~!~ آج کی بات ~!~

تکبر" چاہے "دولت کا" ہو یا "طاقت" کا"،
رتبے" کا یا "حیثیت" کا"،
"حسن" کا ہو یا "علم" کا
... انسان کو "رسوا کر کے" ہی چھوڑتا ہے۔

"اللہ والے" انا والے" نہیں ہوتے
اور "انا والے" "اللہ والے" نہیں ہوتے.

منقول
~!~ آج کی بات ~!~

ہمارے اخلاق کی اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے
جب کوئی بد اخلاق انسان ہم سے ٹکراتا ہے۔

Image may contain: sky, nature and outdoor

کل رات کی گرج چمک کے بعد
حیرت ہے وہ چڑیا پھر
آج ہنستی گاتی آئی تھی
گھر اس کا بھی ہاں ٹوٹا تھا
پر اپنے رب کی حمد میں وہ
پھر مسکراتی آئی تھی
چہچہائی تھی وہ آنگن میں
تو دل یہ جیسے سنبھلا تھا
اس چڑیا سے پھر یہ میں نے
حیراں سا ہو کر پوچھا تھا
کل طوفاں تھا قیامت کا
اور گھر بھی تمہارا کچا تھا
کہو کیسے دل کو سنبھالا تھا؟
جب لرزا تمہارا بچہ تھا۔۔!
چڑیا نے مجھ ناداں کو 
دھیرے سے مسکا کر دیکھا 
پھر بولی عجب سے بولوں میں 
جس رب نے سانسیں دیں مجھ کو
جس رب نے دی حُب بچے کی
جس نے گھر دیا ۔۔ مجھکو کچا
اسی رب نے طوفاں بھیجا تھا
میں واویلہ کیونکر کرتی
جب مالک سر پر بیٹھا تھا
جس رب کے پاس سے آئے ہیں 
اسی رب کے پاس تو جانا ہے
تو اس دنیا میں بس جانا کیا؟
یہ خوف نہیں ہے ساتھ میرے
مر جاؤں گی ۔۔ تو کیا ہو گا
گر یہاں ہوں، ہے وہ ساتھ میرے
مر جاؤں، اس کے 'کُن' سے ہو گا
تم نے پوچھا مجھ سے حیرت سے
کل طوفاں تھا قیامت کا
کہو کیسے خود کو سنبھالا تھاَ؟
ارے پگلی سی لڑکی سن لو۔۔!
جس رب نے طوفاں بھیجا تھا
اسی رب نے مجھے سنبھالا ہے۔۔!
یہ کہہ کر وہ چڑیا اُڑ دی
اور میری نم سی آنکھوں میں
مسکراتی قوسِ قزح بھر دی
ہاں جس رب نے طوفاں بھیجا ہے
وہی رب مجھ کو سنبھالے گا
جو یہاں تلک لایا ہے
وہی آگے بھی لے جائے گا
اک سرگوشی سی دل میں ابھری
کچھ ہو جائے کچھ بھی ہو حال
بس تم رب کی بن کر بندی رہنا
 جو لایا ہے، لے جائے گا
تم اس کے پاس سے آئی تھیں، 
تمہیں اس کے پاس ہی جانا ہے
اب بھی ہے وہی ساتھ یہاں
محسوس اگر تم کر دیکھو
تو دل کا کیا اٹکانا یوں
یوں طوفاں سے گھبرانا کیوں
ہر حُب بھی اسکے 'کن' سے ہے
ہر طوفان اس کا ارادہ ہے
کیسی  وحشت جھنجھلانا کیا
بس تم بن کر رب کی بندی رہنا
سنو!
 ہر حال میں اسکی حمد کہنا۔۔!

~!~ آج کی بات ~!~

"گھبراہٹ پر صبر کے ذریعے غلبہ پاؤ کیونکہ گھبرا جانے سے اجر ضائع ہو جاتا ہے اور مصیبت کی ناگواری بڑھ جاتی ہے -"

خطبہ جمعہ مسجد نبوی
از پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل
بشکریہ: اردو مجلس

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہنے 28 جمادی ثانیہ 1439ہجری کا خطبہ جمعہ "خود احتسابی ،،، مفہوم، اہمیت اور فوائد" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسانی فلاح و بہبود کا راز خود احتسابی میں پنہاں ہے، متعدد قرآنی آیات ،احادیث اور سلف صالحین کے اقوال زریں کے مطابق اگر کوئی شخص خود احتسابی کی عادت ڈال لے تو وہ کامیاب و کامران ہو جاتا ہے؛ کیونکہ احتساب کی وجہ سے مومن کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے اعمال کتاب و سنت کی روشنی میں پایہ تکمیل کو پہنچیں، انہوں نے کہا کہ خود احتسابی کا بہترین مظہر یہ بھی ہے کہ انسان اپنی زبان کو لگام دے کر رکھے؛ کیونکہ یہ انسان کو ہلاکت میں ڈال سکتی ہے، اور زبان سے نکلنے والے الفاظ لکھنے کیلیے فرشتے بھی مقرر ہیں جو ہر لفظ کو لکھ رہے ہیں، اسی لیے صحابہ کرام اور سلف صالحین اپنی زبان پر بہت زیادہ کنٹرول کرتے تھے۔ خطیب محترم نے یہ بھی کہا کہ: دل میں آنے والے خیالات کا محاسبہ بھی ضروری ہے؛ کیونکہ کسی بھی گناہ کی اکائی یہی خیالات ہوتے ہیں اگر انہیں ابتدا میں ہی جھٹک دیا جائے تو انسان گناہ سے بچ جاتا ہے بصورت دیگر گناہ میں ملوث ہو جانے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں، قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شیطان بھی سب سے پہلے خیالات پر ہی حملہ آور ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص ایسے شیطانی حملے کے وقت اللہ کو یاد کر لے تو شیطان کے حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ زندہ دل شخص وہی ہے جس کو نیکی اچھی لگے اور برائی سے نفرت ہو، نیز دنیاوی فراوانی کو اپنے لیے تکریم نہیں سمجھنا چاہیے؛ کیونکہ فراوانی اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش بھی ہو سکتی ہے، اسی لیے انسان کو دن رات، ہفتہ وار، اور سالانہ بنیادوں پر اپنا احتساب جاری رکھنا چاہیے، جبکہ مومن کا دل ہمیشہ زندہ رہتا ہے کیونکہ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، گناہ ہو جائے تو توبہ کر لیتا ہے، اور اگر کوئی مصیبت آن پڑے تو صبر سے کام لیتا ہے اور یہی زندہ دلی کی علامت ہے، پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

منتخب اقتباس:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور گناہوں کو مٹاتا ہے، اسکی رحمت و علم ہر چیز پر حاوی ہے، اپنے فضل سے نیکیاں زیادہ اور نیک لوگوں کے درجات بلند فرماتا ہے، اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، آسمان و زمین میں کوئی بھی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، اللہ تعالی نے ذاتی مدد اور معجزات کے ذریعے انکی تائید فرمائی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

اللہ کے بندو!

ذہن نشین کر لو! انسان کی فلاح و بہبود اپنے نفس کو قابو رکھنے میں ہے، چنانچہ محاسبہ نفس، اور کسی بھی قول و فعل پر مشتمل چھوٹے بڑے کام میں اس کی مکمل نگرانی ضروری ہے، لہذا جس شخص نے محاسبہ نفس، اور اپنے قول و فعل پر رضائے الہی کے مطابق مکمل قابو رکھا ، تو وہ بڑی کامیابی پا گیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى[40] فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} 
اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اور نفس کو خواہشات سے روکا [40] تو بیشک جنت ہی اسکا ٹھکانہ ہوگی[النازعات : 40-41]

اسی طرح فرمایا: 
{وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} 
اور اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرنے والے کے لیے دو جنتیں ہیں۔[الرحمن : 46]

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ}
 اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی [القيامہ : 2]
 مفسرین کا کہنا ہے کہ : اللہ تعالی نے ایسے نفس کی قسم اٹھائی ہے جو واجبات میں کمی اور بعض حرام کاموں کے ارتکاب پر بھی اپنے آپ کو اتنا ملامت کرتا ہے کہ نفس سیدھا ہو جائے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص اللہ تعالی اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے، یا پھر خاموش رہے) بخاری و مسلم، یہ چیز محاسبہ نفس کے بغیر نہیں ہو سکتی۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "احتساب شروع ہونے سے پہلے اپنا محاسبہ کر لو، اپنا وزن کر لو اس سے پہلے کہ تمہارا وزن کیا جائے، اور بڑی پیشی کے لیے تیاری کرو"

میمون بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں: " متقی افراد اپنے نفس کا احتساب کنجوس شراکت دار سے بھی زیادہ سخت احتساب کرتے ہیں"

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "مومن اپنے گناہوں کو پہاڑ کی چوٹی پر سمجھتا ہے، اور اندیشہ رکھتا ہے کہ وہ اس پر آ گریں گے، جبکہ فاجر اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح سمجھتا ہے، جو اس کی ناک پر بیٹھے تو ایسے اڑا دے، یعنی: ہاتھ کے اشارے سے اڑا دیتا ہے" بخاری

مومن شخص خود احتسابی اور نگرانی جاری رکھتے ہوئے اچھی حالت پر نفس کو قائم رکھتا ہے، وہ اپنے افعال کا محاسبہ کرتے ہوئے عبادات اور اطاعت گزاری کامل ترین شکل میں بجا لاتا ہے، جو اخلاص سے بھر پور، بدعات، ریاکاری ، خود پسندی سے پاک ہوتی ہیں، اپنے نیک اعمال کے ذریعے رضائے الہی اور اخروی زندگی کی تلاش میں رہتا ہے۔

 اللہ تعالی نے فرمایا: 
{وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} 
اور جو شخص کوشش کرتا ہے بیشک وہ اپنے لئے ہی کوشش کرتا ہے، بیشک اللہ تعالی تمام جہانوں سے غنی ہے۔ [العنكبوت : 6]

فضل بن زیاد کہتے ہیں: "میں نے عمل میں نیت کے بارے میں امام احمد سے پوچھا: "نیت کیسے ہوتی ہے؟" تو انہوں نے کہا: "عمل کرتے ہوئے اپنے نفس کا خیال کرو کہ عمل سے لوگوں کی خوشنودی مراد نہ ہو"

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص نے ریاکاری کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا، جس نے ریا کاری کے لیے صدقہ کیا اس نے شرک کیا) احمد، حاکم، اور طبرانی نے معجم الکبیر میں اسے روایت کیا ہے۔

مومن اپنی بول چال کا بھی احتساب کرتا ہے، چنانچہ اپنی زبان کو غلط اور حرام گفتگو کیلیے بے لگام نہیں کرتا، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ دو فرشتے اس کی ایک ایک بات کو لکھ رہے ہیں، لہذا اس کے کیے ہوئے ہر عمل پر اسے بدلہ دیا جائے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ (10) كِرَامًا كَاتِبِينَ (11) يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ } 
اور بیشک تم پر محافظ مقرر ہیں [10]وہ معزز لکھنے والے ہیں[11] اور جو بھی تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں [الانفطار : 10 - 12]

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بےشک آدمی رضائے الہی پر مشتمل ایک کلمہ بولتا ہے، اور اس کی پرواہ نہیں کرتا، اللہ تعالی اس کلمے کے بدلے میں اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے، اور بے شک آدمی غضبِ الہی پر مشتمل ایک کلمہ بولتا ہے، اور اس کی پرواہ نہیں کرتا، اللہ تعالی اس کلمے کے بدلے میں اسے جہنم میں ڈال دیتا ہے) بخاری

اسی طرح مسلمان پر یہ بھی واجب ہے کہ اپنے خیالات کا محاسبہ کرے، اور دل میں آنے والے شکوک و شبہات کا مقابلہ کرے؛ اس لئے کہ خیر ہو یا شر ان کی ابتدا دل میں آنے والے خیالات سے ہوتی ہے، چنانچہ اگر مسلمان دل میں آنے والے برے خیالات پر قابو پا لے، اور اچھے خیالات پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عملی جامہ پہنائے تو وہ فوز و فلاح پاتا ہے، اور اگر شیطانی وسوسوں اور خیالات کو مسترد کرتے ہوئے شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ چاہے تو گناہوں سے سلامت رہ کر نجات پاتا ہے۔

اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (شیطان اپنی لگام کو ابن آدم کے دل پر رکھے ہوئے ہے، اگر وہ اللہ کو یاد کر لے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور اگر اللہ کو بھول جائے تو اس کے دل کو لگام ڈال دیتا ہے، یہی مطلب ہے "وسواس الخناس" کا) مسند ابو یعلی موصلی

اور جس شخص نے خواہش نفس کی پیروی کی ، قرآن سے روگرداں رہا، اور دل نے جو چاہا گناہ کیا، شہوت پرستی میں ڈوبا رہا، اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا، شیطان کو اپنی قیادت سونپی ، تو شیطان اسے ہر بڑے گناہ میں ملوث کر دے گا، اور پھر وہ شیطان کیساتھ درد ناک عذاب میں مبتلا رہے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا}
 جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اس کے پیچھے مت چلو ، اور وہ خواہش پرست بن چکا ہے، اور اسکا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے[الكهف : 28]

اللہ کے بندو!

زندہ دل وہی ہے جسے نیکی اچھی اور گناہ برا لگے، جبکہ وہ دل مردہ ہے جو گناہ پر بالکل درد محسوس نہ کرے، اور کسی نیکی و اطاعت پر خوشی بھی نہ ہو، اسی طرح گناہوں پر ملنے والی سزاؤں کا احساس تک نہ ہو، چنانچہ ایسے دل کو صحت اور دنیاوی ریل پیل دھوکے میں ڈال دیتی ہے، بلکہ کبھی یہ بھی سمجھ بیٹھتا ہے کہ اسے دنیاوی نعمتیں بطور تکریم نوازی گئی ہیں، انہی کے بارے میں فرمایا: 
{أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ [55] نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ}
 کیا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان کو مال، نرینہ اولاد دے کر انکی بھلائی کا سامان جلدی سے اکٹھا کر رہے ہیں! بلکہ حقیقت کا انہیں شعور ہی نہیں ہے۔[المومنون : 56]

اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ: (دلوں کو فتنے ایسے مسلسل در پے ہوتے ہیں کہ جیسے چٹائی کے تنکے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، چنانچہ جو دل ان فتنوں کو مسترد کر دے تو اس کے دل میں ایک سفید نکتہ لگا دیا جاتا ہے، اور جو دل فتنوں کو اپنے اندر جگہ دے دے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، حتی کہ دلوں کی دو قسمیں بن جاتی ہیں، ایک بالکل صاف ستھرا دل جیسے سخت چٹان ہو، اسے زمین و آسمان کے قائم رہنے تک کوئی فتنہ نقصان نہیں دیتا، اور دوسرا دل سیاہ خاکی مائل الٹے مشکیزے کی طرح ہوتا ہے، جو نیکی کو نیکی اور برائی کو برائی نہیں سمجھتا، اسے من لگی بات ہی سمجھ میں آتی ہے)

احتیاط اور فائدے کا یہ پہلو ہے کہ انسان دن، رات، ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ محاسبہ کرے، تا کہ اسے نقصان دہ راستوں کا علم ہو، اور توبہ کر لے، اسی طرح کمی کوتاہی کو پورا کر لے، عین ممکن ہے کہ اس کی یہ کاوش اللہ کے ہاں قابل ستائش ٹھہرے، اور حسن خاتمہ کا موقع مل جائے۔

مومن ہمیشہ زندہ دل، صاحب بصیرت ہوتا ہے، اگر اسے کچھ مل جائے تو شکر، گناہ کرے تو استغفار، مصیبت آن پڑے تو صبر کرتا ہے۔

مومن کے دل میں ضمیر غفلت سے بیدار ، اور تباہی کی جگہوں سے چوکنا رکھنے کیلیے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط مستقیم کھینچا، اور اس کی دونوں جانب خطوط کھینچے، خط کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے، اور اس سے اوپر ہے واعظ ہے، "خط مستقیم" سے مراد اللہ کا راستہ ہے، اس کے سرے پر "پکارنے والے" سے مراد : کتاب اللہ ہے، اور اس سے اوپر نصیحت کرنے والا واعظ ، ہر مومن کے دل میں موجود نصیحت کرنے والا ضمیر ہے، جبکہ دائیں بائیں خطوط گمراہی ، اور حرام کاموں کے راستے ہیں)

یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمارے تمام گناہ معاف فرما دے، یا اللہ! ہمارے اگلے پچھلے، خفیہ اعلانیہ، اور جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے تمام گناہ معاف فرما، تو ہی تہہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

یا اللہ! ہمارے سب معاملات کے نتائج بہتر فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمارے دلوں کو نفاق سے پاک فرما، ہمارے اعمال کو ریاکاری سے محفوظ فرما، ہماری زبانوں کو جھوٹ سے تحفظ عطا فرما اور ہماری آنکھوں کو خیانت سے بچا، یا رب العالمین!
~!~ آج کی بات ~!~

اپنی زندگی کے اکاؤنٹ میں دو آپشن ہمیشہ کھلے رکھیے
 اپنی غلطی تسلیم کرنا 
اور
 دوسروں کو معاف کر دینا


~!~ آج کی بات ~!~

تیرا جسم تیرے رب کی نعمت.. اور امانت۔
امانت: یعنی اُسکے آگے جوابدہی!



مسجد حرام کے امام و خطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی حفظہ اللہ
جمۃ المبارک 28 جمادی الاخرہ 1439 ھ بمطابق 16 مارچ 2018
ترجمہ: محمد عاطف الیاس

منتخب اقتباس:

الحمداللہ! ہر طرح کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ معاف کرنے والا اور بہت عزت والا ہے۔ وہی دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن لاتا ہے۔ اسی کا فرمان ہے:
’’اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں۔‘ (سورۃ الانعام: 96)

اے امت اسلام!
انسان زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ پہلے بچپن کی کمزوری دیکھتا ہے جس میں وہ انتہائی بے بس ہوتا ہے۔ پھر وہ نوجوانی کی عمر کو پہنچتا ہے اور پھر چند ہی سال گزرتے ہیں کہ اسے پھر دوبارہ کمزوری دیکھنا پڑتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الروم: 54)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمزور لوگوں کے ساتھ اچھا تعامل کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ چاہے وہ کمزور لوگ چھوٹے ہوں یا بڑے، بچے ہوں یا بوڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ان لوگوں کے ساتھ اچھا تعامل کرتے تھے اور لوگوں کو بھی ان کے ساتھ بھلے طریقے سے پیش آنے کی تلقین کرتے تھے۔

سنن ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو! آپ کو رزق اور نصرت کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی ملتی ہے۔

یعنی اگر میری محبت چاہتے ہو اور میری قربت کے خواہشمند ہو تو کمزور لوگوں کا خیال رکھو، ان کے احوال جانتے رہو اور ان کے حقوق محفوظ رکھو، ان کے ٹوٹتے دل جوڑتے رہو اور ان کے ساتھ قول و عمل میں اچھا معاملہ کرو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ بچوں کے ساتھ بڑی نرمی سے پیش آتے تھے۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی شخص کو بچوں کے ساتھ نرمی کرنے والا نہیں پایا۔

اسی طرح صحیح بخاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا جو اپنے بچوں کو چومتا نہیں تھا کہ: اگر اللہ تعالی نے تیرے دل سے رحمت نکال ہی دی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے ان کے بچپنے کا خیال رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ انہیں کھیل کود کی ضرورت ہے۔ چنانچہ وہ ان کو سکھاتے مگر جھڑکتے نہیں تھے، انہیں یاد دہانی کراتے مگر سختی نہ کرتے

اے امت اسلام!
جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے بچوں کے ساتھ رحمت والا معاملہ کرنے کی تلقین کی ہے اسی طرح اپنے بڑوں کا احترام کرنے اور ان کے ساتھ بھی نرمی والا معاملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ ہو تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بوڑھا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتا ہوا آیا تو مجلس میں بیٹھے لوگوں نے اس بوڑھے آدمی کے لیے جگہ بنانے میں تھوڑی تاخیر کردی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑے اس کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
اسے امام ترمذی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

یعنی جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی قدر اور عزت نہیں کرتا اور ان کے بڑھاپے کا خیال کرتے ہوئے اور اسلام میں گزری ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے انہیں آگے نہیں کرتا وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
بھلا ہم عمر رسیدہ لوگوں کی عزت کیسے نہ کریں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ
’’بزرگ مسلمان کی عزت اللہ تبارک وتعالیٰ کے اجلال کا حصہ ہے۔‘‘
اسے امام ابوداؤد نے حسن درجہ کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

ہم اپنے بڑوں کی عزت کیوں نہ کریں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
آپ کے بڑوں کی وجہ سے ہی آپ کو برکت ملتی ہے۔ اسے ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

تو اے خیر اور برکت کے متلاشیو! بڑوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرکے برکت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ کیوںکہ ایسا کرنے سے انسان نیکی اور احسان بھی کرتا ہے اور اسے اچھا مشورہ بھی ملتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ نیک لوگوں کی صحبت بھی نصیب ہوتی ہے۔

اے ہمارے بزرگو!
اللہ آپ کی کمزوری پر رحم فرمائے! آپ کی مشکلات آسان کرے! آپ کی نیکیوں کو بڑھائے۔ آپ نے بہت محنت کی ہے، ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے، ہماری تربیت کی ہے اور ہمیں تعلیم دی ہے۔ اگر اس دنیا میں آپ کی محنت کو بھلا دیا گیا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اسے کبھی نہ بھولے گا۔ اگر لوگ آپکی نیکی کا بدلہ نہیں دیتے تو یاد رکھیے کہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کے پاس بہترین جزا ہے۔
جزا بھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسا عمل ہو۔ جو بڑوں کی عزت کرتا ہے اللہ تعالی اسے لمبی زندگی نصیب فرما تا ہے اور اسے ایسے لوگوں کی صحبت نصیب فرماتا ہے جو بڑھاپے میں اس کی عزت کریں۔

اللہ کے بندو!
بڑوں کے حقوق یہ ہیں کہ ان کا اکرام کیا جائے، ان کی عزت کی جائے، انہیں اپنی مجلسوں میں موزوں ترین جگہ پر بٹھا کر ان سے مجلسیں سجائی جائیں، انہیں بیٹھنے کے لئے بہترین جگہ دی جائے، انہیں ان ناموں سے پکارا جائے جو انھیں سب سے زیادہ پسند ہوں، ان سے ملتے وقت مسکرا کر ملا جائے، ان کی غلطیوں سے درگزر کیا جائے اور ان کی بھلائیوں کا ذکر کیا جائے۔ بزرگوں کو ماضی کے کارناموں کے ذکر اور تعریف کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو! اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ تھکاوٹ اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے جسم کو کمزوری لاحق ہوجاتی ہے اور اس وجہ سے اس کے صبر میں کمی اور زبان میں تیزی آجاتی ہیں۔ اس سب کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بڑا ہی اچھا معاملہ کرتے تھے، ان کا دل لگائے رکھتے تھے اور ان کے ساتھ بڑی حکمت سے چلتے تھے۔

اللہ کے بندو! بزرگوں کا خیال کرنا اور ان کے کام آنا ایک بہترین عبادت ہے، مصیبتیں دور کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ بالخصوص جبکہ وہ بزرگ ہمارے اپنے والدین ہوں۔ ان کا خیال رکھنے سے بہت سی مشکلات بھی آسان ہو جاتی ہیں۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں وہ حدیث آئی ہے کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین لوگوں کے متعلق بتایا کہ جو سفر میں بارش سے بچنے کے لیے کسی غار میں گھس گئے اور ایک بڑے پتھر نے غار کا منہ بند کر دیا۔ پھر تینوں نے اپنے اپنے نیک اعمال کا ذکر کرکے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ ان تینوں میں سے ایک نے اپنا نیک عمل یہ ذکر کیا تھا کہ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرتا تھا۔ یہ عمل اس غار سے ان کی نجات کا باعث بن گیا۔
بوڑھے والدین کے کام کرنا اور ان کا خیال رکھنا تو جہاد فی سبیل اللہ کی ایک قسم ہے۔

فرمان الہی ہے:
’’تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔ اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ پروردگار! ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔‘‘(سورۃ الاسراء: 23۔ 24)

بعد ازاں! اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
طویل زندگی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جو اپنے بندوں میں سے چنیدہ لوگوں کو عطا فرماتا ہے۔ تو اللہ کے بندو! اس نعمت کو ان کاموں میں استعمال کرو کہ جو آپ کا عزت بنائیں اور آپکے رب کو راضی کریں۔ گزشتہ عمر میں جو کوتاہیاں ہوئیں ہیں اس کا کفارہ ادا کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کرو کیونکہ اس عمر کا باقی حصہ شاید گزشتہ حصے سے سے زیادہ نہ ہو گا۔
اپنی زندگی کے آخری ایام کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت پر لگائیں، کیونکہ اعمال کا دارومدار ان کے آخری حصے پر ہے۔ جو کسی کام کو کرتے ہوئے زندگی گزار دیتا ہے وہ اسی کام کو کرتے ہوئے مرتا ہے اور جو کوئی کام کرتے ہوئے مرتا ہے وہ اسی کام کو کرتے ہوئے پھر اٹھایا جاتا ہے۔ انسان اپنی لمبی زندگی کی وجہ سے مجاہد فی سبیل اللہ سے بھی بڑا اجر پا سکتا ہے۔

وہ شخص مبارکباد کا مستحق ہے کہ جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے طویل عمر دی ہو اور اس نے نیک اعمال میں اپنی زندگی گزاری ہو اور اس شخص کی بدبختی کے متعلق کیا کہا جا سکتا ہے کہ جسے اللہ تبارک و تعالی نے طویل عمر، کشادہ رزق اور تندرستی دی ہو مگر وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو راضی کرنے والے اعمال نہ کرتا ہو۔

ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول! کونسا شخص بھلا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کی عمر طویل اور عمل نیک ہو۔ دریافت کیا گیا کونسا شخص برا ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل برا ہو۔‘‘ اسے امام ترمذی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم اور احسان کے واسطے سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں طویل زندگی عطا فرمائے اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے! یقینًا! وہ دعا سننے والا اور مراد پوری کرنے والا ہے۔
~!~  آج کی بات ~!~

حق اگر لوگوں کو اکٹھا نہ کر پائے تو باطل ان کو ٹولے اور پارٹیاں کر دے گا۔

محمد الغزالی



~!~ آج کی بات ~!~ 

دوسروں پر نظر رکھنے سے بہتر ہے آپ خود پر نظر ثانی کریں۔
~!~ آج کی بات ~!~

‎پہلے وقتوں میں سمجھانے والا ایک اور سمجھنے والے سینکڑوں ہوتے تھے.مگر، آج کل ہر کوئی سمجھانے والا ہے 

سمجھنے والا کوئی نہیں!!
از  ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان 

ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 21 جمادی ثانیہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں " گناہوں کے فرد اور معاشرے پر مضر اثرات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کر کے اسے عقل و خرد سے نوازا تا کہ ان کی کارکردگی کو پرکھا جا سکے، اللہ تعالی نے دنیا کو آزمائش کی جگہ قرار دیا اور یہ عارضی زندگی ہے جبکہ آخرت کو بدلے کا مقام بنا کر اسے سرمدی بنا دیا، وہاں پر یا تو جنت ملے گی یا جہنم۔ انسان کو دنیا میں ہر اعتبار سے آزمایا جاتا ہے، خود انسان کے اندر نفس امارہ اس کی آزمائش کا باعث ہے اور کل روزِ قیامت انسانی اعضا ہر بد عملی کی گواہی بھی دیں گے، انہوں نے کہا کہ: گناہوں میں ملوث ہو کر انسان اللہ تعالی کی ناراضی اور عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے، سابقہ بہت سی خوشحال اور ترقی یافتہ اقوام گناہوں کی وجہ سے نیست و نابود ہوئیں۔ پھر انہوں نے اعلانیہ گناہ کی شرعی اعتبار سے سخت مذمت فرمائی کہ انہیں معاف نہیں کیا جائے گا، اسی طرح معمولی گناہوں پر تسلسل انہیں بھی مہلک بنا دیتا ہے، نیز صغیرہ گناہوں کا رسیا شخص بھی کل قیامت کے دن پریشان ہو گا۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ اعلانیہ گناہ کرنے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فقدان کے باعث پورا معاشرہ اللہ کی پکڑ کا شکار ہو سکتا ہے؛ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نیکی کا حکم بہترین سلیقے سے دیا جائے اور برائی سے روکتے ہوئے بھی عمدہ اسلوب اپنانا لازمی ہے، انہوں نے کہا کہ: ہر ذمہ دار شخص پر اپنے ماتحت افراد کی صحیح انداز میں تربیت از بس ضروری ہے، وگرنہ یہی لوگ اس کے خلاف ہوں گے، نیز اگر وہ راہ راست پر چلتے ہیں تو ذمہ دار شخص کو بھی برابر کا ثواب ملے گا، آخر میں انہوں نے جدید رابطے کے ذرائع سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے، جو چیز کل تک گناہ تھی وہ آج عرف بن چکی ہے، اور جو چیز نیکی ہے وہ آج رجعت پسندی کہلانے لگی ہے، اس لیے اپنے آپ کو سنت طریقے پر کار بند رکھیں۔ پھر سب سے آخر میں انہوں نے جامع دعا فرمائی۔

منتخب اقتباس:

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی نے آپ کو تمام جہان والوں کیلیے رحمت بنا کر بھیجا، اللہ تعالی نے آپ کے ذریعے شرح صدر فرمائی، ذہنوں کو روشن فرمایا، نابینا آنکھوں کو بینائی ،بہرے کانوں کو سماعت اور پردوں میں پڑے دلوں کو آزاد کر دیا، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمت نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اطاعت گزاری حکم کی تعمیل اور اتباع کا نام ہے، جبکہ نافرمانی حکم عدولی اور بدعات پر عمل کرنے کا نام ہے، بد ترین امور بدعات، خود ساختہ طریقے، نافرمانیاں اور گناہ ہیں، ان میں سے شدید ترین آزمائش شہوت اور شبہات کی وجہ سے آتی ہے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے انسان کو پیدا فرمایا، اسے عقل اور زبان عطا کی ، اسے شرعی احکام کا مخاطب بنایا اور قوت گویائی سے نوازا، اللہ تعالی نے دلائل کے ساتھ رسولوں کو مبعوث کیا، انہیں کتاب اور میزان بھی عطا کیا، اللہ تعالی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ تمہیں آزمائے کہ کون کارکردگی کے اعتبار سے اچھا ہے۔

اللہ تعالی نے انسان کو رضائے الہی کی موجب بننے والی اطاعت کیلیے پیدا کیا ہے ، اور ناراضی کا باعث بننے والی نافرمانی سے روکا ہے، 
{فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ}
 ذرہ برابر خیر کا عمل کرنے والا بھی اپنا عمل دیکھ لے گا [7]اور جو ذرہ برابر بد عملی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔[الزلزلہ: 7، 8]

اللہ تعالی نے متقین کے لیے جنتیں بنائیں اور اس کے نیچے نہریں جاری کیں، جنتی اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان جنتوں میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے ابھی تک نہیں دیکھا، ان کے بارے میں کسی کان نے سنا نہیں ہے اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال تک پیدا ہوا ہے، اس کے مقابلے میں کافروں کے لیے جہنم پیدا کی، جہنم کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی، چمڑی جھلسا کر رکھ دے گی، کافر اس میں نہ ختم ہونے والی صدیوں تک رہیں گے، انہیں وہاں ٹھنڈا یا پینے کی کوئی چیز چکھنے کو بھی نہیں ملے گی، صرف گرم کھولتا ہوا پانی اور جہنمیوں کا نچوڑ ملے گا ، یہ ان کی کارستانیوں کا پورا پورا بدلہ ہو گا۔

اللہ کے بندو!

شہوت اور شبہات کے ذریعے انسان پرکھا جا رہا ہے، انسان خود لذتوں اور آسائشوں میں ڈوبا ہوا ہے، گناہوں اور سیاہ کاریوں میں ملوث ہے، انسان پر اس کے دشمن اور مخالفین مسلط ہیں، [ان دشمنوں میں ]شیطان انسان کا رقیب اور ازلی دشمن ہے، پھر نفس امارہ انسان کے جسم میں پیوست ہے، اور انسانی اعضا خود انسان کے خلاف گواہی بھی دیں گے۔

مسلم اقوام!

گناہوں میں ملوث ہونا نقصان دہ اور ضرر کا باعث ہے، ان کی وجہ سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے ، اور یہ عذاب الہی کا موجب بنتے ہیں، نیز یہ اللہ کی پکڑ اور بلائیں نازل ہونے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں،
 {وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُكْرًا (8) فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا (9) أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فَاتَّقُوا اللَّهَ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ}
 کتنی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان کا بڑا سخت محاسبہ کیا اور انہیں بری طرح سزا دی [8] چنانچہ انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھ لیا اور ان کے کام کا انجام خسارہ ہی تھا۔[9] ان کے لئے اللہ تعالی نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل والو۔ [طلاق: 8 - 10]

لہذا مسلمانوں کو جتنی بھی آزمائشوں ، تکلیفوں، مصیبتوں ، مہنگائی، دشمنوں کے تسلط، قحط سالی، بیماریوں، آلام اور بلاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ سب کچھ گناہوں، سیاہ کاریوں، بد کاریوں اور بد اعمالیوں کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔

اللہ تعالی نے عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے مثالیں بھی ذکر کی ہیں، اور نشانیاں بھی کھول کھول کر بتلائی ہیں تو کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ اللہ تعالی نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ گناہ اور نافرمانیاں نعمتوں کے زوال اور آفتوں کے نزول کا سب سے بڑا سبب ہیں، چنانچہ فرمایا: 
{وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ}
 اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے۔ جو امن و چین سے رہتی تھی اور ہر طرف سے اس کا رزق اسے فراوانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کا مزا یہ چکھایا کہ ان پر بھوک اور خوف (کا عذاب) مسلط کر دیا۔ [النحل: 112]

غور کریں کہ مخلوق جس وقت اللہ تعالی کی نا فرمانی کرتی ہے تو اللہ کے ہاں کس قدر بے وقعت ہو جاتی ہے!

اللہ کے بندو!

گناہوں کے خطرات ، خدشات، سیاہ کاریوں کی سزا اور پکڑ اس وقت انتہائی شدت اختیار کر جاتی ہے جب گناہ معمول بن جائیں اور لوگ اعلانیہ طور پر گناہ کرنے لگیں، [اور نعوذ باللہ]سر عام اللہ تعالی کو دعوت مبارزت دیں، حالانکہ حدیث میں واضح ہے کہ : (ساری امت محمدیہ کو معاف کر دیا جائے گا ما سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے) متفق علیہ

اعلانیہ گناہ اللہ تعالی کے حقوق کی پامالی کے ساتھ اللہ تعالی کے سامنے گناہ کرنے کی جسارت بھی ہے، اس میں مومنوں کے خلاف عناد ہے، اس طرح سیاہ کاروں کی نفری میں اضافہ ہوتا ہے، اور گناہوں کے منفی اثرات دوسروں تک پہنچتے ہیں، اعلانیہ گناہ سے دوسروں کو بھی گناہ کی دعوت اور ترغیب ملتی ہے، اگر اعلانیہ گناہ پر کوئی نہ ٹوکے تو وہ بھی گناہ گار ٹھہرتا ہے، اگر کسی کو گناہوں کی لت پڑ گئی ہے تو وہ اپنے آپ پر پردہ رہنے دے اور جلد از جلد توبہ کر لے۔

مسلم اقوام!

گناہوں پر اصرار، سیاہ کاریوں میں آگے بڑھتے چلے جانا، برائیوں میں ڈوبتے جانا، گناہ کر کے مسرت کا اظہار کرنا اور اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہو جانا، گناہوں کو معمولی سمجھنا یہ انسان کے غافل اور اللہ تعالی کے ناراض ہونے کی علامت ہے، یہ امور بدبختی اور تباہی کا باعث ہیں، چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اپنے آپ کو معمولی گناہوں سے بچاؤ؛ کیونکہ معمولی گناہ انسان کے خلاف جمع ہوتے ہوتے اسے تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں) ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال ذکر کرتے ہوئے فرمایا:"(اس کی مثال ایک مسافر جماعت کی ہے وہ کسی چٹیل میدان میں پڑاؤ ڈالتے ہیں اور کھانا تیار کرنے کا وقت آ جاتا ہے، اس پر ہر شخص ایک ایک لکڑی تلاش کر کے لاتا ہے، اس طرح لکڑیوں کا ایک انبار جمع ہو جاتا ہے، وہ ان میں آگ لگاتے ہیں اور اس پر اپنا کھانا پکا لیتے ہیں ) احمد

مسلم اقوام!

اس وقت گناہوں کے نقصانات بہت سنگین اور درد ناک ہوں گے، گناہوں کی سزا اور تکلیف بہت بڑی اور خوف زدہ کر دینے والی ہو گی جب گناہوں کو نیکی سمجھ لیا جائے، لوگ بھی گناہوں کو بطور نیکی قبول کر لیں؛ کیونکہ ایسے میں کوئی بھی گناہ سے روکنے والا اور نیکی کا حکم دینے والا نہیں ہو تا:

ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب لوگ برائی کو دیکھ کر ختم نہ کریں تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالی ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے)

اس لیے امت محمدیہ! نیکی کا حکم سلیقے سے دو، اور برائی سے اچھے طریقے کے ذریعے روکو: (جو تم میں سے برائی کو دیکھے تو وہ اپنے ہاتھ سے اسے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پھر اپنے دل میں اسے برا جانے، یہ کمزور ترین ایمان ہے۔)

تم سے تمہارے گھرانے اور ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے، اس لیے اپنی خواتین اور بیٹوں کے متعلق اللہ سے ڈور، انہیں اللہ کی شریعت کے احکامات سکھلاؤ، اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں سے روکو، ان کی اعلی اخلاقی اقدار پر تربیت کرو؛ کیونکہ کل تم سے اللہ کے سامنے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، وہ تمہارے خلاف گواہی بھی دیں گے، ان کی گواہی لکھی بھی جائے گی اور باز پرس بھی کیا جائے گا
 {يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ (11) وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ (12) وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ (13) وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنْجِيهِ}
 جس دن مجرم یہ تمنا کرے گا کہ اس دن کے عذاب کے عوض اپنے بیٹوں، بیوی ، بھائی، اور سہارا دینے والا کنبہ قبیلہ بلکہ زمین کی ہر چیز دے دے صرف اس لیے کہ اسے نجات مل جائے۔ [المعارج: 11 - 14]

جس کسی سرپرست کو اللہ تعالی ذمہ داری سونپے اور وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ دھوکا دہی کرے تو اللہ تعالی نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔

اور جو شخص اپنے اہل خانہ کی اصلاح کے لیے کوشش کرے، اپنے ماتحت افراد کی شریعت الہی کے مطابق تربیت کرے، ان کے دلوں میں ایمان پیدا کرے تو اس کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہو گا جتنا تربیت پانے والوں کو عمل کا ملے گا، نیز ان کے ثواب میں سے کسی قسم کی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔

مسلم اقوام!

مغرب پسندی اس وقت گھروں میں آ دھمکی ہے، باہمی رابطے کے آلات نے اقدار کو منہدم کر کے اخلاقیات کو خراب کر دیا ہے، چنانچہ کل تک جو چیز گناہ تھی وہ آج عرف بن چکی ہے، اور جو چیز کل تک نیکی تھی وہ آج پسماندگی ، رجعت پسندی اور شاذ بن چکی ہے۔

ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: "ابو عبد اللہ! ہمیں کوئی نصیحت کر دیں، تو حذیفہ نے کہا: تمہارے پاس ابھی تک یقینی خبر نہیں آئی؟ تو ابو مسعود نے کہا: میرے رب کی عزت کی قسم! کیوں نہیں، وہ تو آ چکی ہے۔ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: "یہ بات ذہن میں بٹھا لو کہ حقیقی گمراہی یہ ہے کہ تم آج کسی ایسی چیز کو نیکی سمجھنے لگو جسے تم پہلے گناہ سمجھتے تھے، یا آج کسی چیز کو تم گناہ سمجھو جس کو تم پہلے نیکی سمجھتے تھے، اپنے آپ کو مذہبی رنگ بازی سے بچانا؛ کیونکہ اللہ کا دین ایک ہی ہے""

اس لیے اللہ کے بندو! سنت طریقے پر کار بند رہو، اپنے آپ کو نت نئے امور سے بچاؤ؛ کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔

یا اللہ! ہمیں حق کی شناسائی عطا فرما اور ہمیں حق کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں باطل سے شناسا فرما اور اس سے بچنے کی توفی عطا فرما۔

یا اللہ! ایمان کو ہمارے لیے محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں مزین فرما، ہمارے اندر کفر، فسق اور نافرمانی کیلیے نفرت پیدا کر دے، اور ہمیں رشد و ہدایت والا بنا دے۔
Image result for ‫محمد صلی اللہ علیہ وسلم‬‎

آپ فخرِ رُسل سرورِ انبیاء رہبرِ کاروانِ وفا آپ ہیں
زیرِ دیوارِ کعبہ جو مانگی گئی، وہ حسیں وہ مبارک دعا آپ ہیں

کہکشاں آپ کی راہ کی دُھول ہے چاند تارے ہیں نقشِ قدم آپ کے
قابَ قوسین کی شرح کیا ہو بیاں، عرش پر جبکہ جلوہ نما آپ ہیں

آپ ہی سے خِرد کو ملی روشنی، آپ ہی سے جُنوں کو ملی آگہی
سارے عالم کے دل کی صدا آپ ہیں، نورِ یزداں ہیں خیر الوریٰ آپ ہیں

آپ ہی شافعِ یوم میزان ہیں، آپ ہی فاتحِ بابِ عدنان ہیں
جب کوئی بھی کسی کے نہ کام آئے گا اس گھڑی آخری آسرا آپ ہیں

آپ ہی آرزو آپ ہی جستجو گلشنِ دل میں ہے آپ سے رنگ و بُو
میری کُل زندگی ہو فدا آپ پر، میری ہر التجا ہر دعا آپ ہیں

آپ فرمانِ ربُ العُلیٰ کے امیں، کون ہے آپ سا اس جہاں میں حسیں
اے حرا کے مکیں، شاہ دنیا و دیں، جَگ کے بیمار دل کی دوا آپ ہیں

صلی اللہ علیہ وسلم



~!~ آج کی بات ~!~

مضبوط قوتِ ارادی خود پسندی یا ضد کا نام نہیں
مضبوط قوتِ ارادی وہ رکھتا ہے جسے اپنی کمزوریوں کا پورا ادراک ہو
Image result for fashion
سیما آفتاب


فیشن کا نام سنتے ہی عام طور پر ہمارے ذہنوں میں جدید تراش خراش کے  ملبوسات کا تصور ابھرتا ہے، جبکہ فیشن اپنے معنوں میں صرف ملبوسات سے ہی متعلق نہیں۔ اردو لغت کا جائزہ لیا جائے تو وہاں ‘فیشن’ مختلف معنوں میں بیان ہوا ہے۔

  • وضع، طرز، طور طریقہ
  • بناوٹ، تراش خراش، نمونہ
  • سج دھج، آن بان، خوش وضعی
  • (لباس کا) مروجہ انداز، جدید وضع
  • دستور، رواج
  • انداز، اسلوب
  • وہ شے یا کام جو عام طور پر مقبول عام رواج
  • وہ کام جو مروجہ رسم کے طور پر کیا جائے


اوپر مذکور شدہ معنوں کو  اگر لباس کے ‘فیشن’ کی تعریف بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جائے اس کے مطابق ” ‘فیشن’  ملبوسات میں اس جدید نمونے اور بناوٹ کے انداز کا نام ہے جو اپنی خوش وضعی ظاہر کرنے کے لئےعام پر رواج پا جائے”۔

ویسے تو ‘فیشن’ کسی ایک صنف کے لیے مخصوص نہیں مگر اس کی مقبولیت خواتین میں مردوں کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے۔  کیونکہ خواتین میں سجنے سنورنے کا ذوق  قدرتی طور پر  زیادہ پایا جاتا ہے اور یہ ان کے جذبہ خود نمائی کی تسکین کا بھی ایک ذریعہ ہوتا ہے۔

لباس کی بات کی جائے تو لباس اللہ کی طرف سے انسانوں کے لیے ایک ‘نعمت’ ہے، تمام مخلوقات میں صرف انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جس کو اللہ نے یہ شعور دیا کہ وہ اپنا جسم چھپانے کے لیے لباس کا اہتمام کرے۔ لباس اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآنِ پاک میں بھی فرمایا ہے۔

سورۃ الاعراف آیت نمبر 26  میں اللہ کا  فرمان ہے:

اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لیے لبا س نازل کیاہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کرسکیں۔

یعنی  لباس وہ نعمت ہے جو بارگاہِ ربانی سے خصوصی طور پر اولادِ آدم کے لیے نازل ہوا،  لباس کا مقصد جسم کو خوب صورتی عطا کرنا ہے، انسان ننگے بدن ہو تو وہ بدصورت لگتا ہے۔ لباس جتنا خوب صورت ہوگا انسان اتنا ہی زیادہ خوب صورت نظر آئے گا۔  “تقویٰ کا لباس” کہہ کر یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ لباس کے بارےمیں اللہ تعالیٰ نے جو ہدایات دی ہیں وہی لباس پہننا تقویٰ کا تقاضا ہے۔  اور ہدایات میں “قابل شرم حصوں کو چھپانا” اور “زینت و خوشنمائی کا باعث” ہونا شامل ہے۔

اس فرمان الٰہی کی روشنی میں اگر ہم آج خواتین میں فیشن کے نام پر مروجہ ملبوسات کا جائزہ لیں تو لباس کو مذکورہ دونوں مقاصد کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔  ہم جس دین کے پیروکار ہیں اس نے ہماری زندگی کے ہر ہر گوشے کے لیے  ہدایت کا سامان رکھا ہے، سجنے سنورنا ہر ایک کا حق ہے مگر ہر چیز ایک “حد” میں ہی خوشنما معلوم ہوتی ہے، جب حد سے گزرنے لگے تو وہی چیز بدنما لگنے لگتی ہے۔

فیشن کا خاصہ ہے کہ یہ انسانی رویوں کی طرح بدلتا رہتا ہے۔ اس کے رنگ ڈھنگ بدلنے کی قریب ترین مثالیں انسانی پہناوے میں ملتی ہیں، یعنی 1970ء کے آس پاس ٹیڈی پینٹ کا فیشن چلا، وہ اس قدر ٹائٹ ہوتی تھیں کہ ٹانگوں کو اس میں ڈالنے کے لیے اچھی خاصی مشقت کرنا پڑتی تھی۔ اُن دنوں خواتین کی شلواریں بھی اس قدر تنگ ہوتی تھیں کہ ان کے پائنچوں پر زبیں لگائی جاتی تھیں۔ یہ فیشن کچھ عرصے بعد 180 ڈگری کا ٹرن لے گیا۔ ٹیڈی پینٹ اور تنگ شلواروں کی جگہ بیل باٹم پاجامے آگئے۔ آج دیکھا جائے تو   خواتین کی قمیصوں  کی آستینیں اور دوپٹے غائب ہوگئے ہیں۔ قمیص یا کرتے بھی لمبائی میں پہننے والوں کی قدم بوسی کرنے لگ جاتے ہیں، یا پھر کبھی سکڑ کر ٹانگوں اور کمر پر چڑھ جاتے ہیں۔  اور رہی سہی کسر “ٹائیٹس” نے پوری کردی ہے (جن کو بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں) ۔۔۔ اور یہ عام خواتین کے فیشن کا بیان ہے، ماڈلز اور اداکاراوں کی بات اس لیے نہیں کی کہ  وہ تو “خواص” میں شمار ہوتی ہیں۔  ان کے ملبوسات دیکھ کر تو سوچنا پڑتا ہے کہ “یہ” کون پہنتا ہوگا (استغفر اللہ)

حالانکہ  رب ذوالجلال نے( وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ) اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں۔ سورۃ النور: 31

 کہہ کر انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے گریبانوں پر دوپٹے ڈالے رہیں. مگر ہم نے ‘فیشن’ کی دوڑ میں اور نمایاں نظر آنے کے چکر میں یہ ہدایات فراموش کردی ہیں۔  آج جو مائیں خود اس طرح کے فیشن کی دلدادہ ہوں گی تو ان کی بیٹیاں کس طرح ان کے نقش قدم پر نہ چلیں گی۔ حالانکہ “حیا” کی بنیاد بچپن سے ہی ڈالی جاتی ہے، جس بچی کو بچپن میں یہ نہ سکھایا جائے  اور وہ   ماں کو اپنے سامنے نمونہ نہ دیکھے اس سے آگے چل کر کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ وہ “با حیا” فیشن کو اپنائے گی۔ “بچی ہی تو ہے” کہہ کر ہم اپنی بچیوں کو جس طرح کے لباس کا عادی بنائینگے تو پھر وہ کس طرح ہوس پرستوں کی نظروں سے محفوظ رہ سکیں گی۔  الطاف حسین حالی کہہ گئے ہیں:

’’عجب نہیں کہ رہے نیک و بد میں کچھ نہ تمیز
کہ جو بدی ہے وہ سانچے میں ڈھلتی جاتی ہے‘‘

یاد رکھیں فیشن کرنا معیوب نہیں ہے مگر  فیشن وہی اپنانا چاہیے جو ہماری اقدار کا محافظ ہو، اس کو خوبصورتی بخشے، ہماری شخصیت کو نکھارنے کا باعث بنے نہ کہ بگاڑنے کا  اور ہماری بطور مسلمان پہچان کروائے ورنہ  ہمارا حال وہی ہوگا کہ “کوا چلا ہنس کی چا، اپنی چال بھی بھول گیا

اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمین!

Image result for ‫مسجد نبوی‬‎

خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)
از  ڈاکٹر جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ 

ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 14 جمادی ثانیہ 1439 کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "اعتدال اور فتوی نویسی کے ضوابط" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ انسان کے بعد انسان کی اچھی یا بری یادیں باقی رہ جاتی ہیں اس لیے انسان کو حسن کارکردگی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ شریعت اعتدال اور میانہ روی کا نام ہے، اللہ تعالی نے شرعی احکامات انسان کی کمزوری کو مد نظر رکھ کر مرتب فرمائے ہیں، متعدد آیات اور احادیث اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اسلام آسانی والا دین ہے، لیکن آسانی سے مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ انسان من مانیاں کرنے لگے اور دل چاہتے انداز میں شرعی احکام کی تعبیر اور تعمیل کرے، بلکہ آسانی سے مراد یہ ہے کہ شرعی دلائل جس چیز کی رخصت دیتے ہیں ان پر عمل کیا جائے، پھر یہ سنگین غلطی ہے کہ شریعت میں موجود اعتدال اور میانہ روی کے نام پر ایسی گری ہوئی باتیں کی جائیں جن کا اسلام سے دور کا تعلق نہ ہو، اس پر انہوں نے اہل علم کے اقوال ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ فقہی مذاہب میں موجود شاذ اور اچنبھے اقوال کو اپنانا شریعت سے دوری ہے، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں بھر پور انداز سے عمل کرنے کی کوشش کی جائے، اور اسی کی دوسروں کو دعوت دیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نا اہل اور مقاصد شریعت سے نابلد افراد دنیاوی مفادات کی خاطر فتوی نویسی پر تل جائیں تو یہ اسلام کے لیے انتہائی نقصان دہ امر ہے، ان کی وجہ سے بڑے بڑے فتنے بپا ہوتے ہیں، اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی دنیا کی خاطر آخرت خراب نہیں کرتے بلکہ کسی کی دنیا کے لیے اپنی آخرت اجاڑ بیٹھتے ہیں، ایسے لوگوں کو روزِ قیامت کا دن اپنی نگاہوں کے سامنے رکھنا چاہیے جب انسان کے تمام بھید کھولے جائیں گے اور تمام تر کارستانیاں سب کے سامنے رکھی جائیں گی، فتوی نویسی میں جلد بازی کی مذمت میں انہوں نے اہل علم کے اقوال ذکر کیے، نیز انہوں نے کہا کہ ایسی فتوی نویسی کو اللہ تعالی اپنی ذات پر تہمت اور جھوٹ قرار دیا ہے، پھر دوسرے خطبے میں انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں غلو اور بے جا سختی سے اجتناب کرنے کی تلقین کرتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی تلقین فرمائی، اور آخر میں جامع دعا مانگی۔

منتخب اقتباس:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے مومنوں کو روشن بصیرت عطا کی، مکلف بندوں کے لیے حلال اور حرام واضح فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، معاون اور مدد گار نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ نے راہ چلتے افراد کے لیے احکامات واضح اور راستے کی نشانیاں مقرر فرمائیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر رحمتیں برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو! تقوی الہی اپناؤ ؛ کیونکہ سانسیں گنی جا چکی ہیں، اعمال کی کڑی نگرانی جاری ہے:


"انسان کو اس کی خوبیوں کے ذریعے یاد کیا جاتا ہے،
 اس لیے اپنے اچھے تذکرے کی عمارت کو بلندیوں تک لے جا

یہ ذہن نشین کر لو! یقیناً تمہارا کبھی نہ کبھی ذکر ضرور ہو گا،
 اس وقت کہا جائے گا: فلاں بہت اچھا تھا یا کہا جائے گا کہ وہ برا تھا!"

اس لیے اپنی زبان کو لگام دو، صرف تشنگی دور کرنے والی نصیحت، یا حکمت بھری بات، یا جامع خیر خواہی یا اچھا کلام ہی زبان سے نکالو،
 {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}
 اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور ہمیشہ راست گوئی سے کام لو [70] اللہ تعالی تمہارے معاملات سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ بہت بڑی کامیابی پا گیا۔ [الأحزاب: 70، 71]

مسلمانو!

شریعت اعتدال اور میانہ روی لے کر آئی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ شریعت کے احکام میں آسانی، وسعت اور کشادگی ہے، پھر مکلف افراد سے تنگی کو دور رکھا گیا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ}
 اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں بنائی۔ [الحج: 78]

ایک اور مقام پر فرمایا: 
{يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا}
 اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تم پر نرمی کرے، اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔[النساء: 28]

 یعنی مطلب یہ ہے کہ: اللہ تعالی تم پر اپنے شرعی احکامات، اوامر اور نواہی میں اس حد تک نرمی کرتا ہے جس کی تم استطاعت رکھتے ہو؛ {وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا} اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ [النساء: 28]
 چنانچہ انسان کی کمزوری اور ناتوانی کی بنا پر نرمی اور آسانی انسان کے لیے مناسب ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا [یعنی اس کی سختی نہ چل سکے گی ] لہذا ہر ممکنہ حد تک صحیح انداز سے عمل کرو اور خوش ہو جاؤ [ کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے ] اور صبح ،دوپہر، شام اور کسی قدر رات میں [ عبادت سے ] مدد حاصل کرو) متفق علیہ

اور ایک روایت میں ہے: (بیشک تمہاری بہترین دینداری وہ ہے جو آسانی سے ہو، بیشک تمہاری بہترین دینداری وہ ہے جو آسانی سے ہو) مسند احمد

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آسانی کرو، سختی مت کرو، اطمینان پھیلاؤ متنفر مت کرو) بخاری ، مسلم

جس معاملے میں بھی مشکل در پیش ہو تو وہاں آسانی ہماری شریعت کے قواعد میں سے ہے۔

لیکن یہاں آسانی سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ: فقہی مذاہب اور علمائے کرام کے موقف میں سے رخصتوں کو تلاش کر کے آسان ترین موقف پر عمل کیا جائے، بلکہ یہاں آسانی سے مراد شرعی رخصتیں مراد ہیں جن کے بارے میں شرعی دلائل موجود ہیں اور اہل عذر افراد مثلاً: مریض، مسافر ، یا چھوٹے بچے کے لیے فرائض اور واجبات میں رخصت دی گئی ہے۔

ابو حمزہ کہتے ہیں کہ : "میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: "آسانی اور مشکل دو چیزیں ہیں، تو اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی آسانی پر عمل کرو""

قتادہ رحمہ اللہ فرمانِ باری تعالی : {يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ}
 اللہ تعالی تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے وہ تمہارے لیے مشکل نہیں چاہتا ۔[البقرة: 185] 
کے بارے میں کہتے ہیں: "تو تم وہی اختیار کرو جو اللہ تعالی تمہارے لیے چاہتا ہے"

شریعت میں موجود اس قسم کے اعلی اور خوبصورت قطعی مفاہیم کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی پر بہتان باندھتے ہوئے اعتدال اور میانہ روی کے نام پر ایسی باتیں شریعت میں شامل کر دی جائیں جو بے دلیل اور ہوس پرستی کے مطابق ہوں، اور بلا دلیل ہر چیز کی اجازت دینے والوں کے فتوے تلاش کیے جائیں۔

ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "کچھ لوگوں کی دینی حالت اور تقوی کی اتنی پتلی حالت ہو چکی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی کا بھی فتوی تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں، چنانچہ وہ ہر اس شخص کا موقف اپناتے ہیں جس میں چھوٹ اور رخصت ہو، انہیں اس چیز کی غرض نہیں ہوتی کہ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان نے ہم پر کیا واجب کیا ہے۔"

امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر کوئی شخص ہر رخصت والے فتوے پر عمل کرے تو وہ فاسق ہو جائے گا"

یہ بڑی آزمائش ہے کہ ایسے لوگ فتوے صادر کرنے لگیں جو اہل علم کے ہاں نامعلوم یا غیر معروف ہیں، فتوی نویسی میں ان کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہے، وہ در حقیقت اس بات سے دھوکا کھا گئے کہ ان سے سوال پوچھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، نیز جاہل ترین لوگ ان سے سوال کرنے میں پہل کرتے ہیں۔

مسلمانو!

نا اہل لوگوں کے شاذ فتوے اور ان کے غیر معقول موقف اسلام کو منہدم کرنے اور دین کا حلیہ بگاڑنے کا باعث بنتے ہیں، ان سے فتنے اور فساد پھیلتے ہیں، جو کمزور عقل، علم اور دین کے مالک ہیں وہ ان کی وجہ سے پریشانی میں ملوث ہو جاتے ہیں، انہیں حق باطل کی صورت میں اور باطل حق کی صورت میں نظر آتا ہے۔

یہ بات اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے اور اللہ کی شریعت کے ساتھ اس کے بندوں پر تہمت لگانے کے مترادف ہے کہ کچھ لوگ عارضی ،گھٹیا اور دنیاوی فوائد کی خاطر علم کے بغیر فتوے صادر کر رہے ہیں، بغیر کسی حجت کے اللہ کی جانب بات منسوب کرتے ہیں، ہوس پر مبنی اور من گھڑت فتوے صادر کر رہے ہیں اور صحیح دلیل سے متصادم رخصتوں پر عمل کرنے والے ہیں، منسوخ یا ضعیف دلائل پر مبنی شاذ اقوال اپناتے ہیں، ان کے فتووں سے پیدا ہونے والی خرابیوں اور اسلام سمیت مسلمانوں کے ہونے والے نقصان کا ادراک معمولی سی بھی بصیرت رکھنے والا بھی رکھتا ہے، ایسا موقف اپناتے ہیں جو وہی شخص ہی کہہ سکتا ہے جس کا دل اللہ تعالی کی تعظیم، جلال اور تقوی سے خالی ہو، جو شخص دنیا کی محبت میں خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے تعلق بنانے کا رسیا ہو۔

{لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ}
 تاکہ قیامت کے دن اپنے بوجھ تو پورے کے پورے اٹھائیں اور کچھ ان لوگوں کے بھی جنہیں وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے دیکھو ! کیسا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے [النحل: 25]

یہ ایسے لوگ ہیں کہ علم سے کورے ، اور ان کا مطالعہ انتہائی محدود ہے، بے راہ روی میں مبتلا ہیں، یہ شریعت سے متصادم امور کا علی الاعلان اظہار کر رہے ہیں، اسلام کے نام پر انہوں نے ایسے کام کیے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

 ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: "میں نے امام مالک رحمہ اللہ کو سنا کہ :فتوی دینے میں جلد بازی بھی جہالت اور نابلد ہونے کی قسم ہے" امام مالک رحمہ اللہ ہی مزید کہتے ہیں: "میں نے اس وقت تک فتوی دینا شروع نہیں کیا جب تک میرے بارے میں ستر اہل علم نے فتوی نویسی کے اہل ہونے کی گواہی نہیں دی"

اللہ تعالی نے اس شخص کو خوب وعید سنائی ہے جو من مانی کرتے ہوئے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دے، یا اللہ تعالی کی جانب سے حلال کردہ چیز کو حرام قرار دے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (116) مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ}
 اپنی زبانوں سے جھوٹ بولتے ہوئے یوں نہ کہو کہ: "یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے " تا کہ تم اللہ پر جھوٹ افترا کرنے لگو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتے [117] انہیں بہت معمولی فائدہ ملتا ہے اور ان کے لئے ہی دردناک عذاب ہے۔ [النحل: 116، 117]

مسلمانو!

دین الہی غلو اور شدت کے درمیان اعتدال کا نام ہے۔ غلو، شدت اور افراط و تفریط یہ دو انتہائی آفتیں ہیں، یہ منحرف راستے اور کج روی ہیں، یہ مضبوط دین اور صراط مستقیم سے دوری کا باعث ہیں؛ اس لیے غلو اور شدت سے اجتناب کرو، چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی اور پھر فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر اس کے بعد اس لکیر کے دائیں بائیں بھی لکیریں کھینچیں، اور پھر فرمایا: یہ الگ الگ راستے ہیں، ہر ایک راستے پر شیطان بیٹھا اس کی طرف بلا رہا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: 

{وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ}
 اور بلاشبہ یہی میری سیدھی راہ ہے لہذا اسی پر چلتے جاؤ اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا کر جدا جدا کر دیں گی اللہ نے تمہیں انہی باتوں کا حکم دیا ہے شاید کہ تم (کجروی سے) بچ جاؤ [الأنعام: 153]) احمد

نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے صراط مستقیم کی مثال ذکر کی کہ: صراط مستقیم کے دونوں جانب دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہیں، اور راستے کے دروازے پر ایک بلانے والا پکار رہا ہے: لوگو! راستے میں سب کے سب داخل ہو جاؤ ، اور اِدھر اُدھر مت ہونا، پھر راستے کے اوپر ایک اور بلانے والا ہے، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: تمہاری بربادی ہو! اسے مت کھولو، اگر تم اس کو کھولو گے تو اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس مثال میں راستہ اسلام ہے، لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدود ہیں، کھلے ہوئے دروازے اللہ کے حرام کردہ امور ہیں، اور اس راستے کے سرے پر پکارنے والا اللہ کا قرآن ہے، اور اوپر سے پکارنے والا ہر مسلمان کے دل میں موجود ضمیر ہے ) احمد، ترمذی




مالے افریقہ کی ۸ سو سالہ قدیم مٹی کی مسجد 





افریقی ملک مالے کا قدیم قصبہ ڈجنی یہ منفرد اعزاز رکھتا ہے کہ یہاں دنیا کی سب سے بڑی مٹی کی عمارت موجود ہے جو ایک ۸ سو سالہ قدیم مسجد ہے۔ یہ قصبہ دریائے نیجر کے ڈیلٹا میں واقع ہے ۔


اس قدیم مسجد کو برسات کی وجہ سے ہر سال مٹی کے تازہ لیپ کی ضرورت ہوتی ہے ، اور اس نیک کام میں ڈجنی کے تمام افراد رضاکارانہ حصہ لیتے ہیں ۔ ایک مقامی رہنما کے مطابق یہاں کے باشندے اسلام سے بہت محبت رکھتے ہیں ۔ جونہی اعلان ہوتا ہے کہ قریبی دریا میں موجود چکنی مٹی اب اس قابل ہے کہ اس سے مسجد کی لیپائی کی جا سکے ، بڑوں سے لے کر بچوں تک علاقے کے تمام لوگ مل کر رضاکارانہ طور پر مختلف ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں اور مسجد کی خدمت کا یہ موقع کسی عوامی میلے کا منظر بن جاتا ہے۔

 

اس قدیم مسجد اور اس کی خدمت کی منفرد روایت نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ سمیت ماہرین تعمیر اور تہذیب و ثقافت کی توجہ حاصل کی ہے ۔ اس قدیم مسجد کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ریپلکا فرانس میں مصری مسجد کے طور پر اور کوریا میں واقع افریقی آرٹ میوزیم میں بھی بنایا گیا ہے ۔

(فرانس میں مصری مسجد جو مالی کی مسجد کا ریپلکا ہے ۔ )
https://www.facebook.com/photo.php?v=638124619572723&set=vb.508235532525166&type=2&theater


برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی اس مسجد اور اس کی سالانہ خدمت کے موقع کی مختصر ڈاکیومنٹری بھی بنا چکا ہے جسے اس ربط پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس تاریخی مسجد اور لوگوں کی اس سے محبت کا احوال پڑھ کر جہاں بے حد خوشی ہوئی وہاں یہ تمنا بھی جاگی کہ کاش اذان کی ہر پکار پر مسلمان یونہی اپنے گھروں سے نکلیں اور اطاعت الہی کا یہ جذبہ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کا تعارف بن جائے ۔ آمین۔


تحریر و ترجمہ: ام نورالعین



~!~ آج کی بات ~!~

گمراہ کی پیروی گمراہی ہے۔

~!~ آج کی بات ~!~

صبر کرنا بڑے ظرف کی بات ہے۔۔۔
صبر آ جانا چوٹ کی شدت پر منحصر ہوتا ہے
 آپ بے بس ہو جاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ صبر " آ " گیا۔۔


Related image
سرسوں کا بیج
منقول

کہتے ہیں چین میں کسی جگہ ایک عورت، اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ، دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور اپنی دنیا میں مگن، خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی کہ ایک دن اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ عورت کے لیے کل کائنات اس کا بیٹا چھن جانا ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ اُس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ روتی پیٹتی گاؤں کے حکیم کے پاس گئی اور اسے کہا وہ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہے جس کے عوض بس ایسا کوئی نسخہ بتا دے جس سے اس کا بیٹا لوٹ آئے۔

حکیم صاحب اس غمزدہ عورت کی حالت اور سنجیدگی دیکھ چکے تھے، کافی سوچ وبچار کے بعد بولے، ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی۔ بس علاج کے لیے ایک ایسے ننھے سے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائیں تک نا پڑی ہو۔ عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔

عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ بس اسی خیال کو دل میں سجائے اس نے گاؤ ں کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا؛ کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی غم تو نہیں دیکھا؟ جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا؛ میرا گھر ہی تو ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ پھر وہ بتانے لگی کہ کس طرح سال بھر پہلے اس کے خاوند کا انتقال ہوا جو اس کے پاس چار لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ کر مرا، ان کی روزی یا روزگار کا مناسب بندوبست نہیں تھا۔ آجکل وہ گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں اور بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ان کے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا۔

جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری اور غمگین تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غم گساری اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی۔ اور جب تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔

مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی جہاں ایک اور صدمہ اُس کےلیے یہاں منتظر تھا ۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا گھر پر صاحب فراش تھا۔ گھر میں بچوں کے لیے کھانے پینے کا سامان نا صرف یہ کہ موجود ہی نہیں تھا بلکہ یہ بچے اس وقت بھوکے بھی تھے۔ عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی۔

اور دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے جس پر غموں کی کبھی پرچھائیں بھی پڑی ہوں اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے، مگر ہر جگہ ناکامی اس کا منہ چڑانے کیلئے منتظر رہتی تھی۔ دل کی اچھی یہ عورت لوگوں کے مشاکل ، مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں کا ایک حصہ بنتی چلی گئ اور اپنے تئیں ان سب میں کچھ خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔

گزرتے دنوں کے ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کی سہیلی بن چکی تھی۔ وہ یہ تک بھولتی چلی گئی کہ اپنے گھر سے تو ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی جس پر کبھی غموں کی پرچھائیں نا پڑی ہوں اور وہ ان خوش قسمت لوگوں سے ایک سرسوں کے ایک بیج کا سوال کر کے اپنے غموں کا مداوا کر سکے۔ مگر وہ لا شعوری طور دوسرے کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا بنتی چلتی چلی جا رہی تھی۔ بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر غموں پر قابو ہرگز نہیں تھا۔ اور اس کے غموں پر قابو پانے کا جادوئی سلسلہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔

جی ہاں، یہ قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا نسخہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کے لیے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیاؤں میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے۔ حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرتے سے خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔ یہ قصہ یہ درس بھی ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ اگر آپ اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئے تو آپ ایک محبوب اور ہر دلعزیز شخصیت بن جائیں گے، بلکہ یہ قصہ یہ بتانا چاہتا ہے ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے زیادہ خوش انسان بنا دے گا۔

عربی سے ترجہ و تلخیص