منگل, اگست 26, 2014

دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا


دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا 
تحریر: محمودالحق

جیولری ، کھلونے ، بوتیک ہو یا کاروں کا شو روم صرف دیکھ کر یا ہاتھ سے محسوس کر کے تسلی نہیں ہوتی۔جب تک کہ وہ احساسِ لمس سے خوابیدہ نہ کر دے۔ نظر بھربھر دیکھنے سے اپنائیت کا احساس موجزن نہیں ہوتا۔عدم دستیابی خالی پن سے زیادہ اپنے پن سے عاجز ہو جاتی ہے۔آج لفظوں سے اظہار اجاگر نہیں ہو گا۔کیفیت بیان سے آشکار نہیں ہو گی۔احساسات اور محسوسات پر اعتراضات بھی نہیں ہوں گے۔

کون جانتا ہے کہ رات دن سے الگ کیسے ہوتی ہے اور دن رات میں کیسے چھپ جاتا ہے۔چاندنی راتوں میں سمندر پر لہریں کیوں رقص کرتی ہیں۔آسمانوں سے پانی برس کر پھلوں پھولوں میں رنگ و خوشبو کے رنگ کیسےبکھیر دیتا ہے۔ چاہنے اور پانے کے انداز جدا ، رنگوں کی ترتیب الگ رہتی ہے۔ رنگ ونور کی برسات صفحات پر اترے تو آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔مگر جب قلب پہ اُترے تو روح میں خوشگوار احساسِ حیرت کو جاگزیں کر دیتی ہے۔

آرٹس کے مضامین پڑھنے والا سائنسی توجیحات پر سر کھجانے سے آگے نہیں بڑھتا۔ کیونکہ وہاں سوچ داخلہ بند کے آویزاں بورڈ سے استقبال کرتی ہے۔ قربت کا مضمون پڑھنے والے محبت کے مفہوم سے ہمیشہ ناآشنا رہتے ہیں۔پانے کا جنون احساس کے لگن سے کبھی ہم رکاب نہیں ہوتا۔بہشتی زیور بحر طور زمینی زیور سے بدرجہا بہتر بھی ہے اور لازوال و لافانی بھی ۔

جن چیزوں کی اہمیت انہیں پانے کے بغیر مکمل نہ ہو تو ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے سلسلے ختم نہیں ہوتے۔ جیولری ، کپڑے ، جوتے کا نیا ڈیزائن اور کار کانیا ماڈل ،گلے میں لٹکے ہیرے کے ہار اور گیراج میں کھڑی نئی گاڑی کو بھی بے وقعت کر دیتی ہے۔ بچے جن کھلونوں کے لئے زمین پرسر پٹختے ہیں۔ پھر نیا دیکھ کر انہی کھلونوں کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔

مگر اس کے مقابلے میں قدرت اور فطرت سے محبت رکھنے والے آپس میں دست و گریباں نہیں ہوتے۔ پانے کے لئے حسد و رقابت کی بھٹی میں نہیں جلتے۔چاہت بہت ہوتی ہے مگر طلب نہیں کہ جان پر بن آئے۔ان کا جینا آسان ہوتا ہے ۔حقیقی خوشی سے سرشار ہوتا ہے۔صرف محسوس کرنے سے ہی قربت کے احساس سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک روح میں سماتا چلا جائے توتشنگی بڑھ جاتی ہے مگرتڑپ نہیں ۔

میلوں پھیلے گلستان میں ہزاروں رنگ بکھیرتے خوشبو پھیلاتے پھول دیکھنے والوں کوسحر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا جاذبیت سے جذبیت بڑھا دیتا ہے مگر پہلے کی محبت کم نہیں کرتا۔ انہیں توڑ کر گھر وں میں سجایا نہیں جاتا بلکہ قلب ِروح کے گلدان میں بسایا جاتا ہے۔خوشبو سے خود کومہکایا جاتا ہے۔ اظہار ِخیال قلبِ حال پر فوقیت نہیں رکھتا۔لفظ تو پھول کی مانند ہیں ۔کوئی انہیں گلستان میں مہکتا دیکھ کر محبت کا شکار ہوتا ہے تو کوئی انہیں توڑ کر کتابوں میں چھپا کر چپکے چپکے روتا ہے۔

سکول میں پڑھنے والے طالب علم چاہے پہلی پوزیشن سے کامیابی کے زینہ پر قدم رکھیں یا صرف پاس ہونے پر اکتفا کر پائیں۔ مگر بیس کمروں کے سکول کو بیس ہزار طالبعلم میرا سکول کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کے برعکس ہوٹل یا ہوسٹل میں سالہا سال رہنےکے بعد بھی اسےاپنا نہیں کہہ پاتے۔

زندگی میں صرف دیکھنے سے مفہوم جانے نہیں جا سکتے۔زندگی میں درپیش حالات و واقعات کی کھائیوں سے دوبارہ ابھر کر سمجھے جا تے ہیں۔ کتابوں سے مطالب ومعنی تلاش کئے جا سکتے ہیں مگر مفہوم نہیں۔

پیر, اگست 25, 2014

پیر, اگست 18, 2014

آج کی بات ۔۔۔ 18 اکست 2014



ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﻮ ﺁﺳﺎﻥ نہیں ﮨﻮﺗﺎ

جمعہ, اگست 15, 2014

جمعرات, اگست 14, 2014

قومی ترانے کی کہانی

 
قومی ترانے کی کہانی
 
ملک شکیل

قومی ترانہ،کسی بھی قوم کے جذبات ابھارنے اور انہیں حب الوطنی کے جذبات سے سرشار کرنے کا نام ہے۔اس کے الفاظ کوئی عام الفاظ نہیں بلکہ اپنے اندر جادو، اثراور تاثیر رکھتے ہیں۔ہر ملک کا الگ قومی ترانہ ہے۔اس کی حیثیت گویا ایک الگ تشخص کی سی ہے جس سے کوئی بھی دستبردار نہیں ہوتا ۔
اس کے تقدس کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ جب بھی قومی ترانہ مخصوص دھن کے ساتھ گایا جاتاہے۔چھوٹا بڑا، ادنی و اعلیٰ سب بصداحترام ہاتھ باندھ کر خاموش کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ خصوصیت سوائے مخصوص مذہبی مناجات کے اور کسی کلمات میں نہیں۔یہاں پر قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ صرف قومی ترانہ کی ہی اہمیت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ بجنے والی دُھن بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔
بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ قومی ترانہ لفظوں کے ساتھ نہیں، صرف دھنوں کے ساتھ بجتا ہے اور اسے بھی وہی احترام حاصل ہوتا ہے جو کہ شاعری کے ساتھ قومی ترانہ پڑھنے سے ہوتا ہے۔ دھن اور قومی ترانہ دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں ۔دراصل قومی ترانے کے ذریعے قوموں کی جدوجہد اور ان کے جذبات کی عکاسی کی جاتی ہے۔پاکستانی کی قومی زبان اردو میں اسے قومی ترانہ کہا جاتا ہے ۔دیگر ممالک کی مختلف زبانوں میں اسے مختلف ناموں سے پکارا اور لکھا جاتا ہے۔
دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کا ایک علیحدہ قومی ترانہ اور اس کی میوزک کمپوزیشن ہے اور ہر اہم مواقع جب قومی جذبات کی ترجمانی مقصود ہو، قومی ترانہ مخصوص دھن کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔بعض ممالک کی طرح پاکستان کا قومی ترانہ ہر روز اسکول میں جب طالب علم اپنے اسکول کے دن کا آغاز کرتے ہیں تو قومی ترانے سے ہی کرتے ہیں۔
14 اگست1947 ء سے پہلے پاکستان کا قومی ترانہ وجود میں نہیں آیا تھا۔جب 14 اگست 1947 ء کے موقع پر پاکستان کی آزادی کا دن ،پاکستان بننے کے بعد پہلی دفعہ منایا گیا، اس وقت قومی ترانے کی جگہ ”پاکستان زندہ باد، آزادی پائندہ باد“کے نعروں سے یہ دن منایا گیا تھا لیکن اس موقع پر حساس اور محب وطن شاعر اور ادیبوں کے ذہن میں فوراً یہ بات آئی کہ پاکستان کا ایک الگ سے قومی ترانہ بھی ہونا چاہیے۔جو دلوں کو گرما دے اور الگ قومی تشخص کی دنیا بھر میں پہچان کا ذریعہ ہو۔
تاریخ کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا جو کہ ایک ہندو شاعر تھے اور ان کا تعلق لاہور سے تھا۔انہوں نے یہ قومی ترانہ قائداعظم محمد علی جناح کی ذاتی درخواست پر لکھا تھا۔اس قومی ترانے کی منظوری دینے میں قائداعظم محمد علی جناح نے کافی غوروفکر کیا اور لگ بھگ ڈیڑھ سال بعد اسے باقاعدہ سرکاری طور پر بہ طور قومی ترانہ کے منظوری حاصل ہوئی ۔
پاکستان میں اس وقت جو قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے ، یہ وہ ترانہ نہیں ہے جسے جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا۔ یہ قومی ترانہ حفیظ جالندھری نے دسمبر1948 ء میں لکھا اور اس وقت سے یہ نافذالعمل ہے۔دراصل جگن ناتھ آزاد کے قومی ترانے میں بعض جگہ پر حب الوطنی کی خاصی کمی محسوس کی گئی تھی اور اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ نئے سرے سے قومی ترانہ لکھوایا جائے۔
یہ سعادت حفیظ جالندھری کو حاصل ہوئی اور انہوں نے یہ قومی ترانہ لکھ کر اپنا نام ہمیشہ کے لیے پاکستان کے ساتھ جوڑ لیا۔اس قومی ترانے کو منظوری کے لیے اس وقت کے انفارمیشن سیکرٹری شیخ محمد اکرام کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ جو اس کمیٹی کو ہیڈ کر رہے تھے، جس نے اس قومی ترانے کی منظوری دینی تھی۔ اس کمیٹی میں معروف سیاستدان، شاعر اور میوزیشن شامل تھے۔
کمیٹی کے معروف ممبران میں عبدالرب نشتر اور احمد چھاگلہ کے ساتھ ساتھ حفیظ جالندھری خود بھی موجود تھے۔حفیظ جالندھری کو کہا گیا کہ وہ مزید چند خوبصورت فقروں کا اضافہ کر کے قومی ترانے کو مزید خوب صورت بنائیں۔چنانچہ حفیظ جالندھری نے تین مزید فقروں کا اضافہ کیا ۔قومی ترانے کو منظوری تو مل گئی لیکن اس کے ساتھ ہی فوری طور پر یہ مسئلہ پیش آیا کہ صرف اچھی شاعری سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اب اس قومی ترانے کو اچھی دھن کی بھی ضرورت ہے۔
قومی ترانے کا میوزک1950 ء میں ترتیب دیا گیا اورپہلی بار سرکاری طور پر اس قومی ترانے کو مکمل دھن کے ساتھ 1954ء میں باقاعدہ طور پر بجایا گیاتھا۔ قومی ترانے کے میوزک ڈائریکٹر احمد غلام علی چھاگلہ تھے۔جنہوں نے 15 انسٹرومنٹس کے ساتھ 1949 ء میں اس کا میوزک کمپوز کیا تھا۔
قومی ترانہ کی شاعری اس کے لکھے جانے الفا ظ اور فقرے معمولی حیثیت کے حامل نہیں ہوتے۔انہیں دائمی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور جب تک وہ قوم زندہ رہتی ہے، وہ اسے یاد رکھتی ہے۔ سو جب قومی ترانہ لکھنے کی بات آئی تھی تو بہت سارے لوگوں کی یہ خواہش تھی کہ ان کا لکھا گیا قومی ترانہ سلیکٹ ہو جائے۔
یہ ایک عظیم خواہش تھی سو اس کے لیے بہت سارے شاعروں نے کوشش کی۔ ایک ادبی ذریعے کے مطابق اس سلسلے میں 723 انٹریاں ”نیشنل سانگ سلیکشن کمیٹی“کو موصول ہوئی تھیں اور ان میں حفیظ جالندھری کی انٹری بھی شامل تھی اور یہ سعادت حفیظ جالندھری کے حصے میں آئی اور ان کا نام قومی ترانے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
4 اگست1954 ء کو پہلی دفعہ قومی ترانہ ،مکمل دھن کے ساتھ بجایا گیا تھا۔
ریڈیو پاکستان پر 13 اگست1954 ء کو 11 گلوکاروں نے بیک وقت گایا۔ قومی ترانہ گانے والے ان گلوکاروں میں احمد رشدی، شمیم بانو، کوکب جہان، رشیدہ بیگم، نجم آرا،نسیمہ شاہین،زوار حسین،اختر عباس،غلام دستگیر،انور ظہیر اوراختر وصی شامل تھے۔ان کے ساتھ علی راٹھور اور سیف علی خان نے بھی حصہ لیا تھا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پہلی دفعہ ریڈیو پاکستان پر قومی ترانہ گایا گیا تھا ۔جس کا ٹائم پیریڈ ایک منٹ اور 20 سیکنڈ تھا۔دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت پہلی دفعہ یہ ترانہ گایا گیا، اُس وقت تک سرکاری طور پر اس کی منظوری نہیں ہوئی تھی ۔منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ نے باقاعدہ طور پر اس کی منظوری16 اگست1954 ء کو دی تھی۔
قومی ترانے کے پہلے میوزک ڈائریکٹر احمد علی چھاگلہ1953 ء میں انتقال کر گئے تھے ۔یعنی جس وقت پہلی دفعہ باقاعدہ طور پر ریڈیو پاکستان میں قومی ترانہ گایا جا رہا تھا، وہ بقید حیات تو نہیں تھے ۔تاہم وہ اپنا نام ہمیشہ کے لیے امر کر چکے تھے۔

ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟؟



ہم نے پاکستان کو کیا دیا ؟

تحریر شکور رسول

دُنیا میں سینکڑوں قومیں بستی ہیں ہر قوم کی اپنی زبان،اپنی پہحان،اپنا رنگ، اپنی نسل اور سب سے بڑھ کر اپنی زمین ہوتی ہیں جس پہ وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہر قوم کی پہچان ہر چیز سے بڑھ کراُن کی زمین ہوتی ہیں یعنی اُن کامُلک۔اور ہر قوم اپنی پہچان پہ فخر محسوس کرتی ہیں۔ دُنیا اِدھرسے اُدھرہوجائے لیکن کوئی بھی قوم اپنے ملک کے بارے میں کچھ بُورا بھلا برداشت نہیں کرسکتی۔ یہ کوالٹی جسں قوم میں پائی جاتی ہیں وہ زندہ قوم کہلاتی ہیں۔ پاکستان دُنیا کا وُہ بد نصیب ملک ہیں جہاں کے اکثر لوگوں میں یہ سوچھنے اور کہنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے کہ (پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے ؟ ) اگر میرا اندازہ غلط نہیں تو یہ قوم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے ملک کے بارے میں اِسطرح کے عجیب و غر یب خیالات رکھتی ہیں۔ اگر آپ بھی اِن سے مِلتے جُلتے خیالات رکھتے ہیں تو آپ کو بہت بہت مبارک ہو کیونکہ آپ بھی اُن لوگوں کی سازش کا نشانہ بن چکے ہیں جو کسی بھی طرح وطنِ عزیز کو توڑنے کا تہیہ کر چُکے ہیں۔ لیکن اُن کو شاید اِس بات کا علم نہیں کہ پاکستان قیامت تک قا ئم رہنے کیلئے بنا ہے۔ یہ ملک صِرف زمین کا ٹکڑا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کے رازوں میں سے ایک راز ہیں۔ اِس ملک کو توڑنے کے خواب دیکھنے والے صرف اپنا وقت اور وسا ئل ضایع کر رہے ہیں۔ اُ ن کے منصوبے اپنی جگہ، لیکن آ ج اِس قوم سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے، تو کیا ہم نے بھی پاکستان کو کچھ دینا گواراہ کیا ہے؟۔
ٓآ ج سے ۶۴سال قبل ۱۴اگست ۱۹۴۷ء کو جب پاکستان کا وجود بنا،تو یہاں کے لوگوں میں تو ایک نیا جذبہ تھا ہی،بلکہ سرحد پار سے تقریبا۱۲ میلین سے ذائدلوگ دیوانہ وار ہجرت کرتے آئے۔ جن میں سے آدھے بھی پاکستان نہ پہنچ سکے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہجرت کبھی نہیں ہوئی۔ بس اِک جنون تھا، عشق تھا، دیوانگی تھی۔ اُنہوں نے کسی سے نہ پوچھا کہ پاکستان نے ہمیں کیادیا؟ یا پاکستان نے ہمیں کیا دینا ہے؟۔کسی نے یہ نہ پوچھا کہ پاکستان میں ہمیں کیا ملے گا؟ اور ہماری سیکورٹی اور رہائش کا کیا انتظام ہو گا ؟ بس یہ لوگ دیوانوں کی طرح آتے رہے۔ مشرقی پنجاب،لودیانہ،جلندھروغیرہ کے اسّی ہزارمربع کلومیٹر میں کوئی مسلمان زندہ نہ بچ سکا۔چالیس لاکھ سے ذائد مسلمان اغوا ہوئے، لیکن وہ پاکستان کو نظرانداز نہ کر سکے کیونکہ اُنہوں نے ہر حال میں پاکستان آنے کا اِرادہ کرلیا تھا۔ دہلی سے ایک ٹرین نکلتی، اور مشرقی پنجاب میں پوری کی پوری کاٹ دی جاتی۔اور یہاں صرف لاشیں پہنچھتی،مگر وہ جنونی بار بار اُن ٹرینوں میں سوار ہو کر مرنے کیلئے تیار ہو جاتے۔ کیونکہ اُنہیں یہ بات سمجھا دی گئ تھی کہ اگر اِس وقت کسی نے پاکستان کا ساتھ نہ دیا تو اُس کی دنیاوآخرت تباہ و برباد ہو کہ رہ جائے گی۔ ماناکہ آج کے پاکستان میں ہزاروں تکالیف ہیں،دانا لوگ کہتے ہیں کہ
(Trouble comes not alone but in a battalion) لیکن پھر بھی آپ کبھی بھوکے نہیں سو ئے ہونگے،آپ کبھی ننگے نہیں ہو ئے معا ف کیجے لیکن آپ کی ماؤں بہنوں کی عزّت پہ ہاتھ نہیں ڈالے گئے، آپ کے گھروں سے آپ کو نکالا نہیں گیا اور نہ ہی آپ کو ہجرت کرنا پڑی، اِسلئے شکایتں کِس بات کی؟ ہماری موجودہ نسل کو یہ معلوم ہونا چاہئے،کیونکہ اِنہوں نے آنے والی نسلوں کو بتانا ہے کہ اِن کے بزرگوں کو گھررں سے نکالا گیا، اُن کو سرِعام لٹکا یا گیا، اُن کی ماؤں بہنوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، اُنہیں لوٹا گیا، لیکن اُنہوں نے تو کبھی پاکستان کو بُرا بھلا نہیں کہا، اور نہ ہی کسی سے شکایت کی۔ اِسلئے کہ اُن کو پتہ تھا کہ پاکستان ہی ہماری پہچان ہے۔ پاکستان نے ہمیں وہ نعمت دی ہے جس کا کوئی نعملُ البدل نہیں، جس کی قیمت کا کوئ اندازہ نہیں۔ اِس ملک نے ہمیں وہ نعمت دی ہے جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگانے اور اِس نعمت کو جاننے کیلئے آپ کوکشمیر، افغانستان، عراق یا پھر فلسطین کا رُخ کرنا ہو گا۔ اِسلےأ کہ وہ لوگ پَل پَل اِس نعمت کے حصول کیلےؤ جدّوجہد کر رہے ہیں۔ مگر اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے کہ اُن کو یہ نعمت کب نصیب ہو گی۔ اِس نعمت کا نام آذادی ہے، خودمختاری ہے۔ یہ نعمت اِک پہچان ہے جو صرف اور صرف پاکستان کے وجور سے وابستہ ہے۔ آپ دُنیا میں کہیں بھی چلے جائیں آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں پٹھان ہو، پنجابی ہو، سندھی ہو یا بلوچی ہو، آپ کو صرف یہی کہنا پڑے گا کہ میں پاکستانی ہو۔ اِس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہیں کہ پاکستان ہمارا ملک ہیں اور یہ ملک ہماری پہچان ہے۔
اِسلےأ سب کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ پاکستان نے ہمیں جو کچھ دینا تھا وہ ۶۴ سال پہلے دے چکا ہے۔ اَب جو کچھ بھی کرنا ہے ہم نے کرنا ہے، جو کچھ بھی دینا ہے ہم نے دینا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم پاکستان کو وہ سب کچھ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں جو ہمارے آباواجداد کی خواہیش تھی، جس کا خواب علّامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا، جس کی جدّوجہد قائداعظمؒ نے کی تھی۔ جس کیلئے لیاقت علی خان نے اپنی شہادت پیش کی۔
آج کے اِس دور میں ہر طرف ملک دُشمن عناصر سازشوں میں مصروف ہیں، جبکہ ہم ایک طرف دہشتگردی اور فرقہ واریت کا شکار ہیں، تو دوسری طرف بدعنوان اور کرپٹ حکمران ہمارے اوپر مسلّط ہیں۔ ٹرانسپرنسی اِنٹرنیشنل کے مطابق اِس سال کرپشن میں کئ گُناہ اِضافہ ہوا ہے۔ اِس کے علاوہ مہنگاأی اور غربت سے تنگ عوام قدرتی آفات کا بھی شکار ہیں،جسکی وجہ سے پاکستانی معیشت کو اَربوں ڈالر کا نقصان ہوچُکا ہے۔ ریڈ کراس کے اندازے کے مطابق پِچھلے سال آنے والے سیلاب سے پورے پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ لوگ متاثر ہوؤ جبکہ صوبہ سِندھ میں آنے والے حالیہ سیلاب سے بھی لاکھوں لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی،جبکہ ملک میں سیاسی بے چینی بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اِن حالات میں اگر ہم غیروں کی سازِشوں کا نشانہ بن جائنگے تو یہ اِک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہو گا۔ اسلأے بحثیّتِ قوم ہماری ذمہ داری ہیں کہ اِن حالات میں غیروں کے اِشاروں پر چلنے کے بجائے آپس میں اِنسانیّت کا اِحساس بڑھائیں غمزدہ پاکستانی بھائیوں کی ہر مُمکن مددکرے۔ اِور اپنے جذبات کا اظہار اِس انداز میں کرے، کہ اگر حکومت کے خلاف بات کرنی ہو تو بے شک کرے کیونکہ یہ آپ کا شرعی، آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن اِ س ملک کے خلاف بات کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ یہ ملک صرف حکمرانوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا نہیں، یہ ملک سترہ کروڑ پاکستانیوں کا ہے۔ اِس پر آپ کا بھی اُتنا ہی حق ہے جِتنا اِیلیٹ کلاس کے لوگوں کا ہے۔ اِس ملک کو ہم سب نے آگے لے کر جانا ہے۔ اِسلئے یہ نہ سوچیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا، بلکہ یہی سوچیں کہ ہم نے آج تک پاکستان کو کیا دیا،اور کیا دینا چاہئے؟جان ایف کینیڈی نے خوب کہا تھا کہ
ask not what your country can do for you, ask what you can do for your country

بدھ, اگست 13, 2014

چلو چل کر یوم آزادی منائیں


چلو چل کر یوم آزادی منائیں
تحریر: سرفراز صدیقی

لو ایک بار پھر 14 اگست آیا چاہتی ہے۔ چلو چل کر پاکستانی جھنڈا خریدیں، گھر پر لہرائیں۔جھنڈوں کی پن خریدیں، کپڑوں پر لگائیں۔ کاغذ کی جھنڈیاں خریدیں، گلی محلہ میں لگائیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں، ٹُویٹ کریں، ملّی نغمے تیز آواز میں بجائیں۔ جھنڈے والی شرٹ پہنیں، چہرے پینٹ کروائیں، ریلیاں نکالیں، تقاریر کریں، قائد یا اقبال کے مزار پر حاضری دیں۔۔۔۔۔۔ چلوچل کر یوم آزادی منائیں!

یوم آزادی؟ ہُنہہ! نہ جانے یہ دن ایک ایسی قوم کیوں مناتی ہے جو سراپا غلام ہے؟ معاف کیجئے گا میں نے یہاں غلطی سے 'قوم' کا لفظ لکھ دیا۔ مجھے یہاں 'ہجوم' لکھنا چاہیے تھا کیونکہ 67 سال گزر گئے مگر قوم تو ہم بن ہی نہیں پائے۔ بہرحال یہ بات کئی دہائیوں سے میری سمجھ سےبالا تر ہے کہ ایک ایسا ہجوم جو اپنی نفسانی خواہشات کااس قدر غلام ہو کہ اُس کو حرام و حلال، صحیح اور غلط کا فرق بھی نہ نظرآئے اور جو اُسی شاخ کو کاٹ رہا ہو جس پر وہ بیٹھا ہو تو ایسا ہجوم یوم آزادی آخرکس لیے مناتا ہے؟ کیا 14 اگست فقط برطانوی سامراج کے جابرانہ تسلط سے آزادی کی یادگار کا دن ہے؟ مگر ظلم و جبر تو آج بھی اپنے عروج پر ہے اور شاید انگریز کے دور سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔ اور تاج برطانیہ نہ سہی تاج امریکہ کی غلامی توہم آج بھی کر رہے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کی بات تو چھوڑیں،آج کے دور میں سب سے بڑے ظالم تو ہم خود ہیں۔ ہم خود ہی اپنے جیسے لوگوں کو جمہوریت نامی لنگڑے لوُلے نظام کے تحت چھانٹ چھانٹ کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔ پھر جب یہ سیاستدان اقتدار میں آ کر الیکشن میں کی گئی سرمایہ کاری پراصل بمع سود بٹورنا شروع کرتے ہیں تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ ہم خودتو ہر قسم کی کرپشن کرتے ہیں مگر جب یہی کام مقتدرہ میں ہوتا ہے تو ہمارے جسم و جاں میں آگ لگتی ہے۔

اگلے وقتوں میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کی بربادی کی جو وجوہات قرآن میں بتائی ہیں وہ پڑھ کر اور آج اپنے آپ کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ معاذ اللہ یا تو اُن اقوام کے ساتھ زیادتی ہوئی یا اللہ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ ہماری رسیوں کو حددرجہ دراز کیا ہوا ہے۔ اب دیکھئے کہ ناپ تول میں ڈنڈی مارنے، چوری اور ڈاکہ ڈالنے پر قوم شعیب ؑ پر اللہ کا عذاب خوفناک کڑک، زلزے اور آسمان سے آگ کی صورت نازل ہوا۔ شرک کرنے پر قوم نوحؑ کو بارش کے طوفان میں غرق کر دیا گیا۔ ہم جنس پرستی پر قوم لوط کی پوری بستی کوپلٹ دیا اور پتھروں کی بارش کر دی۔ قوم ہودؑ یعنی عاد اولٰی پر آندھی کا عذاب آیا۔ قوم صالح ؑ یعنی ثمود جیسی نافرمان قوم پر چیخ کا عذاب بھیجا۔ الغرض جن خرابیوں کے باعث پوری کی پوری قوم کو اللہ نے تباہ کر دیا وہ تمام کی تمام خرابیاں آج ہم میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ بلکہ ہرگزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بے تحاشہ نئی اقسام بھی سامنے آرہی ہیں۔ لیکن نہ جانے وہ کیا وجہ ہے کہ اللہ تعلیٰ نے اپنے غضب کا مظاہرہ ابھی تک نہیں کیا۔ اُس کی حکمت وہی جانتا ہے مگر یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگر ہم لوگوں نے اپنی بداعمالیوں کو نہیں بدلا تو خاکم بدہن ہمارا انجام بھی بربادی ہے۔

لیکن ابھی اللہ نے ایسا نہیں کیا ہے اس لیے اب بھی وقت ہے ہمیں سدھر جانا چاہیے۔ یاد رکھیے حقیقی آزادی صرف اللہ کی غلامی میں مضمر ہے۔ جب کوئی اللہ کا سچا غلام بن جاتا ہے تو اُس کے لیے پھر کسی آزادی کی کوئی وقت نہیں رہ جاتی۔ دُنیا نامی پنجرے کا دروازہ اُس پر کھل جاتاہے۔ اُس پہ یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ باقی ہر قسم کی آزادی در اصل سراب ہے، ڈھکوسلا ہے۔ وہ اس خوشنما دھوکہِ کو جان جاتا ہے کہ جس کا انجام صرف نقصان ہے۔

ہمارے آباؤاجداد نے دو قومی نظریہ کے تحت ان گنت جانی و مالی قربانیاں دے کر یہ ارض پاک مسلمانوں کو اپنے دین پر مکمل آزادی سے عمل پیرا ہونے کے لیے بنایا تھا۔ خدارا اس نظریے کو مادر پدر آزادی سے مت تبدیل کریں۔ اللہ کے واسطے اس خطہ پاک کو جمہور کی غلامی کی بھٹّی میں مزید نہ جھونکیں۔ رب کائنات کی رضا کی خاطر آپس میں موجود نفرتیں ختم کر دیں اور فرقہ واریت کو کسی قبرسان میں ہمیشہ کے لیے اتنا گہرا گاڑ دیں کہ پھر کبھی یہ لعنت سر نہ اُٹھا سکے۔ از بہر خدا آپس میں اتحاد و اتفاق و محبت و بھائی چارگی پیدا کریں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال کریں۔

آئیں اس سال ہم یہ عہد کریں کے ہم اپنی آزاد زندگی اُس طرح گزاریں گے جس طرح ہمارا معبود ہم سے چاہتا ہے۔ یا اللہ! ہمیں صراط مستقیم پر چلنے اور اپنے احکام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں دُنیا اور آخرت میں سُرخرو فرما۔ آمین!

پاکستان پائندہ باد!

والسلام،
سرفراز صدیقی

یہ وطن تمھارا ہے




یہ وطـــن تمہارا ہے، تـم ہو پاسبــــاں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خــواں اس کے



اس چمـن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمـــــیں کا ہر ذرہ آفــــتــــــاب تـم سے ہے
یہ فضـــا تمہـــاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشـــــاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں



اس زمـــیں کی مٹی میں خـون ہے شہیــدوں کا
ارضِ پــــاک مرکــــز ہے قوم کی امیـــــــدوں کا
نظــــم و ضبـــط کو اپنـــــا میرِ کارواں جــــــانو
وقـــت کے انــــدھیروں مـــیں اپنــــا آپ پہچانو



یہ زمـــــیں مقــــدس ہے مـاں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنــــا گنـــــوانا مت، دولــــتِ یقــــیں لوگو
یہ وطـــــن امـــــانت ہے اور تـــــم امــــیں لوگو



مــــــــیرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تــــــــم ہو
ہم تــــــو صرف عنـواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفــــرتوں کے دروازے خــــــود پہ بند ہی رکھنـــا
اس وطــــــن کے پـــرچم کو سربلنــــد ہی رکھنــا


یہ وطـــن تمہارا ہے، تـم ہو پاسبــــاں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خــواں اس کے

منگل, اگست 12, 2014

آج کی بات ۔۔۔ 12 اگست 2014



کسی کی آپ کو دی جانے والی اہمیت آپ کو فخر،غرور اور یہ سوچنے پر مجبور نہ کرے۔۔کہ میں اچھا ہوں تو لوگ مجھے اہمیت دیتے ہیں۔۔۔یاد رکھیے آپ اچھے نہیں بلکہ لوگ اچھے ہیں جو آپ کی برائیاں نظر انداز کر دیتے ہیں

اے ارض حسیں



اے ارض حسیں زندہ و پائندہ رہے تو
ہم لوگ یہی ایک دعا مانگ رہے ہیں
ہم تیری حفاظت کے لیے جاگ رہے ہیں

ہر دل کی تمنا ہے کہ انصاف ہو زندہ
فاروقِ وفا کیش کے اوصاف ہوں زندہ
پھر سینوں میں جذبہ اسلاف ہو زندہ

ہم لوگ یہی دعا مانگ رہے ہیں
ہم تیری حفاظت کے لیے جاگ رہے ہیں

یارب دل مسلم سے کدورت کو مٹا دے
سینوں میں مسلماں کے محبت کو جگہ دے
اس ملک کو ستارہ اسلام بنا دے

ہم لوگ یہی ایک دعا مانگ رہے ہیں
ہم تیری حفاظت کے لیے جاگ رہے ہیں

پیر, اگست 11, 2014

ہو تیرا کرم مولا



مولا
ہو تیرا کرم مولا
ہو تیرا کرم مولا
آئے یہاں خوشحالی کی بہار
کتنے برس سے ہے یہ انتظار
پاکستان جو تو نے ہے دیا
اس کو زمیں پر جنت دے بنا
مولا
ہو تیرا کرم مولا
امن و محبت کے دن دے دے
ہم نے ہے لمبی رات گزاری
محنت سے ہے عظمت ساری
مانے گی اب قوم ہماری
تجھ پہ ہے اے وطن
جان و دل
جان و دل بھی فدا
پاکستان کو جنت دے بنا
ہو تیرا کرم مولا
مولا
اپنے وطن سے پیار نبھاتے
سارے دن بیتیں گے ہمارے
کوئی کسی کا حق نا مارے
جینے دیں اور جی لیں سارے
تجھ پہ ہے اے وطن
جان و دل
جان و دل بھی فدا
پاکستان کو جنت دے بنا
ہو تیرا کرم مولا
مولا ۔
آئے یہاں خوشحالی کی بہار
کتنے برس سے ہے یہ انتظار
پاکستان جو تو نے ہے دیا
اس کو زمیں پر جنت دے بنا
مولا
ہو تیرا کرم مولا