ہفتہ, فروری 18, 2017

تدبر قرآن ۔۔۔۔ سورة البقره ...۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ 26


 تدبر قرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ- 26


اعوذ بالله من الشیطان الرجیم
بسم الله الرحمن الرحيم


اللہ کو اپنا حقیقی مالک سمجھتے ہوئے ہماری سوچ کیا ہونی چاہئے؟ ہمیں اس کو *لیس کمثلہ شیء* سمجھنا ہے. یعنی اس کے جیسا کوئی اور ہے ہی نہیں. آپ اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے ویسا نہیں سوچ سکتے. 

اس لئے میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اللہ کا ہمارے ساتھ تعلق محبت پر مبنی ہے.
کیا کسی دوسرے آقا اور غلام کا رشتہ ایسی محبت پر مبنی ہے ؟ ایسا رشتہ پہلے کبھی قائم ہی نہیں ہوا جیسا ہمارا اللہ کے ساتھ ہے. جس کی بنیاد محبت ہے. 

جب اللہ کہتے ہیں میرے بندو!( تو یہ ہے ہمارا اللہ کے ساتھ تعلق) 

  * فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ*

کون سا آقا ہے جو کہتا ہے:اے میرے بندو!
کون سا آقا ہے جو ایسی رحمت دکھاتا ہے.

اور پھر ہمیں آزادی بھی دے، سوچ سے بالا تر . یہاں تک کہ ان غلاموں پر بھی رحمت کرنے والا جو اس کے نافرمان ہیں. جو اس کے دشمن بن بیٹھے ہیں. جو اس کی خدائی کا مذاق بھی اڑاتے ہیں.  وہ اُن لوگوں پر بھی رحمتیں نازل کرتا جاتا ہے، جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے.
ہے کوئی ایسا آقا جو اپنے نافرمان غلاموں پر رحمتیں برسائے؟ نہیں.
عمومی طور پر جب کسی بادشاہ کی نافرمانی کی جائے تو ردعمل  کیا ہو گا ؟  آپ خوب جانتے ہیں.  لیکن اللہ کی بات اور ہے. اللہ کے بندوں میں سے بعض  منکر اور ملحد ہیں. بہت سے لوگوں نے اسلام کو ترک کر دیا، مگر پھر بھی ان کو رزق ملتا ہے. ان کا معدہ کام کرتا رہتا ہے . ان کا دل متواتر دھڑکتا رہتا ہے. ان کے پھیپھڑے بھی ایک تسلسل کے ساتھ اپنا کام کرتے جاتے ہیں. ان کی زندگی میں خوشیاں بھی ہیں. یہ ساری رحمتیں کہاں سے آ رہی ہیں؟ یہ سب کچھ الرحمن کی طرف سے  ہے.
قرآن میں نہایت خوبصورت تناسب  ہے.  سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالٰی نے پہلی دفعہ بحیثیت "رب" اپنا تعارف کروایا
الحمدللہ رب العالمین. اللہ تعالٰی نے اپنے آپ کو رب کہا . پھر آگے رب کی خصوصیات کا ذکر (الرحمن الرحیم) کیا.
جبکہ آیت21 میں رب کی جو خصوصیت بیان ہوئی ہے. وہ ہے "الذی خلقکم والذین من قبلکم"  وہ ذات جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو.
اللہ تعالٰی نے آپ کو اور مجھے پیدا کیا، زندگی عطا فرمائی یہ اس کی محبت اور رحمت کی علامت ہے.
بہت سے لوگ زندگی جیسے اس تحفے سے نالاں رہتے ہیں. مثلاً میں نے تو نہیں کہا تھا کہ مجھے پیدا کیا جائے. یا مجھے اس دنیا میں بھیجا جائے. مجھے ایسا کیوں بنایا گیا ہے؟ یہ سراسر بیوقوفی ہے. ایسے لوگوں کا رویہ زندگی جیسے قیمتی تحفے کے متعلق بالکل بھی احسان مندی والا نہیں. یہ زندگی اللہ کی رحمت کا محبت بھرا اظہار ہے. زندگی کوئی سزا نہیں ہے. یہ اللہ کا غضب نہیں ہے. 

یہاں اس نکتے پر ہم عیسائیوں کے بنیادی تصورات سے اختلاف رکھتے ہیں. عیسائی عقیدہ یہ ہے کہ انسان اپنی ابتدا سے ہی مغضوب ہے.(حضرت آدم علیہ السلام  کے وقت سے ہی) اور زندگی سزا کی ہی ایک صورت ہے. نہیں ایسا نہیں ہے. یہ نعمتوں سے بھرپور ہے. اللہ کی حقیقی محبت کا اظہار ہے.   
    إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُم*
جب اللہ کسی مخلوق کو پیدا کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی محبت ظاہر کرتا ہے.
جب وہ کسی پر اپنی رحمت ظاہر کرنا چاہتا ہے، تو  اس کو پیدا فرما دیتا ہے. وہ آقا جس نے آپ کو رحمت کے ساتھ پیدا کیا، محبت کے اظہار کے طور پر. اور ان لوگوں کو بھی جو آپ سے بہت پہلے تھے. ہمارے آقا نے ہمیں بنا کر ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اس نے تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے، ہدایت سے روشناس بھی کروایا ہے. وہ ہدایت جس پر چل کر ہم اپنی دنیاوی و آخروی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں. ہمارے آقا نے یہ رحمت اور محبت بھرا سلوک صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہم سے پہلے  لوگوں کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا .
درحقیقت تخلیق اور ہدایت کے درمیان قریبی تعلق ہے. جیسے سورۃ الرحمن میں ہے :
* عَلَّمَ الْقُرْآنَ  خَلَقَ الْإِنسَانَ *
اور سورۃ البقرہ میں بھی اس سے کافی حد تک ملتی جلتی بات بیان ہوئی ہے:
والَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
ان دونوں جگہوں پر وحی کا ذکر، تخلیق کے ذکر سے پہلے ہے . کیوں؟  کیونکہ پہلے مینول/ دستور عمل ہے. پھر پراڈکٹ ہے. دستور عمل کے بغیر حاصلات کا تصور بھی نہیں. اس کا ذکر ہی عبث ہے. پس ہمارے آقا نے ہمیں ایک مقصد کے حصول کیلئے پیدا کیا ہے. اس نے ہمیں وحی پہنچائی ہے.
*لعلکم تتقون*
تا کہ تم اپنے آپ کو بچا سکو. یہ اپنے آپ کو بچانا کیسے ممکن ہے؟ دوسروں سے الگ کر کے؟ اللہ نے یہ چیز ہمیں وحی کے ذریعے سمجھائی ہے. ایک لائحہ عمل دیا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہمارا مقصد تخلیق پورا ہو سکتا ہے.  آپ نے کن کن لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا ہے؟
* إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ*
*وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ*
*صم بکم عمی فہم لا یرجعون*
*یجعلون اصابئھم وفی اذانہم من الصواعق*
ان تمام باتوں سے، ان لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا ہے. یہ تمام منفی تشبیہات بہت مہیب اور خوفناک ہیں. یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو ہدایت کی بالکل بھی قدر نہیں کرتے. یا پھر قدر کھو چکے ہیں.
اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ تم میرے ساتھ وعدہ کرو کہ تم میرے بندے ہو تو تب تمہارا بچنا ممکن ہے.
مجھے یہ لفظ تتقون بہت پسند ہے. عربی زبان میں تقون کا مطلب ہے تم بچاؤ. اتقون کا مطلب ہے، تم بچائے گئے. اتقی! فعل لازم اور متعدی ہے. یعنی تمہیں اپنے آپ کو بچانے کیلئے خود اقدامات کرنا ہوں گے. اللہ نے انسان کو ذمہ دار بنا دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود کرے.
مثلاً اگر آپ کے پڑوس میں چور اچکے بستے ہیں تو کیا آپ دروازے کو رات بھر کے لیے کھلا چھوڑ دیں گے؟آپ کی اس لاپرواہی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اگلی صبح آپ کا سارا سامان بستر/ گدوں سمیت غائب ہو گا. اب آپ یہ کہنے کے ہرگز مجاز نہیں کہ یہ اللہ تعالٰی نے کیا ہے. بھئ آپ نے خود احتیاطی تدابیر کیوں نہ کیں؟ آپ نے دروازہ کیوں کھلا چھوڑا؟ یہ تو دوسروں کیلئے دعوت عام تھی. کہ آؤ اور لے جاؤ، یہاں سب کچھ دستیاب ہے.
آپ جانتے ہیں کہ یہ سراسر آپ کا اپنا قصور ہے.
اسی طرح تتقون کا تصور ہے، کہ اللہ رب العزت آپ کو ہدایت کا بتاتے ہیں، رہنمائی کرتے ہیں، ایمان کو مضبوط کرتے ہیں. لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی انسانوں کو ہی اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ وہ تقوی کو اپنے اندر خود قائم کریں. یعنی اتقی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ کو پرہیزگار بنانے کی ساری ذمہ داری اللہ تعالٰی کی ہے. بلکہ یہ انسان کی اپنی ذمہ داری ہے. اسی وجہ سے یہ فعل لازم ہے. اللہ یا کوئی اور بیرونی قوت آپ کی حفاظت کی آپ کے بچاؤ کی ذمہ دار نہیں ہیں. اللہ نے آپ کو طریقے بتا دئیے ہیں کہ کیسے، اپنا بچاؤ کرنا ہے . اب ہم میں سے ہر ایک کے پاس اس دنیا میں متقی بننے کے مساوی مواقع ہیں. آپ اللہ سے کوئی مطالبہ کرنے کے اہل نہیں کہ جب وہ مجھ پر تقوی واضح کرے گا تب میں متقی بن جاؤنگا. اور نہ ہی صرف دعا سے کام چلے گا. جیسا کہ:میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی مجھے متقین میں شامل فرمائے. آمین.
اگر آپ کا یہ رویہ ہے تو آپ غلطی پر ہیں. صرف دعا کرنے سے متقین میں شمولیت ممکن نہیں. اللہ تعالٰی آپ کو متقین بننے کے سارے لوازمات سے آگاہ کرچکے ہیں. وہ اور چیزیں ہوتی ہیں جن کیلئے آپ دعا کرتے ہیں مثلاً آپ بارش کیلئے دعا کرسکتے ہیں. 

لیکن تقوی کے حصول کیلئے جب تک آپ اس کی ریکوائرمنٹس پوری نہیں کرتے، اس کیلئے کوشش نہیں کرتے، آپ کامیاب نہیں ہوسکتے. بغیر کوشش کے تقوی کا حصول قرآن کی روح نہیں.

جاری ہے ۔۔۔ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں