے۔ آزمائشوں اور بلاؤں کو ٹالنے کا سب سے کار آمد ذریعہ اور برکت و اضافے کا سبب یہ ہے کہ غریب لوگوں کی غم خواری کریں؛ خصوصاً ایسے وقت میں جب سردی کا موسم آ چکا ہو؛ 
اس لیے اپنے ضرورت مند بھائیوں کی خبر گیری کریں، سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں کی خبر لیں، پھر اپنے پڑوسیوں کو دیکھیں، اپنے ہم وطنوں کا خیال کریں، اور پھر اس طرح جو قریب تر ہو اس کی مدد کریں۔ نیکی کے اس کام میں کسی بھی چھوٹی نیکی کو حقیر مت جانیں۔

مسلم اقوام!

اپنے ملک اور دیگر اسلامی ممالک کا دفاع یقینی طور پر اسلام ، مسلمانوں اور مسلمانوں کے مال و جان کا دفاع ہے، سب مسلمان ایک عمارت کی مانند ہیں، سب مسلمان ایک امت اور ایک جان ہیں، اگر اس جان کے کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم ہی بخار اور بے خوابی کی سی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اس لیے مسلمانوں کے کسی بھی حصے اور ملک کے خلاف کوئی بھی جارحانہ اقدام تمام کے تمام مسلمانوں کے حقوق کی پامالی ہو گی، اور بیت المقدس نزول وحی کی جگہ ہے، یہاں انبیائے اور رسول مبعوث ہوئے، یہ مسلمانوں کا قبلہ ہے ایک مدت تک مسلمان بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز ادا کرتے رہے ہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اسرا ہے، یہاں آپ کا محراب ہے جہاں آپ نے انبیائے کرام کی امامت کروائی، 
{سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}
 پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے اردگرد ہم نے بہت برکت رکھی ہے، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ [الإسراء: 1]

ہم اللہ تعالی کے وعدوں پر مطمئن ہیں؛ اس لیے دشمن جس قدر بھی مسلط ہو جائیں، فتح ڈٹ جانے والے مؤمنوں کی ہم نوا ہو گی، اور بیت المقدس کا رب اس کی ضرور حفاظت فرمائے گا،
 {وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (105) إِنَّ فِيْ هَذَا لَبَلَاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِيْنَ}
 ہم زبور میں پند و نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے[105] بیشک اس میں عبادات گزاروں کے لیے واضح پیغام ہے۔ [الأنبياء: 105 -106]

یا اللہ! بیت المقدس شریف کی حفاظت فرما، یا اللہ! بیت المقدس اسلام اور مسلمانوں کے حوالے فرما، یا اللہ! بیت المقدس اسلام اور مسلمانوں کے حوالے فرما، یا اللہ! بیت المقدس کو مکاروں کی مکاری اور غاصبوں کی جارحیت سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔ یا اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا۔

آمین یا رب العالمین!!


موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس -  خطبہ جمعہ مسجد نبوی ترجمہ: شفقت الرحمان مغل فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹرعبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان ...

فیس بک تبصرے