تجدید کے اصول وضوابط ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس) ۔۔۔ 19 اکتوبر 2018


تجدید کے اصول وضوابط 
 خطبہ جمعہ مسجد الحرام  (اقتباس) 
 10 صفر 1440ھ بمطابق 19 اکتوبر 2018ء
مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس حفظہ اللہ
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
بشکریہ: عمر وزیر 

↪ منتخب اقتباس ↩

ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ تعالی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے معافی کا سوال کرتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس کی کامل نعمتوں، اور حیرت انگیز نشانیوں پر اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔
اللہ کی ایسی تعریف بیان کرتے ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں۔ چھپی ہوئی چیزیں بھی اسی کی بنائی ہوئی ہیں اور ظاہر چیزیں بھی اسی کی تخلیق ہیں۔
ہر صبح کی تازہ ہوا کے ساتھ اور بادل سے برسنے والے ہر قطرے کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوتی رہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے ہمیں اپنی واضح شریعت سے مختص فرمایا ہے، یہ شریعت اپنی عظمت اور بلندی کی وجہ سے جہانوں میں پھیل گئی۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہذیبوں کی تعمیر وترقی کا راستہ واضح فرمایا- اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت والی آل، بلندی میں ثریا کے تاروں کو چھونے والے چنیدہ اور نیک صحابہ کرام پر، تابعین اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر بھی پاکیزہ بابرکت اور بے انتہا سلامتی نازل ہوتی رہے۔

اے مسلمانو!

دانش مندوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے، بلکہ بڑی بڑی اور طاقتور تہذیبوں نے بھی یہ گواہی دی ہے کہ ہماری واضح اور روشن اسلامی شریعت نے دنیا کی ظلمات کو نور میں بدل دیا ہے۔ دنیا والوں کے سخت حسد اور شدید کینے کے مقابلے میں بھی اپنے واضح اور ناقابل تبدیل اصولوں کی بدولت قائم رہنے میں کامیاب رہی ہے اور دنیا والوں میں اپنی عظیم رحمت اور بلند اخلاق کا بیج بونے میں کامیاب ہوئی ہے۔ یہ شریعت، انتہائی کشادہ اور وسیع شریعت ہے۔ اس کے پھول اور پتے انتہائی خوشبودار ہیں، شمولیت اور کمال اسکی خاصیتیں ہیں اور یہ لوگوں کی دنیا اور آخرت کے معاملات کو سدھارتی ہے۔ احکامِ شریعت تو صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لیے جاتے ہیں۔ یہ ہمارے دینِ قویم کا عظیم اصول ہے۔ اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے نبیؐ، پھر ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے‘‘
(الجاثیۃ: 18)

اے مسلمانو!
ہماری واضح اور پرنور شریعت، دنیا وآخرت کے حوالے سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے جامع اصولوں سے بھری پڑی ہے۔ اس کی نصوص، اس کے مقاصد، اس کی حکمتوں اور اس کے شاندار قواعد کی بدولت ہی دنیا میں عدل، حکمت، نرمی اور آسانی پھیلی ہے۔ اس میں اجتہادی مسائل اور عصر جدید میں پیش آنے والے نئے مسائل کے احکام بھی موجود ہیں۔ شریعت نے اِن احکام کو بھی واضح کیا ہے اور ایک میزانِ دقیق، طے شدہ معیار اور واضح اصولوں کے مطابق ان میں بھی حلال وحرام کو واضح فرمایا ہے۔ انہی اصولوں پر علمائے اسلام اور مجتہدین امت عمل کرتے رہے ہیں اور انہی اصولوں کی بدولت معاشروں اور افراد کی فلاح وبہبود ممکن ہو سکی ہے، انہیں اپنا کر اجتہادی اور جدید مسائل میں صحیح اور درست رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ شریعت کوئی جامد شریعت نہیں ہے، اس کے احکام خشک، یا بہتری اور ترقی سے مستثنی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ انتہائی لچک دار اور ہر دم ترقی کرنے والی شریعت ہے۔ یہ عصر حاضر کے تقاضوں اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھلنے کے خلاف ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ مسائل اور نتائج میں کمال توازن برقرار رکھتی ہے، طے شدہ اصولوں اور قابل ترمیم احکام کو مدنظر رکھتی ہے، اصول پرستی اور تجدید پر بیک وقت عمل کرتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تجدید بڑا پرکشش لفظ اور معنی خیر کلمہ ہے۔ اس پر عمل کرنے کے لیے بہت بڑی عقل کی ضرورت ہے۔ آیات و احادیث سے احکام نکالنے میں کمال مہارت درکار ہے، مسائل کی فرعی تقسیم، چھوٹے مسائل کو اصولی مسائل کے ساتھ ملانے، فرعی مسائل کو طہ شدہ اصولوں پر ڈھالنے، فقہی اصولوں پر مسائل کو جانچنے اور ہر مسئلے کو شریعت کے مقاصد کے مطابق پرکھنے کی کمال صلاحیت درکار ہے، تاکہ کسی بھی مسئلہ کے متعلق صحیح شرعی حکم صادر کیا جاسکے۔

امام ابو داؤد اور امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ امت کے لیے ہر ایک سو سال کے بعد ایسا شخص ضرور بھیجتا ہے جو اس کے دین کی تجدید کردیتا ہے۔

اے مومنو!
تجدید کے روشن اور جگمگاتے اصول اور پر نور ضوابط ہمارے دین کا حصہ ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ترین اصول یہ ہے کہ تجدید کتاب و سنت کے کسی حصے کے خلاف نہ ہو اور شریعت کے مقاصد میں سے کسی مقصد کی زد پر نہ ہو، کیونکہ تجدید میں اگر کتاب وسنت کی حفاظت کا بھی خیال نہ رکھا گیا اور مقاصد شریعت کو مد نظر نہ رکھا گیا، تو شریعت کی بقا بھی ممکن نہیں رہے گی۔ مقاصد شریعت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ شریعت انہی کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔

امام ابن عاشور علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: شریعت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کا نظام صحیح طرح چل سکے اور لوگوں کے لیے ایسے اصول وضع کیے جائیں جن کی بدولت وہ ہلاکت اور فساد سے محفوظ رہ سکیں۔

تجدید کے بنیادی اصول میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں اہل علم اور اہل حل وعقد ہی ہاتھ ڈالیں، کیونکہ شریعت کے مقاصد کو سمجھنے اور ان کے مطابق مسائل کو ڈھالنے کے لیے ایسے اہل علم کی ضرورت ہے جو اجتہاد میں کمال کی مہارت رکھتے ہوں، دین کی بنیادوں کو ٹھیک طرح سمجھتے ہوں، دین کے اصولوں کو خوب جانتے ہوں اور ہر مسئلے کو شریعت اسلامیہ کے میزان میں ڈال کر جانچ سکتے ہوں۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ تجدید صرف فرعی مسائل میں، دین کے چھوٹے حصوں میں، شرعی مقاصد تک پہنچنے کے طریقوں میں، لفظوں کے چناؤ اور جملے کی ترتیب میں اور اس سے ملتے جلتے احکام میں ہو۔ شرعی مسائل کی ایک خاصیت یہ ہے کہ ان میں بڑی لچک پائی جاتی ہے اور یہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں قابل عمل ہوتے ہیں۔ ان میں ہر انسان کے حالات، زندگی کے بدلتے احوال، معاشروں کے اختلاف، رسم و رواج کے تنوع اور خصوصی حالات کو مدنظر رکھا گیا ہوتا ہے۔ شریعت بھی یہی سمجھتی ہے اور عقلی تقاضا بھی یہی ہے کہ شریعت میں ان تمام چیزوں کا خیال رکھا جائے۔

تجدید کے اصول میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ شریعت کے کسی اہم مقصد کی تکمیل کے لیے کی جائے یا کسی ایسی برائی کو ٹالنے کے لیے کی جائے جس کا آنا یا تو یقینی ہو یا اس کا احتمال بہت زیادہ ہو۔ کیونکہ یہ شریعت کے احکام لوگوں کی دنیا وآخرت سنوارنے کے لیے آئے ہیں۔

اسی طرح تجدید کے لیے ضروری ہے کہ کتاب وسنت کی صحیح اور درست سمجھ کو غلط تشریحات اور تاویلات سے ممتاز کیا جائے۔ آیات واحادیث میں سے شرعی احکام کو اخذ کرنے کے طریقہ کار میں سلف صالحین کے طریقے پر چلا جائے اور اس طریقے کے خلاف جانے والے تمام طریقوں کو شرعی نظر سے دیکھ کر خوب پرکھا جائے اور شریعت سے قریب ترین رائے کو راجح قرار دیا جائے۔

اسی طرح اقدار کے مقاصد کو بھی شریعت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے اور ان کے مفید یا ضرر رساں ہونے کا فیصلہ خواہشاتِ نفس کے مطابق نہیں بلکہ شریعت کے طے شدہ اصولوں کے مطابق کرنا چاہیے۔

امام شاطبی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: جن مصلحتوں سے لوگوں کی زندگی درست ہوتی ہے، انہیں اِن کے خالق اور موجد کے سوا کوئی صحیح طرح نہیں جان سکتا۔ انسان کو اِن مصلحتوں کے بہت تھوڑے پہلوؤں کا علم ہوتا ہے اور جو پہلو اس سے پوشیدہ ہوتے ہیں، وہ معلوم پہلووں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں، جو ایک کام کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ کبھی بھی اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے یا اپنی محنت کا پھل کبھی کھا نہیں پاتے۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے، تو ہمیں چاہئے کہ جس چیز کو شریعت نے مصلحت تسلیم کیا ہے، ہم بھی اسی کو مصلحت تسلیم کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے ہی مصلحت حاصل ہو سکتی ہے۔

اے امت اسلام!

جہاں تک اختلافی مسائل کا معاملہ ہے، تو ان کے حوالے سے ہمارے دل کشادہ ہونے چاہیں، اختلاف کرنے والے اور جن سے اختلاف کیا جائے، دونوں کو رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، دوسرے کو غلط کہنے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔ شریعت میں یہ بات تو طے شدہ ہے کہ جس معاملے میں اختلاف کی گنجائش موجود ہو ان میں اختلاف کرنے والے کو کبھی غلط نہیں کہا جاتا۔ فتویٰ زمانے، علاقے، معاشرے، حالات، عادات وتقالید اور افراد کے لحاظ سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ مگر حکمران کا حکم اختلاف کو ختم کردیتا ہے اور اس کا حکم مصلحت کے مطابق ہی ہوتا ہے۔

اے اہل ایمان!

ان اہم اصولوں کو سمجھنے کے بعد ہمیں چاہیے کہ اسلام کی روشن تہذیب کو اپنانے کی کوشش کریں، جو کہ انسان کی تہذیب اور لوگوں کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ امت کے علماء، حکمرانوں اور دانشمندوں کو دعوت دیں کہ وہ دین کے طے شدہ اصولوں پر قائم رہتے ہوئے احکامِ دین کی تجدید کے لیے چند بنیادی اصولوں پر اتفاق کر لیں۔ سب مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دیں کہ جس کی بدولت امت کو فتنوں سے بچایا جا سکے، اس کے مسائل حل کیے جا سکیں اور اس کی نسل کی جانوں کی حفاظت کی جا سکے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب عالم اسلام کے کچھ علاقوں سے جنگوں اور لڑائیوں کے اسباب کو ختم کر دیا جائے گا۔ فرقہ واریت جیسی برائی اور علاقائی تعصب جیسی مذموم عادت کو جڑھ سے اکھیڑ دیا جائے گا۔ اکثر جھگڑوں، لڑائیوں، بدترین فتنوں اور امت میں عدم استحکام کے پھلاؤ کا سبب ایسے ہی تعصب ہوتے ہیں۔

اسلامی شریعت ہدایت اور استقامت کی شریعت ہے، وسطیت اور اعتدال کی شریعت ہے، رحمت اور رواداری کی شریعت ہے، امن اور استحکام کی شریعت ہے، سکون اور سلامتی کی شریعت ہے۔ فرمان الہی ہے:
’’یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو‘‘
(الانعام: 153)

اے امت ایمان!

اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرنا چاہیے اور ان کا ذکر کرنا چاہیے۔ چناچہ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس ملک کی صورت میں ہمیں ایک شاندار نعمت عطا فرمائی ہے جو شرعی، اخلاقی اور تہذیبی اصولوں پر قائم ہے۔ یہ دوسرے ملکوں کے لیے ایک شاندار نمونہ اور اچھے اخلاق پر قائم رہنے میں ایک بہترین مثال ہے۔ اس لئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں، تعمیر وترقی، اتحاد واتفاق اور اس کی تہذیب پر ہونے والے بدترین حملوں کا مقابلہ کرنے میں اس کے حکمرانوں اور اس کے علماء کے ساتھ کھڑے ہوں۔

یہی وہ ملک ہے جہاں حکمت کے ساتھ بھلائی کی دعوت دی جاتی ہے، یہاں نرمی بھی ہے، درست اور پاکیزہ طریقہ بھی ہے۔ منہجِ حق کی پیروی کا نتیجہ بھی یہی ظاہر ہوا ہے، یہاں بردباری اور علم کے راستے بھی روشن ہے۔

ہم انصاف پسند لوگوں کے موقف کو، عقل وحکمت پر مبنی بیانات کو سراہتے ہیں، جن میں ٹھہراؤ اور حق کا ساتھ دینے کاجذبہ نظر آتا ہے، جو مبنی بر حقیقت ہیں اور جن میں اندازوں اور گمان پرستی سے دوری نظر آتی ہے۔ ایسے انصاف پسند لوگ الزامات اور جھوٹی خبروں کی بنیاد پر کوئی موقف اختیار نہیں کرتے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں‘‘
(فاطر: 43)
اسی طرح فرمایا:
’’اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘
(یوسف: 21)
ایک اور جگہ فرمایا:
’’عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں‘‘
(منافقون: 8)

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! نبی مصطفیٰ اور رسول مجتبیٰ پر درود و سلام بھیجو۔ اللہ تعالی نے آپ کو اسی کا حکم دیا ہے۔ کلام پاک میں اس کا فرمان ہے:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘
(الاحزاب: 56)

اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ انہیں اپنے نیک بندوں پر رحم کرنے والا بنا۔

تجدید کے اصول وضوابط   خطبہ جمعہ مسجد الحرام  (اقتباس)   10 صفر 1440ھ بمطابق 19 اکتوبر 2018ء مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ...

پریشانیوں سے نکلنے کا نبوی وظیفہ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 26 اکتوبر 2018


پریشانیوں سے نکلنے کا نبوی وظیفہ 
خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)
17 صفر 1440 ۔۔۔ 26 اکتوبر 2018
امام و خطیب: ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ
ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل
بشکریہ: دلیل ویب

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 17 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " پریشانیوں سے نکلنے کا نبوی وظیفہ" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے امت اسلامیہ کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو متنوع بحرانوں سے نکلنے کا راستہ بتلایا اور کہا کہ اگر ہم اللہ تعالی کی بندگی کا حق ادا کر دیں تو ہماری حالت دنیا کی ہر چیز اللہ تعالی کے حکم کے تابع ہونے کی وجہ سے یک لخت ہی بدل سکتی ہے، اس کے لیے انہوں نے ایک اہم ترین ذکر بھی بتلایا اور اس کی معنی خیزی اور اہمیت و فضیلت میں متعدد ثابت شدہ احادیث بھی ذکر کیں، اور مسلمانوں پر زور دیا کہ اپنی زبان کو اس ذکر سے ہمیشہ تر رکھیں، دل سے اس کی تصدیق کریں اور اعضائے جسم پر اس کے اثرات رونما کریں۔

↪ منتخب اقتباس ↩

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہی نیک لوگوں کا ولی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی سب مخلوقات کا معبودِ بر حق ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ تمام انبیائے کرام اور رسولوں کے سربراہ ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو وہی نصیحت اور وصیت کرتا ہوں جو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں ہمیں کی ہے: ۔

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ}
 اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا کرے گا اور ایسا نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے اور تمہیں معاف کر دے گا اور اللہ بخشنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔ [الحديد: 28]

دورِ حاضر میں جہاں فتنوں کی بھر مار ہے، مشکلات بہت زیادہ ہیں، تو تمام پریشانیوں سے نکلنے کے یقینی راستے مسلمانوں کے سامنے رکھنا بہت ضروری ہے، نیز ہمہ قسم کے دکھ اور پریشانیوں سے نجات کے حقیقی اسباب بتلانے کی ضرورت مزید دو چند ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالی کے سامنے اظہارِ عاجزی و انکساری اور سب کچھ اللہ تعالی کے سپرد کرنے کی تعلیمات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد صحابہ کرام کو کی ہوئی نصیحتیں بھی شامل ہیں کہ صحابہ ان پر دل و جان ،قولاً اور فعلاً عمل کریں، اٹھتے بیٹھتے اسی میں رنگے رہیں؛ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسی رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: (تم "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" [نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر ممکن نہیں]کہا کرو؛ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے) بخاری ،مسلم

اسی طرح ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : (مجھے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکیدی نصیحت کی تھی کہ میں زیادہ سے زیادہ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا کروں)

اس ذکر کی وجہ سے بندے کو یہ یقینِ محکم ہو جاتا ہے کہ وہ خود یا کوئی اور بری حالت سے اچھی حالت میں منتقل ہونے کی ذاتی طاقت کا حامل نہیں ہے، بندہ اپنا کوئی بھی کام تنہا مکمل نہیں کر سکتا، کسی بھی ہدف کو پانے کے لیے انتہائی مضبوط ، بلند و بالا اور عظمت والی ذات باری تعالی کی جانب سے قوت کا ملنا ضروری ہے۔

جس وقت یہ ذکر انسانی زبان پر جاری ہو تو عین اس وقت دل عظیم الشان ذات کی وحدانیت کا اقرار کر رہا ہوتا ہے، اس کے اعضا بھی اللہ تعالی کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں؛ کہ اسی سے مدد، کامیابی، تنگی سے نکلنے کا راستہ اور خوشحالی طلب کی جاتی ہے؛ فرمانِ باری تعالی ہے: 
{سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا}
 عنقریب اللہ تعالی مشکل کے بعد آسانی فرما دے گا۔ [الطلاق: 7]

اس وظیفے اور اللہ تعالی کی دائمی اطاعت گزاری کے باعث فلاح ،کامیابی ، خلاصی اور نجات ملتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}
 اے ایمان والو! جب تمہارا کسی دشمن سے ٹکراؤ ہو تو اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرو، تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔[الأنفال: 45]

یہ ذکر ہر مسلمان کو اپنی حقیقی زبان اور زبانِ حال دونوں سے ہر وقت کرتے رہنا چاہیے؛ کیونکہ حقیقت میں یہی عقیدہ توحید کا جوہر ہے کہ انسان ظاہری و باطنی ہر اعتبار سے ہمہ وقت اللہ تعالی کے سامنے متواضع رہے، اسی سے تعلق ہو، اللہ تعالی کے سوا کسی سے بھی قوت و طاقت کی وصولی مسترد کر دے۔

اللہ کے بندو!

یہ عظیم واقعہ سنو! اس میں واضح ترین دلیل ہے کہ عقیدہ توحید کی طاقت کے ذریعے بڑی سے بڑی مشکل بھی آسان ہو جاتی ہے، اور سخت ترین پریشانیاں چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہوں وہ بھی مندمل ہو جاتی ہیں۔

یہ واقعہ متعدد مفسرین اور دیگر اہل علم نے بیان کیا ہے اور اس کی سندیں کم از کم حسن درجے کی ہیں، واقعہ یہ ہے کہ : عوف بن مالک اشجعی کے بیٹے سالم کو مشرکوں نے قید کر لیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:" اللہ کے رسول! میرے بیٹے کو دشمنوں نے قید کر لیا ہے اور گھر میں بھی فاقہ کشی ہے"، تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آل محمد کے پاس بھی کل شام تک ایک مد [دنوں ہاتھوں کے بھراؤ کے برابر] غلہ تھا، تقوی اختیار کرو اور صبر سے کام لو اور  "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کثرت سے کہو)، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بیٹے کی ماں کو بھی کثرت سے اس ذکر کا حکم دیا، اس پر انہوں نے عمل کیا، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں ہی تھے کہ ان کا بیٹا واپس آ گیا ، اور دشمن کو پتا بھی نہ چلا، ساتھ میں وہ دشمن کے اونٹ بھی اپنے والد کے پاس لے آئے ان دنوں ان کی مالی حالت بہت پتلی تھی، اس کے با وجود وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیٹے کے بارے میں خبر بتلائی اور یہ بھی بتلایا کہ وہ ساتھ میں دشمن کے اونٹ لے آیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: (تمہیں اختیار ہے ان کا جو مرضی کرو، جیسے تم اپنے اونٹوں کے ساتھ کرتے تھے) اور اس پر یہ آیات نازل ہوئیں:
 {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ
اور جو اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ [2] اور وہ اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔[الطلاق: 2، 3]
 اس واقعے کو ہر وقت اور ہر حالت میں ہماری آنکھوں کے سامنے ہونا چاہیے، یہی وجہ تھی کہ ہمارے سلف صالحین اس پر عمل پیرا رہتے تھے۔

چنانچہ ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے کہ ابو عبیدہ محصور ہو گئے اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جانب لکھ بھیجا کہ: "انسان کو کوئی بھی تنگی لاحق ہو تو اللہ تعالی اس کے بعد فراخی بھی عطا فرما دیتا ہے، نیز ایک تنگی دوہری آسانی پر غالب نہیں آ سکتی، اور ویسے بھی اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}
 خود بھی ڈٹ جاؤ اور دوسروں کو بھی ڈٹنے کی تلقین کرو، مورچوں میں ہمہ وقت تیار رہو اور اللہ تعالی سے ڈرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔[آل عمران: 200]"

یہ ایسے واقعات ہیں جنہیں محض سننے کے لیے ہی گوش گزار مت کریں! بلکہ ہم بھی اسی طرح ان پر عمل پیرا ہوں جیسے ہمارے سلف صالحین نے عمل کر کے دکھایا، اللہ تعالی کے ساتھ مضبوط تعلق بنایا۔

مسلم اقوام:

مشکل کشائی اور پریشانیوں کے خاتمے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ انسان کو جس وقت بہ تقاضائے بشریت نصرتِ الہی میں تاخیر ہوتی نظر آئے اور دعاؤں التجاؤں کے بعد مایوسی چھانے لگے ،قبولیت کے اثرات عیاں نہ ہوں تو پھر اپنے آپ پر نظر ثانی کرے، اور سچی توبہ کرے، مخلص ہو کر اللہ تعالی سے رجوع کرے، بندہ اللہ کے سامنے اظہار انکساری کرے ۔

مسلمانو!

ہر وقت اور ہر آن اس عظیم ذکر کی پابندی کرو؛ کیونکہ اس کے فوائد اور فضائل بہت زیادہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اس دھرتی پر کوئی بھی شخص : "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"  [اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں، اللہ بہت بڑا، اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر ممکن نہیں۔]کہے تو اس کے سارے کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں چاہے سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں) اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا، جبکہ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔

اسی طرح عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص رات کے وقت بیدار ہوا، اور اس نے یہ کہا: "لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"  [اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں، وہ یکتا و تنہا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہی اور تعریفیں اسی کیلئے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، الحمد للہ، سبحان اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اللہ اکبر، نیکی کرنے کی طاقت، اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر نہیں ہے] پھر اس نے کہا: یا اللہ! مجھے بخش دے، یا کوئی اور دعا مانگی تو اس کی دعا قبول ہوگی، اور اگر وضو کر کے نماز پڑھی تو اس کی نماز بھی قبول ہوگی) بخاری

مسلم اقوام!

" لَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"  عقیدہ توحید پر مبنی عظیم دعا اور ذکر ہے، اس دعا میں رب العالمین کی جانب سے سلامتی اور تحفظ کی ضمانت بھی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ : (جو شخص گھر سے نکلتے ہوئے کہے: "بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ وَلَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"   [اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ تعالی پر ہی بھروسا رکھتا ہوں، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر ممکن نہیں۔]تو اسے کہا جاتا ہے: تمہارے لیے اللہ کافی ہے ،تمہیں محفوظ کر دیا گیا ہے اور تمہاری رہنمائی کر دی گئی، نیز شیطان اس سے دور ہٹ جاتا ہے) ابو داود، ترمذی

اس لیے کہ سب کچھ اللہ کے سپرد کر کے ہر چیز اللہ تعالی کے حوالے کرنا اس ذکر کا تقاضا ہے، اور یہ کہ بندے کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، تمام معاملات کی باگ ڈور اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، تمام مخلوقات کے امور اللہ تعالی کے فیصلوں اور تقدیر کے ساتھ منسلک ہیں، کوئی اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کر سکتا اور کوئی بھی اس کے حکم پر نظر ثانی نہیں کر سکتا۔

اب تمہارا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو عبادات میں مشغول رکھو، اللہ کے قریب کرنے والے بھلائی کے کام کرو، دکھ ہو یا سکھ مختلف قسم کے اذکار خوشی غمی ہر حالت میں کرتے رہو؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ : (جس شخص کو یہ بات اچھی لگے کہ اللہ تعالی تنگی ترشی میں اس کی دعائیں قبول کرے تو وہ خوشحالی میں بھی اللہ تعالی سے ڈھیروں دعائیں کیا کرے) کیونکہ دنیا اللہ کے ذکر سے ہی خوش نما بنتی ہے، اور آخرت اللہ تعالی کی معافی کے بغیر آسودہ نہیں ہو گی، جبکہ جنت اللہ کے دیدار کے ساتھ ہی خوبصورت لگے گی۔

ہم اللہ تعالی سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اسی پر بھروسا کرتے ہیں، "وَلَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ"  ۔

ایسے سچے اور مخلص مومن جو توحید پرست، حدودِ الہی کے محافظ ، اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر گامزن ہوں انہیں اللہ تعالی کی خصوصی معیت اور نصرت حاصل ہوتی ہے، اسی معیت کے بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے:
 {إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ}
 بیشک اللہ تعالی متقی لوگوں کے اور اعلی درجے کی عبادت کرنے والوں کے ساتھ ہے۔[النحل: 128]
 ہم یہ آیت بہت بار پڑھتے تو ہیں لیکن یہ حاصل اسی کو ہو گی جو خلوت و جلوت ، خوشی اور غمی میں اللہ کا اطاعت گزار ہو۔

یہ ایسی معیت ہے اسے حاصل کرنے کے لیے مومن ہر قسم کی مشقت اور تکلیف برداشت کر لیتا ہے، ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر گزرتا ہے، اسی معیت کی بدولت اللہ کی مدد اور نصرت حاصل کرتا ہے، تو جس کے ساتھ اللہ تعالی کی معیت اور نصرت ہو تو اس کے ساتھ ناقابل شکست قوت ہے، اس کے ساتھ ہمیشہ بیدار رہنے والا محافظ اور کبھی راہ سے نہ بھٹکنے والا رہنما ہے، اللہ تعالی ہمیں اور آپ سب کو اپنی معیت ، نصرت، حمایت اور تحفظ عطا فرمائے، بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔

اللہ تعالی نے ہمیں ایسے جلیل القدر عمل کا حکم دیا ہے جس سے ہمارے حالات سنور سکتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ ہم کثرت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھیں، یا اللہ! ہمارے حبیب، نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما۔

یا اللہ! مسلمان اور مومن مرد و خواتین کو بخش دے، یا اللہ! تقوی کے ذریعے ہمارا تزکیہ نفس فرما، یا اللہ! ہمارے دلوں کو عقیدہ توحید کی بدولت پاک صاف کر دے، یا اللہ! ہمارے دلوں کو عقیدہ توحید کی بدولت پاک صاف کر دے، یا ذالجلال والا کرام!

ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز ، نیز ہمیں جہنم کے عذاب سے بھی محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ، اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں رب العالمین کے لیے ہیں۔

پریشانیوں سے نکلنے کا نبوی وظیفہ  خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) 17 صفر 1440 ۔۔۔ 26 اکتوبر 2018 امام و خطیب: ڈاکٹر جسٹس حسین بن عب...

قرآن کہانی ..... حضرت ابراہیم علیہ السلام

 قرآن کہانی
حضرت ابراہیم علیہ السلام
تحریر: عمیرا علیم
بشکریہ: الف کتاب ویب

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سفرِ حیات امتحان و آزمائش کا مظہر ہے۔ درحقیقت قرآن مجید میں اللہ تبارک تعالیٰ دنیوی زندگی کو ابتلاء و آزمائش سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’وہ جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو کہ تمہیں آزمائے کہ کون ہے تم میں سے سب سے اچھا عمل کے اعتبار سے۔‘‘ اور اللہ کے جلیل القدر پیغمبروں کی زندگیوں میں صبرواستقلال کے بہت سے ایسے مظاہر ہیں کہ عقل انسانی حیران و پریشان ہے کہ یہ ممکنات میں سے ہے بھی یا غیر ماورائی باتیں ہیں۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ 
’’ہم گروہ انبیاء اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے امتحان کی صعوبتوں میں ڈالے جاتے ہیں۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہاں کفروشرک اور بدی و فتنہ انگیزی کی اجارہ داری تھی۔ بت پرستی عام تھی۔ مشرکین ستاروں، مورتیوں اور سیاروں کی پوجا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک مطلق العنان بادشاہ بھی خدائی دعوؤں کے ساتھ موجود تھا۔ خدائے بزرگ و برتر نے اُن کو عقلِ سلیم اور دانائی کی دولت سے مالا مال کیا۔ اپنا خلیل بنایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور یقیناً ہم نے عطا فرمائی تھی ابراہیم کو دانائی۔ اس سے پہلے ہم ان کو خوب جانتے تھے۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی استقامت کی جانچ پڑتال کا ایک بہت لمبا اور جاں گسل سلسلہ تھا۔ ایک طرف ساری سوسائٹی اور مستحکم نظام اور دوسری جانب ایک ایسا نوجوان جس نے عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے ٹکرلی اور پھر صبرو ثبات، برداشت و حوصلہ مندی اور ایثار و قربانی کی بلند مرتبہ مثالیں پیش کیں۔ گھر بدر ہوئے۔ معبد میں آپ پردست درازی ہوئی، دربار میں پیشی ہوئی، آگ میں ڈالے گئے، ملک بدر ہونا پڑا اور ہجرت کے بعد مسافرت و مہاجرت کی طویل داستان۔ لیکن فکر تھی تو بس توحید کی اور جب امتحان میں کامیاب ٹھہرے تو بشارت ملتی ہے: ’’(اے ابراہیم علیہ السلام) یقیناً میں تجھے پوری نوع انسان کا امام بنانے والا ہوں۔‘‘ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اے اللہ یہ وعدہ صرف مجھ سے ہے یا میری نسل سے بھی ہے!‘‘ جواب دیا گیا: ’’میرا یہ عہد ظالموں کے ساتھ نہیں ہوگا۔‘‘ بے شک آلِ ابراہیم میں سے، جو لوگ نیکوکار اور پرہیزگار تھے، دنیاوی اور آخروی زندگی میں وہی لوگ بلند مرتبے کے حق دار ٹھہرے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیابی تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔

لیکن جب بڑھاپے کے آثار واضح ہونے لگے تو ایک نئی فکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دامن گیر ہوئی۔ اولاد کی نعمت سے محرومی محسوس ہونے لگی اور پریشانی ہوئی کہ اس مشن کی باگ ڈور کوئی سنبھالنے والا نہیں۔ ایک بھتیجے (حضرت لوط علیہ السلام) نے ساتھ ہجرت کی تھی وہ مشرقِ اردن میں دعوتِ توحید میں مشغول تھے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی: ’’پروردگار نیک وارث عطا کر۔‘‘ معجزانہ خداوندی تھی کہ ستاسی (86) برس کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو چاند سے بیٹے سے نوازا۔ 

حضرت سارہ آپ علیہ السلام کی پہلی بیوی تھیں۔ لیکن آپ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کوئی اولاد نہ تھی۔ حضرت سارہ کو اولاد کی چاہ تھی۔ اُنھوں نے اپنی خادمہ حضرت ہاجرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہبہ کردیں۔ آپ علیہ السلام حضرت ہاجرہ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ حضرت ہاجرہ حاملہ ہوگئیں۔ حضرت سارہ کو رشک ہوا اور آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شکایت کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا جوتیری مرضی ہوگی ویسا ہی ہوگا۔
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت ہوتی ہے تو حضرت ہاجرہؑ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ کے کہنے پر ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ جاتے ہیں۔ حضرت ہاجرہ پریشان حال ہیں۔ آپ علیہ السلام واپس جانے کا قصد فرماتے ہیں تو حضرت ہاجرہ آپ علیہ السلام کا دامن تھام لیتی ہیں اور فرماتی ہیں۔ اے ابراہیم! کہاں چھوڑے جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خاموش ہیں۔ آپ بار بار پوچھ رہی ہیں۔ آپ علیہ السلام کی زبان مبارک سے الفاظ نہیں نکلے۔ تب حضرت ہاجرہ پوچھتی ہیں کہ ’’یہ حکمِ خداوندی ہے؟‘‘ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہاں‘‘۔ تب آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دامن چھوڑ دیتی ہیں اور بے اختیار آپ کی زبان سے یہ الفاظ جاری ہوجاتے ہیں: (مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور میں نے اس کی ذات پر توکل کیا)۔ حکمِ ربی جان کر بی بی ہاجرہ اس بے آب و گیاہ وادی میں بسیرا کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں اور اپنے نومولود کے پاس واپس آجاتی ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے آئے اور (ان دنوں) حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلا رہی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے انہیں بیت اللہ شریف کے پاس زمزم کے قریب مسجد کی بلند جگہ بٹھا دیا۔ ان دنوں مکہ میں کوئی شخص بھی نہ تھا اور نہ ہی وہاں پانی کا نام و نشان تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان ماں بیٹے کو وہاں چھوڑ دیا۔ ان کے پاس ایک تھیلا تھا۔ جس میں کچھ کھجوریں تھیں اور ایک پانی سے بھرا مشکیزہ تھا۔ جس میں پانی تھا۔ آپ علیہ السلام نے یہ سامان وہاں رکھا اور واپس پلٹے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ان دونوں سے کچھ فاصلے پر پہنچے تو قبلہ رو ہوکر اپنے رب کی بارگاہ میں ہاتھ اُٹھائے اور دعا فرمائی: ’’اے ہمارے رب! میں نے بسا دیا ہے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں جس میں کوئی کھیتی باڑی نہیں۔ تیرے حرمت والے گھر کے پڑوس میں۔ اے رب! یہ اس لیے تاکہ وہ قائم کریں نماز۔ پس کردے لوگوں کے دلوں کو کہ وہ شوقِ محبت سے ان کی طرف مائل ہوں اور انہیں رزق دے پھلوں سے تاکہ وہ (تیرا) شکر ادا کریں۔‘‘

حضرت ہاجرہ اپنے لاڈلے صاحبزادے کو دودھ پلاتی رہیں اور اپنے پاس موجود پانی اور کھجوروں پر گزارہ کرتی رہیں لیکن بالآخر پانی ختم ہوگیا۔ بچہ بھوک سے بلک رہا ہے۔ ماں بے بس، بے چین و بے قرار۔ بچے کو تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ وہاں سے چل پڑیں۔ قریب ہی صفا کی پہاڑی ہے اُس پر چڑھ جاتی ہیں اردگرد نظر دوڑاتی ہیں شاید کوئی بندۂ خدا نظر آئے اور پانی کی سبیل بنے لیکن بے سود۔ پھر بچے کی محبت میں دوڑ کر واپس آ جاتی ہیں۔ دوسری جانب مروہ کی پہاڑی ہے۔ بے چینی و بے قراری میں وہاں چڑھ جاتی ہیں لیکن تاحدِ نگاہ سنسان بیاباں ہے پھر تیزی سے بچے کی طرف لوٹ آئی ہیں۔ ایسے ہی سات چکر لگ جاتے ہیں۔

ساتویں بار جب آپ مروہ پر پہنچیں تو اچانک آپ کو ایک آواز سُنائی دی۔ دل میں کہتی ہیں ٹھہرو۔ اچھی طرح کان لگا کر سُنتی ہیں تو پھر وہی آواز سُنائی دیتی ہے۔ تب آپ فرماتی ہیں: اے شخص تو نے آواز تو سُنا دی۔ کیا تیرے پاس کوئی چیز فریاد رسی کو ہے۔ اچانک مقام زمزم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے پَر سے زمین پر ضرب لگاتے ہیں تو پانی ظاہر ہوجاتا ہے۔
حضرت بی بی ہاجرہ مٹی سے پانی کے گرد حوض بنانے لگیں اور اپنی چلو میں پانی بھر بھر کر مشک میں ڈالنے لگیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پر رحم کرے۔ اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں (کہ وہ چلو بھر پانی نہ بھرتیں) تو زمزم ایک بڑا چشمہ بن جاتا۔‘‘ حضرت ہاجرہ نے خود پانی پیا اور اپنے نونہال کو دودھ پلایا۔ فرشتے نے آپ سے کہا اپنی ہلاکت کے بارے میں سوچیں بھی مت۔ یہاں اللہ کا گھر ہے۔ جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور یہ نونہال اللہ کے حکم سے تعمیر فرمائیں گے۔

بیت اللہ اردگرد کی زمین سے نمایاں مقام پر تھا۔ سیلاب آتے اور دائیں بائیں سے گزر جاتے۔ حتیٰ کہ ایک دن قبیلۂ جرہم کا قافلہ پاس ہی آٹھہرا۔ اُنہوں نے ایک پرندہ آسمان میں منڈلاتے دیکھا اور خیال کیا کہ آس پاس پانی کی موجودگی کے آثار ہیں۔ کچھ لوگ خبر لینے کو بھیجے گئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک وضع دار خاتون ایک نومولود کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ اُنھوں نے بی بی ہاجرہ سے وہاں قیام کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اجازت مرحمت فرمائی اور کہا کہ پانی پر آپ کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ قبیلۂ جرہم راضی ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت ہاجرہ کے لیے یہ لوگ غنیمت ثابت ہوئے کیوں کہ آپ انسانوں کو چاہتی تھیں۔

درحقیقت مصلحتِ خداوندی یہ تھی کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت بی بی ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بدولت شہر مکہ کو آباد کرنا تھا اور ساتھ اُس کو اپنے خلیل کے گھر کسی بھی قسم کا کوئی جھگڑا مقصود نہ تھا۔ لیکن پہلوٹھی کی اولاد سے جُدائی اور پیاری بیوی سے دوری آزمائشِ خداوندی تھی۔ خلیل اللہ اُس پر راضی ہوئے۔ کیوں کہ وہ صالحین میں سے تھے۔
نومولود مختلف مراحل طے کرکے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا۔ قبیلۂ جرہم سے عربی سیکھی تو وضاحت و بلاغت میں اُن پر بھی سبقت لے گئے۔ آپ صادق الوعدہ اور اللہ کے بھیجے ہوئے نبی بھی تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اکثرو بیشتر اذنِ خداوندی سے بیوی اور بیٹے سے ملاقات کے لیے آتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ تشریف لائے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو زمزم کے کنارے تیر بناتے ہوئے پایا۔ آپ علیہ السلام اپنے محترم والد کو دیکھ کر احتراماً کھڑے ہوگئے اور تعظیم و تکریم بجا لائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اے میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے میرے ذمہ ایک کام لگایا ہے۔ کیا تم میرا ساتھ دو گے؟‘‘ حضرت اسماعیل علیہ السلام فرماں برداری میں اپنی مثال آپ تھے۔ فوراً ہاں کردی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بناؤں اور آپ نے ایک سرخی کی طرف جو اپنے ماحول میں نمایاں تھی اس کی طرف اشارہ کیا۔‘‘

پھر دونوں باپ بیٹے نے مل کر کعبۃ اللہ کی بنیادیں کھڑی کیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر پکڑاتے جاتے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کا گھر تعمیر کرتے جاتے۔ دونوں باپ بیٹوں کی زبانوں سے سے یہ مبارک الفاظ جاری تھے۔ ’’اے ہمارے رب! ہمارا یہ عمل قبول فرما بلاشبہ تو خوب سُننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔‘‘

سبحان اللہ خلیل اللہ معمار اور اللہ تعالیٰ کا ایک جلیل القدر پیغمبر مزدور۔ کیسے پاک ہاتھ ہیں اللہ تبارک تعالیٰ کا گھر تعمیر کرنے والے۔ اسی دنیاوی گھر کو تعمیر کرنے کا صلہ ہے کہ آج حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المعمور پر موجود ہیں۔ بیت المعمور ساتویں آسمان پر عین اُس مقام پر اللہ کا گھر ہے جہاں زمین پر کعبۃ اللہ واقع ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۂ آل عمران میں فرماتے ہیں:۔ ’’بلاشبہ پہلا گھر جو انسانوں کیلئے (اللہ تعالیٰ کا معبدومحور) بنایا گیا ہے وہ یہی (عبادت گاہ) جو کہ مکہ میں ہے۔ وہ برکت والا اور تمام انسانوں کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے اس میں (دینِ حق) کی روشن نشانیاں ہیں۔‘‘

اب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے آزمائش کی گھڑی آپہنچی۔ ایک سوسالہ بوڑھے باپ اور نوجوان بیٹے کے اصل امتحان کے لیے سٹیج تیار ہوگیا۔ بیٹا وہ بھی اکلوتا۔ دعاؤں کا حاصل، فرماں بردار، سلیم الفطرت، حلیم و سعادت مند۔ باپ کے ساتھ دوڑ دھوپ کے قابل ہوچکا بلکہ تعمیر کعبہ میں باپ کا بازوبنا۔ تبھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اپنے لاڈلے فرزند کو ذبح کرنے کا اشارہ دیا گیا۔ درحقیقت یہ ہے اصل اور آخری آزمائش۔

آپ اللہ کے اولعزم اور عالی مرتبہ پیغمبر اور نبی تھے۔ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں۔ اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی رضا کے آگے سر تسلیم خم ہوئے۔ لیکن مسئلہ تنہا اپنی ذات کا نہیں تھا۔ ایک نوجوان بیٹے کا بھی تھا۔ باپ بیٹے کے پاس آئے۔ معاملہ اس کے سامنے پیش کردیا۔ نیک خصلت اور سعادت مند بیٹا فرماتا ہے: ’’اے میرے باپ! آپ کریں جو کچھ آپ کو حکم کیا جاتا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘

اصل مدّعا یہ نہیں تھا کہ بیٹا رضا مندی دے گا تو ابوالانبیاء خواب کو شرمندۂ تعبیر کریں گے۔ درحقیقت صالح نبی اپنے صالح بیٹے کی فرماں برداری کا امتحان لے رہے ہیں اور سعادت مند بیٹا جان قربان کرنے کو تیار ہے اور باپ کی بات پر مہر لگا رہا ہے کہ وہ صرف جسمانی ہی نہیں روحانی اعتبار سے بھی آزمائش پر پورا اُتر رہا ہے اور ان کی دعا قبول ہوئی ہے جو اُنھوں نے رب تعالیٰ سے مانگی تھی کہ ’’اے پروردگار! مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو۔‘‘ اللہ تبارک تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی تھی اور جواب میں فرمایا تھا: ’’ہم نے اس کو حلیم (بُردباد) لڑکے کی بشارت دی۔‘‘ اور پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا۔ مقصد تھا کہ بیٹے کی صورت سامنے نہ رہے اور کہیں فطری محبت عیاں نہ ہوجائے اور بیٹے پر چھری پھیرنے کو تیار ہوگئے۔ امتحان پورا ہوا۔ آپ کو پکارا گیا:
’’اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کردکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی جزا دیتے ہیں۔ یقیناًیہ ایک کُھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا اور اس قربانی کوبہ طورِ یادگار ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں کی خاطر چھوڑ دیا۔ سلام ہے ابراہیم پر۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناًوہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔‘‘

قربانی مقبول ہوئی۔ دریائے رحمت نے جوش مارا اور اللہ نے آسمانوں سے جنتی مینڈھا بھیجا اور اپنے خلیل کو حکم صادر فرمایا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بجائے اس کو قربان کریں۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایک سیاہ آنکھوں اور بڑے سینگوں والا مینڈھا اُترا جو ممیا رہا تھا۔ آپ نے اسے ذبح فرما دیا۔ یہ وہی مینڈھا تھا، جس کی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے حضرت ہابیل نے قربانی کی تھی اور ان کی قربانی اللہ نے منظور کرلی تھی۔‘‘
بہت سے مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ نے خواب میں ابراہیم علیہ السلام کو یہ نہیں دکھایا کہ وہ اپنے فرزند کو ذبح کررہے ہیں بلکہ یہ دکھایا تھا کہ تم ذبح کررہے ہو اور خواب پورا ہوا۔ اصل مقصد فرزندِ ابراہیم کی جان لینا نہیں بلکہ ان کی آمادگی اور رضا مندی کو دیکھنا تھا۔

خدائے بزرگ و برتر اپنے محبوب لوگوں کو آزمائشوں میں ڈالتا ہے آیا کہ وہ اس رتبے کے اہل ہیں یا نہیں۔ درحقیقت وہ ان کی فضیلت اُبھارتا ہے اور لوگوں کو دکھاتا ہے کہ دیکھو میرے بندے صعوبتوں کے پرُ خطر راستوں سے گزرے لیکن ان کے قدم نہ ڈگمگائے اور انعام کے طور پر تا قیامت تعریف و توصیف کے حق دار قرار پائے۔ ممتحنِ امتحان نے اس عظیم قربانی کو کھلی آزمائش اور امتحان قرار دیا اور امتحان میں کامیاب ہونے پر ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے درودِ ابراہیمی جیسا انعام عطا کیا۔ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان نبی آخر الزماں کے ساتھ ساتھ خلیل اللہ پر اور ان کی آل پر درودِ و سلامتی بھیجتے ہیں سلام ہے ابراہیم علیہ السلام پر اور اسماعیل علیہ السلام پر۔ کیسا بلند مقام و مرتبہ پایا ہے ابو حمید الساعدیؓ سے روایت ہے ’’لوگوں نے دریافت کیا۔ یا رسول اللہ ہم آپ پر درود کس طرح پڑھا کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یوں کہو ’’اے اللہ درود بھیج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج و اولاد پر جیسے تو نے درود بھیجی آلِ ابراہیم پر اور برکت ڈال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وولم پر اور ان کی ازواج و اولاد میں جیسے تو نے برکت ڈالی آلِ ابراہیم میں، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگی والا ہے۔‘‘
 اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خوش خبری سنائی، جوکہ بنی اسرائیل کے جدِ امجد ہیں۔

خدائے رحمن نے انسان کو فرشتوں پر فضیلت دی۔ کیوں کہ وہی ذاتِ اقدس پوشیدہ اور ظاہر حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔ یہ عظیم قربانی اس بات کا مظہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خدائے بزرگ و برتر کی اطاعت و فرماں برداری کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور بدلے میں رب العالمین نے قیامت تک کے لیے یہ قربانی امتِ مسلمہ پر لازمی قرار دے دی۔ اب ہر سال کروڑوں مسلمان سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرنے کے لیے عیدالاضحی کے موقع پر اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری وغیرہ کی قربانی کرتے ہیں۔ بیتُ اللہ آج کے مسلمانوں کے لیے رشد و ہدایت کا مرکز ہے۔ لاکھوں مسلمان ہر سال کعبۃ اللہ کا حج کرتے ہیں۔ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے حضرت بی بی ہاجرہ کے اس عمل کی یاد تازہ کرتے ہیں جو اُنھوں نے پانی کی تلاش میں صفاو مروہ میں بھاگتے ہوئے سات چکر لگائے تھے۔

سورۂ صافات میں جب اس عظیم قربانی کا ذکر مبارک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کا نام ان آیات میں درج نہیں۔ مؤرخین نے یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نہیں بلکہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ اہلِ کتاب نے حضرت اسحاق علیہ السلام سے یہ عظیم قربانی منسوب کردی کیوں کہ وہ بنی اسرائیل کے جدِامجد ہیں۔ جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام قریشِ مکہ کے جدِامجد تھے۔ یہودی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں لیکن وہ عربوں سے حسد کی بنا پر غلط بیانی کرتے ہیں۔ قرآنی تعلیمات سے یہ بات واضح ہے اور اس میں الجھاؤ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔

نسلِ ابراہیمی کو جو عزت و توقیر حاصل ہوئی وہ ان کی قربانیوں کا اعجاز ہے، جو اُنھوں نے خدائے ذوالجلال کے حضور دیں اور معتبر ٹھہریں اور وہ ان دنیوی رتبوں اور آخروی عنایات کے مستحق قرار پائے جو محض فخرو انبساط پر نہیں ملتیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ اُمتِ محمدیہ کو قربانی کی اصل روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

❞  قرآن کہانی ❝ حضرت ابراہیم علیہ السلام تحریر: عمیرا علیم بشکریہ: الف کتاب ویب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سفرِ حیات امتحان و...

طلاق کے اسباب اور حل - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 12 اکتوبر 2018


 خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)
امام و خطیب: پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی
ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل
بشکریہ: دلیل ویب

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 04 صفر 1440کاخطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "طلاق کے اسباب اور حل" ارشاد فرمایا جس انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو ایک جان سے پیدا فرما کر ان کے جوڑے بنائے اور کرۂ ارضی کی آباد کاری کے لیے نکاح جیسے نعمت عطا فرمائی اور بد کاری کے راستے بند کیے، پھر انہوں نے زانیوں کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ شادی کے بہت سے فوائد ہیں جبکہ زنا کاری کے اس سے زیادہ نقصانات ہیں۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ طلاق دینے سے معاشرے اور خاندان کا توازن بگڑتا ہے نیز طلاق شیطان کے لیے اعزاز کا باعث بھی بنتی ہے، پھر انہوں نے شادی کو دوام بخشنے کے اسباب میں کہا کہ: حسن معاشرت، اختلافات کا ابتدا میں ہی خاتمہ، دو طرفہ رشتہ داروں کی طرف سے صلح کا اقدام، صبر و تحمل، اپنے چند حقوق سے دستبرداری، بیوی سے غلطی ہونے پر سمجھانا شامل ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی شرحِ طلاق کے اسباب میں بتلایا کہ : بد اخلاقی اور بد زبانی، دو طرفہ رشتہ داروں کی میاں بیوی کے درمیان دخل اندازی ، ایک دوسرے کی حق تلفی، بغیر اجازت گھر سے نکلنا اس کے اسباب میں آتا ہے، پھر انہوں نے طلاق دینے کا شرعی طریقہ بیان کیا اور آخر میں سب کے جامع دعا فرمائی۔

❝ منتخب اقتباس ❞

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے انسانوں اور زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کے جوڑے بنائے نیز ان کے بھی جوڑے بنائے جن کے بارے میں انسان لا علم ہے، اللہ تعالی نے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کا حکم دیا اور فساد سے روکتے ہوئے فرمایا:
 {وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ}
 اصلاح کرو اور فسادیوں کے راستے پر مت چلو۔[الأعراف : 142] 

اللہ تبارک و تعالی نے لوگوں کے لیے مصلحتوں و فوائد کے حصول اور مفاسد و نقصانات سے بچانے کی غرض سے شرعی احکامات جاری کیے، میں اپنے رب کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں اور توبہ و استغفار کرتا ہوں، نیز گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ تمام جہانوں سے مستغنی ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے صادق و امین رسول ہیں ، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔

لوگو! اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل یاد کرو کہ اللہ تعالی نے اتنے مرد و زن ایک جان سے پیدا فرمائے، اور ان کو جوڑے بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً } 
لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے [دنیا میں] بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ۔ [النساء : 1]

اسی طرح فرمایا: 
{هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا}
 وہی تو ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس کے ہاں سکون حاصل کرے [الأعراف : 189]

اس کے بعد اللہ تعالی کا نظام اور شریعت یہ ہے کہ ایک مرد اور عورت شرعی عقدِ نکاح کے ذریعے ایک بندھن میں بندھ جائیں، تا کہ فطری اور انسانی ضروریات ازدواجی تعلقات کے ذریعے نکاح کی صورت میں پوری کریں اور بد کاری سے بچیں۔

چنانچہ نکاح عفت، برکت، افزائش نسل، پاکیزگی، عنایت، قلبی صحت، اور نیک اولاد کی صورت میں لمبی عمر کا راستہ ہے، جبکہ بد کاری اور زنا خباثت، قلبی امراض، مرد و زن کے لیے تباہی، گناہوں، آفتوں، بے برکتی، نسل کُشی اور آخرت میں عذاب کا راستہ ہے۔

ازدواجی زندگی ایسا گھر ہے جو اولاد کی پرورش، دیکھ بھال، اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے، والد کی شفقت اور ممتا کی محبت ایسی نسلیں تیار کرتی ہے جو زندگی کے بار اٹھانے کی صلاحیت رکھے، معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں، معاشرے کو ہر میدان میں تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرے، پدری شفقت اور ممتا کی محبت نئی نسل کی اعلی اخلاقی اقدار کی جانب رہنمائی کرتی ہے اور مذموم صفات سے دور رکھتی ہے، نیز اخروی دائمی زندگی کے لیے نیکیاں کرنے کی تربیت دیتی ہے، چنانچہ چھوٹے بچے انہیں دیکھ کر یا سن کر سیکھتے ہیں؛ کیونکہ وہ خود سے پڑھ کر سبق حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اس بندھن کے ساتھ میاں بیوی کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، بچوں کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، میاں بیوی کے اقربا کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، پورے معاشرے کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، دنیا و آخرت کی اتنی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں جنہیں شمار کرنا ممکن ہی نہیں ، چنانچہ اس بندھن کو توڑنا، اس معاہدے کو ختم کرنا ، اور ازدواجی زندگی کو طلاق سے برخاست کرنا مذکورہ تمام فوائد اور مصلحتوں کو منہدم کردیتا ہے، اس کی وجہ سے خاوند کو بہت ہی زیادہ آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے جس سے دین، دنیا، اور صحت سب متاثر ہوتی ہیں، دوسری جانب بیوی کو خاوند سے کہیں زیادہ آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چنانچہ عورت اپنی زندگی پہلے کی طرح استوار نہیں کر پاتی جبکہ بقیہ زندگی ندامت کے سپرد ہوتی ہے، اور آج کل کے دور میں تو خصوصی طور پر پریشانی ہوتی ہے کیونکہ حالات عورت کے لیے سازگار نہیں ہوتے، بچے اجڑ جاتے ہیں، انہیں بھی سنگین ترین حالات سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ والدین کی سائے میں گزاری ہوئی گذشتہ زندگی سے بالکل الگ تھلگ ہوتے ہیں، لہذا انہیں زندگی میں رنگ بھرنے والی تمام خوشیوں کا دامن چھوڑنا پڑتا ہے، نیز ان سنگین حالات میں ان کے سروں پر ہمہ قسم کے فکری انحراف اور امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات منڈلا رہے ہوتے ہیں، پورا معاشرہ بھی طلاق کے بعد رونما ہونے والے نقصانات سے متاثر ہوتا ہے، چنانچہ قطع رحمی زور پکڑتی ہے، بلکہ طلاق کی جتنی بھی خرابیاں شمار کر لو کم ہیں ۔

 طلاق کے عمومی اور خصوصی مفاسد و نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر غور کریں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابلیس اپنا تخت پانی پر لگا کر اپنے چیلوں کو بھیجتا ہے ؛ اور اس کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے وہی مقرب ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالے ، چنانچہ ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ : "میں نے یہ کیا اور وہ کیا۔۔۔" تو شیطان اسے کہتا ہے کہ : "تو نے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا " پھر ان میں سے ایک اور آ کر کہتا ہے کہ : "میں نے فلاں کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈلوا دی " شیطان اسے اپنے قریب کر کے کہتا ہے: "ہاں !تو ہے کارنامہ سر انجام دینے والا" پھر وہ اسے گلے لگا لیتا ہے) مسلم

آج کل معمولی وجوہات اور وہمی اسباب کی بنا پر طلاق کی شرح بہت بڑھ چکی ہے، بلکہ طلاق کے اسباب میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، ان میں سب سے اہم سبب طلاق کے شرعی احکام سے جہالت اور کتاب و سنت کی تعلیمات سے رو گردانی ہے، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ نے شادی کے بندھن کو مکمل تحفظ اور اہمیت دی ہے کہ مبادا یہ بندھن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، ہوس پرستی کی اندھیریوں سے متزلزل ہو۔

چونکہ طلاق کا سبب خاوند اور بیوی میں سے کوئی ایک یا دونوں ہو سکتے ہیں یا ان میں سے کسی کے رشتہ دار طلاق کا باعث بنتے ہیں تو شریعت نے ہر صورت حال سے نمٹنے کا الگ حل تجویز کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں خاوند کو اس بندھن کی قدر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: 
{ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا}
 اور بیویوں کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم اور زیادتی کے لیے نہ روکو جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ [البقرة : 231]

اور خاوند کو چاہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک، حسن معاشرت سے پیش آئے اور اگر کوئی بات بری بھی لگے تو صبر کرے عین ممکن ہے کہ حالات بہتر سے بہترین ہو جائیں ، یا انہیں اللہ تعالی نیک اولاد سے نوازے اور خاوند کو صبر کرنے پر اللہ تعالی کی طرف سے اجر بھی ملے گا، فرمانِ باری تعالی ہے:
 { وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا} 
اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو مگر اللہ نے اس میں بہت بھلائی رکھ دی ہو [النساء : 19]

میاں بیوی کو اپنے اختلافات شروع میں ہی ختم کر دینے چاہئیں چہ جائیکہ مزید بڑھیں، میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھیں اور پھر ایک دوسرے کی پسند اور نا پسند کا بھر پور خیال کریں، یہ کام بہت ہی آسان ہے اور سب اس سے واقف ہیں۔

صبر اور در گزر بھی ازدواجی زندگی کے دوام اور خوشحالی کا سبب ہے، چنانچہ ایسے میں صبر کا کڑوا گھونٹ لمبے عرصے کی مٹھاس کا باعث بنتا ہے، ویسے بھی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے صبر جیسی کوئی چیز نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ}
 یقیناً صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔[الزمر : 10]

صرفِ نظر اور در گزر زندگی کے لیے لازمی عناصر ہیں، میاں بیوی کو ان کی خصوصی طور پر ضرورت ہوتی ہے، لہذا غیر ضروری یا قابل تاخیر امور سے صرفِ نظر میاں بیوی دونوں کے لیے بہتر ہے؛ کیونکہ دور حاضر میں بہت سے خاوند عیش پرستی پر مبنی مطالبات پورے کرتے کرتے تھک چکے ہیں، پورے حقوق کا مطالبہ ،کسی ایک حق سے بھی عدم دستبرداری اور صرف نظر نہ کرنے کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نفرت اور بغض جنم لیتا ہے۔

ازدواجی زندگی دائمی بنانے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے اخلاق میں شگفتگی پیدا کرے، اور اس کے لیے شریعت کی روشنی میں جائز امور بروئے کار لائے۔

قاضی اور منصفین کی ذمہ داری ہے کہ ان کے پاس آنے والے میاں بیوی کے جھگڑوں میں صلح صفائی کروائیں، تا کہ باہمی اتفاق قائم ہو اور طلاق کے خدشات زائل ہو جائیں۔

خاوند پر بیوی کا حق ہے کہ حسن معاشرت، بیوی کے لیے مناسب رہائش، نان و نفقہ اور لباس کا انتظام کرے، ہر وقت خیر خواہی چاہے، تکلیف مت دے، اور گزند نہ پہنچائے۔

طلاق کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیوی زبان دراز ، بد اخلاق، اجڈ اور گنوار ہو، تو ایسی صورت میں بیوی اپنا اخلاق درست کرے، اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے، اور بچوں کی صحیح تربیت کے لیے خوب محنت کرے، اور خاوند کی صرف وہی بات مانے جو اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث نہ ہو، چنانچہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب کوئی عورت پانچوں نمازیں پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا: جنت کے من چاہے دروازے سے داخل ہو جاؤ) احمد، یہ حدیث حسن ہے۔

طلاق کا یہ بھی سبب ہے کہ میاں بیوی کے دو طرفہ یا یک طرفہ رشتہ دار ان کے درمیان دخل اندازی کریں، اس لیے رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈریں اور صرف اچھی بات ہی کیا کریں۔ ایک حدیث میں ہے کہ : (اللہ تعالی کی ایسے شخص پر لعنت ہے جو کسی کی بیوی کو خاوند کے خلاف یا خاوند کو بیوی کے خلاف بھڑکائے)

بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاوند کے رشتہ داروں کے حقوق بھی ادا کرے اور خصوصی طور پر ساس سسر کا خیال رکھے، اسی طرح خاوند بیوی کے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے، چنانچہ کئی بار کسی ایک کے رشتہ دار کی حق تلفی بھی طلاق کا سبب بن جاتی ہے۔

طلاق کا یہ بھی سبب ہے کہ : حیا باختہ ڈارمہ سیریل دیکھے جائیں یا فحاشی پھیلانے والی ویب گاہیں دیکھی جائیں۔

خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا بھی طلاق کا سبب ہے، چنانچہ بیوی کے لیے خاوند کی اجازت سے ہی باہر جانا جائز ہے؛ کیونکہ خاوند کو معاملات کا زیادہ علم ہوتا ہے۔

تاہم اگر شادی کا بندھن قائم رکھنا ناممکن ہو جائے تو اللہ تعالی نے طلاق دینا جائز قرار دیا ہے اگرچہ یہ ناپسندیدہ عمل ہے، جیسے کہ حدیث میں ہے کہ: (اللہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ ترین حلال چیز طلاق ہے) چنانچہ خاوند مکمل سوچ و بچار کے بعد اللہ تعالی کے حکم کے مطابق شرعی طلاق دے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ} 
اے نبی! جب بیویوں کو طلاق دو تو انہیں عدت گزارنے کے لیے طلاق دو، اور عدت شمار کرو[الطلاق : 1]
 آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مفسرین کہتے ہیں کہ: ایسے طہر میں ایک طلاق دے جس میں جماع نہیں کیا، طلاق دینے کے بعد اگر چاہے تو دوران عدت رجوع کر لے، وگرنہ عدت ختم ہونے دے، جیسے ہی عدت ختم ہو گی زوجیت کا تعلق ختم ہو جائے گا۔

غور کریں کہ شادی کے بندھن کو تحفظ دینے کے لیے شریعت نے کتنی تاکید کی ہے جبکہ دوسری طرف آج کل طلاق کو اتنا ہی معمولی سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ طلاق کے اسباب سے دوری ضروری عمل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} 
اے ایمان والو! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو وہ تو بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم دے گا [النور : 21]

مسلمانو!

کچھ نوجوانوں کی زبان پر طلاق کا لفظ اولاد، اقربا، اور کسی بھی دوسرے شخص کے حقوق کا خیال بالائے طاق رکھتے ہوئے پانی کی طرح جاری ہے، بسا اوقات مختلف مجالس میں تو کبھی ایک ہی مجلس میں کئی بار طلاق دے دیتا ہے، پھر اس کے بعد فتوے تلاش کرتا ہے، بسا اوقات حیلہ بازی بھی کرتا ہے اور کبھی کسی قسم کی گنجائش نہیں ملتی اور بلا سود ندامت اٹھانی پڑتی ہے؛ حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 { وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ } 
جو بھی اللہ سے ڈرے وہ اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے [2] اور اسے ایسی جگہ سے عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔[الطلاق : 2 - 3]

لہذا شرعی طور پر طلاق دینے والے کے لیے اللہ تعالی آسانیوں کے راستے کھول دیتا ہے، نیز شادی کے بندھن کی قدر کرنے والے اور اس کی اہانت سے دور رہنے والے کے لیے اللہ تعالی برکتیں ڈال دیتا ہے، چنانچہ وہ شادی کے اچھے نتائج سے بہرہ ور ہوتا ہے۔

یا اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق بھی عطا فرما، نیز باطل کو ہمیں باطل دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے باطل کو ہمارے لیے پیچیدہ مت بنا کہ مبادا ہم گمراہ ہو جائیں، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ }
 اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90، 91]

صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔

طلاق کے اسباب اور حل   خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) امام و خطیب: پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی ترجمہ: شفقت الرحمٰن م...

آدمی جزیرے ہیں

Image result for man island
آدمی جزیرے ہیں ۔۔۔!


آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بہت کم ہے
بیچ اک سمندر کے
تند خو سی موجوں میں
ان کو ڈوب جانا ہے

آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں پر
زندگی پنپتی ہے
پیڑ کھلکھلاتے ہیں
پھول جگمگاتے ہیں
روشنی اترتی ہے
لیکن ایک دن ان کو
خود ہی ٹوٹ جانا ہے

آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بہت کم ہے
بیچ اک سمندر کے
تند خو سی موجوں میں
لوگ ان جزیروں پہ
گھومنے کو آتے ہیں
چار دن ٹھہرتے ہیں
اور اس پڑاؤ میں
کچھ نئے تعلق بھی
کچھے نئے سے رشتے بھی
روز روز بنتے ہیں
اور ان جزیروں سے
چاہتیں ابھرتی ہیں
پر یہ تلخ سچائی
بھولنے نہیں دیتی
بیچ اک سمندر کے
ریشمی جزیروں کی
زندگی ادھوری ہے
تند خو سی موجوں میں
ان کو ڈوب جانا ہے
اور پھر نہیں آنا

آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کے
پاس سے گزرتی ہیں
کشتیاں وفاؤں کی
مچلھلیاں جفاؤں
تتلیاں ہواؤں کی
کتنے نا خداؤں کی
انگنت صداؤں کی
روز ہی اترتے ہیں
کتنے خوبرو پنچھی
لیکن ان جزیروں کی
زندگی بڑی کم ہے
اور ان جزیروں کو
جلد ڈوب جانا ہے
تند خو سی موجوں میں
وقت کے سمندر میں

آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کو
یاد کس نے رکھنا ہے
ہاں مگر کتابوں میں
ہاں پرانے قصوں میں
بھولی بسری یادوں میں
ہاں کسی مسافر کو
کل یہ یاد آئیں گے
کہ کسی سمندر کی
تند خو سی موجوں میں
ہاں کوئی جزیرہ تھا
وہ جو اسکا اپنا تھا
وہ جو ایک سپنا تھا

آدمی جزیرے ہیں
اور ہر جزیرے کا
ڈوبنا ہی فطرت ہے
وقت کے سمندر کی
اک نئے جزیرے کو
وہ ابھار لاتا ہے
کوکھ سے سمندر کی
زندگی کا یہ منظر
پھر سے سامنے آکر
آسماں کے سائے میں
بے کراں سمندر میں
پھر سے سانس لیتا ہے
کل کوئی جزیرہ تھا
آج وہ نہیں شاید
کل کے اس جزیرے کا
اک نیا تسلسل ہے
اک نیا جزیرہ ہے
وقت کے سمندر میں
اک نئی علامت ہے

آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بہت کم ہے
کل کو ان جزیروں کو
زیر آب آنا ہے
لیکن ان جزیروں نے
وقت کے سمندر کی
لازوال چادر میں
اک نئی کہانی کو
زندگی بنانا ہے

آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بھلے کم ہو
تند خو سی موجوں میں
ان کو ڈوب جانا ہو
وقت کے سمندر میں
زیر آب آنا ہو
پر یہ ان ہواؤں میں
اور ان فضاؤں کے
ایک ایک ذرے میں
اور اس سمندر کی
تند خو سی موجوں میں
کل بھی سانس لیتے تھے
اور آنے والے کل
آنے والے لوگوں کو
ٓمشک بو ہواؤں میں
اور اس سمندر کی
ڈوبتی ابھرتی سی
بے ثبات لہروں میں
تیرتے ہوئے یا پھر
کچھ نئی چٹانوں کی
اور یا کسی سیپی
اور یا کسی گوہر
موج کے کسی جوہر
آنے والے لوگوں کو
یہ کسی بھی ہیت میں
کل دکھائے جائیں گے
آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بہت کم ہے۔

آدمی جزیرے ہیں ۔۔۔! شاعر: حسیب احمد حسیب آدمی جزیرے ہیں اور ان جزیروں کی زندگی بہت کم ہے بیچ اک سمندر کے تند خو سی موجوں میں...

شدت (Magnitude)


Related image
شدت (Magnitude)
تحریر: ابنِ فاضل

اگر آپ کا چوکیدار آپ سے کہے کہ صاحب میں نے بہت مہنگا فون خریدا ہے . تو یقیناً آپ بآسانی اندازہ لگا لیں گے کہ اٹھارہ، بیس ہزار تنخواہ لینے والا شخص پانچ سات ہزار کے فون کو مہنگا سمجھ رہا ہوگا. لیکن اس کے برعکس اگر آپ کا کوئی کروڑ پتی دوست کہے کہ اس نے ایک مہنگا فون خریدا ہے… تو فوراً آپ کے ذہن میں آئے گا کہ یقیناً لاکھ سے اوپر ہوگا…..
        
 اسی طرح اگر کوئی معیشت دان آسمان دیکھ کر اندازہ لگا رہا ہو کہ آج بارش کا امکان ہے تو آپ اس کی بات کو اتنا سنجیدہ نہیں لیں گے جتنا کسی ماہر موسمیات کی پیش گوئی کو لیں گے کہ جس کو اس بارے میں زیادہ اور درست معلومات ہوسکتی ہیں.
     
اب سوچیں اگر کہنے والا خدائے بزرگ و برتر خود ہو کہ بلا تشدید و تکبیر سب سے بڑا ہے اور بہت ہی بڑا ہے اور ہر ہر چیز کا بہت ہی درست اور کامل علم رکھنے والا ہے اور کہہ یہ رہا ہو کہ 'جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے' اور پھر بار بار کہہ رہا، زور دے کر کہہ رہا ہو تو ہمیں یقیناً چند ساعت نکال کر، تنہائی میں بیٹھ اس کی شدت کا اندازہ ضرور کرنا چاہیے….
     
اللہ کریم سب انسانوں کو جہنم سے بچائے.
اَللّٰهُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ

شدت (Magnitude) تحریر:  ابنِ فاضل اگر آپ کا چوکیدار آپ سے کہے کہ صاحب میں نے بہت مہنگا فون خریدا ہے . تو یقیناً آپ بآسانی اندازہ ل...

آج کی بات ۔۔۔ 01 اکتوبر 2018

《《 آج کی بات 》》

اسلام ہمیں حقوق کی بجائے "حقوق العباد" کا لفظ دیتا ہے ،
 یعنی دوسرے انسانوں کو حقوق دو اس طرح سب کو اور خود آپ کوحقوق مل جائیں گے ،

یہاں 'حق' کی جگہ 'فرض' رکھ دیا
یعنی "قربانی ، ایثار ، محبت اور درد دل


《《 آج کی بات 》》 اسلام ہمیں حقوق کی بجائے " حقوق العباد " کا لفظ دیتا ہے ،  یعنی دوسرے انسانوں کو حقوق دو اس طرح سب کو او...