حیا کا تعلق


حیا کا تعلق میرے دل سے ہے۔۔!
.
ٹھیک کہا۔۔ حیا کا بیج دل میں ہی ہوتا ہے۔۔ اسکی جڑیں باطن میں پھیلی ہوتی ہیں اور اسکی شاخیں و پتے شخصیت سے ظاہر ہوتے ہیں۔۔ پھر انہی پر صالح کردار کے پھول اُگتے ہیں۔۔ جن کی خوشبو ماحول کو مہکاتی اور خوش نما بناتی ہے۔۔!

اگر شاخیں اور پتے ظاہر نہ ہوں تو بیج اور پودے کا ہونا بے معنی ہے۔۔ پھول کے بغیر تو باغیچے کی خوبصورتی ویسے ہی گہنا جاتی ہے۔۔ اور اگر خوشبو ہی نہ تو کہاں کی رعنائی اور کیا رنگ نمائی۔۔ یہ تو سراسر جگ ہنسائی ہے۔۔!

سو میرے عزیز! دل میں حیا ہو اور بدن سے اظہارِ پاکیزگی نہ ہو تو خود کو دھوکے میں نہ رکھو۔۔!!

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ماہ رمضان نیکیوں کی بہار – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است

استقبالِ رمضان-22

شکر ہے تیرا خدایا

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل