صلاح الدین کی نسل :
پہلی صلیبی جنگ
پہلی صلیبی جنگ: جب امتِ مسلمہ زوال کی انتہا پر تھی
تاریخ ہمیں صرف فتوحات ہی نہیں سکھاتی، بلکہ وہ تلخ حقائق بھی سامنے لاتی ہے جہاں ہم سے غلطیاں ہوئیں۔ ڈاکٹر حسن علوان اس ویڈیو میں ایک ایسے دور کا نقشہ کھینچتے ہیں جب عالمِ اسلام اندرونی خلفشار، کرسی کی ہوس اور جذباتیت کا شکار تھا۔
1. صلیبیوں کا اتحاد اور پاپائے روم کا کردار
صلیبی جنگوں کا آغاز تب ہوا جب یورپ شدید مذہبی جوش و خروش میں تھا۔ پاپائے روم (Pope Urban II) نے فرانس میں ایک اشتعال انگیز تقریر کی جس میں مسلمانوں کے خلاف جھوٹے قصے سنا کر عیسائیوں کو مشتعل کیا گیا۔ اس نے نہ صرف مذہبی لبادہ اوڑھا بلکہ "دودھ اور شہد کی سرزمین" کا لالچ دے کر دنیاوی مفادات کو بھی جنگ کا حصہ بنا دیا۔
2. صرف جذبات یا حقیقی منصوبہ بندی؟
ویڈیو میں ایک اہم سبق "پیٹر دی ہرمٹ" (Peter the Hermit) کے واقعے سے ملتا ہے۔ اس نے جذباتی تقریروں سے ہزاروں عام لوگوں کو اکٹھا کر لیا، لیکن ان کے پاس نہ کوئی فوجی تربیت تھی اور نہ ہی کوئی جنگی منصوبہ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پہلی ہی مڈبھیڑ میں ختم ہو گئے۔ ڈاکٹر حسن یہاں آج کے مسلمانوں کو "کوکا کولا مسلم" بننے سے ڈراتے ہیں—یعنی وہ جو جذبات میں ابال تو دکھاتے ہیں لیکن جن کے پاس کوئی مستقل مزاجی یا ٹھوس منصوبہ نہیں ہوتا۔
3. مسلمانوں کی عبرتناک شکست کے اسباب
ویڈیو میں مسلمانوں کی شکست کے تین بڑے اسباب بیان کیے گئے ہیں:
* خانہ جنگی اور کرسی کی ہوس: حلب اور دمشق کے حکمران بھائی ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ ان کی آپسی دشمنی نے صلیبیوں کے لیے راستہ صاف کر دیا ۔
* دشمن کو کم تر سمجھنا: قلج ارسلان جیسے حکمرانوں نے ابتدائی کامیابی کے بعد دشمن کو کمزور سمجھا اور غفلت برتی، جس کا خمیازہ انہیں انطاکیہ اور دیگر شہروں کے سقوط کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
* غداری اور مفاد پرستی: جب موصل کے حکمران کربوغا نے ایک بڑا لشکر جمع کیا، تو عین جنگ کے موقع پر حلب اور دمشق کے حکمران اس خوف سے پیچھے ہٹ گئے کہ کہیں کربوغا جیت کر زیادہ طاقتور نہ ہو جائے۔
4. سقوطِ بیت المقدس کا المیہ
جب صلیبی بیت المقدس میں داخل ہوئے، تو انہوں نے وہ بربریت دکھائی جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ مسجدِ اقصی کے اندر ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا، یہودیوں کو ان کی عبادت گاہوں میں زندہ جلا دیا گیا اور شہر کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہہ گئیں ۔
آج کے لیے سبق
ڈاکٹر حسن علوان کا کہنا ہے کہ اس وقت کا سب سے بڑا دشمن بیرونی نہیں بلکہ اندرونی تھا: مال کی محبت، عہدے کا لالچ اور نظم و ضبط کی کمی۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب قاضی الہروی نے بغداد جا کر لوگوں کو جھنجھوڑا تو لوگ روئے تو بہت، لیکن عملی طور پر کچھ نہ ہوا ۔
نتیجہ: یہ ویڈیو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صرف نعروں اور آنسوؤں سے تقدیر نہیں بدلتی۔ صلاح الدین ایوبی کی فتح سے پہلے ایک پوری نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت کی گئی تھی۔ اگر ہم آج کے حالات بدلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں جذباتیت سے نکل کر علم، حکمت اور اتحاد کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں