بدھ, جنوری 28, 2015

فاصلہ پر رہو


~~~ فاصلہ پر رہو ~~~

سڑک پر بیک وقت بہت سی سواریاں دوڑتی ہیں آگے سے , پیچھے سے , دائیں سے , بائیں سے...اس لیے سڑک کو محفوظ حالت میں باقی رکھنے کے لیے بہت سے قاعدے بنائے گئے ہیں...سڑک کے قاعدے سڑک کے کنارے ہر جگہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ لوگ انہیں پڑہیں اور ان کی رہنمائی میں اپنا سفر طے کریں...

دہلی کی سڑک سے گزرتے ہوئے اسی قسم کا ایک قاعدہ بورڈ پر لکھا ہوا نظر سے گزرا اس کے الفاظ تھے


فاصلہ برقرار رکھو
keep distance ..!

میں نے اس کو پڑھا تو سوچا کہ ان دو لفظوں میں نہایت دانائی کی بات کہی گئی ہے... یہ ایک مکمل حکمت ہے جس کا تعلق سڑک کے سفر سے بھی ہے اور زندگی کے عام سفر سے بھی...

موجودہ دنیا میں کوئی آدمی اکیلا نہیں ہے..ہر آدمی کو بہت سے انسانوں کے درمیان رہ کر اپنا کام کرنا پڑتا ہے..ہر آدمی کے سامنے اس کا ذاتی انٹرسٹ ہے ہر آدمی اپنے اندر ایک انا لیے ہوئے ہے..ہر آدمی دوسرے کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے

 یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ہم زندگی کےسفر میں "فاصلہ پر رہو " کے اصول کو ہمیشہ پکڑے رہیں .. ہم دوسروں سے اتنی دوری پر رہیں کہ اس سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لیے بغیر اپنا سفر جاری رکھیں

اس حکمت کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے اگر آپ اعراض کی اس حکمت کو ملحوظ نہ رکھیں تو کہیں آپ کا فائدہ دوسرے کے فائدہ سے ٹکرا جائے گا کہیں آپ کا ایک سخت لفظ دوسرے کو مشتعل کرنے کا سبب بن جائے گا

 اس کے بعد وہی ہوگا جو سڑک پر ہوتا ہے..یعنی حادثہ ...سڑک کا حادثہ سڑک کے سفر کو روک دیتا ہے بعض اوقات خود مسافر کا خاتمہ کردیتا ہے..اس طرح زندگی میں مذکورہ اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کی ترقی کا سفر رک جائے گا..ماضی اور حال میں اس کی بےشمار مثالیں ہے جب بھی کسی آدمی نے اپنی مذکورہ حد کو پار کیا وہ برے انجام کا شکار ہوا

 مولانا وحیدالدین خان...
رہنُمائے حیات...

پیر, جنوری 19, 2015

جمعہ, جنوری 09, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 09 جنوری 2015



مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ اپنے دوست اور دشمن کے سامنے مسکراؤں کیونکہ پہلا میری مسکراہٹ سے خوش ہوتا ہے اور دوسرے کو میری مسکراہٹ اپنے موقف کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دے گی.

 مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ دنیا ایک خوبصورت خواب ہے اور اس کی مشکلات بلبلوں کی طرح ہیں جو ہوا میں غایب ہو جاتی ہیں.

 مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ میں لوگوں کو اپنے افعال سے نصیحت کروں نہ کہ اپنے اقوال سے -

جمعرات, جنوری 08, 2015

زندگی کی سڑک

 
~~~ زندگی کی سڑک ~~~

بعض سڑکوں پر چوراہے ہوتے ہیں ٹریفک قوانین کے تحت یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک طرف کی سڑک بند کر کے دوسری طرف کی سڑک کھول دی جاتی ہے..اس مقصد کے لیے علامتی طور پر ہرا سگنل اور لال سگنل استمعال کیا جاتا ہے...
ایک گاڑی چلتے چلتے چوراہہ پر پہنچتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اس کے سامنے لال سگنل روشن ہوگیا ہے..تو وہ وہیں رک جاتی ہے تاکہ دوسری طرف سے چلنے والی سواریوں کو موقع دے دے.. جب دوسری طرف کی کچھ سواریاں نکل جاتی ہیں تو لال سگنل کی جگہ ہرا سگنل روشن ہوجاتا ہے... اب یہ آپ کی سواری کے لیے موقع ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اپنا سفر جاری رکھے...
چوراہے کا یہ قانون زندگی کا قانون بھی ہے... زندگی کی سڑک کوئی خالی سڑک نہیں ہے جس پر آپ اپنی مرضی کے مطابق صرف اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں یہاں دوسرے بھی بہت سے لوگ ہیں اور وہ بھی اپنا اپنا سفر طے کرنا چاہتے ہیں..ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے اندر وسعت اور لچک پیدا کرے..کہ وہ یہاں خود راستہ لینے کے ساتھ دوسروں کو بھی راستہ دے...
یاد رکھئیے زندگی کی شاہراہ پر آپ ہی اکیلے نہیں ہیں یہاں بہت سے دوسرے چلنے والے بھی ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ زندگی کی شاہراہ پر آگے بڑھیں تو آپ کو دوسروں کے لیے بھی گزرنے کا موقع دینا ہوگا..
سڑک کے ایک حصے پر اگر آپ اپنی گاڑی کو دوڑانے کا موقع پارہے ہیں.. تو دوسرے حصے پر آپ کو اپنی گاڑی روکنی بھی ہوگی..تاکہ دوسری سواریاں ٹکرائے بغیر گزرنے کا موقع پاسکیں...اپنا حق لینے کے لیے دوسروں کا حق دینا پڑتا ہے.. اگر آپ چاہیں کے دوسروں کا حق دئیے بغیر اپنا حق پالیں تو موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں....
مولانا وحیدالدین خان...

منگل, جنوری 06, 2015

پکار اور فریاد

مرغی کے انڈے کے چپٹے سرے میں اللہ تعالیٰ نےآکسیجن کا ایک بلبلہ رکھا ہے۔ انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی بغور دیکھ دیکھ کر اس سرے کو اوپر کرتی رہتی ھے۔ آپ نے اکثر اُسے چونچ سے انڈوں کو کریدتے ہوئے دیکھا ہوگا، اُس وقت وہ اصل میں یہی کام کر رہی ہوتی ہے۔میرے اللہ نے مرغی کو بھی سائنسدان بنایا ہے۔ بچے کا منہ اوپر کی جانب بنتا ہے، اگر تو انڈے کا چپٹا رُخ اوپر رہے تو چوزہ تخلیق کے مراحل کی تکمیل ہوتے ہی اُس بُلبلے سے سانس لیتا ہے، لیکن اس کے پاس مہلت محض اتنی ہوتی ہے کہ وہ آکسیجن کے اس بُلبلے کے ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنے خول کو توڑ کر باہر نکلے، باہر آکسیجن کا سمندر اس کے انتظار میں ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ اُس بُلبلے کو ہی زندگی سمجھ کر استعمال کرے اور خول کو توڑنے کی کوشش نہ کرتے تو پھر کچھہی لمحوں بعد وہ اندر ہی مر جاتا ہے۔اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب چوزہ خول کو اندر سے توڑ نہیں پاتا تو وہ بولتا اور فریاد کرتا ہے تو ماں باہر سے چونچ مار کر اُس خول کو توڑ دیتی ہے، اور یوں وہ آزاد دنیا میں آ جاتا ہے، مگر یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ چوزے کی آزادی کیلئے اُسکی پکار اور فریاد ضروری ھے۔لہٰذا جو لوگ اِس دنیا کی زندگی ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنے گناہ اور نفس کے خول کی گرفت سے آزاد ہو جائیں گے پھر انہیں آخرت میں دائمی زندگی مل جائے گی۔ یہاں ایک بات بہت دلچسپ ہے کہ اللہ اپنے گناہ گار لوگوں سے بہت پیار کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ وہ اُس کے حضور گڑگڑا کے دُعا کریں تاکہ وہ انہیں اُن کے گناہوں کے خولوں سے نکال کر ایمان افروززندگی میں لے آئے، لیکن بات وہی ہے کہ گناہوں کے بخشش کیلئے اللہ کو پکارنا اور دُعا کرنا ضروری ہے۔یقیناً جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرتے ہیں، پھر اللہ بھی انہیں صراطِ مستقیم پر لانے اور اُن کی آخرت سنوارنے کیلئے راہنمائی فراہم کرتا ہے.....

پیر, جنوری 05, 2015

اتوار, جنوری 04, 2015

جو جمالِ روئے حیات تھا



جو جمالِ روئے حیات تھا، جو دلیل راہِ نجات تھا
اسی رہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا

یہ میری عقیدت بے بسر ،یہ میری ریاضت بے ہنر
مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا
تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

تیرا نقش پا تھا جو راہنما تو غبارِ راہ تھی کہکشاں
اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا

میرے راہنما تیرا شکریہ کروں کس زباں سے بھلا ادا
میری زندگی کی اندھیری شب میں چراغِ فکر جلا دیا

تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا
مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا

کبھی اے عنایتِ کم نظر !تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی
جو تبسم رخِ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا

جمعرات, جنوری 01, 2015