اشاعتیں

August, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا

تصویر
دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا  تحریر: محمودالحق

جیولری ، کھلونے ، بوتیک ہو یا کاروں کا شو روم صرف دیکھ کر یا ہاتھ سے محسوس کر کے تسلی نہیں ہوتی۔جب تک کہ وہ احساسِ لمس سے خوابیدہ نہ کر دے۔ نظر بھربھر دیکھنے سے اپنائیت کا احساس موجزن نہیں ہوتا۔عدم دستیابی خالی پن سے زیادہ اپنے پن سے عاجز ہو جاتی ہے۔آج لفظوں سے اظہار اجاگر نہیں ہو گا۔کیفیت بیان سے آشکار نہیں ہو گی۔احساسات اور محسوسات پر اعتراضات بھی نہیں ہوں گے۔

کون جانتا ہے کہ رات دن سے الگ کیسے ہوتی ہے اور دن رات میں کیسے چھپ جاتا ہے۔چاندنی راتوں میں سمندر پر لہریں کیوں رقص کرتی ہیں۔آسمانوں سے پانی برس کر پھلوں پھولوں میں رنگ و خوشبو کے رنگ کیسےبکھیر دیتا ہے۔ چاہنے اور پانے کے انداز جدا ، رنگوں کی ترتیب الگ رہتی ہے۔ رنگ ونور کی برسات صفحات پر اترے تو آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔مگر جب قلب پہ اُترے تو روح میں خوشگوار احساسِ حیرت کو جاگزیں کر دیتی ہے۔

آرٹس کے مضامین پڑھنے والا سائنسی توجیحات پر سر کھجانے سے آگے نہیں بڑھتا۔ کیونکہ وہاں سوچ داخلہ بند کے آویزاں بورڈ سے استقبال کرتی ہے۔ قربت کا مضمون پڑھنے والے محبت کے مفہوم سے ہمیشہ ناآشنا رہتے ہ…

آج کی بات ۔۔۔ 25 اگست 2014

تصویر
جس انسان کی سانس نکل جائے تو وہ زندہ نہیں رہتا

لیکن

جس انسان سے احساس نکل جائے وہ، انسان ہی نہیں رہتا۔

آج کی بات ۔۔۔ 18 اکست 2014

تصویر
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﻮ ﺁﺳﺎﻥ نہیں ﮨﻮﺗﺎ

نہر اور دریا کی گفتگو

تصویر
دریا نے نہر سے پوچھا "تجھے سمندر نہیں بننا؟"
نہر نے پیار سے جواب دیا "بڑا ہو کر کھارا ہو جانے سے بہتر ہے، چھوٹا رہ کر میٹھا رہا جائے"

قومی ترانے کی کہانی

تصویر
قومی ترانے کی کہانی
ملک شکیل
قومی ترانہ،کسی بھی قوم کے جذبات ابھارنے اور انہیں حب الوطنی کے جذبات سے سرشار کرنے کا نام ہے۔اس کے الفاظ کوئی عام الفاظ نہیں بلکہ اپنے اندر جادو، اثراور تاثیر رکھتے ہیں۔ہر ملک کا الگ قومی ترانہ ہے۔اس کی حیثیت گویا ایک الگ تشخص کی سی ہے جس سے کوئی بھی دستبردار نہیں ہوتا ۔
اس کے تقدس کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ جب بھی قومی ترانہ مخصوص دھن کے ساتھ گایا جاتاہے۔چھوٹا بڑا، ادنی و اعلیٰ سب بصداحترام ہاتھ باندھ کر خاموش کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ خصوصیت سوائے مخصوص مذہبی مناجات کے اور کسی کلمات میں نہیں۔یہاں پر قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ صرف قومی ترانہ کی ہی اہمیت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ بجنے والی دُھن بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔
بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ قومی ترانہ لفظوں کے ساتھ نہیں، صرف دھنوں کے ساتھ بجتا ہے اور اسے بھی وہی احترام حاصل ہوتا ہے جو کہ شاعری کے ساتھ قومی ترانہ پڑھنے سے ہوتا ہے۔ دھن اور قومی ترانہ دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں ۔دراصل قومی ترانے کے ذریعے قوموں کی جدوجہد اور ان کے جذبات کی عکاسی کی جاتی ہے۔پاکستانی کی قومی زبان اردو میں…

ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟؟

تصویر
ہم نے پاکستان کو کیا دیا ؟

تحریر شکور رسول

دُنیا میں سینکڑوں قومیں بستی ہیں ہر قوم کی اپنی زبان،اپنی پہحان،اپنا رنگ، اپنی نسل اور سب سے بڑھ کر اپنی زمین ہوتی ہیں جس پہ وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہر قوم کی پہچان ہر چیز سے بڑھ کراُن کی زمین ہوتی ہیں یعنی اُن کامُلک۔اور ہر قوم اپنی پہچان پہ فخر محسوس کرتی ہیں۔ دُنیا اِدھرسے اُدھرہوجائے لیکن کوئی بھی قوم اپنے ملک کے بارے میں کچھ بُورا بھلا برداشت نہیں کرسکتی۔ یہ کوالٹی جسں قوم میں پائی جاتی ہیں وہ زندہ قوم کہلاتی ہیں۔ پاکستان دُنیا کا وُہ بد نصیب ملک ہیں جہاں کے اکثر لوگوں میں یہ سوچھنے اور کہنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے کہ (پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے ؟ ) اگر میرا اندازہ غلط نہیں تو یہ قوم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے ملک کے بارے میں اِسطرح کے عجیب و غر یب خیالات رکھتی ہیں۔ اگر آپ بھی اِن سے مِلتے جُلتے خیالات رکھتے ہیں تو آپ کو بہت بہت مبارک ہو کیونکہ آپ بھی اُن لوگوں کی سازش کا نشانہ بن چکے ہیں جو کسی بھی طرح وطنِ عزیز کو توڑنے کا تہیہ کر چُکے ہیں۔ لیکن اُن کو شاید اِس بات کا علم نہیں کہ پاکستان قیام…

چلو چل کر یوم آزادی منائیں

تصویر
چلو چل کر یوم آزادی منائیں
تحریر: سرفراز صدیقی

لو ایک بار پھر 14 اگست آ یا چاہتی ہے۔ چلو چل کر پاکستانی جھنڈا خریدیں، گھر پر لہرائیں۔جھنڈوں کی پن خریدیں، کپڑوں پر لگائیں۔ کاغذ کی جھنڈیاں خریدیں، گلی محلہ میں لگائیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں، ٹُویٹ کریں، ملّی نغمے تیز آواز میں بجائیں۔ جھنڈے والی شرٹ پہنیں، چہرے پینٹ کروائیں، ریلیاں نکالیں، تقاریر کریں، قائد یا اقبال کے مزار پر حاضری دیں۔۔۔۔۔۔ چلوچل کر یوم آزادی منائیں!

یوم آزادی؟ ہُنہ! نہ جانے یہ دن ایک ایسی قوم کیوں مناتی ہے جو سراپا غلام ہے؟ معاف کیجئے گا میں نے یہاں غلطی سے 'قوم' کا لفظ لکھ دیا۔ مجھے یہاں 'ہجوم' لکھنا چاہیے تھا کیونکہ 67 سال گزر گئے مگر قوم تو ہم بن ہی نہیں پائے۔ بہرحال یہ بات کئی دہائیوں سے میری سمجھ سےبالا تر ہے کہ ایک ایسا ہجوم جو اپنی نفسانی خواہشات کااس قدر غلام ہو کہ اُس کو حرام و حلال، صحیح اور غلط کا فرق بھی نہ نظرآئے اور جو اُسی شاخ کو کاٹ رہا ہو جس پر وہ بیٹھا ہو تو ایسا ہجوم یوم آزادی آخرکس لیے مناتا ہے؟ کیا 14 اگست فقط برطانوی سامراج کے جابرانہ تسلط سے آزادی کی یادگار کا دن ہ…

یہ وطن تمھارا ہے

تصویر
یہ وطـــن تمہارا ہے، تـم ہو پاسبــــاں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خــواں اس کے


اس چمـن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمـــــیں کا ہر ذرہ آفــــتــــــاب تـم سے ہے
یہ فضـــا تمہـــاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشـــــاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں


اس زمـــیں کی مٹی میں خـون ہے شہیــدوں کا
ارضِ پــــاک مرکــــز ہے قوم کی امیـــــــدوں کا
نظــــم و ضبـــط کو اپنـــــا میرِ کارواں جــــــانو
وقـــت کے انــــدھیروں مـــیں اپنــــا آپ پہچانو


یہ زمـــــیں مقــــدس ہے مـاں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنــــا گنـــــوانا مت، دولــــتِ یقــــیں لوگو
یہ وطـــــن امـــــانت ہے اور تـــــم امــــیں لوگو


مــــــــیرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تــــــــم ہو
ہم تــــــو صرف عنـواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفــــرتوں کے دروازے خــــــود پہ بند ہی رکھنـــا
اس وطــــــن کے پـــرچم کو سربلنــــد ہی رکھنــا

یہ وطـــن تمہارا ہے، تـم ہو پاسبــــاں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خــواں اس کے

آج کی بات ۔۔۔ 12 اگست 2014

تصویر
کسی کی آپ کو دی جانے والی اہمیت آپ کو فخر،غرور اور یہ سوچنے پر مجبور نہ کرے۔۔کہ میں اچھا ہوں تو لوگ مجھے اہمیت دیتے ہیں۔۔۔یاد رکھیے آپ اچھے نہیں بلکہ لوگ اچھے ہیں جو آپ کی برائیاں نظر انداز کر دیتے ہیں

اے ارض حسیں

تصویر
اے ارض حسیں زندہ و پائندہ رہے تو
ہم لوگ یہی ایک دعا مانگ رہے ہیں
ہم تیری حفاظت کے لیے جاگ رہے ہیں

ہر دل کی تمنا ہے کہ انصاف ہو زندہ
فاروقِ وفا کیش کے اوصاف ہوں زندہ
پھر سینوں میں جذبہ اسلاف ہو زندہ

ہم لوگ یہی دعا مانگ رہے ہیں
ہم تیری حفاظت کے لیے جاگ رہے ہیں

یارب دل مسلم سے کدورت کو مٹا دے
سینوں میں مسلماں کے محبت کو جگہ دے
اس ملک کو ستارہ اسلام بنا دے

ہم لوگ یہی ایک دعا مانگ رہے ہیں
ہم تیری حفاظت کے لیے جاگ رہے ہیں

ہو تیرا کرم مولا

تصویر
مولا
ہو تیرا کرم مولا
ہو تیرا کرم مولا
آئے یہاں خوشحالی کی بہار
کتنے برس سے ہے یہ انتظار
پاکستان جو تو نے ہے دیا
اس کو زمیں پر جنت دے بنا
مولا
ہو تیرا کرم مولا
امن و محبت کے دن دے دے
ہم نے ہے لمبی رات گزاری
محنت سے ہے عظمت ساری
مانے گی اب قوم ہماری
تجھ پہ ہے اے وطن
جان و دل
جان و دل بھی فدا
پاکستان کو جنت دے بنا
ہو تیرا کرم مولا
مولا
اپنے وطن سے پیار نبھاتے
سارے دن بیتیں گے ہمارے
کوئی کسی کا حق نا مارے
جینے دیں اور جی لیں سارے
تجھ پہ ہے اے وطن
جان و دل
جان و دل بھی فدا
پاکستان کو جنت دے بنا
ہو تیرا کرم مولا
مولا ۔
آئے یہاں خوشحالی کی بہار
کتنے برس سے ہے یہ انتظار
پاکستان جو تو نے ہے دیا
اس کو زمیں پر جنت دے بنا
مولا
ہو تیرا کرم مولا