جمعرات, فروری 23, 2017

تدبر قرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ-27

تدبر قرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان 
حصہ- 27
فإذا قرأت القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم 

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

*الذی جعل لکم الارض فراشا*
 وہ ذات جس نے تمہاری خدمت کیلئے زمین کو بنایا. 

پچھلی آیت میں لفظ *خَلَق* استعمال کیا گیا لیکن یہاں *جَعَل* استعمال ہوا ہے، یعنی مہیا کیا ہے، آراستہ کیا ہے، آسانی دی ہے. 

الارض کو یہاں *فراش* کہا گیا ہے. ایسی چیز جو نرم ہو، جس پر لیٹا جا سکے، جس پر بآسانی چلا جسکے، یعنی یہ دوسرے سیاروں کی طرح بہت زیادہ سخت نہیں ہے.
باقی سیاروں کی طرح اس کا درجہ حرارت اتنا زیادہ نہیں کہ آپ کا جسم ہی پگھل جائے. یہ اتنی نرم بھی نہیں ہے کہ پاؤں اس کے اندر دھنس جائیں. نہ ہی زمین کی سطح دندانے دار ہے کہ اس کی نوکیں پاؤں میں چبھ جائیں اور زخمی کر ڈالیں. اللہ تعالٰی نے اس زمین کو چلنے پھرنے کیلئے آسان بنایا ہے. اس کی سطح ایسی ہے کہ اس پر سویا جا سکے.
الغرض ہمارے آقا نے اس زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ اس پر رہنا مشکل ہو. لفظ فراش بستر کے مترادف ہے.
قدیم زمانے کے لوگوں کے پاس اونچے پلنگ نہیں ہوتے تھے. ان کا طرز زندگی بہت سادہ تھا. بستر کھولا، بچھایا، لیٹے اور سو گئے. اسی کو "فراش" کہتے ہیں. اللہ تعالٰی یہاں ساری زمین کو ہمارے لیے بستر قرار دے رہے ہیں. آپ اس پر کہیں بھی، کبھی بھی سو سکتے ہیں. عرب لوگ صحرا میں سفر کرتے ہوئے کوئی ہوٹل تلاش نہیں کرتے بلکہ جہاں سونے کا وقت ہوا، بستر بچھایا، لیٹے اور سو گئے. *الذی جعل لکم الارض فراشا *
یہ صحرا نورد ہوٹل کے چکر میں نہیں پڑتے. ویسے ہوٹل میں کیا ہوتا ہے؟ بستر، بہترین چھت، اور لابی.
اسی آیت میں آگے اللہ عزوجل فرماتے ہیں *والسماء بناء* اور تمہارے لیے چھت بنایا آسمان کو. خوبصورت مزین کی ہوئی.
حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ نے اس ساری زمین کو ہمارے لیے رہنے کی جگہ بنا دیا ہے. یہ ساری زمین ہمارے لئے گھر کی طرح ہے. بلکہ گھر کے بھی سب سے اہم حصے (بیڈروم) کی طرح.
انسانی زندگی میں دو چیزیں بہت اہم ہیں :
سونا (آرام) اور کھانا. 

*الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ*
آیت22 میں بیان کر دہ پہلی تشبیہ آرام سے متعلق ہے یعنی بستر اور چھت.
دوسری تشبیہ آگے بیان کی جارہی ہے. 

* وانزل من السماء ماء*
 اور آسمان سے پانی نازل کیا گیا.
*فاخرج بہ من الثمرات*
 پس اس پانی سے ہر قسم کے پھل پیدا فرمائے. 

اللہ تعالٰی نے یہاں گھاس، گندم، دانے، فصلیں نہیں کہا. بلکہ ہوبہو پھلوں کا ذکر کیا ہے. اور پھل کیا ہیں؟ یہ روئے زمین کی مزےدار ترین چیز ہیں. میٹھے، خوش ذائقہ، مزیدار، خوش رنگ، خوش شکل، خوشبو دار. حتی کہ ان کا چھلکا بھی خوبصورت ہوتا ہے. پس اللہ عزوجل ہمیں یاد دہانی کروارہے ہیں کہ کس طرح میں نے تمہارے لئے زمین پر زندگی گزارنا آسان کر دیا ہے. اور کس قدر خوبصورت چیزیں مہیا کی گئی ہیں.
میرا ایک دوست معدے کے مسئلے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھا. اسےچھ ماہ تک ٹھوس غذا بند تھی. دو ماہ کیلئے اس کو ڈرپس لگتی رہیں. پھر وہ لیکوڈ غذا لینے کے قابل ہوا. جو ضروری کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین کے محلول پر مشتمل تھی. صبح، دوپہر، شام ان سب کا ناگوار سا شیک بنا کر اس کو دیا جاتا تھا. بالآخر وہ ٹھوس غذا لینے کے قابل ہو گیا. اس کی بیماری کے دوران میں اس سے ملنے گیا، اس نے مجھے اپنا وہ شیک آفر کیا. میں اس کا ایک گھونٹ ہی بھر سکا. آآآآآخ خ خ خ یہ کیا ہے؟ یہ انسانوں کے پینے کے لیے ہے ؟ یہ میرا ردعمل تھا اور وہ شخص جو سارا دن صرف اسی پر اکتفا کر رہا تھا وہ بھی تو بطور انسان زندہ تھا. اس کا ذائقہ سرد، کراہیت آمیز اور بڑبڑانے پہ مجبور کرنےوالا تھا.
کیا اللہ تعالٰی نے ہمارے سروائول والی خوراک کو خوش ذائقہ، خوش رنگ اور خوش شکل نہیں بنایا؟ یہ غذا بس بنیادی ضروری غذائی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے. اور آپ جانتے ہی ہیں کہ بعض اقوام کی خوراک تو لال بیگ پر بھی مشتمل ہوتی ہے.
اسی طرح جانوروں کو بھی اپنی بقا کے لئے کوئی خوبصورت پلیٹ، چمچ، چاقو، کیچپ اپ نہیں درکار ہوتے، وہ براہ راست زمین پر اگی گھاس کھاتے ہیں.
اللہ عزوجل نے ہمیں ناقابلِ بیان تہوں میں لپٹے پھل عطا کئے ہیں اور پھر ان کو خوبصورت درختوں پر لگایا ہے. خوش رنگ پکے پھلوں سے لدے ہوئے درختوں کا تصور ہی بہت خوشگوار ہے. کیلیفورنیا کے پام کے درختوں کا تصور کریں، وہاں چھٹیاں گزارنا نہایت مہنگا منصوبہ ہے. یہ کھجوریں کیا براہ راست نظر آتی ہیں؟ نہیں یہ تہوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں. ہر پھل اللہ عزوجل کی طرف سے ایک تحفہ ہے. ہر ایک کی اپنی ساخت ہے، اپنی نوعیت ہے. ہر پھل اپنی خوشبو، رنگت یہاں تک کہ چھلکے کے اعتبار سے بھی دوسرے سے مختلف ہے. اور اللہ نے یہ سب آپ کے لیے بنایا ہے.
* رِزْقًا لَّكُمْ ۖ*
یہ تمہارے لیے رزق ہے.
اللہ نے انسان کو کمتر چیزیں مہیا نہیں کیں. اُس نے آپ کو بہترین، خوبصورت ترین رزق عطاء کیا ہے. خوش ذائقہ اور دل پسند رزق. 

*فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ*
پس تم اللہ کیلئے شریک نہ بناؤ. کسی کو اس کے مقابل نہ ٹھہراؤ. 

*ند* وہ چیز ہے جو دوسرے کے مماثل ہو. اس کے مترادف ہو. اس کا متبادل ہو. اس کے مقابل ہو.
* تندید * کسی کے سامنے اپنی آواز بلند کرنا. یہاں اس کا مطلب محض یہ نہیں کہ اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ. بلکہ کسی بھی چیز کو اس سے آگے نہ بڑھاؤ. اس کے سامنے کوئی آواز بلند نہ کرو. یعنی اللہ کو چیلنج نہ کرو. زندگی اس کی مخالفت میں مت بسر کرو. ایسے کام مت کرو جو اللہ کے خلاف چیلنج ہوں. 

*فلا تجعلوا لله أندادًا وأنتم تعلمون*
اور تم اپنے اعمال کے بارے میں خوب خوب جانتے ہو. خوب علم رکھتے ہو.

* وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ*

ایک دفعہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ایک بدو آیا جو زیادہ تہذیب یافتہ نہیں تھا. اس نے آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں.(ماشاءاللہ وما شئت). رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کی بات پر ناراض ہوئے. کہ کیا تم نے مجھے اللہ کے مقابل کر دیا ہے؟ تم صرف یہ کہو........کہ جو اللہ چاہے. کیونکہ جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی مرضی پر منحصر ہے. 

ہمارے لئے* ند* کیا ہے؟ شرک کیا ہے؟ میں آپ کے سامنے اپنے اور اللہ عزوجل کے درمیان تعلقات کی تصویر پیش کر چکا ہوں.

*وہ رب ہے. ہم عبد ہیں.*
*اور اس تعلق کی بنیاد محبت ہے.*

جاری ہے...............
استاد نعمان علی خان

بدھ, فروری 22, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 22 فروری 2017

~!~ آج کی بات ~!~

احساسِ جرم ایک تحفہ ہے اللہ کی طرف سے، جو خبردار کرتا ہے کہ جو آپ کر رہے ہیں وہ آپ کی روح کو بگاڑ رہا ہے۔

نعمان علی خان

“Guilt is a gift from Allah warning you that what you are doing is violating your soul.” – Nouman Ali Khan

منگل, فروری 21, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 21 فروری 2017

~!~ آج کی بات ~!~

"جنہیں منزلوں کی تلاش ہوتی ہے وہ پڑاؤ سے صرف راستے کا پوچھتے ہیں ،
 راستوں کی دشوار گزاری یا پڑاؤ کی حکمتیں نہیں جانا کرتے .. "

ناول گمنام محافظ سے اقتباس از ملک جہانگیر اقبال

حیا کا تعلق


حیا کا تعلق میرے دل سے ہے۔۔!
.
ٹھیک کہا۔۔ حیا کا بیج دل میں ہی ہوتا ہے۔۔ اسکی جڑیں باطن میں پھیلی ہوتی ہیں اور اسکی شاخیں و پتے شخصیت سے ظاہر ہوتے ہیں۔۔ پھر انہی پر صالح کردار کے پھول اُگتے ہیں۔۔ جن کی خوشبو ماحول کو مہکاتی اور خوش نما بناتی ہے۔۔!

اگر شاخیں اور پتے ظاہر نہ ہوں تو بیج اور پودے کا ہونا بے معنی ہے۔۔ پھول کے بغیر تو باغیچے کی خوبصورتی ویسے ہی گہنا جاتی ہے۔۔ اور اگر خوشبو ہی نہ تو کہاں کی رعنائی اور کیا رنگ نمائی۔۔ یہ تو سراسر جگ ہنسائی ہے۔۔!

سو میرے عزیز! دل میں حیا ہو اور بدن سے اظہارِ پاکیزگی نہ ہو تو خود کو دھوکے میں نہ رکھو۔۔!!

پیر, فروری 20, 2017

اتوار, فروری 19, 2017

شاندار اور قبل رشک زندگی


اچھی زندگی کے چھ اصول ہیں
  • دعا سے قبل اللہ پر یقین کریں
  • بولنے سے قبل سنیں
  • خرچ کرنے سے قبل کمائیں
  • ہمت ہارنے سے قبل کوشش کریں
  • مرنے سے قبل زندہ رہیں
  • اور لکھنے سے قبل سوچیں
آپ شاندار اور قابل رشک زندگی گزاریں گے

خشیت الٰہی (مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی)

خشیت الٰہی
بتاریخ 17 فروری 2017 ( 20 جمادی الاول 1438)

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں وہ قبول کرنے والا، نگران اور حساب رکھنے والا ہے، وہ ہر ایک کے ضمیر سے باخبر ، رازوں کو جاننے والا اور سینوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہے، تمام معاملات اسی کی گرفت میں ہیں، اسی نے اپنے بندوں کی تمام حرکات شمار اور ان کی موت کا وقت مقرر کیا ہوا ہے، میں اپنے رب کے بے شمار اور لا تعداد فضل و کرم پر اسی کی حمد بیان کرتا ہوں اور شکر بجا لاتا ہوں ، شرکاء اور ہم سروں سے کہیں بلند ذات ہی پاک ہے، اس کے تسلط کے سامنے تمام سرکردہ اور سربراہ ہیچ ہیں، اس کی عظمت کے سامنے جگر بھی چاک ہو گئے اور اس کے ڈر اور خوف سے ٹھوس اور سنگلاخ پہاڑ بھی پھٹ گئے۔

سائنسی انقلاب، نت نئی ٹیکنالوجی اور لوگوں کیلیے آفاقی رسائی کی وجہ سے ثقافتی کشمکش پیدا ہو چکی ہے اور سماجی رابطے کے ذرائع سے ہم اپنے گھرانوں میں نبرد آزما ہیں، سوشل میڈیا تک ہر چھوٹے بڑے، مرد اور عورت کو رسائی حاصل ہے، ان حالات میں مسلمان کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی تربیت کیلیے ایک عظیم صفت اور جلیل القدر عبادت کی اشد ضرورت ہے جو کہ انتہائی عظیم الشان عبادت اور نیکی ہے، وہ صفت اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں اور گناہوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے، اس کی وجہ سے انسان حرام چیزوں سے بچ کر نیکیوں کی جانب راغب ہو سکتا ہے، بلکہ یہ ہر نیکی اور اچھے کام کی ترغیب دلاتی ہے، نیز اس کی وجہ سے دلوں میں اللہ تعالی کی ہیبت بھی پیدا ہوتی ہے۔

وہ صفت یہ ہے کہ خلوت اور جلوت میں خشیت الہی اپنائیں، اللہ کی قسم! یہ جتنی بلند خوبی ہے اس کی ہمیں اتنی ہی ضرورت بھی ہے ،اس سے اصلاح ہوتی ہے اور تقوی حاصل ہوتا ہے، یہ ایمان کی دلیل نیز عقیدہ توحید اور اخلاص کا ثمر ہے، اس سے اخلاق پروان چڑھتا ہے ، ایک مکمل انسان کی صورت میں زندگی گزارنے کیلیے انسان کو خشیتِ الہی کی عملاً ضرورت ہے ۔

تنہائی میں اللہ تعالی سے ڈرنا صفتِ احسان کا تقاضا ہے، اور احسان کا مطلب یہ ہے کہ : (تم اللہ تعالی کی بندگی ایسے کرو کہ گویا تم اللہ تعالی کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اللہ تعالی کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)

دل میں یہ احساس پیدا ہونا خشیتِ الہی کا لازم ہے کہ اللہ تعالی ہمارا نگران ہے، اور اس بات کا علم ہو کہ اللہ تعالی ہر چیز پر گواہ ہے، لوگوں کے دلوں اور ان کے اعمال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے، وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے، اور اس کے بندے جہاں بھی ہوں وہ ان کے ساتھ ہے، 
{مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا} 
تین آدمی سرگوشی کریں تو وہ چوتھا ہوتا ہے اور پانچ کریں تو ہو چھٹا ہوتا ہے، اس سے کم لوگ کریں یا زیادہ لوگ وہ ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے، چاہے وہ جہاں بھی ہوں[المجادلہ: 7]

اب جو شخص یہ جان لے کہ اللہ تعالی اسے ہر جگہ دیکھ رہا ہے، اللہ تعالی اس کے ظاہر و باطن ، خفیہ اور اعلانیہ ہر چیز سے واقف ہے، اور یہی بات خلوت اور تنہائی میں بھی اجاگر رہے تو تنہائی میں بھی انسان گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔

تنہائی میں خشیتِ الہی مغفرت کے دروازوں کی چابی ہے، اور اس میں خیر ہی خیر کے ساتھ اجر عظیم بھی ہے،
 {إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ}
 بیشک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کیلیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔[الملك: 12]
  
  • خشیت الہی متقی لوگوں کی صفت ہے
  • خشیتِ الہی دلوں کو بھلائی کیلیے تیار کرتی ہے اور انہیں پند و نصائح قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہے  
  • خشیتِ الہی کی وجہ سے پند و نصائح اور وعظ و نصیحت کا دلوں اور احساسات پر اثر مزید بڑھ جاتا ہے 
 پتھر جو کہ جمادات ہیں سننے کی طاقت نہیں رکھتے وہ بھی اللہ تعالی کے ڈر سے گر جاتے ہیں اور پھٹ پڑتے ہیں، ان کا جمود ، بے عقلی اور لا شعوری بھی خشیتِ الہی کے اثرات کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکی، پتھروں کی مضبوطی ، ٹھوس پن اور سنگلاخی بھی پتھروں کو متاثر ہونے سے نہیں بچا سکی، 
{وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ} 
پتھروں میں سے تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلنے لگتا ہے۔ اور کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے ڈر سے (لرز کر) گر پڑتے ہیں۔ [البقرة: 74]

تو-اللہ کے بندو- ہمیں چاہیے کہ ہم بھی نصیحت پکڑیں، اپنے دلوں میں خشوع پیدا کریں اور ان پتھروں سے ہی عبرت حاصل کر لیں،
 أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ:{أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ}
جو لوگ ایمان لائے ہیں کیا ان کے لئے ایسا وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر سے اور جو حق نازل ہوا ہے، اس سے ان کے دل نرم ہو جائیں ؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ۔ [الحديد: 16]

یہ بات ذہن نشین کر لو کہ تمہارے اعضا ہی تمہارے نا قابل تردید گواہ ہیں، اس لیے ان کا بھر پور خیال کرو خلوت و جلوت میں تقوی الہی اپناؤ؛ کیونکہ کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی اس کے سامنے مخفی نہیں ہے، بلکہ ہر چیز اس کے سامنے عیاں ہے۔

تنہائی میں بھی خشیت الہی اپنانا سعادت مندی اور سکون کا باعث ہے، اس سے راحت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، یہ فتنوں سے بچاؤ کا باعث بھی ہے، لذتِ خشیت کا اسی کو علم ہے جس نے اس کی لذت چکھی ہے؛ لہذا نفس کو خشیت الہی کا پابند بنانے کیلیے پورے عزم اور کوشش سے محنت کرو کہ نفس برائیوں سے رک جائے، اور بڑھاپے سے پہلے اسے نکیل ڈل جائے، کیونکہ اگر دل خوف، ڈر اور اللہ تعالی کے جلال سے معمور ہو تو اعضا گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتے ہیں۔

نبی ﷺ سے یہ صحیح ثابت ہے کہ:
 (تین چیزیں باعث نجات ہیں: غضب اور خوشی ہر دو حال میں عدل کرنا، امیری اور فقیری میں میانہ روی اختیار کرنا، خلوت و جلوت میں اللہ کا خوف قائم رکھنا) 

حصولِ خشیتِ الہی کیلیے دعائیں کرو، اس کام میں تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ بہترین نمونہ ہیں:
 (اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ)
[یا اللہ! ہمیں تیری اتنی خشیت عطا فرما جو ہمارے لیے تیری نافرمانی کے سامنے رکاوٹ بن جائے]

(اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، وَكَلِمَةَ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَنَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَنَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيْدُ ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ ، وَنَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ ، وَنَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَنَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَنَسْأَلُكَ الشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، اَللَّهُمَّ زَيَنَّا بِزِيْنَةِ الْإِيْمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُّهْتَدِيْنَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ!)
[یا اللہ! ہم تجھ سے تنہائی اور بھرے مجمعے میں خشیت کا سوال کرتے ہیں، غضب ناکی اور رضا مندی ہر دو حالت میں عدل و حق پر مبنی بات کا سوال کرتے ہیں، اور ہم تجھ سے فقیری اور امیری میں میانہ روی مانگتے ہیں، ہم نہ ختم ہونے والی نعمتوں کا سوال کرتے ہیں، آنکھوں کی دائمی ٹھنڈک چاہتے ہیں، تیرے فیصلوں پر رضامندی کے طلب گار ہیں، ہم تجھ سے مرنے کے بعد خوشحال زندگی کی درخواست کرتے ہیں، نیز تجھ سے تیرے چہرے کے دیدار کی لذت مانگتے ہیں، تجھ سے ملنے کا شوق چاہتے ہیں، یا اللہ! ہمیں یہ سب چیزیں بغیر کسی تنگی اور تکلیف کے عطا فرما، کسی بھی گمراہ کن آزمائش کے بغیر عطا فرما، یا اللہ! ہمیں زینتِ ایمان سے مزین فرما، اور ہمیں ہدایت یافتہ رہنما فرما، یا رب العالمین]

ہفتہ, فروری 18, 2017

دارالمدینہ میوزیم میں شہر مبارک کی مجسم عکاسی

دارالمدینہ میوزیم میں شہر مبارک کی مجسم عکاسی
شہر نبی ﷺ سے ہر مسلمان بے پناہ عقیدت رکھتا ہے ۔ اس شہر مبارک سے عقیدت و محبت کیوں نہ ہو کہ یہ وہ شہر ہے جس سے نور توحید نے پوری دنیا کو منور کیا اور غلامی و جبر کے نظام میں پسے ہوئے انسانوں کو اٹھایا اور انہیں مساوی حقوق عطا کروائے ۔
مدینہ منورہ میں اس شہر مبارک کی مرحلہ وار تاریخ کو اجاگر کرنے کیلئے ـ" دار المدینہ میوزیم " قائم کیا گیا ۔ یوں تو مدینہ منورہ کی تاریخ کے حوالے سے متعدد مجسم نمائشی سینٹر ز بنائے گئے ہیں جہاں مدینہ منورہ کی مجسم عکاسی کی گئی ہے مگر " دار المدینہ میوزیم " اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ وہاں رکھے گئے مجسم نمونوں کی تیاری کے مراحل انتہائی باریک بینی اور برسوں کی تحقیق کا نچوڑ ہیں کہ انہیں دیکھ کر چند لمحات کیلئے انسان خود کو ان ہی ادوار میں محسوس کرنے لگتا ہے ۔
دار المدینہ میوزیم جسے عربی میں " متحف دار المدینہ " کہا جاتا ہے کو جانے کیلئے مسجد نبوی الشریف کے جنوبی سمت میں ائر پورٹ روڈ پر کوئی 3 کلومیٹر دور جہاں نیا ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا گیا ہے کے دائیں سمت ایک وسیع و کشادہ ہال میں قائم کیا گیا ہے ۔
سینٹر کے اوقات عام دنوں میں صبح 9 سے دوپہر تک اور شام 5 سے رات 10 بجے تک ہوتے ہیں ۔ رمضان المبارک میں میوزیم کے اوقات مختلف ہیں۔ دوپہر 2 بجے سے شام 4 تک اور رات کو 10:30 سے 2:00 بجے تک زائرین کیلئے کھولا جاتا ہے ۔
دار المدینہ میوزیم جس خوبصورت انداز میں تیار کیا گیا ہے وہ واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جسے مثالی کہا جائے تو بے جانہ ہو گا ۔



دار المدینہ میوزیم میں رکھا گیا عہد نبوی ﷺ کے شہر کا سب سے بڑا مجسم ماڈل




امہات المؤمنین کے حجروں کے ماڈلز جسے اسی دور کی عکاسی کرتے ہوئے بنایا گیا




ہجرت نبوی کے موقع پر انصار مدینہ کا نبی اکرم ﷺ کے استقبال کے منظر کی مجسم عکاسی




غزوہ خندق کے موقع پر کھودی جانے والی خندق کا مجسم ماڈل




عہد نبوی میں استعمال ہونے والے قدیم سکے جو یکم سال ہجری سے 11 سنہ ہجری تک مستعمل رہے




ہجرت کے بعد مدینہ منورہ شہر کا مجسم ماڈل




مسجد نبوی ﷺ کا بیرونی منظر جس میں گنبد خضراء بھی نمایاں ہے ۔




عہد نبوی ﷺ میں مسجد نبوی الشریف کا مجسم ماڈل اس وقت کھجور کے تنوں کو ستون کی جگہ استعمال کیا جاتا تھا




روضہ نبی اکرم ﷺ کا مجسم ماڈل 

مکمل مضمون کے لیے کلک کریں






تدبر قرآن ۔۔۔۔ سورة البقره ...۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ 26


 تدبر قرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ- 26


اعوذ بالله من الشیطان الرجیم
بسم الله الرحمن الرحيم


اللہ کو اپنا حقیقی مالک سمجھتے ہوئے ہماری سوچ کیا ہونی چاہئے؟ ہمیں اس کو *لیس کمثلہ شیء* سمجھنا ہے. یعنی اس کے جیسا کوئی اور ہے ہی نہیں. آپ اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے ویسا نہیں سوچ سکتے. 

اس لئے میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اللہ کا ہمارے ساتھ تعلق محبت پر مبنی ہے.
کیا کسی دوسرے آقا اور غلام کا رشتہ ایسی محبت پر مبنی ہے ؟ ایسا رشتہ پہلے کبھی قائم ہی نہیں ہوا جیسا ہمارا اللہ کے ساتھ ہے. جس کی بنیاد محبت ہے. 

جب اللہ کہتے ہیں میرے بندو!( تو یہ ہے ہمارا اللہ کے ساتھ تعلق) 

  * فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ*

کون سا آقا ہے جو کہتا ہے:اے میرے بندو!
کون سا آقا ہے جو ایسی رحمت دکھاتا ہے.

اور پھر ہمیں آزادی بھی دے، سوچ سے بالا تر . یہاں تک کہ ان غلاموں پر بھی رحمت کرنے والا جو اس کے نافرمان ہیں. جو اس کے دشمن بن بیٹھے ہیں. جو اس کی خدائی کا مذاق بھی اڑاتے ہیں.  وہ اُن لوگوں پر بھی رحمتیں نازل کرتا جاتا ہے، جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے.
ہے کوئی ایسا آقا جو اپنے نافرمان غلاموں پر رحمتیں برسائے؟ نہیں.
عمومی طور پر جب کسی بادشاہ کی نافرمانی کی جائے تو ردعمل  کیا ہو گا ؟  آپ خوب جانتے ہیں.  لیکن اللہ کی بات اور ہے. اللہ کے بندوں میں سے بعض  منکر اور ملحد ہیں. بہت سے لوگوں نے اسلام کو ترک کر دیا، مگر پھر بھی ان کو رزق ملتا ہے. ان کا معدہ کام کرتا رہتا ہے . ان کا دل متواتر دھڑکتا رہتا ہے. ان کے پھیپھڑے بھی ایک تسلسل کے ساتھ اپنا کام کرتے جاتے ہیں. ان کی زندگی میں خوشیاں بھی ہیں. یہ ساری رحمتیں کہاں سے آ رہی ہیں؟ یہ سب کچھ الرحمن کی طرف سے  ہے.
قرآن میں نہایت خوبصورت تناسب  ہے.  سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالٰی نے پہلی دفعہ بحیثیت "رب" اپنا تعارف کروایا
الحمدللہ رب العالمین. اللہ تعالٰی نے اپنے آپ کو رب کہا . پھر آگے رب کی خصوصیات کا ذکر (الرحمن الرحیم) کیا.
جبکہ آیت21 میں رب کی جو خصوصیت بیان ہوئی ہے. وہ ہے "الذی خلقکم والذین من قبلکم"  وہ ذات جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو.
اللہ تعالٰی نے آپ کو اور مجھے پیدا کیا، زندگی عطا فرمائی یہ اس کی محبت اور رحمت کی علامت ہے.
بہت سے لوگ زندگی جیسے اس تحفے سے نالاں رہتے ہیں. مثلاً میں نے تو نہیں کہا تھا کہ مجھے پیدا کیا جائے. یا مجھے اس دنیا میں بھیجا جائے. مجھے ایسا کیوں بنایا گیا ہے؟ یہ سراسر بیوقوفی ہے. ایسے لوگوں کا رویہ زندگی جیسے قیمتی تحفے کے متعلق بالکل بھی احسان مندی والا نہیں. یہ زندگی اللہ کی رحمت کا محبت بھرا اظہار ہے. زندگی کوئی سزا نہیں ہے. یہ اللہ کا غضب نہیں ہے. 

یہاں اس نکتے پر ہم عیسائیوں کے بنیادی تصورات سے اختلاف رکھتے ہیں. عیسائی عقیدہ یہ ہے کہ انسان اپنی ابتدا سے ہی مغضوب ہے.(حضرت آدم علیہ السلام  کے وقت سے ہی) اور زندگی سزا کی ہی ایک صورت ہے. نہیں ایسا نہیں ہے. یہ نعمتوں سے بھرپور ہے. اللہ کی حقیقی محبت کا اظہار ہے.   
    إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُم*
جب اللہ کسی مخلوق کو پیدا کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی محبت ظاہر کرتا ہے.
جب وہ کسی پر اپنی رحمت ظاہر کرنا چاہتا ہے، تو  اس کو پیدا فرما دیتا ہے. وہ آقا جس نے آپ کو رحمت کے ساتھ پیدا کیا، محبت کے اظہار کے طور پر. اور ان لوگوں کو بھی جو آپ سے بہت پہلے تھے. ہمارے آقا نے ہمیں بنا کر ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اس نے تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے، ہدایت سے روشناس بھی کروایا ہے. وہ ہدایت جس پر چل کر ہم اپنی دنیاوی و آخروی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں. ہمارے آقا نے یہ رحمت اور محبت بھرا سلوک صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہم سے پہلے  لوگوں کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا .
درحقیقت تخلیق اور ہدایت کے درمیان قریبی تعلق ہے. جیسے سورۃ الرحمن میں ہے :
* عَلَّمَ الْقُرْآنَ  خَلَقَ الْإِنسَانَ *
اور سورۃ البقرہ میں بھی اس سے کافی حد تک ملتی جلتی بات بیان ہوئی ہے:
والَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
ان دونوں جگہوں پر وحی کا ذکر، تخلیق کے ذکر سے پہلے ہے . کیوں؟  کیونکہ پہلے مینول/ دستور عمل ہے. پھر پراڈکٹ ہے. دستور عمل کے بغیر حاصلات کا تصور بھی نہیں. اس کا ذکر ہی عبث ہے. پس ہمارے آقا نے ہمیں ایک مقصد کے حصول کیلئے پیدا کیا ہے. اس نے ہمیں وحی پہنچائی ہے.
*لعلکم تتقون*
تا کہ تم اپنے آپ کو بچا سکو. یہ اپنے آپ کو بچانا کیسے ممکن ہے؟ دوسروں سے الگ کر کے؟ اللہ نے یہ چیز ہمیں وحی کے ذریعے سمجھائی ہے. ایک لائحہ عمل دیا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہمارا مقصد تخلیق پورا ہو سکتا ہے.  آپ نے کن کن لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا ہے؟
* إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ*
*وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ*
*صم بکم عمی فہم لا یرجعون*
*یجعلون اصابئھم وفی اذانہم من الصواعق*
ان تمام باتوں سے، ان لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا ہے. یہ تمام منفی تشبیہات بہت مہیب اور خوفناک ہیں. یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو ہدایت کی بالکل بھی قدر نہیں کرتے. یا پھر قدر کھو چکے ہیں.
اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ تم میرے ساتھ وعدہ کرو کہ تم میرے بندے ہو تو تب تمہارا بچنا ممکن ہے.
مجھے یہ لفظ تتقون بہت پسند ہے. عربی زبان میں تقون کا مطلب ہے تم بچاؤ. اتقون کا مطلب ہے، تم بچائے گئے. اتقی! فعل لازم اور متعدی ہے. یعنی تمہیں اپنے آپ کو بچانے کیلئے خود اقدامات کرنا ہوں گے. اللہ نے انسان کو ذمہ دار بنا دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود کرے.
مثلاً اگر آپ کے پڑوس میں چور اچکے بستے ہیں تو کیا آپ دروازے کو رات بھر کے لیے کھلا چھوڑ دیں گے؟آپ کی اس لاپرواہی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اگلی صبح آپ کا سارا سامان بستر/ گدوں سمیت غائب ہو گا. اب آپ یہ کہنے کے ہرگز مجاز نہیں کہ یہ اللہ تعالٰی نے کیا ہے. بھئ آپ نے خود احتیاطی تدابیر کیوں نہ کیں؟ آپ نے دروازہ کیوں کھلا چھوڑا؟ یہ تو دوسروں کیلئے دعوت عام تھی. کہ آؤ اور لے جاؤ، یہاں سب کچھ دستیاب ہے.
آپ جانتے ہیں کہ یہ سراسر آپ کا اپنا قصور ہے.
اسی طرح تتقون کا تصور ہے، کہ اللہ رب العزت آپ کو ہدایت کا بتاتے ہیں، رہنمائی کرتے ہیں، ایمان کو مضبوط کرتے ہیں. لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی انسانوں کو ہی اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ وہ تقوی کو اپنے اندر خود قائم کریں. یعنی اتقی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ کو پرہیزگار بنانے کی ساری ذمہ داری اللہ تعالٰی کی ہے. بلکہ یہ انسان کی اپنی ذمہ داری ہے. اسی وجہ سے یہ فعل لازم ہے. اللہ یا کوئی اور بیرونی قوت آپ کی حفاظت کی آپ کے بچاؤ کی ذمہ دار نہیں ہیں. اللہ نے آپ کو طریقے بتا دئیے ہیں کہ کیسے، اپنا بچاؤ کرنا ہے . اب ہم میں سے ہر ایک کے پاس اس دنیا میں متقی بننے کے مساوی مواقع ہیں. آپ اللہ سے کوئی مطالبہ کرنے کے اہل نہیں کہ جب وہ مجھ پر تقوی واضح کرے گا تب میں متقی بن جاؤنگا. اور نہ ہی صرف دعا سے کام چلے گا. جیسا کہ:میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی مجھے متقین میں شامل فرمائے. آمین.
اگر آپ کا یہ رویہ ہے تو آپ غلطی پر ہیں. صرف دعا کرنے سے متقین میں شمولیت ممکن نہیں. اللہ تعالٰی آپ کو متقین بننے کے سارے لوازمات سے آگاہ کرچکے ہیں. وہ اور چیزیں ہوتی ہیں جن کیلئے آپ دعا کرتے ہیں مثلاً آپ بارش کیلئے دعا کرسکتے ہیں. 

لیکن تقوی کے حصول کیلئے جب تک آپ اس کی ریکوائرمنٹس پوری نہیں کرتے، اس کیلئے کوشش نہیں کرتے، آپ کامیاب نہیں ہوسکتے. بغیر کوشش کے تقوی کا حصول قرآن کی روح نہیں.

جاری ہے ۔۔۔ 

جمعہ, فروری 17, 2017

اصل بادشاہی


بر خود آنرا کہ پادشاہی نیست
بر گیا ہیش پادشاہ شمار

(حکیم سنائی)

جس شخص کو اپنی ذات پر حکمرانی نہیں 
تو اسے صرف گھاس پر بادشاہ شمار کرو
 (وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جسے ایک تنکے پر بھی اختیار نہیں۔)

اے خدا ترے بنا۔۔۔ پروفیسر محمد عقیل



اے خدا ترے بنا۔۔۔
( پروفیسر محمد عقیل )

اے میرے رب! اے میرے خدا! تیرے بنا زندگی موت سے بھی بد تر ہے ۔ تیرے بنا چاند کی روشنی تیرگی، سورج کی کرنیں بے نور، تاروں کی چھاؤں معدوم ، فلک کی وسعت ایک تنگ گلی اور نیلگوں آسمان ایک سیاہ چادرہے ۔ تیرے بغیر پرندوں کی چہچہاہٹ ایک بے ہنگم شور، پھولوں کی مہک بے کیف بو ، قوس قزح لایعنی لکیریں ، باد نسیم صحرا کے تھپیڑے ، پتوں کی سرسراہٹ بے معنی آواز، ساحل کی موجیں بے سبب یلغار اور بارش کے قطرے تپتے ہوئے سنگریزے ہیں ۔

تیرے بغیر زیست بس سانسوں کا آنا جانا ، دل محض گوشت کا لوتھڑا ، عقل عیاری کی آماجگاہ، نگاہیں ابلیس کی پناہ گاہ اور بدن اک زندہ لاش ہے ۔ تیرے بنا ہر حسن غلاظتوں کا ڈھیر، ہر رشتہ لایعنی تعلق، ہر انسان شیطان کا سایہ ، اور ہر محفل اجڑا ہوا دیار ہے ۔

تیرے بنا یہ نمازیں ریاکاری ، یہ زکوٰۃ سانپوں کا ڈنک، یہ حج فقط اک یاترا اور یہ روزے احمقوں کافاقہ ہیں ۔ تیرے بنا تبلیغ محض ڈھونگ ، تقریر نقلی پھولوں کا گلدستہ ، حیا فقط تکلف، مذہبی پیشوائیت پنڈت کی دوکان، جہاد اک فساد، اذان ایک رسمی اعلان ، جمعہ ایک لایعنی اجتماع اور عید ابلیس کی بزم ہے ۔ تیرے بنا تفریح ایک بے ہودہ عمل، غناء ایک بے ہنگم شور اور سماج ایک جم غفیر ہے ۔ تیرے بغیر کمانا ایک حرام عمل، لین دین استحصال کا ذریعہ، فلاح کا کام محض دکھاوا، تعلیم جہل کی بنیاد ، کھانا پینا جانوروں کا فعل اور جنسی تعلق نری حیوانیت ہے ۔

میں یہ چاہتا ہوں کہ تو ہو اور مرے من میں تجھ سا کوئی نہ ہو۔ تو نہیں توکچھ بھی نہیں ۔ تو ہے تو سب کچھ ہے ۔ تو ہے توگلوں میں رنگ ہے ، باد نوبہار ہے ۔ ترنم ہزار ہے ، بہار پر بہار ہے ، ہوا بھی خوشگوار ہے ۔ تو ہے تو نماز یہ معراج ہے ، زکوٰۃ بہت پاک ہے ، صوم اک نکھار ہے ، حج اک خمار ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ تو میرے شب و روز میں آ، میرے تکلم میں سما، میری سماعتوں کو جگا، میری نگاہوں میں بس جا، میری نیندوں کو سجا، میرے سجدوں کو بسا، مجھ کو راتوں میں اٹھا، رگ جاں سے بھی قریب آ اور پھردور نہ جا۔

جمعرات, فروری 16, 2017

آج کی بات ۔۔۔۔ 16 فروری 2017

~!~ آج کی بات ~!~

کسی بھی چیز کی مخالفت میں بڑھ جانا کبھی کبھی اس کے مزید فروغ کا باعث بھی بن جاتا ہے۔
 ہم اگر کسی چیز کو غلط سمجھتے ہیں تو اس کو نظرانداز کرنے کا طریقہ اپنائیں،
 اس کو اگر اہمیت ہی نہیں دیں تو وہ خود اپنی موت آپ مر جائے،
 مگر ہم تمام حدیں پھلانگ کر بس اس کا مزید چرچا کرتے ہیں
(بھلے مخالفت میں سہی).

میرے الفاظ

بدھ, فروری 15, 2017

تدبرِ قرآن ۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ 25

تدبرِ قرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ- 24
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

عْبُدُوْا رَبَّكُمُ.
اب ہم عبادۃ کے مفہوم کو مختصراً سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کا پہلا نام جو ہم نے سورۃ فاتحہ میں پڑھا وہ کیا تھا؟ "رب" .
الحمداللہ رب العالمین.
اب اللہ تعالٰی نے سورۃ بقرۃ میں اب تک اپنا تعارف نہیں کرایا تھا، یہاں آ کر اللہ تعالٰی نے اپنا ذکر کیا، اس سے پہلے اللہ تعالٰی نے وحی کا ذکر کیا، ان لوگوں کا ذکر کیا جو ایمان لائے اور ان کا جو ایمان نہیں لائے، اللہ کا نام آیا تو سہی مگر براہ راست واضح طور پر نہیں. اب یہاں آ کہ اللہ تعالٰی نے دو ایسے لفظوں کو جوڑا جو قرآن کا خلاصہ ہیں. 

میرے استاد نے کوئی 15 یا 16 سال پہلے مجھ سے سوال پوچھا اور مجھے نہیں پتہ کہ مجھے صحیح جواب کا علم کیسے ہوا؟ شاید خوش قسمتی سے، جیسے کوئی استاد مشکل سا سوال پوچھے اور آپ کا تکا لگ جائے. تو میں اپنے استاد سے عربی اور قرآن دونوں سیکھ رہا تھا اور ہم نے قرآن کا مکمل دورہ کیا تو ایک دن میرے استاد نے مجھے سامنے بٹھا کر پوچھا کہ نعمان! سارے قرآن کا خلاصہ ایک جملے کیا بنتا ہے ؟ اور میں نے گڑبڑا کر کہا کہ آہم!...... سارے کا سارا قرآن....... یا... کسی ایک سورۃ میں سے.... ؟ پوچھا کہ" نہیں مکمل قرآن کا خلاصہ صرف ایک جملے میں "؟ میں نے کہا کہ "یہ قبول کرنا کہ اللہ ہمارا مالک ہے اور ہم اس کے غلام ہیں. " انہوں نے کہا کہ " ہاں تم سمجھ گئے. " اور میں نے یہ جواب اس لیے دیا تھا کیونکہ وہ اکثر یہی جملہ کہا کرتے تھے. لیکن پندرہ سال گزرنے کے بعد، کئی تفاسیر پڑھنے کے بعد، تفاسیر المقارب اور مختلف زبانیں پڑھنے کے بعد میں آپ کو بتا دوں کہ قرآن کا خلاصہ یہی ہے. اور اب پہلے سے بڑھ کر یہ بات مجھے حقیقت لگتی ہے. 

آئیڈیا یہ ہے کہ ہماری ساری زندگی تعلقات پر مبنی ہے. میرا اپنے بچوں سے، اپنے والدین کے ساتھ ایک تعلق ہے، لوگوں کا اپنے پڑوسی کے ساتھ، اپنے نصف بہتر سے' افسران سے، کاروباری شراکت داران سے ، غرض کہ زندگی میں ہر چیز تعلق سے پروان چڑھتی ہے. درحقیقت آپ کا خود سے بھی ایک تعلق ہوتا ہے اور اللہ کی یہ کتاب آپ کا اللہ سے تعلق جوڑتی ہے. ہر تعلق کے کچھ حقوق اور کچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں. ایک استاد کے کچھ فرائض ہوتے ہیں تو ایک شاگرد کی بھی کچھ ذمہ رادیاں ہوتی ہیں. اسی طرح استاد و شاگرد دونوں کے حقوق ہوتے ہیں، اگر آپ کو حقوق و فرائض کا ادراک نہیں تو آپ کے تعلقات خراب ہو جانے کا خدشہ ہے. اللہ تعالٰی کے بہت سے نام ہیں جو ہمارا اللہ سے تعلق جوڑتے ہیں. مثال کے طور پر " الرحیم " وہ رحم کرتا ہے تو میں رحمت کا طالب ہوں. وہ " الھادی" ہے تو میں ہدایت کا طلب گار ہوں. اللہ تعالٰی کے بہت سے نام ہیں جو ان فرائض کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو مجھے نبھانے چاہئیں . لیکن ایسا کون سا ایک نام ہے جو میرا اللہ تعالٰی سے بنیادی تعلق ظاہر کرتا ہے، یہ الخالق نہیں ہے، " الخالق " کے معنی ہیں تخلیق کرنے والا اور یہ لفظ مجھے مخلوق میں شامل کرتا ہے لیکن یہ لفظ اللہ سے میرا بنیادی تعلق ظاہر نہیں کرتا. وہ پہلا بنیادی تعلق جو اللہ کا انسان سے قرآن پاک میں بیان ہوا ہے وہ ہے " رب " اور " عبد". اگر آپ یہ سمجھ جائیں تو سب سمجھ جائیں گے. لیکن اگر یہ نہ سمجھ سکیں تو باقی تمام لفظ، وہ الخالق تو آپ مخلوق، وہ الھادی تو آپ ہدایت کے طالب، وہ الرحیم تو آپ رحمت کے طلب گار، یہ سب باتیں ثانوی ہیں. جو بنیادی چیز ہے وہ ہے " رب " اور " عبد" . اور رب کہتے ہیں مالک کو، وہ جو خیال رکھتا ہے. وہ جو انعام دیتا ہے، وہ جو قائم رکھتا ہے، وہ جو بادشاہ ہے. جب آپ اللہ کو رب کہہ کر بلاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا اس پر کوئی حق نہیں. اور جب آپ اپنے آپ کو غلام کہتے ہیں، جب آپ کہتے ہیں " عبد"، تو اس کا مطلب کہ آپ کسی بھی چیز کے حقدار نہیں. ایک ملازم کو تنخواہ ملتی ہے، ایک کاروباری شراکت دار کو اس کا حصہ ملتا ہے، ایک بچے کے بھی ماں باپ کی طرف کچھ حقوق بنتے ہیں لیکن ایک غلام کو کچھ نہیں ملتا. بلکہ ایک غلام کو جو بھی ملے وہ تحفہ ہوتا ہے. ایک آقا کو اپنے غلام کو کچھ نہیں دینا ہوتا. لیکن بات یہ ہے کہ غلام اور آقا، انگریزی میں ان کے معنی نہایت برے سمجھے جاتے ہیں کیونکہ انگریزوں کی اس حوالے سے اپنی تاریخ نہایت بری ہے. لیکن اس سماجی اور فلسفیانہ زہر کے برعکس جو ہمارے ذہنوں میں ان دو الفاظ کے خلاف ڈالا جا چکا ہے اگر آپ اللہ کو اپنا مالک، اپنا آقا تسلیم کریں تو آپ کو سمجھنا ہو گا کہ " لیس کما مثله شئ ". اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں، ایسا آقا آپ کو کہاں ملے گا؟

استاد نعمان علی خان..
جاری ہے...........

منگل, فروری 14, 2017

میرا شریک حیات (منقول)

میرا شریک حیات..
منقول

مرد کو کبھی کمزور نہیں ہونا چاہئیے..پتا ہے مجھے کیسے مرد پسند ہیں..ایسے جو رعب والے ہوں..تھوڑے سے سڑیل..تھوڑے سے گھمنڈی..تھوڑے سے مغرور..!!!!!
پتہ ہے کیوں..؟؟
کیوں کہ ایسے مرد ہر کسی کے سامنے بچھ نہیں جاتے..دل ہتھیلی پر نکال کر نہیں رکھ دیتے..ہر جگہ ہر کسی سے اظہار محبت کرنے نہیں بیٹھ جاتے..ایسے مرد ہی دراصل عورتوں کے محافظ ہوتے ہیں..
اور جانتے ہو میں کیا چاہتی ہوں..میں ایسے مرد کی دلہن بن کر اپنا پوراوجود اسے سونپ دوں..میں اس کی اطاعت کو ہی جز ایمان بنا لوں..اس کو سر آ نکھوں پر بیٹھاوں..کبھی بھی اسکی تزلیل نہ ہونے دوں..!!!!!!
تعلیم کا یہ مطلب تو نہیں کہ مرد سے برابری کرنے لگ جاوں علم تو عاجزی سکھاتی ہے..شیطان نے بھی تو برابری کی تھی..کیا مقام ملا..کیا مقرب بہ خدا ہوا..
اور برابر ہو کر کرنا بھی کیا ہے..
خود کو مزید مشینوں کے سپرد کر دینا..رشتوں کی قیمت پر..اور مزید غیر محسوس ذمہ داریوں میں جکڑ کر مرد کو آذاد چھوڑ دینا.....
میں تو چاہتی ہوں...ایسی زندگی ہو..جھاں برابری نہیں محبت پنپتی ہو..قوس و قزح بھی سات رنگوں میں اچھا لگتا ہے پتہ ہے کیوں..کیوں کہ وہاں برابری کی بات نہیں آتی..ہر رنگ دوسرے سے الگ مگر منفرد..سوچو سات ایک ہی قسم کے رنگ ہوں تو کبھی اچھا لگے گا کیا وہ..اور دیکھو سات الگ رنگ مل کر ایک خوبصورت منظر تخلیق کر دیتے ہیں..ھم بھی شادی کرکے الگ انسان سے جڑتے ہیں..جس کی عادتیں..ہم سے الگ..لائف سٹائل ہم سے الگ..نظریات ہم سے الگ..پسند ناپسند الگ.اور.سوچ الگ..مگر صرف ایک دو چیزیں کامن ہونے سے یہ زندگی بھی قوس و قزح کے رنگوں کی طرح ایک خوبصورت زندگی کو تخلیق کرتی ہے..اور وہ چیزیں ہیں..تسلیم..صبر..شکر..محبت اور احساس..
سو جھاں لگے رشتے کمزور ہورہے ہیں وہاں کمزور ہوجاو....!!!
وہاں انا کے بندھن سے نکل آو...وہاں جھک جاو...وہاں ابلیس بنو گے تو سب کھو دو گے..قرب...منزل اور.محبت بے شک تم جیت ہی کیوں نہ جاو.....!!!!!
یہ جو آج کل برابری کا نعرہ لگ رہا ہے نا...تو اس برابری میں مرد بھی آگے آگیا ہے..!!!!
وہ بھی محبت ضرورت کی طرح کرتا ہے..وہ بھی سوشل سرکل کے نام پر من مانیاں کرتا پھرتا ہے..اسے بھی دروازے پر انتظار کرنے والی بیوی نہیں ملتی...اور نہ ہی اسے چاہئیے..
اور ہونے والے بچے احساسات سے عاری...دل محبت سے آزاد..اور دونوں ایک خول چڑھا کر دن رات..آئی لو یو اور مس یو..بس یہ ہے آج کل کی محبت.......!!!!!!
جانتے ہو آج کل محبت دل سے نہیں دماغ سے کی جاتی ہے..محبت کو پہلے پلان کرکے کاغذ پر اتارا جاتا ہے..سکرپٹ لکھ دی جاتی ہے..لیکن محبت صفحوں پر تو اترتی ہے مگر دل میں نہیں اتر پاتی..کیونکہ محبت بے ساختہ جذبہ ہے..اس کی خوبصورتی ہے بے ساختگی ہے...محبت میں برابری نہیں مانگی جاتی..دوسرے کی خوشی اپنی خوشی..دوسرے کا دکھ اپنا دکھ..
پتہ ہے میرا دل کیا کرتا ہے..میرا دل کرتا ہے کہ میں اپنے شوہر کے لئے اچھے اچھے کھانے پکاوں..اس کے کپڑے دھووں..اس کو پریس کر کے دوں اور محفل میں جب کوئی فخر سے اس کی نفاست اور اعلی ذوق کی تعریف کرے تو اس کی نگاہوں میں میرا ہی عکس ابھرے..اور یہی میرا اعزاز ہو..انعام ہو.....!!!!!
پر ھم نے بچوں کو برانڈڈ چیزیں دینے کے لئے..محبتوں کو پرائویٹ کر دیا ہےمحبت پر بھی لمیٹڈ اینڈ کنڈیشنل کا ٹیگ لگا دیا ہے..محبت بھی آج کل کے جھگڑوں کی طرح ہر بندے کا ذاتی معاملہ بن چکی ہے..ہو نہ ہو بس چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر آئی لو یو کی رٹ لگاو...اور بس اسی کو محبت سمجھو.....!!!!
محبت کی جگہ ایک لفظ نے لے لی ہی..انڈر سٹینڈنگ..بس اگلے کو ماننا نہیں جاننا ہے...زندگی کو گزارنے سے زیادہ سمجھنا ہے...کہتے ہیں آپس میں انڈرسٹینڈگ ہونی چاہئیے..مگر میں کہتی ہوں آپس میں محبت ہونی چاہئیے..محبت میں سٹینڈ کرنے والے انڈرسٹینڈنگ کے نام پر خود کو اور دوسروں کو کبھی نیچا نہیں دکھاتے..بلکہ گرے ہووں کو بھی اٹھاتے ہیں
اسی لئےاب محبتیں دلوں میں سٹینڈ ہی نہیں کر پاتیں..کیونکہ دل معیارات کا اڈا بن گیا ہے..دل میں محبت کے لئے جگہ ہی نہیں بچی..!!!!!!
اس لئے میں چاہتی ہوں کہ میں جس کو چاہوں اسے اپنا آپ سپرد کر دوں..!!!!
اور بدلے میں محبت پاوں..!!!!!
میں شاید آج کل کی لڑکیوں کو پسند نہ آؤں..مگر بتادوں آخر گھوم پھر کر وہ یہیں پہنچیں گی...کونکہ یہی سب سے خوبصورت زندگی ہے..!!!!!
اور میری بات مردوں کو ناگوار لگے گی کیوں کےان کے لیۓ دنیا کی سب سے بور چیز ایک شریف عورت ذات ہی تو ہے....

پیر, فروری 13, 2017

تدبرِ قرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ 24

تدبرِ قرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ- 24
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الناس کے ایک اور معنی بھی ہیں، وہ یہ کہ لفظ الناس، " ناس" سے نکلا ہے اور " ناس " عربی میں کہتے ہیں ان لوگوں کو جن کا ادراک کیا جا سکے، یا جنہیں سمجھا جا سکے. اس بات کا جنات سے تعلق ہے کہ جنات کا لفظ " جنة " سے نکلا ہے. یعنی چھپا ہوا، " جنة " جنت کو بھی کہا جاتا ہے. کیونکہ جنت دنیا کی نظروں سے ڈھکی چھپی ہے، جنات کو جن کہا ہی اس لیے جاتا ہے کیونکہ آپ انہیں دیکھ نہیں سکتے. ماں کے رحم میں موجود بچے کو جنین کہا جاتا ہے. رحمِ مادر کو بھی جنین کہا جاتا ہے کہ وہ بچے کو چھپا کر رکھتا ہے. اس کے برعکس انسانوں کو دیکھا جا سکتا ہے. اس لیے انسان کا لفظ " ناس " سے ہے یعنی وہ جنہیں دیکھا جا سکے .
الناس کا ایک تیسرا معنی بھی ہے جس پہ زیادہ تر لوگ متفق ہیں اور یہ مفہوم نہایت مشہور و معروف ہے کہ لفظ الناس اصل میں " انس" سے نکلا ہے، اور لفظ " انس" عربی میں لفظ " وحشی " کا متضاد ہے. لفظ " وحشی" اردو بولنے والوں کو آسانی سے سمجھ آئے گا یعنی وحشی جانور، وحش کا مطلب ہے جنگلی پن، جن کے کوئی اصول و ضوابط نہ ہوں، ایک بھیڑیا شکار کرنے سے پہلے کوئی دسترخوان نہیں بچھاتا، وہ بس اپنی خواہش و بھوک کے مطابق جانور چیر پھاڑ کر کھا جاتا ہے لیکن ایک انسان سلیقے سے کھاتا ہے. اور جانور انسانوں کی طرح ہمدردی کا اظہار نہیں کر سکتے. لیکن کوئی شک نہیں کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ انسان جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں. ایک وقت آتا ہے جب اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِىٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ
بے شک ہم نے انسان کو بڑے عمدہ انداز میں پیدا کیا ہے۔
ثُـمَّ رَدَدْنَاهُ اَسْفَلَ سَافِلِيْنَ
پھر ہم نے اسے سب سے نیچے پھینک دیا ہے۔

کہ ہم نے انسان کا درجہ بدتر سے بھی بدتر کر دیا، تو جانوروں سے بھی بدتر طرزِ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے. حتی کہ جانور بھی بغیر وجہ کے شکار نہیں کرتے، جانور تب دوسرے کو مارتے ہیں جب انہیں بھوک ہو یا جب انہیں اپنی جان خطرے میں محسوس ہو. جب ان کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو یا ان کا پیٹ بھرا ہو تو وہ بغیر کسی کو نقصان پہنچائے چل پڑتے ہیں. جانور کسی کو نفرت کے باعث قتل نہیں کرتے. جانور بغیر وجہ کے بھی قتل نہیں کرتے تو جب انسان ایسا طرزِ عمل اختیار کریں تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں. یہ ہے اَسْفَلَ سَافِلِيْنَ. اسی لیے اللہ تعالٰی قرآن میں کہیں انسانوں کا مویشی کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں. اور کہتے ہیں کہ بعض ان میں سے بدترین ہیں. وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، جانور بھی کم از کم اپنی فطرت کے خلاف نہیں جاتے. لیکن انسان جو کچھ کرتے ہیں وہ تو ان کہ فطرت میں ہی نہیں ہے. انسانوں کا یہ وحشی پن اپنانا غیر فطری ہے . 

تو الناس کے تین معنی ہیں، جن میں سب سے مشہور و معروف مفہوم یہ ہے کہ انسان ایک رحم دل مخلوق ہے . انسانوں کی فطرت میں ، رحمدلی، محبت و نرمی کا جزبہ تمام جانوروں سے بڑھ کر ہے. اس لیے انسان نہ صرف اپنے گھر والوں سے بلکہ اپنے ہمسایوں اور حتی کہ اجنبی لوگوں سے بھی رحمدلی و نرمی کا اظہار کرتے ہیں. حتی کہ جانوروں اور پودوں سے بھی ہم انسان محبت رکھتے ہیں.
آپ رحمدلی کا اظہار کرتے ہیں جب راستے کا پتھر سڑک سے ہٹا دیتے ہیں، یہ آپ کی انسانیت ہے. دوسرے لفظوں میں انسانوں کو انسان کہا ہی تب جاتا ہے جب وہ دوسرے لوگوں کی پرواہ کرتے ہیں . اور جب یہ کوالٹی ان سے چھن جائے تو وہ انسان بھی نہیں رہتے.
اب اللہ تعالٰی اس لفظ "الناس" کا استعمال کرتے ہیں، کوئی اور لفظ بھی کہا جا سکتا تھا لیکن اللہ تعالٰی نے یہی جملہ چنا. " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُو رَبَّکُمْ"
تو اس لفظ کا استعمال اہم ہے اور یہ انسانوں کی آپس میں محبت و یگانگت کی طرف اشارہ کرتا ہے. یہ پہلا بلاوا ہے اللہ کی طرف، پہلا تعلق ہے ہمارے اور اللہ کے درمیان، اللہ تعالٰی کے ساتھ میرا تعلق، میرا انسانیت کے ساتھ ہمدردی کے تعلق پر منحصر ہے. جانتے ہیں ، جب ہم شہادت دیتے ہیں، اپنا اللہ سے تعلق جوڑتے ہیں تو کہتے ہیں، " لا اله الا اللہ "، ہم" اله " کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور لفظ " اله " نکلا ہے الہی سے جس کے معنی ہیں کسی سے بہت زیادہ محبت رکھنے والا، وہ جس پر بھروسہ کیا جا سکے، وہ جس پر انحصار کیا جا سکے. عرب اپنے وقتوں میں محبت کے دس درجے بتایا کرتے تھے، ان درجوں کی تفصیل میں آیت الکرسی پر تدبر کرتے ہوئے پھر کبھی بتاؤں گا لیکن ابھی کے لیے مختصراً یہ کہ عربوں کے مطابق محبت کے دس درجے ہیں اور ان میں سے نواں درجہ " اله " کا ہے، محبت کا وہ مقام جہاں آپ خالی ہو جاتے ہیں، آپ کو کوئی درد محسوس نہیں ہوتا کیونکہ محبت آپ کی تمام حسوں پر حاوی ہوتی ہے. آپ کو بھوک مسحوس نہیں ہوتی کیونکہ محبت آپ کی غذا ہوتی ہے . ایسی محبت " اله " ہے اور اس سے آگے محبت کا دسواں درجہ ہے، وہ جو آپ کو موت کی نیند سلا دے. تو یہ محبت کی سب سے طاقتور شدت ہے جو ہم اللہ کے لیے محسوس کر سکیں. اور ہم اس محبت کے لائق ہیں کیونکہ ہم اہلِ انس ہیں. ہم محبت و ہمدردی سے بھرپور ہیں. اللہ عزوجل کے ساتھ تعلق کی بنیاد ہی اس جذبے پر رکھی گئی ہے. محبت کی تلاش و خواہش. یہ صرف آقا و غلام کا ہی تعلق نہیں ہے، یہ ایک محبت بھرا تعلق ہے

" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُم"
اے اہلِ انس، اپنے رب کی بندگی اختیار کرو 

اپنے رب کی عبادت کرو، اس جملے کی تفسیر بیان کرنا چاہوں گا جو میں کافی عرصے سے آپ کو بتانا چاہ رہا ہوں اور وہ ہے قرآن کا ادبی تسلسل . یہ قرآن کی دوسری سورۃ مبارکہ ہے، پہلی سورۃ کون سی تھی؟ سورۃ الفاتحہ. یہ دوسری دفعہ ہے کہ ہم لفظ عبادۃ پڑھ رہے ہیں. " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُم ، یہاں دوسری دفعہ عبادۃ کا لفظ استعمال ہوا، پہلی دفعہ سورۃ الفاتحہ میں یہ استعمال ہوا تھا جب کہا گیا ایّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیّاکَ نَسْتَعین، وہاں ہم نے اللہ تعالٰی سے براہ راست کہا تھا کہ یا اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ، ہم تیری بندگی پر راضی ہیں، ہم فیصلہ کرتے ہیں اللہ العزیز کی بندگی کا اور اب سورۃ بقرہ کی 23 ویں آیت میں اللہ تعالٰی ہم سے بات کرتے ہیں تو یہ دراصل ہماری بات کا جواب ہے. وہاں ہم اللہ تعالٰی سے کچھ کہہ رہے تھے، ایک جملہ ہم نے کہا کہ ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس آیت میں اللہ تعالٰی ہم سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں " اعْبُدُوا رَبَّكُم" ،جو کہا وہ پورا کرو، لیکن ان دونوں جملوں کے درمیان جو آیات ہیں وہ اس قدر خوبصورت ہیں کہ بیان سے باہر ہیں . 

سورۃ فاتحہ میں تین گروہوں کا ذکر آیا تھا،
1. وہ جن پر اللہ نے انعام کیا، جو ہدایت کے راستے پر ہیں.
2. وہ جن پر اللہ تعالٰی نے غضب کیا کیونکہ وہ اسی لائق تھے
3. وہ جو راستہ کھو بیٹھے تھے. 

اب سورۃ بقرۃ میں اللہ تعالٰی نے کس گروہ سے کلام کا آغاز کیا؟ پھر سے آغاز ان سے ہوا جو ہدایت کے راستے پر ہیں. ۛ "هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ " ، أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ. یہ وہی لوگ ہیں سورۃ فاتحہ میں جن کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا تھا " صِراطَ الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ". 

پھر دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جن سے اللہ اس قدر ناراض ہیں کہ اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، اور وہ اندھے ہیں، گونگے ہیں، بہرے ہیں اور وہی لوگ گمراہ ہیں، روشنی ہے آگ بھڑک رہی ہے لیکن وہ اسے دیکھنے سے، محسوس کرنے سے قاصر ہیں اور اس روشنی سے دور جا چکے ہیں. یہ ہیں بدترین لوگ، "الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ".
 
اور پھر تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو ان لوگوں میں تو شامل نہیں جن پر غضب ہوا لیکن وہ گمراہ ہیں. جب ان پر روشنی پڑتی ہے تو وہ چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں. تو یہ لوگ بھٹک رہے ہیں 

تو یہ تین گروہ جن کا ذکر سورۃ فاتحہ کے اختتام پر تھا، ان کی تفصیل سورۃ بقرۃ کے آغاز میں بیان کی گئی ہے. اور نہایت خوبصورت بات یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالٰی نے عبادۃ سے آغاز کیا اور پھر ان تین گروہوں کا تذکرہ کیا جبکہ سورۃ بقرۃ میں اللہ تعالٰی نے پہلے تین گروہوں کا ذکر کیا اور پھر عبادۃ کا تذکرہ کیا. " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُم" ،یہ تصویر کو مکمل کرتا ہے، سبحان اللہ. شروع میں ہم اللہ تعالٰی سے بات کر رہے تھے اور اب اللہ تعالٰی ہم سے مخاطب ہیں، اور گفتگو مکمل ہوتی ہے. 

اس سورۃ مبارکہ کی ایک اور خوبصورتی التفات ہے. پچھلی آیات سے آخری منظر جو آپ کو یاد ہو گا وہ اس شخص کا تھا جو صحرا میں تاریکی میں بھٹک رہا ہے اور اللہ تعالٰی نے اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے. وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِـمْ وَاَبْصَارِهِـمْ ۚ "وَ تَرَکَھُمْ فِی ظُّلُمَات" یہ آیات پڑھ لر قرآن کے قاری کے ذہن میں جو تصور ابھرتا ہے وہ اس انسان کا ہے جسے اکیلا بے یار و مددگار، تنہا بھٹکنے کو چھوڑ دیا جائے اور اس سے ہمیں خوف آتا ہے کیونکہ اس وقت تک سورۃ بقرۃ میں تین گروہوں کو تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے،
1. اہلِ ایمان
2. شدت سے انکار کرنے والے، نہایت کٹر کفار
3. وہ لوگ جو منافقت میں بھٹک رہے ہیں. 

لیکن جانتے ہیں کیا اس وقت قرآن کا قاری خود سے پوچھتا ہے کہ میں ان میں سے کس گروہ کا مسافر ہوں؟ کچھ لوگ ہیں جو ان میں سے کسی بھی گروہ میں شامل نہیں. کچھ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن سنا مگر ایمان نہ لائے لیکن وہ کٹر کفار میں سے بھی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ منافق ہیں. وہ کسی گروہ میں شامل نہیں. تو جب وہ قرآن کو غور سے سنتے ہیں تو اب ان کو کوئی نہ کوئی راستہ چننا لازم ہے. اب ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں. پہلے انہوں نے قرآن سن نہ رکھا تھا اور وہ کسی کے خلاف نہ تھے، پر اب قرآن سن لیا تو اب انہیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ کہاں شامل ہونا ہے.

اور وہ کون سا گروہ ہو گا جو محفوظ رہے گا؟ وہ کون سا گروہ ہے جس کی حفاظت کا وعدہ ہے؟ وہ لوگ جو ہدایت کے راستے پر ہیں. اسی لیے اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ.
تو آپ دیکھیں کہ یوں یہ ساری گفتگو ایک دائرے کی شکل میں مکمل ہوتی ہے، جب اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
" يٰٓـاَ يُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ "
اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور انہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔
تاکہ تم پہلے گروہ میں شامل ہو سکو، تاکہ تم فلاح پا سکو. یہ ان لوگوں لے لیے دعوت ہے جنہیں اب یہ پیغام دیا گیا کہ تمہیں کوئی راستہ چننا ہے. ہمارا دین محض فلاسفی نہیں ہے. یہ محض اچھے خیالات کا مجموعہ نہیں ہے یہ طرزِ زندگی بدلنے کے لیے دعوت ہے. بہت سے لوگ ہیں جو تھیولوجی، اور فلسفہ پڑھتے ہیں، وہ اس کے بارے میں علم حاصل کرتے ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں . الغیب، جس کا ذکر اس سورۃ کے آغاز میں تھا. کچھ لوگ فلسفہ میں PHD کر لیتے ہیں، وہ سوچتے ہی الغیب کے بارے میں ہیں لیکن ان کی زندگی میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا. ان کا الغیب کا علم انہیں کسی عمل پر آمادہ نہیں کرتا. درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں جو خلا میں خود کو کھو چکے ہیں. آپ انہیں دیکھیں بھی تو وہ آپ کو غیر حاضر لگیں گے. لیکن ہمارا ایمان بالغیب ہمیں نیک عمل پر مجبور کرتا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ایمان بالغیب رکھیں اور اپنا طرزِ زندگی نہ بدلیں،

استاد نعمان علی خان
جاری ہے.......

اتوار, فروری 12, 2017

جمعہ, فروری 10, 2017

لیس منا ( ہم میں سے نہیں ہے)


لیس منا سے کیا مراد ہے؟

احادیث نبویہ میں ایسی صحیح احادیث کی تعداد 30 کے قریب ہے جہاں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لیس منا“ کے الفاظ ارشاد فرمائے ہیں، یعنی ”ہم میں سے نہیں ہے“. علمائے کرام نے اس کے مختلف اقوال بیان کیے ہیں لیکن سب سے افضل اور ارجح قول یہی ہے کہ

ھذہ الافعال والاخلاق ھي التي عليھا الكفار ليس من أفعالنا

یعنی اس کے یہ اعمال اور اخلاقی برائیاں ایسی ہیں جو کفار سے مستعار ہیں اور امت محمدیہ کے اعمال میں سے نہیں ہیں، کچھ لوگوں نے اس کے معانی یہ بیان کیے کہ وہ امت محمدیہ سے خارج ہوگیا یا پھر ایمان سے محروم ہو گیا۔ یہ معنی خوارج نے بیان کیا ہے جبکہ اہل السنہ کے ہاں اس کا معنی یہی ہے کہ کسی ایمان کے دعویدار کا ”لیس منا“ والا عمل نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے عمل پر نہیں ہے بلکہ کفار کے طریقے پر ہے لیکن یہ عمل اس کا امت محمدیہ سے خارج کرنے کا سبب نہیں ہے۔ امام نووی اور قاضی عیاض رحمہما اللہ نے ان احادیث کی شرح میں ”لیس منا“ کے معانی یہی بیان کیے ہیں کہ ایسا شخص جو یہ اعمال کرتا ہے وہ ایمان کے اعلی درجے پر پہنچنے سے محروم ہو گیا، اور اس کا ایمان ناقص ہے۔ لیکن ان احادیث میں مذکور اعمال منہیہ میں سے کچھ صریحا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ اس سلسلے کی احادیث سلسلہ وار مختصر شرح کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں۔

غیراللہ کی قسم کھانے والا
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ليس منا من حلف بالامانۃ
جو لفظ امانت کی قسم اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔

حدیث مذکور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کی قسم اٹھانے کی ممانعت فرمائی ہے۔ محدثین کرام نے اس سے مراد سب عبادات اور اپنے نیک اعمال لیے ہیں اور اسی طرح اللہ تعالی کی ذات، صفات اور اسماء کے علاوہ کسی بھی چیز کی قسم اٹھانا یا اس پہ حلف لینا جائز نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں ایک اور حدیث وارد ہوئی ہے. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے، اس وقت وہ گھوڑے پر سوار تھے، اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، آپ ﷺنے فرمایا خبردار اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع فرماتا ہے کہ اپنے باپوں کی قسم کھاؤ، جس شخص کو قسم کھانا ہے تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔
اللہ تعالی کے نام و صفات کے علاوہ کسی چیز کی قسم اتنا سنگین معاملہ ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا کہ نہیں، قسم ہے کعبہ کی۔ (یعنی وہ کعبہ کی قسم کھا رہا تھا) تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ جس نے غیراللہ کی قسم کھائی، اس نے شرک کیا۔ آج کل ہمارے کچھ بھائی انجانے میں ماں باپ، اولیاء اللہ کی قسم کھاتے ہیں، یہ سب ممنوع اور حرام ہے۔

بیوی کے خلاف اکسانے والا
سید المرسلین ﷺ نے فرمایا:

ليس منا من خَبَّبَ امراۃ على زوجِھا
وہ ہم میں سے نہیں جس نے بیوی کو اس کے شوہر کے متعلق اکسایا (بدظن کیا).

اس حدیث مبارکہ میں جناب رسول اللہ نے فیملی سسٹم ٹوٹنے کا بنیادی اصول بیان فرما دیا ہے۔ عموما دو افراد میں تعلقات اس وقت ہی خراب ہوتے ہیں جب کوئی تیسرا فرد ان کو ایک دوسرے کے خلاف بدظن کرتا ہے اور اس طرح یہ بدگمانی آہستہ آہستہ تعلقات کو پھیکا کر کے ان کو ختم کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ جب یہی معاملہ زوجین کے متعلق ہو تو مزید سنگین ہو جاتا ہے. بہت سے علمائے کرام نے اسی بنیاد پر اسے گناہ کبیرہ شمار کیا ہے، اس کی وجہ وہ حدیث ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کو ملعون قرار دیا جو میاں کے بارے بیوی کو بدظن کرے۔ اگرچہ اس حدیث کو صرف امام ذہبی ؒ نے الکبائر میں روایت کیا ہے، اسی گناہ کی مزید سنگینی میں اضافے کا باعث وہ حدیث مبارکہ ہے جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے شیطان کی مجلس کا حال بیان کیا ہے کہ شیطان کے سب چیلے اسے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہیں، وہ کسی سے اتنا خوش نہیں ہوتا جتنا اس سے جو کہتا ہے کہ آج میں نے میاں بیوی میں جھگڑا کروا دیا تو وہ اسے شاباش دیتا ہے اور اپنے پاس جگہ دیتا ہے۔
آج کل ہمارے معاشرے میں بگاڑ اور فیملی سسٹم کمزور ہونے کی بہت بڑی وجہ یہی خرابی ہے کہ بیوی کے سامنے اس کے شوہر کے نقائص بیان کیے جاتے ہیں جو میٹھا زہر بن کر آہستہ آہستہ اس مقدس رشتے کو نفرت کے رشتے میں بدل دیتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کا اختتام دو افراد کے تعلقات ہی ختم نہیں کرتا بلکہ یہ دو خاندانوں میں تعلقات اور ہمیشہ کی تلخیاں گھول دیتا ہے اور دونوں کی اولاد کو زندگی بھر کے نفسیاتی مسائل سے دوچار کر دیتا ہے۔

مسلمانوں پہ اسلحہ تاننے والا
جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من حملَ علينا السِّلاحَ فليسَ منَّا
جس نے ہم پہ اسلحہ تانا، وہ ہم میں سے نہیں ہے.

آج امت مسلمہ کثیر مسائل سے دوچار ہے جن میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا خون ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جہالت اور دین سے دوری ہے جبکہ اسلام دین رحمت ہے اور ایک مؤمن کی عزت و حرمت کو رسول خدا ﷺ نے خانہ کعبہ سے زیادہ مقدس بیان کیا ہے، اسی معنی میں کئی مزید احادیث بھی وارد ہوئی ہیں کہ جس نے ہم پر تلوار لہرائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے، جس نے ہم پہ تیراندازی کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیمات اس بارے میں اتنی سخت ہیں کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف لوہے کی چیز سے اشارہ کیا تو بلاشبہ وہ فرشتوں کے ہاں ملعون ٹھہرتا ہے، اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو.
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے اسلحہ کی بلاوجہ نمائش سے بھی منع فرمایا ہے اور کہا کہ مبادا اس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچے۔ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان تو چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ لہرائیں اور اپنے مسلمان بھائی پر اسے استعمال کریں۔ لہذا اولین ترجیح تو یہ ہو کہ اسلحہ پاس رکھیں ہی ناں اور اگر رکھ لیا تو اس کی نمود و نمائش سے مکمل احتراز برتیں۔ واضح رہے ہماری سلامتی کے ادارے پولیس اور افواج بحالت ڈیوٹی اسلحے کی نمائش سے مبرا ہیں کیونکہ ان کا اسلحہ مجرم پیشہ اور اسلام دشمن عناصر پہ رعب بٹھانے کے واسطے ہے۔

جمعرات, فروری 09, 2017

بے بسی (ایک کہانی)


بے بسی
سچی کہانی۔۔۔ (منقول)


ستر کی دہائی تھی، کوئی آج کل والا پاکستان تو تھا نہیں، اُس نے کراچی میں موجود امریکی لائبریری میں قدم رکھا اور پڑھنا شروع کردیا۔ وہ پیاسا تھا اور علم پیتا چلا گیا، کچھ ہی سالوں میں انجینئرنگ میں ٹاپ کیا اور امریکہ چلا آیا۔ کام، کام اور بس کام۔ وہ اپنے خاندان میں واحد گریجویٹ تھا، اکیلا خوش نصیب جسے ملک سے باہر کام ملا اور واحد کفیل۔
کام کے دوران اُس کی ایک وائٹ امریکی مارگریٹ سے شادی ہوگئی۔ ترقی پر ترقی، اپنا گھر، اپنی گاڑی، بینک بیلنس، وہ منزلوں پر منزلیں طے کرتا چلا گیا۔
کافی سالوں بعد وہ آج اپنی بیوی کے ساتھ پاکستان لوٹا۔ سن 83ء کا زمانہ تھا۔ سب لوگ خوب خوش ہوئے مگر ایک ضروری کام سے کمپنی نے واپس بلا لیا۔ بیوی کو پاکستان چھوڑ کر ایک ہفتے کے بعد واپس آنے کا کہہ کر وہ امریکہ روانہ ہوگیا۔
26 گھنٹوں کے طویل سفر کے بعد اُس نے رات کی تاریکی میں نیویارک میں موجود اپنے گھر کا دروازہ کھولا اور بستر پر آکر اوندھے منہ لیٹ گیا کہ صبح کام پر پہنچنا تھا۔ اُس نے بمشکل تمام 6 بجے کا الارم لگایا۔
صبح اُس کی آنکھ 11 بجے کھلی، وہ کافی دیر تک حیران و پریشان گھڑی کو دیکھتا رہا، اُس نے چھلانگ مار کر بستر سے اٹھنے کی کوشش کی مگر یہ کیا، وہ تو اپنے آپ کو ایک انچ بھی نہ ہِلا پایا۔ اُس نے گھبراہٹ میں چیخنا چاہا مگر کوئی آواز نہ نکل سکی۔
رات کے کسی پہر جب وہ خوابوں میں دنیا فتح کررہا تھا تو قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اُسے فالج کا اٹیک ہوا اور صبح تک اُس کا جسم، اُس کا چہرہ اور تمام عضلات کسی بھی قسم کی حرکت سے معذور ہوچکے تھے۔ اُس کا دماغ کچھ کچھ کام کر رہا تھا مگر اُسے بڑی مشکل پیش آرہی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ وہ کون ہے؟ اُس کا نام کیا ہے؟ بیوی بچے، ماں باپ کون ہیں؟ وہ سب کچھ بھولتا چلا جارہا تھا۔ یاداشت کا کھونا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی قسطوں میں خود کشی کرے۔ ہلکے ہلکے، رفتہ رفتہ، مدھم مدھم وہ تمام لوگ جن کے ہونے کو ہم زندگی کہتے ہیں دماغ سے رخصت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دل میں رہتے ہیں مگر دل تو احساسات کا مجموعہ ہے۔ شکل کو نام اور صفات تو دماغ دیتا ہے۔
مسٹر صدیقی کو بستر پر پڑے پڑے آج تیسرا روز تھا۔ موبائل فون تو اُس دور میں ہوتے نہیں تھے اور اگر ہوتے بھی تو وہ کون سے اِس قابل تھے کہ وہ ہاتھ ہِلا سکتے۔ گھر میں موجود فون بجتا رہا، کبھی آفس والے کال کرتے تو کبھی پاکستان میں گھر والے۔
اتنی بے بسی تو شاید مُردوں کو بھی نہ ہوئی ہوگی کہ انہیں کم از کم اِس بات کا تو سکون ہوتا ہوگا کہ وہ مرچکے ہیں۔ مرنا کتنی بڑی نعمت ہے انہیں آج سمجھ آرہا تھا۔
چوتھا دن، پانچواں دن اور آج چھٹا دن، غلطی سے آج ڈاکیا دروازہ کھلا دیکھ کر مسٹر صدیقی کو ہیلو ہائے کرنے آگیا کہ اُن کے اخلاق اچھے تھے اور وہ ہمیشہ ڈاکیے کو دیکھتے تو حال احوال پوچھتے۔
ڈاکیے نے کھلی آنکھوں مگر ساکت جسم کو دیکھا تو 911 پر ایمرجنسی کال کردی۔ وہ آئے اور اٹھا کر لے گئے۔ اگلے 9 ماہ صدیقی صاحب کومے میں رہے۔ وہاں سے ہوش آیا تو کینٹکی کے ایک ہاس پائس ری ہیبیلی ٹیشن سنیٹر میں منتقل کردیا گیا۔ یہاں ایسے لوگوں کو رکھا جاتا تھا جن کا واحد علاج خود موت ہوتی تھی۔ دن، ہفتے، مہینے اور سال گزرتے چلے گئے۔
بیوی نے سمجھا کہ ’کسی اور‘ کے ساتھ گھر بسالیا اور اسے بھول گئے، اُس نے بھی کہیں اور شادی کرلی۔
بہن بھائیوں اور رشتہ داروں نے سمجھا کہ پیسے کی ہوس نے تمام رشتے ناطے توڑنے پر مجبور کردیا۔
باپ نے سمجھا کہ بیٹا امریکی زندگی میں مصروف ہوگیا اور گھر والوں کی خیریت لینے کا وقت نہیں ہے، وہ ناراض ہوگیا اور اُسی ناراضگی میں کچھ سالوں بعد باپ کا انتقال ہوگیا۔
ماں پھر ماں ہوتی ہے، وہ آخری وقت تک انتظار کرتی رہی کہ ایک دن اُس کا بیٹا ضرور واپس آئے گا۔ اُس نے مرتے وقت بھی وصیت کردی کہ جب بیٹا آئے تو اُس کی قبر پر ضرور لے آئیں۔
آج اِس واقعے کو 33 سال اور 4 ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ مسٹر صدیقی (کوئی اُن کا پورا نام نہیں جانتا) آج بھی بولنے کی سکت نہیں رکھتے مگر تھوڑا بہت کھا پی سکتے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے اِس سینٹر میں ایک پاکستانی آتا ہے، اُس کا نام شاہد ہے۔ شاہد انہیں دیکھتا تو اسے شک گزرتا کہ یہ پاکستانی ہیں مگر ایک کلین شیو بوڑھے کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا۔ بول تو وہ سکتے نہیں تھے۔
آج مسٹر شاہد کو ایک ترکیب سوجھی، وہ گھر سے پاکستانی چکن بریانی لے گئے اور مسٹر صدیقی کے سامنے رکھ دی۔
مسٹر صدیقی کے پورے جسم میں صرف آنکھیں بولتی تھیں، آج تو جیسے وہ ابل پڑیں۔ نرس چمچ سے بریانی آہستہ آہستہ منہ میں ڈالتی جاتی مگر اتنے آنسو اس میں مل جاتے کہ اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا کہ چمچ میں چاول کی مقدار زیادہ ہے یا آنسوؤں کی۔
یہ آنسو اِس بات کا ثبوت تھے کہ بندہ یا تو پاکستانی ہے یا انڈین۔ شاہد نے مریض کو گلے لگالیا اور دونوں نجانے کتنی دیر تک روتے رہے۔
اگلے 6 ماہ میں شاہد نے سب پتہ لگالیا کہ یہ شخص کون ہے مگر اب 33 سالوں بعد فیملی کی تلاش ایک بڑا مسئلہ تھا۔
اُس نے اُن کی تصاویر کھینچ کر فیس بک پر لگادیں۔ دو ہی ہفتوں میں اُن کا مسٹر صدیقی کی گزشتہ بیوی اور بہن سے رابطہ ہوگیا۔
اِس ہفتے مسٹر صدیقی اپنی بہن سے امریکہ کے ایک اسپتال میں ملے۔ نہ کچھ بول سکے اور نہ ہاتھ ہلا سکے، ہاں مگر آنسو تو کم بخت ہیں فالج میں بھی نکل آتے ہیں۔

آج رات شاہد سوچ رہا تھا کہ آدمی غرور و تکبر کس بات کا کرے؟ چلتے ہوئے نظام میں سے قدرت نے ایک آدمی کو بِنا موت کے 33 سال کیلئے نکال کر باہر رکھ دیا۔ وہ جو سمجھتا تھا کہ اگر وہ کام نہ کرے تو کھائے گا کہاں سے؟ اُسے بھی بٹھا کر، بلکہ لٹا کر 33 سال کھلاتے رہے۔ صرف بندہ اپنے آپ کو دیکھ لے۔ اُن تمام بیماریوں کا اندازہ کرلے جو اپنے جسم میں ساتھ لے کر چلتا ہے اور اُن میں سے کوئی نکل پڑی تو وہ کہیں کا نہیں رہے گا تو غرور و تکبر آنسو بن کر بہہ جاتے ہیں۔

بدھ, فروری 08, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 08 فروری 2017

~!~ آج کی بات ~!~

انسان کی زندگی بھی پودوں جیسی ہوتی ہے۔
کچھہ کو پانی دینے کے لیے اللہ تعالٰی کسی کو راہ دکھاتے ہیں،
 کچھ کو جنگل کے پودوں کی طرح خود سنبھالتے ہیں۔۔۔۔

تدبرِ قرآن ۔۔۔ سورۃ البقرۃ ۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ- 23

تدبر قرآن--- سورۃ البقرہ
از
نعمان علی خان
حصہ- 23
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿٢١﴾ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٢٢﴾ وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٣﴾

اسلام و علیکم ورحمة و برکاتہ
ان شاء اللہ آج ہم ان تیں آیات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے. مگر اس سے پہلے میں ان دردناک واقعات کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا جو آجکل میں امت مسلمہ کو درپیش ہیں. ان واقعات نے نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پوری مسلم اُمہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے. ایک بات جو سب سے پہلے واضح ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں. انسانی جان کی حرمت غیر مشروط ہے بنا کسی استثناء کے.
ہمارے کچھ آئمہ اور علماء کرام نے سوشل میڈیا پر اس بارے میں آواز بھی آٹھائی ہے کہ ہم ایسے دہشت گردی کے غیر انسانی فعل کے بالکل خلاف ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کے خلاف ہو کیونکہ ہر انسان کو اس کی زندگی جینے کا پورا حق ہے. پر ان باتوں کے جواب میں کچھ نام نہاد مسلمانوں نے ضرور یہ مدعا بنایا کہ ایسا کیسے کہا جا سکتا ہے، ان لوگوں کو تو مار دینا چاہیے وغیرہ. ان سب چیزوں کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ ہمیں دو باتوں کا لازمی پتا ہونا چاہیے.
سامعین دو طرح کے ہوتے ہیں. ایک غیر مسلم جو سوشل میڈیا پر ہم مسلمانوں کا اس موقع پر ردعمل جاننا اور دیکھنا چاہتے ہیں. اور دوسرے خود مسلمان ہیں جو اکثر ایسی کوئی تشفی بخش بات کرنا چاہتے ہیں جس سے اُمہ کا دکھ کچھ کم ہو اور انہیں احساس ہو کہ وہ ان کے ساتھ ہیں. مگر اس سب میں اسلام کو کسی نہ کسی طرح ان سب واقعات کا موجب بنا کر اس پر بحث کی جاتی ہے. جب غیر مسلم ہم مسلمانوں سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہماری کیا رائے ہے؟ تو چند لوگ ساکھ بنا کر رکھنے کے چکر میں اکثر ایسے جواب دے جاتے ہیں جو دین کی بجائے  سیاسی موافقت زیادہ رکھتے ہیں.
ہمیں ہر صورت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ الله پاک کا دین کسی کے لیے نہیں بدلتا. یہ دین الله کی طرف سے ہے تو جو کوئی بھی اس کے خلاف جاتا ہے خواہ کوئی بھی ہو وہ ایک مجرم ہے اور اس بارے میں تو دین میں کسی بحث کی گنجائش ہی نہیں . اس بارے میں بس وہی مباحثہ میں پڑ سکتے ہیں جنہیں دین کی بنیادی تعلیمات بھی نہیں معلوم. اس لیے ایسے لوگ کسی بھی صورت میں الله کی کتاب کے طالب علم ہو ہی نہیں سکتے. آپ قرآن کے طالب ہو کر ایسا فتویٰ تو بالکل بھی نہیں دے سکتے کہ فلاں گناہ میں مبتلا لوگوں کو قتل کرنا جائز ہے. ایسا قرآن کے پڑھنے والے بنا علم کے بالکل بھی نہیں سوچ سکتے.
چونکہ اس موضوع پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور کہنا بھی چاہیے پر میں اس مدعے پر بات کرنے کے لیے مہارت نہیں رکھتا، یہ ایک بہت پیچیدہ معاملہ ہے. مگر میں آپ سے اس مسئلہ کے صرف ایک حصے پر ہی بات کر سکتا ہوں جو کہ نہایت اہم  ہے. آپ میڈیا یا سیاسی مذہبی سازشوں کسی کو بھی الزام دیں مگر جس بات کا خیال رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ بہت سے جوان مسلمان جو اپنی سابقہ زندگی پر توبہ کر کے، خود کو بہتر کرنے کے لیے اسلام کو سمجھنے کا حقیقی شوق رکھتے ہیں اور اسلام کو سمجھنے کے لیے وہ آن لائن بھی آتے ہیں کیونکہ آجکل تو انٹرنیٹ ہی معلومات حاصل کرنے کی جگہ ہے. تو ایسے لوگ جب ان گروہوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جو اسلام کے نام پر غیرفطری انسانی قتل و غارت کو بڑھا چڑھا کر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں اور اتنے منظم طریقے سے یہ سب ہو رہا ہے کہ ہالی وڈ بھی پیچھے رہ جائے اور ان لوگوں کا تو مطمع نظر ہی ایسے مسلمانوں کو اپنے پیچھے لگانا ہے جو نیا نیا اسلام کو سمجھنا شروع ہوئے ہیں، تو ایسے میں ان طابعلموں کی نظر میں اسلام کا تصور ہی یہی بن جاتا ہے جو یہ مخصوص گروہ پیش کر رہا ہے.
آپ کو بہتر طور پر سمجھانے کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ ایک جوان جو مذہبی نہیں ہوتا اور جب رمضان آتا ہو اب یا تو وہ کوئی خطبہ ایسا سن لیتا ہے یا اس کے دل کو کوئی بات چھو جاتی ہے اور وہ سوچتا ہے کہ مجھے خود کو بدلنا چاہیے، ایک اچھا مسلمان بننا چاہیے اور وہ گوگل، یوٹیوب، فیس بک وغیرہ پر اسلامی مواد ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے تو سب سے پہلے جو اسے  مواد ملتا ہے وہ ایسا ہوتا ہے جو بالکل بھی اسلام کے مطابق نہیں کیونکہ مشینری ہی ایسی سیٹ کی گئی ہے کہ کوئی اسلام سے متعلق کچھ ڈھونڈے تو پہلے اسے فتنوں کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے. اب ایسے نو مسلم کو یہ مواد مل رہا ہے کہ اچھا، سچا مسلمان بننے کے لیے آپ کو جہاد کرنا ہو گا اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ منافق ہیں اور جو اس کام سے روکیں وہ بھی منافق ہیں. ایسا میں وہ نو مسلم سوچے گا کہ اس کے ارد گرد سب کے سب منافق ہی ہیں کیونکہ وہ تو ایسے جہاد کو غلط کہتے ہیں.
تو ایسی سازشوں سے سب سے پہلے تو  مسلمانوں کو انہی کے خاندان، برادری کے خلاف کیا جاتا ہے پھر ان کے ذہنوں میں فتنہ خیز مواد بھرنا بہت آسان ہو جاتا ہے. ہمیں جلد اس بارے میں کوئی قدم اٹھانا ہو گا کیونکہ یہ اسلام کے تشخص کی جنگ ہے. اور جب وہ لوگ جو ان سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں، خواہ ڈپریشن کی وجہ سے یا کم ہمتی یا جو بھی وجہ ہو، تب ایسے حادثات جنم لیتے ہیں.
ایسا کیوں ہے؟ ہمیں ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس بارے میں سوچنا ہو گا اور اس کا مستقل حل تلاش کرنا ہو گا کیونکہ والله اگر آپ اور میں اس بارے میں کوئی عارضی حل سوچیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس مسلے کا کوئی حل ہے نہیں؟ ہم جانتے ہیں ایسا ایک دن میں نہیں ہو سکتا. مگر ہر دن ہم اس خوف میں ضرور جی رہے ہوتے ہیں کہ کہیں آج پھر کچھ نہ ہو جائے. ہر چند ماہ بعد کچھ نہ کچھ ایسا ہو ہی رہا ہے.
اب ہمیں اس مسلے کا ایک مستقل حل سوچنا چاہیے اور وہ حل یہ ہے کہ ہمیں نوجوانوں کا رجحان اسلام کی مثبت تعلیمات کی طرف دلانا ہے. اسلام کی وسیع، غیر معذرت خواہانہ اور مثبت سوچ کی طرف . کیونکہ قیامت تک لوگوں نے اسلام کے طرف رجوع کرنا ہی ہے یہ ایک حقیقت ہے چاہے زمان و مکان کچھ بھی ہوں. ان کے لیے ایک اہم ذریعہ میڈیا ہی ہے. اس لیے ہمیں میڈیا پر اس جنگ کو جیتنا ہے اور اس فتنہ خیزی کے خلاف مثبت اور طاقتور متبادل بھی پیش کرنا ہے جو انسانوں کو خود بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ انہیں استعمال تو نہیں کیا جا رہا؟ کیونکہ سازشی عناصر کا مقصد ہی دوسروں کا آلہ کار بنانا ہوتا ہے.
میرا کئی ایسے لوگوں سے سامنا ہوا ہے جنہیں کچھ وقت لگتا ہے پر وہ سمجھ جاتے ہیں کہ انہیں اسلام کے نام پر کیسے استعمال کیا جا رہا تھا اور انہیں اس کا آحساس بھی نہیں تھا. اس لیے ہمیں اس سازش سے ہوشیار بھی رہنا ہے اور مثبت متبادل بھی پیش کرنے ہیں اور تردیدی طاقتوں کے ہاتھ بھی نہیں لگنا.
اس سب کا مطلب یہ نہیں کہ ہم فلاں گروہ یا فلاں تنظیم کی مذمت کریں کیونکہ وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ ہم ان کی مذمت میں لگے رہیں اور وہ مزید طاقتور بنتے رہیں. انہیں ہماری توجہ ہی تو چاہیے اور ایسا متبادل وہ سہار نہیں سکتے جو لوگوں کہ توجہ ان سے ہٹا دے. ایسے گروہ دوسروں کی توجہ پر ہی چلتے ہیں اور یہی سیکھ وہ اپنے ساتھیوں کو دیتے ہیں کہ دیکھنا لوگ ہماری مذمت کریں گے کیونکہ لوگ تو منافق ہیں.
ہمیں مسلم آُمہ ہونے کی حیثیت سے یہ ذمہ داری اٹھانی ہو گی. جب تک اس دین کا ایک مثبت مضبوط تعلیمی نظام بنانا ہو گا کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہو گا کمزور ذہنوں کے مالک لوگ بھٹکتے رہیں گے. اللہ پاک ہمیں دین پر استقامت اختیار کرنے کی توفیق عطا کرے آمین.
حقیقت میں ہو یہی رہا ہے کہ پوری مسلم امہُ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے ان جرائم کی وضاحت کے لیے جو اسلام کے نام پر ہو رہے ہیں. اگرچہ ہم دوسروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں پر ہمیں اسلام کی خاطر یہ ذمہ داری اٹھانی ہو گی کیونکہ جب دین کو ہی ذہنوں میں زہر بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو ہمیں کھڑا ہونا ہی ہو گا خواہ کچھ بھی ہو. ہمیں اس کے لیے بہت ہمت سے کام لینا ہو گا کیونکہ یہ ناگزیر ہو چکا ہے. الله پاک ہمیں استقامت عطا کرے آمین.  ہماری دعائیں  ان کے ساتھ ہیں جو اپنی جانوں سے گئے خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم. اللہ پاک نے ہر بنی آدم کو عزت بخشی ہے. 

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَم
نیکی، گناہ، توحید، شرک سب اپنی جگہ مگر ہم سب آدم علیہ السلام کی ہی اولاد ہیں اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تو انہوں  نے سب انسانیت کے لیے دعا کی.
مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا
انہیں پوری امید تھی کہ پوری انسانیت کے لیے یہ جگہ ایک مرکز ہوگی. جب فرشتے لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی خبر لائے تو ابراہیم علیہ السلام نے ان لوگوں کے لیے اللہ سے سوال کیے. انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ "ہاں وہ لوگ تو ہیں ہی اس قابل کہ انہیں مار دیا جائے بلکہ آپ اور بھی فرشتے کیوں نہیں ساتھ لائے کہ جلد انجام کو پہنچیں وہ لوگ." انہوں نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ قرآن پاک میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام تو ان لوگوں کے لیے بحث کی .
یجادلنا فی قوم لوط
اور ہم اپنے آپ کو کہتے ہیں کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں؟ تو چلیں ابراہیم علیہ السلام کے ہی بنیادی عقائد اپناتے ہیں اور سب کے لیے دعاگو اور فکرمند ہوتے ہیں نہ کہ ساری انسانیت کی مذمت کرتے پھریں. الله پاک ہماری رہنمائی فرماۓ.

اب ہم  اپنے آج کے سبق کی طرف آیت اکیس سے تئیس تک بڑھتے ہیں . الله پاک فرماتے ہیں

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿٢١﴾
اے پوری انسانیت اپنے مالک کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور تم سے قبل کے لوگوں کو بھی تاکہ تم خود کو بچا سکو یا بہتر انسان بن جاؤ اور ان میں سے ہو جاؤ جو خود کو بچا لیتے ہیں. 

یہ آیت اپنے اندر کئی گہرے معنی رکھتی ہے. ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت اب ذاتیات پر آ رہی ہے. اس سے پہلے سورہ کی تمام آیات میں کسی تیسرے شخص کی بات کی گئی ہے .

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
وہ جو بغیر دیکھے یقین رکھتے ہیں.
وہ جو اس پر یقین رکھتے ہیں جو ان پر بھیجا گیا.
دوسرے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ ایمان لائے.
وہ جو ایمان نہیں لائے.
ہر چیز کسی تیسرے شخص کے بارے میں تھی. لسانی اور فن خطابت کے لحاظ سے تیسرا شخص بہت دور ہوتا ہے. پچھلی آیات کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ واقعی بہت دور کے لوگوں کی بات لگتی ہے کیونکہ وہ دور دراز صحرا میں گم ہیں  کوئی انہیں سن نہیں سکتا یا وہ کسی گھاٹی کے کنارے کھڑے ہیں جہاں سخت تیز بارش ہے اور وہ بالکل اکیلے ہیں. اس تنہائی، فاصلے اور تیسرے انسان کے ذکر سے الله پاک اچانک موجودہ صورتحال پر آتے ہیں اور اپنے نبی صلی الله علیہ وسلم سے بھی خطاب کرنے کی بجائے، کہ نبی  ہمیں الله پاک کا حکم سنائیں کہ

قُل يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُم
ان لوگوں کو بتا دیجیے کہ اپنے رب کی عبادت کرو.

بلکہ یہاں بلاواسطہ الله پاک آپ کو اور مجھے مخاطب کر رہے ہیں. اور صرف مسلمانوں سے ہی نہیں تمام انسانیت سے مخاطب ہیں. یہ قرآن کا بہت ہی گہرا سبق ہے. اللہ پاک پوری انسانیت سے بلا واسطہ خطاب فرما رہے ہیں. 

امام فخر الدین رازی رحمۃ علیه اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں
"جیسے ایک ایمان والے کو حکم دیا جا سکتا یہ کہ وہ اپنا ایمان مزید پختہ کرے
یا ایھا الذین امنوا! امنوا  آپ میں سے جو ایمان لائیں ہیں وہ اور ایمان لے آئیں. ایسے ہی الله پاک جو تمام انسانیت کے تخلیق کار ہیں انہیں پورا اختیار ہے کہ لوگوں کو اپنی عبادت کا حکم دیں چاہے وہ مسلمان نہ بھی ہوں."
تو یہ کتاب صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں پوری انسانیت کے لیے ہے. آپ ایسا بھی سوچ سکتے ہیں کہ مکہ میں قرآن کا جو حصہ نازل ہوا اس کا خطاب غیر مسلموں سے تھا اور قرآن کا مدنی حصہ مسلم کمیونٹی پر فوکس تھا. یہاں تعارفی آیات میں ہم نے یا یھا الذین امنوا کا طرز تخاطب ابھی تک نہیں سنا بلکہ پہلی بار جو خطاب ہو رہا ہے وہ سب سے ہے
يَا أَيُّهَا النَّاس اعْبُدُوا رَبَّكُم
 اے لوگوں اپنے پروردگار کی عبادت کرو.

کلمہ الناس کے بارے میں، میں آپ سے تین باتیں بانٹنا چاہتا ہوں.
ابن عباس رضی الله عنه اور کچھ کا یہ ماننا ہے کہ الناس جو کہ لفظ انسان کی جمع ہے اصل میں لفظ نسیان سے ماخوذ ہے. جس کا مطلب ہے بھول جانا. تو تعریفی اعتبار سے انسان بھولنے والی مخلوق ہے. الله پاک نے انسانیت کے زمین پر وجود میں آنے سے بھی پہلے ان سب سے وعدہ لیا تھا پر انسان اس وعدے کو بھول گئے.تو کہا جا رہا ہے "لوگوں جو یہ بھول چکے ہو کہ تمہارا ایک مالک ہے خود کو باور کرواؤ کہ تمہیں تمہارا وعدہ وفا کرنا ہے". یہ تو تھا لفظ الناس کا پہلا مطلب. َ
جاری ہے۔۔۔

-نعمان علی خان