صلاح الدین کی نسل:
اندھیروں سے اجالوں تک کا سفر
کیا آپ کو کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اسلامی تاریخ کے بدترین دور میں جی رہے ہیں؟ چاروں طرف ناامیدی، دشمنوں کی ریشہ دوانیاں اور امت کی کمزوری دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم کبھی اپنے اس شاندار ماضی کو دوبارہ پا سکیں گے؟
ڈاکٹر حسن علوان اس ویڈیو میں ایک بہت اہم سبق سکھاتے ہیں: "امتِ مسلمہ نے آج سے کہیں زیادہ تاریک دور دیکھے ہیں اور ان سے کامیابی کے ساتھ نکلی ہے۔"
صلاح الدین سے پہلے کا دور: زوال کی انتہا
عام طور پر جب ہم سلطان صلاح الدین ایوبی کی بات کرتے ہیں تو ان کی پیدائش سے کہانی شروع کرتے ہیں، لیکن یہ ویڈیو ہمیں اس سے ایک صدی پہلے کے حالات میں لے جاتی ہے۔ وہ دور کیسا تھا؟
* بغداد کا زوال: کبھی علم و حکمت کا مرکز رہنے والا بغداد فرقہ وارانہ فسادات اور غنڈہ گردی کا شکار ہو چکا تھا۔ خلیفہ کی طاقت صرف محل تک محدود تھی۔
* اندرونی خلفشار: مسلمانوں کو بیرونی دشمنوں (صلیبیوں) سے زیادہ خطرہ اندرونی کرپشن اور گمراہ کن نظریات سے تھا۔
فرقہ باطنیہ اور اسماعیلی تحریک
اس دور کا سب سے بڑا چیلنج "اسماعیلی" یا "باطنی" فرقہ تھا۔ انہوں نے خود کو 'فاطمی' کہلوا کر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کیں، لیکن ان کے عقائد اصل اسلام سے کوسوں دور تھے۔
* انہوں نے قرآن کے 'باطنی' (پوشیدہ) معنی نکال کر شریعت کو تبدیل کرنا شروع کیا۔
* مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے ہزاروں حاجیوں کو شہید کیا گیا اور حجرِ اسود کو اکھاڑ کر لے گئے، جو 22 سال تک ان کے قبضے میں رہا۔
* انہوں نے قاہرہ شہر بسایا اور 'الازہر' یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تاکہ اپنے نظریات پھیلا سکیں۔
نظام الملک: امید کی کرن
اس تاریکی میں سلجوقی سلطنت کے وزیر نظام الملک نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ جنگ صرف تلوار کی نہیں بلکہ نظریات کی ہے۔
* تعلیمی انقلاب: انہوں نے 'نظامیہ مدارس' کا جال بچھایا تاکہ نوجوانوں کی صحیح خطوط پر فکری تربیت کی جا سکے۔
* علماء کی سرپرستی: امام غزالی جیسے عظیم علماء اسی تعلیمی نظام کی پیداوار تھے جنہوں نے اپنے قلم سے گمراہ کن نظریات کا رد کیا۔
دی اسیسنز (Assassins - حشاشین)
ویڈیو میں ایک انتہائی خطرناک گروہ 'حشاشین' کا ذکر ہے، جس کا بانی حسن بن صباح تھا۔
* یہ گروہ اپنے مریدوں کو نشہ آور ادویات (حشیش) اور 'مصنوعی جنت' کے ذریعے ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا تھا۔
* وہ عوامی مقامات، خاص کر نمازِ جمعہ کے دوران بڑے بڑے رہنماؤں کو قتل کرتے تھے تاکہ لوگوں میں خوف پھیل جائے۔
* سلطان صلاح الدین ایوبی کے اپنے دستے میں بھی ان کے بھیجے ہوئے قاتل موجود تھے جو سپاہیوں کے روپ میں رہتے تھے۔
حاصلِ کلام: آج کے لیے پیغام
اس ویڈیو کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی کوئی "سپر ہیرو" نہیں تھے جو اچانک نمودار ہوئے، بلکہ وہ ایک طویل فکری اور تعلیمی جدوجہد کا نتیجہ تھے۔ نظام الملک کے مدارس اور امام غزالی کی تحریروں نے وہ نسل تیار کی جس نے آگے چل کر بیت المقدس کو آزاد کرایا۔
اگر امت اس وقت اتنے بڑے فتنوں اور تقسیم سے نکل کر دوبارہ عروج حاصل کر سکتی تھی، تو آج بھی ناامید ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں بھی اسی طرح علم، اخلاص اور نسلِ نو کی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں