منگل, مئی 31, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 21 مئی 2016


اس دنیا میں کامیاب زندگی کے دو اهم اصول ہیں۔۔۔۔۔
یا تو دوسروں کے لیے نفع بخش انسان بنئے،
یا دوسروں کے لیے بے مسلہ انسان بن جایئے-
اس دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کے یہی دو اصول ہیں،ان کے سوا کوئی تیسرا اصول نہیں-
اگر کوئی تیسرا اصول ہے تو وه ہلاکت ہے،نہ کہ کامیابی-

مولانا وحیدالدین خان

سوموار, مئی 30, 2016

واہ محبت


محبت کرنے پر اپنا اختیار نہیں لیکن اُسے سمجھنے پر ہمارا مکمل اختیار ہے۔ خاموشی سے محبت کرتے رہیں۔۔۔خوشبو بکھیرتے رہیں۔۔۔خوشبو سمیٹتے رہیں۔۔۔تو معتبر رہتے ہیں۔اگر محبت کو سمجھنے سے قاصر ہو جائیں تو پھر کسی کام کے نہیں رہتے۔۔۔نہ اپنے اور نہ ہی محبوب کے۔

جمعہ, مئی 27, 2016

مغفرت کا مہینہ (استاد نعمان علی خان) حصہ دوم

اللہ نے فرمایا کہ اس نے ہم پر روزے فرض کیے تاکہ ہم خود کی حفاظت کر سکیں. اس کا کیا مطلب ہے؟
 ہم انسانوں کو کسی فیلڈ میں بہتر بننے کے لیے ٹریننگ کرنی پڑتی ہے، خاص طور پر فزیکل ٹریننگ. مثال کے طور پر، اگر کوئی فوج میں جانا چاہتا ہے تو پہلے اُسے اس کی ٹریننگ لینی پڑتی ہے جس کے نتیجے میں اس کا جسم اس ٹریننگ کا عادی ہونے لگ جاتا ہے. پہلے وہ سب انہیں مشکل لگتا ہے، مگر پھر آسان ہوتا چلا جاتا ہے حتٰی کے آپ کے لیے وہ مشق آسان ہوجاتی ہے. اور ٹریننگ کے دوران چیزیں بہت آسان ہوتی ہیں. جب آپ ان میں بہتر ہوجاتے ہیں تب ہی اصل مقصد کی طرف بھیجا جاتا ہے آپ کو.
 یہی چیز روزوں کے ساتھ ہے. روزے کی حالت میں آپ مسلسل ایک احساس سے گزر رہے ہوتے ہیں، پیاس سے، اور بھوک سے! آپ کا گلا خشک ہورہا ہوتا ہے، آپ کو پانی کی طلب ہوتی ہے. مگر آپ خود پر قابو رکھتے ہیں. آپ کے اندر مسلسل ایک جنگ چل رہی ہوتی ہے، آپ کا جسم کمزور ہوتا چلا جاتا ہے، آپ کا پیٹ، گلا، کہتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرلو. پر آپ سارا دن اس جنگ سے گزرتے ہیں یہ سوچ کر کہ آپ اللہ کی نافرمانی نہیں کریں گے "کیونکہ میرا دل اللہ کا طابع ہے اور مجھے نہیں پرواہ اگر میرے جسم کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو، میں ہار نہیں مانوں گا." آپ اپنے دل کو ٹرین کرتے ہیں اپنے جسم کو کنٹرول کرنے کے لیے!
 اور روزے کے بعد، آپ کا دل آپ کے جسم کو کنٹرول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے. کیونکہ اب آپ وہ سب نہیں کھائیں گے جو آپ چاہتے ہیں، ان جگہوں پہ نہیں جائیں گے جہاں جانا چاہتے ہیں، ان سب چیزوں کو نہیں دیکھیں گے جنہیں دیکھنا چاہتے ہیں. کیونکہ، آپ نے اپنے جسم کو شکست دے دی ہے اور اپنے دل کو مضبوط کرلیا ہے.
 اور تقویٰ کہاں ہوتا ہے؟
 ان ذلک من تقوی القلوب
 ہمارے دل میں! 
 جب آپ اپنے جسم کو کمزور کرتے ہیں اور دل کو طاقت عطا کردیتے ہیں تو آپ خود کو غلط کاموں سے دور رہنے میں ٹرین کرچکے ہوتے ہیں. 
عزیز نوجوان بہن بھائیو! جو نوجوان سن رہے ہیں، اگر آپ کا روزہ ہے اور آپ سارا دن گھر میں رہ کر فلمیں دیکھ رہے ہیں، تو آپ روزہ نہیں رکھ رہے! کیونکہ آپ کا دل تو تب بھی غلط کاموں کے لیے جھک رہا ہے. روزے کی تمام مشق تو یہ ہوتی ہے کہ آپ کو مسلسل یاد رہے، کہ جس طرح میں اپنے پیٹ سے جنگ کر رہا ہوں، جس طرح گلے سے جنگ کر رہا ہوں، ایسے ہی مجھے اپنی آنکھوں سے بھی جنگ کرنی ہے. اپنی زبان سے جنگ کرنی ہے. اپنی خواہشات سے لڑنا ہے، ہارمونز کو شکست دینی ہے. اب میں حالتِ جنگ میں ہوں. مگر ہم روزے کو صرف بھوک اور پیاس سے دور رہنا ہی سمجھتے ہیں..جبکہ یہ ہر بری چیز سے دور رہنا ہے. 
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
 تاکہ تم پرہیزگار بن سکو(اپنی حفاظت کر سکو).
 اگر ہم یہ یاد نہیں رکھیں گے، تو ہم بھی بنی اسرائیل جیسے بن جائیں گے! وہ بھی روزے رکھتے تھے، مگر ان میں کس بات کی کمی تھی؟ "ان میں تقویٰ نہیں تھا
اگر آپ یہ ہی بھول جائیں گے کہ آپ پر روزے کیوں فرض کیے گئے ہیں تو پھر آپ بھی وہی کر رہے ہیں جو بنی اسرائیل نے کیا.
 اللہ نے آپ سے فرمایا:
 كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ
 خاص طور پر تم پر فرض کیے، اب تمہاری باری ہے. میں اب تم پہ روزے فرض کر رہا ہوں جو پہلے میں نے ان پر کیے تھے. انہوں نے اس کا فائدہ حاصل نہیں کیا، ان میں تقویٰ نہیں آیا. امید ہے تم میں آجائے...!
 کیا ہے وہ پہلی چیز جو لوگوں کے ذہن میں آتی ہے روزے کا سن کر؟ "انہیں افطاری کا خیال آتا ہے" جبکہ روزے تو آپ کہ اصل زندگی کے لیے ٹریننگ ہوتی ہے. اور یاد رکھیں، ٹریننگ آسان ہوتی ہے، اور کیا اللہ شیطان کو بھی قید نہیں کرلیتا؟ 
ہاں! کرلیتا ہے. وہ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کر رہا ہوتا ہے. تاکہ آپ کا دل میدان جنگ میں بہتر طریقے سے ٹرین ہوسکے. اور جیسے ہی رمضان کا مہینہ ختم ہوتا ہے، اگلے ہی لمحے شیطان قید سے آزاد ہوجاتا ہے. اور جنگ شروع ہوجاتی ہے. اور پھر وہ مہینے بھر کی ٹریننگ کام آتی ہے..! پر اگر آپ نے خود کو صحیح سے ٹرین نہ کیا ہوگا تو... کچھ نہ ہوگا!
 اگر کسی نوجوان کو آرمی میں جانا ہو تو پہلے اسے فزیکل ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے. تب اسے دیوار سے کودنا ہوتا ہے، یا دیوار پہ چڑھ کر دوسری طرف جانا ہوتا ہے. اب دو لوگوں نے ملٹری میں حصہ لیا، ایک نوجوان دیوار سے کودا، جبکہ دوسرا نیچے سے ہی دوسری طرف چلا گیا. دونوں ہی دوسری طرف پہنچ گئے. اور یہ مشق آپ کو دس دفعہ کرنی پڑتی ہے. اب جب وہ میدان جنگ میں ہونگے اور انہیں دیوار کی دوسری طرف جانا ہوگا(کود کر) تو کون آسانی سے چلا جائے گا اور کون فیل ہوجائے گا؟ ظاہر ہے جس نے صحیح سے دیوار پہ چڑھ کر تربیت لی تھی. ویسے تو وہ دونوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم دونوں دوسری طرف پہنچ گئے تھے. پر نہیں! آپ روزہ رکھیں گے، اور آپ کا بھائی رکھے گا، مگر آپ کی کیفیت ایک جیسی نہ ہوگی. جس شخص نے صحیح سے تربیت لی تھی، اس کا رزلٹ میدان جنگ میں اس شخص سے مختلف تھا جو آسانی سے نیچے سے ہی دیوار کی دوسری طرف چلا جاتا تھا، اس نے صحیح سے تربیت ہی نہیں لی تھی.
پھر اللہ نے فرمایا:
اَیَّاماً مَعْدُودَاتٍ ۔۔۔۔۔
 چند دن ہیں گنتی کے. 
 جس آیت کے متعلق میں ابھی آپ سے گفتگو کر رہا تھا وہ رمضان کے بارے میں نہیں تھی. مَعْدُودَاتٍ.کو عربی میں جمعو قلہ کہتے ہیں جس کا معنی ہے "نو یا اس سے کم". جس کا مطلب ہے کہ یہ آیت پرانے روزوں کے بارے میں تھی (جو رمضان سے پہلے ہوا کرتے تھے). اللہ نے فرمایا میں نے تم پر روزے فرض کیے جیسے تم سے پہلی قوم پر کیے تھے، یعنی، یہودیوں کہ طرح، انہی دنوں میں جن دنوں میں وہ روزہ رکھتے تھے.
 فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ
 اگر تم میں سے کوئی بیمار ہے یا سفر میں ہے تو وہ تعداد پوری کرے دوسرے دنوں میں
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ
 اور ان لوگوں پر جو نہ طاقت رکھتے ہوں روزے کی، تو فدیہ ہے کھانا کھلانا ایک مسکین کو.
 رمضان سے قبل کی بات ہورہی ہے یہاں، کہ اگر آپ روزہ نہیں رکھ سکتے تو ان کی تعداد پوری کرنے کے دو طریقے تھے.
 1- یا تو بعد میں رکھ لیں
 2- یا مسکین کو کھانا کھلادیں (یہ یاد رکھیں کہ ابھی پرانے روزوں کے متعلق ہی بات ہورہی تھی)
 اور پھر اللہ نے فرمایا:
 فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
 پھر جو شخص کرے گا اپنی خوشی سے کوئی نیکی تو یہ بہتر ہے اسی کے لیے. اور یہ کہ روزہ رکھو تم بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم سمجھو.
 اگر تم روزہ رکھتے ہو وہ تمہارے لیے بہتر ہے (یعنی مسکین کو کھلانے یا روزہ رکھنے میں، روزہ رکھ لینا بہتر ہے پر دونوں طریقے موجود تھے) اور اب اگلی آیت میں اللہ رمضان کے بارے میں فرماتے ہیں. اور قرآن میں صرف یہی ایک آیت ہے رمضان کے بارے میں.
 شَهْرُ رَمَضَانَ 
 "رمضان کا مہینہ"
 میں نے آپ سے کہا تھا کہ رمضان کا سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ "افطاری کا." یہ بھی نہیں تو "روزے" کا خیال آتا ہے، یا یہ خیال آتا ہے کہ "اس دفعہ تو رمضان بہت گرمی میں آرہا ہے". اس طرح کے خیالات آتے ہیں ہم سب کے ذہن میں. پر اللہ نے فرمایا کہ رمضان کا سنتے ہی جو پہلا خیال ہمارے ذہن میں آنا چاہیے وہ یہ ہے
(رمضان کے مہینے کا ذکر ہوا اور اس کے فوراً بعد اللہ نے فرمایا): 
الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ 
 "وہ (مہینہ) ہے نازل کیا گیا جس میں قرآن "
 اللہ نے فوراً روزوں کا ذکر نہیں کیا، بلکہ فرمایا یہ تو وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا. جو چیز رمضان کو خاص بناتی ہے وہ روزے نہیں ہیں،
بلکہ "قرآن" ہے.

جمعرات, مئی 26, 2016

آسماں کی رفعتوں سے


آسماں کی رفعتوں سے طرزِ یاری سیکھ لو
سر اُٹھا کرچلنے والو، خاکساری سیکھ لو

پیش خیمہ ہے تنزل کا تکبر اور غرور
مرتبہ چاہو تو پہلے اِنکساری سیکھ لو

خود بدل جائے گا نفرت کی فضائوں کا مزاج
پیار کی خوشبو لُٹاؤ مشکباری سیکھ لو

چُن لو قرطاس و قلم یا تیغ کرلو انتخاب
کوئی فن اپنائو لیکن شاہکاری سیکھ لو

پھر تمہارے پاؤں چھونے خود بلندی آئے گی
سب دلوں پہ راج کرکے تاجداری سیکھ لو

عشق کا میدان آساں تو نہیں ہے محترم
عشق کرنا ہی اگر ہے غم شعاری سیکھ لو
 
جس شجر کی چھائوں ہو ماجدؔ زمانے کے لیے
کیسے ہوگی اس شجر کی آبیاری سیکھ لو 

ماجدؔ دیوبندی

بدھ, مئی 25, 2016

ايک چھوٹا سا پیغام

ايک چھوٹا سا پیغام ۔۔۔
آج کل آم ، جامن ، خوبانی ، آلو بخارا ، خربوزے، تربوز اور اسی طرح کے مختلف دوسرے پھلوں کا موسم ہے ۔ ميری آپ سے درخواست ہے کہ ان کے بیج یا گھٹلیاں مت پھينکیں بلکہ انہيں اچھی طرح دھو کر ايک پلاسٹک لفافے ميں ڈال کر باہر جاتے وقت اپنے ساتھ رکھ لیں ۔ يا گاڑی ميں رکھ ديں تو راستے ميں چلتے ہوئے يا گاڑی میں سڑک پر سے گزرتے ہوۓ کچی خالی جگہوں پر وہ بيج يا گھٹلياں لفافے سے نکال کر وقفے وقفے سے پھينکتے جائيں ۔
مون سون کا موسم آنے والا ہے تو ان کے بڑھنے میں آسانی ہو جاۓ گی ۔ اگر اس طريقے سے ہم میں سے ہر ايک ، ایک درخت بھی اگانے ميں کامیاب ہو جاۓ تو سمجھيے مقصد پورا ہو گيا۔
سوچيے ۔ ان گرميوں يا آنے والی گرميوں میں آپ کے ہاتھ سے کوئی درخت لگے گا.
يہ صرف ايک وقتی خیال نہيں ہے ۔ دنيا کے بہت سے دوسرے علاقوں ميں اس مشن کا آغاز کئی دہائيوں سے ہو چکا ہے اور بہت سے لوگوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی ليا ہے ۔
کتنا اچھا ہو اگر ہم بھی اپنے حصے کا کام کرتے چليں اور ایک ایک درخت اپنے ہاتھ سے اس طرح لگاتے جائيں تاکہ یہ درخت ماحول و آب و ہوا کو معتدل بنانے ميں مدد کر سکيں ۔ اور ہماری آنے والی نسل کو درختوں کی چھاؤں مل سکے ۔
کيا آپ اس پيغام کو اپنے گروپس اور پیجز يا اپنی وال پر شيئر کر سکتے ہيں ؟
بہت شکریہ!
 ( انگلش پوسٹ کا ترجمہ)

جمعہ, مئی 20, 2016

مغفرت کا مہینہ (استاد نعمان علی خان) حصہ اول

اس لیکچر میں انشاءاللہ میں آپ سے رمضان کے متعلق بات کروں گا، اور بتاؤں گا کہ کس طرح قرآن اس مہینے کی عکاسی کرتا ہے. اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں صرف ایک دفعہ رمضان کے متعلق بیان فرمایا ہے. تقویٰ،آخرت،مختلف انبیاء،اور مختلف احکام، کے بارے میں کئی دفعہ فرمایا،پر جب رمضان کے بارے میں بات کی تو صرف ایک دفعہ. اور اس کا ذکر سورہ البقرہ میں کیا گیا ہے. اور جس جگہ اس بارے میں فرمایا گیا وہ جاننا بہت ضروری ہے.
 سورہ البقرہ کے شروع کے آدھے حصے میں اللہ نے ہمیں یہ بتایا کہ بنی اسرائیل اب منتخب شدہ قوم(اسپیشل) کیوں نہیں رہی. ان کی کیا غلطیاں تھیں. اس سب کے متعلق اللہ نے سورہ البقرہ میں بیان فرمایا. اس کے بعد اللہ نے ابراہیم علیہ اسلام کے بارے میں بیان کیا. کیوں؟ کیونکہ ابراہیم علیہ اسلام عرب اور یہودیوں کو جوڑتے ہیں. (وہ دونوں کے درمیان ایک لِنک ہیں) اور وہ کیوں ہیں؟ عرب، اسماعیل علیہ اسلام کی اولاد تھے. اور یہودی، اسحاق علیہ اسلام کے. دونوں قوموں کے درمیان جو تعلق بنتا تھا وہ ابراہیم علیہ اسلام سے تھا. ان کو ابراہیم علیہ اسلام کے متعلق یاد دہانی کروائی گئی تھی (یہودیوں کو)، کیونکہ وہ کہتے تھے ہم تب ہی نبی کو مانیں گے جب وہ ہماری نسل میں سے ہوگا. یعنی، اسحاق علیہ اسلام کی جنریشن میں سے. اور اللہ انہیں یاد کرواتا ہے کہ تم لوگ اسحاق علیہ اسلام کی اولاد کو ہی کیوں مان رہے ہو، اور تمہیں ابراہیم علیہ اسلام کی پرواہ نہیں ہے. کیونکہ ابراہیم علیہ اسلام، اسماعیل علیہ اسلام کے والد تھے اور ان کے ذریعے رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا. اس سب کے پیچھے خیال یہ تھا کہ، (chosen ummah) منتخب شدہ امت ابراہیم علیہ اسلام کی اولاد تھی. پہلے اسحاق علیہ اسلام کے نسب سے رہی، اور اب اسماعیل علیہ اسلام کے نسب سے ہے. مگر آخر میں وہ سب ہی ابراہیم علیہ اسلام کی اولاد ہیں. کوئی فرق تو نہ تھا. تو اب جب، اللہ نے وہ پوری فہرست بیان کردی، (کہ کیوں انہیں رسالت نہیں دی جائے گی اب) پھر انہیں ابراہیم علیہ اسلام کے متعلق یاد کروایا گیا، اور ابراہیم علیہ اسلام کا جو قصہ بیان ہوا وہ یہ تھا:
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقرہ)
جب ابراہیم علیہ اسلام کعبہ کی بنیاد رکھ رہے تھے.
اور اس واقعے کا ذکر سورہ البقرہ کے پہلے آدھے حصے کے فوراً بعد ہوا. یہ جاننا کیوں ضروری ہے کہ ابراہیم علیہ اسلام نے کعبہ تعمیر کیا؟ کچھ آیات کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ اب وہ مسجد الاقصٰی کو اپنا قبلہ نہیں بنائیں گے بلکہ مسجد الحرام کی طرف نماز ادا کریں گے. اور اس سے پہلے اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ اسلام نے ہی اس کو تعمیر کیا تھا. کیوں؟ کیونکہ یہودی، اور ہم، تب تک مسجد الاقصٰی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے. اور اس حکم کے بعد مسلمان کعبہ کی طرف رخ کر کے ادا کرنے لگ گئے. جب نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم مکہ میں تھے، تو مسجد الحرام کی طرف رخ کرنا اور ساتھ ہی مسجد الاقصٰی کی طرف رخ کرنا آسان تھا. دونوں طرف ایک ساتھ کیا جا سکتا تھا. جب آپ حرم کی رخ میں کھڑے ہوتے تھے تو آپ مسجد الاقصی کے ہی رخ میں ہوتے تھے. مگر جب آپ مدینہ جائیں تو ایسا نہیں ہے. یا تو آپ کعبہ رخ ہونگے، یا پھر کعبہ سے رخ پھیر کر مسجد الاقصٰی کی طرف کھڑے ہونگے. دونوں کی طرف ایک ہی وقت میں رخ ممکن نہیں ہے. جب رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم مکہ میں تھے تو وہ دونوں طرف ایک ساتھ رخ کرسکتے تھے. پر جب مدینہ تشریف لے گئے تو اب ایک ہی طرف رخ کیا جاسکتا تھا. اور وہ مسجد الاقصٰی کی طرف رخ کرتے تھے. اور اس بات سے انہیں دکھ پہنچتا تھا. اور جب کعبہ طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تھا تو اللہ نے فرمایا تھا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ آسمان کی طرف اٹھتے دیکھ لیا تھا. سو اس لیے ہم قبلہ بدل رہے ہیں.
 میں جو بات کہنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ، ایک قوم اپنے دارالحکومت کے ذریعے جانی جاتی ہے. خاص طور پر جب آپ ایک بہت بڑی قوم ہیں. تب آپ کے پاس ایک کیپیٹل (دارلحکومت) ہونا چاہیے، وہ آپ کی شناخت ہوتی ہے. اگر ملک کا ایک شہر دشمنوں کے ہاتھ لگ جائے تو اتنی بڑی بات نہیں ہوتی. پر کب پورے ملک کو ہرادیا جاتا ہے؟ "جب آپ کیپیٹل پر قبضہ کرلیتے ہیں". قبلہ، مسلمانوں کے لیے، ان کی شناخت ہے. وہ ہمارا کیپیٹل ہے. جس وقت اللہ نے ہمارا قبلہ تبدیل کیا تھا، اس نے ہماری شناخت بدل دی تھی. اللہ ہم میں اور یہودیوں میں فرق ظاہر کرنا چاہتے تھے. اور جیسے ہی اس کا حکم ہوا، اللہ نے فرمایا:"اور اس طرح بنادیا ہم نے تم کو ایک امت وسط" ہمیں ایک نئی قوم کی حیثیت سے متعارف کروایا. اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں ہمیں بتایا، کہ تحویل قبلہ یہودیوں کو پسند نہ آیا. سوال پیدا ہوتا ہے، انہیں یہ بات کیوں نہیں پسند آئی؟ "کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک مسلمان مسجد الاقصٰی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہیں گے، وہی کیپیٹل رہے گا، جس کا مطلب ہے ہم (یہودی) منظور شدہ لوگوں میں شامل رہیں گے. پر جب قبلہ بدلے گا، تو ہمیں ان کا کیپیٹل قبول کرنا ہوگا، یعنی، ہمیں ابراہیم علیہ اسلام اور اسماعیل علیہ اسلام کو بھی قبول کرنا پڑے گا. ہماری اپنی کوئی شناخت نہ ہوگی. اللہ کی نظر میں ہماری اب کوئی حیثیت نہ رہے گی. اور یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ وہ دل ہی دل میں نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کو مانتے تھے.
 "وہ انہیں ایسے جانتے تھے جیسے اپنی اولاد کو جاتے تھے" (سورہ البقرہ) 
وہ جانتے تھے کہ یہی اللہ کے نبی ہیں. ان کے رویے سے یہ ظاہر تھا. مگر وہ ماننے کو تیار نہ تھے. سو جس پہلی چیز نے ہمیں یہودیوں سے منفرد کیا تھا وہ تحویل قبلہ تھی. ہم روزے بھی انہی دنوں میں رکھا کرتے تھے جن دنوں میں یہودی رکھتے تھے. پانچ نمازوں سے قبل ہمارے اوقات الصلوۃ بھی ایک تھے. کیونکہ وہ موسی علیہ اسلام کی شریعت تھی، جب تک نئی شریعت نافذ نہ کی جاتی ہمیں اسی شریعت کی پیروی کرنا تھا. 
ہم انہی دنوں روزے رکھتے تھے جن دنوں میں یہودی رکھا کرتے تھے، اور پھر آیت نازل ہوئی:
 أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ
 اے ایمان والوں فرض کیے گئے ہیں تم پر روزے
 كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ
 جیسے فرض کیے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے
 کون تھے وہ لوگ؟ یہودی، بنی اسرائیل. اب ہم میں اور یہودیوں میں مشترک چیز "روزے" تھے.
 پھر اللہ نے فرمایا: 
 لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
 تاکہ تم پرہیزگار بن سکو(اپنی حفاظت کر سکو). 
 سورہ البقرہ کے پہلے حصے میں اللہ عزوجل یہودیوں کے بارے میں بیان کر رہے تھے، کہ تم لوگوں میں تقویٰ کیوں نہیں ہے. ان کا مسئلہ ہی یہ تھا کہ وہ پرہیزگار نہیں تھے. اور اب اللہ فرمارہے ہیں کہ تم لوگوں کو بھی وہی مشق دی گئی ہے(روزے) تاکہ تم لوگ پرہیزگار بن جاو. دوسری مشترکہ بات یہودیوں اور ہم میں یہ تھی کہ "ہم پرہیزگار بن جائیں".
 میں آپ سے اسی موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ تقویٰ اصل میں ہے کیا. عموماً تقویٰ کے معنی "اللہ کا خوف" ہے. تقوی، لفظ "وقایا" سے نکلتا ہے. جس کے معنی "بچاو" کے ہیں. تقویٰ "اتقاء" سے ملتا جلتا ہے، جس کا مطلب ہے "خود کو محفوظ رکھنا، اپنا بچاو کرنا". اس لیے روز قیامت ہر کوئی اپنی حفاظت کرنا چاہے گا.
جیسے اللہ فرماتے ہیں: -
 فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ
 تم کس طرح خود کو محفوظ کروگے جبکہ تم کفر کرتے ہو. 
یہاں لفظ تتقون کا استعمال کیا "حفاظت کے لیے".
 اللہ نے فرمایا اس نے تم پر روزے فرض کیے تاکہ تم خود کی حفاظت کر سکو. 
اس کا مطلب کیا ہے؟
جاری ہے۔۔۔۔۔  

جمعرات, مئی 19, 2016

صد بار گر توبہ شکستی


باز آ باز آ هر آنچه هستی باز آ
گر کافر و گبر و بت‌پرستی باز آ


این درگه ما درگه نومیدی نیست
صد بار اگر توبه شکستی باز آ

از ابو سعید ابو الخیر

اردو ترجمہ:

''تو بُرائی کی جس حالت میں بھی ہے، اس سے باز آجا۔
 خواہ تو کافر ہے، آتش پرست یا بت پرست ہے، اس سے توبہ کرلے۔
 ہماری یہ درگاہ ناامیدی کی درگاہ نہیں ہے۔ 
اگر تونے سو بار بھی توبہ توڑ دی ہے پھر بھی باز آجا اور توبہ کرلے...
 تو تیری توبہ قبول ہوگی۔''

منگل, مئی 17, 2016

محاورات کا خزانہ


محاورات کا خزانہ
==========
 تحریر: محمد اسامہ سرسری 

اردو محاورات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے محاورات کا خزانہ موجود ہے اس دلچسپ تحریر میں:

دس محاورات یاد کرنے کے لیے میں نے بڑے پاپڑ بیلے...خوب ایڑی چوٹی کا زور لگایا... دن رات ایک کردیا...مگر شاید محاورات اور میرے دماغ کے درمیان چھتیس کا آنکڑا تھا ...کہ اوّل تو کوئی محاورہ دماغ کی گرد کو بھی نہ پہنچ پاتا... لیکن اگر قدم رنجہ فرماتا بھی تو... جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوتے نہیں اور وہ محاورہ ایسا غائب ہوجاتا... جیسے گدھے کے سر سے سینگ...پتا ہی نہ چلتا کہ اسے آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی۔
خیر...! میں ہمتِ مرداں مددِ خدا کے اصول کے تحت حفظ ِمحاورات کے میدان میں کافی تگ و دو کرتا رہا...لیکن ڈھاک کے وہی تین پات...محاورات یا د ہوکے ہی نہیں دے رہے تھے...پتا نہیں یہ دماغ محاورات یاد کررہا تھا کہ بنارہا تھا... تھکاوٹ نے میرے دانت کھٹے کردیے... بس کیا بتاؤں! نانی یاد آگئی...اس تھکاوٹ نے ناکوں چنے چبوادیے...دانتوں تلے پسینا آگیا...دن میں تارے دکھائی د ینے لگ گئے... میں سمجھ گیا کہ یہ کوئی خالہ جی کا گھر نہیں... اور پھر... بیماری نے مجھے آگھیرا...!!
یعنی ایک تو کڑوا کریلا دوسرا نیم چڑھا...کہ ایک تو میں پہلے ہی محاورات کے یاد نہ ہونے پر جل بھن کر کباب ہورہا تھا...اوپر سے بیماری نے اور لال پیلا کردیا...نہ جانے اس اونٹ کو کس کروٹ بیٹھنا تھا...شاید میں نے اس مہم کا آغاز کرکے آبیل مجھے مار پر عمل کیا تھا...لیکن جب اوکھلی میں دیا سرتو موسلوں کا کیا ڈر... دن رات کی جاں فشانی سے ایک محاورہ لے دے کے یاد کرہی لیا... عرصۂ دراز تک اسے طوطی وار ازبر کرتا رہا...حتیٰ کہ اطمینان ہوگیا کہ اب یہ محاورہ نسیًا منسیًا نہیں ہوگا۔
اب میرا دل بلیوں اچھلنے لگا...اور میں سرجھاڑ منہ پھاڑ ...بغلیں بجاتا ہوا اپنے استاد صاحب کے پاس پہنچا... اور یہ خوش خبری سنائی... تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں...لیکن میں نے منہ کی کھائی...اور بڑے سنگین حالات سے دوچار ہوا... کیوں کہ محاورہ سنتے ہی وہ آگ بگولہ ہوگئے... سونے پر سہاگا یہ کہ ایک زناٹے دار طمانچہ میرے رخسارِ غم گسار پر جڑدیا۔
اب تو میری حالت اور پتلی ہوگئی... پیروں تلے زمین نکل گئی...رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے...کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں... اور پھر...ایک دم میرا پارہ چڑھ گیا...اور میرا غصہ آسمان سے باتیں کرنے لگا...کہ میں نے سردھڑ کی بازی لگاکر اور خون پسینا ایک کرکے جوکام کیا تھا... اس میں بھی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور مارکٹائی کا سامنا کرنا پڑا... ایسی کی تیسی ایسے محاورات کی...اگر میرا بس چلتا تو ان محاورات کو نیست ونابود ہی کردیتا... ان کے گلستان کو تہ وبالا کردیتا... ان کے چمن کو زیرو زبر کردیتا... اور پھر میں کافی دیر تک پیچ و تاب کھاتا رہا... بڑی بڑی ہانکتا رہا... یہاں تک کہ استاد صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا...اور پھر انہوں نے مجھے خوب سنائی ...کہ تم بڑے طوطا چشم ہو... ماننے کی صلاحیت تم میں صفر بٹا صفر ہے... اور نہ ماننا تمھارے اندر سولہ آنے فٹ ہے... دس میں سے صرف ایک محاورہ یاد کیا ...وہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ... اور آٹے میں نمک کے برابر... پھر اس پر قیامت یہ کہ... الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ...کہ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری...حد ہوگئی کہ صرف تین لفظی محاورہ یاد کیا... وہ بھی نقطے سے... خالی!!!! 
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سا محاورہ تھا؟؟؟

سوموار, مئی 16, 2016

آج کی بات ۔۔۔۔ 16 مئی 2016

اپنے اندر برداشت پیدا کریں۔۔۔
معلوم نہیں آپ کو کون کون برداشت کر رہا ہے!!

جمعہ, مئی 13, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 13 مئی 2016

حقیقت کے انکار سے ...
حقیقت کی تسلیم تک ..۔
جو فاصلہ ہے ...
اسے انا کہتے ہیں..!

منگل, مئی 10, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 10 مئی 2016

جو لوگ کہتے ہیں کہ آج کَل نَیکی کا زمانہ نہیں رہا، دَر اصل وه لوگ اِنسان سے نَیکی کا بَدلہ چاہتے ہیں. اور جو لوگ صِرف اللّٰه رَبُّ الْعِزَّت کی رضا کیلئے نَیکی کرتے ہیں، اُن کیلئے ہر زمانہ نَیکی کا ہے.

جمعہ, مئی 06, 2016

استغفر الله



استغفر الله من ذنبي ومن زللي
ما زلت والله من ذنبي على وجلي
اسـتغفر الله من نفس تنازعني
كسب الذنوب وترك صالح العمل

I seek Allah's forgiveness for my sins and my imperfections
By Allah, I still feel the tremor of my sins
I seek Allah's forgiveness from a self that fights me
to commit sins and stop doing good deeds.

استغفر الله من يوم اضيعه
وينقضي وهو من عمري ومن اجلي
استغفر الله من يوم سهوت به
عن الصلاة فلم انهض من الكسل

I seek Allah's forgiveness from the days that I wasted
And that passed away, and is from my life and for me
I seek forgiveness from a day that I missed
Salah (prayers), and did not get up because of laziness

استغفر الله مما قد اتيت به
مرائيا وبما قد كان في عجل
استغفر الله من ظن ظننت به
غير الحقيقة في قصد وفي امل

I seek Allah's forgiveness for what I have brought with me
My hypocritical piety and the deeds done in a hurry
I seek Allah's forgiveness from the suspicions I raised
The false suspicions, on purpose and out of my desire


استغفرالله مما كنت اعمله
من المعاصي في ايامي الاولي
استغفر الله من نفس تراودني
على المعاصي وشيطان يوسوس لي

I seek Allah's forgiveness for what I used to do
From all the disobedience in my early days
I seek Allah's forgiveness from the self that incites me
To sin, and shaitaan that whispers in my heart


استغفر الله من سوء انفعالي ومن
خبث الحديث ومما كان من خلل
استغفر الله من يوم اخذت به
حق البرية في ظلم وفي حيل

I seek Allah's forgiveness for sins I committed out of my emotions
And ills of my speech and from my other defects
I seek Allah's forgiveness for the days I snatched
Rights of his creation, by oppression and by tricks

استغفر الله من رجل مشيت بها
الى المعاصي ومن ذنبي ومن عللي
استغفر الله من كبر ومن عُجب
ومن رياء بقول كان او عمل

I seek Allah's forgiveness for the legs I walked with
Towards disobedience, and from my sins and defects
I seek Allah's forgiveness from pride and arrogance
And show-off, be it in speech or action

منگل, مئی 03, 2016

آج کی بات۔۔۔ 03 مئی 2016

تجربہ وہ ہے جو دوسروں سے سیکھا جائے، کیونکہ اپنا تجربہ تو اکثر نقصان کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے۔

سوموار, مئی 02, 2016

ایریزر (Eraser)


بڑا دلچسپ معاملہ ہے !!!
جب پرائمری میں تھے تو پنسل اور ایریزر جیومیٹری باکس کا لازمی جزو تھے.. ایریزر نہ رکھنے کا تو تصور ہی نہ تھا.. اگر کبھی ایریزر نہ ہوتی تو کام کے ساتھ ساتھ موڈ بھی خراب ہو جاتا اور پھر یہ کہ جان بوجھ کر غلطیاں کون احمق کرتا پھرتا ہے مگر جو غلط لکھا جاتا , اس پر ایریزر سے نہ مٹانے کی صورت میں خوب ڈانٹ پڑتی..
میٹرک میں یہی معاملہ پین اور ریمور کا تھا.. ریمور تو کمال کی چیز ہے.. صفحہ یوں صاف ہو جاتا ہے جیسے نیا ہو.. غلطی کا کہیں نام و نشان بھی نہیں باقی رہتا..
پھر ایف اے سے اب تک بال پوائنٹ ہے تو وائٹنر کا سہارا ہے.. غلطی غائب اور نیا لکھنا شروع.. آہا ! بہت خوب !
یونہی پھر خیال آیا کہ دنیا کے امتحانی کمرے میں آخرت کا ٹیسٹ دیتے ہوۓ اگر نیکیوں کی پنسل ادھر ادھر کھو کر اعمال کا پیپر خراب کر دے تو یہاں بھی تو ایریزر ہے !!!
معلم اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے "استغفار"کی ایریزر تھما دی ہے..
دیر کیسی ؟؟؟
جلدی سے پھیر دیجیے کہ ممتحن کسی بھی وقت پرچہ لے سکتا ہے !!
اور اس غلط فہمی میں مت رہیے گا کہ یہ ایریزر کبھی ایکسپائر ہوگی.. بنانے والے نے اس کی گارنٹی دی ہے کہ یہ وقت نزع تک کارگر ہے !
" انشاءاللہ "
** استغفر اللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیه **