سوموار, جولائی 31, 2017

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)

ہمارے ملک میں سیاست عوام کی دلچسپی کا ایک بہت اہم موضوع ہے۔ شام سات سے رات بارہ تک جس طرح ہمارے ہاں ٹالک شو دیکھے جاتے ہیں ، دنیا میں کم ہی کہیں دیکھے جاتے ہوں گے۔ یہی معاملہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر سیاسی امور کا ہے۔ ایسے میں نواز شریف صاحب کی برطرفی جیسے واقعات کے ساتھ عوام کی دلچسپی سیاسی امور میں مزید بڑھ جاتی ہے۔

سیاست اور سیاستدانوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ احتسابِ غیر میں زندہ رہتے ہیں۔ دوسروں کی ہر خامی کو نمایاں کرنا اور اپنی ہر خرابی کو دوسروں کی کمزوری کی آڑ میں چھپانا سیاست میں ایک فن ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بیشتر فکری رہنما جن کا کام قوم کے مزاج کی اصلاح ہوتا ہے، عملی یا نظری سیاست سے پوری طرح وابستہ رہے ہیں۔ لہٰذا انھوں نے بھی قوم میں اسی مزاج کو فروغ دیا۔ حتیٰ کہ خود دین اسلام کی حقیقت ہمارے ہاں احتساب کائنات قرار پائی ہے۔ جبکہ قرآ ن مجید دین کا مقصد اپنی ذات کا تزکیہ بیان کرتا ہے جو احتساب ذات سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ احتساب غیر سے۔

سیاسی اور فکری قائدین کا پیداکردہ یہی وہ مزاج ہے جس میں ہمارے ہاں افراد میں احتساب ذات یعنی اپنی غلطی کے اعتراف اور اپنی اصلاح کا مزاج نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں ہر شخص دوسرے کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی سولی پر چڑھانا پسند کرتا ہے، مگر خود کبھی اس کے آئینے میں اپنی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ لوگ دوسروں کی صداقت اور امانت کو چیلنج کرتے ہیں، مگر اپنے کذب و خیانت سے ہمیشہ بے پروا رہتے ہیں۔

یہ رویہ کچھ چالاک، چرب زبان اور طاقتور لوگوں کو عارضی طور پر فائدہ دے سکتا ہے، مگر اجتماعی طور پر قوم اور انفرادی طور پر فرد کی آخرت کے لیے یہ رویہ تباہ کن ہے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں غلطی کا اعتراف کرکے اصلاح کا جذبہ عام ہو ۔ قیامت کی نجات انھی لوگوں کا مقدر ہے جو دوسروں کے بجائے اپنا احتساب کرتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں نواز شریف صاحب کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی بنیاد پر عہدے سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اس فیصلے کی صحت و عدم صحت پر بحث چھڑگئی۔ اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ باقی لوگ کون سے دودھ سے دھلے ہیں۔ مگر کتنے لوگ ہیں جو اس واقعے کے بعد اس احساس سے تڑپ اٹھے ہوں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کا احتساب شروع کریں گے۔ ان کے دل کا ہر خیال، تنہائی میں کیا گیا ہر کام، خفیہ طور پر کی گئی ہر گفتگو، رائی کے دانے کے برابر کیاگیا ہر کام، خلوت وجلوت کی ہر مشغولیت دن کی روشنی کی طرح سب کے سامنے آجائے گی۔

لوگوں کو اگر لازمی طور پر ہونے والے اس احتساب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی رسوائی اور سزا کا معمولی اندازہ بھی ہوجائے تو ان کا سکون ختم ہوجائے گا۔ وہ دوسرا کا احتساب کرنا بھول جائیں گے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ بن جائے گا کہ وہ روزِقیامت عالم الغیب رب کی پکڑ سے بچ جائیں۔ ان کا پورا وجود سراپا توبہ و استغفار بن جائے گا۔

یہی وہ لوگ ہیں جو کسی معاشرے میں پیدا ہونے لگیں تو پھر صداقت و امانت عام ہوجاتی ہے۔ لوگ کرپشن اور ظلم کی ہر قسم سے دور رہتے ہیں۔ لوگ اپنی زبان، نگاہ اور ہاتھ پاؤں کو خدا کی امانت سمجھ کران کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی طاقت اور اختیار کو ایک اثاثہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ جب ایسے لوگ پیدا ہواجائیں تو پھرآئین میں کسی آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہر شخص اپنا محتسب خود بن جاتا ہے۔

مگر جب احتساب غیر کا مزاج پیدا ہوجائے تو پھر ہر شخص دوسروں کا احتساب کرتا ہے اور اپنے احتساب کا کبھی موقع نہیں آنے دیتا۔ ہر شخص دوسروں کی آنکھ کا تنکا ڈھونڈتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر اسے نظر نہیں آتا۔ ایسے معاشرے میں صادق و امین تو کوئی نہیں ہوتا، مگر پکڑا صرف وہ جاتا ہے جو کسی طاقتورکے نیچے آجائے۔باقی لوگ اپنی زندگی منافقت کے ساتھ گزارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا کی پکڑ آتی ہے اور قوم کی دنیا اور فرد کی آخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہے۔

مسجد اقصیٰ کی پکار - خطبہ جمعہ بیت اللہ


ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی نے مسجد اقصیٰ کے علاقے کو بابرکت بنایا ہے، اسی نے نافرمانوں کو نامراد کیا کیا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور ان گنت نوازشوں پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔

اے مسلمانو!

جو شخص تاریخ کے واقعات پر نظر دوڑاتا ہے اس کی آنکھ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم حکمت پر آن ٹھہرتی ہے۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ کا چناؤ اور انتخاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں حضرت جبریل کو چنا، انسانوں میں سے انبیاء کو چنا، انبیاء میں سید الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا اور جگہوں میں سے حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ کو چنا۔ اللہ رب العالمین نے مسجد اقصیٰ کو بلندی اور پاکیزگی سے متصف فرمایا۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے‘‘ (مؤمنون: 50)

توحید ورسالت کی گواہی کے بعد جب اہم ترین اسلامی فریضہ، یعنی نماز، کا حکم نازل ہوا تو اس میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا کہا گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے تیرہ برس اور مدینہ منورہ کے پہلے سترہ مہینے اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ پھر قرآن کریم میں مسجد حرام کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم نازل ہو گیا۔ ان دونوں مسجدوں کا تعلق بہت پرانا، گہرا، دینی اور تاریخی ہے۔ یہ زمین پر پہلی دو مسجدیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ

سیدنا ابو ذر غفاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام! انہوں نےپوچھا: اس کے بعد کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسجد اقصیٰ‘‘ سیدنا ابو ذر نے دریافت کیا کہ مسجد حرام بنائے جانے کے کتنے عرصے بعد مسجد اقصیٰ بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چالیس سال بعد‘‘ (بخاری)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح فرماتے ہیں:

’’مخلوقات اور احکام الٰہیہ کی ابتدا مکہ مکرمہ سے ہوئی اور بیت المقدس کو اللہ تعالیٰ نے میدان حشر بنایا۔ تمام لوگ بیت المقدس میں اکٹھے ہو جائیں گے اور وہیں حشر کا میدان ہو گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ حشر کی جگہ اور حشر کے بعد منتشر ہونے کی یہی جگہ ہے ۔ یہ وہ مسجد ہے جو تمام شریعتوں میں مقدس ہے، تمام انبیا نے اس کا احترام کیا ہے اور اس میں اللہ کی چاروں کتابوں کی تلاوت کی گئی ہے۔زبور، تورات، انجیل اور قرآن ‘‘

اللہ اکبر! یہ ہے ان دونوں مسجدوں کا ایمانی اور تاریخی تعلق۔ دونوں نبوت کی جگہیں ہیں اور دونوں دنیا کی افضل ترین جگہیں۔

دینِ اسلام نے اس تعلق کو مضبوط تر اور اس رشتے کو مزید طاقتور بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’سفر کر کے جانا صرف تین ہی مسجدوں کے لیے درست ہے۔ مسجدِ حرام، مسجدِ اقصیٰ اور میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی)‘‘ (بخاری)

اسی طرح فرمایا:

’’مسجد حرام میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہوں میں پڑھی گئی ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہوں پر پڑھی گئی ایک ہزار نماز کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں پڑھی گئی ایک نماز پانچ سو نمازوں کے برابر ہے۔‘‘ (طبرانی)

بھلا مسلمان اس سرزمین سے تعلق کیوں نہ جوڑیں جبکہ یہ انبیا اور رسولوں کی سرزمین ہے۔ اسی پر ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب ، یوسف ، لوط ، داؤد ، سلیمان ، صالح ، زکریا ، یحییٰ ، عیسیٰ رہے اور اسی بنی اسرائیل کے بہت سے ایسے انبیاء بھی رہے کہ جن کا ذکر ہم نہیں پاتے۔

اے امتِ اسلام!

؁05 ہجری میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا۔ وہاں کے پادریوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس کی کنجیاں خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطاب کے علاوہ کسی اور کے سپرد نہ کریں گے۔ ہم اپنی کتابوں میں ان کا ذکر پاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور بیت المقدس کی کنجیاں حاصل کیں۔

تاریخ میں روشن لفظوں سے لکھا ہے کہ حضرت عمر نے کوئی چرچ، کلیسہ، عبادت گاہ گرائی اور نہ کوئی گھر توڑا، بلکہ دوسروں کی عبادت گاہیں سلامت رکھیں اور اہل علاقہ کے لیے عمومی امان کا عہد نامہ لکھا اور لوگوں کو اس پر گواہ بنایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان دورِ حکومت میں یہودی اور عیسائی ایسی بہترین زندگی گزارتے رہے، جس کی مثال کسی دوسرے دورِ حکومت میں نہیں ملتی۔ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنی عبادت سرانجام دیتے رہے۔

تاریخ زمانے کے لیے آئینہ ہے، یہ حال میں ماضی دکھانے والا دریچہ ہے اور یہی حال میں مستقبل دکھانے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں گزرا کہ جس کے بارے میں ہماری شرعی نصوص، تاریخی حقوق اور تہذیبی وابستگی یوں اکٹھی ہو گئی ہوں، جس طرح اس مسئلے میں یہ اکٹھی ہیں۔ یہ ہمارا سب سے بڑا اسلامی مسئلہ ہے۔ تازہ مسائل یا لڑائیوں میں اسے بھلانا نہیں چاہیے۔

یہ پہلا قبلہ، تیسری مقدس مسجد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے معراج کا مسئلہ ہے۔ یہ اقصیٰ مبارک کا مسئلہ ہے کہ جو ہر مسلمان کے دل میں رہنا چاہیے اور اس کے بارے میں کوئی سودا بازی یا دستبرداری کی بات نہیں ہونی جاہیے۔

گزشتہ حالات پر تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل افسوس میں ڈوب جاتا ہے۔ سنو! ہماری مقدسات کے بارے میں کوئی سودا بازی قابل قبول نہیں! ہمارے دین کے معاملے میں کوئی پیچھے ہٹنا روا نہیں۔

حالیہ حالات نے ہمارے پرانے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ کہاں ہیں خالد اور صالح؟ کیا ہمارے مقدس مقامات مسلسل چیختے رہیں گے، کیا ہمیں قدس ہمیشہ ہی بلاتی رہے گی، فلسطین مدد کا منتظر رہے گا اور اقصیٰ مدد کے لیے پکارتی رہے گی؟ اور ہم اپنی زندگی میں مگن ہی رہیں گے، ہمیں کبھی سکون بھی نصیب ہو گا یا یوں ہی بہتے بہتے ہمارے آنسو خشک ہو جائیں گے؟ 

اللہ کی قسم! کہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں! مسجد اقصیٰ ظالم، جابر اور سرکش یہودیوں کے ہاتھوں میں دیکھ کر ہمارے دل افسوس سے بھر جاتے ہیں اور ہماری نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے مسلمانوں کے قبضے میں واپس لوٹا کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی فرمائے! آج جو اس میں ہو رہا ہے اسے دیکھ کر ہمارے دل افسوس اور غم سے بھر جاتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے، مسجد اقصیٰ کی مصیبت ہماری مصیبت ہے اور مسجد اقصیٰ کی مشکل ہمارے دلوں مشکل ہے۔

امت کے احوال درست کرنا اور اسے مشکلات سے نکالنا ساری امت اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ امت کو چاہیے کہ وہ عقیدہ اور علم، عقل اور حکمت کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچ ہو جائے جو اس نے ہم سے کیا ہے۔

ہم پر امید ہیں کہ امت کی مصیبتیں گرما کے بادلوں کی طرح جلد ہی بکھر جائیں گی۔ نصرت تو اسلام اور اہل اسلام ہی کے لیے ہے۔ اہل اسلام اس خوشخبری سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیں۔ ہم اللہ تعالیٰ ہی سے نصرت اور عزت کا سوال کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے کی، قیادت کی اور مقدس مقامات کی دشمنان اسلام سے حفاظت فرمائے! میرا رب دعا سننے والا اور دعا قبول کرنے والا ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘ (حج: 40-41)۔

تمام اہل اسلام کا فرض ہے کہ مسجد اقصیٰ اور فلسطین میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کی کوشش کریں اور ان کے لیے نصرت اور ثابت قدمی کی دعا کریں۔

’’یہ اس نبی کا پہلا قبلہ ہے کہ جس کے دین کے بعد پچھلے تمام ادیان ختم ہو گئے۔ اس میں سرکش شیر بن گیا ہے۔ وہ اپنے دل میں دشمنی اور عداوت لیے ہوئے ہے اور اس کا سینہ حسد سے کھول رہا ہے۔ جبکہ اقصیٰ درد بھری نظریں لیے ادھر اُدھر دیکھ رہی ہے۔ اس کا صحن جھلس رہا ہے۔ اے قدس! صبر کر! آپ کی نصرت آنے والی ہے! اے قربانیوں کے شہر! چور ہمیشہ بزدل ہی ہوتا ہے‘‘

اے اہلِ قدس! اللہ تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو بابرکت بنائے! آپ کی مرادیں پوری فرمائے! میرا رب رحیم اور بڑا نرم ہے۔

ترجمہ: محمد عاطف الیاس
نظر ثانی: حافظ یوسف سراج
بشکریہ، پیغام ٹی وی۔

اتوار, جولائی 23, 2017

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 27-شوال- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ پر سکون اور خوشحال زندگی ہر انسان کا ہدف ہے ، لیکن اسے پانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالی کے احکامات کے تابع کر دے، اپنا عقیدہ مضبوط بنائے، اللہ کے فیصلوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔

خطبے کا اقتباس پیش ہے:

تمام  تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کے لیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کے لیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کے لیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب ملنے والا نہیں ہے  وہ تو اس کی راہ کے راہی بھی نہیں بن سکتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خوشحال اور  زندگی میں لہر بہر کی تمام تر صورتوں کا راز خالق انسانیت کے اس فرمان میں پنہاں ہے:  فرمانِ باری تعالی ہے:
{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ }
 جو مرد یا عورت ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے تو ہم اسے خوشحال زندگی بسر کرائیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں ان کا اجر عطا کریں گے[النحل: 97]

 اس آیت کریمہ میں محقق مفسرین کے ہاں "خوشحال زندگی" سے مراد دنیا کی زندگی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی  میں ملنے والی مسرتیں، خوشیاں، راحتیں اور نعمتیں اس کے علاوہ ہیں۔

اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (مومن کا معاملہ تعجب خیز ہے کہ اس کا سارے کا سارا معاملہ ہی  خیر والا ہے، اور یہ خوبی صرف مومن کے ساتھ خاص ہے۔ چنانچہ اگر مومن کو تکلیف پہنچے تو مومن اس پر صبر کرتا ہے، تو یہ تکلیف اس کیلیے بھلائی کا باعث بن جاتی ہے۔ اور اگر مومن کو خوشی ملے تو وہ اس پر شکر کرتا ہے تو یہ خوشی اس کیلیے بھلائی کا باعث بن جاتی ہے) مسلم

یہ ایمان ہی ہے جو انسان کو ملی ہوئی معمولی دنیا پر بھی خوش کر دیتا ہے، اللہ تعالی کی عنایت پر راضی کر دیتا ہے، اور اللہ تعالی کی نوازشوں پر قناعت پسند بنا دیتا ہے۔

چنانچہ مسرتوں اور نعمتوں سے بھر پور کامیابی صرف ایسے ہی ممکن ہے جیسے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان فرمائی ہے: (یقیناً وہ شخص کامیاب ہو گیا  جو اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کر دے ، اللہ تعالی اسے ضرورت کے مطابق رزق دے، نیز اللہ تعالی اسے جو کچھ بھی عنایت کرے اس پر قناعت عطا کر دے) مسلم

دل ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہو تو اسے جوڑنے کے لیے صرف اللہ تعالی سے لگاؤ ہی کار گر ثابت ہوتا ہے۔ دل وحشت زدہ ہو تو اس کی تنہائی اللہ تعالی سے محبت کے ذریعے ہی  ختم ہوسکتی ہے۔ دل کے غموں کو  وحدانیتِ الہی  اور معرفت الہی سے زائل کیا جا سکتا ہے۔

لہذا اگر کوئی شخص ابدی راحت  اور قلب و جان  میں ظاہری و باطنی دائمی خوشحالی کا متمنی ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے نفس کو اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ڈھال لے، اپنی زندگی  کے ہر گوشے کو اللہ تعالی کی اطاعت میں گزارے تو پھر وہ اس دنیا میں بھی مختلف نعمتوں کے مزے لوٹے گا اور آخرت میں بھی، فرمانِ باری تعالی اسی کے بارے میں  کہ :
 {إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ} 
بیشک نیک لوگ  نعمتوں میں ہوں گے۔ [الانفطار: 13]

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جس وقت انسان اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس پر اپنے دو سپاہی مسلط کر دیتا ہے یہاں تک بندہ توبہ نہ  کر لے: پہلا سپاہی: "غم" اور دوسرا سپاہی "پریشانی

اس لیے مسلمانو! اپنے دل کا تعلق صرف اللہ تعالی سے بناؤ، اپنے پروردگار کے بارے میں حسن ظن رکھو، اگر تم متقی اور پاک صاف بن جاؤ تو تمہیں سعادت مندی اور خوشحالی نصیب ہو گی۔

محصور وہ ہے جس کا دل پروردگار سے  روک دیا جائے، اسیر وہ ہے جو اپنی خواہشات کا اسیر ہو، پریشان  وہ ہے جو اپنے آپ کو گناہوں میں ملوّث کر لے، مغموم وہ ہے جو اپنے نفس کو تباہ کن گناہوں اور شرعی خلاف ورزیوں میں ڈبو لے۔

کسی صاحب معرفت کا کہنا ہے کہ:  "دنیا میں سے مسکین لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن دنیا کی بہترین چیز سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔ کہا گیا: وہ کیا چیز  ہے؟ تو بتلایا: اللہ کی محبت، اللہ کے ساتھ انس، اللہ سے ملنے کا شوق، صرف اسی کی جانب متوجہ ہو کر بقیہ ہر چیز سے رو گردانی کا لطف"

فرمانِ باری تعالی ہے: 
{إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ}  
یقیناً جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا  اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ [الأحقاف: 13]

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ، اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

جمعرات, جولائی 20, 2017

آٹھ مصیبتیں


》 وہ آٹھ مصیبتیں جو انسان کی زندگی برباد کر دیتی ہیں 《
منقول

کوئی بندہ جب اللہ تعالیٰ سے غافل ہوتا ہے… یا کوئی گناہ کرتا ہے تو اس پر بہت سی مصیبتیں آتی ہیں…مگر ان مصیبتوں میں سے ’’آٹھ‘‘ بہت خطرناک ہیں …یہ آٹھ مصیبتیں انسان کی زندگی برباد کر دیتی ہیں اور اس کی آخرت کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں…اس لئے ہمیں سکھایا گیا کہ ہر دن صبح اور شام ان آٹھ مصیبتوں سے بچنے کی دعاء مانگا کریں …عجیب بات یہ ہے کہ …شیطان ان آٹھ مصیبتوں کے تیر…ہر صبح اور ہر شام ہم پر چھوڑتا ہے…پس جو انسان صبح شام اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے…وہ بچ جاتا ہے…اور جو یہ پناہ نہیں پکڑتا وہ ان تیروں میں سے کسی ایک یا زیادہ تیروں کا شکار ہو جاتا ہے…
وہ آٹھ مصیبتیں یہ ہیں:

(1) ’’الھم ‘‘ یعنی فکر میں مبتلا ہونا
(۲)’’الحزن‘‘ یعنی غم میں جکڑا جانا
(۳ )’’العجز‘‘ یعنی کم ہمتی ، بے کاری، محرومی
(۴)’’الکسل‘‘ یعنی سستی ، غفلت
(۵)’’الجبن‘‘ یعنی بزدلی، خوف، دل کا کمزور ہو کر پگھلنا
( ۶) ’’البخل‘‘ یعنی کنجوسی، حرص، لالچ اور مال کے بارے میں تنگ دلی
(۷)’’غلبۃ الدین ‘‘ یعنی قرضے میں بری طرح پھنس جانا کہ نکلنے کی صورت ہی نظر نہ آئے
( ۸) ’’قھرالرجال ‘‘ یعنی لوگوں کے قہر، غضب ، غلبے اور ظلم کا شکار ہو جانا…

》قیمتی دعاء《

ان آٹھ مصیبتوں سے حفاظت کی دعاء… کئی احادیث مبارکہ میں آئی ہے… صحیح بخاری میں تو یہاں تک آیا ہے کہ…
رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ یہ دعاء مانگتے تھے…
بس اسی سے اہمیت کا اندازہ لگا لیں حضور اقدس ﷺ معصوم تھے، محفوظ تھے اور شیطان کے ہر شر سے پاک تھے… مگر پھر بھی اس دعاء کی کثرت فرماتے…
ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ… حضور اقدس ﷺ دن کے وقت مسجد تشریف لے گئے تو وہاں اپنے صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو بیٹھا پایا…پوچھا کہ نماز کا تو وقت نہیں پھر مسجد میں کیسے بیٹھے ہو … عرض کیا…تفکرات نے گھیر رکھا ہے…اور قرضے میں پھنس چکا ہوں… 
فرمایا یہ کلمات صبح شام پڑھا کرو… انہوں نے اہتمام فرمایا تو تفکرات بھی دور ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے سارا قرضہ بھی اُتار دیا …
یہ دعاء الفاظ کی تقدیم تاخیر اور کچھ فرق کے ساتھ کئی احادیث میں آئی ہے
دعاء کے دو صیغے یہاں پیش کئے جا رہے ہیں …جو آسان لگے اُسے اپنا معمول بنا لیں…
(۱) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
(۲) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِ
الفاظ کا ترجمہ ایک بار پھر اختصار کے ساتھ سمجھ لیں…
1..’’الھم‘‘ تفکرات کو کہتے ہیں…آگے کی فکریں، پریشانیاں ، فضول پریشان کرنے والے منصوبے اور خیالات…
2.. الحزن ‘‘غم کو کہتے ہیں …ماضی کے واقعات کا صدمہ اور غم ایک دم اُبھر کر دل پر چھا جائے… حالانکہ حدیث شریف میں آیا ہے … ’’کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے رہ نہیں سکتا تھا…اور جو کچھ اس سے رہ گیا وہ اسے پہنچ نہیں سکتا تھا۔‘‘(مسند احمد)
یعنی جو نعمت مل گئی وہ ملنا ہی تھی اس سے زیادہ نہیں مل سکتی تھی…جو تکلیف آئی وہ آنی ہی تھی اس سے بچا نہیںجا سکتا تھا…اور جو کچھ نہیں ملا وہ نہیں ملنا تھا خواہ میں کچھ بھی کر لیتا… مطلب یہ کہ اللہ کی تقدیر پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہونا…یہ غم کا علاج ہے…
3..’’العجز‘‘ کا مطلب اچھے کاموں اور اچھی نعمتوں کو پانے کی طاقت کھو دینا…اس میں کم ہمتی بھی آ جاتی ہے…
4..’’الکسل‘‘ کا مطلب سستی… یعنی انسان کے ارادے کا کمزور ہو جانا… میں نہیں کر سکتا … میں نہیں کرتا…
5..’’الجبن‘‘ بزدلی، موت کا ڈر، اپنی جان کو بچانے کی ہر وقت فکر …اللہ تعالیٰ نے جان دی کہ اس کو لگا کر جنت پاؤ مگر ہم ہر وقت جان لگانے کی بجائے جان بچانے کی سوچتے ہیں…اللہ تعالیٰ نے جان دی تاکہ ہم اسے لگا کر…دین کو غلبہ دلائیں، اسلامی حرمتوں کی حفاظت کریں…امت مسلمہ کو عزت دلائیں… مگر ہم جان بچانے کے لئے ہر ذلت برداشت کرنے پر تیار ہو جائیں … اسے ’’ جبن ‘‘ کہتے ہیں…
6.. البخل‘‘ مال کے بارے میں کنجوسی کرنا …مال سے فائدہ نہ اٹھانا… مال جمع کرنے اور گننے کی حرص میں مبتلا ہو کر …مال کا نوکر اور ملازم بن جانا…اور مال کے شرعی اور اخلاقی حقوق ادا نہ کرنا…
7.. ضلع الدین‘‘ قرضے کا بری طرح مسلط ہو جانا… فضول قرضے لینے کی عادت پڑ جانا … قرضوں کے بوجھ تلے دب جانا…
8.. غلبۃ الرجال یا قہرالرجال ‘‘ … لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ، رسوا ، مغلوب اور مقہور ہونا…
اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی ان آٹھ آفتوں اور تمام آفتوں سے حفاظت فرمائے…
اللھم آمین یا ارحم الراحمین.

بدھ, جولائی 19, 2017

جمعہ, جولائی 14, 2017

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-10

تدبرِ القرآن
 سورہ الکھف
 استاد نعمان علی خان
 حصہ-10

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا - 18:65
قَالَ لَهُ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا - 18:66
قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا - 18:67
وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا - 18:68

پس ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا، جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔
اس سے موسیٰ نے کہا کہ میں آپ کی تابعداری کروں؟ کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔
اس نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکتے۔
اور جس چیز کو آپ نے اپنے علم میں نہ لیا ہو اس پر صبر بھی کیسے کر سکتے ہیں؟


ہم نے پہلے پڑھا تھا کہ کتنی محنت اور مشکلوں کا سامنا کر کے موسی علیہ اسلام اس مقام تک پہنچے تھے جہاں انہوں نے خضر سے ملنا تھا۔ جب وہ وہاں ہہنچ گئے تو موسی علیہ اسلام نے خضر سے کہا کہ کیا میں آپ سے وہ علم حاصل کرسکتا ہوں جو آپ کے پاس موجود ہے؟ 
انہوں نے کہا "بےشک، پر میرے ساتھ تم صبر نہ کرپاوگے، اور کیسے صبر کروگے تم اس پر نہیں احاطہ کرسکتے تم جس کا کسی خبر سے"

موسی علیہ اسلام نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔ اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کرونگا۔
خضر نے موسی علیہ اسلام سے کہا کہ میں تمہیں اس شرط پر ساتھ لے کر جاؤں گا اگر تم مجھ سے کسی شے کے بارے میں سوال نہیں کروگے جب تک میں اس کو خود بیان نہیں کردیتا۔ 
اس کے بعد دونوں چل پڑے اور ایک کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے اس میں سوراخ کردیا ۔ 
اس کو دیکھ کر موسی علیہ اسلام نے ان سے کہا کہ آپ نے اس میں سوراخ کردیا ہے تاکہ اس میں موجود سوار غرق ہوجائیں۔ یہ تو بہت غلط کیا ہے۔
یہ سن کر خضر نے کہا کہ کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرپاؤگے؟؟ 
اس پر موسی علیہ اسلام نے ان سے درگزر کی التجا کی اور وہ آگے روانہ ہوگئے۔
اسی طرح کے کچھ اور بھی واقعات رونما ہوئے ۔ خضر نے ایک لڑکے کا قتل کردیا۔ جس پر دوبارہ موسی علیہ اسلام نے سوال کیا۔ اور یہ ان کی دوسری غلطی تھی۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ موسی علیہ اسلام پر رحمت نازل کرے اگر وہ صبر کرتے تو ہمیں اور بھی سیکھنے کو مل جاتا"
اس کے بعد وہ ایک گاؤں میں گئے اور ان سے کھانا مانگا تو لوگوں نے انہیں کچھ نہ دیا۔ خضر نے دیکھا کہ وہاں ایک دیوار گرنے کو تھی تو انہوں نے اسے سیدھا کردیا۔ جس پر موسی علیہ اسلام نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ اس کام کے بدلے ان سے معاوضہ لے سکتے تھے۔ 
اب یہ تیسری دفعہ ہوگیا تھا کہ موسی علیہ اسلام نے ان کی بات نہ مانی تھی اور ان کے کاموں کے متعلق سوال کیا تھا۔ 
اس کے بعد خضر نے ان سے کہا کہ اب تمہاری اور میری علیحدگی کا وقت آگیا ہے۔ اور اب میں تمہیں بتاتا ہوں ان کاموں کے متعلق جو کہ وہ میں نے کیوں کیے تھے۔
اب ہم یہاں یہ سیکھتے ہیں کہ خضر نے ہر بات شروع میں نہ بتا کر اور ان سے یہ کہہ کر کہ کوئی سوال نہ پوچھنا موسی علیہ اسلام کے تجسس کو بڑھادیا تھا۔ اس باعث نا صرف پورے سفر میں انہیں دلچسپی رہی بلکہ ہر معاملے میں الرٹ بھی رہے، اور یہ علم کی کنجی ہے کہ جب طالب علم تجسس میں ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ سیکھنے کے لیے بےتاب رہتا ہے۔
اور اگر ہم دیکھیں تو خضر نے جو بھی کام کیے وہ غلط تھے، ان کی کوئی لاجک نہیں بنتی تھی۔ لیکن آگے ہم پڑھیں گے کہ ان کاموں میں کتنی خیر چھپی ہوئی تھی۔ اور ہماری زندگی میں بھی ایسے بہت سے کام ہوتے ہیں جو بظاہر غلط نظر آتے ہیں، ان کی ہمیں سمجھ نہیں آتی مگر ان میں ہمارے لیے فائدہ ہوتا ہے جو ہمیں اس وقت سمجھ میں نہیں آتا۔ 
ہمیں وہ چھپی ہوئی خیر نظر نہیں آتی اسی لیے ہم مایوس ہوجاتے ہیں 
اس لیے اس مشکل وقت کو قبول کرنا ہمارے لیے دشوار ہوجاتا ہے 
لیکن ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب ہمیں سمجھ آتی ہے کہ جو ہوا تھا اس میں ہماری ہی بھلائی تھی۔
آپ اپنی کسی پرانی مشکل کو ہی یاد کریں کہ جب وہ آپ پر آئی تھی تو آپ کا کیا ردعمل تھا اور آج سالوں کے بعد آپ اس ایک مشکل کی وجہ سے کہاں پر ہیں؟ 
جو ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت ہے اس لیے جیسے بھی حالات ہوں ان پر دل سے کہنا چاہیے "رَضِیتُ بِاللّٰہِ رَبًّا 
اے اللہ میں تجھ سے راضی ہوں، تو نے ہی مجھے تخلیق کیا ہے، تو ہی میرا خدا ہے، تو میری مشکلات سے واقف ہے اور تو ہی میرے معاملات کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اگر تونے یہ مشکل مجھے دی ہے تو میں اس کی حکمت نہیں جانتا پر تو جانتا ہے اور مجھے تجھ پر یقین ہے، میں تجھ سے راضی ہوں"
جاری ہے۔۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جمعرات, جولائی 13, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 13 جولائی 2017

~!~ آج کی بات ~!~

اگر انسان میں وفاداری سچائی اور ایمان ہی نہ ہو تو وہ کیسا انسان ہوا ؟
 باقی ساری خوبیاں اورڈگریاں سب کے پاس ہوتی ہیں۔
 مگر سچائی سیکھی نہیں جاتی ۔
یہ تو انسان کی گھٹی میں ہوتی ہے ۔

نمرہ احمد کے نئے ناول "حالم" سے اقتباس

محبتوں میں سچے


منقول

محبت صرف اتنی ہی ہے جو رب کی عطا ہے
جتنی ہے ۔۔۔
جس کے لیے ہے۔۔۔۔
جس قدر ہے۔۔۔
اور جب تک ہے۔۔۔۔
اس کے بعد پھر وہی لوگ تضحیک کر کے چلتے نظر آتے ہیں جو اس سے قبل محبتوں کے دعوے دارہوتے ہیں
مشکل وقت میں محبتوں کے بھید کھل جاتے ہیں.
کون عزت کرتا ہے۔۔۔۔
کب تک کرتا ہے۔۔۔۔
کتنا مشکل میں ساتھ نبھاتا ہے۔۔۔۔
رب کی عطا اس کی تقسیم کے ساتھ ہے
جنہیں جدا ہونا ہوتا ہے وہ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں 
جنہیں ساتھ دینا ہوتا حالات جیسے بھی ہوں ساتھ دیتے
ساتھ چلنے والے بہت سے لوگ مل جاتے ہیں
ساتھ ہو کر ساتھ دینے والے لوگ بھی رب کی عطا سے ہیں
اور اس سب کے باوجود کچھ محبتیں بے سبب ہوتی ہیں
جن سے کچھ درکار نہیں ہوتا
کچھ مفاد نہیں ہوتا
جنہیں ہم خوش دیکھنا چاہتے
اور دعا کو اٹھے ہاتھ بغیر کسی غرض و غایت کے ان کے لیے خیر اور خوشیاں مانگتے ہیں
اللہ کے لیے محبتیں رکھنے والے 
فقط اللہ کے لیے ملنے والے
اور فقط اللہ کے لیے جدا ہونے والے لوگ
یہی ہیں جو محبتوں میں سچے ہیں ...


بدھ, جولائی 12, 2017

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود


مالکِ کُل، خدائے ہست و بود
مظہر عالمِ وجود و شہود

ہر تخیل سے ماورا ہے تو
ہر تخیل میں ہے مگر موجود

مالکِ کل، خدائے ہست و بود

تیرا ادراک غیر ممکن ہے
عقل محدود، تو ہے لا محدود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود

فرض ہے تیری بندگی سب پر
ہے حقیقت میں اک تو ہی معبود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود

ہے یہ اعجاز تیری قدرت کا
ہر جگہ ہے ، کہیں نہیں موجود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود
مظہر عالمِ وجود و شہود

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

سوموار, جولائی 10, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 10 جولائی 2017

 ~!~ آج کی بات ~!~

جیسے جیسے میری عمر میں اضافہ ہوتا گیا، مجھے سمجھ آتی گئی کہ اگر میں Rs. 3000 کی گھڑی پہنوں یا Rs. 30000 کی، دونوں وقت ایک جیسا ہی بتائیں گی۔۔!

میرے پاس Rs. 3000 کا بیگ ہو یا Rs. 30000 کا، اس کے اندر کی چیزیں تبدیل نہیں ہوں گی ۔ ۔ !

میں 300 گز کے مکان میں رہوں یا3000 گز کے مکان میں، تنہائی کا احساس ایک جیسا ہی ہوگا ۔ ۔ !

آخر میں مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر میں بزنس کلاس میں سفر کروں یا اکانومی کلاس میں، میں اپنی منزل پر اسی مقررہ وقت پر پہنچوں گا۔ ۔ !

اس لیے اپنی اولاد کو مالدار ہونے کی ترغیب مت دو بلکہ ان کو یہ سکھاؤ کہ وہ خوش کس طرح رہ سکتے ہیں اور جب بڑے ہوں تو چیزوں کی قدر کو دیکھیں قیمت کو نہیں ۔۔۔۔۔۔

ایک قید ضروری ہے

ایک قید ضروری ہے
(استفادہ از الفوائد، مؤلفہ امام ابن القیم رحمہ اللہ تعالی)

اس دنیا سے جاؤ گے، تو یہ ایک عجیب واقعہ ہوگا۔ 
یا تو تم ایک قید خانے سے چھوٹو گے اور اپنے سامنے کھلی فضائیں پاؤ گے۔ 
یا پھر تم ابھی آزاد پھرتے ہو اور یہاں سے نکلتے ہی ایک قید خانے میں چلے جاؤگے. . . .! 

ایک قید ضروری ہے خواہ یہاں کاٹ لو یا وہاں!

 یہاں عمل اور بندگی کی قید ہے اور چند دنوں کی ہے۔ 
وہاں بے بسی اور جہنم کی قید ہے، البتہ وہاں کے دن بہت لمبے ہیں ! 
چاہو تو یہاں کاٹ جاؤ اور چاہو تو وہاں جہاں کٹے گی نہیں ! 


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اتوار, جولائی 09, 2017

آج کی بات ۔۔۔۔ 09 جولائی 2017

~!~ آج کی بات ~!~

دل شکر سے لبریز ہو تو روشن ہو جاتا ہے، 
شکوہ کیجیے تو بجھ جاتا ہے، 
نا شکر گزار ہو تو پتھر بن جاتا ہے۔ 

شکر گزار ہمیشہ روشن ضمیر اور روشن دماغ ہوتا ہے،
 نا شکر گزار بے ضمیر اور بد دماغ  ہو جاتا ہے۔


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

ہفتہ, جولائی 08, 2017

چھ منٹ

چھ منٹ
منقول


ہر طرف اعلان ہو گئے دھومیں مچ گئیں کہ صرف دس منٹ دورانیے کی یہ فلم بیسٹ شارٹ فلم کا لقب جیت گئی ہے۔
لوگ حیران ہو گئے کہ یہ اتنی چھوٹی فلم کیسے سپر ہٹ اور بیسٹ شارٹ فلم آف دی سینچری جیت گئی ؟
خیر فلم جیسے ہی ریلیز ہوئی تو دیکھنے والوں کا ایک جم غفیر سینما پر ٹوٹ پڑا۔ دھڑا دھڑ خلقت سینما گھروں سے بھر گئی چھوٹا کیا بڑا کیا بوڑھا کیا غرض بہت رش ہو گیا۔
فلم شروع ہوئی۔ یہ فلم ایک کمرے کی چھت کا منظر دکھانے سے شروع ہوئی اور یہی منظر مسلسل 6 منٹ تک بغیر کسی تبدیلی بغیر کسی مکالمے بغیر کسی آواز کے سکرین پر دکھایا جاتا رہا۔
اکثر فلم بین شوقینوں کا صبر جواب دے چکا تھا۔ کچھ اگر بڑبڑانے پر اکتفا کیئے بیٹھے تھے تو کچھ نے بآواز بلند اس گھٹیا مذاق پر بولنا اور واویلا مچانا شروع کر دیا اور کچھ تو فلم چھوڑ کر باہر جانے پر بھی آمادہ نظر آ رہے تھے۔
اچانک سکرین پر منظر میں تبدیلی آئی۔ اور کیمرے کا رخ چھت سے آہستہ آہستہ کمرے کے فرش کی طرف ہونا شروع ہوا جہاں ایک بستر ہر کسی قسم کی حرکت سے معذور ایسا بچہ لیٹا ہوا تھا جس کی حادثاتی طور پر ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ وہ بچہ کسی کروٹ پر کوئ حرکت کرنے سے معذور تھا۔
سکرین پر ایک سلائیڈ پر تحریر ابھری کہ

ابھی ہم نے آپ کو صرف 6 منٹ کیلئے وہ منظر دکھایا تھا جسے یہ بچہ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل اور لگاتار دیکھ رہا ہے اور آئندہ جب تک زندہ رہے گا تب تک زندگی کے ہر لمحے میں برابر اسے دیکھتا رہے گا۔

اور آپ تھے کہ محض 6 منٹ تک یہ منظر دیکھنے سے اُکتا گئے تھے ؟

لہذا آپ سے التماس کی جاتی ہے کہ اپنی زندگی کے ہر ایک لمحہ سے محظوظ ہوئیے اور شکر کیجیے ان نععمتوں کا جن میں آپ رہ اور بس رہے ہیں۔۔


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جمعہ, جولائی 07, 2017

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-9

تدبرِ القرآن
 سورہ الکھف
 استاد نعمان علی خان
 حصہ-9

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

آیت نمبر- 61
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا - 18:61
جب وه دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے، وہاں اپنی مچھلی بھول گئے جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنالیا۔

جب موسیٰ علیہ اسلام اور ان کا غلام اس مقام پر پہنچے جہاں انہیں پہنچنا تھا تو انہوں نے کچھ دیر آرام کرنے کا ارادہ فرمایا اور وہ وہاں مچھلی کو بھول گئے۔ جس کی وجہ سے انہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑگیا۔ 
وہ مچھلی دریا میں سرنگ کی طرح راہ بناتے ہوئے چلی گئی۔ 
کچھ آگے جا کر موسی علیہ اسلام نے اپنے غلام سے فرمایا کہ کھانا لاؤ۔
تب اس غلام نے انہیں بتایا کہ جب آپ آرام فرمارہے تھے تو وہ مچھلی میں وہاں بھول گیا۔ اور مجھے شیطان نے اس کا بھلا دیا ورنہ میں آپ کو ضرور بتاتا۔
اب دیکھیں جس جگہ پر مچھلی نے انہیں چھوڑ جانا تھا وہی پہ ان کی ملاقات خضر سے ہونا تھی۔ مگر کیونکہ یوشع بن نون بھول گئے تھے اس لیے وہ اپنے صحیح مقام سے آگے آگئے۔ 
تب موسی علیہ اسلام آرام فرمارہے تھے اس وجہ سے اس غلام نے انہیں جگایا نہیں اور سوچا کہ جب وہ جاگیں گے تب انہیں بتا دوں گا۔ 
مگر وہ بھول گیا۔
آپ تصور کریں، کہ اب ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، وہ اپنے اصل مقام سے آگے آچکے تھے، اتنا سفر طے کرنے کے بعد واپس پیچھے جانا آسان نہ تھا۔
جب ہم اپنے سفر میں کھو جاتے ہیں وہ سفر کی سب سے مشکل ترین گھڑی ہوتی ہے 
مگر بات یہ ہے کہ جب آپ علم کے لیے گھر سے نکلیں گے تو آزمائے ضرور جائیں گے۔ اور یہ موسی علیہ اسلام کی آزمائش تھی۔
کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے میں نہیں ٹھہرونگا اور سفر کرتا رہوں گا۔ 
اور اب وہ بھوک کا شکار تھے، تھکے ہوئے تھے، اور اب انہیں واپس پیچھے جانا تھا۔
علم کی طلب قربانی مانگتی ہے۔ اسے مشقت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
اگر آپ اس رمضان ارادہ رکھتے ہیں قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کا تو اس قصے کو یاد رکھیے گا۔ یاد رکھیے گا کہ آپ آزمائے جائیں گے۔ آسان نہیں ہوگا۔ بھوک لگے گی، تھک جائیں گے، غلطی ہوگی تو واپس پیچھے جانا پڑے گا مگر یہ اس لیے ہوگا تاکہ اللہ آزما سکے کہ کیا واقعی میرا بندہ اپنے قول و فعل میں سچا ہے؟ کہ جو اس نے رمضان سے قبل نیت کی تھی کہ میں اس دفعہ یہ سورہ ضرور حفظ کرونگا، یا اس کی تفسیر لازم پڑھوں گا چاہے کچھ بھی ہوجائے"
تو کیا وہ سچ میں کرتا ہے یا کچھ  دن بعد تھک کے بیٹھ جاتا ہے۔ 
یہ ایک ایسی مشقت ہے جو علم کی طلب رکھنے والوں کو لازمی دیکھنی پڑتی ہے۔ 
علم کا حصول آسان نہیں ہے، اس میں محنت درکار ہوگی، اس کو لگن اور قربانی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے جب آپ رمضان میں تھکنے لگیں تو فوراً خود کو یاد کروائیے گا کہ موسی علیہ اسلام بھی علم کے لیے گھر سے نکلے تھے، جب وہ تھک گئے تو انہوں نے ہار نہیں مانی تھی بلکہ اپنا مقصد پورا کیا تھا۔ 
اور ہم نے بھی اپنا مقصد پورا کرنا ہے چاہے کوئی بھی مشکل کیوں نہ آئے۔
اللہ اس رمضان میں اور اس کے بعد بھی علم کے حصول کو ہمارے لیے آسان بنائے، ہم سب کو اہل القرآن میں سے بنائے جو قرآن کو سیکھتے ہیں اور پھر دوسروں کو سکھاتے ہیں۔
آمین۔
جاری ہے۔۔۔۔


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

بدھ, جولائی 05, 2017

دانا کی نصیحت

~!~ دانا کی نصیحت ~!~
منقول

علماء کی مجلس میں.... عقل سے کام لیں

امراء کی مجلس میں..... علم سے کام لیں

دوستوں کی محفل میں..... ادب کو ملحوظ خاطر رکھیں

گھریلو محفل میں..... نرمی سے پیش آئیں

اگر بیوقوفوں کی محفل بیٹھنے کا موقع ملے تو...... تحمل کا مظاہرہ کریں۔

منگل, جولائی 04, 2017

سوموار, جولائی 03, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 03 جولائی 2017

~!~ آج کی بات ~!~

انسان کی خامیوں میں ایک بڑی خامی یہ بھی ہے
 کہ جو بات اس نے ساری زندگی گنوا کے سیکھی ہوتی ہے,
چاہتا ہے اس کے آس پاس رہنے والے انسان چند دنوں میں وہ بات سیکھ جائیں.

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اتوار, جولائی 02, 2017

صحبت کے اثرات


ٹشوپیپر کا ایک دلچسپ تجربہ آپ نے بھی شاید بچپن میں کیا ہو۔۔۔
ایک جگہ تھوڑا سا پانی گرائیں اس پانی کے ایک طرف ٹشوپیپر کا ایک کونا رکھ دیں، اس کونے کے علاوہ باقی سارا ٹشوپیپر پانی سے باہر ہوگا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد دیکھیے گا کہ ٹشوپیپر کا ایک بڑا حصہ گیلا ہوچکا ہے، خاموشی کے ساتھ پانی ٹشوپیپر میں سرایت کرتا جائے گا۔۔۔۔
بہت دلچسپ معلوم ہوتا ہے، سرایت کرنے کا عمل نہایت خاموشی اور سرعت کے ساتھ نظر آئے گا۔۔۔۔
اس عمل کو سائنسی اصطلاح میں Capillary Action کہا جاتا ہے۔۔۔۔
یہی حال نیک صحبت یا بری صحبت کا ہے۔۔۔۔
آپ تھوڑا وقت گزاریں یا زیادہ وقت، صحبت کے اثرات اسی طرز پر آپ کے قلب پر مرتب ہونگے اور شروع میں آپ کو معلوم بھی نہ ہوپائے گا۔۔۔۔
جتنی زیادہ صحبت، اُتنے زیادہ اثرات۔۔۔۔۔۔
صحبت کے اثرات ازخود سرایت کرتے جائیں گے اس لیے صحبتِ نیک رکھیے اور بری صحبت سے اجتناب کیجیے۔۔۔۔

منقول

ہفتہ, جولائی 01, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 01 جولائی 2017

~!~ آج کی بات ~!~

زندگی صدیوں، سالوں، دنوں یا مہینوں میں نہیں بدلتی....
زندگی اسی لمحے میں بدل جاتی ہے جس میں آپ زندگی بدلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں