اشاعتیں

January, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وظیفے کا کرشمہ

تصویر
وظیفے کا کرشمہ
 (فرح رضوان)

رضیہ بھی ہر روز کی جھک جھک سے تنگ آ چکی تھی۔ اس لیے اپنی بہن کی بات کو بہت دھیان سے سن رہی تھی۔ رضیہ کے میاں کا غصّہ اس سے چھپا ہوا نہیں تھا۔ وہ گھٹی گھٹی رہتی اور بچے سہمے رہتے تھے۔ وہ میاں کے لیے طرح طرح کے کھانے بناتی، وقت پر اسکے کپڑے تیار رکھتی، اس کے رشتے داروں کی خوب خاطر مدارات کرتی، لیکن میاں کی بد مزاجی میں کمی نہ آتی۔ اور گونگی تو وہ بھی نہ تھی۔ سو اس اکثر ظلم کے خلاف بول اٹھتی، اور یوں جھگڑے کی ایک نہ ختم ہونے والی ابتدا ہوجاتی۔ جاننے والوں میں کوئی کہتا کہ نظر لگ گئی ہے۔ کوئی کہتا یہ تو جادو یا بندش کا معا ملہ لگتا ہے۔ انہی خدشات کو ذہن میں رکھ کر اس کی بہن کسی خاتون کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے رضیہ کو اس کے پاس چلنے پر اکسا رہی تھی-
’’بجو! ایمان سے وہ کوئی جعلی پیر نہیں، ایک پیسہ نہیں لیتی، جب سے ہمارے محلے میں آئی ہے کتنے گھروں کے جھگڑے ختم ہو گئے ہیں، بڑی اللہ والی عورت ہے بڑے زبردست وظیفے بتاتی ہے۔‘‘
اور آخر کار اگلے دن دونوں وہاں پہنچ گئیں۔ رضیہ کو زیادہ نہیں بتانا پڑا۔ خاتون خود ہی آگے سے آگے بولے جا رہی تھیں۔ …

دعا کی سائنس

تصویر
دُعا خدا اور بندے کے درمیان مکالمہ کی ایک صورت ہے۔ دعا کے دوران خدا اور بندے کے درمیان قربت کی ایسی صورت پیدا ہوتی ہے جہاں بندہ اپنے دل کا حال بارگاہِ ایزدی میں پیش کردیتا ہے۔   ماہرین نفسیات و سماجیات  اور سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلبی میں بڑی گہری قوتیں پنہاں ہیں۔ ان سے نہ صرف سہارا‘‘ امید اور رفاقت کا احساس ملتا ہے بلکہ امراض کا حیرت انگیز تدارک اور مرض کی صورت میں معجزانہ شفاءبھی حاصل ہوتی ہے۔ دعا ذہنی و جسمانی صحت کو بہتر کرنے میں اہم کردار  اداکرسکتی ہے۔ 
- See more at: http://roohanidigest.net/?p=1701

ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻠﺶ

تصویر
ﻇﺮﻑ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮬﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻠﺶ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ..
 ﻟﻮﮒ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺮﻭﺗﺎﺯﻩ ﮔﻼﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

بنیادی وجہ

تصویر
ہم بولتے بہت ہیں لیکن سوچتے کم ہیں، ہم دوسروں کو تو بتاتے ہیں لیکن خود کو نہیں سمجھاتے، ہم دوسروں کو یاد دلاتے ہیں لیکن خود بھول جاتے ہیں، ہم اچھی باتوں کو دوسروں کے ساتھ شئیر کرتے ہیں مگر اپنے ساتھ شئیر کرنے کی کوشش نہیں کرتے، ہم دوسروں کا احتساب کرنا چاہے ہیں مگر اپنا احتساب نہیں کر پاتے، ہم دوسروں کی لاکھوں گز زمین پر انہیں برائی کے بجائے بھلائی کی فصل کی کاشت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اپنی دو گز زمین پر وہ فصل کاشت نہیں کرنا چاہتے۔ یہی ہماری خرابی کی بنیادی وجہ ہے۔

تحریر: ابو یحییٰ

خوشیاں

تصویر
ﭘﻨﮑﮭﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﺎ، ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﺲ ﺍﺳﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﮑﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﮬﮑﯿﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﻢ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺳﺎﮐﻦ ﻭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ، ﺑﺲ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺂﺧﺬ ﮐﻮ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﮑﺮ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑکھﯿﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔

بت شکن

تصویر
ہر انسان کی زندگی میں کبھی بہ کبھی کوئی بُت شکن ضرور آتا ہے جتنا بڑا مندر ہو گا اُتنا ہی وقت لگے گا ارادوں ،خواہشوں اور عقیدوں کے بُت مسمار کرنے میں ۔ اس لیے جتنی جلدی اپنے بُت خود توڑ لو اچھا ہے ورنہ آخری بُت شکن کا کچھ پتہ نہیں کب آن دھمکے۔ پھر یقین کا بُت تو سلامت رہتا ہے لیکن عمل کی مٹی بھربھری ہو چکی ہوتی ہے۔ انسان سے بڑا سومنات کہیں نہیں،کوئی نہیں ۔ہر بُت شکن کے بعد نئے عزم نئے حوصلے سےپہلے سے بھی زیادہ مضبوط فصیلیں لگا کر عقل وفہم کے بُت تراشتا ہے۔ نہیں جانتا کہ کب جذبات کی منہ زورآندھیاں بُت شکن کی صورت سب کچھ تہہ وتیغ کر ڈالیں۔
!آخری بات
بُت ٹوٹنے کے لیے ہی ہوتے ہیں چاہے خواہشوں کے ہوں یا مٹی کے۔اگر اپنے ہاتھوں سے اُنہیں سنوارکرخود ہی ریزہ ریزہ کردو اوراس مٹی سے چراغ بنا لو تواُن کی روشنی سدا تمہاری روح کو منور کرتی رہے گی ورنہ بُت توٹوٹ ہی جایا کرتے ہیں وقت کی تلوارسے۔ تحریر: نورین تبسم ۔۔۔۔ بت شکن

جنہیں سحر نگل گئی

تصویر
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں

مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ہے
برہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ہے

وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھ گئی
میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ہے

گھرا ہوا ہے ابر مہتاب ڈھونڈتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں

جو رُک سکے تو روک دو یہ سیل رنگ و نور کا
میری نظر کو چاہیے وہی چراغ طور کا

کھٹک رہی ہے ہر کرن نظر میں خار کی طرح
چھپا دیا ہے تابشوں نے آئینہ شعور کا

نگاہِ شوق جل اٹھی حجاب ڈھونڈتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں

یہ دھوپ زرد زرد سی ، یہ چاندنی دھواں دھواں
یہ طلعتیں بجھی بجھی یہ داغ داغ کہکہشاں

یہ سرخ سرخ پھول ہے کہ زخم ہے بہار کے
یہ اوس کی پھوارہے کہ رو رہا ہے آسماں

دل و نظر کے موتیوں کے آب ڈھونڈتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں

جو مرحلوں میں ساتھ تھے وہ منزلوں پہ چھُٹ گئے

جو رات میں لٹے نہ تھے وہ دوپہر میں لٹ گئے

مگن تھا میں کہ پیار کے بہت سے گیت گاﺅں گا
زبان گنگ ہوگئی گلے میں گیت گھٹ گئے

کٹی ہوئی ہے اُنگلیاں رُباب ڈھونڈتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھو…

یہ ذندگی

تصویر
اک زندگی عمل کے لیے بھی نصیب ہو
یہ زندگی تو نیک ارادوں میں کٹ گئی

فاصلہ ۔۔۔۔ ذاتی کاوش

تصویر

آج کی بات --- 07 جنوری 2014

تصویر
ﺟﻨﮓ ﮨﺎﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺟﯿﺘﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﺧﻼﻕ ﮨﺎﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ

دائرے

تصویر
ہم دلوں کے اندازے اس طرح بھی کرتے ہیں
ملنے جلنے والوں سے بے وجہ بھی ڈرتے ہیں

مطمئن بھی رہتے ہیں ، ہے عجب سی الجھن بھی
ڈولتی ہیں دیواریں ناچتا ہے آنگن بھی

چل رہے ہیں مدت سے ، راستہ نہیں کوئی
ربط ہے ہزاروں سے ، رابطہ نہیں کوئی

دھوپ سے شکایت ہے ، چاندنی سے کیا کہئیے
ہر کسی سے کہتے ہیں ، ہر کسی سے کیا کہئیے

یہ بھی ایک بہانہ ہے کس طرف نہیں جاتے
اس طرف بھی جانا ہے جس طرف نہیں جاتے

آنچ جیسی لگتی ہے ، جسم کی یہ برفابی
دھندلکے بناتی ہے ، ہر فضائے مہتابی

سوچتی ہیں یہ آنکھیں ، منظروں میں منظر کو
ڈھونڈتی ہو جیسے موج ، اپنے ہی سمندر کو

ریت پہ بنے پیکر کھیل ہیں لکیروں کے
پانیوں کے اندر ہیں کچھ خواب جزیروں کے

کوئی پھانس جیسی چیز ذہن میں کھٹکتی ہے
روشنی کے اندر سے تیرگی جھلکتی ہے

ہر سکون باطن میں اضطرار جیسا ہے
ارتکاز بھی جیسے انتشار جیسا ہے

دائروں کے اندر بھی دائرے ہی پنہاں ہیں
جسم ہے کہ ساکت ہے اور سائے رقصاں ہیں

خامشی میں گم صم ہے عرضِ حال کی صورت
ہے عروج پر اپنے ہر زوال کی صورت

کیا خیال کیا مضموں ، سب کے سب ہیں لایعنی
حرف حرف بے حرمت لفظ لفظ بے معنی

احمد صغیر صدیقی

نئے برس کی نئی گھڑی میں ۔۔ میری ذاتی کاوش

تصویر

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل