اشاعتیں

September, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خواہشات کا قیدی

تصویر
ہر شخص جو اپنی خواہشات اور اپنی ذات کا اسیر ہے ، ایک آزاد شخص نہیں ہے -
جو آرزوؤں اور تمناؤں ، اور لذتوں اور راحتوں کے کشکول اٹھائے پھرتا ہے ، وہ بھکاری ہے
بادشاہ نہیں ہے -
آزاد نہیں قیدی ہے -
اور قیدی کے وجود کے لئے جب بھی تیار ہوتا ہے قیدی کا لباس ہی ہوتا ہے - شاہی خلعت نہیں -
اور محکوم اور مجبور آدمی ارفع لذت ( ہائر پلیزر ) سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ....
اشفاق احمد

آج کی بات (29 ستمبر 2013)

تصویر
اگر دولت مندوں میں انصاف اور مفلسوں میں قناعت ہوتی تو دنیا سے گدائی (بھیک مانگنا) کی رسم ختم ہو چکی ہوتی-

انا

تصویر
"تم اپنی کوئی بہت محبوب ترین شے اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دو۔"
"سبانجی کے ڈورم میں میرے پاس ایک ڈائمنڈ رنگ پڑی ھے' وہ بہت قیمتی ھے"
"قیمتی چیز نہیں'محبوب چیز قربان کرو۔ضروری نہیں کہ
تمہاری محبوب چیز قیمتی بھی ھو' اور میں بتاؤں کہ تمہاری محبوب ترین شے کیا ھے؟"

"تمہاری انا ۔۔۔ تم اسے قربان کر دو۔"

(نمرہ احمد کے ناول "جنت کے پتے" سے اقتباس)

شکر گزار

تصویر
دل شکر سے لبریز ہو تو روشن ہو جاتا ہے، شکوہ کیجیے تو بجھ جاتا ہے، نا شکر گزار ہو تو پتھر بن جاتا ہے۔ شکر گزار ہمیشہ روشن ضمیر اور روشن دماغ ہوتا ہے، نا شکر گزار بے ضمیر اور بد دماغ ہو جاتا ہے۔

پھسلنے والے

تصویر
غالباً فٹ پاتھ پر کوئی چکنی چیز یا کیلے کا چھلکا کسی غیر ذمہ دار شخص نے پھینک رکھا تھا۔ اس لیے جیسے ہی نوجوان نے اس پر قدم رکھا، وہ لڑ کھڑ ا گیا اور پھسل کر گر گیا۔لمحہ بھر کے لیے وہ حواس باختہ ہوا اور پھر کپڑ ے جھاڑ تا، جسم سہلاتا کھڑ ا ہو گیا ۔ اس منظر کو دیکھ کر کچھ لوگ نوجوان کو سہارا دینے کے لیے آگے بڑ ھے ، کچھ نے تاسف کا اظہار کیا اور کچھ ایسے بھی تھے جن کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
یہ منظر آخری لمحے میں میں نے بھی دیکھا۔ لمحہ بھر کے لیے میرے دل میں ہمدردی کی ایک لہر اٹھی مگر نوجوان کو اٹھتا دیکھ کر مجھے کچھ اطمینان ہوا۔ لیکن اس کے بعد بے اختیار میرے منہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا نکلی جس کے ایک حصے کا مفہوم اس طرح ہے ۔
’’اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ میں پھسل جاؤں یا کسی اور کے پھسلنے کا باعث بنوں ۔ ۔ ۔ ‘‘
اس دعا میں جس پھسلنے کا ذکر ہے وہ یقینا اس نوجوان کا پھسلنا نہیں تھا۔ یہ تو میرا ایک فوری ردعمل تھا۔لیکن جس پھسلنے کا اس دعا میں ذکر ہے وہ کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔یہ پھسلنا صراط مستقیم سے پھسلنا ہوتا ہے ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان شارع …

ترا قبلہ ہے بُتِ آذری،سر عرش میری نماز ہے

تصویر
تجھے اپنے مال پہ عجب ہے ، مجھے اپنے حال پہ ناز ہے
تیرا حصّہ مستی و بیخودی مرا بخرہ سوزوگداز ہے

تو دُکھے ہوؤں کو دکھائے جا،تو جلے ہووں کو جلائے جا
تو نشان خیر مٹائے جا ترے شر کی رسی دراز ہے

غم دہر تجھ کو نہ کھائے کیوں خوشی اپنا جلوہ دکھائے کیوں
تو وفا کا لطف اٹھائے کیوں، ترا دل تو بندہ آز ہے

تجھے فکر ہے کم وبیش کی تجھے سوچ ہے پس و پیش کی
مری زندگی کے محیط میں نہ نشیب ہے نہ فراز ہے

طرب آفریں میرا ساتگیں،تری لے ہے مایہ بغض و کیں
میں جہان درد کا راز ہوں تو دیار حرص کا ساز ہے

مجھے تیرے مال سے کیا غرض،تجھے میرے حال کی کیا خبر
کہ میں غزنوی بُتِ ذر کا ہوں ،شہ سیم کا تو ایاز ہے

تو رہین شوکت قیصری ، میں امین شان قلندری
ترا قبلہ ہے بُتِ آذری،سر عرش میری نماز ہے

کروں مال و زر کی میں کیوں ہوس مجھے اپنے فقر پہ فخر بس
یہی حرز جان فقیر ہے ،یہی قول شاہ حجاز ؐہے

میکش اکبر آبادی

There Is No Free Lunch

تصویر
کسی زمانے کی بات ھے کہ ایک بادشاہ نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور پوری دنیا میں تلاش کریں کہ وہ کون سی ایسی چیز ھے جس سے لوگ دانشمندی سیکھ سکتے ھیں۔

بادشاہ کے آدمی پوری دنیا میں پھیل گئے اور کئی سال کی تلاش کے بعد انہوں نے کچھ ھزار ایسی کتابیں جمع کیں جن سے لوگ دانشمندی سیکھ سکتے تھے۔ بادشاہ نے جب ان کتابوں کے ڈھیر کو دیکھا تو کہا کہ ان کتابوں کو پڑھنے کے لئے تو ایک عمر چاھئے مجھے کوئی اور آسان سی چیز بتاؤ۔ لوگوں نے ان کتابوں کے ڈھیر سے 100 ایسی کتابیں تلاش کیں جو ان کے خیال میں دانشمندی سیکھنے کیلئے ضروری تھیں۔ بادشاہ نے کہا کہ نہیں یہ بھی بہت ھیں۔ لوگوں نے پھر 10 کتابیں منتخب کیں۔ بادشاہ مطمئن نہیں ھوا۔ انہوں نے پھر ایک کتاب بتائی۔ بادشاہ نے کہا اور کم کرو۔ انہوں نے ایک باب نکلا۔ ’’اور کم کرو۔‘‘ ایک صفحہ، ’’اور کم کرو۔‘‘، ایک پیراگراف۔ بادشاہ نے کہا کہ نہیں مجھے اس سے بھی کم چاھیے۔ آخر کار بادشاہ کے دانشمند لوگوں نے بہت سوچ سمجھ کر ایک جملہ منتخب کیا اور بادشاہ سے کہا کہ اگر لوگ اس جملے کو سمجھ جائیں تو وہ دانش مندی سیکھ سکتے ھیں۔ وہ جملہ یہ ھے۔

"There is no free lunch.…

جو یقین کی راہ پہ چل پڑے

تصویر
جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گۓ ~~~~~~~~~~~~~~ Jo Yaqeen Ki Raah Pe Chal Parey Unhain Manzilon Ne Panah di Jinhain Waswason Ne Dara diya woh Qadam Qadam Pe Behek Gaye

دنیا کا دھوکہ

تصویر
یہ دنیا دھوکے میں کیسے ڈالتی ہے عائشے؟"

وہ اب بالکل بھی اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ الاؤ کو دیکھ رہی تھی جس سے سرخ دانے اڑ اڑ کر فضا میں تحلیل ہو رہے تھے۔
"جب یہ اپنی چمکنے والی چیزوں میں اتنا گم کر لیتی ہے کہ اللہ بھول جاتا ہے۔"
"کیا مجھے بھی دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟"
"پہلی دفعہ دھوکا انسان بھولپن میں کھاتا ہے مگر بار بار کھائے تو وہ اس کا گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر احساس ہونے کے بعد کھائے تو اسے ایک بری یاد سمجھ کو بھول جانا چاہیے اور زندگی نئے سرے سے شروع کرنا چاہیے۔"
"نئے سرے سے؟ ایسے یوٹرن لینا آسان ہوتا ہے کیا؟ انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ خوب صورت لگے‘ خوب صورت لباس پہنے‘ کیا یہ بری بات ہے؟" اس کی آواز میں بے بسی در آئی تھی‘ جیسے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کیا غلط تھا کیا صحیح‘ سب گڈمڈ ہو رہا تھا۔
"نہیں! اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ چیزیں زندگی کا حصہ ہونی چاہئیں۔ مگر ان کو آپ کی پوری زندگی نہیں بننا چاہیے۔ انسان کو ان چیزوں سے اوپر ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ میری طرح ہوتے ہیں جن کی زندگی لکڑی کے کھلونے ب…

معمولی اور خاص

تصویر
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ -
' ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ' ﺳﮯ ' ﺧﺎﺹ' ﺑﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻻﻣﺤﺪﻭﺩ ﻋﺮﺻﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ' ﺧﺎﺹ' ﮐﻮ ' ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ' ﺑﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﻣﺪّﺕ ﮐﺎﻓﯽ
ﮨﮯ -

روشن خیالی

تصویر
لاکھوں کروڑوں برہنہ ویب سائٹس کوئی افریقہ کے ننگے جنگلیوں نے تو نہیں بنائی ہیں؟ یورپ اور امریکا کے ’’مہذب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ‘‘ روشن خیالوں ہی نے تو بنائی ہیں۔ ان کے اثرات ہمارے دانشوروں کی آزاد خیالی کے طفیل اب ہمارے ’’بند معاشروں‘‘ تک بھی آن پہنچے ہیں۔ ہر طرف ترغیبات کاکھلا بازار سجا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ کسی پاکیزہ اخبار کا ’مجلہ‘ (Magazine) بھی اس وقت تک معیاری نہیں گردانا جاتا جب تک وہ نوجوان نسل کے جنسی جذبات بھڑکا دینے والی چہچہاتی، چہار رنگی تصاویر شایع نہ کرے۔ مگر تعجب ہے کہ جب کوئی ’’جنسی سانحہ‘‘ رُونما ہوجاتا ہے تو الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا سب پر ایک کہرام مچ جاتا ہے۔ یہ کہرام کیسا؟ یہی تو مطلوب و مقصود تھا-
یہ تمام ’’روشن خیالیاں‘‘ اور بقول آپ کے یہ سب ’’تفریح‘‘ (Entertainment) جو فراہم کی جارہی تھی، اُس کا اصل مقصد کیا کوئی حیادار، باعصمت اور صاف ستھرا، پاکیزہ معاشرہ تخلیق دینا تھا؟ یہی نتائج تو درکار تھے۔

نفرت کی نففسیات

تصویر
اشتہار میں اُس عورت کی تصویر دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا۔ بےاختیار میری زبان سے نکلا: گندی غلیظ عورت‘‘، وہ پورے جوش سے اپنی بات بیان کررہے تھے جسے میں خاموشی سے سن رہا تھا۔ مگر اس جملے کے بعد وہ لمحہ بھر ٹھہرے اور مجھے دیکھتے ہوئے بولے:

’’پھر اچانک مجھے آپ کی تحریروں کا خیال آیااور بے ساختہ میری زبان سے نکلا: پروردگار اسے ہدایت دے۔ یہ خاتون نہیں جانتی کہ یہ چند پیسوں کے لیے کیا کررہی ہے۔‘‘

یہ صاحب مجھے اپنے رویے میں آنے والی تبدیلی کی داستان سنارہے تھے۔ معاشرے میں پھیلتے فواحش سے یہ بہت نالاں تھے اور میڈیا کو اس کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ جس خاتون کا وہ ذکر کررہے تھے وہ ملک کی ایک معروف ٹی وی اداکارہ اور ماڈل تھی۔ یہ خاتون ٹی وی پروگراموں اور اشتہارات میں خواتین کے لباس کے حوالے سے کئی نامناسب رویے متعارف کرانے میں پیش پیش تھی۔ ایک شاپنگ سنٹر میں انہوں نے اس کا ایک اشتہار دیکھا اور وہیں غصے اور جذبات میں ان کے منہ سے وہ جملہ نکلا جو شروع میں نقل کیا گیا ہے۔

ان کی بات میں وقفہ آیا تو میں نے وضاحت چاہی کہ یک بیک آنے والی اس تبدیلی کی وجہ کیا تھی۔ انہوں نے جواب دیا:

’’بات یہ ہے کہ میں پہلے ا…

مانگنے کا سلیقہ

تصویر

ذندگی کا المیہ

تصویر
ذندگی کا المیہ یہ نہیں کہ یہ بہت جلدی ختم ہو جاتی ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم جینا ہی بہت دیر سے سیکھتے ہیں


The Tragedy of life is not that it ends so soon, but the real tragedy is that we learn to live so late

داغ تو ہر صورت برے ہوتے ہیں

تصویر
ہمارے مسائل:  داغ تو ہر صورت برے ہوتے ہیں

جب سے کیبل کی بدولت پاکستان میں ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوئی ہے اور لوگوں کی قوت خرید (جس کسی بھی وجہ سے) بڑھی ہے اُس وقت سے اشتہاری کمپنیوں کی چاندی ہو گئی ہے۔ روزآنہ نت نئے اشتہارات بنتے ہیں اور مختلف ٹی وی چینلز کی زینت بنتے ہیں۔ ہر کمپنی اپنی پروڈکٹ کی اشتہاری مہم پر کروڑوں بلکہ اربوں کے حساب سے پیسہ خرچ کرتی ہے اور پروڈکٹ کو مقبول بنانے کے لیے اشتہاری کمپنی کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے کہ وہ جیسا چاہے اشتہار بنائے بس اُن کی پروڈکٹ مارکیٹ میں سوپر ہٹ ہونی چاہیے۔ جب اس طرح مطالبہ کیا جاتا ہے تو اشہاری کمپنیاں بھی بہت سی حدود پھلانگ جانے کو تیار ہو جاتی ہیں۔ روپے پیسے کی چکا چوند کے اس سارے کھیل میں یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح کے مادر پدر آزاد اشتہاروں سے اُن ننھے ذہنوں پر کیا اثر ہوگا جو ابھی صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ بچے جو ابھی اپنے گھر ، اسکول اور معاشرے سے سیکھ رہے ہیں وہ ان بے تکے، گھٹیا، غیر اخلاقی، بیہودہ اور فحش اشتہاروں سے کیا سیکھیں گے؟ یہ سب غیر اسلامی ہی نہیں غیر اخلاقی بھی ہے اور ہمارے معاشرتی انحطاط کا باعث بھی۔

الفاظ

تصویر
کبھی کبھی دورانِ گفتگو یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے کہے ہوئے الفاظ واپس لینا چاہتا ہے۔۔
"میں اپنے الفاظ واپس لیتا / لیتی ہوں۔"
ایسے فقرے عموماً سننے کو مل ہی جاتے ہیں۔۔ کل بھی ایک دوست سے بات کے دوران یہی سننے کو ملا کہ میں اپنے الفاظ واپس لے لوں؟ کیا کہہ دینے سے الفاظ واپس ہو جاتے ہیں؟ ان کا وہ اثر زائل ہو سکتا ہے جو انہوں نے کسی کے ہونٹوں کی گنگناہٹ اور کسی کی سماعت میں ساز بن کر پیدا کیا ہوتا ہے۔۔ میں نے کہا نہیں یہ ممکن نہیں ۔۔ الفاظ تو کبھی واپس ہو ہی نہیں سکتے۔۔ دلیل پیش کی گئی۔۔ کہ اگر یہ ممکن نہ ہوتا تو پہاڑ کیوں الفاظ کو واپس لوٹاتے؟
لیکن پہاڑ الفاظ لوٹاتے ہی کب ہیں۔۔؟ وہ تو صرف بازگشت سُنواتے ہیں۔۔۔ کہ لو اور سُنو۔۔ سُنو اور محسوس کرو۔۔۔ محسوس کرو اور سوچو کہ تم نے کیا کہہ دیا۔۔ اپنا کہا ہوا جب اپنی ہی سماعتوں کے رُوبرو آتا ہے تو انسان ایک بار سوچتا ضرور ہے کہ میں نے جو کہا وہ کس قدر درست ہے یا نہیں۔۔ یہی تو زندگی بھی ہے۔۔ ہم جو کہتے ہیں، جو کرتے ہیں۔۔ اس دُنیا کے در و دیوار سے ٹکرا کر کبھی نہ کبھی ہماری جانب ضرور ہی لوٹتا ہے۔۔۔ تب ہمیں احساس ہوتا…

فیصلہ سازی۔۔۔ Decision Making

تصویر
فیصلہ سازی


فیصلہ سازی ... ایک مختصر سا لفظ پر انجام بڑے بڑے رکھتا ہے یہ .. اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ اسکی اہمیت ہی نہیں سمجھ پاتے . فیصلہ سازی یا راۓ قائم کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں بس نظر کے پہلے حصّے میں جسے جیسا دیکھ لیا فوراً اسکے کردار کی تصویر دماغ میں بنا لیتے ہیں اگر کسی کو کسی پر غصّہ ہوتے دیکھا تو فوراً اسکی تصویر ظالم جیسی بنا لی بنا یہ جانے کے وہ غصّہ کیوں تھا وجہ کیا تھی آخر غصّہ بھی تو جائز ہوسکتا ہے ناں ؟؟ کسی کو سزا ملتی دیکھی تو اسے مظلوم بنا دیا بنا سمجھے کے اسے اسکے کون سے ظلم کی سزا مل رہی ہے ..

اسکے علاوہ ہم فیصلہ سازی کرتے ہوئے دماغ سے زیادہ جذبات کو اہمیت دیتے ہیں . جذبات کا ہونا اچھی بات ہے پر فیصلہ سازی میں جذبات آنکھوں میں پٹی باندھنے کا ہی کام کرتے ہیں اور پھر ہم فیصلہ نہیں سلیکشن کرتے ہیں جسے اچھا سمجھنے کا دل کرتا ہے اسے اچھا اور اس کے خلاف جانے والے ہر شخص کو برا... پھر چاہے ہم جسے اچھا سمجھ رہے ہوں وہ نہایت ہی برا ہو اور جسے ہم صرف اسلئے برا سمجھیں کہ وہ اسے برا کہتا تھا جو ہمیں اچھا لگتا ہے .. پھر چاہے اس سا پارسا دنیا میں کوئی نہ ہو ذاتی پسند عقل پر…

سیاہ نقطہ

تصویر
ایک طالب علم نے دیوار پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کیا اور کارڈ کے درمیان میں مارکر کے ساتھ ایک نقطہ ڈالا، پھر اپنا منہ ساتھیوں کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:- " آپ کو کیا نظر آ رہا ہے؟"

سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا:- "ایک سیاہ نقطہ."

اس طالب علم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سب سے پوچھا:-"کمال کرتے ہو تم سب! اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے، مگر ایک مہین سا سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟"

جی، لوگ تو بس ایسا ہی کمال کرتے ہیں: آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر آپ کی کوتاہی یا کمی کا ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت

تصویر
اک غزل اُس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت
اِن دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت

رات ہو دن ہو غفلت ہو کہ بیداری ہو
اُس کو دیکھا تو نہیں ہے اُسے سوچا ہے بہت

تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی
کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت

میرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ
میں نے پتھر کی طرح خود کو تراشا ہے بہت

کوئی آیا ہے ضرور اور یہاں ٹھہرا بھی ہے
گھر کی دہلیز پہ اے نور اُجالا ہے بہت

( کرشن بہاری نور )

کنارے سے بندھی کشتی

تصویر
اسے کہو........جو بلاتا ھے گہرے پانی میں
کنارے سے بندھی کشتی کا مسئلہ سمجھے~~~~~~~~~~~~~~~~Usey Kaho... Jo Bulata Hai Gehre Pani MainKinarey Se Bandhi Kashti Ka Mas'la Samjhey

Zara Sochiye!!!

تصویر
آپ کہ سکتے ہیں کہ شاپنگ کرنے میں ہمیشہ سے ہی سستی اور کاہلی کا شکار رہا ہوں میرے لئے شوپنگ امی جی یا بڑے بھائی خرّم ہی کرتے ہیں اکثر .

آج محلے میں رہنے والا ایک بچپن کا دوست ملا اور کہنے لگا جہانگیر بھائی کچھ کپڑے لینے ہیں آپ ساتھ چلئے گا . پہلے تو میں نے منع مجھے بازاروں میں بلا وجیہ جانا ویسے ہی پسند نہیں پر پھر یاد آیا امی نے کب سے چپل خریدنے کا کہا ہوا تھا تو سوچا چلو اچھا ہے سنگ مل گیا . میں نے اسے وہیں کھڑا رہنے کا کہا اور گھر جا کر پیسے لئے اور پھر ہم دونوں بازار کی طرف چل پڑے .

ہمارا محلہ کراچی کا ایک دیہات ہی لگتا ہے مجھے، یہاں نہ تو آس پاس کوئی خاص آبادی ہے اور نا ہی کوئی بازار وغیرہ .

خیر بازار پہنچ کر پہلے جناب کے لئے پینٹ شرٹ خریدنے لگے بہت بڑا مال تھا یہ اور عجیب و غریب دکانیں اتنی بڑی دکان تھی کہ تمام مرد و زن یہیں امڈ آئے تھے یا ہر دکان پر ایسا ہی رش تھا لہٰذا میں تھوڑا پرے ہو کر کھڑا ہوگیا اور مختلف چیزوں کو دیکھنے لگا کہ اسی اثنا میرے کانوں سے کچھ ایسے جملے ٹکراۓ جنھوں نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا .

" بھائی پچھلی بار بھی آپ نے جو …

ﺍِﺧﻼﺹ..... Sincerity

تصویر
ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ‘  ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻔﺎﺩ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻔﺎﺩ ﮐﯽ ﺧُﻮ ﺑُﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ‘  ﻭﮦ ﺍِﺧﻼﺹ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ.

بہترین داعی..... Character of a true preacher of Islam

تصویر
بہترین داعی

پچھلے دنوں ایک صاحب نے مجھے اپنے تجربے کی روشنی میں بتایا کہ بہترین داعی کون ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ زندگی میں ہر موقع پر لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً کسی کا کام اپنا ذاتی کام سمجھ کر کردیا۔ کسی کی مالی مدد کردی۔ روڈ پر جارہے ہیں تو کسی کو اپنی سواری پر لفٹ دے دی۔

ایسے تمام مواقع پر لوگوں کے دل میں ان کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا ہوجاتا ہے۔لوگ دل کی گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ شکریہ سن کر وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ بھلائی جو میں نے آپ کے ساتھ کی ایک قرض ہے۔ یہ قرض اسی وقت ادا ہوگا جب آپ کسی اور کے ساتھ ایسی ہی کوئی چھوٹی بڑی بھلائی کردیں گے۔ ساتھ میں دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کردیں گے کہ جس نے مجھے آپ کی مدد کے لیے بھیجا۔ تب ہی یہ قرض ادا ہوگا۔

بلاشبہ یہ عمل ایک بہترین داعی کی نشانی ہے۔ کسی نارمل آدمی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنے محسن کی نصیحت کو بھول جائے۔ انسان کی یہ نفسیات ہے کہ وہ آسانی کے وقت سرکش اور غافل بنا رہتا ہے، مگر مشکل میں وہ اپنے جامے میں آجاتا ہے۔ اس موقع پر کی گئی کوئی نصیحت خاص کر جب وہ اپنے …

"6 ستمبر"

تصویر
نظم "6 ستمبر"

احمد ندیم قاسمی
مجموعہ کلام "مُحیط"
سنہ 1965

چاند اُس رات بھی نکلا تھا، مگر اُس کا وجوُد
اِتنا خوُں رنگ تھا، جیسے کسی معصوُم کی لاش
تارے اُس رات بھی چمکے تھے، مگر اِس ڈھب سے
جیسے کٹ جائے کوئی جسمِ حَسیں، قاش بہ قاش
اِتنی بے چین تھی اُس رات، مہک پھُولوں کی
جیسے ماں، جس کو ھو کھوئے ھوُئے بچّے کی تلاش
پیڑ چیخ اُٹھتے تھے امواجِ ھوا کی زَد میں
نوکِ شمشیر کی مانند تھی جھونکوں کی تراش

اِتنے بیدار زمانے میں یہ سازش بھری رات
میری تاریخ کے سینے پہ اُتر آئی تھی
اپنی سنگینوں میں اُس رات کی سفّاک سِپاہ
دُودھ پیتے ھوُئے بچّوں کو پرو لائی تھی
گھر کے آنگن میں رواں خوُن تھا گھر والوں کا
اور ھر کھیت پہ شعلوں کی گھٹا چھائی تھی
راستے بند تھے لاشوں سے پَٹی گلیوں میں
بِھیڑ سی بِھیڑ تھی، تنہائی سی تنہائی تھی

تب کراں تا بہ کراں صُبح کی آہٹ گوُنجی
آفتاب ایک دھماکے سے اُفق پر آیا
اب نہ وہ رات کی ہیبت تھی، نہ ظُلمت کا وہ ظُلم
پرچمِ نوُر یہاں اور وھاں لہرایا
جِتنی کِرنیں بھی اندھیرے میں اُتر کر اُبھرِیں
نوک پر رات کا دامانِ دریدہ پایا
میری تاریخ کا وہ بابِ منوّر ھے یہ دِن
جِس نے…

Haq aur Farz

تصویر
حق ان پر جتایا جاتا ہے جو اپنا فرض محسوس کرتے ہیں- مگر جو فرض کو بوجھ سمجھیں، ان پر حق جتانا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے-

تحریر: عمیرہ احمد
اقتباس: تھوڑا سا آسمان

6 September Special

تصویر
رات چہل قدمی کرتے ہوئے ساتھ والے محلے تک چلا گیا اور اپنی مستی میں جا ہی رہا تھا کے اپنے عقب میں کار کا ہارن سنائی دیا پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسی محلے میں رہنے والے ایک واقف کار تھے گاڑی سے اتر کر میرے پاس آ گئے اور سلام دعا کرنے کے بعد کہا جہانگیر بھائی کیا پاکستان آرمی یا اسکے اداروں کے حق میں لکھ رہے ہو؟ آپ اب تک ١٩٦٥ کا رونا رو رہے ہو جب کہ پاکستان میں اب کچھ بچا ہی نہیں اب یہ حقیقت مان جاؤ کہ جن قوموں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا وہ اپنے ماضی پر بڑا فخر کرتی ہیں. اس کی بات سننے کے بعد دل تو چاہ رہا تھا انہیں کوئی سخت بات کہ دوں پر خود پر ضبط کیا اور کہا .

بھائی یہ تو آپ نے بہت ہی نا امیدی والی بات کی ہے پاکستانی قوم کا مستقبل بہت شاندار ہے آپ کو تو اس قوم کو سلام پیش کرنا چاہئیے جس کے خلاف دنیا کی درجنوں اجنسیاں کام کر رہی ہیں پھر بھی یہ قائم ہے . پاکستانی قوم قابل فخر قوم ہے اگر کسی اور قوم پر ایسی مصیبت آئی ہوتی تو کب کی تباہ و برباد ہوچکی ہوتی پر یہ قائم رہی تو دشمنوں نے آپ جیسے کچھ لوگوں کو خرید لیا جنھوں نے جوانی لڑکیوں کے کالجوں کے سامنے گزاری ا…

اللہ کا رنگ

تصویر
سمندر سب کے لیے ایک جیسا ہی ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ اس میں سے موتی تلاش کر لیتے ہیں ، کچھ مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں اور کچھ کو سمندر سے کھارے پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا ۔

بادل سے برسنے والا پانی ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔
زرخیز زمین اسی پانی سے سبزہ اگا لیتی ہے ،
صحرا کی ریت اس پانی سے اپنی پیاس بجھاتی ہے اور وہی پانی چکنے پتھروں کو محض چھو کر گزر جاتا ہے ۔

اللہ کی رحمت ہر دل کے لیے ایک جیسی ہے
اب یہ ھم پر ہے کہ ہم پر اسکا کتنا رنگ چڑھتا ہے۔
"اور اللہ کا رنگ سب رنگوں سے بہتر ہے"

Kahi-- An-Kahi

تصویر
"ان کہی" کی الگ اذیّت ہے
اور "کہی" کا عذاب مت پوچھو .
-------------------------
"An-Kahi" Ki Alag Azziyat Hai Aur "Kahi" Ka Azab Mat Poocho

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل کچھ دل سے استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورہ المؤمنون سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل