جمعرات, اکتوبر 30, 2014

بدھ, اکتوبر 29, 2014

طوفان اور مزار


طوفان اور مزار
 (نوٹ یہ مضمون 2010 کے طوفان کے موقع پر لکھا گیا تھا)

بحیرہ عرب میں پیدا ہونے والا پیٹ (Phet) نامی طوفان 6 جون کی رات سندھ کے ساحلی شہر بھنبھور سے ٹکراکر ختم ہوگیا۔ ابتدا میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ طوفان کراچی اور اس کے مضافات سے ٹکرائے گا۔ تاہم مسقط اور گوادر میں تباہی مچانے والا یہ طوفان جو ابتدا میں کیٹگری 3 کا ایک طوفان تھا، پہلے کیٹگری 1 کے ہلکے طوفان میں بدلا اور پھر ہوا کا رخ آخری وقت میں بدلنے کے باعث کراچی سے ٹکرائے بغیر گزر گیا۔ کراچی شہر پر اس کا اثر صرف اتنا ہوا کہ طوفان سے قبل یہاں وقفے وقفے سے تیز بارش ہوئی۔ تاہم طوفان اس شہر سے کنارہ کرکے گزر گیا اور اس کا زیادہ تر نزلہ حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کے دیگر شہروں پر گرا۔

شہر کراچی جو اس طرح کی کسی ناگہانی کو جھیلنے کے لیے آخری درجہ میں ایک ناتواں شہر ہے، تمام تر توقعات کے برخلاف حیرت انگیز طور پر اس پوری آفت سے محفوظ رہا۔ گرچہ تھوڑی بہت بارش بھی اس شہر میں نو انسانی جانوں کا نقصان کرگئی لیکن اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر یہ شہر طوفان کا براہِ راست نشانہ بن جاتا تو یہاں کس درجے کی تباہی آتی۔

کراچی ایک ساحلی شہر ہونے کے باوجود اکثر طوفانوں سے بچا رہتا ہے۔ عوام الناس میں اس حوالے سے یہ چیز مشہور ہے کہ اس شہر کے تمام ساحلی علاقوں پر بعض بزرگوں کے مزارات ہیں جو اس شہر کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ تصورات ایک ایسی قوم میں پھیلے ہوئے ہیں جو حاملِ قرآنِ عظیم ہے۔ قرآنِ مجید اس یاددہانی سے بھرا ہوا ہے کہ اللہ کے سوا انسانوں کا نہ کوئی مددگار ہے اور نہ کوئی اور حامی و ناصر اور محافظ۔ اس کا کوئی نیک بندہ کبھی اپنے آپ کو اس حیثیت میں پیش نہیں کرسکتا۔ یہ صرف شیطان ہے جو لوگوں کے ذہن میں مشرکانہ اوہام پیدا کرتا رہتا ہے۔

حالیہ طوفان پیٹ نے قرآنِ مجید کی اس بات کو ایک عجیب انداز سے ثابت کیا ہے۔ کراچی کے متعلق چونکہ ابتدا سے یہ بات معلوم تھی کہ یہ شہر اس طوفان کا متوقع نشانہ بنے گا، اس لیے یہاں رہنے والے صلحا اللہ تعالیٰ سے مسلسل عافیت کی دعا کررہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سن لی اور نسبتاً کم اور خوشگوار بارش کے ساتھ یہ معاملہ ٹل گیا۔ تاہم اس کے ساتھ ایک اور واقعہ بھی ہوا۔ ساحلِ سمندر پر واقع ایک معروف بزرگ کے مزار کے احاطے میں واقع لنگر خانے کی دیوار گرگئی جس کے نتیجے میں 9 زائرین زخمی ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاموش پیغام تھا۔ وہ یہ کہ انسانوں کی پناہ اور عافیت صرف ایک ہستی کے ہاتھ میں ہے، وہ تنہا اللہ کی اپنی ذات ہے۔ اس کے علاوہ کوئی انسان اپنا تحفظ کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتا تو دوسروں کی کیا حفاظت کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسانوں کا ایک ہی حامی و ناصر ہے۔ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے اور ہر کسی کو زندگی دیتا ہے۔ وہ ہر کسی کا سہارا ہے اور ہر شے کو تھامے ہوئے ہے۔ ہر چیز اس کی ملکیت ہے اور اسے ہر چیز کا مکمل علم رہتا ہے۔ تمام طاقت اور اقتدار کا مالک۔ اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ وہ مخلوق کی حفاظت سے لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں تھکتا۔ مخلوق تمام تر اس کی محتاج ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کے کسی فیصلے میں مداخلت کرسکے۔ اس کے حضور اپنی بات پیش کرنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ عاجزی، پستی اور اس کی بڑائی کا اعتراف۔

اللہ کے نیک بندے اس بات کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ ہر مشکل میں اللہ کی طرف گڑگڑاکر رجوع کرتے ہیں۔ اس کے حضور عاجزی اور منت سماجت کے ساتھ فریاد کرتے ہیں۔ خدا کی رحمت ایسے ہی بندوں کی طرف متوجہ ہوتی اور ان کی سمت بڑھنے والے ہر طوفان کا رُخ موڑ دیتی ہے۔ چاہے یہ طوفان ان کی اجتماعی زندگی میں آرہا ہو یا ان کی انفرادی زندگی میں۔

اس کے برعکس جو لوگ غیر اللہ میں جیتے ہیں، وہ سرابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ عنقریب وہ جان لیں گے کہ ان کے حصے میں صحرا کی پیاس کے سوا کچھ نہیں آیا۔
 
ابو یحیٰیٰ

منگل, اکتوبر 28, 2014

عالم اور اعتماد



عالم اور اعتماد
 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

ایک عالم اور محقق وہ شخص ہوتا ہے جو علم کی روایت کے تمام پہلوؤں سے واقف ہوتا ہے اور پھر کسی معاملے میں اپنے فہم کے مطابق ایک رائے قائم کرتا ہے۔ عالم کا علم اور تحقیق اسے اس بات کا حقدار بناتے ہیں کہ وہ اپنی بات پورے اعتماد کے ساتھ بیان کرے اور دوسرے اہل علم کی غلطی کو واضح کرے ۔ یہ ایک عالم کا حق ہے جو اس سے چھینا نہیں جا سکتا۔ مگر اس سے جو توقع کی جا سکتی ہے وہ  یہ کہ وہ کسی دوسرے کے نیت پر حملہ نہ کرے ، ان کا تمسخر نہ اڑائے اور اس بات کے لیے تیار رہے کہ اس کی غلطی اگر اس پر واضح کر دی جائے تو وہ اپنی رائے سے رجوع کر لے گا۔ معاملات اگر یوں رہیں تو کبھی تعصب پھیلے گا نہ فرقہ واریت وجود میں آئے گی۔

خرابی اس وقت ہوتی ہے جب وہ لوگ کسی معاشرے میں عالم بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو علم کے صرف ایک پہلو سے واقف ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے علاوہ کسی اور نقطہ نظر کو سنجیدگی اور کھلے دل سے پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ درحقیقت جن بزرگوں کے نام پر وہ کھڑے ہوتے ہیں وہ ان کی علمی وراثت اور استدلال سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔

ایسے لوگ عملی زندگی میں اتر کر کبھی کسی دوسرے کانقطہ نظر نہیں سمجھ سکتے ۔ اگر کبھی دوسروں کی بات سننا بھی پڑے تو ہمدردری سے سمجھنا تو دور کی بات ہے وہ سنتے ہوئے بھی بات کا جواب سوچتے رہتے ہیں ۔ یہی یکطرفہ علم بلکہ کم ترین علم کے حاملین پھر فروعی اور جزوی اختلاف کی بنیاد پر دوسرے اہل علم کی نیت بلکہ ایمان کا فیصلہ کر دیتے ہیں ۔

یہی پہلے اور دوسرے گرہ کا حقیقی فرق ہے ۔ پہلا گروہ صاحبان علم کا ہوتا ہے جو علم کی پوری روایت سے واقف ہوتے ہیں ۔ دوسرا گروہ علم کی روایت سے تو کیا اپنے بزرگوں کی علمی روایت سے بھی واقف نہیں ہوتا۔ پہلا گروہ اگر پورے اعتماد سے کسی چیز کی تردید کر رہا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے ان کی علم اور تحقیق ہوتی ہے ۔ دوسرا گروہ جب پورے اعتماد سے کسی کی تردید کرتا ہے تو اس کے پیچھے گروہی عصبیت کارفرما ہوتی ہے ۔ پہلا گروہ ایک نئی اور مختلف بات کو بھی ہمیشہ توجہ سے سنتا ہے کہ وہ پہلے ہی علم کی روایت میں بہت سے نئی اور مختلف باتوں سے واقف ہوتا ہے ۔ دوسرا گروہ ایک نئی اور مختلف بات سنتے ہی متوحش ہوجا تا ہے کہ اس نے ساری زندگی اپنے نقطہ نظر کے علاوہ کوئی دوسری بات سنی ہی نہیں ہوتی۔

پہلا گروہ بھی گرچہ اپنی رائے کے دفاع کے لیے تیار رہتا ہے ، مگر جانتا ہے کہ اس کی رائے غلط ہو سکتی ہے ۔ جبکہ دوسرا گروہ اپنی رائے کو آخری حق سمجھ کر دفاع کرتا ہے ۔ پہلا گروہ انسانی علم اور فہم کی محدودیت کا شکار ہوکر غلطی کرسکتا ہے ، مگر واضح دلیل آنے پر اپنی رائے سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے ۔ دوسرا گروہ خود کو نبی اور رسول کے مقام پر سمجھتا ہے اور اپنے فہم کو وحی الٰہی خیال کر کے کسی ترمیم و تبدیلی کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنا دیتا ہے ۔

ایک عام آدمی کے سامنے دونوں گروہوں کے لوگ بظاہر دین کے نمائندوں کے طور پر آتے ہیں ۔ مگر یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ دو طرح کے لوگوں میں فرق کرنا سیکھے ۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ لہجے کے اعتماد سے دھوکہ نہ کھائے ۔ بلند و بالا دعووں سے مرعوب نہ ہو۔ وہ سوال کرے اور جواب چاہے ۔ وہ دریافت کرے اور دلیل مانگے ۔ علما کو انسان سمجھے ، نبی نہ بنائے ۔

اس دنیا میں عالم اور عامی دونوں امتحان میں ہیں ۔ عالم کا امتحان یہ ہے کہ علم کے تمام پہلوؤں سے ابتدائی واقفیت سے قبل کلام نہ کرے اور غلطی واضح ہوجانے پر اپنی رائے سے رجوع  کر لے ۔ عامی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دونوں فریقوں میں فرق کرنا سیکھے اور علما کو نبی اور ان کی آراء کو ایمانیات نہ بنائے ۔ وہ دوسرے اہل علم کو بدنام کرنے کی مہم نہ چلائے ۔

علم روشنی ہے جو نظر آ جاتا ہے ۔ شرط یہ ہے کہ تعصبات کی عینک اتار کر دیکھا جائے ۔

اب سمجھ میں آتا ہے



اب سمجھ میں آتا ہے


پیار کی کہانی میں
کس جگہ ٹھہرنا تھا؟
کس سے بات کرنا تھی؟
کس کے ساتھ چلنا تھا؟
کون سے وہ وعدے تھے
جن پہ جان دینا تھی؟
کس جگہ بکھرنا تھا؟
کس جگہ مکرنا تھا؟
کس نے اس کہانی میں
کتنی دور چلنا تھا؟
کس نے چڑھتے سورج کے
ساتھ ساتھ ڈھلنا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے

اُس نے جو کہا تھا سب
ہم نے جو سنا تھا تب
کس طرح ہلے تھے لب
کس طرح کٹی تھی شب
ہم نے ان سنی کر دی
بات جو ضروری تھی
کس قدرمکمل اور
کس قدر ادھوری تھی
وہ جو اک اشارہ تھا
ذکر جو ہمارا تھا
وہ جو اک کنایہ تھا
جو سمجھ نہ آیا تھا
اب سمجھ میں آتا ہے

جان کے ہی دشمن تھے
جان سے جو پیارے تھے
ہم جہاں پہ جیتے تھے
اصل میں تو ہارے تھے
راہ جس کو سمجھے ہم
راستہ نہیں تھا وہ
واسطہ دیا جس کو
واسطہ نہیں تھا وہ
کس نے رد کیا ہم کو؟
کس نے کیوں بلایا تھا؟
جس کو اتنا سمجھے ہم
کیوں سمجھ نہ آیا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے

اب سمجھ میں آیا جب
زندگی اکارت ہے
دیر سے سمجھ آئی
ایسی اک بجھارت ہے
زندگی کے بھیدوں کو
ہم نے اب سمجھنا تھا
تب سمجھ بھی آتی تو
ہم نے کب سمجھنا تھا
آنکھ جب پگھل جائے
اور شام ڈھل جائے
زندگی کی مٹھی سے
ریت جب نکل جائے
بھید اپنے جیون کا
تب سمجھ میں آتا ہے
سب سمجھ میں آتا ہے

رضی الدین رضی

منگل, اکتوبر 21, 2014

سچ



سچ تین مرحلوں سے گزرتا ھے۔

پہلے مرحلے میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ھے،
دوسرے مرحلے اسکی متشدد طریقے سے مخالفت کی جاتی ھے،
اور تیسرے مرحلے میں اسے یوں تسلیم کر لیا جاتا ھے،جیسے اس سچائی کو کبھی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

جمعہ, اکتوبر 17, 2014

مثبت شخصیت کی تعمیر



انسان کے ذہن کے دو بڑے خانے ہیں ایک شعوری ذہن ... دوسرا لاشعوری ذہن .. جب بھی کوئی بات انسان کے ذہن میں آتی ہے تو پہلے وہ اس کے ذہن کے شعور کے خانے میں آتی ہے اس کے بعد دھیرے دھیرے آگے بڑھ کر اس کے لاشعور کے خانے میں چلی جاتی ہے...

لاشعور انسانی ذہن کا وہ خانہ ہے جہاں ہر بات دوامی طور پر موجود رہتی ہے مگر وہ آدمی کے شعور کی گرفت میں نہیں رہتی.. جو آدمی پھول والی شخصیت بننا چاہے اس کو یہ کرنا ہوگا کہ جب بھی کوئی منفی آئٹم اس کے شعوری ذہن میں آئے تو اسی وقت اپنے ذہن کو متحرک کر کے اس منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے...

تاکہ جب آگے بڑھ کر یہ آئٹم آدمی کے لاشعور کے اسٹور میں محفوظ ہو تو وہاں وہ مثبت آئٹم کے طور پر محفوظ ہو نہ کہ منفی آئٹم کے طور پر...

مثلاً کوئی بات اس کے شعور میں نفرت کے احساس کے طور پر آئے تو وہ اس کو diffuse کر کے محبت کے احساس میں تبدیل کرے...کوئی بات حسد کے احساس کے طور پر اس کے دماغ میں آئے تو وہ اس کو اعتراف کے احساس میں تبدیل کرلے..

کوئی بات پر اس کا ایگو (ego) بھڑکے تو وہ اس کو تواضع کا احساس دے دے..کوئی تجربہ اس کے اندر خودغرضی کا احساس پیدا کرے تو وہ اس کو بدل کر بےغرضی کا احساس بنا دے...کسی واقعے میں اپنی حق تلفی دکھائی دے تو اس کو وہ بدل کر شکر کے احساس میں ڈھال لے...

جو عورت یا مرد اپنے اندر اس طرح کی شخصیت تعمیر کریں تو ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے شعور کا سٹور مکمل طور پر مثبت آئٹم کا خزانہ بن جائے گا جو منفی آئٹم سے پوری طرح خالی ہوگا...

مولانا وحیدالدین...
انسان کی منزل...
صفحہ 54...

جمعرات, اکتوبر 16, 2014

اپنی زمین



اپنی زمین
(ابویحییٰ)

یہ تیسری ملاقا ت تھی۔ پہلی دو ملاقاتوں میں وہ اس بات پر قائل ہوچکے تھے کہ حالات گرچہ بہت پریشان کن اور خراب ہیں، لیکن انہی حالات میں بڑابڑی خیر، عافیت اور آسانی بھی پائی جاتی ہے۔ خاص کر کسی شخص کا اصل مقصود اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہو تو یہی بہترین حالات ہیں۔ مگر اب ایک اور مسئلہ آگیا۔ یہ مسئلہ مختصراً انہی کی زبانی سنیے۔
’امریکہ افغانستان میں بیٹھا ہے اور ہم پر ڈرون حملے کررہا ہے۔ حکومت میں سارے کرپٹ لوگ ہیں۔ سیاستدان مخلص نہیں۔ اصلاح کیسے ہوگی؟ کام کیسے شروع ہوگا، کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘
میں نے جواب میں عرض کیا۔ آپ کو معلوم ہے ملک میں ہزاروں لاکھوں ٹن فصلیں کیسے پیدا ہوتی ہیں۔۔۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ہر کسان اپنے حصے کی زمین پر محنت کرکے فصل بوتا ہے۔ زمین کم ہو یا زیادہ ہر کسان کی سار ی توجہ اپنی زمین کی طرف ہوتی ہے۔ اگر کسان اپنی زمین پر کام چھوڑ کر بنجر زمینوں کا رونا رونے لگے تو پھر کوئی فصل بھی پیدا نہیں ہوگی۔
ٹھیک اسی طرح آپ کا مسئلہ، آپ کی اپنی ذات ہے، آپ کے اردگرد کے قریبی لوگ ہیں۔ کام یہاں ہونا ہے۔ اصلاح یہاں سے ہونی ہے۔ یہ سوچنے میں وقت ضائع نہ کریں کہ دوسرے اپنے دائرۂ عمل میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے۔ یہ دیکھیے کہ آپ اپنے دائرے میں اپنا کام کررہے ہیں یا نہیں۔ آپ کام کررہے ہیں تو یہ سب سے بڑا کا م ہے نہ کہ دوسر ے لوگوں کی بدعملی اور بے عملی دیکھ کر جلتے اور کڑھتے رہنا۔
ہم سب مل کر جب اپنی اپنی زمین پر کام کریں گے تو پھر ساری زمین کی اصلاح ہوجائے گی۔ دوسری صورت میں نہ آپ کی اصلاح ہوگی نہ آپ کے قریبی ماحول کی اورنہ دوسروں کی۔
میں خوش نصیب تھا۔ میری یہ بات بھی ان کی سمجھ میں آگئی

بدھ, اکتوبر 15, 2014

احسان کی رسی


احسان کی رسی
-------------------
" ایک شخص اپنی پالتو بکری کے ساتھ جا رہا تھا۔۔۔۔ اس نے بکری کی رسّی بھی نہیں پکڑی ہوئی تھی۔ کسی نے اس سے کہا:"حیرت ہے، یہ بکری کیوں تمھارے پیچھے آرہی ہے۔۔۔۔ حالانکہ تم نے اس کی رسی بھی نہیں پکڑ رکھی۔"

یہ سن کر بکری والے نے کہا: "یہ میرے پیچھے اس لئے آرہی ہے کہ یہ احسان کی رسی سے بندھی ہوئی ہے جو آپ کو نظر نہیں آرہی۔ جب بکری بھوکی ہوتی ہے تو میں اسے کھلاتا ہوں۔۔۔ جب یہ پیاسی ہوتی ہے تو میں اسے پلاتا ہوں۔۔۔۔ جب اس کا بدن میلا ہو جاتا ہے تو میں اسے نہلاتا ہوں۔۔۔ اسے چھاؤں میں باندھتا ہوں۔ اسے گرمی سردی سے بچاتا ہوں۔۔۔ غرض اس کا ہر طرح خیال رکھتا ہوں۔۔۔ یہ میرا اس پر احسان۔۔۔۔ اسے میرے احسانوں کی رسی نے باندھ رکھا ہے۔"

یہ سُن کر دوسرے آدمی نے ایک سرد آہ بھری اور بولا: "اللہ تعالٰی کے بھی ہم پر ان گنت احسانات ہیں۔۔۔۔ اس کے احسانوں کی رسی نے ہمیں بھی تو باندھ رکھا ہے۔۔۔ لیکن ہائے افسوس۔۔۔ ہم تو اس کے احکامات کے پیچھے نہیں چلتے۔۔۔ ہم تو سرکشی پر اُترے ہوئے ہیں۔"

ہفتہ, اکتوبر 11, 2014

آج کی بات ۔۔۔ 11 اکتوبر 2014



اگر راستہ خوبصورت ہے تو معلوم کیجئے کہ کس منزل کو جاتا ہے
اگر منزل خوبصورت ہو تو راستہ کی پرواہ مت کیجئے

کیونکہ خوبصورت منزل مل جانے پر راستہ کی دُشواریوں کا احساس ختم ہو جاتا ہے
لیکن منزل خوبصورت نہ ہو تو آدمی کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہ جاتا

ہفتہ, اکتوبر 04, 2014

قربانی : سوچنے کی کچھ باتیں


قربانی : سوچنے کی کچھ باتیں
(Abu Yahya ابویحییٰ﴿

عید الاضحٰی کی آمد آمد ہے۔ ہر سال اس موقع پر قربانی کے جانوروں کی بہار آتی ہے۔ ہر گھر میں اِسی بات کا تذکرہ ہوتا ہے کہ گائے خریدی جائے، بکرا لیا جائے یا کہیں حصہ ڈال دیا جائے۔ جہاں قربانی کے جانور آجاتے ہیں وہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں کہ کس کا جانور زیادہ اچھا اور قیمتی ہے۔ جو لوگ مہنگے جانور خرید کر لاتے ہیں وہ بڑے فخر سے اپنے جانوروں کی نمائش کرتے ہیں۔ جبکہ کمزور جانوروں کے مالک ان کی قیمت زیادہ بتا کر اپنا بھرم رکھتے ہیں۔ غرض مقابلہ بازی کی اک فضا ہر جگہ طاری ہوجاتی ہے۔جو لوگ قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ان کا غم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس مقابلے سے کیوں باہر ہیں۔ یا پھر یہ کہ اِس موقع پر’گوشت‘ کی خود کفالت میں وہ دوسروں کے محتاج ہوں گے۔

جانوروں کی خریداری کے بعد گھر کے مردوں کی اگلی فکر قصائی کی تلاش اور قربانی کے دن اُس کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ خواتین کے سامنے قربانی کے بعد گوشت کی جمع وتقسیم اور پھر اُس کے پکانے کے تھکا دینے والے مراحل ہوتے ہیں۔ بچے جانوروں کو گھمانے اور کِھلانے پلانے میں مگن رہتے ہیں۔ ان کے اس شوق کا منتہائے کمال عید کے دن ذبح ہوتے جانوروں کا نظارہ ہے۔ غرض یہ کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر دینِ اسلام کی یہ عظیم عبادت لوگوں میں اگر کسی پہلو سے اہم ہے تو وہ محض ’جانور‘ اور اُن کے’ گوشت‘ کے حوالے سے ہے۔ دین کے حوالے سے اگر کوئی چیز زیرِ بحث آتی بھی ہے تو وہ قربانی کی عبادت کا تاریخی پس منظر اور اُس کے فقہی مسائل ہیں۔

دینِ اسلام میں قربانی کی حیثیت ایک عبادت کی ہے۔ اور دینِ خداوندی میں عبادات کی حقیقت یہ ہے اُن کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق کی یاد دہانی حاصل کرتا ہے۔ چنانچہ قربانی کی یہ عبادت بندہ اور اُس کے رب کے درمیان تعلق کا وہ مظہر ہے جسے سرِ عنوان بنا کر وہ اپنے مالک کی خدمت میں اپنا یہ پیام بندگی بھیجتا ہے۔

’’اے پروردگار! آج میں ایک جانور تیرے نام پر ذبح کررہا ہوں، اگر تیرا حکم ہوا تو میں اپنی جان بھی اِسی طرح تیرے حضور میں پیش کردوں گا۔‘‘

دراصل اِس دنیا میں بدنی اور مالی عبادات کے مواقع نماز و انفاق وغیرہ کی صورت میں کثرت سے سامنے آتے رہتے ہیں، جن سے ہم اپنے پروردگا کے ساتھ اپنے تعلق کی یاد دہانی حاصل کرتے اور اُسے زندہ کرتے ہیں، تاہم خدا کے لیے جان دے دینا ’اسلام‘ (یعنی اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردینے) کا سب سے بلند مقام ہے اور اس کے مواقع شاذ ہی زندگی میں آتے ہیں۔ اِس لیے قربانی کی یہ عبادت اُس کے علامتی اظہار کے طور پر مقرر کی گئی ہے۔ گویا ایک بندۂ مومن اِس عظیم عبادت کے ذریعے اپنے رب کے سامنے یہ اقرار کرتا ہے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب تیرے لیے ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی مشروع کی ہے تا کہ اللہ نے اُن کو جو چوپائے بخشے ہیں، اُن پر وہ (ذبح کرتے ہوئے) اُس کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے چنانچہ تم اپنے آپ کو اُسی کے حوالے کردو۔ اور خوشخبری دو اُن لوگوں کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔‘‘ (الحج ۲۲:۳۴)

یہ آیت بتاتی ہے کہ قربانی کی عبادت اپنی جان کو اپنے معبود کی نذر کردینے کا علامتی اظہار ہے۔ اس کے ذریعے سے بندہ اپنے وجود کو آخری درجہ میں اپنے آقا کے حوالے کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ بندہ مومن کے یہ جذبات اس کے مالک تک پہنچ جاتے ہیں۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ابدی رحمتوں کے لیے چن لیتا ہے۔ مزید براں دنیا میں بھی وہ ان جانوروں کا گوشت انہیں کھانے کی اجازت دے کر انہیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اپنی جان مجھے دے کر بھی تم مجھے کچھ نہیں دیتے۔ بلکہ دینے والا میں ہی رہتا ہوں۔ یہ گوشت کھاؤ اور یاد رکھو کہ مجھ سے سودا کرنے والا دنیا و آخرت دونوں میں نقصان نہیں اٹھاتا۔

ایک طرف قربانی کی یہ عظیم عبادت اور اس میں پوشیدہ قربت رب کی یہ حکمت ہے اور دوسری طرف ہمارا وہ طرزِ عمل ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا جاچکا ہے۔ جس میں ایک عام آدمی کا ذہن کبھی بھولے سے بھی قربانی کی اِس حقیقت کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ ریاکاری اور نمود و نمائش کا وہ شائبہ تعلق باللہ کی یاد دہانی کی اِس عظیم عبادت میں اِس طرح شامل ہوجاتا ہے کہ جس کے بعد لینے کے دینے پڑجاتے ہیں۔ قربانی کے ذریعے اپنی بندگی کا اظہار تو دور کی چیز ہے، رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق تو مخلوق کی نگاہ میں نمایاں ہونے کی نیت سے آدمی اگر حقیقت میں بھی اپنی جان دے دے تب بھی روزِ قیامت میں ایسے ’’شہید‘‘ کو جہنم میں پھینک دیاجائے گا۔

ایک آخری بات اِس ضمن میں یاد رکھنے کی یہ ہے کہ دینِ اسلام کا اصل مقصود انسان کا ’تزکیہ‘ ہے۔ یعنی انسان کو پاکیزہ بنانا۔ تاہم قربانی کے اِس عمل میں ہم لوگ نہ صرف جانور ذبح کرتے ہیں بلکہ اسلام کا یہ مقصود یعنی پاکیزگی بھی ذبح کر دیتے ہیں۔ جگہ جگہ گندگی کے جو مظاہر عید الاضحیٰ کے موقع پر دیکھنے میں آتے ہیں اس کی توقع کسی اچھے مسلمان سے تو کیا ایک اچھے انسان سے بھی نہیں کی جاسکتی۔ قرآن پاک میں قربانی کے جانوروں کے متعلق ارشاد ہوا ہے:

’’اللہ کو تمھاری ان قربانیوں کا گوشت یا خون کچھ بھی نہیں پہنچتا، بلکہ صرف تمھارا تقویٰ پہنچے گا‘‘ (الحج ۲۲:۳۷﴾

تقویٰ اور بندگی کی دلی کیفیات تو ہمارے ہاں پہلے ہی ناپید ہیں۔ اس پر مزید ستم ہم یہ کرتے ہیں کہ گوشت اپنے فرج میں رکھ کر ہم، زبان حال سے، رب العالمین کی بارگاہ اقدس میں صرف گندگی اور غلاظت کے ڈھیر بھیجتے ہیں۔ چنانچہ قربانی کے دنوں میں اس کی حکمت و مصلحت کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے گھر کی طرح اپنے علاقے کو صاف رکھنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ جس کی خلاف ورزی کم از کم ایک دینی تہوار کے موقع پر اور بالخصوص ایک عبادت کو انجام دیتے ہوئے بالکل نہیں ہونی چاہیے۔

بدھ, اکتوبر 01, 2014