سوموار, ستمبر 30, 2013

خواہشات کا قیدی


ہر شخص جو اپنی خواہشات اور اپنی ذات کا اسیر ہے ، ایک آزاد شخص نہیں ہے -
جو آرزوؤں اور تمناؤں ، اور لذتوں اور راحتوں کے کشکول اٹھائے پھرتا ہے ، وہ بھکاری ہے
بادشاہ نہیں ہے -
آزاد نہیں قیدی ہے -
اور قیدی کے وجود کے لئے جب بھی تیار ہوتا ہے قیدی کا لباس ہی ہوتا ہے - شاہی خلعت نہیں -
اور محکوم اور مجبور آدمی ارفع لذت ( ہائر پلیزر ) سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ....

اشفاق احمد

آج کی بات (29 ستمبر 2013)


اگر دولت مندوں میں انصاف اور مفلسوں میں قناعت ہوتی تو دنیا سے گدائی (بھیک مانگنا) کی رسم ختم ہو چکی ہوتی-

اتوار, ستمبر 29, 2013

انا


"تم اپنی کوئی بہت محبوب ترین شے اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دو۔"

"سبانجی کے ڈورم میں میرے پاس ایک ڈائمنڈ رنگ پڑی ھے' وہ بہت قیمتی ھے"

"قیمتی چیز نہیں'
محبوب چیز قربان کرو۔ضروری نہیں کہ
تمہاری محبوب چیز قیمتی بھی ھو' اور میں بتاؤں کہ تمہاری محبوب ترین شے کیا ھے؟"


"تمہاری انا ۔۔۔ تم اسے قربان کر دو۔"

(نمرہ احمد کے ناول "جنت کے پتے" سے اقتباس)

شکر گزار



دل شکر سے لبریز ہو تو روشن ہو جاتا ہے، شکوہ کیجیے تو بجھ جاتا ہے، نا شکر گزار ہو تو پتھر بن جاتا ہے۔ شکر گزار ہمیشہ روشن ضمیر اور روشن دماغ ہوتا ہے، نا شکر گزار بے ضمیر اور بد دماغ ہو جاتا ہے۔

پھسلنے والے



غالباً فٹ پاتھ پر کوئی چکنی چیز یا کیلے کا چھلکا کسی غیر ذمہ دار شخص نے پھینک رکھا تھا۔ اس لیے جیسے ہی نوجوان نے اس پر قدم رکھا، وہ لڑ کھڑ ا گیا اور پھسل کر گر گیا۔لمحہ بھر کے لیے وہ حواس باختہ ہوا اور پھر کپڑ ے جھاڑ تا، جسم سہلاتا کھڑ ا ہو گیا ۔ اس منظر کو دیکھ کر کچھ لوگ نوجوان کو سہارا دینے کے لیے آگے بڑ ھے ، کچھ نے تاسف کا اظہار کیا اور کچھ ایسے بھی تھے جن کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔

یہ منظر آخری لمحے میں میں نے بھی دیکھا۔ لمحہ بھر کے لیے میرے دل میں ہمدردی کی ایک لہر اٹھی مگر نوجوان کو اٹھتا دیکھ کر مجھے کچھ اطمینان ہوا۔ لیکن اس کے بعد بے اختیار میرے منہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا نکلی جس کے ایک حصے کا مفہوم اس طرح ہے ۔

’’اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ میں پھسل جاؤں یا کسی اور کے پھسلنے کا باعث بنوں ۔ ۔ ۔ ‘‘
اس دعا میں جس پھسلنے کا ذکر ہے وہ یقینا اس نوجوان کا پھسلنا نہیں تھا۔ یہ تو میرا ایک فوری ردعمل تھا۔لیکن جس پھسلنے کا اس دعا میں ذکر ہے وہ کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔یہ پھسلنا صراط مستقیم سے پھسلنا ہوتا ہے ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان شارع زندگی پر سیدھا جا رہا ہو اور اچانک اس کے سامنے اس کا مفاد آجائے ، اس کی خواہش آجائے ، اس کے جذبات آجائیں ، اس کے تعصبات آجائیں ۔ انسان لین دین کا معاملہ کر رہا ہو۔ حقوق و فرائض کا تعین کر رہا ہو۔ انسان بات کر رہا ہو، انسان بازار سے گزر رہا ہو، انسان کمرے میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہو۔

ان تمام مواقع پر کوئی باطل عمل، کوئی حق تلفی، کوئی فحش منظر، ظلم و نا انصافی کا کوئی موقع ، مفاد اور خواہش کا کوئی لمحہ، حرص و لالچ کا کوئی امکان کیلے کے ایک چھلکے کی طرح، چکنائی اور پھسلن کی طرح، کیچڑ اور پانی کی طرح ، اس کے راستے میں آتی ہے اور انسان کے قدم لڑ کھڑ ا جاتے ہیں ۔ وہ ڈگمگاتا ہے اور گر پڑ تا ہے ۔ مگر یہ وہ مقام ہے جہاں اصل فرق شروع ہوتا ہے ۔ کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو گرنے کے بعد فوراً اٹھ جائیں ، لڑ کھڑ انے کے بعد فوراً سنبھل جائیں ، پھسلنے کے بعد فوراً کھڑ ے ہو جائیں ۔

انسانوں کی اکثریت اس پھسلنے کو انجوائے کرتی ہے ۔ان کا پاؤں جب کیلے کے کسی ’چھلکے ‘پرپڑ تا ہے تو بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ان کا ضمیر ، ان کا ایمان، ان کی فطرت اور ان کی عقل سلیم انھیں بتادیتی ہے کہ ہوشیارہوجاؤ، مگر وہ اس آواز کو نظر انداز کر کے خوشی خوشی پھسلنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے کہ ان کے وجود کو کوئی چوٹ نہیں لگتی بلکہ مزہ آتا ہے ۔ نفس کو خوشی ہوتی ہے ۔اندر کے حیوان کو تسکین ملتی ہے ۔ زخمی اگر ہوتا ہے تو ایمان ہوتا ہے ۔ اخلاقی وجود ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے اس چوٹ کا جتنا کچھ درد ہے اور بلاشبہ بہت شدید درد ہے ، وہ قیامت کے دن ظاہر ہو گا اور جب ہو گا تو انسان سر پکڑ کر روئے گا کہ یہ کیا ہو گیا۔ مگر اس دن نہ کوئی سہارا دینے والا ہو گا نہ کوئی تاسف کرنے والا۔
چنانچہ سطح بین اور جلد باز انسان پھسلنے کو اپنی عادت بنالیتے ہیں ۔ وہ بار بار کیچڑ کے پاس سے گزرتے ہیں تاکہ پھسلنے کا کوئی موقع مل جائے ۔ وہ ٹی وی کے چینل بدلتے ہیں ، گرلز کالج اور بازاروں کے چکر کاٹتے ہیں ، دفتروں میں کسی ضرورت مند سے رشوت کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ، دکانوں میں بیٹھ کر اپنی چرب زبانی سے فریب کے جال بنتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ پھسلنے والے نہیں رہتے ، گرنے والے نہیں رہتے بلکہ ہمیشہ کے لیے گر جاتے ہیں ۔ وہ دوسروں کی راہ میں چھلکے ڈالنے والے انہیں پھسلنے پر آمادہ کرنے والے ، انہیں بھٹکانے والے بن جاتے ہیں ۔ یہ سرکشی ہے ۔ یہ وہ جرم ہے جس کی معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ جہنم کی آگ اصل میں ایسے ہی لوگوں کے لیے بھڑ کائی جا رہی ہے ۔مگر جو شخص پہلی دفعہ پھلسنے کے بعد اٹھ جاتا ہے وہ گرنے والوں میں نہیں ہے کیونکہ اس راہ میں وہ بھی نہیں گرا جو گرا پھر سنبھل گیا

اٹھنے کا یہ رویہ ، سنبھلنے کی یہ عادت، لوٹ آنے کا یہ راستہ، توبہ کا یہ طریقہ جنتیوں کا طریقہ ہوتا ہے ۔یہ ان کا طریقہ ہوتا ہے جنھوں نے اپنی خواہش ، لذت ، مفاد اور ضرورت کی مکمل تسکین کے لیے قیامت کے دن تک انتظار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہوتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ختم نہ ہونے والی دنیا اور ہمیشہ کے مزوں میں آباد کر دیا جائے گا۔

ابو یحییٰ

جمعرات, ستمبر 26, 2013

ترا قبلہ ہے بُتِ آذری،سر عرش میری نماز ہے


تجھے اپنے مال پہ عجب ہے ، مجھے اپنے حال پہ ناز ہے
تیرا حصّہ مستی و بیخودی مرا بخرہ سوزوگداز ہے

تو دُکھے ہوؤں کو دکھائے جا،تو جلے ہووں کو جلائے جا
تو نشان خیر مٹائے جا ترے شر کی رسی دراز ہے

غم دہر تجھ کو نہ کھائے کیوں خوشی اپنا جلوہ دکھائے کیوں
تو وفا کا لطف اٹھائے کیوں، ترا دل تو بندہ آز ہے

تجھے فکر ہے کم وبیش کی تجھے سوچ ہے پس و پیش کی
مری زندگی کے محیط میں نہ نشیب ہے نہ فراز ہے

طرب آفریں میرا ساتگیں،تری لے ہے مایہ بغض و کیں
میں جہان درد کا راز ہوں تو دیار حرص کا ساز ہے

مجھے تیرے مال سے کیا غرض،تجھے میرے حال کی کیا خبر
کہ میں غزنوی بُتِ ذر کا ہوں ،شہ سیم کا تو ایاز ہے

تو رہین شوکت قیصری ، میں امین شان قلندری
ترا قبلہ ہے بُتِ آذری،سر عرش میری نماز ہے

کروں مال و زر کی میں کیوں ہوس مجھے اپنے فقر پہ فخر بس
یہی حرز جان فقیر ہے ،یہی قول شاہ حجاز ؐہے

میکش اکبر آبادی

There Is No Free Lunch




کسی زمانے کی بات ھے کہ ایک بادشاہ نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور پوری دنیا میں تلاش کریں کہ وہ کون سی ایسی چیز ھے جس سے لوگ دانشمندی سیکھ سکتے ھیں۔

بادشاہ کے آدمی پوری دنیا میں پھیل گئے اور کئی سال کی تلاش کے بعد انہوں نے کچھ ھزار ایسی کتابیں جمع کیں جن سے لوگ دانشمندی سیکھ سکتے تھے۔ بادشاہ نے جب ان کتابوں کے ڈھیر کو دیکھا تو کہا کہ ان کتابوں کو پڑھنے کے لئے تو ایک عمر چاھئے مجھے کوئی اور آسان سی چیز بتاؤ۔ لوگوں نے ان کتابوں کے ڈھیر سے 100 ایسی کتابیں تلاش کیں جو ان کے خیال میں دانشمندی سیکھنے کیلئے ضروری تھیں۔ بادشاہ نے کہا کہ نہیں یہ بھی بہت ھیں۔ لوگوں نے پھر 10 کتابیں منتخب کیں۔ بادشاہ مطمئن نہیں ھوا۔ انہوں نے پھر ایک کتاب بتائی۔ بادشاہ نے کہا اور کم کرو۔ انہوں نے ایک باب نکلا۔ ’’اور کم کرو۔‘‘ ایک صفحہ، ’’اور کم کرو۔‘‘، ایک پیراگراف۔ بادشاہ نے کہا کہ نہیں مجھے اس سے بھی کم چاھیے۔ آخر کار بادشاہ کے دانشمند لوگوں نے بہت سوچ سمجھ کر ایک جملہ منتخب کیا اور بادشاہ سے کہا کہ اگر لوگ اس جملے کو سمجھ جائیں تو وہ دانش مندی سیکھ سکتے ھیں۔ وہ جملہ یہ ھے۔

"There is no free lunch."

میں اس کا ترجمہ اس طرح کروں گا کہ دنیا میں کوئی چیز مفت نہیں ملتی

یہ واقعہ میں نے کئی سال پہلے ایک کتاب میں پڑھا تھا۔ اور میں مستقل اس کے بارے میں سوچتا رھا ھوں۔ مگر واقعی اگر لوگ اس ایک جملے کو سمجھ لیں تو وہ دانشمند ھو سکتے ھیں۔ دنیا میں کوئی بھی چیز مفت نہیں ملتی۔ کوئی بھی چیز حاصل کرنے کے لیے ھمیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ھے۔ اگر ھم قیمت ادا کئے بغیر کوئی بھی چیز حاصل کرنا چاھتے ھیں تو ھم صرف اپنے آپ کو بے وقوف بنارھے ھیں۔

کروڑوں مرتبہ یہ بات ثابت ہوچکی ھے کہ انسان کو ھر وہ چیز مل جاتی ھے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ھے یا جس کی قیمت وہ ادا کرنے کو تیار ھے۔


ظفر خضر کی کتاب، "انقلاب 2000: کیا پاکستانی کامیابی کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ھیں؟" سے انتخاب۔

جو یقین کی راہ پہ چل پڑے



جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گۓ
~~~~~~~~~~~~~~
Jo Yaqeen Ki Raah Pe Chal Parey Unhain Manzilon Ne Panah di
Jinhain Waswason Ne Dara diya woh Qadam Qadam Pe Behek Gaye

بدھ, ستمبر 25, 2013

دنیا کا دھوکہ



یہ دنیا دھوکے میں کیسے ڈالتی ہے عائشے؟"

وہ اب بالکل بھی اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ الاؤ کو دیکھ رہی تھی جس سے سرخ دانے اڑ اڑ کر فضا میں تحلیل ہو رہے تھے۔
"جب یہ اپنی چمکنے والی چیزوں میں اتنا گم کر لیتی ہے کہ اللہ بھول جاتا ہے۔"
"کیا مجھے بھی دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟"
"پہلی دفعہ دھوکا انسان بھولپن میں کھاتا ہے مگر بار بار کھائے تو وہ اس کا گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر احساس ہونے کے بعد کھائے تو اسے ایک بری یاد سمجھ کو بھول جانا چاہیے اور زندگی نئے سرے سے شروع کرنا چاہیے۔"
"نئے سرے سے؟ ایسے یوٹرن لینا آسان ہوتا ہے کیا؟ انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ خوب صورت لگے‘ خوب صورت لباس پہنے‘ کیا یہ بری بات ہے؟" اس کی آواز میں بے بسی در آئی تھی‘ جیسے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کیا غلط تھا کیا صحیح‘ سب گڈمڈ ہو رہا تھا۔
"نہیں! اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ چیزیں زندگی کا حصہ ہونی چاہئیں۔ مگر ان کو آپ کی پوری زندگی نہیں بننا چاہیے۔ انسان کو ان چیزوں سے اوپر ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ میری طرح ہوتے ہیں جن کی زندگی لکڑی کے کھلونے بنانے‘ مچھلی پکڑنے اور سچے موتی چننے تک محدود ہوتی ہے اور کچھ لوگ بڑے مقاصد لے کر جیتے ہیں۔ پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر پریشان نہیں ہوتے۔"
حیا نے غیر ارادی طور پہ ایک نگاہ اپنے کندھے پہ ڈالی جہاں آسیتن کے نیچے Who لکھا تھا۔
"اور جن کی زندگی میں بڑا مقصد نہ ہو‘ وہ کیا کریں؟
"وہی جو میں کرتی ہوں۔ عبادت! ہم عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں‘ سو ہمیں اپنے ہر کام کو عبادت بنا لینا چاہیے۔ عبادت صرف روزہ‘ نوافل اور تسبیح کا نام نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر انسان کا ٹیلنٹ بھی اس کی عبادت بن سکتا ہے میں بہارے کے لیے بھولوں کے ہار اور آنے کے لیے کھانا بناتی ہوں۔ میری یہ صلہ رحمی میری عبادت ہے۔ میں پزل باکسز اور موتیوں کے ہار بیچتی ہوں‘ میرا یہ رزق تلاشنا میری عبادت ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے انسان بڑے بڑے مقاصد پا لیتا ہے۔"

جنت کے پتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از نمرہ احمد

معمولی اور خاص



ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ -

' ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ' ﺳﮯ ' ﺧﺎﺹ' ﺑﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻻﻣﺤﺪﻭﺩ ﻋﺮﺻﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ

ﻣﮕﺮ ' ﺧﺎﺹ' ﮐﻮ ' ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ' ﺑﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﻣﺪّﺕ ﮐﺎﻓﯽ
ﮨﮯ -

روشن خیالی



لاکھوں کروڑوں برہنہ ویب سائٹس کوئی افریقہ کے ننگے جنگلیوں نے تو نہیں بنائی ہیں؟ یورپ اور امریکا کے ’’مہذب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ‘‘ روشن خیالوں ہی نے تو بنائی ہیں۔ ان کے اثرات ہمارے دانشوروں کی آزاد خیالی کے طفیل اب ہمارے ’’بند معاشروں‘‘ تک بھی آن پہنچے ہیں۔ ہر طرف ترغیبات کاکھلا بازار سجا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ کسی پاکیزہ اخبار کا ’مجلہ‘ (Magazine) بھی اس وقت تک معیاری نہیں گردانا جاتا جب تک وہ نوجوان نسل کے جنسی جذبات بھڑکا دینے والی چہچہاتی، چہار رنگی تصاویر شایع نہ کرے۔ مگر تعجب ہے کہ جب کوئی ’’جنسی سانحہ‘‘ رُونما ہوجاتا ہے تو الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا سب پر ایک کہرام مچ جاتا ہے۔ یہ کہرام کیسا؟ یہی تو مطلوب و مقصود تھا-

یہ تمام ’’روشن خیالیاں‘‘ اور بقول آپ کے یہ سب ’’تفریح‘‘ (Entertainment) جو فراہم کی جارہی تھی، اُس کا اصل مقصد کیا کوئی حیادار، باعصمت اور صاف ستھرا، پاکیزہ معاشرہ تخلیق دینا تھا؟ یہی نتائج تو درکار تھے۔

ہفتہ, ستمبر 21, 2013

نفرت کی نففسیات




اشتہار میں اُس عورت کی تصویر دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا۔ بےاختیار میری زبان سے نکلا: گندی غلیظ عورت‘‘، وہ پورے جوش سے اپنی بات بیان کررہے تھے جسے میں خاموشی سے سن رہا تھا۔ مگر اس جملے کے بعد وہ لمحہ بھر ٹھہرے اور مجھے دیکھتے ہوئے بولے:

’’پھر اچانک مجھے آپ کی تحریروں کا خیال آیااور بے ساختہ میری زبان سے نکلا: پروردگار اسے ہدایت دے۔ یہ خاتون نہیں جانتی کہ یہ چند پیسوں کے لیے کیا کررہی ہے۔‘‘

یہ صاحب مجھے اپنے رویے میں آنے والی تبدیلی کی داستان سنارہے تھے۔ معاشرے میں پھیلتے فواحش سے یہ بہت نالاں تھے اور میڈیا کو اس کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ جس خاتون کا وہ ذکر کررہے تھے وہ ملک کی ایک معروف ٹی وی اداکارہ اور ماڈل تھی۔ یہ خاتون ٹی وی پروگراموں اور اشتہارات میں خواتین کے لباس کے حوالے سے کئی نامناسب رویے متعارف کرانے میں پیش پیش تھی۔ ایک شاپنگ سنٹر میں انہوں نے اس کا ایک اشتہار دیکھا اور وہیں غصے اور جذبات میں ان کے منہ سے وہ جملہ نکلا جو شروع میں نقل کیا گیا ہے۔

ان کی بات میں وقفہ آیا تو میں نے وضاحت چاہی کہ یک بیک آنے والی اس تبدیلی کی وجہ کیا تھی۔ انہوں نے جواب دیا:

’’بات یہ ہے کہ میں پہلے اپنے سابقہ خیالات کے تحت ایسے لوگوں سے نفرت کرتاتھا۔ میں پورے دینی جذبے کے ساتھ ان کو اسلام دشمن اور قابل گردن زدنی قرار دیتا تھا۔ مگر آپ کی تحریریں پڑھ کر احساس ہونا شروع ہوا کہ نفرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں۔ یہاں تو دعوت دی جاتی ہے۔ تربیت کی جاتی ہے۔ صحیح بات بتائی جاتی ہے۔ لوگ نہ مانیں تب بھی ان سے مایوس نہیں ہوا جاتا۔ ان کے لیے دعا کی جاتی ہے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘

وہ ایک لمحے کے لیے رکے اور پھر بولے:

’’لیکن نفرت کرتے ہوئے ساری زندگی ہوگئی تھی۔ اس لیے عادت پڑچکی تھی۔ یہی اُس روز بھی ہوا۔میرے منہ سے بے ساختہ گندی غلیظ عورت کے الفاظ نکل گئے۔ مگر اگلے لمحے مجھے یہ سب یاد آگیا۔ اور پھر میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس عورت کے لیے بہت دعا کی۔‘‘

’’پہلے اور اب میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟‘، میں نے دریافت کیا۔


’’نفرت کی نفسیات سب سے زیادہ مجھے نقصان پہنچاتی تھی۔ وہ میرے جسم اور دماغ کو تو نقصان پہنچاتی ہی تھی، مگر میرے ایمان کو بھی بھسم کررہی تھی۔ مجھے یہ بات پہلی دفعہ اس روز معلوم ہوئی۔ کیونکہ جب میں نے ایک نفرت آمیز جملے کے بعد اس کے لیے دعا کرنی شروع کی تو میں نے اللہ تعالیٰ سے اتنی زیادہ قربت محسوس کی کہ کچھ حد نہیں۔ مجھے لگا کہ فرشتوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ مجھے زندگی میں پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ جو لوگ رب کے نافرمان ہوتے ہیں، ان کی نافرمانی کے باوجود، اللہ تعالیٰ کے دل میں ان کے لیے بے پناہ محبت ہوتی ہے۔ مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی کیفیات کیا ہوتی تھیں۔ وہ کس طرح لوگوں کے لیے تڑپتے تھے۔

مجھے نہیں پتہ کہ میری دعا سے وہ لڑکی راہ راست پر آئے گی یا نہیں۔ مگر اس روز میں نے اللہ، اس کے رسول اور اس کے فرشتوں کی قربت کا ایسا تجربہ کیا جس کے بعد مجھے معلوم ہوگیا کہ یہی صحیح راستہ ہے۔ یہی پیغمبروں کا راستہ ہے۔ یہی اللہ کا پسندیدہ طریقہ ہے۔‘‘

وہ چپ ہوئے تو میں نے کہا کہ آپ کا پاکیزہ تجربہ آپ کو بہت مبارک ہو۔ مگر میں اطمینان دلاتا ہوں کہ وہ لڑکی بھی راہ راست پر آجائے گی۔ وہ نہ بھی آئے تو آپ کی وجہ سے کئی اور لڑکیاں اس راہ پر چلنے سے رک جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کو پکارنا کبھی ضائع نہیں جاتا۔

ابو یحیٰی
www.inzaar.org

ہفتہ, ستمبر 14, 2013

مانگنے کا سلیقہ


ذندگی کا المیہ



ذندگی کا المیہ یہ نہیں کہ یہ بہت جلدی ختم ہو جاتی ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم جینا ہی بہت دیر سے سیکھتے ہیں


The Tragedy of life is not that it ends so soon, but the real tragedy is that we learn to live so late

جمعرات, ستمبر 12, 2013

داغ تو ہر صورت برے ہوتے ہیں






ہمارے مسائل:
 داغ تو ہر صورت برے ہوتے ہیں

جب سے کیبل کی بدولت پاکستان میں ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوئی ہے اور لوگوں کی قوت خرید (جس کسی بھی وجہ سے) بڑھی ہے اُس وقت سے اشتہاری کمپنیوں کی چاندی ہو گئی ہے۔ روزآنہ نت نئے اشتہارات بنتے ہیں اور مختلف ٹی وی چینلز کی زینت بنتے ہیں۔ ہر کمپنی اپنی پروڈکٹ کی اشتہاری مہم پر کروڑوں بلکہ اربوں کے حساب سے پیسہ خرچ کرتی ہے اور پروڈکٹ کو مقبول بنانے کے لیے اشتہاری کمپنی کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے کہ وہ جیسا چاہے اشتہار بنائے بس اُن کی پروڈکٹ مارکیٹ میں سوپر ہٹ ہونی چاہیے۔ جب اس طرح مطالبہ کیا جاتا ہے تو اشہاری کمپنیاں بھی بہت سی حدود پھلانگ جانے کو تیار ہو جاتی ہیں۔ روپے پیسے کی چکا چوند کے اس سارے کھیل میں یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح کے مادر پدر آزاد اشتہاروں سے اُن ننھے ذہنوں پر کیا اثر ہوگا جو ابھی صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ بچے جو ابھی اپنے گھر ، اسکول اور معاشرے سے سیکھ رہے ہیں وہ ان بے تکے، گھٹیا، غیر اخلاقی، بیہودہ اور فحش اشتہاروں سے کیا سیکھیں گے؟ یہ سب غیر اسلامی ہی نہیں غیر اخلاقی بھی ہے اور ہمارے معاشرتی انحطاط کا باعث بھی۔

مثال کے طور پر ہم ایک بچے کو کس طرح یہ بتائیں کہ داغ چاہے پہننے کے کپڑوں پر ہوں، سفید پوشی کی چادر پر ہوں یا انسان کےکردار پر ہوں کسی بھی صورت اچھے نہیں ہوتے۔ یہ بچے تو دن رات کپڑے دھونے والے پاؤڈر کے اشتہار میں یہ سنتے ہیں کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں! جب کوئی کپنی اپنے اشتہار میں لڑکی' پٹانے' کی بات کرے گی اور بار بار پٹانے کا لفظ دہرائے گی تو انسان اس گھٹیا لفظ کے بارے میں اپنی اولاد کو کیا بتائے گا؟

اس کے علاوہ اشتہاروں میں بیہودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے ناچنے اور جلد دکھائے بغیر کوئی چیز بیچی ہی نہیں جا سکتی۔ پڑوسی ملک کے کلچر سے مرعوب ہو کر ہم یہاں جو اشتہار بنا رہے ہیں اُن میں چائے کے دودھ کی ترنگ ہو یا دیس کا بسکٹ یا موبائل نیٹ ورک ہو آپ کو اشتہار میں ایک انتہائی گھٹیا ناچ نظر آئے گا۔ حد تو یہ ہے کہ یہ لوگ اِسکول کی بچیوں کو بھی یونیفارم میں ڈانس کروا دیتے ہیں او رپھر کہتے ہیں: لیں ENJOOOOYZZ ۔ اس کے علاوہ وہ اشتہار جو آبادی میں اضافے کے حوالے سے بنتے ہیں اُن کے تو شروع ہوتے ہی انسان سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ ارد گرد کون ہے اور ریموٹ کہاں ہے چینل بدلنے کے لیے۔ او ر ایسے ہی لمحے آپ کو پتہ چلتا ہے کہ جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ ریموٹ غائب ہے۔ انسان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا کہ صوفہ کس طرح پھٹ جائے اور وہ اُس میں دفن ہو جائے۔

سیلیولر نیٹورک کی کمپنیاں 'رات' کے خصوصی پیکج کس کو اور کس کام کے لیے دے رہی ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جو رات بارہ بجے کے بعد فجر تک بات کرنا پسند کرتےہیں؟ کیا یہ لوگ ہماری نئی نسل کو غلط راہ پر نہیں لگا رہے؟ کچھ کریم اور صابن بیچنے والی کمپنیاں اس بات پر اچھا خاصہ یقین رکھتی ہیں کہ جب تک اچھی طرح نسوانی کھال نہ دکھا دی جائے اُس وقت تک لوگ اُن کی پروڈکٹ کی افادیت پر یقین ہی نہیں کریں گے۔ میرے خیال میں seeing is believing’ ‘ پر یہ لوگ زیادہ ہی یقین رکھتے ہیں۔ یہاں تو آم کے جوس کے اشتہار بھی اشتہا انگیزی سے بھر دیے جاتے ہیں۔ اور 'کیوں' موبائل فون کا کوئی تعلق بنتا ہے ان واہیات اشتہاروں سے؟ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے اشتہار اب رمضان کے مقدس مہینے میں وہ بھی عین روزوں کے اوقات میں دکھائے جانے لگیں ہیں۔ شرم ہم کو مگر نہیں آتی!

جس قسم کا پیسہ اس کام میں شامل ہے ہمیں نہیں لگتا کے پیمرا (Pakistan Electronic Media Regulatory Authority) کی کبھی بھی ان اشتہاری کمپنیوں یا چینلز پر کوئی اتھارٹی قائم ہو سکے گی۔ اس لیے اگر ہمیں اپنے بچوں کے اخلاق کو بگڑنے اور ان کے کردار کو داغدار ہونے سے بچانا ہے تو پھر ہمیں متحد ہو کر ان بیہودہ اور لچر اِشتہاروں کا اور اسی طرح کے فحش ڈراموں اور ٹی وی شوز کابائیکاٹ کرنا ہوگا۔ جب ان چینلز کی ریٹنگ نیچے جائے گی تو جھک مار کے یہ لوگ اپنے آ پ کو بدلیں گے۔ اگر کراچی سے خیبر تک ہم سب مل کر صرف ایک دن کے لئے ٹی وی بند کر دیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ویسے بھی ہمارے چینلز پر کتے بلیوں کی لڑائی کے علاوہ کوئی ڈھنگ کا پروگرام نہیں آتا۔ اس لیے اگر ہم ایک دن کیا ایک مہینہ بھی ٹی وی بند رکھیں تو ہمیں کوئی نقصان نہں ہوگا۔ بلکہ ہمارے نزدیک تو ٹی وی نہ دیکھنے کی وجہ سے عوام کی سوچ مثبت ہوگی جس کی ہم سب کو اشد ضرورت ہے۔ خبروں کے لیے انٹرنیٹ اور ریڈیو سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔


یاد رکھیے۔۔۔ داغ تو ہر صورت برے ہوتے ہیں!

والسلام،
سرفراز صدیقی


بدھ, ستمبر 11, 2013

الفاظ



کبھی کبھی دورانِ گفتگو یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے کہے ہوئے الفاظ واپس لینا چاہتا ہے۔۔
"میں اپنے الفاظ واپس لیتا / لیتی ہوں۔"
ایسے فقرے عموماً سننے کو مل ہی جاتے ہیں۔۔ کل بھی ایک دوست سے بات کے دوران یہی سننے کو ملا کہ میں اپنے الفاظ واپس لے لوں؟ کیا کہہ دینے سے الفاظ واپس ہو جاتے ہیں؟ ان کا وہ اثر زائل ہو سکتا ہے جو انہوں نے کسی کے ہونٹوں کی گنگناہٹ اور کسی کی سماعت میں ساز بن کر پیدا کیا ہوتا ہے۔۔ میں نے کہا نہیں یہ ممکن نہیں ۔۔ الفاظ تو کبھی واپس ہو ہی نہیں سکتے۔۔ دلیل پیش کی گئی۔۔ کہ اگر یہ ممکن نہ ہوتا تو پہاڑ کیوں الفاظ کو واپس لوٹاتے؟
لیکن پہاڑ الفاظ لوٹاتے ہی کب ہیں۔۔؟ وہ تو صرف بازگشت سُنواتے ہیں۔۔۔ کہ لو اور سُنو۔۔ سُنو اور محسوس کرو۔۔۔ محسوس کرو اور سوچو کہ تم نے کیا کہہ دیا۔۔ اپنا کہا ہوا جب اپنی ہی سماعتوں کے رُوبرو آتا ہے تو انسان ایک بار سوچتا ضرور ہے کہ میں نے جو کہا وہ کس قدر درست ہے یا نہیں۔۔ یہی تو زندگی بھی ہے۔۔ ہم جو کہتے ہیں، جو کرتے ہیں۔۔ اس دُنیا کے در و دیوار سے ٹکرا کر کبھی نہ کبھی ہماری جانب ضرور ہی لوٹتا ہے۔۔۔ تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کیا کہتے اور کرتے رہے۔۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوتا ہے۔۔

فیصلہ سازی۔۔۔ Decision Making


فیصلہ سازی


فیصلہ سازی ... ایک مختصر سا لفظ پر انجام بڑے بڑے رکھتا ہے یہ .. اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ اسکی اہمیت ہی نہیں سمجھ پاتے . فیصلہ سازی یا راۓ قائم کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں بس نظر کے پہلے حصّے میں جسے جیسا دیکھ لیا فوراً اسکے کردار کی تصویر دماغ میں بنا لیتے ہیں اگر کسی کو کسی پر غصّہ ہوتے دیکھا تو فوراً اسکی تصویر ظالم جیسی بنا لی بنا یہ جانے کے وہ غصّہ کیوں تھا وجہ کیا تھی آخر غصّہ بھی تو جائز ہوسکتا ہے ناں ؟؟ کسی کو سزا ملتی دیکھی تو اسے مظلوم بنا دیا بنا سمجھے کے اسے اسکے کون سے ظلم کی سزا مل رہی ہے ..

اسکے علاوہ ہم فیصلہ سازی کرتے ہوئے دماغ سے زیادہ جذبات کو اہمیت دیتے ہیں . جذبات کا ہونا اچھی بات ہے پر فیصلہ سازی میں جذبات آنکھوں میں پٹی باندھنے کا ہی کام کرتے ہیں اور پھر ہم فیصلہ نہیں سلیکشن کرتے ہیں جسے اچھا سمجھنے کا دل کرتا ہے اسے اچھا اور اس کے خلاف جانے والے ہر شخص کو برا... پھر چاہے ہم جسے اچھا سمجھ رہے ہوں وہ نہایت ہی برا ہو اور جسے ہم صرف اسلئے برا سمجھیں کہ وہ اسے برا کہتا تھا جو ہمیں اچھا لگتا ہے .. پھر چاہے اس سا پارسا دنیا میں کوئی نہ ہو ذاتی پسند عقل پر بھاری پڑ جاتی ہے اور پھر اس طرح کے فیصلے کرنے والوں کو آپ اکثر پچھتاتے ہوئے ہی دیکھتے ہوں گے ..

مناظر کو اگر دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرو گے تو اپنی عقل کو نکال کر باہر ہی پھینک دو پھر .. تصویر کا ایک رخ مدعی دکھا رہا ہوتا ہے اور دوسرا رخ ملزم آپ اپنا جھکاؤ جس طرف رکھو گے وہی سچا دکھے گا میں اکثر کہتا رہتا ہوں ہم لوگ بہت بہانے باز ہیں اپنے غلط کام اور بہت بڑی غلطیوں کے بھی بہت ہمدردانہ قسم کے بہانے ہم ڈھونڈ لیتے ہیں ظلم کرتے ہوئے بھی معصوم بن جاتے ہیں لہٰذا اپنی راۓ قائم کرتے ہوئے ہر پہلو سے اس شخص کے بارے میں جانیں نہ صرف وہ پہلو دیکھیں جو وہ دکھانا چاہ رہا ہے بلکہ وہ پہلو بھی دیکھیں جسکے وہ خلاف ہے جناب آپکو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا جب تک آپ خود نہ دھوکہ کھانا چاہو ...

میں تو یہی کہوں گا غلط سمجھنے سے بہتر ہے دیر سے سمجھا جاۓ کم سے کم اس میں کسی کا نقصان تو نہیں ہوتا . کیوں کہ اگر ایک بار آپکے دل میں کسی کی شبیہ ظلم کے حوالے سے بن جاۓ تو پھر آپ چاہے لاکھ اچھائیاں دیکھ لو دل میں لگا ہوا وہ داغ دھل تو جاتا ہے پر اسکا نشان مکمل ختم نہیں ہوتا اور مستقبل میں ہلکا سا شک بھی اسے دوبارہ سے گہرا کردیتا ہے اسلئے انسان پہچاننے میں دیر کرنا کوئی غلط بات یا کمزوری نہیں پر ہاں انسان کو غلط پہچاننے میں بہت نقصان ہے یا تو آپ ایک اچھے اور قابل بھروسہ انسان سے محروم ہوسکتے ہو یا پھر کسی دھوکے باز انسان کے فریب میں اپنے آپ اتر جانے کے لئے تیار ہوجاتے ہو ..

اور آخر میں یہی کہنا چاہوں گا فیصلہ سازی چاہے ملکی سطح پر ہو کاروباری سطح پر ہو یا پھر خاندانی .. سوچ و بچار ضرور کرلیا کیجئے سب سے مشوره کرنے کے بعد اپنے آپ سے بھی مشوره کیجئے بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے کے پہلے کی تدبیر میں تھوڑا وقت صرف کرلیا جاۓ پوری زندگی کے روگ سے کچھ وقت کی دماغی ورزش بہتر ہے ویسے بھی الله پاک نے جب عقل دے ہی دی ہے تو کیوں نہ اسکا استمعال بھی کرلیا جاۓ ؟؟؟ ویسے میں نے سنا ہے عقل استمعال کرنے کے کوئی " سائیڈ ایفیکٹس " نہیں ہوتے . ..

(ملک جہانگیر اقبال کی کتاب "پیچیدہ تخلیق " سے اقتباس )

منگل, ستمبر 10, 2013

سیاہ نقطہ




ایک طالب علم نے دیوار پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کیا اور کارڈ کے درمیان میں مارکر کے ساتھ ایک نقطہ ڈالا، پھر اپنا منہ ساتھیوں کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:- " آپ کو کیا نظر آ رہا ہے؟"

سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا:- "ایک سیاہ نقطہ."

اس طالب علم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سب سے پوچھا:-"کمال کرتے ہو تم سب! اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے، مگر ایک مہین سا سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟"

جی، لوگ تو بس ایسا ہی کمال کرتے ہیں: آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر آپ کی کوتاہی یا کمی کا ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت



اک غزل اُس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت
اِن دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت

رات ہو دن ہو غفلت ہو کہ بیداری ہو
اُس کو دیکھا تو نہیں ہے اُسے سوچا ہے بہت

تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی
کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت

میرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ
میں نے پتھر کی طرح خود کو تراشا ہے بہت

کوئی آیا ہے ضرور اور یہاں ٹھہرا بھی ہے
گھر کی دہلیز پہ اے نور اُجالا ہے بہت

( کرشن بہاری نور )

سوموار, ستمبر 09, 2013

کنارے سے بندھی کشتی


اسے کہو........جو بلاتا ھے گہرے پانی میں
کنارے سے بندھی کشتی کا مسئلہ سمجھے
~~~~~~~~~~~~~~~~
Usey Kaho... Jo Bulata Hai Gehre Pani Main
Kinarey Se Bandhi Kashti Ka Mas'la Samjhey

Zara Sochiye!!!



آپ کہ سکتے ہیں کہ شاپنگ کرنے میں ہمیشہ سے ہی سستی اور کاہلی کا شکار رہا ہوں میرے لئے شوپنگ امی جی یا بڑے بھائی خرّم ہی کرتے ہیں اکثر .

آج محلے میں رہنے والا ایک بچپن کا دوست ملا اور کہنے لگا جہانگیر بھائی کچھ کپڑے لینے ہیں آپ ساتھ چلئے گا . پہلے تو میں نے منع مجھے بازاروں میں بلا وجیہ جانا ویسے ہی پسند نہیں پر پھر یاد آیا امی نے کب سے چپل خریدنے کا کہا ہوا تھا تو سوچا چلو اچھا ہے سنگ مل گیا . میں نے اسے وہیں کھڑا رہنے کا کہا اور گھر جا کر پیسے لئے اور پھر ہم دونوں بازار کی طرف چل پڑے .

ہمارا محلہ کراچی کا ایک دیہات ہی لگتا ہے مجھے، یہاں نہ تو آس پاس کوئی خاص آبادی ہے اور نا ہی کوئی بازار وغیرہ .

خیر بازار پہنچ کر پہلے جناب کے لئے پینٹ شرٹ خریدنے لگے بہت بڑا مال تھا یہ اور عجیب و غریب دکانیں اتنی بڑی دکان تھی کہ تمام مرد و زن یہیں امڈ آئے تھے یا ہر دکان پر ایسا ہی رش تھا لہٰذا میں تھوڑا پرے ہو کر کھڑا ہوگیا اور مختلف چیزوں کو دیکھنے لگا کہ اسی اثنا میرے کانوں سے کچھ ایسے جملے ٹکراۓ جنھوں نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا .

" بھائی پچھلی بار بھی آپ نے جو برقع دیا تھا اسکی فٹنگ بہت خراب تھی اور پھر آلٹر کرنے سے برقعے میں وہ بات نہیں رہتی .

ہیں .... یہ کیا برقعے کی بھی فٹنگ ہوتی ہے ؟؟ میں یہ سوچتے ہوئے اس بہن اور دکاندار کی طرف متوجہ ہوگیا جہاں وہ بہن جی کہ رہیں تھیں کہ کس طرح بازوں کے ساتھ چپکا ہوا فل باڈی فٹنگ قسم کا چاہئیے .

پہلے تو میں نے سوچا شاید میں نے کچھ غلط سنا ہوگا پر پھر جب اس بھائی نے سیاہ لبادے ان کے سامنے رکھنے شروع کئے تو میری یہ غلط فہمی بھی دور ہو ہی گئی . کچھ دیر تو تماشہ دیکھتا رہا پر پھر اپنی فطرت سے مجبور ہو کر ان بہن جی سے مخاطب ہو ہی گیا

" بہن بات سنیں گی آپ ذرا ؟"

جی بولیں .

بہن آپ برا مت ماننا پر جس طرح کا آپ برقع لے رہی ہیں اس سے تو آپکا یہی لباس بہتر ہے جو آپ نے ابھی زیب تن کیا ہوا ہے .

بھائی آپ کو کوئی تکلیف ہے کیا ؟ جائیں اپنا کام کریں .

بہن تکلیف ہے تو کہا نہ اسکی وجہ سے برقعے کی اہمیت ہی کھوتی جارہی ہے اور آج کل لوگ عام لباس والوں کو کم اور برقعے والیوں کو زیادہ گھورتے ہیں برقعے کا مطلب اپنے جسم کی حفاظت کرنا ہوتا ہے تا کہ کسی کو کچھ شہ نہ ملے . لباس ہمیشہ ڈھیلا ڈھالا ہی پہننا چاہئیے عورت کو . آپ بہن ہو اسلئے بہن سمجھ کر سمجھایا .

مولوی صاحب آج کل یہی فیشن چل رہا ہے پتا نہیں آپ کونسی دنیا میں رہتے ہو جاؤ اپنا کام کرو اب .

اسی دوران "خدائی رضا کار " قسم کے لوگ جو مارکیٹوں میں لڑکیوں کا آنکھوں سے ایکسرا کرنے بیٹھے ہوتے ہیں جمع ہونے لگ گئے اور مجھے گھورنے لگے گویا ہیرو بننے کی کوشش کرنے لگے

میں نے جب نظریں دوڑائیں تو اپنا دوست کہیں نظر نہیں آیا سو میں سمجھ گیا میرا مخلص " دوست " کہیں آگے پیچھے ہوگیا ہے

خیر ان بہن جی سے کہا الله آپ کو سمجھ دے اور ایسے فیشن سے اچھا ہے برقعے کو آگ ہی لگا دی جاۓ کم سے کم اسلامی شعائر کا مذاق تو نہ اڑے .

یہ کہتا ہوا میں وہاں سے باہر نکل آیا پیچھے سے ان بہن جی نے بھی کچھ کہا اور وہاں کھڑے ہوئے " رضاکاروں" نے بھی جملے کسے پر خیر ان چیزوں کی عادت ہے سو ڈھیٹ بنا باہر نکل آیا تو دیکھا دوست گنے کا جوس پی رہا ہے اور مجھے دیکھ کر کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا .

اوے کہاں چلا گیا تھا تو ؟

بھائی آپ نے پنگے لینا شروع کردئیے تھے فالتو میں مجھے بھی پٹواتے ..

واہ میرے مخلص تجھ پر صدقے واری چل آ اب واپس چلتے ہیں میرا موڈ نہیں ہورہا کچھ لینے کا ..

واپسی گھر آیا اور سوچنے لگا کہ پردہ کرنے کا تو ہم کہتے ہیں پر کیا کبھی ماؤں بہنوں کو بتایا کہ برقع کرنا ہی پردہ نہیں ہوتا مطلب پردے کا مقصد ہی نہیں بتایا صرف برقع کرلینے سے سب ٹھیک نہیں ہوجاتا آپ کی نیّت بھی ہونی چاہئیے چلیں میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں پردہ کسے کہتے ہیں .



تم نے کہا کہ یہ ڈیڑھ گز کا کپڑے کا ٹکڑا حجاب ہے ۔۔۔

اچھا یہ بتاو تم کیک بہت اچھا بناتی ہو کبھی اسے بیک کر کے کھلا چھوڑ کہ دیکھنا کہ کس قدر مکھیوں کا جھمگٹا اس پر چمٹا ہوگا ۔۔۔!!

قصور کس کا ہوگا تمہارا یا ان مکھیوں کا ؟؟؟ ان کا تو کام یہی ہے۔۔۔ اس لیے قصور بھی تمہارا ہوا نا تمہیں اسے ڈھانپ کہ رکھنا چاہیے تھا ناکہ تک اب مکھیوں سے جھگڑنا شروع کردو ۔۔

بس ایسے ہی اگر ہم بے ہودہ فیشن زدہ برقعے میں باہر نکلیں گے اور برقع بھی ایسا جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرے اپنی خوبصورتی اور فیشن کی وجہ سے تو ہم کسی کی نگاہوں پر پابندی لگانے کے مجاز نہیں ہیں کہ کسی نے ہمیں کس نگاہ سے کیوں دیکھا پھر آپ نے خود کو بپلک کے لیے اوپن کردیا اب انکی حرکتوں پر چیغ و پکار کیسی ؟؟؟

اچھا یہ بتاو کبھی تم نے آرٹیفیشل جیولری کو دیکھا ہے جو ہر دوکان پر بلکل سامنے ہی پڑی ہوتی ہے

جس نے نہیں خریدنی ہوتی وہ بھی چھوتا جاتا ہے بس یونہی گزرتے گزرتے اس لیے کے وہ سامنے ہی پڑی ہوتی ہے خود ہی اپنی چمک دمک سے دعوت دےرہی ہوتی ہے ہر ایک کی پہنچ میں ہوتی ہے۔۔۔

مگر کیا کبھی گولڈ اور ڈائمنڈ کی شاپ پر دیکھا کہ ہر ایک جا کر وہاں سے کچھ اٹھا لے کسی چیز کو چھو لے ؟؟

نہیں بلکہ وہاں صرف وہ جاتا ہے جو اس کا حقییقی حقدار اور لینے والا ہوتا ہے

کیا تم نے دیکھا ہے گولڈ اور ڈائمنڈ جس میں رکھا جاتا ہے وہ غلاف کیسا ہو تا ہے ؟؟ْ

کس طرح اپنے اندر موجود نگینے کو محفوظ کئے ہوتا ہے چھپاۓ ہوتا ہے

اچھا یہ بتاو تم اپنی قیمتی چیزوں کو کہاں رکھتی ہو ؟؟

کیا تم انہیں سبنھال کر کسی محفوظ جگہ میں نہیں رکھتیں ؟؟

کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے اسکے اندر کیا ہے کیسا ہے بلکہ ہر کوئی اسے نظرانداز کرے .

مگر میں تمہیں بتاتا ہوں بات صرف ڈیرھ گز کے حجاب اور چار گز کےعبایا کے اس ٹکڑے کی نہیں ۔۔۔

بات تو اس محبت کی ہے جو تمہارے رب کو تم سے ہے،

بات تو اس فکر کی ہے جو وہ پیارا رب تمہارے لیے کرتا ہے ،اور اسی وجہ سے اس نے اس حجاب کو تمہارے لیے چنا

اور بات تو اس احسان کی ہے جو اس عظمتوں والے رب نے تم پر کیا

اور تمہیں ایک محفوظ حصار عطا کردیا اور اس کی محبتوں کا ذرا سا تصور اس کی اس ایک بات سے لگاو کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ تم قید ہوجاو بلکہ وہ تو کہتا ہے کہ میں نے اس حجاب کو تمہاری پہچان بنادیا ہے اب لوگ تمہیں دور سے پہچان لیا کریں گے اور پھر تم ستائی نہیں جاوگی ۔ پر کیا وجہ ہے کہ آپ برقع بھی اسلئے پہننے لگے کہ دور سے پہچان لئے جایئں کہ دیکھو کتنی " خوبصورت فٹنگ" کے برقع والی آ رہی ہے ...

کیا تمہیں نہیں لگتا اس ایک آیت سے کہ جیسے اس محبتوں والے رب نے تمہیں اپنے ہاتھوں کے پیچھے چھپالیا ہو کہ اب کوئی اس کی جانب دیکھنا بھی چاہے تو کامیاب نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔ !!

کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اس نے تمہیں اس دنیا کی سب سے قیمتی شے بنایا اتنی قیمتی جس تک ہر ایک کی پہنچ نہیں جس کا اصل حقدار ہی صرف اس تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔۔۔ !!

سوچو اس نے تو تمہیں کسی بھی ہیرے سے ذیادہ قیمتی بنایا جسے غلافوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے تو کیا یہ اس ہیرے کے ساتھ ظلم ہوتا ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے ؟؟

اگر کہیں اس ہیرے کو کھلا پھینک دیا جائے تو تمہارے خیال میں کتنے دن وہ اپنی اصل حالت پر رہ پائے گا ؟؟

یا اگر ہیرا اس طرح سے اپنی نمود و نمائش ہر جگہ کرنے لگے تو اسکی پاکبازی کب تک محفوظ رہے گی ؟؟

بہن اگر فیشن کرنا ہی ہے تو پھر برقعے کو چھوڑو یہ منافقت کسی ؟؟ ویسے بھی منافق بندہ مشرک سے بھی برا ہوتا ہے برقعے کی اہمیت اور قدر پر سوالیہ نشان نہ بنو یہ ایک عزت اور فخر ہے نہ کہ مجبوری جسے تم اپنی مرضی سے کسی بھی طرح بگاڑتی جاؤ ..

(ملک جہانگیر اقبال کی کتاب " پیچیدہ تخلیق" سے اقتباس )

اتوار, ستمبر 08, 2013

ﺍِﺧﻼﺹ..... Sincerity


ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ‘
 ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻔﺎﺩ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎﮨﮯ۔
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻔﺎﺩ ﮐﯽ ﺧُﻮ ﺑُﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ‘
 ﻭﮦ ﺍِﺧﻼﺹ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ.

بہترین داعی..... Character of a true preacher of Islam



بہترین داعی

پچھلے دنوں ایک صاحب نے مجھے اپنے تجربے کی روشنی میں بتایا کہ بہترین داعی کون ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ زندگی میں ہر موقع پر لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً کسی کا کام اپنا ذاتی کام سمجھ کر کردیا۔ کسی کی مالی مدد کردی۔ روڈ پر جارہے ہیں تو کسی کو اپنی سواری پر لفٹ دے دی۔

ایسے تمام مواقع پر لوگوں کے دل میں ان کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا ہوجاتا ہے۔لوگ دل کی گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ شکریہ سن کر وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ بھلائی جو میں نے آپ کے ساتھ کی ایک قرض ہے۔ یہ قرض اسی وقت ادا ہوگا جب آپ کسی اور کے ساتھ ایسی ہی کوئی چھوٹی بڑی بھلائی کردیں گے۔ ساتھ میں دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کردیں گے کہ جس نے مجھے آپ کی مدد کے لیے بھیجا۔ تب ہی یہ قرض ادا ہوگا۔

بلاشبہ یہ عمل ایک بہترین داعی کی نشانی ہے۔ کسی نارمل آدمی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنے محسن کی نصیحت کو بھول جائے۔ انسان کی یہ نفسیات ہے کہ وہ آسانی کے وقت سرکش اور غافل بنا رہتا ہے، مگر مشکل میں وہ اپنے جامے میں آجاتا ہے۔ اس موقع پر کی گئی کوئی نصیحت خاص کر جب وہ اپنے محسن کی طرف سے کی جارہی ہو، انسان کی یاداشت کا حصہ بن جاتی ہے۔ وقت و حالات اسے کبھی یہ بات بھلادیں مگر جب کوئی مصیبت زدہ یا ضرورت مند اس کے سامنے آئے گا تو بہرحال اسے یاد آجائے گا کہ کبھی کسی مہربان نے اس پر احسان کر کے بدلہ چاہنے کے بجائے دوسرے سے بھلائی کی نصیحت کی تھی۔ پھر چراغ چراغ کو جلائے گا اور برائی کا اندھیرا دور ہونا شروع ہوجائے گا۔

یہی دعوت کی وہ حکمت ہے جس کی آج سب سے بڑھ کر ضرورت ہے۔

Abu Yahya

جمعہ, ستمبر 06, 2013

"6 ستمبر"


نظم "6 ستمبر"

احمد ندیم قاسمی
مجموعہ کلام "مُحیط"
سنہ 1965

چاند اُس رات بھی نکلا تھا، مگر اُس کا وجوُد
اِتنا خوُں رنگ تھا، جیسے کسی معصوُم کی لاش
تارے اُس رات بھی چمکے تھے، مگر اِس ڈھب سے
جیسے کٹ جائے کوئی جسمِ حَسیں، قاش بہ قاش
اِتنی بے چین تھی اُس رات، مہک پھُولوں کی
جیسے ماں، جس کو ھو کھوئے ھوُئے بچّے کی تلاش
پیڑ چیخ اُٹھتے تھے امواجِ ھوا کی زَد میں
نوکِ شمشیر کی مانند تھی جھونکوں کی تراش

اِتنے بیدار زمانے میں یہ سازش بھری رات
میری تاریخ کے سینے پہ اُتر آئی تھی
اپنی سنگینوں میں اُس رات کی سفّاک سِپاہ
دُودھ پیتے ھوُئے بچّوں کو پرو لائی تھی
گھر کے آنگن میں رواں خوُن تھا گھر والوں کا
اور ھر کھیت پہ شعلوں کی گھٹا چھائی تھی
راستے بند تھے لاشوں سے پَٹی گلیوں میں
بِھیڑ سی بِھیڑ تھی، تنہائی سی تنہائی تھی

تب کراں تا بہ کراں صُبح کی آہٹ گوُنجی
آفتاب ایک دھماکے سے اُفق پر آیا
اب نہ وہ رات کی ہیبت تھی، نہ ظُلمت کا وہ ظُلم
پرچمِ نوُر یہاں اور وھاں لہرایا
جِتنی کِرنیں بھی اندھیرے میں اُتر کر اُبھرِیں
نوک پر رات کا دامانِ دریدہ پایا
میری تاریخ کا وہ بابِ منوّر ھے یہ دِن
جِس نے اِس قوم کو خوُد اُس کا پتہ بتلایا

آخری بار اندھیرے کے پُجاری سُن لیں
میں سَحر ھوُں، میں اُجالا ھوُں، حقیقت ھوُں میں
میں محبّت کا تو دیتا ھوُں محبّت سے جواب
لیکن اعدا کے لیے قہر و قیامت ھوُں میں
امن میں موجہء نکہت مِرا کِردار سہی
جنگ کے دَور میں غیرت ھوُں، حمیّت ھوُں میں
میرا دُشمن مُجھے للکار کے جائے گا کہاں
خاک کا طیش ھوُں، افلاک کی دہشت ھوُں میں

Haq aur Farz


حق ان پر جتایا جاتا ہے جو اپنا فرض محسوس کرتے ہیں- مگر جو فرض کو بوجھ سمجھیں، ان پر حق جتانا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے-

تحریر: عمیرہ احمد
اقتباس: تھوڑا سا آسمان

6 September Special



رات چہل قدمی کرتے ہوئے ساتھ والے محلے تک چلا گیا اور اپنی مستی میں جا ہی رہا تھا کے اپنے عقب میں کار کا ہارن سنائی دیا پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسی محلے میں رہنے والے ایک واقف کار تھے گاڑی سے اتر کر میرے پاس آ گئے اور سلام دعا کرنے کے بعد کہا جہانگیر بھائی کیا پاکستان آرمی یا اسکے اداروں کے حق میں لکھ رہے ہو؟ آپ اب تک ١٩٦٥ کا رونا رو رہے ہو جب کہ پاکستان میں اب کچھ بچا ہی نہیں اب یہ حقیقت مان جاؤ کہ جن قوموں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا وہ اپنے ماضی پر بڑا فخر کرتی ہیں. اس کی بات سننے کے بعد دل تو چاہ رہا تھا انہیں کوئی سخت بات کہ دوں پر خود پر ضبط کیا اور کہا .

بھائی یہ تو آپ نے بہت ہی نا امیدی والی بات کی ہے پاکستانی قوم کا مستقبل بہت شاندار ہے آپ کو تو اس قوم کو سلام پیش کرنا چاہئیے جس کے خلاف دنیا کی درجنوں اجنسیاں کام کر رہی ہیں پھر بھی یہ قائم ہے . پاکستانی قوم قابل فخر قوم ہے اگر کسی اور قوم پر ایسی مصیبت آئی ہوتی تو کب کی تباہ و برباد ہوچکی ہوتی پر یہ قائم رہی تو دشمنوں نے آپ جیسے کچھ لوگوں کو خرید لیا جنھوں نے جوانی لڑکیوں کے کالجوں کے سامنے گزاری اور پھر نقل کر کے اور باپ کی سفارشوں پر کسی اچھی جگہ بیٹھ گئے تو اس ملک اور قوم کو اور اسکے اداروں کو برا بھلا کہنے لگے .

آپکو تو اور بھی شکر گزار ہونا چاہیے اس قوم کا کہ یہ دشمنوں کے حملے کی زد میں تھی اسلئے کچھ جگہوں پر توجہ نہیں دے سکی تو آپ جیسے نالائق لوگ بھی بولنے لگ گئے ورنہ آپکا میریٹ تو بھنگی بننے لائق بھی نہیں ہے . تھوڑی بہت حرام خوری کرنے کی وجہ سے دو پیسے آگئے تو کسی نے آپ سے شادی بھی کرلی ورنہ آپ جیسے لوگ اکثر کنوارے کسی فٹ پاتھ پر پڑے پڑے ہی مر جاتے ہیں .

میری باتیں سننے کے بعد وہ جناب زیادہ دیر کھڑے نہیں ہوۓ اور اپنے گھر کی طرف چل دئے اور میں وہیں پاس پڑے پھٹے پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ ہم دشمنوں سے تو لڑ لیں گے پر اس قسم کی سوچ والوں کا کیا کیا جاۓ جو نا امیدی پھیلا کر فخر محسوس کرتے ہیں جن کا کام ہی ان تاریک چیزوں کو بار بار بیان کرنا ہوتا ہے جس سے قوم کا حوصلہ ٹوٹے . ارے اگر آرمی نے غلطیاں کی بھی ہیں تو کیا آرمی کو اٹھا کر پھینک دیں ؟ تم کہتے ہو آرمی مجاہدین کے خلاف ہے وہاں انڈیا روتا ہے کہ پاکستانی فوجی مجاہدین کے ذریعے حملہ کرتے ہیں . دوسری طرف افغان آجنکی روٹی ہے کہ مجاہدین کو آئی ایس آئی چلا رہی ہے تیسری طرف امریکا سپورٹ فنڈ محدود کردیتا ہے کہ پاکستان آرمی امریکن آپریشن میں رکاوٹ کر رہی ہے ؛

کہیں ایسا تو نہیں آپ نے دہشتگردوں کو مجاہدین اور مجاہدوں کو دہشتگرد بنا دیا ہو ؟

گھر کے اندر بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے ہوئے کسی بھی ادارے کو گالی دینا آسان ہوتا ہے کبھی میدان میں نکلو تو پتا چلے کہ دشمن کس طرح وار کر رہا ہے ارے آپ تو وہ لوگ ہو جو اگر گلی میں لڑائی ہورہی ہو تو گھر کے دروازے کھڑکیاں بند کر کے بیٹھ جاتے ہو اور لیکچر دوسروں کو بہادری کا دیتے ہو ؟ ایک وہ دنیا ہے جس میں شہری جیتے ہیں اور ایک وہ دنیا ہوتی ہے جس میں حساس ادارے جی رہے ہوتے ہیں . اگر آپکو ١ دھماکے کی خبر ملتی ہے تو اسی وقت ١٠ دھماکے مختلف جگہوں پر بچا لئے گئے ہوتے ہیں پر اسکا ذکر کوئی نہیں کرتا کیوں کہ وہ لوگ ہمارے سکون اور اپنی مٹی کے لئے خدمات سر انجام رہے ہوتے ہیں ذاتی نمود و نمائش کے لئے نہیں .

پر یہ سب کون سمجھاۓ گا .. باقی دنیا میں یہ ذمہداری میڈیا نبھاتا ہے حالانکہ امریکا کی فوج کے خلاف سب سے زیادہ مظاہرے ہوتے ہیں اس کے اپنے ملک میں پر ان کا میڈیا فوجیوں کو فرشتہ دکھاتا ہے پر یہاں آج بھی عوام فوج کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں سرحدوں کے لئے پر یہ میڈیا نا جانے کون سے ملک کا میڈیا ہے . خیر کوئی نہیں سمجھے گا نہ ہی کوئی سمجھانے والا سمجھا پاۓ گا یہی سوچتے ہوئے میں نے واپسی کی راہ لی اور راستے میں مجھے اپنے بہت ہی دلعزیز دوست ملے جو ایک سرکاری ادارے سے منتخب کۓ گئے تھے "آئی ایس آئی " کے لئے اور مجھے قرآن پر حلف اٹھوا کر بتایا تھا کہ آپ کبھی کسی کو نہیں بتاؤ گے اور آج تک میں اس پر قائم ہوں اب یہ ایک ٹانگ سے محروم ہیں ایک آپریشن کے دوران ٹانگ پر دو گولیاں لگی تھیں پر افسوس کے یہ لوگ قوم کے لئے دی گئی قربانیوں کی نمائش نہیں کرتے میں نے انہیں سلام کیا اور کہا میرے بھائی یوم دفاع مبارک ہو مجھے تم پر فخر ہے . ہماری قوم شاید تمہاری قربانی نہ سمجھ پائے پر الله پاک جی تمھیں اس کا بھرپور اجر دیں گے . میری بات سن کر انھوں نے کہا

"جہانگیر بس افسوس اس بات کا رہے گا کہ پورا اجر شاید نہ لے سکوں صرف ایک ٹانگ ہی گئی ہے مزہ تو تب آتا جب پورا جسم چھلنی لیکر اسکے حضور حاضر ہوتا اپنے ملک کے بھی کام آجاتا اور جنت میں بھی واہ واہ ہوجاتی "

(ملک جہانگیر اقبال کی Tangled Creation پیچیدہ تخلیق کتاب سے اقتباس )

بدھ, ستمبر 04, 2013

اللہ کا رنگ







سمندر سب کے لیے ایک جیسا ہی ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ اس میں سے موتی تلاش کر لیتے ہیں ، کچھ مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں اور کچھ کو سمندر سے کھارے پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا ۔

بادل سے برسنے والا پانی ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔
زرخیز زمین اسی پانی سے سبزہ اگا لیتی ہے ،
صحرا کی ریت اس پانی سے اپنی پیاس بجھاتی ہے اور وہی پانی چکنے پتھروں کو محض چھو کر گزر جاتا ہے ۔

اللہ کی رحمت ہر دل کے لیے ایک جیسی ہے
اب یہ ھم پر ہے کہ ہم پر اسکا کتنا رنگ چڑھتا ہے۔

"اور اللہ کا رنگ سب رنگوں سے بہتر ہے"

سوموار, ستمبر 02, 2013

Kahi-- An-Kahi



"ان کہی" کی الگ اذیّت ہے
اور "کہی" کا عذاب مت پوچھو .

-------------------------

"An-Kahi" Ki Alag Azziyat Hai
Aur "Kahi" Ka Azab Mat Poocho