جمعرات, مارچ 13, 2014

بدھ, مارچ 12, 2014

آسان ذندگی کا راز


 
رشتے اور دوستیاں استوار کرنے کے معاملے میں ہم اگر دوسروں کے ساتھ زبردستیاں کرنی چھوڑ دیں تو ذندگی قدرے آسان ہو سکتی ھے۔

ھم ذندگی کے داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے نہیں بٹھا سکتے۔

بس جو آئے اس کو خوش دلی سے خوش آمدید کہیں
اور جو جانا چاھے اسے الوداع کہہ کر رخصت کر دیں، یہی اعلی ظرفی ھے۔۔

کیونکہ اگر یہ طے پا چکا ھے تو یہ ہو کر رھے گا۔

ہماری زبردستی سوائے ہمیں تکلیف میں مبتلا کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی۔

تحریر :نیلم ملک

منگل, مارچ 11, 2014

پیر, مارچ 10, 2014

خوشیاں



  ایک بار پچاس افراد کے ایک گروپ کے ایک سیمینار میں شرکت کی ۔ اچانک خطیب خاموش ہو گیا اور ایک گروپ کی سرگرمی کرنے کا فیصلہ کیا . انہوں نے  ہر ایک کو ایک غبارہ دینا شروع کر دیا . ہر ایک کومارکر کا استعمال کرتے ہوئے اس پراس کا نام لکھنے کے لئے کہا گیا تھا . اس کے بعد تمام غبارےجمع کرکے دوسرے کمرے میں ڈال دیے گئے۔.
اب ان کے مندوبین نے شرکاء کواس کمرے میں دو اور پانچ منٹ کے اندر اندر اپنے نام والا غبارہ تلاش کرنے کے لئے کہا . ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں، ان کے نام کی تلاش کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہوئے،دوسروں کو دھکیلتے ہوئے اپنے نام کا غبارہ تلاش کر رہا تھا اور بالکل افراتفری کا سماں  تھا۔

پانچ منٹ کے آخر تک کوئی بھی اپنے نام والا غبارہ تلاش نہ کرسکا، پھر ان سب سے کہا گیا کہ وہ کوئی بھی غبارہ لیں اور اس کے نام والے شخص کودے دیں، چند منٹوں میں تمام افراد کے پاس اپنے اپنے نام والے غبارے تھے۔

پھرخطیب لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا کہ بالکل اسی طرح ہماری ذندگی ہے، ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں اپنے ارد گرد خوشیاں تلاش کر رہا ہے یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ کہاں ہیں۔

ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہے، ان کو ان کی خوشی دے دیں تو آپ کو آپ کی خوشی مل جائے گی اور یہی انسانی ذندگی کا مقصد ہے، 

.

ہفتہ, مارچ 08, 2014

عورت کی طاقت



بانو قدسیہ ایک بہت مشہور ادیب ہیں اور ان کی تحریروں نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے- آپ نے اپنی تحریروں میں روز مرہ کی زندگی کی باتیں بہت اچھی طرح سے بیان کی ہیں-

انکے مطابق آج کل کی عورت نے گھر داری اور ماں ہونے کی ذمہ داری چھوڑ دی ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے- اور اس سب کا ذمہ دار مرد ہے جس نے عورت کو اسکے گھر، جو کہ اسکا مضبوط قلعہ ہے، سے باہر نکالنے کے لئے سازش کی ہے آدمی نے عورت کو ایک اچھے لائف سٹائل اور اونچے میعار کے خواب دکھائے ہیں اور ان کے حصول کے لئے یہ طریقہ بتایا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر محنت کرے اور اپنے لئے ایک اچھا لائف سٹائل حاصل کرے- خواتین نے اس سے یہ بات سمجھی کہ انہیں آزادی مل رہی ہے لیکن درحقیقت وہ مزدوری کے لئے مجبور ہو گیئں ہیں اور اپنے کھانے کے لئے بھی انہیں خود ہی محنت کرنی پڑ رہی ہے-

وہ اس عورت کی مثال دیتی ہیں جو اپنے گھر کے کام کرتی ہے برتن دھوتی ہے اور کھانا بناتی ہے ان کے نزدیک یہ عورت ایک ماڈرن عورت سے زیادہ خود مختار ہے اسکا واحد مسئلہ غربت ہے لیکن اسکو ایک جدید عورت کی طرح اپنے آپ کو منوانے کے لئے جدوجہد نہیں کرنی پڑ تی اسکا وجود ہی اسکی شناخت ہے - اس اہنے آپ کو منوانے کی جدوجہد کی وجہ سے عورت کی نرمی اور نزاکت ختم ہوتی جا رہی ہے جو عورت کی اصل طاقت ہے اور جس کو وہ اپنی سب سے بڑی کمزوری سمجھتی ہے

جمعرات, مارچ 06, 2014

صبر



غم اپنے اندر بہت طاقت رکھتا ہے جسے چیخ پکار کر کے زائل کر دیا تو جو کچھ پاس ہو وہ بھی کھو جاتا ہے جبکہ اسی غم کو خاموشی اور صبر سے سہہ لیا تو ہر لمحہ ایسا نادر جوہر آپکی جھولی میں ڈالتا ہے جو کبھی دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں دے سکتی ایسی ایسی حقیقتیں آپکے سامنے کھول کر رکھتا ہے جو کبھی کسی کتاب میں نہ لکھی نہ کسی نے سکھائی.. ایسے بند کواڑ کھول دیتا ہے جن پر زنگ اور کائی بھی جمنا چھوڑ دیتی ہے..شاید اسی لئے الله پاک ہمیں کہتے ہیں کہ مشکل میں صبر کرو میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں بالکل پاس ہوں وہ ان ہاتھوں کو تھام لیتا ہے جو اسکی طرف اٹھتے ہیں..کیونکہ صبر بہت بڑی کمائی ہے..یہ طاقتور اور بڑے لوگوں کا شیوہ ہے...
نائلہ جاوید

بدھ, مارچ 05, 2014

پیر, مارچ 03, 2014

ﺍﻟﻔﺎﻅ



ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﮐﺮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﺎ ﻣﻌﻄﺮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮟ ﯾﺎ ﺟﻠﺘﮯ. ﺍﻧﮕﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﺎﻝ ﺩﯾﮟ۔۔ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،،،ﻣﺮﺩﮦ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺟﮭﺎ ﮐﺮ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﺭﮔﻮﺭ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ﺍﻥ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺳﻤﺖ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﻤﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺛﺮ ﮈﺍﻟﺘﮯ۔
ﻟﻔﻆ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ۔
ﻟﻔﻆ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔۔

" سڑک بند ھے "



" سڑک بند ھے !! "

سڑک کی مرمت ھو رھی ھو تو سڑک کے درمیان میں ایک بورڈ لگا دیا جاتا ھے جس پر لکھا ھوتا ھے..
"سڑک بند ھے.."
مگر اس کا مطلب کبھی یہ نہیں ھوتا کہ سرے سے راستہ بند ھو گیا ھے اور اب آنے جانے والے اپنی گاڑی روک کر کھڑے ھوجائیں.. اس کا مطلب صرف یہ ھوتا ھے کہ "یہ سامنے کی سڑک بند ھے.."
ھر شخص کو اس قسم کے بورڈ کے معنی معلوم ھیں چنانچہ سواریاں جب وھاں پہنچ کر بورڈ کو دیکھتی ھیں تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رکتیں.. وہ دائیں بائیں گھوم کر اپنا راستہ نکال لیتی ھیں اور آگے جا کر دوبارہ سڑک پکڑ لیتی ھیں اور اگر کسی وجہ سے دائیں بائیں راستہ نہ ھو تب بھی سواریوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں.. وہ اطراف کی سڑکوں سے اپنا سفر جاری رکھتی ھیں کچھ دور آگے جا کر دوبارہ انہیں اصل سڑک مل جاتی ھے اور اس پر اپنا سفر جاری رکھتے ھوئے وہ منزل پر پہنچ جاتی ھیں..
اس طرح کچھ منٹوں کی تاخیر تو ضرور ھو سکتی ھے مگر ایسا کبھی نہیں ھوتا کہ ان کا سفر رک جائے یا وہ منزل پر پہنچنے میں ناکام رھیں..

یہی صورت زندگی کے سفر کی بھی ھے..
زندگی کی جدوجہد میں کبھی ایسا ھوتا ھے کہ آدمی محسوس کرتا ھے کہ اس کا راستہ بند ھے مگر اس کا مطلب صرف یہ ھوتا ھے کہ سامنے کا راستہ بند ھے ' نہ کہ ھر طرف کا راستہ..
جب بھی ایک راستہ بند ھو تو دوسرے بہت سے راستے کھلے ھوئے ھوں گے.. عقل مند شخص وہ ھے جو اپنے سامنے "سڑک بند ھے" کا بورڈ دیکھ کر رک نہ جائے بلکہ دوسرے راستے تلاش کرکے اپنا سفر جاری رکھے..
ایک میدان میں مواقع نہ ھوں تو دوسرے میدان میں اپنے لیے مواقع کار تلاش کر لیجیے..
آگے کی صف میں آپ کو جگہ نہ مل رھی ھو تو پیچھے کی صف میں اپنے لیے جگہ حاصل کر لیجیے..
دوسروں کا ساتھ حاصل نہ ھو رھا ھو تو تنہا اپنے کام کا آغاز کر دیجیے..
چھت کی تعمیر کا سامان نہ ھو تو بنیاد کی تعمیر میں اپنے کو لگا دیجیے..
ھر بند سڑک کے پاس ایک کھلی سڑک بھی ھوتی ھے مگر اس کو وھی لوگ پاتے ھیں جو آنکھ والے ھوں..!!