اشاعتیں

January, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فاصلہ پر رہو

تصویر
~~~ فاصلہ پر رہو ~~~

سڑک پر بیک وقت بہت سی سواریاں دوڑتی ہیں آگے سے , پیچھے سے , دائیں سے , بائیں سے...اس لیے سڑک کو محفوظ حالت میں باقی رکھنے کے لیے بہت سے قاعدے بنائے گئے ہیں...سڑک کے قاعدے سڑک کے کنارے ہر جگہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ لوگ انہیں پڑہیں اور ان کی رہنمائی میں اپنا سفر طے کریں...

دہلی کی سڑک سے گزرتے ہوئے اسی قسم کا ایک قاعدہ بورڈ پر لکھا ہوا نظر سے گزرا اس کے الفاظ تھے


فاصلہ برقرار رکھو
keep distance ..!

میں نے اس کو پڑھا تو سوچا کہ ان دو لفظوں میں نہایت دانائی کی بات کہی گئی ہے... یہ ایک مکمل حکمت ہے جس کا تعلق سڑک کے سفر سے بھی ہے اور زندگی کے عام سفر سے بھی...

موجودہ دنیا میں کوئی آدمی اکیلا نہیں ہے..ہر آدمی کو بہت سے انسانوں کے درمیان رہ کر اپنا کام کرنا پڑتا ہے..ہر آدمی کے سامنے اس کا ذاتی انٹرسٹ ہے ہر آدمی اپنے اندر ایک انا لیے ہوئے ہے..ہر آدمی دوسرے کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے

 یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ہم زندگی کےسفر میں "فاصلہ پر رہو " کے اصول کو ہمیشہ پکڑے رہیں .. ہم دوسروں سے اتنی دوری پر رہیں کہ اس سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لیے بغیر اپنا سفر …

آج کی بات ۔۔۔۔ 19 جنوری 2015

تصویر
اپنی زندگی کی کتاب کچھ خاص لوگوں کے سامنے کھولیں ۔۔
کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند لوگ ہی اسکے باب سمجھ سکتے ہیں ۔۔
باقی بس جاننے کا تجسس رکھتے ہیں.

آج کی بات ۔۔۔ 09 جنوری 2015

تصویر
مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ اپنے دوست اور دشمن کے سامنے مسکراؤں کیونکہ پہلا میری مسکراہٹ سے خوش ہوتا ہے اور دوسرے کو میری مسکراہٹ اپنے موقف کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دے گی.

 مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ دنیا ایک خوبصورت خواب ہے اور اس کی مشکلات بلبلوں کی طرح ہیں جو ہوا میں غایب ہو جاتی ہیں.

 مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ میں لوگوں کو اپنے افعال سے نصیحت کروں نہ کہ اپنے اقوال سے -

چاہ

تصویر

آج کی بات ۔۔۔ 08 جنوری 2015

تصویر
ایک نیکی کرنے سے انسان پرہیزگار نہیں بنتا مگر ایک گناہ کرنے سے گناہ گار ضرور بن جاتا ہے۔

زندگی کی سڑک

تصویر
~~~ زندگی کی سڑک ~~~
بعض سڑکوں پر چوراہے ہوتے ہیں ٹریفک قوانین کے تحت یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک طرف کی سڑک بند کر کے دوسری طرف کی سڑک کھول دی جاتی ہے..اس مقصد کے لیے علامتی طور پر ہرا سگنل اور لال سگنل استمعال کیا جاتا ہے... ایک گاڑی چلتے چلتے چوراہہ پر پہنچتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اس کے سامنے لال سگنل روشن ہوگیا ہے..تو وہ وہیں رک جاتی ہے تاکہ دوسری طرف سے چلنے والی سواریوں کو موقع دے دے.. جب دوسری طرف کی کچھ سواریاں نکل جاتی ہیں تو لال سگنل کی جگہ ہرا سگنل روشن ہوجاتا ہے... اب یہ آپ کی سواری کے لیے موقع ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اپنا سفر جاری رکھے... چوراہے کا یہ قانون زندگی کا قانون بھی ہے... زندگی کی سڑک کوئی خالی سڑک نہیں ہے جس پر آپ اپنی مرضی کے مطابق صرف اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں یہاں دوسرے بھی بہت سے لوگ ہیں اور وہ بھی اپنا اپنا سفر طے کرنا چاہتے ہیں..ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے اندر وسعت اور لچک پیدا کرے..کہ وہ یہاں خود راستہ لینے کے ساتھ دوسروں کو بھی راستہ دے... یاد رکھئیے زندگی کی شاہراہ پر آپ ہی اکیلے نہیں ہیں یہاں بہت سے دوسرے چلنے والے بھی…

پکار اور فریاد

تصویر
مرغی کے انڈے کے چپٹے سرے میں اللہ تعالیٰ نےآکسیجن کا ایک بلبلہ رکھا ہے۔ انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی بغور دیکھ دیکھ کر اس سرے کو اوپر کرتی رہتی ھے۔ آپ نے اکثر اُسے چونچ سے انڈوں کو کریدتے ہوئے دیکھا ہوگا، اُس وقت وہ اصل میں یہی کام کر رہی ہوتی ہے۔میرے اللہ نے مرغی کو بھی سائنسدان بنایا ہے۔ بچے کا منہ اوپر کی جانب بنتا ہے، اگر تو انڈے کا چپٹا رُخ اوپر رہے تو چوزہ تخلیق کے مراحل کی تکمیل ہوتے ہی اُس بُلبلے سے سانس لیتا ہے، لیکن اس کے پاس مہلت محض اتنی ہوتی ہے کہ وہ آکسیجن کے اس بُلبلے کے ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنے خول کو توڑ کر باہر نکلے، باہر آکسیجن کا سمندر اس کے انتظار میں ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ اُس بُلبلے کو ہی زندگی سمجھ کر استعمال کرے اور خول کو توڑنے کی کوشش نہ کرتے تو پھر کچھہی لمحوں بعد وہ اندر ہی مر جاتا ہے۔اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب چوزہ خول کو اندر سے توڑ نہیں پاتا تو وہ بولتا اور فریاد کرتا ہے تو ماں باہر سے چونچ مار کر اُس خول کو توڑ دیتی ہے، اور یوں وہ آزاد دنیا میں آ جاتا ہے، مگر یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ چوزے کی آزادی کیلئے اُسکی پکار اور فریاد ضروری ھے۔لہٰذا جو لوگ اِس د…

آج کی بات ۔۔۔ 05 جنوری 2015

تصویر
اگر تم راستہ جانتے ہو تو گمراہ انسان تمهاری ذمہ داری ہے

جو جمالِ روئے حیات تھا

تصویر
جو جمالِ روئے حیات تھا، جو دلیل راہِ نجات تھا اسی رہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا
یہ میری عقیدت بے بسر ،یہ میری ریاضت بے ہنر مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا
تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا
میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا
تیرا نقش پا تھا جو راہنما تو غبارِ راہ تھی کہکشاں اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا
میرے راہنما تیرا شکریہ کروں کس زباں سے بھلا ادا میری زندگی کی اندھیری شب میں چراغِ فکر جلا دیا
تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا
کبھی اے عنایتِ کم نظر !تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی جو تبسم رخِ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دی…

نیا سال 2015

تصویر
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل