جمعہ, جون 30, 2017

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-8

تدبرِ القرآن
سورہ الکھف
 استاد نعمان علی خان
 حصہ-8
 اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّىٰ أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا - 18:60

"اور جب کہا موسی نے اپنے خادم سے کہ نہیں ٹھہروں گا حتی کہ پہنچ جاوں سنگم پر دو دریاؤں کے خواہ چلتا رہوں میں برسوں۔"

اس قصے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے موسی علیہ السلام سے دریافت کیا کہ "اس زمین پر سب سے زیادہ علم کون رکھتا ہے، کس کے پاس سب سے زیادہ علم ہے۔" 
موسی علیہ السلام نے فرمایا: 
" یہ تو میں نہیں جانتا، جس کے پاس اس وقت مجھ سے زیادہ علم ہو۔"
انہوں نے ایسا اس لیے نہیں کہا کہ انہیں اپنے علم پر غرور تھا بلکہ اس لیے کہا کیونکہ وہ اللہ کے نبی تھے اس لیے انہیں ایسا لگا کہ اس وقت صرف انہی کے پاس سب سے زیادہ علم ہوگا۔ سو انہوں نے اُس شخص کو جواب میں یہ کہا تھا۔ مگر اللہ کو یہ جواب پسند نہ آیا۔ 
اس سے ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ کبھی بھی اپنے علم پر غرور نہیں کرنا چاہیے ہے۔ اگر کوئی ہم سے ہمارے علم کے متعلق پوچھے تو ہمارا رویہ عاجزی کا ہونا چاہیے ہے۔ 
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کو اپنے علم کے متعلق نہیں بتا سکتے کہ "میں اتنا پڑھا ہوں
اس کا مطلب ہے کہ بس آپ میں عاجزی ہونی چاہیے ہے، خود کو دوسروں سے بہتر نہیں سمجھنا چاہیے ہے، آپ کے اندر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "مجھے تو سب سے زیاہ علم ہے، میرے جیسا علم تو کسی کے پاس نہیں ہے
اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو خبر دی کہ ان کا ایک اور بندہ ہے جس کے پاس اُن سے زیادہ علم ہے، اور وہ خضر تھے۔ 
موسی علیہ السلام خضر کے پاس جا کر اُس سے علم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ 
اللہ تعالی نے موسی علیہ اسلام کو بتایا کہ وہ کس جگہ پر خضر کو پاسکتے ہیں۔ 
اور وہ جگہ دو دریاوں کا سنگم تھی۔ جہاں دو دریا آپس میں ملتے تھے۔ اُس جگہ پر ہی موسی علیہ السلام کو خضر ملتے اور مچھلی انہیں چھوڑجاتی، کیونکہ انہیں کہا گیا تھا کہ وہ ایک مچھلی اپنے ساتھ رکھ لیں۔ 
سو جس جگہ پر وہ مچھلی انہیں چھوڑ دیتی اسی مقام پر ان کی ملاقات خضر سے ہوتی۔
موسی علیہ السلام یوشع بن نون کے ہمراہ اس سفر کے لیے روانہ ہوگئے۔ 
اب آپ یہاں پر موسی علیہ السلام کے عظم کا جائزہ لیں کہ انہوں نے اپنے غلام یوشع سے کہا
"میں نہیں ٹھہروں گا حتی کہ میں دو دریاوں کے سنگم پر پہنچ نہیں جاتا خواہ چلتا رہوں میں برسوں"
یعنی، چاہے کچھ بھی ہوجائے میں ہار نہیں مانوں گا۔
کیا ہمارا رویہ بھی علم کے حصول کے لیے ایسا ہوتا ہے؟؟ 
ہمیں بھی ایسا ہی رویہ رکھنا چاہیے ہے جب ہم گھر سے علم حاصل کرنے نکلتے ہیں تو۔ 
آپ اس رمضان میں اپنا گول سیٹ کریں کہ میں نے اتنا پڑھنا ہے (سمجھ کر) اور اللہ سے اپنے لیے دعا کریں۔ شروع کے دنوں میں ہم بہت اچھا محسوس کریں گے پر جیسے ہی دن گزرتے جائیں گے ہم میں سستی آنے لگ جائے گی تو تب خود کو یہ بات یاد کروائیے گا کہ کس طرح موسی علیہ اسلام خضر سے علم حاصل کرنے گئے تھے۔
موسی علیہ اسلام نے بھی صبر کیا تھا۔۔انہوں نے بھی ارادہ کیا تھا کہ ایک دفعہ میں بس وہاں پہنچ جاوں۔۔ ایک دفعہ میں اپنا مقصد حاصل کرلوں۔۔ چاہے وہاں پہنچنے میں مجھے صدیاں لگ جائیں، میں نہیں ٹھہروں گا۔ 
اُس کے بعد آرام کیا جا سکتا ہے نا؟؟
تو ایسا ہی رویہ ایک طالب علم کا ہونا چاہیے ہے۔
موسی علیہ السلام اللہ کے نبی تھے مگر پھر بھی ان کی چاہت دیکھیں علم کے حصول کے لیے۔ 
اسی کو کہتے ہیں علم کے لیے سفر کرنا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔ 

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جمعہ, جون 23, 2017

یہی ایک موقع ہے!!



صاحبو! یہی ایک موقع ہے!
از: حامد کمال الدین

ایک دانا نے کسی بھلےمانس کو غفلت اور زیاں میں دھنسا ہوا پایا... تو اس سے کہا: برخوردار! کیا تم اپنی اِس حالت کو موت کےلیے درست پاتے ہو؟


اس نے جواب دیا:


نہیں، اِس حالت میں تو میں یہ جہان نہیں چھوڑوں گا۔


فرمایا: یعنی اِس جہان سے توبہ تائب ہو کر ہی جانا چاہتے ہو؟


کہا: جی ہاں، اس کے بغیر تو معاملہ خراب ہے۔


پوچھا: تو کیا اپنے نفس کو ابھی اِسی لمحے توبہ کےلیے آمادہ پاتے ہو؟


وہ شخص بولا: ابھی تو نہیں، البتہ کسی نہ کسی وقت توبہ کا ارادہ ہے!


بزرگ نے پوچھا: تو کیا تمہارے علم میں کوئی اور جہان بھی ہے جہاں تم خدا کو خوش کرجاؤ؛ اور اس کے بعد اُس کے ابدی جہان میں جا پہنچو؟


وہ شخص بولا: نہیں ،جہان تو یہی ایک ہے۔


بزرگ نے پوچھا: تو کیا تمہارے دو نفس ہیں؛ کہ ایک نفس اگر مر کر یہاں سے چلا بھی گیا تو دوسرا نفس نیک عمل کرتا رہے گا؟


وہ شخص بولا: نہیں، نفس تو یہی ایک ہے۔


بزرگ نے پوچھا: تو کیا موت سے کوئی یقین دہانی حاصل کر رکھی ہے کہ وہ اچانک تمہارے ہاں پھیرا نہیں لگا لے گی؛ اور وہ ’’ابدی جہان‘‘ جس سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں، تمہارے سامنے یکلخت آکھڑا نہیں ہوگا؟


وہ شخص بولا: نہیں، یقین دہانی تو کوئی نہیں۔


تب وہ بزرگ بولے: برخوردار! پھر تو کوئی عقلمند تمہاری اِس حالت پر رہنے کا خطرہ مول نہ لےگا۔ (التبصرۃ لابن جوزی 2: 86)


تو بھائی! دنیا بس یہی ہے جو تم نے دیکھ لی! ایسے ہی دن، ایسی ہی راتیں، ایسی ہی گرمیاں، ایسی ہی سردیاں، ایسی ہی بہاریں، ایسی ہی خزائیں، ایسے ہی رمضان، اور ایسا ہی ایک کے بعد ایک نیا سال! اِس کے سوا یہاں کیا ہے جس کی آس میں رہا جائے؟ ایسے ہی دنوں، ایسی ہی سردیوں اور گرمیوں اور ایسے ہی رمضانوں میں ایک ابدی جہان کی طلب کرسکتے ہو تو کرلو؛ یہاں اور کچھ نیا نہیں۔ کچھ نیا رہ گیا ہے تو وہ صرف ایک چیز: کوئی ایسی گرمی، کوئی ایسی سردی، کوئی ایسا سال، کوئی ایسا رمضان، کوئی ایسا دن، جب تم اِس دنیا میں نہیں پائے جاؤ گے!!! خدا کے ساتھ معاملہ درست کرنے کے یہ ایام جو تمہیں حاصل ہیں، یہ تو اب نئے نہ ہوں گے؛ کوئی اور دن، کوئی اور سال، کوئی اور رمضان تمہیں ملے گا تو وہ بھی ایسا ہی ہوگا جیساکہ یہ! اب تو کوئی ایسا رمضان ہی باقی ہے جو تمہیں نہ ملے اور تم اُس کو نہ ملو! تو پھر وہ چیز تو بہت بھیانک ہے جس کا تمہیں ’’انتظار‘‘ ہے!


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-7

تدبرِ القرآن
 سورہ الکھف
 استاد نعمان علی خان
حصہ-7
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ۚ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۖ وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ فَلَن يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا - 18:57
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے وه پھر منھ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے، بےشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے (نہ) سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے کے

اور کون بڑا ظالم ہے اس شخص سے جسے یاد دلائی جائیں نشانیاں اس کے رب کی اور وہ منہ پھیر لے اُن سے۔۔اور بھول جاتا ہے اس کو جس کا اہتمام اس نے اپنے ہاتھوں کیا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے جب میری نشانیوں کی، میری آیات کی یاد دلائی جاتی ہے تو وہ منہ پھیر لیتا ہے۔ 
کیسے منہ پھیر لیتا ہے؟ 
وہ کہتا ہے "مجھے اس ہدایت کی ضرورت نہیں ہے، مجھے یہ نہیں سُننا، مجھے مت بتاؤ
ایسا ہی ہوتا ہے نا؟؟
جب ہم کوئی ایسا کام کر رہے ہوتے ہیں جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے اور تب کوئی آ کر ہمیں نصیحت کرے تو ہم اس نصیحت سے فائدہ لینے کے بجائے چڑنے لگ جاتے ہیں۔
اور وہ شخص ان تمام اعمال کو بھول جاتا ہے اس سزا کو بھول جاتا ہے جو وہ اپنے لیے تیار کر رہا ہے۔ 
اس کا سارا فوکس یہ دنیا ہے۔
اس لیے ہمیں آج سے ابھی سے خود کا جائزہ لینا چاہیے ہے کہ کہیں ہم ان لوگوں میں سے تو نہیں جنہیں جب نصیحت کی جائے تو وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں؟
کیا جب ہمیں ہماری غلطی دکھائی دیتی ہے تو ہم اسے مانتے ہیں یا پھر تکبر کرتے ہیں اور انکار کردیتے ہیں؟؟
اور کیا ہمیں اندازہ ہے ہم اپنے لیے کیا تیار کر رہے ہیں؟؟ 
ہمیں خود کا اور اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا ہے اب سے تاکہ ہم ظالم بننے سے بچ سکیں۔ 
اگے اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے ان لوگوں کے دلوں پہ اور کانوں پہ پردہ ڈال رکھا ہے، وہ نہیں سمجھتے، اور اگر تم ان لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ کبھی نہیں آئیں گے۔۔
ایسے لوگ جو غلطی کرنے پر نہیں مانتے، اور اللہ کی یاد دلانے پر منہ پھیر لیتے ہیں وہ ہدایت سے بہت دور چلے جاتے ہیں.
وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ ۖ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ۚ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْئِلًا - 18:58
تیرا پروردگار بہت ہی بخشش واﻻ اور مہربانی واﻻ ہے وه اگر ان کے اعمال کی سزا میں پکڑے تو بےشک انہیں جلد ہی عذاب کردے، بلکہ ان کے لئے ایک وعده کی گھڑی مقرر ہے جس سے وه سرکنے کی ہرگز جگہ نہیں پائیں گے۔

ہم نے پچھلی آیت میں پڑھا تھا ان لوگوں کے بارے میں جو نصیحت سے منہ پھیر لیتے ہیں۔
تو اگر ہم میں سے کوئی ایسا ہے وہ تو اُس آیت کو پڑھ کر غمگین ہوگیا ہوگا نا؟؟ 
غمگین اس لیے کہ کیا اللہ مجھے معاف کریں گے؟؟ 
تو اگلی ہی آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے "اور تمہارا رب بہت معاف کرنے والا ہے" ❤️
اللہ تعالی نے ہماری امید واپس بندھائی ہے کہ اگر تم غلطی کر بیٹھے ہو تو مایوس مت ہو میں بار بار معاف فرمانے والا ہوں۔
اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اگر میرا بندہ اتنے گناہ کرے کہ زمین آسمان اُس کے گناہوں سے بھرجائیں اور پھر وہ توبہ کرلے تو میں تب بھی اُسے معاف کردوں گا۔۔
آیت میں آگے بڑھیں تو اللہ نے فرمایا کہ وہ "ذُو الرَّحْمَةِ" ہے، یعنی "رحمت کا حامل/مالک۔"
اُس کے رحمت کے حامل ہونے کا ثبوت کیا ہے؟؟
آگے آیت میں ہی اس کا جواب ہے 
" کہ وہ ان لوگوں کے اعمال کے باعث فوراً ہی ان کو نہیں پکڑتا
سبحان اللہ۔۔
اللہ ہمیں توبہ کا وقت دیتا ہے وہ فوراً سے نہیں پکڑ لیتا اور اگر غور کیا جائے تو یہ ایک بہت بڑی رحمت ہے ہم انسانوں پر۔ اگر وہ جلد پکر لیتا تو ہم پر عذاب نازل ہوجاتا۔
اس کے برعکس اللہ نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس دن اُس سے کوئی نہیں بچ پائے گا۔ 
اس لیے اُس بڑے دن کے آنے سے قبل ہی ہمیں خود کو سنوار لینا چاہیے ہے، توبہ کر کے اس کی طرف بڑھ جانا چاہئیے ہے۔
ابھی ہمارے پاس وقت ہے اس لیے اس سے فائدہ اُٹھائیں۔

جاری ہے۔۔۔۔


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

ہفتہ, جون 17, 2017

اعمال کا دارومدار ۔۔۔ اقتباس خطبہ جمعہ مسجد نبوی


 ہم پر اللہ تعالی کی رحمتیں اور نعمتیں تسلسل کے ساتھ سایہ فگن ہیں وہ دن رات ہمیں نوازتا ہے پھر بھی اس کے خزانوں میں ذرہ کمی نہیں آتی، لہذا صرف اسی کی بندگی اور حمد و ذکر اللہ تعالی کا ہم پر حق ہے۔ نیز گناہوں سے معافی بھی اللہ کی بیش قیمت عنایت ہے، بلکہ تھوڑے عمل پر زیادہ اجر اس سے بھی بڑی نعمت ہے، مثلاً: رمضان میں قیام اللیل، صدقہ خیرات اور عمرے کا ثواب بہت زیادہ ہے، اس ماہ میں دعا، قرآن کریم کی تلاوت، فہمِ قرآن کی کوشش اور صلہ رحمی سمیت دیگر تمام نیکیوں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ 
 یہ مہینہ ختم ہونے جا رہا ہے اور آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے نبی ﷺ آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی جستجو میں دیگر ایام سے بڑھ کر محنت فرماتے اور اس کے لیے اعتکاف بیٹھتے۔ اعتکاف کرنے والوں کو مخلوق سے کٹ کا خالق سے رابطہ استوار اور مضبوط کرنے کیلیے پوری کوشش کرنی چاہیے حقیقت میں یہی اعتکاف کی روح ہے،  لیلۃ القدر کی برکت کی وجہ سے اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور اس رات میں آئندہ پورے سال کے فیصلے کئے جاتے ہیں، 

دنیا لمحوں اور دنوں کا نام ہے، یہی لمحے اور دن کتاب زندگی کے صفحات ہیں، اور انسانی کارکردگی ہی اصل انسانی زندگی ہے، لہذا سعادت مند وہی ہے جو اپنی زندگی کو حسن کارکردگی سے بھر پور رکھے، کامیاب وہی ہے جو اپنے لمحات کو بھلائی کیلیے غنیمت جانے اور ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے۔ اور وہ شخص خسارے میں ہے جو اپنے معاملات میں سستی کا مظاہرہ کرے ، جس کا دل غافل ہو اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلے۔

اعمال کا دارو مدار ان کے انجام پر ہوتا ہے، لہذا کسی بھی کام میں ابتدائی کمی کوتاہی معتبر نہیں ہوتی بلکہ کامل اختتام معتبر ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی گزشتہ دنوں میں کوتاہی کا شکار رہا ہے تو بقیہ دنوں میں کوتاہی سے توبہ کر لے ؛ کیونکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے نوازشیں جاری و ساری ہیں:
 {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا}
 اور تقوی الہی اپنانے والے کیلیے اللہ راستہ بنا دیتا ہے۔[الطلاق: 2]

یا اللہ! ہمارے روزے اور قیام قبول فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو جہنم سے آزاد فرمائے گا، یا ارحم الراحمین!

تم عظیم و جلیل اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جمعہ, جون 16, 2017

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-6

تدبرِ القرآن
سورہ الکھف
استاد نعمان علی خان
 حصہ-6
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا - 18:49

اور نامہٴ اعمال سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا کہ گنہگار اس کی تحریر سے خوفزده ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ﻇلم وستم نہ کرے گا۔

آیت نمبر 49 میں آتا ہے کہ جب اعمال نامہ لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا تو مجرم اُس سے ڈریں گے جو اس (کتاب) میں موجود ہوگا۔۔ اور وہ کہیں گے کہ "یہ کیسی کتاب ہے اس نے کچھ بھی نہیں چھوڑا، ہر چھوٹی اور بڑی بات محفوظ کرلی ہے"

یعنی، ہمارے اعمال، ہمارے لفظ چاہے وہ جتنے بھی چھوٹے کیوں نہ ہوں، اس کتاب میں سب کچھ محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ اور مجرم اس روز یہی کہہ رہے ہونگے۔۔وہ اس کتاب پر تعجب کر رہے ہونگے کہ اس نے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔۔ وہ ہر کام جو ہم نے چھپ کر، یا کھلے عام کیا ہوگا، وہ سب اس کتاب میں موجود ہوگا۔۔
اس لیے رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ " عائشہ! خبردار رہو ان گناہوں سے جنہیں نا اہم (چھوٹا) سمجھا جاتا ہے"
چھوٹے گناہوں سے بچ کر رہو۔ کیوں؟؟ 
کیونکہ وہ سب لکھ لیے جاتے ہیں۔ اور ایسے ہی ہم کسی گناہ کو چھوٹا سا سمجھ کر کرتے جاتے ہیں اور جب انہیں مِلا کر پیش کیا جاتا ہے تو وہ بہت زیادہ بن جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ جمع ہو کر بڑھ جاتے ہیں۔
مثال کی طور پر، بہت دفعہ ایسا ہوا ہوگا ہمارے ساتھ کہ اسکول یا کالج میں ہمیں ہمارا ایگزام پیپر ملتا ہے۔ ہم اس میں دیکھتے ہیں کہ چار پانچ سوال میں ہمارے 5. مارکس کم ہوتے ہیں۔ اب وہ 5. دیکھنے میں تو بہت کم لگتے ہیں۔ مگر جب چار پانچ سوالوں میں سے اتنے مارکس کٹ جائیں تو کُل ملا کر ۵ مارکس کم ہوجاتے ہیں۔ 
ہیں نا؟ 
ان چھوٹی سی غلطیوں، چھوٹے سے نمبرز کو جب جمع کرلیا جائے تو ایک بڑا نمبر بن جاتا ہے۔ 
ایسے ہی ہمارے چھوٹے چھوٹے گناہ جب جمع کر کے ہمارے سامنے پیش کیے جائیں گے تو وہ بہت زیادہ معلوم ہونگے، وہ بڑھ گئے ہونگے۔ 
اور پھر انسان سوچے گا کہ یہ تو اتنی چھوٹی سی غلطی تھی کاش میں نے نہ کی ہوتی۔۔ 
ہم انسان چھوٹی نیکیوں کو بھی کم تر سمجھتے ہیں اور گناہوں کو بھی۔ جب کہ یہ غلط ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔
دیکھیں یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ روزانہ کسی خالی کمرے میں ایک پتھر پھینکنے لگ جاتے ہیں۔ روزانہ کا صرف ایک پتھر۔۔
آپ سال بعد جا کر وہ کمرہ دیکھیں گے تو وہاں کیا ایک پتھر ہوگا؟؟ 
نہیں۔۔ وہ کمرہ پتھروں سے بھرا ہوگا۔۔
تو روز قیامت انسان کے سامنے وہ سب پیش کردیا جائے گا۔

جاری ہے ---- 

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

منگل, جون 13, 2017

یہ ہے اسلام


مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ،" آج کچھ ہونے والا ھے " (وہ بڑبڑایا) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رہی تھی ۔اسکی بیوی " ہندہ " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئی تھی" کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہو؟ " "ہُوں؟" ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رہی ہے میں ذرا گھوُم کر آتا ہوں" وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باہر نکل گیا.
 مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھااچانک اسکی نظر شہر سے باہر ایک وسیع میدان پر پڑی ،ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرہی تھی اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رہے ھوں اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں اتنا تو وہ سمجھ ہی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رہے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائی کےلیے ہی آیا ہے وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ کون ہیں ؟وہ آہستہ آہستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھا کچھ لوگوں کو اس نے پہچان لیا تھا یہ اسکے اپنے ہی لوگ تھے جو مسلمان ہوچکے تھے اور مدینہ ہجرت کرچکے تھےاس کا دل ڈوب رہا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ھےاور یقیناً " مُحمّد ﷺ اپنے جانثاروں کے ساتھ مکہّ آپہنچے تھے "وہ چھپ کر حالات کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ عقب سے کسی نے اسکی گردن پر تلوار رکھ دی اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا لشکر کے پہرے داروں نے اسے پکڑ لیا تھا اور اب اسے " بارگاہ محمّد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم میں لےجا رہے تھے "
 اسکا ایک ایک قدم کئی کئی من کا ہو چکا تھا ہر قدم پر اسے اپنے کرتوت یاد آرہے تھے جنگ بدّر ، احد ، خندق ، خیبر سب اسکی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھیں. اسے یاد آرہا تھا کہ اس کیسے سرداران مکہّ کو اکٹھا کیا تھا "محمّد کو قتل کرنے کے لئے" کیسے نجاشی کے دربار میں جاکر تقریر کی تھی کہ ۔۔۔۔" یہ مسلمان ہمارے غلام اور باغی ہیں انکو ہمیں واپس دو " کیسے اسکی بیوی ھندہ نے امیر حمزہ کو اپنے غلام حبشی کے ذریعے شہید کروا کر انکا سینہ چاک کرکے ان کا کلیجہ نکال کر چبایا اور ناک اور کان کاٹ کر گلے میں ہار بنا کر ڈالے تھے
اور اب اسے اسی محمّد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا جارہا تھا اسے یقین تھا کہ ۔۔۔اسکی روایات کے مطابق اُس جیسے "دھشت گرد" کو فوراً تہہ تیغ کردیا جائے گا ۔اُدھر ۔۔۔۔" بارگاہ رحمت للعالمین ﷺ میں اصحاب رضی اللہ تٓعالیٰ عنہما جمع تھے اور صبح کے اقدامات کےبارے میں مشاورت چل رہی تھی کہ کسی نے آکر ابوسفیان کی گرفتاری کی خبر دے دی" اللہ اکبر " خیمہ میں نعرہ تکبیر بلند ھوا ابوسفیان کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی خیمہ میں موجود عمر ابن الخطاب اٹھ کر کھڑے ہوئے اور تلوار کو میان سے نکال کر انتہائی جوش کے عالم میں بولے ۔۔" اس بدبخت کو قتل کردینا چاہئیے شروع سے سارے فساد کی جڑ یہی رہا ہے "چہرہ مبارک رحمت للعالمین صل اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تبسّم نمودار ہوا اور انکی دلوں میں اترتی ہوئی آواز گونجی" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔ اسے آنے دو" عمر ابن خطاب آنکھوں میں غیض لیئے حکم رسول ﷺ کی اطاعت میں بیٹھ تو گۓ لیکن ان کے چہرے کی سرخی بتا رہی تھی کہ ان کا بس چلتا تو ابوسفیان کے ٹکڑے کر ڈالتے.
 اتنے میں پہرے داروں نے بارگاہ رسالت صل اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی. اجازت ملنے پر ابوسفیان کو رحمت للعالمین کے سامنے اس حال میں پیش کیا گیا کہ اسکے ہاتھ اسی کے عمامے سے اسکی پشت پر بندھے ہوئے تھے. چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی اور اسکی آنکھوں میں موت کے سائے لہرا رھے تھے لب ہائے رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم وا ہوئے ۔۔۔اور اصحاب رض نے ایک عجیب جملہ سنا "اسکے ہاتھ کھول دو اور اس کو پانی پلاؤ ، بیٹھ جاؤ ابوسفیان ۔۔ !! "ابوسفیان ہارے ہوئے جواری کی طرح گرنے کے انداز میں خیمہ کے فرش پر بچھے قالین پر بیٹھ گیا ۔پانی پی کر اسکو کچھ حوصلہ ہوا تو نظر اٹھا کر خیمہ میں موجود لوگوں کی طرف دیکھاعمر ابن خطاب کی آنکھیں غصّہ سے سرخ تھی ابوبکر ابن قحافہ کی آنکھوں میں اسکے لیے افسوس کا تاثر تھا عثمان بن عفان کے چہرے پر عزیزداری کی ہمدردی اور افسوس کا ملا جلا تاثر تھاعلی ابن ابوطالب کا چہرہ سپاٹ تھااسی طرح باقی تمام اصحاب کے چہروں کو دیکھتا دیکھتا آخر اسکی نظر محمّد ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر ٹھہر گئی جہاں جلالت و رحمت کے خوبصورت امتزاج کے ساتھ کائنات کی خوبصورت ترین مسکراہٹ تھی"کہو ابوسفیان؟ کیسے آنا ہوا؟؟ "ابوسفیان کے گلے میں جیسے آواز ہی نہیں رھی تھی بہت ہمت کرکے بولا ۔۔ " مم ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ہوں ؟؟ "عمر ابن خطاب ایک بار پھر اٹھ کھڑے ھوئے" یارسول اللہ ﷺ یہ شخص مکّاری کررہا ھے ، جان بچانے کےلیے اسلام قبول کرنا چاہتا ہے ، مجھے اجازت دیجئیے ، میں آج اس دشمن ازلی کا خاتمہ کر ہی دوں" انکے منہ سے کف جاری تھا ۔۔۔" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔۔ " رسالت مآب ﷺ نے نرمی سے پھر فرمایا "بولو ابوسفیان ۔۔ کیا تم واقعی اسلام قبول کرنا چاہتے ہو؟". "جج ۔۔ جی یا رسول اللہ ﷺ ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں، میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ اور آپکا دین بھی سچا ہے اور آپ کا خدا بھی سچا ہے ، اسکا وعدہ پورا ہوا ۔ میں جان گیاہوں کہ صبح مکہ کو فتح ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا "چہرہؑ رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مسکراہٹ پھیلی ۔۔" ٹھیک ہے ابوسفیان ۔۔تو میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور تمہاری درخواست قبول کرتا ہوں جاؤ تم آزاد ہو ، صبح ہم مکہّ میں داخل ہوں گے ان شاء اللہ میں تمہارے گھر کو جہاں آج تک اسلام اور ہمارے خلاف سازشیں ہوتی رہیں ، جائے امن قرار دیتا ہوں، جو تمہارے گھر میں پناہ لے لے گا وہ محفوظ ہے" ۔ابوسفیان کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی جا رہی تھیں۔ "اور مکہّ والوں سے کہنا ۔۔ جو بیت اللہ میں داخل ہو گیا اسکو امان ہے ، جو اپنی کسی عبادت گاہ میں چلا گیا ، اسکو امان ہے ، یہاں تک کہ جو اپنے گھروں میں بیٹھ رہا اسکو امان ہے ،جاؤ ابوسفیان ۔۔۔ جاؤ اور جاکر صبح ہماری آمد کا انتظار کرواور کہنا مکہّ والوں سے کہ ہماری کوئی تلوار میان سے باہر نہیں ہوگی ، ہمارا کوئی تیر ترکش سے باہر نہیں ہوگا. ہمارا کوئی نیزہ کسی کی طرف سیدھا نہیں ہوگا جب تک کہ کوئی ہمارے ساتھ لڑنا نہ چاہے" ابوسفیان نے حیرت سے محمّد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دیکھا اور کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بولنا شروع کیا ۔۔" اشھد ان لاالہٰ الا اللہ و اشھد ان محمّد عبدہ و رسولہ" ۔سب سے پہلے عمر ابن خطاب آگے بڑھے ۔۔ اور ابوسفیان کو گلے سے لگایا "مرحبا اے ابوسفیان ، اب سے تم ہمارے دینی بھائی ہو گئے ، تمہاری جان ، مال ہمارے اوپر ویسے ہی حرام ہوگیا جیسا کہ ہر مسلمان کا دوسرے پر حرام ھے ، تم کو مبارک ہو کہ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہ معاف فرماۓ" ابوسفیان حیرت سے خطاب کے بیٹے کو دیکھ رہا تھا یہ وہی تھا کہ چند لمحے پہلے جسکی آنکھوں میں اس کیلئے شدید نفرت اور غصّہ تھا اور جو اسکی جان لینا چاہتا تھااب وہی اس کو گلے سے لگا کر بھائی بول رہا تھا یہ کیسا دین ہے؟ یہ کیسے لوگ ہیں؟ سب سے گلے مل کر اور رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھوں پر بوسہ دے کر ابوسفیان خیمہ سے باہر نکل گیا " وہ دہشت گرد ابوسفیان کہ جس کے شر سے مسلمان آج تک تنگ تھے انہی کے درمیان سے سلامتی سے گزرتا ہوا جارہا تھا ، جہاں سے گزرتا ، اس اسلامی لشکر کا ہر فرد ، ہر جنگجو ، ہر سپاہی جو تھوڑی دیر پہلے اسکی جان کےدشمن تھے اب آگے بڑھ بڑھ کر اس سے مصافحہ کر رہے تھے ، اسے مبارکباد دے رہے تھے ، خوش آمدید کہہ رہے تھے ۔۔ " اگلے دن مکہّ شہر کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابوسفیان تھا. مسلمانوں کا لشکر مکہّ میں داخل ہوچکا تھا کسی ایک تلوار ، کسی ایک نیزے کی انی ، کسی ایک تیر کی نوک پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا لشکر اسلام کو ہدایات مل چکی تھیں کسی کے گھر میں داخل مت ہونا کسی کی عبادت گاہ کو نقصان مت پہنچانا. کسی کا پیچھا مت کرنا. عورتوں اور بچوں پر ھاتھ نہ اٹھانا کسی کا مال نہ لوٹنا. بلال حبشی آگے آگے اعلان کرتا جارہے تھے "مکہّ والو ۔۔۔ رسول خدا ﷺ کی طرف سے ۔۔۔آج تم سب کیلئے عام معافی کا اعلان ہے ۔۔کسی سے اسکے سابقہ اعمال کی بازپرس نہیں کی جائے گی، جو اسلام قبول کرنا چاہے وہ کرسکتا ہے جو نہ کرنا چاہے وہ اپنے سابقہ دین پر رہ سکتا ھے سب کو انکے مذہب کے مطابق عبادت کی کھلی اجازت ہوگی صرف مسجد الحرام اور اسکی حدود کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ہوگی کسی کا ذریعہ معاش چھینا نہیں جائے گا کسی کو اسکی اراضی و جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا غیر مسلموں کے جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گےاے مکہّ کے لوگو ۔۔۔۔ !! " ۔ھندہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی لشکر اسلام کو گزرتے دیکھ رہی تھی اسکا دل گواہی نہیں دے رہا تھا کہ حضرت حمزہ کا قتل اسکو معاف کردیا جائے گا لیکن ابوسفیان نے تو رات یہی کہا تھا کہ ۔۔۔" اسلام قبول کرلو ۔۔ سب غلطیاں معاف ہوجائیں گی" مکہّ فتح ہوچکا تھا. بنا ظلم و تشدد ، بنا خون بہائے ، بنا تیر و تلوار چلائے ،لوگ جوق در جوق اس آفاقی مذہب کو اختیار کرنے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے مسجد حرام کے صحن میں جمع ہورہے تھےاور تبھی مکہّ والوں نے دیکھا ۔۔۔ "اس ہجوم میں ہندہ بھی شامل تھی"

 ۔یہ ہوا کرتا تھا اسلام ۔۔ یہ تھی اسکی تعلیمات ۔۔ یہ سکھایا تھا میرے رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے..

منقول
تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

ہفتہ, جون 10, 2017

صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز –  

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 14-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ ” صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز” کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ بندگی سے خالی نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اللہ کی عبادت زمان و مکان کی قیود سے بالا تر ہے۔ چنانچہ جو شخص آخری سانس تک بھی اللہ کی بندگی کے ذریعے اس کے بندوں میں شامل ہو گیا تو وہی کامیاب ہے، اور ماہ رمضان میں تو عبادات کے حسین مناظر مزید دیکھنے کو ملتے ہیں۔
خطبے سے منتخب اقتباس درج ذیل ہے: 

مسلمان کبھی بھی اللہ کی بندگی کا دامن چھوڑنے کیلیے تیار نہیں ہوتا کیونکہ بندگی زمان و مکان کی قید سے بالا تر ہے ، لہذا مسلمان زندگی کے ہر گوشے میں آخری سانس تک اللہ کی بندگی کرتا ہے ، پھر اسے موت بھی بہترین حالت میں آتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ}
 اور اپنے پروردگار کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے موت آ جائے۔[الحجر: 99]

جس وقت اللہ تعالی اپنے بندوں کو “یَا عِبَادِیْ” [میرے بندو!]کہتا ہے تو اسے سن کر انسانی دل جھوم اٹھتا ہے، زندگی میں ایک نئی تازگی آ جاتی ہے ؛ کیونکہ جو شخص بھی اس صدائے الہی میں شامل ہو گیا اور “یَا عِبَادِیْ” کا رتبہ پا لیا تو وہ یقینی طور پر بہت بڑی کامیابی پا گیا۔

یَا عِبَادِیْ” کی ندا دل میں سکون کوٹ کوٹ کر بھر دیتی ہے، دل سے خوف نکال باہر پھینکتی ہے، یہ اللہ تعالی کے فضل، انعام اور رضائے الہی کی علامت بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {يَاعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ (68) الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ (69) ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ}
 میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے [69] [میرے بندے وہ ہیں ] جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور [ہمارے] فرماں بردار رہے [70] (اب)تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ ، تمہیں خوش کر دیا جائے گا۔[الزخرف: 68 – 70]

اطمینان نفس جس کے وجدان میں ایمان جا گزین ہو چکا ہو، جسے اپنے خلوص پر اطمینان ہو، وہ اپنے خالق پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالی اپنے اس فرمان کے ذریعے عظیم خوش خبری سناتا ہے:
 {يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي}
اے مطمئن روح [27] اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی [28] پس تو میرے [خاص] بندوں میں شامل ہو جا [29] اور میری جنت میں داخل ہو جا۔[الفجر: 27 – 30]

اللہ تعالی اپنے بندوں کو “عِبَادِیْ” سے موصوف کر کے ان کی تنہائی ختم فرماتا ہے، انہیں بشارت دیتا ہے کہ وہ قریب ہے، تو اب بندے کو چاہیے کہ اپنے مسائل اللہ کے سامنے رکھ دے، اپنی پریشانیاں اور دکھڑے سنا دے، اپنے پروردگار اور مولا سے مشکل کشائی کا مطالبہ کر دے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ}
 اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب بھی پکارتا ہے میں اس کا جواب دیتا ہوں، انہیں چاہیے کہ میری بات مانیں، مجھ پر اعتماد رکھیں تاکہ رہنمائی پائیں۔[البقرة: 186]

اللہ تعالی کا بول: “يَا عِبَادِیْ” سینے میں ٹھنڈ پیدا کرتا ہے، اس بول سے اللہ کے غضب پر غالب آ جانے والی رحمتِ الہی کی جانب امنگوں سے بھر پور نظریں اٹھتی ہیں، اس بول سے بندوں پر ہونے والے اللہ تعالی کے فضل و کرم کی یاد تازہ ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (49) وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ
میرے بندوں کو بتلا دو: بیشک میں ہی بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہوں [49] اور یقیناً میرا عذاب درد ناک عذاب ہے۔[الحجر: 49، 50]
 ان آیات میں جب اللہ تعالی نے اپنی رحمت و مغفرت کو ذکر فرمایا تو بات کو مزید ٹھوس بنانے کیلیے تین تاکیدی کلمات شامل فرمائے: سب سے پہلے “أَنِّي” اس کے بعد ” أَنَا ” اور پھر آخر میں ” الف لام” اپنی صفات پر داخل فرمایا اور کہا: ” أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ” لیکن جب عذاب کی باری آئی تو اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ : “إني أنا المعذب” یعنی : اپنے آپ کو عذاب دینے والا قرار نہیں دیا، بلکہ یوں فرمایا کہ: ” وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ” یعنی میری ذات نہیں بلکہ میرا عذاب درد ناک ہے۔

اللہ تعالی مؤمنین کو “یَا عِبَادِیْ” کی صدا لگا کر پکارتا ہے؛ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ بندے زمین پر یا آسمان کے نیچے کہیں بھی ہوں اسی کی بندگی کے سائے میں رہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ}
میرے ایمان لانے والے بندو ! بیشک میری زمین وسیع ہے اس لیے صرف میری ہی عبادت کرو۔[العنكبوت: 56]
یَا عِبَادِیْ” ایک ایسا درخشندہ جملہ ہے جو کہ انسان کو مزید بندگی پر آمادہ کرتا ہے
اللہ تعالی نے مومنوں کو “یَا عِبَادِیْ” سے مخاطب فرما کر ان کے لیے تقوی کا راستہ واضح فرمایا اور مومنوں کو تقوی اپنانے کی ترغیب بھی دی چنانچہ فرمایا:
 {يَاعِبَادِ فَاتَّقُونِ}
 میرے بندو! مجھ ہی سے ڈرو[الزمر: 16]
اور تقوی کو کردار میں شامل کرنا ماہِ رمضان کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت ہے،جس وقت مومن اللہ تعالی کی جانب سے “یَا عِبَادِیْ” کی ندا سنتا ہے تو مومن کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی پشت پناہی اور ڈھارس باندھنے کی ذمہ داری انتہائی طاقتور ذات کے ہاتھ میں ہے ، وہ ذات اسے کسی بھی سرکش شیطان سے تحفظ دے سکتی ہے، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: 
{إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا}
 بیشک میرے بندوں پر تیرے لیے کوئی تسلط نہیں ہے، اور تیرا پروردگار کارسازی کیلیے کافی ہے۔[الإسراء: 65]
یہی وجہ ہے کہ جس دل کا لگاؤ اللہ تعالی کے ساتھ ہو ، جس کی کل زندگی عبادت اور محبت میں گزرے تو ایسے دل تک شیطان کو رسائی کا کوئی موقع نہیں ملتا، مکمل تحفظ ایسے دل کا حق ہے، اس کی دہلیز پر پہنچنے سے پہلے ہی تمام شیطانی وار وا ہو جاتے ہیں۔
یَا عِبَادِیْ” بہت ہی خوبصورت جملہ ہے ، اس کا اسلوب پیار سے لبریز ہے، اس میں انتہا کی شفقت ہے، اس جملے میں تمام کے تمام گناہ گار اور خطا کار بھی توبہ کر کے شامل ہو سکتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
آپ کہہ دیں: میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے گناہ معاف کرنے پر قادر ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [الزمر: 53]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جمعہ, جون 09, 2017

جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا

جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا

کہتے ہیں کہ یہ نظم سن کر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس قدر روئے کہ انکے شاگرد کو خدشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں جان ہی نہ دے دیں۔۔۔!!!
اور واقعی پڑھنے والے نے جس دردناک انداز میں پڑھی ہے، کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔
خاموشی اور تنہائی میں سنیں اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔

إذا ما قال لي ربي .. أما استحييت تعصيني
وتخفي الذنب عن خلقي .. وبالعصيان تأتيني

جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا: "کیا میری نافرمانی کرتے ہوئے تمہیں حیا نہ آئی؟"
کیا تم میری مخلوق سے اپنے گناہ چھپاتے اور اب نافرمانی کر کے مہرے پاس آتے ہو؟

فكيف أجيب يا ويحي .. ومن ذا سوف يحميني
أسلي النفس بالآمال .. من حين إلى حين

پھر کیسے جواب دوں گا؟ ہائے افسوس مجھ پر!!! اور کون مجھے بچائے گا؟
میں وقتاً فوقتاً اپنے دل کو آرزوؤں کے ساتھ تسلی دیتا ہوں

وأنسى ما وراء الموت .. ماذا بعد تكفيني
كاني قد ضمنت العيش .. ليس الموت يأتيني

اور میں بھول جاتا ہوں کہ موت کے بعد کیا پیش آنے والا ہے؟۔۔۔ میرے دفنانے کے بعد کیا ہونے والا ہے؟
گویا کہ مجھے زندگی کی ضمانت دی گئی ہے اور موت مجھے آنی ہی نہیں

وجاءت سكرة الموت الشديدة من سيحميني
نظرت إلى الوجوه أليس منهم من سيفديني

اور جب موت کی شدید ترین بےہوشی آن پہنچی تو کون مجھے بچائے گا؟
میں نے لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا۔ کیا ان میں کوئے بھی ایسا نہیں ہے جو مجھے چھڑا لے؟

سأسأل ما الذي قدمت في دنياي ينجيني
فكيف إجابتي من بعد ما فرطت في ديني

عنقریب مجھ سے سوال کیا جائے گا کہ میں نے اپنی دنیا میں کیا آگے بھیجا جو مجھے نجات دلوائے
اس سوال کا میں کیسے جواب دونگا جبکہ میں اپنے دین میں کوتاہی کرتا رہا

ويا ويحي ألم أسمع كلام الله يدعوني 
ألم أسمع لما قد جاء في ق و يس

اور افسوس مجھ پر!! کیا میں نے اللہ کا کلام نہ سنا جو مجھے اپنی طرف بلاتا تھا
کیا میں نے نہیں سنا جو (سورۃ) ق اور یٰس میں کہا گیا؟

ألم أسمع بيوم الحشر يوم الجمع والدين
ألم أسمع منادي الموت يدعوني يناديني

کیا میں نے یوم حشر، جمع کیے جانے والے دن، روز جزاء کے بارے میں نہیں سنا؟
کیا میں نے موت کے منادی کی آواز نہیں سنی جو مجھے پکارتا اور آواز دیتا تھا؟

فيا رباه عبد تائب من ذا سيؤويه 
سوى رب غفور واسع للحق يهديني

اے میرے رب یہ تیری بارگاہ میں ایک توبہ کرنے والا بندہ ہے۔ کون ہے جو مجھے پناہ دے؟
سوائے اس رب کے جسکی مغفرت بہت وسیع ہے، جو مجھے حق کی طرف ہدایت دیتا ہے

أتيت إليك فارحمني وثقل في موازيني
وخفف في جزائي أنت أرجى من يجازيني

میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں۔ تو مجھ پر رحم فرما اور میرے میزان کو بھاری کر دے
اور میرا حساب ہلکا کر دے۔ تو ہی وہ بڑی ذات ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے، جو مجھے جزا دے گا۔


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-5

تدبرِ القرآن
سورہ الکھف
استاد نعمان علی خان
حصہ-5

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا - 18:45
ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کا سبزه ملا جلا (نکلا) ہے، پھر آخر کار وه چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے


آیت نمبر 45 میں اللہ تعالی نے اس دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان کی ہے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دنیا کی زندگی کی مثال ایک باغ کی طرح ہیں۔
جب اللہ بارش برساتا ہے تو وہ باغ کِھل اُٹھتا ہے، ہریالی ہر سو چھا جاتی ہے، ہر طرف سبزہ ہوتا ہے، رنگ برنگے پھول اُگتے ہیں۔
پھر جب کچھ عرصہ بارش نہیں ہوتی تو وہی باغ گرمی کی شدت کے باعث مرجھا جاتا ہے۔ وہاں موجود گھاس، درخت، پتے مرجھانے لگتے ہیں۔ آخرکار ایسا ہوتا ہے کہ اُس باغ کی گھاس بالکل سوکھ جاتی ہے اور صرف اس کے ذرات باقی رہ جاتے ہیں۔ اور اُن ذرات کو بھی ہوا اُڑا کر لے جاتی ہے۔

آپ نے بہار میں خوبصورت باغات دیکھیں ہونگے نا؟ کیا انہیں دیکھ کہ لگتا ہے کہ یہ کبھی مرجھائیں گے؟؟
نہیں!!
وہ اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ ان کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔۔
پھر ہماری آنکھوں کے سامنے ہی خزاں کا موسم آتا ہے اور وہ پھول، درخت، پودے، سب ہمارے سامنے جھڑ جاتے ہیں۔۔ ختم ہوجاتے ہیں۔۔
یہ زندگی بھی ایسی ہی ہے۔۔ اللہ کی رحمت سے، اس کی بارش سے کِھل اُٹھتی ہے، ہر طرف بہار چھا جاتی ہے۔۔اور ہم انسان اس بہار کے دھوکے میں یہ بھول جاتے ہیں کہ خزاں کا موسم بھی آئے گا۔۔
ہم اُسی بہار میں گُم ہوتے ہیں کہ ہمارا وقت ختم ہوجاتا ہے۔اور ہمیں پتا بھی نہیں لگتا۔۔
یہ ہے اس دنیا کی حقیقت۔۔
یہ ہے ان چیزوں کی حقیقت جو ہمیں دنیا میں عطا کی گئی ہیں۔
جن لوگوں سے ہم محبت کرتے ہیں، ہماری جوانی، وہ اشیاء جو ہم جمع کر رہے ہیں، وہ شروعات میں تو بہت خوبصورت لگتی ہیں، مگر وقت بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی پرانی ہونے لگ جاتی ہیں، وہ ٹوٹ جاتی ہیں، وہ مرجاتی ہیں، ہمیں چھوڑجاتی ہیں۔۔
اللہ تعالی ہمیں یہاں یہی سبق سکھارہے ہیں کہ بےشک یہ دنیا جتنی بھی خوبصورت ہو، ہمارے پاس کتنی ہی قیمتی اشیاء کیوں نہ ہوں، یہ سب عارضی ہیں۔ یہ سب ختم ہوجائیں گی۔

جاری ہے۔...

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جمعرات, جون 08, 2017

دنیا کا سب سے مشکل کام

دنیا کا سب سے مشکل کام

بسم  اللہ الرحمٰن الرحیم

دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟

" تم لوگوں کو پتا ہے دنیا کا سب مشکل کام کیا ہے؟" ابلیس نے سوال کیا 

" ابلیس اعظم ہی بہتر جانتے ہیں ۔" چوبدار کی آواز سناٹے میں گونجی۔

" غور سے سنو، کیا ایک ما ں کو اس کے  بچے  سے  دور کرنا، اسے ناراض کرنا  اور بچے پر غضب ڈھانے پر مجبور  کرنا کوئی آسان کام ہے؟   بچے کی برسوں  کی بدبختی  اور نافرمانی بھی ماں ماں کو بچے سے دور نہیں کرپاتی اور ماں اس کی کوتاہوں سے درگذر کرتی رہتی ہے اور اپنی شفقت و محبت نچھاور کرتی رہتی ہے۔ "

مجلس شوری میں سناٹا تھا  اور ابلیس بے تابی سے ادھر ادھر ٹہل کر اپنا مضطرب بیان دے رہا تھا۔ 

" تو بتاؤ ، اگر ایک معمولی سی  ماں کو اپنے بچے سے جدا کرنا اتنا مشکل کام ہے تو خدا ئے رب ذوالجلال کی شفقت کو بندوں سے دور کرنا کتنا مشکل کام ہے۔میری لاکھوں سال کی محنت، ریاضت اور کوششوں کے باوجود آج بھی خدا کی عنایتیں اپنے بندوں پر ہیں، وہ آج بھی ان کو پکار کر اپنی جانب بلارہا ہے، وہ آج بھی انہیں  نت نئے رزق سے نواز رہا ہے، وہ آج بھی ان کی ضروریات کو پورا کررہا ہے، وہ آج بھی ان کواپنے بندوں کے ذریعے سیدھا راستہ دکھانا چاہتا ہے، وہ آج بھی ان    کے باغیانہ رویہ کے باوجود اپنا حتمی عذاب  نہیں بھیج رہا، وہ آج بھی  آسمانی فرشتوں کو سکینت نازل کرنے کے لیے اتار رہا ہے۔"ابلیس غصے سے چیختا رہا۔ 

"میرا اصل مشن تم لوگوں کے بلندو بانگ دعوے سننا نہیں تھا، میں تو خدا کو انسانیت سے ناراض کرنا چاہتا تھا تاکہ انسان سے میرا انتقام پورا ہوجائے اور میں یہ ثابت کردوں کہ انسان واقعی اس قابل نہ تھا کہ  میں اس کے آگے جھک جاتا۔ لیکن آج   میں جیت کر بھی ہاررہا ہوں۔ خدا آج بھی انسانوں کی پشت پر کھڑا ہے اس کے باوجود کہ  کہ ان ناعاقبت اندیشوں نے  اسے ناراض کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ وہ کونسی حرکت ہوگی جو ان انسانوں نے نہیں کی لیکن خدا کا  کامل غضب آج  بھی نہیں بھڑکا ، آج بھی سورج مشرق سے نکلتا، سمندر کی لہریں اٹھکلیاں کرتی، بادنسیم کے جھونکے فرحت پہنچاتے، راتیں  سکون آور بنتیں،   آسمان سے پانی برستا اورزمین کے سینے سے سبزہ نکلتا ہے۔ "

ابلیس کا بیان جاری تھا کہ ایک منسٹر اٹھا اور بولا

" اے ابلیس عظم، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے ناراض نہیں ہوتا، جبکہ وہ تو کہتا ہے میں جہنم کو جن و انسانوں سے بھردوں گا۔"

" یہی تو تم نہیں سمجھ رہے نا بھولے منسٹر، خدا بندوں سے ناراض ہوتا ہے ، ضرور ہوتا ہے لیکن طویل عرصے کے بعد۔ سن لو، انسانوں پر جو مشکلات اس دنیا میں آتی ہیں وہ تین قوانین کے تحت آتی ہیں۔ پہلا قانون آزمائش کا قانون ہے ، دوسرا قانون جزا و سزا کا قانون ہے اور آخر میں قانون غضب کا اطلاق ہوتا ہے۔  

انسان پر جو مشکلات آتی ہیں ان  کا ایک سبب قانون ارتقا ہے یعنی Law of Evolution  ۔ یہ ڈارون کا قانون ارتقا نہیں بلکہ خدا کا قانو ن ارتقا ہے کے جس کے ذریعے وہ بندوں سے کھوٹ اور میل دور کرکے ان کا تزکیہ کرنا چاہتا اور ان کی شخصیت کو پروان چڑھانا چاہتا ہے ۔ جس طرح ایک بچے کو اگلی کلاس میں ڈالنے سے قبل پڑھایا جاتا اور پھر امتحان لیا جاتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اگلے درجے میں ڈالنے کے لیے آزمائش سے گذار اجاتا ہے۔ 

دوسرا قانون  جزا و سزا کا قانون  یعنی Law of Retribution  ہے۔ اللہ تعالی بہت سے اچھائیوں اور برائیوں کا بدلہ اسی دنیا میں دیتے ہیں۔ ان میں سرفہرست مادی قوانین ہیں جیسے ایک شخص محنت کرے گا تو روزی کمائے گا نہیں کرے گا تو بھوکا رہے گا۔ چنانچہ انسان اپنے بعض اعمال کی مکمل یا جزوی سزا اسی دنیا میں بھگت لیتا ہے۔ تم لوگ  جب مشکلات کو دیکھتے ہو انسانوں کی طرح یہ سمجھ لیتے ہو کہ خدا ناراض ہے، وہ غضب ناک ہوگیا ہے۔ نہیں ایسا نہیں۔ انسان پر جو مشکل آئی وہ قانون جزا و سزا کے اطلاق کی بنا پر آئی ہوتی ہے اور اس کا مداوا باآسانی اس کوتاہی کو دور کرکے کیا جاسکتا ہے۔"

" قانون غضبLaw of Destruction  آخری اسٹیج ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں بچتا،  سب کچھ تہس نہس ہوجاتا ہے، بستیاں اجڑ جاتی ہیں، کھلیان ختم ہوجاتے ، آسمان آگ برساتا اورزمین تنگ  ہوجاتی ہے۔ یہی وہ ناراضگی ہے جس پر خدا کی جانب سے آنکھوں ، دلوں اور کانوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔ یہی وہ خدا کی ناراضگی ہے کہ جو جس فرد پر پڑتی ہے  اس کی زندگی کے اس حصے کو برباد کردیتی ہے۔ "

" یہ غضب کس طرح  نازل ہوتا ہے حضور؟ اس کی کچھ تفصیلات سے آگاہ کریں تاکہ ہم اسی  علم کے مطابق منصوبہ بندی کریں۔"ایک منسٹر نے استفسار کیا

" دیکھو! ایک انسان  کی شخصیت ایک سفید  اور خوبصورت نور  یعنی روشنی کی مانند  ہے جس میں رحمانی صفات موجود ہیں۔ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس نور پر سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے۔ اگر تو وہ اس کو توبہ سے دھوڈالے تو نور دوبارہ  نمایاں ہوجاتا ہے اور اگر نہ دھوئے  اور مزید گناہ کرتا رہے تو اس نور پر سیاہی غالب آنے لگ جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی آزمائش کے قانون کے ذریعے کبھی کچھ مصیبتیں بھیجتے ہیں تاکہ وہ رجوع کرے اور اس کی سیاہی کم ہو۔ لیکن جب وہ باز نہیں آتا تو اس پر قانون جزا و سزا کا ااطلاق ہوتا ہے  اور اس کے گناہ کے عوض اسے دنیا میں  ہی جزوی یا کلی بدلہ دیا جاتا ہے تاکہ اس کا سیاہی میں لپٹا ہوا نوری وجود پاک ہوکر سامنے آجائے۔

لیکن جب ایک شخص خدا کی جانب سے بھیجی جانے والی تمام تنبیہات کو ماننے سے انکار کردیتا اور  برائیوں سے بھری زندگی نہیں چھوڑتا تو  پھر تو اس کا نور بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اب اس کی جگہ سیاہی لے لیتی ہے۔ اب یہ ایک شیطانی وجود بن جاتا ہے۔ اب اس وجود کی اصلاح ممکن نہیں رہتی کیونکہ گناہوں  کی سیاہی نے اسے چاروں طرف سے گھیر  لیا ہوتا ہے۔ اس سیاہی کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں پر پٹی پڑجاتی ہے اور اسے وہی دکھائی دیتا ہے جو اس کا سیاہ وجود دکھانا چاہتا ہو۔ اب وہ وہی سنتا ہے جو اس کے کالے کرتوت اسے سنانا چاہتے ہیں۔ اب وہ ایک ایسے گلاس کی مانند ہوتا ہے جو غلاظت سے لبالب بھرا ہو اور  جس میں ہدایت کا شربت انڈیلا نہیں جاسکتا۔ 

یہ عذاب کی ابتدا ہے۔ اس موقع پر اس کے لیے دنیا کے دروازے کھول دیے  جاتے، اس پر دنیاوی  نعمتیں برسنا شروع ہوجاتیں، اور وہ اپنی زندگی میں مگن ہوجاتے ہیں۔ اس شخص  کو یہ لگتا ہے کہ خدا شاید اس سے راضی ہے ۔  اسی طرح  دیکھنے والوں کو لگتا ہے  کہ شاید خدا موجود ہی نہیں ورنہ اس جیسے ظالم اور جابر کو ضرور سزادیتا۔ ان بے چاروں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ خدا کے سخت عذاب میں مبتلا ہے ۔ یہ وہ خدا کے غضب کا ایک پہلو ہے جس میں وہ بندے کو نہ صرف چھوڑ دیتا ہے بلکہ پلٹنے کے دروازے بھی بند کردیتا ہے۔"

" تو کیا جو لوگ دنیا کی زندگی اچھی گزاررہے ہیں وہ سب اسی کیٹگری میں آتے ہیں؟"ایک وزیر نے پوچھا۔ 

" ارے نہیں، ایسا نہیں۔ دنیا کی زندگی خواہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو اگر خدا کی مرضی کے تابع گزاری جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اس کیٹگری میں تو بے حد ظالم و جابر لوگ آتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں جان سکتا کہ کون  دل پر لگنے والے عذاب میں مبتلا ہے۔ اس طرح یہ لوگ یوں تو زند ہ ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں مردہ ہوتے ہیں"

" خدا کے غضب کا دوسرا اظہارقوموں پر ہوتا ہے۔ اس کا پہلا شکار پیغمبر کے مخاطبین ہوتے ہیں۔ جب وہ پیغمبر کا انکار جانتے بوجھتے کردیتے ہیں تو  اس کے بعد ان وجودوں کو دنیا سے فنا کردیا جاتا ہے۔  اس کی دوسری  مثا ل بنی اسرائل سے سمجھو جس نے خدا کو ناراض کیا اور خدا نے اس کو ذلت کے عذاب سے دوچار کیا اور ان پر کئی خارجی قومیں مسلط کیں۔"

" پیغمبر کی موجودگی کے باوجود بھی قانون غضب بہت دیر میں اپلائی ہوتا ہے۔ نوح علیہ السلام نو سو سال تبلیغ کرتے رہے، ان کی قوم کے لوگوں نے مذاق اڑایا، انہیں برا بھلا کہا، ان کی بات سننے سے انکار کردیا لیکن خدا نے اپنا غضب نہ ڈھایا۔ یہاں تک کہ جب اس قسم میں بالکل بھی جان باقی نہ بچی تو اس کے بعد اسے تباہ  کیا گیا۔ یہی معاملہ عاد، ثمود،قوم لوط اور دیگر اقوام کا تھا۔ "

" پتا ہے میرا مشن کیا ہے؟"

ابلیس اعظم نے پوچھا اور پھر خود ہی جواب دینے لگا۔

" میرا مشن یہ ہے کہ پوری انسانیت کو خدا کی نگاہ میں باغی قراردے دیا جائے اور معاملہ اس حد تک بڑھ جائے کہ خدا کا قانون غضب حرکت میں آئے تو اس  سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے۔ خدا اس انسانیت کو اس کی  بغاوت پر فنا کردے۔ اس سے ظاہر ہے جو نیک لوگ گذرگئے ان کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، البتہ اس دھرتی پر مزید خدا کے نام لیوا پیدا نہیں ہوپائیں گے اور میرے حسدو انتقام کی آگ  شاید ٹھنڈی ہوجائے۔"  

سب لوگ سرجھکائے ابلیس کی تقریر سن رہے تھے۔ 

" یہی ہمارا مقصود ہے، یہی ہمارا مشن ہے کہ انسان خدا کی اتنی نافرمانی کرلے کہ خدا اس سے ناراض ہوجائے اور اس پر غضب ناک ہوجائے ۔وہ ان سے دور ہوجائے، وہ ان سے منہ موڑ لے، وہ ان کو قانون ارتقا اور قانون جزا وسزا کی بجائے قانون غضب  جکڑ لے۔ تم لوگ جو کچھ کررہے ہو وہ زیادہ تر قانون ارتقا یا قانون جزا میں آتا ہے لیکن قانون غضب کا اطلاق بہت کم ہوتا ہے ۔ کیونکہ خدا بہت شفیق ہے، وہ ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے، وہ انہیں مہلت دیے جارہا ہے، وہ انہیں مسلسل نافرمانیوں پر نہیں پکڑتا، وہ انہیں پلٹنے کا موقع دے رہا ہے، تمہاری سب کوششوں اور چالوں کے باوجود وہ انہیں اب بھی بلارہا ہے۔"

تو پتا ہے دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟"

ابلیس اعظم نے اپنے منسٹرز کی جانب نگاہ دوڑائی اور جواب نہ ملنے پر خود ہی بولنے لگا۔

بے وقوف انسان یہ سمجھتا ہے کہ خدا بائی ڈیفالٹ ناراض ہےا ور اسے راضی کرنا مشکل ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا اصل میں ناراض نہیں اور اسے ناراض کرنا ہی  مشکل ترین کام ہے۔تو جان لو کہ دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟

دنیا کا سب سے مشکل کام ہے خدا کو ناراض اور غضب ناک کرنا۔ اور جب وہ وہ غضب ناک ہوجائے تو اسے راضی کرنا دوسرا مشکل کام ہے۔"

" یہ کام کس طرح ہوگا اے عظیم شیطان؟" چوبدار نے پوچھا

" یہ کام  کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی ہے، انسان کو قانون غضب کے نرغے میں لانا ہے اور یہ کام موت سے پہلے کرنا ہے کیونکہ موت کے بعد ہمیں نہیں پتا کیا ہونے والاہے۔ ایک ایک انسان کو ٹارگٹ کرنا ہے، اس کو ہر اس پہلو سے خدا کی نافرمانی پر مجبور کرنا ہے جس  سے خدا اس سے ناراض ہوجائے۔ ایک وقت آئے گا کہ ہم اپنا مقصد حاصل کرلیں گے اور زمین کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور آخرت میں بھی جہنم میں یہی لوگ ہمارے ساتھ ہونگے۔"


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

بدھ, جون 07, 2017

زندگی کی کہانی

"زندگی کی کہانی"
تحریر: صمد نواز

زندگی نہ تو "ہم ٹی وی" کا ڈرامہ ہے کہ آخری قسط میں سب کچھ ایک دم سے ٹھیک ہو جائے، نہ ہی "اسٹار پلس" کا ڈیلی سوپ جس میں مردہ کردار زندہ ہو ہو کر لوٹ آتے ہوں۔نہ تو زندگی ناول ہے کہ جس کی اختتامی لائن " پھر وہ ہنسی خوشی اکٹھے رہنے لگے " ہو، نہ ہی بالی ووڈ کی فیچر فلم ہے کہ دی اینڈ سے پہلے تمام مشکلیں آسان ہو جائیں اور تمام بچھڑے ہوئے مل جائیں۔

زندگی تو زندگی ہے چندا، جس کی کہانی کسی انسان نے نہیں لکھی، مالک یوم الدین نے لکھی ہے۔ کہانی کا تانا بانا ایسا ہے کہ ایک راستہ کامیابی کا ہے اور دوسرا ناکامی کا۔ اچھی بات یہ ہے کہ دونوں راستوں کا پڑاؤ ایک ہی ہے، بھلے منزلیں جُدا ہیں۔ اس پڑاؤ پر وہ مالک یوم الدین اپنے بندوں کا منتظر ہے۔ جیسے دوڑ کے مقابلے میں اختتامی  لکیرپر ججز موجود ہوتے ہیں۔ اس اختتامی لکیرپر ہر کھلاڑی کے کوچ، ٹیم آفیشلز اور ساتھی کھلاڑی بھی موجود ہوتے ہیں جو جیتنے والے کا پُرجوش استقبال کرتے ہیں، کندھوں پر اٹھاتے ہیں، انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔ تو ہم سب اختتامی لکیر کی جانب بھاگے چلے جا رہے ہیں، جانے انجانے، چاہے انچاہے، اور اختتامی لکیر پر وہ جو ہمارا خالق و مالک ہے ہمارا منتطر ہے جو رب العالمین ہے۔

تو پھر ذکر سے اپنے دل کو زندگی دو جتنی جی چاہے۔ درود سے دل کو نور سے بھرو جتنا جی چاہے۔ کوئی لمحہ شکر سے خالی نہ جانے دو۔ کسی گھڑی میں مایوسی کو اپنے قریب پھٹکنے نا دو۔ اپنے مالک سے دُعا کا اٹوٹ بندھن استوار رکھو اور جو جی چاہے اپنے رب سے مانگ لو۔ وہ تمھارے قریب ہے اتنا کہ کوئی اور اتنا قریب ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ تمھاری دعاؤں کو سنتا ہے، وہ تمھیں بن مانگے عطا کرتا ہے اور اس کے لیے اسے فقط کُن کہنا ہوتا ہے، فقط کُن!

زندگی کی کہانی کا "دی اینڈ" تبھی خوشگوار ہو گا جب اپنے رب سے رشتہ مضبوط ہو گا۔ دعا کے ذریعے اللہ سے باتیں شیئر کریں، اس سے اپنے تعلق کو اور مضبوط کریں اور اس رمضان سے زیادہ سے زیادہ تسبیح و تہلیل اور ذکر اذکار کی عادت ڈالیں۔

منگل, جون 06, 2017

سات روحانی عادات


ہمیں سیرت کی مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ رمضان کی آمد سے چھ ماہ پہلے اس کی تیاری شروع کردیا کرتے تھے، اور رمضان کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اگلے رمضان کو پانے کی دعا کیا کرتے تھے اور رمضان کے اختتام ہونے پر گڑگڑا کر اپنی عبادات کی قبولیت کی دعا کیا کرتے تھے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خوش قسمت تھے کہ ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب تھی، جو کہ ایک مثالی شخصیت اور سیکھنے اور پیروی کرنے کے لیے بہترین انسان تھے۔ جبکہ ہم اس سے محروم ہیں مگر ہمارے پاس سیکھنے اور عمل کرنے کے لیے ان کی سنت موجود ہے۔

رمضان بہترین موقع ہے اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگنے کا اوربہترین عادات اپنا کر ایک نئی شروعات کرنے کا۔ ان شاء اللہ

1- نماز کی پابندی:
سیرت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نماز کے گرد گھومتی تھی، چاہے وہ گھر پہ ہوں، سفر میں ہوں یا پھر جنگ کے میدان میں: وہ کبھی اپنی نماز نہیں چھوڑتے تھے۔ نماز کو اپنے مقررہ وقت پر ادا کرنا اللہ کے نزدیک نہایت محبوب عمل ہے۔

صاحبِ علم حضرات تجویز کرتے ہیں کہ نماز کو مقررہ وقت پر ادا کرنے کو یقینی بنانے کے لیے اس کے لیے وقت سے پہلے تیار ہونا چاہئیے۔ یعنی نماز کے وقت سے کچھ پہلے اپنا کام چھوڑ کر وضوکرلیں، اس طرح ہم "نماز موڈ" میں آجائیں گے اور ہمارا نفس ہمیں مجبور نہیں کرسکتا کہ ہم نماز میں دیر کریں یا اس کی عجلت میں ادا کریں۔ خشوع و خضوع سے ادا کی ہوئی نماز کی قبولیت کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

2- قرآن کے ساتھ کچھ وقت گزاریں:
رمضان قرآن کا مہینہ ہے، لہٰذا ہمیں دن کا کچھ وقت قرآن کے لیے مختص کرنا چاہئیے۔ قرآن کے ایک مسلمان پر پانچ حقوق ہیں
٭اس پر ایمان لانا
٭اس کی تلاوت کرنا
٭ اس کو سمجھنا
٭ اس پر عمل کرنا
٭ اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا
ہم کس طرح یہ حقوق ادا کرسکتے ہیں جب ہم اس کے ساتھ کچھ وقت نہیں گزاریں گے؟ ہم اس کے مطابق کیسے ذندگی گزاریں گے جب ہم اس کو سمجھیں گے نہیں؟ ہم کیسے دوسروں کو اس کی طرف بلائیں گے جب ہم خود اس سے دور ہوں گے؟

اگر آپ قرآن سے بہت عرصے سے دور ہیں تو رمضان بہترین موقع ہے قرآن سے دوبارہ جڑنے کا، چند آیات کی تلاوت سے آغاز کریں، پھر روز ایک صفحہ پڑھیں اور پھر ان شاء اللہ روز ایک جُز (پارہ)، البتہ یہ ضروری نہیں کہ آپ نے "کتنا قرآن پڑھا" بلکہ اہم یہ ہے کہ "کتنا سمجھا اور اپنے اوپر لاگو کیا

3- باقاعدگی سے صدقہ/خیرات دیں:
ہم آزمائشوں اور فتنوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ ان مشکلات سے محفوظ رہنے کا ایک مجوزہ طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ کھلے دل سے میں خرچ کریں۔ اپنے گھر میں نظر دوڑائیں، کتنی ہی چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے پاس اضافی ہیں اور ان کو ہفتوں، مہینوں یا سالوں سے ہم نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ یہ ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے کہ ہم چیزیں خرید کر ان کو رکھ دیتے ہیں اور جب کبھی سالانہ صفائی ہوتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ کیا کیا رکھا ہوا ہے۔ 
آپ کے پاس جو بھی اضافی (اپنی ضرورت سے زیادہ) سامان ہو اس رمضان ان لوگوں کو دیں جن کے پاس وسائل کی کمی ہے، آخرت میں اپنے گھر کی تعمیر و تزئین کو مقصود بناتے ہوئے اپنے پاس موجود "اچھا سامان" عطیہ کریں نہ کہ فالتو اور بے کار سامان۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ جو بھی کسی انسان یا ادارے کو دے رہے ہیں وہ اصل میں "اللہ" کو دے رہے ہیں۔ کیا ہمارا دیا ہوا اس کے شایانِ شان ہے جو تمام خزانوں کا مالک ہے؟

صرف دولت خرچ کرنا ہی صدقہ نہیں ہے، اپنا وقت دینا ، اپنی صلاحیتیں صرف کرنا، لوگوں کے ساتھ مہربانی کرنا، مسکرانا یہ سب صدقے کی مختلف شکلیں ہیں۔ صدقے کی تعریف کو وسعت دیتے ہوئے اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ نیکی کرکے اپنے درجات بلند کریں۔

4- علم کی محافل میں شرکت:
ہم اپنی عبادات میں محبت  اور تعلق نہیں پا سکتے جب تک کہ ہمیں دین کا علم حاصل نہ ہو، اور یہ پتا نہ ہو کہ ہم کیا اور کیوں مانگ رہے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
جو شخص کسی راستے پر حصول علم کے لیے چلے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم)

5- حالت طہارت میں رہیں:
کئی مرتبہ ہم اپنی عبادات اس وجہ سے چھوڑ دیتے یا تاخیر کرتے ہیں کہ ہم طہارت کی حالت میں نہیں ہوتے۔ یہ کسی بیماری کی حالت میں تو ٹھیک ہے مگر یہ ہر کسی پہ لاگو نہیں ہوتا۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ ہر وقت حالت طہارت میں رہیں تاکہ فرشتے ہمارے ساتھ رہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
'' ان جسموں کو پاک کرو اللہ تمہیں پاکیزگی عطا فرمائے ۔ جو بندہ بھی طہارت کی حالت میں سوئے
یقیناً ایک فرشتہ اس کے ساتھ رات بسر کرتا ہے ۔
جب بھی وہ شخص رات کے کسی وقت کروٹ بدلتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے : '' اے اللہ !
اپنے بندے کو معاف فرما ، یقیناً وہ باوضو سویا تھا '' (صحیح الجامع الصغیر)

ہر وقت باوضو رہنے کی عادت ڈالیں اورمنہ کی صفائی کے لیے مسواک کا ستعمال کریں۔

6- اپنے غصے اور اپنی زبان پر قابو:
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:"جب تم روزہ رکھو پس چاہئیے کہ تمہارے کان، آنکھ،اور زبان ،جھوٹ، اورحرام باتوں سے روزہ رکھیں، اور پڑوسی کو تکلیف پہنچانا چھوڑدو، تم پر وقار اور سکینت رہنی چاہئیے، روزہ اور غیر روزہ کا دن برابر نہ بناؤ"۔( شعب الایمان ]
یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں وہ مہینہ عطا کیا جس میں ہم شعوری طور پر اپنی بری عادات پر قابو پاتے ہیں یا ان کو چھوڑ دیتے ہیں۔ رمضان کے بعد بھی اس روش پر قائم رہیں۔ ان محافل سے دور رہیں جن میں جانے سے زبان کی بری عادات میں پڑنے کا اندیشہ ہو۔

7- موت کو اکثر یاد کریں:
ایک صاحب علم کا کہنا ہے کہ: "جب تم اللہ کی عبادت کے لیے نماز نہ پڑھا تو خود کو قبر میں تصور کرو، آپ کیسا محسوس کریں گے؟"
ہم سے ہر کوئی اپنی قبر کو وسیع اور روشنی سے بھرا دیکھنا چاہتا ہے، جہاں قرآن اور ہمارے نیک اعمال ہمارے ساتھی ہوں گے۔ مگر وہ کیسے وہاں ہمارا ساتھ دیں گے جب ہم اس دنیا میں ان سے جڑے نہیں ہونگے؟
اپنی موت کو یاد رکھنے کی عادت ڈالیں، اس سے آپ کو اپنے دن اور رات گزارنے میں مدد ملے گی کہ کس طرح گزارے جائیں۔ 



تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

سوموار, جون 05, 2017

الفاظ کی دنیا

~!~ الفاظ کی دنیا ~!~
منقول
الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے 
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں 
کچھ غلامی 
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں 
اور کچھ وار 
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے یہ تو دانت رکھتے ہیں جو کاٹ لیتے ہیں۔
یہ ہاتھ رکھتے ہیں جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں۔
یہ پاؤں رکھتے ہیں جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں۔
اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجہ کا اسلحہ تھما دیا جائے تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔
محتاط ہو جاؤ انہیں ادا کرنے سے پہلے کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے ۔کیوں کے یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔
اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی۔

تدبر القرآن .... سورۃ البقرہ ..... نعمان علی خان .... حصہ- 45

تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
 نعمان علی خان 
 حصہ-45

فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم 

اگر آپ درست اور مثبت رویہ اپنائیں گے تو قرآن آپ کو ہدایت دے گا، دوسری صورت میں جب آپ اسے سرسری سا پڑھتے ہیں تو یہ کبھی بھی آپکی رہنمائی نہیں کرے گا. اب لوگوں کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ جب ہمارا بھٹکنا اور ہدایت یافتہ ہونا پہلے سے طے شدہ ہے تو پھر ہماری کیا حیثیت ہے؟ ہمارا تو کوئی قصور نہیں. اللہ رب العزت خود اس بات کی وضاحت فرماتے ہیں کہ کون کون سے لوگ قرآن کی رہنمائی کے مستحق نہیں. اللہ نے خود ان لوگوں کو چھانٹ کر الگ کر دیا ہے. حالانکہ یہ کتاب تو "کتاب ہدایت" ہے، تو پھر کون سے بد قسمت لوگ ہیں جو اس سے بھٹکتے ہیں؟ 
وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ 
اللہ تعالٰی نے "وما یضل بہ احدا" نہیں کہا.(اور وہ نہیں بھٹکاتا کسی ایک کو)
آیت نمبر 26 میں کسی مستثنٰی کا ذکر نہیں ہے. یہ اوپن اینڈڈ ہے. اللہ نے کسی خاص انسان یا مخلوق کا نام نہیں لیا. اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ یہ کسی کو بھی نہیں بھٹکاتا سوائے فاسقوں کے. سوائے ان لوگوں کے جن کی کرپشن واضح ہو چکی ہے. 
فسق عربی زبان میں اس پھل کو کہتے ہیں جو خراب ہو جائے، جس کا چھلکا بھربھرا ہو کر تحلیل ہونا شروع ہو جائے. جیسے مالٹا یا کیلا پرانا ہونے پر گھلنے لگتا ہے اور پھل کا اندرونی مواد باہر آنا شروع ہو جاتا ہے. یہ ہے فسق. فسق التفاحہ یعنی سیب خراب ہو رہا ہے اس کا اندرونی مواد باہر نکلنا شروع ہے. اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جن کی خرابی ان کے اندر تک محدود نہ رہے بلکہ باہر آنا شروع ہوجائے، تو ایسے لوگ، اللہ کی رہنمائی کے مستحق نہیں ہیں. ان کی خرابی ان کے اوپر حاوی ہو گئ ہے. ان کی خرابی ان کے باطن تک محدود نہیں رہی. بلکہ ان کی بیرونی سطح بھی گند سے لبریز ہو گئ ہے.
اگلی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ درحقیقت "فاسقین" کون ہیں؟ یہاں ہمیں" قرآن اور قرآنی زبان" کا "عام روزمرہ اور فقہاء کی زبان" سے فرق سمجھنا ضروری ہے. مسلم فقہاء کی زبان میں فاسق گناہ گار کو کہتے ہیں. 
_وہ شخص جو عموماً نماز نہیں پڑھتا وہ فاسق ہے. 
_ایسا شخص جو اپنی والدہ کے ساتھ احسن سلوک نہیں کرتا وہ بھی فاسق ہے. 
_وہ شخص بھی فاسق ہے، جو بیوی کے مہر اور دوسرے حقوق کو ایک لمبے عرصے تک مؤخر کئے رکھتا ہے. 
- یا پھر اسی طرح کے اور گناہوں کا مرتکب انسان عام زبان میں فاسق کہلاتا ہے. 
اب براہ مہربانی آپ قرآنی اسلوب سمجھنے کی کوشش کریں . اگر ہم یہ لفظ اپنی روز مرہ زندگی میں ایک دوسرے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب قرآن میں یہ لفظ آئے، تو آپ کہیں کہ چونکہ میرا کزن بھی "ایک فاسق" ہے، اس لیے وہ بھی کبھی ہدایت نہیں پاسکتا. خدارا احتیاط کریں . قرآن پاک میں فاسق کا انتہائی درجہ بیان ہوا ہے. فسق کے درجات ہیں، اور قرآن انتہائی درجے کا ذکر کر رہا ہے. اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کوئی بھی عام شخص جو کسی بُرے عمل میں ملوث ہو، وہ فسق کی کٹیگری میں نہیں آتا. ایسا شخص فقہاء کی نظر میں تو فاسق ہو سکتا ہے، لیکن قرآن کی نظر میں نہیں. غور کریں کہ اللہ تعالٰی نے فاسق کو کیسے بیان کیا ہے؟ فاسق کون ہیں؟ ان کا طرزِ عمل کیا ہے؟ 
اللہ تعالٰی کا بیان حیران کن ہے.

الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27)

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

نقض کا مطلب ہے حلل العقدہ. گرہ کھولنا. 
گرہ باندھنے کے لیے کافی کوشش کرنی پڑتی ہے، کیونکہ اس میں مقصدیت ہوتی ہے. لیکن اس کو کھولنا یا توڑنا بہت آسان ہے. گرہ کھولنا یا توڑنا ایک تخریبی عمل ہے. 
ابرام کیا ہے؟ پرانے زمانے میں جزیرۂ عرب میں تعمیر کا کام اینٹ اور سیمنٹ سے نہیں ہوتا تھا. بلکہ لکڑی کے دو تنوں کو °90 درجے کے زاویے سے ملا کر رسی لپیٹ کر آپس میں باندھ دیا جاتا تھا. اس طرح چیزوں کو باندھنا ابرام کہلاتا تھا. اور نقض الابرام کا مطلب ہے رسی کو کھول کر لکڑیوں کو الگ کر دینا. یہ ہے ینقضون کا تصور.
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ 
وہ لوگ جو اللہ سے باندھے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں. 
اللہ کے ساتھ وعدے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ اللہ کے ساتھ کسی چیز میں بندھے ہوئے ہیں. آپ کسی چیز کے ذریعے اللہ سے منسلک ہیں. کسی کے ساتھ بندھنے کیلئے کیا چیز ضروری ہے؟ رسی.. جی ہاں دو چیزوں کو جوڑنے کے لئے رسی استعمال کی جاتی ہے. قرآن میں بھی یہی ہے. 
وعتصمو بحبل اللہ 
اس جگہ اللہ کی رسی سے کیا مراد ہے؟ قرآن یعنی اللہ تعالٰی کے الفاظ. ہم اللہ تعالٰی کے ساتھ اللہ کے الفاظ کے ذریعے منسلک ہیں، یہی ہمارا اللہ کے ساتھ عہد ہے. 
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے، 
"ھو حبل اللہ المتین"
یہ قرآن اللہ کی پھیلی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے. ایک سرا ہم نے تھاما ہوا ہے اور دوسرا اللہ کے پاس ہے. یہ ہمیں براہ راست اللہ سے جوڑ رہا ہے. اللہ سے تعلق توڑنے سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ سے کئے گئے وعدوں کو پس پشت ڈال رہے ہیں. 
یہ لوگ تعلق کب توڑتے ہیں؟
مِن بَعْدِ مِيثَاقِه
 اس کی پختگی کے بعد.
گرہ لگانے کے بعد گرہ کو مضبوط کرنے کے لیے رسی کے سروں کو پکڑ کر مخالف سمت میں کھینچا جاتا ہے. یہ میثاق کہلاتا ہے. 
وثق/واثق :عربی زبان میں اعتماد کےلیے استعمال ہوتا ہے. کسی چیز کے بارے میں "مطلق یقین". اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ یہ فاسق لوگ اللہ سے کیے گئے عہد کو، اس کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں. اللہ سے کیا گیا عہد کوئی کمزور تعلق نہ تھا. کہ سرے کھینچنے سے ٹوٹ جائے. بلکہ یہ مضبوط تعلق تھا. جس کو توڑنے کے لئے کوشش کرنی پڑی. 
دوبارہ لفظ "فاسق" کی طرف آجائیے. فسق کیا ہے؟ جب کرپشن یا اخلاقی بگاڑ اتنا زیادہ ہو جائے کہ وہ پھٹ کر باہر نکل آئے. 
یہ فاسقین کس سے اپنا تعلق توڑ رہے ہیں؟ دوسرا فریق کون ہے؟ دوسرا فریق اللہ رب العزت ہے. یہ اللہ کے ساتھ اپنی رسی کو کاٹ رہے ہیں، وہ اللہ کے ساتھ باندھی ہوئی گرہیں کھول رہے ہیں. دوسرے الفاظ میں یہ لوگ اللہ سے اپنے رابطے منقطع کر رہے ہیں. 
اب آیت کا اگلا حصے میں کیا کہا گیا ہے :
وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ
پہلے انھوں نے گرہ کھولی بعد میں رسی کو بالکل ہی کاٹ دیا ہے، یعنی ہر تعلق ختم کر دیا ہے. 
جس چیز کو اللہ نے جوڑ کر رکھنے کا حکم دیا ہے وہ لوگ اس کو کاٹ رہے ہیں. 
یوصل لفظ صلہ سے ہے، یعنی رابطہ، تعلق. 
مفسرین کی اکثریت اس پر متفق ہے، اور آیت کے سیاق و سباق سے بھی یہی تصدیق ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ نے دو اہم رشتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے. 
ایک رشتہ، انسان کا اللہ کے ساتھ ہے. 
اور دوسرا رشتہ دوسرے انسانوں کے ساتھ. اس میں انسان کا اپنی والدہ کے ساتھ تعلق بھی شامل ہے. جو انسانی تخلیق کے ابتدائی مراحل سے ہی شروع ہو جاتا ہے. یعنی اس تعلق کے بغیر آپ کا اس دنیا میں وجود ناممکن تھا. 
اللہ کے ساتھ آپ کا تعلق کیسے اور کب شروع ہوتا ہے؟ جب اللہ تعالٰی آپ کے اندر روح پھونکتے ہیں. 
اللہ تعالٰی سے رشتہ ختم کرنے والے لوگ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بھی تعلق توڑنا شروع ہو جاتے ہیں. ایسے لوگ اپنے والدین، شریک زندگی، بچوں، ساتھیوں، اور ہمسایوں کے حقوق پورے نہیں کرتے. وہ چیزیں جو اکٹھے رہنے کے لئے، ہم آہنگی کے لیے ضروری تھیں، یہ لوگ انہیں کاٹنا شروع ہو گئے ہیں. جبکہ اُن سب کو تو اللہ نے ملا کر رکھنے کا حکم دیا ہے. 
وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ۗ 
والدہ سے متعلقہ رشتوں کو ہمارے مذہب میں اولین ترجیح دی جاتی ہے. درحقیقت تمام نسلِ انسانی ایک دوسرے کے ساتھ ممتا کے رشتہ سے جڑی ہوئی ہے. سارے انسان حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے باعث آپس میں رشتہ دار ہیں. 
آپ اپنی صورتحال دیکھئے! صرف چند رشتے ایسے ہیں جو آپکی مرضی کے مطابق ہیں. جیسے شادی. جبکہ خاندانی نظام میں باقی رشتے آپ کا ذاتی انتخاب نہیں. آپ، اپنی والدہ خود منتخب نہیں کر سکتے. اپنے بچوں کا انتخاب خود نہیں کر سکتے. اپنے بہن بھائیوں کا انتخاب آپ کی مرضی سے نہیں ہے. یہ سارے رشتے آپ کے لیے اللہ تعالٰی کا انتخاب ہیں. اللہ تعالٰی ہی ہمیں ان رشتوں کے ساتھ جُڑے رہنے کا حکم دے رہے ہیں. یہ سارے رشتے اللہ کا انتخاب تھے. ہمارے پاس ان کو توڑنے کی کوئی گنجائش نہیں. ان کو ہر حال میں بچانا ہے. قطع نظر اس بات کے، کہ کوئی ان رشتوں کو توڑنے کی جتنی مرضی باتیں کرتا رہے. جیسے پاکستانی مائیں اکثر غصے میں کہتی رہتی ہیں، "تم آج کے بعد میرے بیٹے نہیں ہو. تم میرے لئے مر چکے ہو". ماں جو بھی کہتی رہے، وہ پھر بھی اس کا بیٹا ہے اور رہے گا. اور زندہ سلامت بھی ہے،ماں کے کہنے سے مر نہیں گیا. محض کسی کے کہنے سے ایسے تعلق ختم نہیں ہو جاتے. اسی طرح اگر آپ اپنے بھائی سے ناراضی میں کہہ دیں،" آج سے تم میرے بھائی نہیں ہو، میرا تم سے کوئی تعلق نہیں". یہ تعلق آپ کے ایسے اعلانات سے ٹوٹنے والا نہیں. وہ آپ کا بھائی ہے اور رہے گا. 
معاملات کب خراب ہونا شروع ہوتے ہیں؟
جب آپ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو توڑتے ہیں. اس کے بعد پھر آپ اپنے خونی رشتہ داروں سے بھی تعلقات ختم کرتے جاتے ہیں. وہ چیزیں جو اللہ تعالٰی کے ساتھ اور دوسرے انسانوں کے ساتھ ہمارے تعلق کو مضبوط بناتی تھیں. وہی ختم کر دی گئی ہیں. یہ قطع رحمی کرنے والے لوگ ہی کرپٹ ترین ہیں. ایسے لوگ نہ صرف اللہ کی رضا کے خلاف کام کرتے ہیں بلکہ دوسرے انسانوں کی بھی دل آزاری کا باعث ہیں. یہ کہلاتے ہیں فاسقین. یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ کی کتاب سے کبھی ہدایت نہیں ملنے والی. فاسقین کی تعریف بہت گہرا مفہوم رکھتی ہے. 
وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27
جب آپ اللہ تعالٰی اور اللہ کی مخلوق سے قطع تعلقی کر لیتے ہیں تو پھر پیچھے کیا بچتا ہے؟ 
وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ
پھر یہ لوگ زمین میں فساد پھیلانے کا باعث بنتے ہیں.
دنیا کے مختلف معاشروں میں خاندانی نظام کو دیکھیں . لوگ اپنے والدین کا خیال رکھتے تھے، اچھی ہمسائیگی کا ثبوت دینے کے لیے ایک دوسرے کی طرف آتے جاتے تھے، اپنے بچوں کی طرح دوسروں کے بچوں کا خیال رکھا جاتا تھا. کیا آج بھی ہم ایسی ہی دنیا میں جی رہے ہیں؟؟؟ نہیں ، باکل نہیں، یہ تو پرانے وقتوں کے قصے ہیں. اب آپ کا بچہ ابھی فرنٹ پورچ میں ہوتا ہے کہ آپ مسلسل اس پر نظر رکھتے ہیں کہ کہیں ہمسایوں میں سے کوئی شخص بچے کو گھور تو نہیں رہا، 
اس کی نیت کیا ہے؟

جاری ہے ۔۔۔۔ 

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں