ہفتہ, جون 10, 2017

صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز –  

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 14-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ ” صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز” کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ بندگی سے خالی نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اللہ کی عبادت زمان و مکان کی قیود سے بالا تر ہے۔ چنانچہ جو شخص آخری سانس تک بھی اللہ کی بندگی کے ذریعے اس کے بندوں میں شامل ہو گیا تو وہی کامیاب ہے، اور ماہ رمضان میں تو عبادات کے حسین مناظر مزید دیکھنے کو ملتے ہیں۔
خطبے سے منتخب اقتباس درج ذیل ہے: 

مسلمان کبھی بھی اللہ کی بندگی کا دامن چھوڑنے کیلیے تیار نہیں ہوتا کیونکہ بندگی زمان و مکان کی قید سے بالا تر ہے ، لہذا مسلمان زندگی کے ہر گوشے میں آخری سانس تک اللہ کی بندگی کرتا ہے ، پھر اسے موت بھی بہترین حالت میں آتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ}
 اور اپنے پروردگار کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے موت آ جائے۔[الحجر: 99]

جس وقت اللہ تعالی اپنے بندوں کو “یَا عِبَادِیْ” [میرے بندو!]کہتا ہے تو اسے سن کر انسانی دل جھوم اٹھتا ہے، زندگی میں ایک نئی تازگی آ جاتی ہے ؛ کیونکہ جو شخص بھی اس صدائے الہی میں شامل ہو گیا اور “یَا عِبَادِیْ” کا رتبہ پا لیا تو وہ یقینی طور پر بہت بڑی کامیابی پا گیا۔

یَا عِبَادِیْ” کی ندا دل میں سکون کوٹ کوٹ کر بھر دیتی ہے، دل سے خوف نکال باہر پھینکتی ہے، یہ اللہ تعالی کے فضل، انعام اور رضائے الہی کی علامت بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {يَاعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ (68) الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ (69) ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ}
 میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے [69] [میرے بندے وہ ہیں ] جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور [ہمارے] فرماں بردار رہے [70] (اب)تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ ، تمہیں خوش کر دیا جائے گا۔[الزخرف: 68 – 70]

اطمینان نفس جس کے وجدان میں ایمان جا گزین ہو چکا ہو، جسے اپنے خلوص پر اطمینان ہو، وہ اپنے خالق پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالی اپنے اس فرمان کے ذریعے عظیم خوش خبری سناتا ہے:
 {يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي}
اے مطمئن روح [27] اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی [28] پس تو میرے [خاص] بندوں میں شامل ہو جا [29] اور میری جنت میں داخل ہو جا۔[الفجر: 27 – 30]

اللہ تعالی اپنے بندوں کو “عِبَادِیْ” سے موصوف کر کے ان کی تنہائی ختم فرماتا ہے، انہیں بشارت دیتا ہے کہ وہ قریب ہے، تو اب بندے کو چاہیے کہ اپنے مسائل اللہ کے سامنے رکھ دے، اپنی پریشانیاں اور دکھڑے سنا دے، اپنے پروردگار اور مولا سے مشکل کشائی کا مطالبہ کر دے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ}
 اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب بھی پکارتا ہے میں اس کا جواب دیتا ہوں، انہیں چاہیے کہ میری بات مانیں، مجھ پر اعتماد رکھیں تاکہ رہنمائی پائیں۔[البقرة: 186]

اللہ تعالی کا بول: “يَا عِبَادِیْ” سینے میں ٹھنڈ پیدا کرتا ہے، اس بول سے اللہ کے غضب پر غالب آ جانے والی رحمتِ الہی کی جانب امنگوں سے بھر پور نظریں اٹھتی ہیں، اس بول سے بندوں پر ہونے والے اللہ تعالی کے فضل و کرم کی یاد تازہ ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (49) وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ
میرے بندوں کو بتلا دو: بیشک میں ہی بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہوں [49] اور یقیناً میرا عذاب درد ناک عذاب ہے۔[الحجر: 49، 50]
 ان آیات میں جب اللہ تعالی نے اپنی رحمت و مغفرت کو ذکر فرمایا تو بات کو مزید ٹھوس بنانے کیلیے تین تاکیدی کلمات شامل فرمائے: سب سے پہلے “أَنِّي” اس کے بعد ” أَنَا ” اور پھر آخر میں ” الف لام” اپنی صفات پر داخل فرمایا اور کہا: ” أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ” لیکن جب عذاب کی باری آئی تو اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ : “إني أنا المعذب” یعنی : اپنے آپ کو عذاب دینے والا قرار نہیں دیا، بلکہ یوں فرمایا کہ: ” وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ” یعنی میری ذات نہیں بلکہ میرا عذاب درد ناک ہے۔

اللہ تعالی مؤمنین کو “یَا عِبَادِیْ” کی صدا لگا کر پکارتا ہے؛ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ بندے زمین پر یا آسمان کے نیچے کہیں بھی ہوں اسی کی بندگی کے سائے میں رہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ}
میرے ایمان لانے والے بندو ! بیشک میری زمین وسیع ہے اس لیے صرف میری ہی عبادت کرو۔[العنكبوت: 56]
یَا عِبَادِیْ” ایک ایسا درخشندہ جملہ ہے جو کہ انسان کو مزید بندگی پر آمادہ کرتا ہے
اللہ تعالی نے مومنوں کو “یَا عِبَادِیْ” سے مخاطب فرما کر ان کے لیے تقوی کا راستہ واضح فرمایا اور مومنوں کو تقوی اپنانے کی ترغیب بھی دی چنانچہ فرمایا:
 {يَاعِبَادِ فَاتَّقُونِ}
 میرے بندو! مجھ ہی سے ڈرو[الزمر: 16]
اور تقوی کو کردار میں شامل کرنا ماہِ رمضان کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت ہے،جس وقت مومن اللہ تعالی کی جانب سے “یَا عِبَادِیْ” کی ندا سنتا ہے تو مومن کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی پشت پناہی اور ڈھارس باندھنے کی ذمہ داری انتہائی طاقتور ذات کے ہاتھ میں ہے ، وہ ذات اسے کسی بھی سرکش شیطان سے تحفظ دے سکتی ہے، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: 
{إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا}
 بیشک میرے بندوں پر تیرے لیے کوئی تسلط نہیں ہے، اور تیرا پروردگار کارسازی کیلیے کافی ہے۔[الإسراء: 65]
یہی وجہ ہے کہ جس دل کا لگاؤ اللہ تعالی کے ساتھ ہو ، جس کی کل زندگی عبادت اور محبت میں گزرے تو ایسے دل تک شیطان کو رسائی کا کوئی موقع نہیں ملتا، مکمل تحفظ ایسے دل کا حق ہے، اس کی دہلیز پر پہنچنے سے پہلے ہی تمام شیطانی وار وا ہو جاتے ہیں۔
یَا عِبَادِیْ” بہت ہی خوبصورت جملہ ہے ، اس کا اسلوب پیار سے لبریز ہے، اس میں انتہا کی شفقت ہے، اس جملے میں تمام کے تمام گناہ گار اور خطا کار بھی توبہ کر کے شامل ہو سکتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
آپ کہہ دیں: میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے گناہ معاف کرنے پر قادر ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [الزمر: 53]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں