جمعہ, ستمبر 04, 2015

گنبد خضرٰی کا روح پرور منظر


تصویر ( بشکریہ حمیرا  نور )

جس کی بھی نظر گنبدِ خضریٰ پہ پڑی ہے
اقبال بلند اُس کا ہے، عزت بھی بڑی ہے

اے چشمئہ رحمت تُو مدینے کی گھٹا بھیج
تپتا ہوا صحرا ہے ، اور دُھوپ کڑی ہے

بہہ اٹھا ہے اک چشمئہ شوق آنکھ سے میری
جس دم بھی نظر روضئہ اطہر پہ پڑی ہے

بیٹھا ہوا "محفل" میں ہے گو جسم ہمارا
پر روح ہماری تیری چوکھٹ پہ کھڑی ہے

یا رب ! اِس امتِ عاصی پہ نظر کر
رمضان کی پہلی ہے ، بخشش کی گھڑی ہے

میں کیا ہوں؟ مرا حسنِ بیاں! کچھ نہیں آقا
کمزور سی نسبت ہے جو مشکل سے جُڑی ہے

سب اہلِ محبت نے جوابات ہیں پائے !
میری بھی تو چِٹّھی تیرے بُوہے پہ پڑی ہے

میں چھوٹا ، بہت چھوٹا ، بہت چھوٹا ہوں آقا
تُو خود بھی بڑا ہے تیری مدحت بھی بڑی ہے

اے رحمتِ کونین 'شفا' کو بھی شفا دے
روح اس کی ترے ہجر میں بیمار بڑی ہے

صل اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔