سوموار, اکتوبر 31, 2016

ٹائم زون

ٹائم زون

٭ کینیا کا وقت نائیجیریا سے 2 گھنٹے آگے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نائیجیریا 'سست رفتار' ہے اور کینیا 'تیز رفتار'۔۔ دونوں ممالک اپنے اپنے ٹائم زون کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔

٭ کوئی شخص بڑی عمرتک غیر شادی شدہ ہے اور کسی نے شادی کرلی اور دس سال تک صاحب اولاد ہونے کا منتظر رہا، اور دوسری طرف کوئی شخص شادی کے ایک سال بعد ہی اولاد کا حامل بن گیا۔۔

٭ کسی نے بائیس سال کی عمر میں گریجویشن کیا اور پانچ سال ایک اچھی ملازمت کے حصول میں لگا دیے، اور دوسری طرف ایک شخص ستائیس سال کی عمر میں گرھویشن کیا اور فوری طور پر اسے ایک اچھا ملازمت بھی مل گئی۔

٭ کوئی پچیس سال کی عمر میں ایک کمپنی کا CEO  بن گیا اور پچاس سال کی عمر میں وفات پا گیا اور دوسری طرف دوسرا شخص پچاس سال کی عمر میں اس عہدے پر پہنچا اور نوے سال عمر پائی۔
ہم میں سے ہر شخص اپنے ٹائم زون کے حساب سے کام کرتا ہے ۔ ہر کام کے تکمیل کی اپنی رفتار ہوتی ہے ۔۔۔ اپنے ٹائم زون کے مطابق
آپ کے ساتھی، دوست یا آپ سے عمر میں چھوٹے لوگ بظاہر آپ سے آگے ہو سکتے ہیں،
ان سے بدگمان نہ ہوں، وہ ان کا 'ٹائم زون' ہے اور آپ اپنے 'ٹائم زون' میں ہیں،
ڈٹے رہیں، ثابت قدم رہیں اور خود سے مخلص رہیں۔ یہ سب چیزیں مل کر آپ کی بہتری میں معاون ثابت ہونگی۔
آپ 'لیٹ' نہیں ہیں ۔۔ آپ بالکل وقت پر ہیں۔

(مجھے کوشش کے با وجود 'ٹائم زون' کا اردو متبادل لفظ نہیں مل سکا اگر کوئی بتا سکے تو مہربانی ہوگی)

اتوار, اکتوبر 30, 2016

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (سورہ الشعراء)

یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے. اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہےکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ جب وہ مجھے بیماری دیتا ہےتو وہی شفا دیتا ہے. بلکہ یہ کہا کہ جب “میں “بیمار پڑتا ہوں تو وہ شفا دیتا ہے. یعنی بیماری کے عمل کو اپنی جانب منسوب کیا اور شفا کو خدا سے منسوب کیا. یہی پیغمبروں کی خدا سے محبت اور ادب ہے جسے ہمیں ماننا ضروری ہے.

بیماری کا اذن یعنی اجازت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے لیکن بیماری کا سبب یا تو ہماری اپنی کوئی کوتاہی ہوتی یا خدا کی جانب سے آزمائش یا دونوں۔ جیسے سگریٹ پینے پر ہارٹ اٹیک کا ہونا ہماری اپنی کوتاہی ہے، حضرت ایوب علیہ السلام کا بیماری میں مبتلا ہونا آزمائش ہے وغیرہ۔ چونکہ ہم متعین طور پر نہیں جانتے کہ بیماری ہماری کسی کوتاہی کی بنا پر ہے یا خدا کی جانب سے ، اس لیے اس کی نسبت اپنی ہی جانب کرکے اپنی کوتاہی تلاش کرنا اور اس کی اصلاح کرنا ہی درست رویہ ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل

ہفتہ, اکتوبر 29, 2016

سہولت یا ضرورت؟

  video

 ضرورت ایجاد کی ماں کہلاتی ہے
مگر جب یہی ضرورت جو کہ سہولت کے لئے ایجاد کی گئی ہو اتنی ضروری ہو جائے کہ انسان حد سے گزر جائے تو اس سے بڑا وبال بھی کوئی نہیں ہوتا۔

اور ویسے بھی ہر چیز توازن میں ہو تو اس کی افادیت زیادہ ہوتی ہے جہاں توازن بگڑے مسلئے شروع ہو جاتے ہیں جیسے کہ آج کل ہم ہر طرف موبائل فون کا رونا سنتے رہتے ہیں۔

جمعہ, اکتوبر 28, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 28 اکتوبر 2016

آج کی بات

دنیاوی معاملات میں لائن بنانا اور لائن توڑ کر دوسرے کا حق نہ مارنا اتنا ہی ضروری اور باعث اجرو ثواب ہے جتنا نماز کے دوران صفیں سیدھی رکھنا۔

جمعرات, اکتوبر 27, 2016

ریت سے بُت نہ بنا

ریت سے بُت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار


ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتّھر لا دوں​
میں تیرے سامنے انبار لگا دوں لیکن​
کون سے رنگ کا پتّھر تیرے کام آئے گا؟​
سرخ پتّھر جسے دل کہتی دنیا

یا وہ پتّھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتّھر

جس میں صدیوں کے تحیّر کے پڑے ہوں ڈورے

کیا تجھے روح کے پتّھر کی ضرورت ہو گی؟
جس پہ حق بات بھی پتّھر کی طرح گرتی ہے
اِک وہ پتّھر ہے جسے کہتے ہیں تہذیبِ سفید
اس کے مَرمَر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے
ایک انصاف کا پتّھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے

جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتّھر ہیں
جتنے افکار ہیں اس دور کے سب پتّھر ہیں
شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتّھر
میرا الہام، تیرا ذہنِ رَسیا بھی پتّھر
اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتّھر ہے
ہاتھ پتّھر ہیں تیرے ۔۔۔۔ میری زباں پتّھر ہے

ریت سے بُت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد ندیم قاسمی​

بدھ, اکتوبر 26, 2016

ہماری بات


ہم "دوسروں کی" بات کرنے میں ماہر ہیں
بجائے" دوسروں سے" بات کرنے میں
اگر ہمیں کسی میں برائی نظر آئے تو ہم سب کو بتاتے ہیں سوائے اس کے جس میں برائی نظر آئی..
مجھ میں کوئی عیب دیکھو تو مجھ سے کہو کسی اور سے نہیں.. کیونکہ اس عیب کو مجھے ہی بدلنا ھے کسی اور نے نہیں.....
مجھ سے کہو گے تو نصیحت،
کسی اور سے کہو گے تو غیبت...

اگر ہم سے راضی ہو تو "ہماری بات" کرو
اور اگر ہم سے راضی نہیں ، تو "ہم سے بات" کرو...

منقول

منگل, اکتوبر 25, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 25 اکتوبر 2016

آج کی بات

کچھ باتیں عقل سے اور بہت سی باتیں عمر سے سمجھ آتی ہیں۔ 
دعا یہ کرنا چاہیے کہ جب ہماری عمر اُن باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو جائے تو ہماری عقل بھی سلامت رہے
 ورنہ عمر کے تجربے بےکار ٹھہرتے ہیں۔

نورین تبسم

سوموار, اکتوبر 24, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ 15

تدبر قرآن۔۔ سورہ بقرہ حصہ 15

بسم اللہ الرحمان الرحیم

  دل کے اندر ایمان کی موجودگی ایک چیز ہے لیکن جب آپ کے دل میں ایمان ہو تو وہ کسی نہ کسی طریقے سے ظاہر ہوتا ہے. آپ کے کردار سے، آپ کے رویے سے، آپ کی شخصیت سے جو آپ کے ایمان کا ہی خاصہ ہوتی ہے.  ایمان کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے اپنی اچھائی ثابت کرنے کی خواہش ہی نہیں رہتی، آپ کسی کے سامنے مصنوعی رویہ نہیں اپناتے، کسی کے سامنے بناوٹی طرزِ عمل کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، اپنا ایمان لوگوں پر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی . تو لوگ منافقین کے پاس آ کر ان سے کہتے تھے کہ دیکھو، ابوبکر رضی اللہ عنہا اہل ایمان میں سے ہیں، عمر رضی اللہ عنہا ایمان والے ہیں، سعد رضی اللہ اہل ایمان میں سے ہیں، یہ سب لوگ ایمان لانے والوں میں سے ہیں، وہ تو ایسا طرزِ عمل نہیں اپناتے، تو ایسا کیوں ہے کہ تم لوگوں کا ایمان ، تمہیں ان جیسا رویہ اپنانے کا نہیں کہتا؟  منافقین کو یہ بتایا جا رہا تھا کہ تم لوگ باقی عام لوگوں جیسا نارمل رویہ کیوں نہیں اپناتے .

دوسری دلچسپ بات ہے " كَمَا آمَنَ النَّاس" یہاں "النَّاس " کا لفظ استعمال ہوا ہے، یہ نہیں کہا گیا کہ " كَمَا آمَنَ المؤمنون"  یا  " كَمَا آمَنَ السابقون"  یا " كَمَا آمَنَ المهاجرون" بھی نہیں کہا گیا، کہ تم ان لوگوں کی طرح ایمان لاؤ جو السابقون ہیں یا جو بہترین لوگ موجود ہیں،  ان منافقین سے یہ بھی نہیں کہا گیا کہ ایمان لاؤ ان کی طرح جو سبقت لے جانے والے ہیں، میں نے  ابھی ان السابقون کا ہی  تذکرہ کیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہا جیسے لوگ ، لیکن اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا، بلکہ ان منافقین کے پاس جا کر ان سے کہا گیا کہ تم ایمان لاؤ جیسے باقی لوگ ایمان لائے،  سادہ لفظوں میں یہ کہ ان سے کہا گیا کہ، 'باقی لوگ بھی تو ہیں، عام  سادہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں ، چلو السابقون جو شروع سے رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام کے ساتھ تھے، ہم ان کی بات نہیں کرتے لیکن باقی عام سادہ مسلمان بھی ویسا رویہ نہیں اپناتے جیسا بناوٹی رویہ تم لوگوں کا ہے، تم سے جو کرنے کو کہا جا رہا ہے وہ اتنا مشکل تو نہیں، باقی لوگ بھی تو ایمان لے آئے ہیں ؟

     کچھ مفسرین کی رائے میں النَّاسُ کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے  تاکہ بتایا جا سکے کہ یہاں یہود کو بھی مخاطب کیا گیا ہے، عبداللہ بن سلام جیسے لوگوں کو، جو دکھاوے کو ایمان لے آئے تھے. تو ان کو بھی مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اور بھی لوگ ہیں اور تمہارے اپنے  اردگرد بہترین مثالی اہل  ایمان موجود ہیں تو تم یہ بناوٹی رویہ کیوں اپناتے ہو ؟ اور یہ منافق کی واضح نشانیوں میں سے ایک ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایک منافق بہترین لوگوں کی صحبت میں ہو لیکن پھر بھی اس سے استفادہ حاصل نہ کر سکے. یہ اور بات ہے کہ کسی  کا اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ ہو جو نہ تو نماز پڑھتے ہوں اور نہ ہی ایمان لانے والوں میں سے ہوں، اور لغو و گھٹیا زبان کا عام استعمال کرتے ہوں، اور اس بری صحبت کا ان پر برا اثر پڑے اور وہ بھی ایسی ہی لغو زبان کا استعمال بکثرت کرنے لگیں، نماز پڑھنا چھوڑ دیں ، یعنی برے لوگوں کی صحبت کا برا اثر . لیکن دوسری طرف ایک خوش قسمت شخص ہے جس کے اردگرد نہایت نیک لوگ موجود ہیں اور اچھی صحبت برے کاموں سے روکتی ہے، تو اسی لیے ان کے دوست ان کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ تمہارے آس پاس  بہترین لوگ موجود ہیں تو تمہیں کیا مسئلہ ہے ؟ تمہارا ایمان کیوں مضبوط نہیں ؟ لیکن وہ سرکشی میں اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ کہتے ہیں، 

 قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ

کیا ہم ایمان لائیں جیسے ایمان لائے بیوقوف؟

یہ ہے ان کا جواب، اور اس جواب سے ان کا کیا مطلب ہے یہ سمجھنا ضروری ہے، سُّفَهَ کہتے ہیں اس شخص کو جو اپنے اعمال کے انجام سے بے بہرہ ہو ، سُّفَهَ یا بیوقوفی و نادانی کے لغوی معنی ہیں  عقل کی کمی، دانش مندانہ فیصلے کرنے کے قابل ہی نہ ہونا.  منافقین کی نظر میں بیوقوفانہ طرزِ عمل کیا ہے،  یہ سمجھنا ضروری ہے، کہ منافقین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہا کو اور اہلِ مدینہ کو آخر بیوقوف کیوں کہہ رہے ہیں؟

-نعمان علی خان

جاری ہے........

ہفتہ, اکتوبر 22, 2016

پاگل کسے کہتے ہیں؟


پاگل کسے کہتے ہیں ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جو ہوش گنوا بیٹھے؟
جو روڈ پہ جا بیٹھے؟
جو مانگ کے کھا بیٹھے؟
جو بھوک چھپا بیٹھے؟
کہتے ہیں اسے پاگل؟
بے شرم پھرے جو وہ؟
ٹھوکر سے گرے جو وہ؟
شکوہ نہ کرے جو وہ؟
بے موت مرے جو وہ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہے کون بھلا پاگل؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ننگا ہو بدن جس کا
گندا ہو رہن جس کا
آزاد ہو من جس کا
خالی ہو ذہن جس کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا اس کو کہیں پاگل؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گھر بھول گیا ہو جو
در بھول گیا ہو جو
زر بھول گیا ہو جو
شر بھول گیا ہو جو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ شخص ہے کیا پاگل؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عزت سے ہو ناواقف
ذلت سے ہو ناواقف
دولت سے ہو ناواقف
شہرت سے ہو ناواقف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا اس کو کہیں پاگل؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تم بات مری مانو
جو سچ ہے اسے جانو
اس گول سی دنیا میں
صرف ایک نہیں پاگل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کچھ اور بھی ہیں پاگل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جو ماں کو ستاتا ہے
دل اس کا دکھا تا ہے
جو باپ کے اوپر بھی
جھٹ ہاتھ اٹھا تا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ شخص بھی ہے پاگل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جو رب کو بھلا بیٹھا
جو کرکے خطا بیٹھا
دولت کے نشے میں جو
جنت کو گنوا بیٹھا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ شخص بھی پاگل ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جو علم نہ سیکھے وہ
جو دین نہ جانے وہ
جو خود کو بڑا سمجھے
جو حق کو نہ مانے وہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہے وہ بھی بڑا پاگل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دنیا میں جو کھویا ہے
غفلت میں جو سویا ہے
جو موت سے ہے غافل
جو عیش کا جویا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کو بھی کہو پاگل

جمعہ, اکتوبر 21, 2016

آج کی بات ۔۔۔۔ 21 اکتوبر 2016

!! آج کی بات !!
 
خوشگوار اور مطمئن زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو
 لوگوں سے نہ جیتیں، لوگوں کو جیتیں
لوگوں پر نہ ہنسیں، لوگوں کے ساتھ ہنسیں۔

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ 14

تدبرِ قرآن سورہ البقرہ- حصہ 14

ﻭَﺇِﺫَا ﻗِﻴﻞَ ﻟَﻬُﻢْ ءَاﻣِﻨُﻮا۟ ﻛَﻤَﺎٓ ءَاﻣَﻦَ ٱﻟﻨَّﺎﺱُ ﻗَﺎﻟُﻮٓا۟ ﺃَﻧُﺆْﻣِﻦُ ﻛَﻤَﺎٓ ءَاﻣَﻦَ ٱﻟﺴُّﻔَﻬَﺎٓءُ ۗ ﺃَﻻَٓ ﺇِﻧَّﻬُﻢْ ﻫُﻢُ ٱﻟﺴُّﻔَﻬَﺎٓءُ ﻭَﻟَٰﻜِﻦ ﻻَّ ﻳَﻌْﻠَﻤُﻮﻥ.  (البقرہ 13)
. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے.

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتُہُ..
آج میرا ارادہ بارہویں آیت سے آگے جاری رکھنے کا ہے.  ہم نے بارہویں آیت میں دیکھا منافقین کو پہلی بار مخاطب کیا گیا.  اور ان کو زمین میں فساد نا کرنے کا حکم دیا گیا.
آگے جانے سے پہلے میں دو باتیں بتانا چاہتا ہوں آپکو. قرآن میں جب ﺃَﻻَٓ لفظ کا استعمال کیا گیا ہے،  جیسے اَلا انھم ھم السفھا...
ان الفاظ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ الفاظ ایک ذریعہ ہوتے ہیں آپ کی توجہ حاصل کرنے کا.
اب ایک مومن تو اللہ کی کہی ہر بات کو توجہ سے سنے گا. کیونکہ اللہ ہمارے قرآن کے استاد ہیں، تو کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں بحیثیت استاد آپکو سوچنا پڑتا ہے کہ یہ بات سمجھانے کے لیے طلباء کو خاص طور پر متوجہ ہونا ہے،  سو آپکو کچھ ایسا کرنا پڑتا ہے جس سے طلبا مزید چوکس ہو کر آپکو سنیں. تو ایسے موقع پر اللہ استعمال کرتے ہیں الا انھم ھم السفھا... کہ جان لو وہ ہی..  ہاں وہ ہی ہیں بیوقوف
اب اصلاح کے نام پر کچھ ایسی باتیں کرنا معاشرے کے لیے زہر کا کام کرتی ہیں. تو اللہ ہمیں ایسی باتوں سے اور ایسی باتیں کرنے والوں کے بارے میں تنبیہ کرتے ہیں تو اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں کہ اس قسم کی باتوں میں نہ آنا.  ایسی باتیں  جو کمپرومائز، ثالثی کردار یا امن قائم کرنے کے نام پر حق و باطل کو ملانے کی کوشش میں کی جائیں.  ہاں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کردار یا کمپرومائز کی جگہ ہے دین میں لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جن میں کوئی کمپرومائز نہیں. جو حق ہے وہ حق ہے.  اسکو کسی بحث کے زریعے بدلا نہیں جا سکتا. جب عبادت کا ذکر آئے تو یہ کرنی ہی کرنی ہے، اس میں کوئی کمپرومائز نہیں.
سو ایسے معاملوں میں اللہ ﺃَﻻَٓ کا لفظ استعمال کرکے بات کررہے ہیں. 
دوسری بات جو میں کل نہیں بتا سکا تھا کہ اللہ نے پہلے 'اِنّا' کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ تب استعمال کیا جاتا ہے جب یقین دلایا جانا مقصود ہو. شک مٹانا مقصود ہو.  تو جب ایک آیت اس لفظ سے شروع ہو تو مقصد ہوتا ہے خبردار کرنا...  کہ آگے جو میں کہنے جارہا ہوں اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے. 
اس کے علاوہ اس آیت میں اللہ نے 'ھُم' دو بار استعمال کیا ہے. جسکا مطلب ہے 'وہ'. یعنی وہ ہاں وہی ہیں جو فساد پیدا کرتے ہیں.
اور پھر المفسدون.. عربی میں جملہ کے دوسرے حصے میں ال کا استعمال جملے پر زور دینے کے لیے. استعمال کیا جاتا ہے.
اب آپ دیکھیں. 'اِنَّا' کا استعمال، پھر 'ﺃَﻻَٓ' پھر دو بار 'ھُم' اور پھر 'اَل'...
یہ سب اس بات پر زور دینے کے لیے ہے کہ یہ لوگ فسادی ہیں.
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے عربی زبان کا انتخاب کیا قرآن کے لیے. کہ یہ بہت گہری زبان ہے.  کچھ الفاظ کے زریعے صرف الفاظ نہیں بلکہ جذبات بھی بیان کیے جاتے ہیں.

 جیسے کہ انگریزی میں مثال کے طور پر اگر میں آپ سے کہوں"آپ کو دیکھ کر اچھا لگا" اور میں اسے آپ کو لکھ کر بتاؤں کہ آج آپ کو دیکھ کر اچھا لگا تو آپ ان الفاظ سے میرے اصل جذبات نہیں سمجھ سکیں گے. ہو سکتا ہے میں نے ایسا طنزیہ طور پر کہا ہو یا یہ ایک عمومی تاثر ہی ہو یا بہت ہی جذباتی ہو کر بھی کہہ دیا ہو. جذبات الفاظ کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتے اکثر اوقات تو الفاظ کا مطلب ہی اور ہوتا ہے. بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی کو کوئی پیغام بھیجیں یا ای میل کریں یا خط ہی لکھیں تو اکثر جذبات الجھا تاثر بھی دیتے ہیں. جیسے آپ کا "ٹھیک ہے" کہنے سے کیا مقصد تھا؟ کیا ایسا خوشی سے کہا تھا؟ یا بیزاری سے کہا تھا؟ یا غصہ سے کہا تھا؟ آخر کہنا کیا چاہتے تھے؟

قرآن کی زبان خاص طور پر قدیم عربی زبان ایسی ہے کہ نہ صرف الفاظ میں مطلوبہ معنی کو گرفت کیا جاتا ہے بلکہ بیان بازی جو کہ عربی زبان کا حصہ ہے، اراداتاً مطلوبہ جذبات کو بھی بیان کیا جاتا ہے جیسے کہ جب غصہ دکھانا مقصود ہو، جتنی شدت کا اظہار کرنا مقصود ہو یہاں تک کہ علامات استعجابات کو بھی ایک ہی جگہ پر اکٹھا کر دیا جاتا ہے. یہ حیرت انگیز ہے. اس لیےقرآن کے حفاظ خواہ وہ بچے، بوڑھے، جوان، مرد یا عورت کوئی بھی ہو ان کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ عربی زبان کو بھی سیکھیں. آج کل مسلم امہ تہذیب میں قرآن کو حفظ کرنا بہت عام ہو چکا ہے اور الحمد لله ہم اس کام میں اچھے بھی ہیں. ہمارے بچے ڈیڑھ' دو یا تین سال میں مکمل قرآن حفظ کر لیتے ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قرآن پاک کے الفاظ تو یاد کر لیتے ہیں، تجوید بھی یاد کر لیتے ہیں مگر قرآن پاک کے جذبات کو نہیں سمجھتے.
 الفاظ کو سمجھنے سے قاری کی تلاوت پر بھی اثر پڑتا ہے جو بھی وہ تلاوت کر رہا ہو. اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس بات پر دھیان دیں کہ حفاظ جو یاد کر رہے ہیں اسے سمجھیں بھی. یہ ہمارے بچوں کا قصور نہیں ہے کہ وہ عربی زبان نہیں جانتے بلکہ ان والدین کی ذمہ داری ہے جو اپنے بچوں کو قرآن حفظ کرواتے ہیں کہ اپنے بچوں کو عربی زبان بھی سکھائیں تاکہ بچے قرآن کو سمجھ بھی سکیں. کیونکہ قرآن پاک حفظ کروانے کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ لوگ اس سے فیض یاب ہو سکیں خاص طور پر اپنی نمازوں میں دہرا سکیں. 
بہرحال یہ کلمہ أَلَا کے بارے میں پہلی نمایاں بات تھی اور بیان بازی کے جو آلات اس میں استعمال ہوئے ہیں ان کے بارے میں بیان تھا.
دوسری نمایاں بات اس آیت میں فاسد اور مفسد میں فرق کی ہے. عربی زبان میں لفظ فاسد کا مطلب ایک بدعمل، بداخلاق انسان ہے. اور مفسد اس صفت کی زیادتی ہے. جس کا مطلب ہے کہ ایسا انسان جو نہ صرف خود بدعمل ہو بلکہ دوسروں کو بھی بگاڑنے والا ہو. یعنی یسببون الفساد فی الآخرین. وہ دوسروں میں فساد پیدا کرتے ہیں.
جیسے آپ اگر بات کریں ایک انسان کی، جو کہے کہ ہمیں مصالحتی رویہ اپنانا چاہیے ایسا انسان جب دوسروں کے ساتھ بیٹھے گا تو کہے گا کہ "جانے مسلمان اپنے عقیدہ میں اتنے سخت کیوں ہیں؟ وہ آخر تھوڑی بہت مصالحت اختیار کیوں نہیں کر لیتے ؟" ایسے لوگ دوسرے کمزور عقیدہ کے مسلمانوں کی جڑیں کمزور کر رہے ہوتے ہیں اور وہ مسلمان اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات میں پڑ جاتے ہیں تو ایسے دماغ کے لوگ ہی فساد پھیلانے والے ہیں.
مسلم امہ میں رہتے ہوئے بھی جب مسلمان اسلام پر درست عمل نہیں کرتے تو اول تو ان کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے دوسرے وہ یہ کمزوری اپنے خاندان اور دوستوں میں پھیلا دیتے ہیں وہ صرف فاسد نہیں رہتے مفسد بن جاتے ہیں.
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ ﴿١٢﴾
اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں.

اگلی آیت میں بہت خوبصورتی سے کہا جا رہا ہے
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے (یہ اس آیت کے پہلے حصے کا سرسری ترجمہ ہے).
اس بات کا کیا مطلب ہوا؟ اصل میں یہاں  کلمہ قِیلَ میں بتایا جا رہا ہے کہ ایسا کہا جا چکا.
دوسرے الفاظ میں منافقین نے اپنے منافقانہ رویے دکھانا شروع کر دیے تھے اور بڑھ چڑھ کر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو متاثر کرنا چاہتے تھے. ان کے ماتھوں پر منافق لکھا نہیں ہوا تھا اور وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح ہی سب کے ساتھ ہوتے تھے. وہ مسلمان جو منافق نہیں تھے وہ پریشان ہوتے تھے اور انہیں نصیحت کرتے تھے کہ "آپ ٹھیک نہیں کر رہے. کیا میں آپ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟" اور وہ انہیں علیحدگی میں لے جاتے تھے اور انہیں نصیحت کرنے کی کوشش کرتے. تو لفظ قِیلَ میں یہ صورتحال بیان کی جا رہی ہے. یعنی جب ان سے علیحدگی میں کچھ کہا جاتا ہے.
 اَمِنُوا آپ کو ایمان لے آنا چاہیے.
اب سوچنے کی بات یہ ہے کیا انہوں نے کہا نہیں تھا کہ
آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِر کہ ہم ایمان لے آئے. اب ان کے دوست آ کر انہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ کو واقعی میں ایمان لے آنا چاہیے کیونکہ وہ ان منافقین کو اچھی طرح جانتے ہیں.
میں آپ کو متعدد بار یہ سمجھا چکا ہوں کہ آپ کسی کے ایمان کا اندازہ نہیں لگا سکتے. اب آپ یہ سوچتے ہوں گے کہ ایمان دل کے اندر ہوتا ہے تو پھر ان لوگوں کے دوست یا دوسرے مسلمان انہیں کیوں سمجھاتے تھے کہ آپ کو ایمان لے آنا چاہیے؟ اصل میں جب ایمان آپ کے دل میں ہو تو وہ آپ کے عمل میں بھی نظر آتا ہے.

-نعمان علی خان

جاری ہے......

جمعرات, اکتوبر 20, 2016

خوش نصیب

السلام و علیکم ورحمتہ اللہ

کچھ دن قبل میں نے جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب کے بلاگ پر ایک تحریر پڑھی بعنوان 'خوش نصیب کیسے ۔۔" اس میں انہوں نے 5 نکات کی صورت بتایا تھا خوش نصیب بننے کا نسخہ ۔۔۔ میں نے ان سے تھوڑی تفصیل چاہی تو بذریعہ ای میل انہوں نے ارسال کی جس کے لئے شکر گزار ہوں :) ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوش نصیب بننے کا طریقہ

٭محنت کیجئے
٭مثبت رویّہ رکھیئے
٭فیّاض بنیئے
٭صِلہ تقسیم کیجئے
٭اپنے آپ پر بھروسہ کیجئے

 
محنت کیجئے  ۔
تفصیل ۔ اگر آٹا گوندھنا ہو تو گھول کر نہ رکھ دیں ۔ مُٹھیوں سے دبائیں ۔ پلٹائیں پھر دبائیں یہاں تک کہ وہ آپ کے ہاتھوں سے چمٹنے کی بجائے آپس میں اتحاد پیدا کر لے ۔ اگر گوشت پکانا ہے تو سب کچھ ڈال کر گھنٹہ بھر اُبلنے کیلئے چولہے پر نہ رکھ دیں بلکہ ڈوئی ہاتھ میں پکڑ ہلاتی رہیں اور گوشت کو بھُونیں یہاں تک کہ گھی علیحدہ ہو جائے گھی کی خوشبو آنے لگے
کپڑے دھونے ہوں تو پانی ڈال کے صابن ڈال کے نہ رکھ دیں بلکہ پہلے کپڑے پر جہاں داغ ہو اُسے گیلا کر کے اور صابن لگا کر دونوں ہاتھوں سے خوب ملیں یہاں تک کہ داغ غائب ہو جائے

مثبت رویّہ رکھیئے ۔
تفصیل ۔ ہر بات کے دو مطلب ہوتے ہیں ۔ جو اچھا مطلب ہو ۔ سمجھیں کہ یہی مطلب ہے جب تک کہ اس کا اُلٹ ثابت نہ ہو جائے  ۔ اگر منفی مطلب لیا جائے تو کوئی مُسکرا کر سلام کرے وہ بھی طنز محسوس ہوتا ہے

فیّاض بنیئے ۔
تفصیل ۔ جہاں خرچ کرنا بہتری کا سبب ہو وہاں کنجوسی نہ کریں ۔ کسی کی مدد کرنا ہو تو کھُلے دل سے کریں ۔ دکھاوے کیلئے نہیں جس طرح ہمارے کچھ سیاستدان تصویر کھِچوانے کیلئے کرتے ہیں

صِلہ تقسیم کیجئے ۔
تفصیل ۔ جب کسی کو کام کی اُجرت دیں تو ہاتھ کھُلا رکھیئے البتہ فضول خرچی نہ کیجئے ۔ کوئی مدد کرے تو جب اُس کی مدد کا وقت آئے تو بھرپور مدد کیجئے ۔ کوئی مدد نہ بھی کرے اگر اُسے مدد کی ضرورت ہو تو مددکیجئے

اپنے آپ پر بھروسہ کیجئے ۔
تفصیل ۔ مخمصے میں نہ پڑیئے ۔ جو آپ نے کیا ہے اُسے بہترین سمجھیئے اور جو کرنا چاہ رہی ہیں اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہوئے تن دہی کے ساتھ کیجئے تو کامیابی یقینی ہے

بدھ, اکتوبر 19, 2016

آج کی بات ۔۔۔۔ 19 اکتوبر 2016

آج کی بات ۔۔۔۔ 19 اکتوبر 2016

'اعتماد' ایک چھوٹا سا لفظ ہے
جسے پڑھنے میں سیکنڈ،
لکھنے میں منٹ، 
سمجھنے میں دن،
مگر ثابت کرنے میں 'زندگی' لگ سکتی ہے۔

منگل, اکتوبر 18, 2016

'کُن' پہ شکوہ کناں ۔۔۔۔ از حیا ایشم


ہم کہنے کو انساں ۔۔ حقیقت میں ناداں ۔۔ ہاں ۔۔ ہم بھی ناں ۔۔
اُسکے کُن پر کُن فکاں ہونے کی بجائے ۔۔ شکوہ کناں ہو جاتے ہیں

ماننے والوں سے پوچھو تو بتائیں گے کہ ہاں آج سے فلاں سال پہلے مجھے اپنی زندگی کے اس فیصلے کی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی، زندگی جیسے ایک بند گلی کے سوا کچھ نہیں دکھ رہی تھی، مگر آج سوچوں تو پتہ چلتا ہے پھر اسی گلی سے سے ایک نیا راستہ نکلا، اللہ نے میرے لیئے بہتر کیا آج یقین سے کہتا ہوں، تو آج بھی اپنی سعی کے بعد جب اللہ کے فیصلوں کو سوچتا ہوں تو یہی لگتا ہے کہ، وہ ہے ناں ۔۔ بہتر فیصلہ کرنے والا۔

الحمدللہ غوروفکر کرنے والے رمز پا جاتے ہیں، اور سوال کرتے رہنے والے الجھ جاتے ہیں، اللہ جو کرتا ہے وہ ہمیں آج سمجھ نہیں آتا، مگر ہاں وہ جس کو سمجھانا چاہے اسے سمجھا دیتا ہے جو سوال ہی میں رہنا چاہے اسکو سوال دے دیتا ہے، سب رنگ ہیں تو اسی کے، ایک ایک کا راز کھولتا ہے ، ہر رنگ پر ایک رنگ ہے، ہر دانے پر ایک دانہ ہے۔

حضرت خضر علیہ السلام کو حکمت عطا تھی حضرت موسٰی علیہ السلام کے علم نے انکو سوال کرنے پر اکسایا کہ وہ جو کر رہے تھے بظاہر انکا علم انہیں ایسا کرنے پر منع کرتا تھا، انہوں نے اپنے طور اپنے علم کا حق ادا کیا، وہ پیغمبر تھے، ہم تو ایسے عام سے انسان ہیں، مان ہی نہیں پاتے ہماری چلتی کشتی میں سوراخ ہوا تو کیوں ہوا، اللہ کی حکمت سمجھ ہی نہیں پاتے، سوال اٹھا دیتے تھے، جس نے کشتی دی تھی سوراخ بھی اسی نے دیا، اب جو بھی مان کر کرنا ہے یا تن کر اڑنا ہے؟ یہ ہمارا ظرف ہے، اس نے تو اچھا کیا بہت اچھا کیا جو جیسے کیا وہ تو اچھا ہی کرتا ہے، اگر وہ کہتا ہے اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا ایمان کا حصہ ہے، تو اسکا مطلب ہوا کہ بری تقدیر تک کو ہم کوس نہیں سکتے۔ اور ہم نادان امتی ﷺ ہوتے ہوۓ بھی اپنی زندگی اپنی تقدیر کو کوستے ہیں،

"کاش ایسا نہ ہوا ہوتا" ۔۔ شیطان کی جانب سے وہ وسوسہ ہے جو جاری رہے تو سوال بن کر انا کی فنا کے آڑے آ جاتا ہے، اللہ کے فیصلے کی رضا میں بقا، بندگی کی معراج ہے ہے، اللہ کے فیصلے کے آڑے آنا فقط اپنی بےسکونی، خود ساختہ سزا کا باعث ہے، اللہ اپنے راستے میں مانگتا ہی وہی ہے جو سب سے عزیز ہے، اللہ ہمیں اپنی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطا فرما دے اللھم آمین!

اور تو کچھ نہیں بس اک رضا ہے میری

 تیری رضا میں ڈھل جاؤں یا رب!
اللھم آمین!

حیا ایشم!

سوموار, اکتوبر 17, 2016

آج کی بات ۔۔۔17 اکتوبر 2016


اپنے کردار کی عیادت کرتے رہا کریں۔۔۔
اس سے پہلے کہ آپ کی ذات کی تعزیت کی جاۓ...!!!

اتوار, اکتوبر 16, 2016

پہچان


کل اثاثے کی میاں ایک ہی گٹھڑی نہ بنا
تا کہ ہر ٹوٹی ہوئی چیز کی پہچان رہے

(اظہر فراغ)

واٹس ایپ (مال مفت دل بے رحم) از یوسف ثانی


واٹس ایپ (مال مفت دل بے رحم)
======================
جب سے طویل سے طویل پیغامات، تصاویر اور ویڈیو کی ترسیل کے لئے واٹس ایپ کی مفت سہولت فراہم ہوئی ہے، تب سے احباب کی محبتوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سا نظر آنے لگا ہے ـ پہلے جو احباب صرف سال کے سال عید مبارک کے مختصر ترین پیڈ پیغامات بھیجا کرتے تھے اب وہ بھی صبح دوپہر اور شام تینوں اوقات میں باقاعدگی سے پیغامات تصاویر اور ویڈیو بھیجنے لگے ہیں ـ پہلے میں کبھی بھی اپنے ان باکس میں آئے ہوئے خطوط و پیغامات کو دیکھے اور جوسب طلب امور کا جواب دئے بغیر ڈیلیٹ نہیں کیا کرتا تھا ـ لیکن واٹس ایپ کے ذریعہ موصول ہونے والے پیغامات کے انبار کو بغیر دیکھے ڈیلیٹ کرنے ہر مجبور ہوگیا ـ جب اس کی فرصت نہ رہی تو تنگ آکر واٹس ایپ ہی کو ان انسٹال کردیا تاکہ "نہ رہے بانس نہ بجے بانسری" مطلب یہ کہ نہ رہے واٹس اپ اور نہ آئے مفت کے غیر مطلوبہ پیغامات ـ جسے ضروری پیغام بھیجنا ہو وہ ایس ایم ایس کے ذریعہ پیسہ خرچ کرکے بھیجے۔

جب کافی عرصه تک شانتی رہی اور ایس ایم ایس بھی کوئی نہ آیا تو ہم سمجھے احباب ہماری بات سمجھ گئے ہوں گے ـ لہٰذا ایک دن چپکے سے واٹس ایپ پھر انسٹال کر لیاـ ایسا لگا جیسے احباب اسی انتظار میں تھے ـ اندھا دھند فائرنگ کی طرح پیغامات کی فائرنگ شروع کردی اور ساتھ ہی ساتھ بھانت بھانت کے گروپس میں بھی ایڈ کرتے چلے گئے ـ پہلے ہمارے موبائل کی بیٹری کئی کئی دن تک بغیر چارج کئے چلا کرتی تھی ـ اب اس کا صبح سے شام تک چلنا بھی دشوار ہوگیا ـ رات بیٹری فل چارج کرکے سوئے تو رات ہی رات میں بیٹری زیرو ہوکر موبائل بند ہوجائے اور کوئی ہم ضروری رابطہ ہی نہ کرپائے ـ واضح رہے کہ ہم مہینہ کے بیشتر گھر سے دور رہتے ہیں ـ اور گھر سے رابطہ کا یہی واحد ذریعہ ہے ـ احباب ہمیں گروپس میں شامل اور ہم ان سے خود کو خارج کرتے رہتے ہیں ـ

اب سوچ رہا ہوں کہ واٹس ایپ کے لئے دن رات کے لئے الگ الگ ملازم رکھ لوں جو انہیں باقاعدگی سے پڑھے ، ان کے ضروری نوٹس سے مجھے آگاہ کرے ـ اور اپنی اجرت واٹس ایپ کرنے والوں سے اپنے طریقے سے وصول کرے ـ مجھے واٹس ایپ کرنے والے تمام احباب مستقبل قریب میں ایسے ماہانہ بلوں کی ادائیگی کے لئے خود کو تیار کرلیں۔

تحریر: یوسف ثانی 

ہفتہ, اکتوبر 15, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ 13





تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ 13

یہ فساد کے بارے میں پہلی بات تھی جو میں آپ کے ساتھ بانٹنا چاہتا تھا. پر میں چاہتا ہوں کہ آپ فساد کو دو مختلف پہلوؤں سے جانچیں ایک میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں. وہ درمیانہ گروہ کا جس کے بارے میں پہلے بتاتا رہا ہوں وہ دیکھتے ہیں کہ مکہ سے جو مسلمان آئے ہیں وہ جنگ کے لیے تیار ہیں. جنگ سے بہتر کیا ہوتا ہے؟ امن. اور امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات، بات چیت وغیرہ کرنا پڑتا ہے کہ روابط نہ خراب ہوں، جنگ کی نوبت نہ آئے پر اگر روابط توڑ دئیے جائیں اور جنگ کی نوبت آ جائے تو یہ فساد ہو گا. وہ درمیانی گروہ سوچتا تھا کہ صحابہ کرام فساد چاہتے تھے.وہ سوچتے تھے کہ صحابہ کرام، مکہ کے لوگ، قرآن بذات خود مسئلہ ہیں نہ کہ حل. ان کا ماننا تھا کہ اگر ان چیزوں پر سمجھوتہ کر لیا جائے اور کوئی درمیانی رستہ نکل آئے تو گزارہ ہو سکتا ہے. کیونکہ مکہ میں پہلے سے جو لوگ موجود تھے وہ سمجھوتے کے لیے راضی تھے. اس لیے منافقین کہتے تھے کہ کچھ ہمارے لوگ اور کچھ ان کے لوگ مل کر کسی سمجھوتے پر راضی ہو سکتے ہیں. تو جب انہیں کہا جاتا ہے کہ "زمین میں فساد نہ پھیلاؤ" تو وہ کہتے ہیں "نہیں نہیں ہم تو امن ہی چاہتے ہیں، ہم ہی تو مسئلوں کا حل چاہ رہے ہیں."
پر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہی لوگ فساد کا باعث ہیں؟
 فساد کا اصل مطلب امن یا جنگ نہیں بلکہ اس کا اصل مطب نا انصافی، ظلم ہے. ظلم کی مثالیں، جیسے بنا کسی وجہ کے ایک بچی کا زندہ دفنایا جانا، کاروبار میں لوگوں کے ساتھ دھوکا دہی وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، غریب لوگوں کو جائے پناہ نہ دینا، کسی کا ان کی پرواہ نہ کرنا، فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ یتیموں کو دھتکارنا، اللہ کی عبادت کے لیے ابراہیم علیہ السلام کے بنائے گیے گھر کا بتوں سے گھرا ہونا. ایسا سوچنا ہی کتنا عجیب لگتا ہے کہ ایک مسجد بتوں سے گھری ہو یا خانہ کعبہ کے سامنے ایک بت پڑا ہو. خانہ کعبہ کا، جو کہ خالص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا اس کا شرک سے گھرا ہونا کس قدر جارحانہ عمل ہے. کیا وہ فساد نہ تھا؟ جبکہ حقیقت میں سب سے بڑا فساد  ہی یہی ہے کہ آپ اپنے معبود کا حق ادا نہیں کر رہے اور اپنے اردگرد رہنے والوں کے ساتھ مسلسل ظلم کرتے جا رہے ہیں.

 ظلم کے ان سب اعمال جیسے کہ یتیموں کو دھتکارنا، لوگوں کو کوروبار میں دھوکا دینا، عورتوں کے ساتھ انتہائی برا سلوک، قتل و غارت وغیرہ کے ساتھ ساتھ قریش کے لوگ حج کے لیے آئے لوگوں کا خیال بھی رکھتے تھے. سِقایَةَ الحاجِّ قریشی اس بات کا دھیان ضرور رکھتے تھے کہ اور کچھ ہو نہ ہو حاجیوں کا خیال رکھا جائے. وہ بہت اچھے میزبان تھے اس لیے اجنبی کہتے تھے کہ وہ کیسے برے ہو سکتے ہیں وہ تو ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں جب بھی ہم جاتے ہیں. قریش کی کبھی کسی سے لڑائی بھی نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ خانہ کعبہ کے نگران تھے. اسی لیے قریش کے لوگ پرامن مشہور تھے. 

اب اسلام آتا ہے اور کہتا ہے کہ نہیں آپ یتیموں سے، عورتوں سے، نومولود بچیوں سے ایسا سلوک نہیں کر سکتے. آپ ان لوگوں کے ساتھ جن کے ساتھ برے سلوک سے خود قرآن، اسلام، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع کر رہے ہیں آپ ان کے ساتھ برا سلوک نہیں کر سکتے. آپ لوگوں کے ساتھ ان کی نسل کے اعتبار سے امتیازی سلوک نہیں کر سکتے. ہر انسان اپنے تقویٰ سے پہچانا جاتا ہے اور اللہ جانتا ہے ہر انسان کے تقویٰ کا معیار. اسلام واضح کر دیتا ہے کہ اگر آپ ان اصولوں پر عمل نہیں کرو گے تو فساد برپا ہوگا خواہ آپ صاف ستھری جگہ، گلیاں، کھانے پینے کی ستھری اشیاء رکھتے ہوں.
فساد اصل میں پہلے ذات سے، اخلاق سے شروع ہوتا ہے. اور یہاں اسی فساد کا ذکر ہے۔ اسلام کے مدینہ آنے کے بعد بھی فساد کی تعریف بدلتی نہیں وہی رہتی ہے ابھی بھی کفر، ظلم، جھوٹ بولنا، کرپشن فساد ہی رہتا ہے. اس لیے (مطلع کیا جا رہا ہے کہ)جب منافق سمجھوتے کے لیے آتے ہیں تو (جان لیں)کہ آپ ان کی نا انصافیوں کے ساتھ سمجھوتہ کر رہے ہیں.  انصاف اور ظلم ایک ساتھ ایک دل میں نہیں رہ سکتے.
مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ
تو بظاہر جو امن منافق قائم کرنا چاہتے ہیں اصل معنوں میں وہ ہی اصلی فساد تھا. اللہ پاک فرماتے ہیں أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُون
وہ لوگ ہی فساد کی اصل جڑ ہیں.
جب آپ اللہ کے مکمل پرامن دین میں سمجھوتوں کا دخل چاہتے ہیں َتو آپ سے بڑا فسادی کوئی نہیں. جو چیز پہلے سے ہی مکمل خالص ہو تو نہ آپ اس میں کچھ جمع کر سکتے ہیں نہ ہی اسے مزید بہتر بنانے کے لیے کچھ نکال باہر کر سکتے ہیں. اللہ نے یہ جو دین ہمیں دیا ہے یہ خالص ہے. اس میں سے کچھ نفی کرنا یا کچھ اپنے پاس سے جمع کرنا فساد ہے. اسلام فساد کو ختم کرنے آیا تھا اسے بذات خود کسی جوڑ توڑ کی ضرورت نہیں ہے. منافقوں کا مسلہ ہی یہی ہے کہ وہ دین کو اپنے طریقے پر بدلنا چاہتے ہیں جبکہ دین اس لیے آیا کہ آپ خود میں تبدیلی لائیں.

اب جب کہ ان آیات کی روشنی میں آپ جان چکے ہیں کے منافقیین کا طرز عمل کیسا ہوتا ہے تو اب ہم واپس سے یہودیوں کی جماعت کے بارے میں سوچتے ہیں جب اللہ پاک فرماتے ہیں:
يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا
وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں.
کیوں؟کیسے؟
 وہ مسلمانوں کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ ہمارا تمہارے نبی پر ایمان لانا ضروری تو نہیں کیونکہ ہم تو پہلے سے ہی مانتے ہیں آمَنَ بِاللَّهِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ اللہ اور آخرت کو. اور یہی کافی ہے. ہمارے اللہ اور آخرت کو ماننے کے باوجود آپ ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں ہم تو آپ ہی کی طرح ایمان لانے والے ہیں ہمیں تو مل کر کام کرنا چاہیے.
ایسی باتیں وہ مسلمانوں کے سامنے کرتے تھے اور جب وہ واپس اپنے لوگوں میں جاتے تو مکہ کے لوگوں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندیاں کرتے کہ "کب آ رہے ہو ان مسلمانوں کو قتل کر نے؟ ہم ان کے سامنے جھوٹا مسکرا مسکرا کر تھک چکے ہیں، ہمیں ان سے نفرت ہے."
 تو پیٹھ پیچھے وہ ایسی منصوبہ بندیاں کرتے تھے اور سامنے مسکرا کر ہاتھ ملاتے، پیار محبت کا دکھاوا کرتے تھے. یہودیوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو اصل میں مسلمانوں کے دوست تھے. پر اللہ یہاں تمام یہودیوں کی نہیں صرف ان کے درمیان چھپے دھوکے بازوں کی بات کر رہا ہے جو بظاہر تو سگے بنتے تھے مگر اصل میں مسلمانوں سے چھٹکارا چاہتے تھے. اسی لیے اللہ پاک کہتا ہے
وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
وہ اپنے علاوہ اور کسی کو دھوکا نہیں دے رہے انہیں احساس بھی نہیں ہے کہ وہ خود کو ہی بےوقوف بنا رہے ہیں.
فِي قُلُوبِهِم مَّرَض
چونکہ یہ جملہ اسمیہ ہے اس لیے اس کا مطلب ہوا ان کے دلوں میں یہ بیماری ہمیشہ سے ہے.
یہودی ہمیشہ سے ہی دین میں اپنی مرضی کرتے رہے ہیں. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نبی نہیں ہیں جن کو ماننے سے انہوں نے انکار کیا بلکہ اپنے انبیاء کو بھی انکار کرتے رہے ہیں.
وَ یَقْتُلُونَ النَّبِیِّینَ بِغَیْرِ حَقٍ
ان کے نزدیک اپنے انبیاء کا قتل کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی. تو آپ مسلمان اس بات پر پریشان نہ ہوں جب وہ ایسی باتیں آپ سے کہیں.
فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضً ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ
اللہ نے ان کی بیماری کو مزید بڑھا دیا ہے. انہوں نے انبیاء کرام کو بہت تکالیف پہنچائیں. انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے سے بھی پہلے انہیں تکلیفیں پہنچانے کی کوششیں کیں. قریش اپنے کچھ لوگوں کو مدینہ بھیجتا ہے وہ وہاں جا کر کہتے تھے کہ
"ہمارے پاس ایک آدمی آیا ہے وہ کہتا ہے کہ وہ رسول ہے پر ہم نہیں جانتے کہ ان سے رسول ہونے کی کیا نشانی پوچھیں. کیونکہ وہ ہمیں اپنے قرآن سے مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں. تو آپ مذہبی کتابوں کے حامل لوگ ہیں کیا آپ ہمیں کچھ ایسے مشکل سوالات بتا سکتے ہیں جو ہم ان سے پوچھیں جن کا ان کے پاس جواب نہ ہو اور یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے."
 اصل میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاموش کروانے کے لیے ایسے سوال کرنا چاہتے تھے جن کے آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہار جائیں. قریش خود تو پڑھے لکھے نہیں تھے تو انہیں مدینہ کے راہبوں کی مدد لینی پڑتی تھی. اور راہب بھی ایسے تھے وہ قریش کو کہتے ان سے یہ پوچھو، وہ پوچھو، فلاں سوال کا جواب تو انہیں آ ہی نہیں سکتا، ان سے یہ پوچھو وغیرہ. تو مکہ کے لوگ تو پہلے سے ہی دین کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں تھے. تو اللہ پاک فرماتے ہیں وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُون
  وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ
جب انہیں کہا جاتا ہے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ.
یہودیوں کی وہ جماعت کیا فساد پھیلا رہی تھی؟ وہ اپنی کتاب کی باتیں چھپا رہے تھے. اگر ان کی تورات کو، جو اللہ پاک نے اس وقت تک باقی رکھی، پڑھا جاتا تو کوئی شبہہ نہ رہ جاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم الله کے رسول ہیں. اس بات سے انکار کے لیے یہودیوں نے تورات کے ان حصوں کو چھوڑ دیا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر تھا.
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ.
کیا تم کتاب کے کچھ حصوں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے کفر کرتے ہو. 
وہ بس تورات کے ان حصوں کو ہی چھوڑ دیتے تھے. اللہ پاک فرماتے ہیں
قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا
کیوں نہ تم تورات لے آؤ اور اسے پڑھو.
قرآن یہودیوں کی جماعت سے کہہ رہا ہے جاؤ تورات لاؤ اور اسے پڑھو
إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اگر تم واقعی میں سچے ہو.
وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو معلوم پڑ جاتا کہ قرآن ہی مُھَيْمِنُ ہے، اللہ پاک کی آخری کتاب ہے. تو وحی کو چھپانا بھی فساد کی ایک بہت بڑی قسم ہے. تو جب انہیں کہا جاتا ہے کہ فساد مت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں
إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں.
یہاں پر یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے پاس جو ان کی کتاب باقی تھی انہوں نے اس کے بھی کچھ حصے چھپا دئیے. اب یہ بات ہم پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟
ہمارے پاس مکمل قرآن پاک ہے. اور قرآن کے کچھ حصے یقینی طور پر معاشرتی اعتبار سے ٹھیک نہیں لگتے.
قرآن کے کچھ ایسے حصے آجکل بائبل کی تبلیغ کرنے والے ایوانجیلک خود بھی پڑھتے ہیں جن میں ایسی باتیں ہوں جیسے "مسلمانوں کا قرآن کہتا ہے کہ جہاں بھی کفار کو پاؤ انہیں قتل کر دو." اب کوئی ان سے پوچھے بنا سیاق و سباق کے اس کا کیا مطلب ہوا؟ تو وہ کہتے ہیں "پہلے ہمیں معلوم کرنے دو پھر بتاتے ہیں."
ہم مسلمان ہونے کے باوجود اس بارے میں بات نہیں کرتے. پہلی بات تو یہ کہ ہماری کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں جسے ہمیں چھپانا پڑے. یہ کتاب صرف ہمارے لیے نہیں پوری انسانیت کے لیے نازل ہوئی ہے اور اگر اس کتاب کو مسلمانوں کے علاوہ بھی پوری دیانتداری اور ایمانداری سے کسی کو سمجھایا جائے تو یہ کسی بھی انسان کو سمجھ آ جائے گی. یہاں تک کہ وہ والے حصے بھی جو آپ کو معاشرتی اعتبار سے ٹھیک نہیں لگتے. اللہ کی کتاب کے کسے حصے کو چھپانے کی کوئی وجہ نہیں ہے. بلکہ اگر ایسا ہو تو اللہ پاک آپ بتاتا ہے کہ اگر آپ قرآن کی کسی بھی حصے کو چھپاؤ تو نہ صرف اللہ خود ایسے انسان پر لعنت کرتا ہے بلکہ فرشتے بھی. وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ  اللہ پاک نے ایسے فرشتے پیدا کیے ہیں جن کی تخلیق کا مقصد ہی اس انسان پر لعنت کرنا ہےجو کتاب کے کسی حصے کو چھپائے. سبحان الله.

اس آیت کی روشنی میں کتاب چھپانا سب سے بڑا فساد ہے. اگر کوئی انسان قیامت کے بارے میں سورہ قیامت سے خطبہ دے اور کوئی دوسرا آ کر کہے بھائی تمہیں جنت کے بارے میں بات کرنے چاہیے تھی تمہاری ایسی باتوں سے میں بہت پریشان ہو گیا ہوں. تو ایسے انسان کو کہنا چاہے کہ بھائی یہ قرآن کی سورہ مبارکہ ہے. ضروری نہیں کہ ہر سورہ میں تمہیں ایسی خبریں ہی سننے کو ہی ملیں جن سے تمہیں اچھا محسوس ہو. اس میں انذار یعنی تنبیہہ بھی ہے اور تبشیر یعنی خوشخبری بھی. اگر کچھ آیات میں الله عزوجل شوہر کے حقوق کی بات کرے تو بہنیں کہتی ہیں کہ بھائی ہمارے حقوق کے بارے میں تو بات کی نہیں. یا اگر میں عورتوں کے حقوق پر بات کروں جو کہ میں پہلے کر چکا بھی ہوں تو بھائی لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہمارے بارے میں آیات کا کیا ہوا؟ تو ایسا ہے کہ ایک خطبہ میں ایک موضوع ہی چل سکتا ہے. کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ایک خطبے میں پورا قرآن بیان کروں؟ تو میں تو ایسا کر لوں اگر آپ سو نہ جاؤ.
تو ہر کوئی کتاب کا وہ حصہ چاہتا ہے جس سے اسے فائدہ ہو اور اس حصے کو نظر انداز کرنا چاہتا ہے جو انہیں آئینۂ میں خود کی غلیظ تصویر دکھائے. یہی لوگوں کا فساد ہے.
لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
نہیں نہیں ہم تو بس چیزوں کو بہتر کرنا چاہ رہے ہیں. بس اتنا کرنا ہے کہ قران کے ان حصوں کو نمایاں کرتے ہیں جو معاشرتی اعتبار سے ٹھیک ہیں، جو ہماری پبلک ریلیشنز کے لیے بہتر ہیں اور قرآن کے ان حصوں کو چھوڑ دیتے ہیں جن پر بات کرنے سے کام خراب ہوتا ہے.
اگر ہم، آپ ایسا طرزعمل اپنائیں گے تو وہ قوم یعنی کہ ہم، ہماری امت جن کا مقصد ہی دنیا سے فساد کا خاتمہ تھا تو پھر ہم سے بڑھ کر فسادی دنیا میں کوئی نہ ہو گا. کیونکہ ہمارے پاس الله کی کتاب موجود ہے پھر یہ ہو گا کہ ہم نے ہی اسے چھپا دیا، ہم ہی فسادی ہیں. ہمارا مقصد تو ساری انسانیت تک اللہ کا پیغام پہنچانا ہے(نہ کے اسے چھپانا). قرآن کا کسی انٹرنیٹ سائٹ یا یوٹیوب پر ہونا کافی نہیں یہ تو مِن القُلُوب سے مِن القُلُوب منتقل ہونا چاہیے تھا. ہمیں اس کتاب کا حامل بنایا گیا تھا، ہمیں تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ دنیا کی کسی بھی جماعت میں اس کے بارے میں کھلم کھلا بات کریں، اللہ کے خوبصورت الفاظ کو انسانیت تک بنا کسی ڈر کے پہنچائیں. آخر ڈرنا کس بات کا؟ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي لوگوں سے مت ڈرو مجھ سے ڈرو. ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا.
تو وہ لوگ کہتے ہیں:
إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُون
وہ کہتے ہیں"نہیں نہیں آپ ہمیں غلط سمجھ رہے ہیں. ہم تو قرآن کے کچھ حصوں پر بات کر کے حکمت سے کام لے رہے ہیں." تو کیا باقی کا قرآن حکمت سے خالی ہے؟ کیا آپ قرآن کے وہ حصے نمایاں کر سکتے ہیں میرے لیے جو آپ کی نظر میں حکمت پر مبنی ہیں تاکہ میں آگے کے لیے محتاط رہوں.
الله عزوجل نے اس کتاب کو قرآنِ حکیم یعنی حکمت سے بھر پور قرآن کہا ہے. اس کے ہر حصے میں میرے لیے،  آپ کے لیے، پوری انسانیت کے لیے حکمت ہے.
اللہ پاک فرماتے ہیں:
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ
وہ لوگ انتہا کے فسادی ہیں کیونکہ انہوں نے کتاب کے حصوں کو چھپایا.
وَمَا يَشْعُرُونَ
اور وہ شعور نہیں رکھتے
اور انہیں اس بات کا آحساس بھی نہیں ہے. انہیں لگتا ہے کہ اللہ کے احکام کو نظرانداز کر کے اپنی من مانی کر کے وہ دنیا کا بھلا کر رہے ہیں. ان کی نسبت ہم ایسا نہیں کر سکتے.
وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا
الله کا حکم سب سے اونچا ہے. میرے خود کے خیالات، ترجیحات، اصول، خدشات، سیاسی آراء اس میں سے کچھ بھی اللہ کے حکم سے اوپر ہے نہ بڑھ کر ہے. اس امت کا ہر انسان الله کے حکم کا غلام ہے اور اس کا مطیع ہے.  يَعْلُو وَ لَا يُعْلَى عَلَيْهِ. قرآن دنیا کی ہر شے سے درجے، مرتبے میں بلند ہے. اس سے اوپر کچھ ہو ہی نہیں سکتا. یہ ہر شے پر غالب ہے. مسلمان اپنی ایسی سوچ کی وجہ سے فسادات سے دور رہتا ہے. پر جتنا امت کا اس کتاب سے فاصلہ بڑھتا ہے اور اس کتاب کے حصے چھپائے جانے لگتے ہیں(اتنا ہی ترجیحات بدلتی ہیں). پر والله العظیم ہمارا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم کتاب کے حصوں کو کیا چھپائیں ہم تو خود اس کتاب سے صحیح طور پر واقف نہیں کجا کہ کسی دوسرے کو بتانا یا چھپانا کیا جب ہم کچھ جانتے ہی نہیں. ہم قرآن سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ اس کی تبلیغ کی جو ذمہ داری ہم پر ڈالی گئی تھی ہم اسے ہی بھلا چکے ہیں. ہمیں س ذمہ داری کو واپس سے اٹھانا ہو گا. اللہ عزوجل ہمیں اس نسل میں سے بنائے جو قرآن کی تبلیغی ذمہ داری کو اس کی اصل جگہ پر واپس لے جانے والے ہوں.

تو اب ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان آیات کے ترجمے کے مطابق دو معنی ہیں ایک قیاسی معنی جس کا اطلاق مدینہ کے یہودیوں پر ہو رہا ہے دوسرا معنی بھی قیاسی اعتبار سے انہی یہودیوں میں سے مدینہ کے منافقین پر ہو رہا ہے. میں منافقین کے متعلق آیات کے دہرے معنی والی روش قائم رکھوں گا اور آپ کو بتاؤں گا کہ منافقین کے بارے میں کتنی آیات ہیں جو جاری رہیں گی اور آگے تو قرآن کی مشکل ترین مثالوں میں سے ایک مثال بھی  آئے گی. ان شاء الله ہم اسے بھی وضاحت سے سمجھ ہی جائیں گے.

-نعمان علی خان

جاری ہے

بدھ, اکتوبر 05, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 05 اکتوبر 2016

کٹھن وقت میں اپنے مسئلے صرف وہی شخص خود حل کرسکتا ہے
 جو اچھے وقتوں میں دوسروں کے مسئلے حل کرتا آیا ہو.

نمل از نمرہ احمد


سوموار, اکتوبر 03, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 03 اکتوبر 2013

آج کی بات:

جو لوگ خود کو "کچھ" سمجھتے ہیں
پھر وہ کم ہی دوسروں کی سمجھتے ہیں