بدھ, مارچ 30, 2016

رنگ


تتلی کا سب سے پہلا اسٹیج کسی کو متوجہ نہیں کرتا ہے مگر قدرت نے اس میں اتنے خوبصورت رنگ چھپا کر رکھے اور جب وہ محنت کرتی ہے اور باہر آتی تو اسکے خوبصورت رنگ ہر ایک کو متاثر کرتے ہیں۔
 
ہمارے رب نے ہمیں بھی اسی طرح پیدا کیا بہت سی اچھی صلاحیت ہم میں چھپا رکھی ہیں،
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ کو پہچانیں اپنی صلاحیت کو اجاگر کریں دنیا کے رنگ میں نہ رنگیں بلکہ اپنے رنگوں سے لوگوں کو متاثر کریں۔
 
انکے لیے مثال بنیں!!

سوموار, مارچ 28, 2016

جمعہ, مارچ 25, 2016

محبت زندگانی ہے


بتاؤ کون کہتا ہے, محبت بس کہانی ہے
محبت تو صحیفہ ہے, محبت آسمانی ہے

محبت کو خدارا تم, کبھی بھی جھوٹ مت سمجھو
محبت معجزہ ہے__ معجزوں کی ترجمانی ہے

محبت پھول کی خوشبو, محبت رنگ تتلی کا
محبت پربتوں کی جھیل کا شفاف پانی ہے


محبت اک اشارہ ہے, وفا کا استعارہ ہے
محبت اک ستارہ ہے, فلک کی بیکرانی ہے


زمیں والے! بتاؤ کس طرح سمجھیں محبت کو
محبت تو زمیں پر آسمانوں کی نشانی ہے


محبت روشنی ہے, رنگ ہے, خوشبو ہے , نغمہ ہے
محبت اڑتا پنچھی ہے, محبت بہتا پانی ہے


محبت ماؤں کا آنچل, محبت باپ کی شفقت
محبت رب کی رحمت کا جہاں میں نقش ثانی ہے 


محبت ہے بہن کی اور ہے بھائی کی الفت بھی
محبت کھیلتا بچہ ہے اور چڑھتی جوانی ہے


محبت حق کا کلمہ ہے, محبت چاشنی من کی
محبت روح کا مرہم, دلوں کی حکمرانی ہے


محبت تو ازل سے ہے,محبت تا ابد ہوگی
محبت تو ہے آفاقی,زمانی نہ مکانی ہے


فنا ہو جاۓ گی دنیا, فنا ہو جائیں گے ہم تم,
محبت باقی رہ جاۓ گی,یہ تو جاودانی ہے


محبت کا احاطہ اور کن الفاظ سے ہوگا
محبت تو محبت ہے,محبت زندگانی ہے

جمعرات, مارچ 24, 2016

بدھ, مارچ 23, 2016

میرا ایمان ہے، ہے وہ مردہ ضمیر


تیری ہستی سے ہستی ہماری وطن
جان واری یہ تجھ پر ہماری وطن
میرا ایمان ہے، ہے وہ مردہ ضمیر
عشق سے تیرے جو بھی ہے عاری وطن 


خون دے کر بزرگوں نے ہم پہ کیا
تیری صورت یہ احسان بھاری وطن
کر سکیں گے نہ وہ بال بیکا تیرا
ملت کفر مل جائے ساری وطن
تیرا دشمن نہ بھولے جو نسلوں تلک
ضرب دیں گے اسے وہ قہاری وطن
ہے  تاریخ شاہد، دشمنوں کی تیرے
بار ہا ہم نے گردن اتاری وطن
تو ہے 'امتیاز' کے ہر تخیل کی جاں
تیرے نغموں کا میں ہوں لکھاری وطن
شاعر: امتیاز عالم

منگل, مارچ 22, 2016

سوموار, مارچ 21, 2016

"بہت ٹینشن ہے"


"بہت ٹینشن ہے"

"ابو یحییٰ کی کتاب 'بس یہی دل' سے ایک مضمون"

’’اس ٹینشن میں زندگی بڑی مشکل ہوچکی ہے بھائی، بہت ٹینشن ہے۔‘‘یہ اس گفتگوکا خلاصہ تھا جسے میں پچھلے نصف گھنٹے سے سن رہا تھا۔میں نے گفتگو میں اس لیے مداخلت نہیں کی کہ باتیں ساری ٹھیک تھیں۔ مہنگائی ، بدامنی، سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی، ملکی سا لمیت پر لہراتے خطرات کے سائے، روپے کی گرتی قیمت، اسٹاک ایکسچینج کی بگڑتی صورتحالوغیرہ۔ان کا رونا اگر کوئی شخص روتا ہے تو اس کی تردید کرنے سے کیا حاصل۔
مگر اب میری باری تھی۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی ہر بات سر آنکھوں پر ۔ آپ کی ٹینشن بھی بجا، لیکن میرے چند سوالات کا جواب دیجیے۔مانا مہنگائی بہت ہے، مگر کیا آپ پر فاقے آئے ہیں؟ بدامنی سے بھی انکار نہیں ، مگر کیا آپ کی جان اور اعضا کو کوئی نقصان پہنچا ہے؟ملک کی معاشی صورتحال نازک ہے، مگر آپ کاکاروبار بہرحال بند نہیں ہوااور ملکی سا لمیت کے متعلق پریشان کیوں ہوتے ہیں؟ جو قوم اپنا نصف دھڑ گنواکر بھی اقوام عالم میں سر بلند رہی اسے آئندہ بھی کوئی فیصلہ کن نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ جب یہ حقائق ہیں تو پھر ٹینشن کیسی؟
پھر سوچیے کہ ان سارے حالات کے باوجود آپ کتنی نعمتوں میں جی رہے ہیں۔زندگی اور صحت کی نعمت،اعضا و قویٰ کی نعمت ،اولاد اور گھر کی نعمت،عزت اور عافیت کی نعمت اور ان جیسی نہ جانے کتنی نعمتیں۔ ان نعمتوں کی میں اگر تفصیل شروع کردوں تو صبح سے شام اور شام سے رات ہوجائے گی، مگر ان نعمتوں کی تفصیل ختم نہ ہوگی۔ اور نعمتیں بھی ایسی کہ ایک ایک کے پیچھے آپ دنیا دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔
خدا نخواستہ آپ کے بیٹے کی جان کو کوئی خطرہ لاحق ہوجائے تو آپ کیا نہیں کریں گے؟ آپ سے آپ کی آنکھوں کی روشنی چھین لی جائے تو ان تاریکیوں سے نکلنے کے لیے آپ کیا قیمت نہیں دیں گے؟آپ کی آبرو پر کوئی داغ لگنے لگے تو اسے مٹانے کے لیے آپ اپنا سب کچھ قربان نہیں کردیں گے؟
پھر یہ نعمتیں تنہا آپ ہی پر نہیں ہیں۔پوری قوم کو امن و عافیت دی گئی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں چین میں زلزلہ آیا اور لاکھ لوگ مرگئے۔ میمار(برما) میں طوفان آیا بستیوں کی بستیاں برباد ہوگئیں۔ پڑوسی ملک افغانستان میں جنگ و جدل کے نتیجے میں پورا ملک کھنڈر بن گیا۔ لاکھوں لوگ مرگئے۔مگر آپ کے ہاں خیر ہے۔ وبائیں نہیں پھوٹیں، قحط نہیں پڑا، سیلاب نہیں آیا۔
پھر تاریخ اٹھائیں اور اس کے صفحات پڑھیں کہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ کیا کچھ ہوا ہے۔ خود آپ کی قریبی تاریخ میں 1857کے غدر،بنگال کے قحط، تقسیم ہند ، اور بنگلہ دیش کی علیحدگی کی وہ قیامتیں رقم ہیں جن میں لاکھوں لوگ نہیں کروڑوں لوگ برباد ہوگئے۔ لوگوں کی جان، مال، جائیداد، اولاد اور آبرو سب مٹی میں مل گئے۔آپ کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا ۔
آپ ٹینشن لینا چاہتے ہیں تو ضرور لیں، مگر پہلے ان نعمتوں کا تو شکر ادا کریں جو ذاتی اور قومی حیثیت میںآپ پر کی گئی ہیں۔آپ رب کا شکریہ اداکریں، ٹینشن نہ لیں۔ آپ شکر ادا کریں گے تو لوگو ں کے ساتھ بھی مہربانی سے پیش آئیں گے اور ٹینشن لیں گے تو پھر آپ لازماً دوسروں کو ٹینشن دیں گے۔ پھر آپ خود مسئلہ بن جائیں گے۔ پھر کوئی شخص اپنے مسائل جب گنوائے گا تو ان مسائل میں ایک نام اور شائد سر فہرست نام آپ کا ہوگا۔
شکر کرنا سیکھیے۔اپنی آنکھوں میں احسان مندی کا سرمہ لگائیے۔ اپنی بینائی کو نعمتوں کی یاددہانی سے روشن کیجیے۔ اپنے نفسیاتی وجود کو مثبت سوچ سے معطر کیجیے۔اس سے آپ شکر کریں گے۔ جب آپ شکر کریں گے تو جانتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟آپ دوسروں کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت بن جائیں گے۔اس کے بر عکس جب آپ ٹینشن لیتے ہیں توآپ دوسرے کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔کچھ اور نہیں تو آپ اپنے الفاظ سے دوسروں کے کانوں میں ٹینشن کا زہر انڈیلنے لگتے ہیں۔ یہی عذاب کچھ کم نہیں۔
شکر کیجیے اور نعمت بنئے۔ ٹینشن لے کر عذاب مت بنئے۔مت کہیے کہ بہت ٹینشن ہے۔ یہ کہیے کہ بڑا کرم ہے۔ آپ پر مزید کرم ہوگا۔

جمعرات, مارچ 17, 2016

گہری بات


گہری بات اگر سمجھو تو!!

انسان چار طرح کے ہوتے ہیں.

1- ایک شخص..... جانتا ہے... اور وہ جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے.
( وہ عالم ہے.. اس سے سیکھو)

2- ایک شخص.... نہیں جانتا... لیکن وہ یہ جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا.
( وہ طالب علم ہے.. اسے سکھائو)

3- ایک شخص.. جانتا ہے... لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ جانتا ہے.
( وہ سویا ہوا ہے.. اسے جگائو)

4- ایک.شخص... نہیں جانتا .. اور یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا.
( وہ جاہل ہے... اس سے بچو) 


بدھ, مارچ 16, 2016

منگل, مارچ 15, 2016

موسیقی؟؟

تحریر: محمد عمران
 
بسم اللہ الرحٰمن الرحیم
 
بڑے دنوں سے ایک قریبی دوست کا اصرار رہا ہے کہ موسیقی پر ایک پر مغز تحریر لکھوں۔۔ مگر چند اضافی مصروفیات کے باعث دماغ پر زور دینے سے کترا رہا تھا بہر حال اب ارداہ کرلیا کہ موسیقی پر ایک خصوصی تحریر لکھ دوں تاکہ موسیقی کے دلدادہ حضرات پر واضح ہوجائے کہ کیوں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع کیا ہے۔۔۔ جب میں نے علمِ موسیقی کا مطالعہ شروع کیا تھاتو مجھ پر کئی ایک راز افشا ہوئے جن کا ذکر پھر کبھی کیونکہ پھر مذکورہ موضوع سے باہر نکل جانے کا امکان ہے۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے مجھ سے ایک صاحب دانش نے سوال کیا کہ آپ اسلام کو ایک طرف رکھ کر صرف نفسیاتی نقطہ نظر سے یہ ثابت کریں کہ موسیقی واقعی نقصان دہ چیز ہے۔۔۔ اس نے مجھے ولیم شیکسپئر کے مشہور قول ’’ موسیقی روح کی غذاء ہے‘‘ پر بھی تبصرہ کرنے کو کہا کہ اگر موسیقی نفسیاتی طور پر نقصان دہ یا بری چیز ہوتی تو شیکسپئر جیسے دانشور اسے روح کی غذاء نہ کہتے۔۔۔ ایک طویل مدت تک چونکہ موسیقی سے کافی گہرا تعلق رہا ہے اس لئے اسکے ابطال پر لکھنے کو ایک گہری سوچ و بچار درکار تھی سو انتہائی غور وخوض کے بعد ایک نقطہ پر پہنچنے کی کوشش کی ہے کہ ایک مسلمان کیلئے موسیقی کیوں ممنوع قرار دی گئی ہے۔۔۔ میں یہاں پر موسیقی کا نفسیاتی پوسٹ مارٹم کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔ 
سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ موسیقی ہے کیا چیز؟ موسیقی مرکب ہے سات سروں کا۔۔سا رے گا ما پا دھا نی۔۔۔الاپ کے اساتذہ نے ان سات سروں کو انسانی گلے کے عین مطابق ترتیب دیاہے تاکہ جب ایک خاص الاپ کے ساتھ ان کو ادا کیا جائے تو یہ ایک مخصوص راگ کی شکل اختیار کر لیں آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی گلے کو موسیقی کے اصولوں کے عین مطابق بنایا ہے جبکہ اساتذہ موسیقی نے بھی اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے سات سر ترتیب دئیے ہیں تاکہ جب ان سروں کو ایک خاص ترتیب اور فن سے الاپا جائے تو ایک پیمانہ یعنی راگ سامنے آئے۔۔۔اور جس سے سننے والے پر ایک عجیب وغریب کیفیت طاری ہوجائے۔۔۔پاکستان میں اس فن کے ماہر مرحوم استا دنصرت فتح علی خان جبکہ اسکے علاوہ پٹیالہ گھرانے کے اساتذہ بھی اس فن کے ماہر تھے۔۔یہ لوگ یہی سات سر جب ایک مخصوص فن کے ساتھ گلے سے باہر اگلتے ہیں تو مخاطب عش عش کراٹھتا ہے اور پھراکثریت ان کے اس سحر میں مبتلا ہوجاتی ہے۔۔۔ہم نے اس مضمون میں موسیقی کے پس پست وہ عوامل جاننے ہیں جن کی بدولت لوگ اسکے رسیا ہوجاتے ہیں۔۔۔
چنانچہ ہم یہاں پر موسیقی کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔ علم نفسیات چونکہ ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ علم ہے اور پاکستان میں بہت بعد میں یہ علم متعارف کیا گیا پہلے پہل اس کا سارا لٹریچر انگریزی زبان میں تھا جبکہ فی زمانہ اردو زبان میں بھی اس لٹریچر کا ترجمہ کیا جا رہا ہے۔۔۔مغربی دانشور ولیم شیکسپئر کو بلاشبہ نفسیات میں یدطولیٰ حاصل تھا ان کا مشہور قول "موسیقی روح کی غذاء ہے " انکی ایک سطحی تحقیق کی بدولت منظر عام پر آیا۔۔میں انکے اس قول سے بالکل متفق نہیں ہوں ۔۔۔یہ لوگ چونکہ اسلامی نظریات سے بالکل لاعلم ہوتے ہیں اس لئے یہ لوگ اس قسم کے اقوال پیش کرتے ہیں۔۔۔ان کا یہ کہنا کہ موسیقی روح کی غذاء ہے اس میں انہوں نےکوئی تخصیص نہیں کی گویا روئے زمین پرموجودہر نیک وبد کی روح کی غذاء ہے حالانکہ یہ تو عقل کے بھی خلاف معلوم ہوتا ہے اگر ہم اس قول کا تجزیہ خالصتاً نفسیاتی طور پر کرنےکی کوشش کریں تو یہ بات ہم پر روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ محض ایک قول ہی ہے جسکی کوئی حقیقت نہیں۔۔۔ راقم کا چونکہ کسی وقت میں نفسیات بنیادی مشغلہ رہا ہے ا س لئے مناسب سمجھا کہ موسیقی کا خالصتاً نفسیاتی تجزیہ کیا جائے کہ یہ واقعی روح کی غذاء ہے یا ہماری غلط فہمی۔۔۔۔ علم نفسیات میں جذبات کے علم کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر دو طرح کے جذبات ودیعت کئے ہیں ۔۔۔
 
 1: علوی جذبات۔۔۔
2 : سفلی جذبات
 
  علوی جذبات: جب ہم کسی کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو فوراً ہمیں دماغ یہ اطلاع فراہم کرتا ہے کہ اسکی کوئی مدد کی جائے اور پھر انسان اس مصیبت زدہ انسان کی مدد کیلئے بےتاب ہوجاتا ہے یہی بے تابی انسانی علوی جذبات کی عکاس ہوتی ہے اسکی دوسری مثال اس طرح کہ بحیثیت مسلمان جب کسی شعائر اسلام کی توہین ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے جذبات ایک دم بھڑک اٹھتے ہیں اور بے تابی کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ کسی طرح اس کا سدباب کیا جائے۔۔۔اس علوی جذبات کی امثال آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں محاذ جنگ کے موقع پرصحابہ رضی اللہ عنہم کے ان جذبات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انکے جذبات توحید اور اسلام کی سربلندی کیلئے کتنے بے تاب ہوتے تھے۔۔۔ اس موقع پر صحابی رسول حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کا اعلان جنگ کے موقع پر اپنی اہلیہ کو اچانک تنہا چھوڑ کر محاذ کی طرف جانا علوی جذبات کے اظہار کا ایک بہترین نمونہ ہے۔۔۔ 
 
  سفلی جذبات: سفل عربی زبان میں نچلے کو کہتے ہیں جبکہ یہ لفظ علوی کا متضاد ہے دنیا کے ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے سفلی جذبات رکھے ہیں مگر انکے اظہار پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اگر علوی جذبات کی طرح سفلی جذبات کے اظہار کی تحسین کی جائے تو زمین پر دنگا فساد مچ جائے گا اور لوگ ہوائے نفس میں مبتلا ہوجائیں گے اس لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےان تمام چیزوں سے اپنی امت کو منع فرمادیا جن سے انسان کے سفلی جذبات ظاہر ابھرتےہیں۔۔ اب آیئے موسیقی کی جانب ۔۔۔جب انسان وہی سات سر ایک خاص فن کے ساتھ اپنے گلے سے اگلتا ہے تو انسان تو گانے اور سننے والے دونوں کےسفلی جذبات میں کھلبلی مچ جاتی ہے اور انسان بے خودی کی سی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل بے خبر ہوجاتا ہے ۔۔بس اسی بے خودی کی کیفیت کو شیکسپئر نے روح کی غذاء کا نام دیدیاکیونکہ انسان کو اپنی خبر تو ہوتی نہیں اس لئے اسے یہی بے خودی کو سکون معلوم ہوتی ہے جبکہ اسی سکون کو شیکسپئر نے روح کا سکون کہہ دیا حالانکہ اگر غور کیا جائے تو سب سے بڑی بے سکونی یہی ہے کہ انسان اس موقع پر اپنے آپ سے بے خبر ہوجاتا ہے اب اس سے ایک قدم آگے جب انسان ان سات سروں میں سراپا ڈوب جاتا ہے(یہاں پر سات سروں سے مراد ہر نوع کا گیت وغیرہ ) تو اس کا پورا بدن تھرتھرانے لگتا ہے اور یہاں سے پھر انسان رقص کرنا شروع کردیتا ہے باالفاظ دیگر رقص دراصل سفلی جذبات کا بھرپور اظہار ہے یعنی آجکل جو آپ پاپ میوزک کے نام پر نوجوان نسل کی ہلڑبازی دیکھ رہے ہیں یہی تووہ سفلی جذبات کا اظہار ہے جس سے ہمارے احسن مذہب اسلام نے سخت منع کیا ہے کیونکہ اسلام ہمیں اخلاق سیکھاتا ہے نہ کہ ہمارے اخلاق بگاڑتا ہے رقص کی ایک قسم دھمال بھی ہے جسے صوفیاء کے ہاں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو دھمال بھی سفلی جذبات کے اظہار کا نمونہ ہے لیکن اس میں اور رقص میں معمولی فرق یہ ہے کہ رقص عام رومانوی گیت یاغزلوں پر کیا جاتا ہے اور دھمال صرف صوفیاء کے مناقب میں کہے گئےسررود سے بھرپور الفاظ پر کیا جاتا ہے اور اسے اسلام کے جوڑنے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے ۔۔ ہندوستان کے صوفی سلسلہ چشتیہ کے ہاں یہ دھمال وغیرہ کو خاصی اہمیت حاصل ہے اس لئے تو انہوں نے قوالی وغیرہ کو عبادت میں شمار کیا ہے اگر ان کے اس سرود کی حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی کسی طور سفلی جذبات کے اظہار سے مختلف نہیں۔۔۔ قوالی میں کیا ہوتا ہے ۔۔۔ہامورنیم کا الاپ اور طبلے کی تھاپ جبکہ یہی دونوں آلات تو انسان کے سفلی جذبات کو بھڑکاتے ہیں الفاظ چاہے جتنے پاک اور کسی بڑےبزرگ کی مدح میں کیوں نہ ہوں مگر ان کے ساتھ ان دو آلات کی آمیزش حرمت تک لے جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حسن اخلاق کی تلقین کرنے آئے ہیں نہ کہ وہ ہمارے اخلاق کو گڑبڑ کرنے کیلئے۔۔آپ نےکہیں دیکھا ہوگا کہ دوران قوالی اکثر نام نہاد بزرگ گر جاتے ہیں اور وجد میں آجاتے ہیں۔۔۔تو آئیے ہم یہ بھی جان لیں کہ وجد کی حقیقت کیا ہے ؟کیونکہ ہوسکتا ہےبعض افراد کے ہاں وجد کی کوئی اہمیت ہو ۔۔۔آپ اگر شریعت کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کریں گے تو ٓپ کو وہاں وجد نام کی کوئی دھماچوکڑی نظر نہیں آئے گی جبکہ نفسیاتی طور پربھی اس کی کوئی حقیقت نہیں یہ بھی وہی سفلی جذبات کا اظہار ہے یعنی جب انسان ہارمونیم کے الاپ اور طبلے کی تھاپ پر بے خود ہوجاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے تو صوفیاء کی اصطلاح میں یہ معاذ اللہ خدا تک پہنچ جاتا ہے اور مخلوق سے اس کا تعلق کٹ جاتا ہے حالانکہ یہ سب صریح لغویات ہیں اس قسم کا تصور آپ کو نہ تو اسلام میں کہیں نظر آئے گا بلکہ اس کا کوئی ثبوت نہ توا ٓپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں ملے گا اور نہ آپکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں نظر آئے گااگر یہ کوئی اتنی اہم چیز ہوتی تو ہمیں اسلام اسکے متعلق ضرور بتاتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس کے متعلق ضرور کوئی تلقین کرتے کہ اس طرح سے بھی اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے اگر آج کوئی موسیقی کا رسیا یہ کہہ دے جس طرح کا وجد صوفیا کو قوالیاں سن کرا ٓتا ہے بالکل اس ی طرح کا وجد مجھے فلاں فلاں گیت سن کر بھی آجاتا ہے تو اس موسیقی کے رسیا اور اس صوفی صاحب کی حالت میں قطعاً کوئی فرق نہیں ہوگاکیونکہ موسیقی کی بنیادی برائی یہی کہ وہ انسان کے سفلی جذبات کو ابھارتی ہے اور انسان کو آپے سے باہر کرتی ہے اب کوئی اگر قوالی سن کر آپے سے باہر ہوجائےیا پھر اپنی پسند کا گیت۔۔دونوں کی کیفیت کچھ مختلف نہیں۔۔۔ اسکی مثال اس طرح دی جائے کہ ا ٓج عوام شادی بیاہ پر محفل موسیقی کا پروگرام کیوں بناتے ہیں اس لئےنا کہ وہ خوب دھماچوکڑی مچائیں اور بےدریغ رقص ودھمال کا مظاہرہ کریں آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ لوگ شادی بیاہ میں موسیقی پر رقص کرتےنظرآتے ہیں تو دراصل یہ لوگ اپنے سفلی جذبات کا بھرپور اظہار کررہے ہوتے ہیں اور عوام یہی سمجھتی ہے کہ شادی بیاہ کا موقع ہےکچھ برا نہیں کہ لوگ ناچ رہے ہیں۔۔۔حالانکہ اس میں سب بڑی قباحت یہی کہ یہ سر انسان کو بے خود کردیتا ہے اور اسے آپے سے باہر کرلیتا ہے ۔۔۔ آپ اگر اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کاملہ کا بغور مطالہ کریں توا ٓپ کو کہیں بھی یہ نہیں ملے گاا ٓپ نے یاا ٓپکے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کبھی رقص وغیرہ کیا ہو حالانکہ شادیاں توا ٓپ کی بھی ہوئیں ہیں آپکے صحا بہ کی بھی ہوئیں ہیں مگر انہوں کبھی اس قبیح فعل کو اختیار نہیں کیا چہ جائیکہ اسے اسلام سمجھا جائے۔۔۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس لئے موسیقی کے قریب جانے سے روک دیا کہ یہ سفلی جذبات کو ابھارتی ہے اور اس سے انسان مست ہوجاتا ہے اور یہ مستی پھر خدانخواستہ زنا یا شراب جیسےکسی بھیانک نتیجہ پر لے جاتی ہے جو ستم بالائے ستم سے کسی طور کم نہیں۔۔ اکثر لوگ دوران موسیقی زنا یا پھر شراب پینے کو ترجیح د یتے ہیں تاکہ موسیقی کا لطف دوبالا کیا جا سکے۔۔۔اب بتائیے کہ یہ کیسے روح کی غذاء ہوگئی ؟ بلکہ یہ تو روح کیلئے سم قاتل ٹھہری چہ جائیکہ روح کی غذاء۔۔۔البتہ یہ شیطانی روح کی غذاء ضرورہوسکتی ہے انسانی روح کی نہیں۔۔۔اگر یہ روح کی غذاء ہوتی تو اسلام اس سے کبھی بھی ہمیں نہ روکتا بلکہ اس کے کرنے کی اجازت ہوتی۔

منگل, مارچ 08, 2016

خود پر رویا کرو!


كيا تم جانتے ہو تمہيں كب اپنے آپ پر رونا چاہيے؟

جب تم برائى كو ديکھو اور اسکو برا نہ سمجھو، اور جب تم نیکی کو دیکھو تو اسکو حقير جانو
خود پر رویا کرو!
جب تمہاری نماز عبادت سے عادت میں بدل جائے اور راحت کے لمحے سے بد بختى میں۔
خود پر رویا کرو!
اگر اپنے اندر گناہوں کی قبولیت دیکھو اور اس ذات سے مقابلے کی چاہت ديكهو جو تمام غيب كى باتوں كو جاننے والی ہے۔
خود پر رویا کرو!
جب تم عبادت کی لذت محسوس نہ كرسكو اور نہ ہى اطاعت كا لطف۔
خود پر رویا کرو!
جب تم بهر جاتے ہو غموں سے اور تم ڈوب جاتے ہو تفكرات ميں حالانكہ تمہارے اختيار ميں ہے آخر تہائى رات (كى بهلائيوں كو پانا)۔
خود پر رویا کرو!
جب اپنے وقت کو ایسے کام میں برباد کرتےہو جو مفید نہ ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ تمہارا حساب ليا جائےگا پهـر بهى تم غفلت ميں مبتلا ہو۔
خو د پر رویا کرو!
جب تمہاری آنکھ کسی فلم کے مؤثر منظر پر تو آنسو بہاتی ہو ليكن وه قران کریم کی سماعت سے متاثر نہ ہو۔
خود پر رویا کرو!
جب تم زوال پزیر دنیا کے پیچھے تو بھاگنے لگو ليكن الله كى اطاعت میں، کسی سے آگے نکلنے کی کوشش نہ كرو۔
خود پر رویا کرو!
جب تم جان لو کہ تم نے غلط راه اپنا ركهی ہے اور جبکہ کثير عمر تو گزر چکی ہے۔
خود پر رویا کرو!
خوف رکھنے والے کے رونے کی طرح...توبہ كرنے والے...رجوع کرنے والے...اپنے مولا کی رحمت كے امیدوار کے رونے کی طرح۔
اور تم جانتے ہو کہ توبہ كا دروازه كھلا ہوا ہے جب تک روح حلق تک نہيں پہنچ جاتی. 
رویا کرو شاید یہ رونا روح میں سے سکون کو متحرك كر (كے نكال) دے اور دل میں سے غفلت كو اور شايد اسى آنسو ميں رجوع ہو.
 
(منقول) 

سوموار, مارچ 07, 2016

جمعہ, مارچ 04, 2016

باد صبا تیرا گزر گر ہو کبھی سوئے حرم


اِنْ نَلْتِ يَا رِيْحَ الصَّبَا يَوْمًا اِلٰي اَرْضِ الحَرم
بَلِّغْ سَلاَمِيْ رَوْضَةً فِيْهَا النَّبِيُّ المُحْتَرَم
اے بادِ صبا، اگر تیرا گزر سرزمینِ حرم تک ہو
تو میرا سلام اس روضہ کو پہنچانا جس میں نبیِ محترم تشریف فرما ہیں

مَن ذآتُهُ نُورُ الهُديٰ مَنْ وَّجْهُهُ شَمْسُ الضُّحٰي
  مَنْ خّدُّهُ بّدْرُ الدُّجٰي مَنْ كَفُّهُ بّحْرُ الْهَمَمْ
وہ جن کا چہرۂ انور مہرِ نیمروز ہے اور جن کے رخسارتاباں ماہِ کامل
جن کی ذات نورِ ہدایت، جن کی ہتھیلی سخاوت میں دریا
قُرْأنُهُ بُرْهَانُنَا نََسْخاً لاَدْيَانِ مَّضَتْ
اِذْجَاءَنَا اَحْكَامُهُ كُلُّ الصُّحُفِ صَارَ الْعَدَمْ
اُن کا (لایا ہوا) قرآن ہمارے لئے واضح دلیل ہے جس نے ماضی کے تمام دینوں کو منسوخ کر دیا
جب اس کے احکام ہمارے پاس آئے تو (پچھلے) سارے صحیفے معدوم ہو گئے
اَكْبَادُنَا مَجْرُوحَةٌ مِنْ سَيْفِ هِجْرِ الْمُصْطَفٰي
طُوْبيٰ لآهلِ بَلْدَةٍ فِيْهَا النَّبِيُّ المُحْتَشَمْ
ہمارے جگر زخمی ہیں فراقِ مصطفیٰ کی تلوار سے
خوش نصیبی اس شہر کے لوگوں کی ہے جس میں نبیِ محتشم ہیں

جمعرات, مارچ 03, 2016

اذان کی تاثیر


 حمدِ خدا سے تر ہیں زبانیں
کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں
بس اک صدا آرہی ہے برابر
اللہ اکبر اللہ اکبر

محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب کی یہ تحریر پڑھ کر مجھے حرم پاک کی اذان بہت یاد آئی 

تحریر پیش خدمت ہے۔۔۔

ہمارے کچھ مسلمان بھائی ایسے بھی ہیں جن پر اذان کی آواز کوئی اثر نہیں کرتی ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلاح وہی پاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے ۔

آج مختصر سوانح عمری ایک شخص رُونی کی جو سکاٹ لینڈ کا ایک غیر مُسلم رہائشی تھا ۔ اُس کی کبھی کسی مسلمان سے ملاقات بھی نہ ہوئی تھی ۔ اپنی سوانح عمری میں رُونی لکھتے ہیں
میں نے زندگی بھرکبھی اسلام قبول کرنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا اور نہ کبھی کسی مسلمان سے میری ملاقات ہوئی تھی ۔ میں ترکی میں چھٹیاں گذارنے گیا ۔ وہاں اذان کی آواز سنی جس میں اتنی کشش تھی کہ میں ترکی سے اسکاٹ لینڈ کے شہر اینفرینس پہنچتے ہی ایک مقامی کُتب خانے گیا اور قرآن کریم کا انگریزی ترجمے پر مشتمل نسخہ خریدا ۔ میں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا اس نے میری آنکھیں کھول دیں ۔ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہوئے میرے اندر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوگئی ۔ میں نے قرآن کریم کو 3 بار مکمل پڑھا اور ہر بار پہلے کی نسبت زیادہ آگاہی حاصل ہوئی
میں نے اسلام کے بارے میں مطالعے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پرنومسلم حضرات کے بارے میں بھی پڑھا جن کےقبول اسلام کا ہر ایک کا اپنا منفرد سفر تھا مگر ان میں جو چیز مشترک تھی وہ یہ کہ ہر ایک نے اسلام کو شعوری طورپر قبول کیا اور باریک بینی سے مطالعے کے بعد دائرہءِ اسلام میں داخل ہوا

میں نے انٹرنیٹ پر عربی میں نماز کا طریقہ سیکھا اور قرآن کریم کی تلاوت سنی ۔ اسلامی موسیقی سُنی۔ موسیقی میری کمزوری تھی ۔ اس لئے اسلامی موسیقی سے بھی بہت محظوظ ہوا ۔ بہر حال اسلام کے بارے میں حقائق تک پہنچنے میں 18 ماہ کا عرصہ لگا ۔ ڈیڑھ سال کے بعد میں خود کو مسلمان سمجھنے لگا ۔ نماز پنجگانہ شروع کردی ۔ ماہ صیام کے روزے رکھے ۔ حلال وحرام کی تمیزشروع کردی

میرے محلے میں ایک چھوٹی مسجد بھی ہے ۔ میں مسجد پہنچا ۔ اپنا تعارف کرایا اور اندر داخل ہوگیا ۔ مسجد میں موجود تمام لوگ حیران ہوئے ۔ انہوں نےمجھے اسلام کے بارے میں اہم معلومات پرمبنی کُتب دیں ۔ اب میں اس مسجد کے اہم ارکان میں سے ایک ہوں


بدھ, مارچ 02, 2016