جمعرات, مئی 02, 2013

Dil aur Dimagh



یہ دل و دماغ بھی پتا نہیں کیا ۔ کبھی سکندر کی طرح ساری دنیا فتح کرنا چاھتا ھے اور  کبھی جوگی بن کر ساری دنیا تیاگ دینا چاھتا ھے ۔

کبھی کسی ولی کی طرح اللہ کی یاد میں کھو کر بس اسے پانا چاھتا ھے اور کبھی سب کچھ بھلا کر دل میں کئ بت سجا کر انھیں ھی پوجنا چاھتا ھے

کبھی محفلوں شور شرابے سے بہلتا ھے اور کبھی خاموشی تنہائ کے لیے مچلتا ھے

کبھی خواھش ھوتی ھے دنیا ھمیِں جانے اور کبھی جی چاھتا ھے کہ کاش  ھمیں کوئ  نہ جانتا ھو

کبھی زرا زرا سی بات پہ آنسو بہانے لگتا ھے اور کبھی بڑی سے بڑی بات پہ پتھر ھو جاتا ھے

کبھی ھزار برس جینے کی خواہش ھوتی ھے کبھی پل بھر کی زندگی بھی عذاب لگتی ھے

کبھی ھزار خواھشیں پلتی ھیں کبھی ھر آرزو مر جاتی ھے

یہ دل دماغ بھی پتا نہیں کیا
کبھی سکندر ھے
کبھی قلندر ھے
کبھی ولی
کبھی بت پرست
کبھی چاند ھے ستارہ ھے
کبھی خاک کا استعارہ ھے
کبھی جوگی ھے
کبھی روگی ھے

Mushkil hai per na mumkin nahi



اگر تمہیں کسی نے دکھ دینے کے لیے تمھارے راستے میں کانٹے رکھ دیئے ہیں تو جواب میں تم بھی اسکے راستے میں کانٹے نہ رکھو کہ اگر تم نے ایسا کیا تو پھر دنیا میں کانٹے ہی کانٹے ہو جائیں گے ..!

آپ جواب میں خوشیاں دو کیوں کہ جو جس قابل ہوتا ہے وہی دیتا ہے :)

کام مشکل ضرور ہے پر ناممکن نہیں !

Kabhi mera aks ban kar




یہ حدیں نہ توڑ دینا ، میرے دائرے میں رہنا
مجھے اپنے دل میں رکھنا ، میرے حافظے میں رہنا

میرا بوجھ خود اٹھانا ، میرا کرب آپ سہنا
میرے زخم بانٹ لینا ، میرے رتجگے میں رہنا

میرے حکم خود سننا ، میری مہر خود لگانا
میرے مشورے میں ہونا ، میرے فیصلے میں رہنا

میرے منظروں میں بسنا ، میری گفتگو میں ہونا
میرے لمس میں سمانا ، میرے ذائقے میں رہنا

کبھی دھوپ کہ نگر میں میرا ساتھ چھوڑ جانا
کبھی میرا عکس بن کر میرے آئینے میں رہنا

کبھی منزلوں کی صورت میری دسترس سے باہر
کبھی سنگ میل بن کر میرے راستے میں رہنا

میرے ہاتھ کی لکیریں ترا نام بن کے چمکیں
میری خواہشوں کی خوشبو ، میرے زائچے میں رہنا
 
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
 
Yeh hadain na tor dena, mere daaire main rehna
Mujhey apne dil main rakhna, mere haafzey main rehna
 
Mera bojh khud uthana, mera karb aap sehna
Mere zakm baant lena, mere ratjagey main rehna
 
Mere hukm khud sunana, meri muhr khud lagana
Mere mashware main hona, mere faisle main rehna

Mera manzaron main basna, meri guftagoo main hona
Mere lamb main samana, mere zaaiqey main rehna

Kabhi dhoop ke nagar main mera saath chor jana
Kabhi mera aks ban kar mere aainey main rehna

Kabhi manzilon ki surat meri dastaras se bahar
Kabhi sang-e-meel ban kar mere raastey main rehna

Mere haath ki lakerain tera naam ban ke chamkain
Meri khwahishon ki khushboo, mere zaaichey main rehna

Mohabbat ho hi jati hai



ستاروں سے چمک لے کر
گُلابوں سے مہک لے کر
ہواؤں سے کسک لے کر
فضاؤں سے دھنک لے کر۔۔۔
یہ دھڑکن بیٹھے بیٹھے ہی
کسی کو کیوں بُلاتی ہے؟
سکھی!یہ بھید ہے جگ میں
یونہی سوچے بنا اکثر
اچانک بے ارادہ ہی
محبٌت ہو ہی جاتی ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Sitaron se chamak le kar
gulabon se mehek le kar
Hawaoun se kasak le kar
Fizaoun se dhanak le kar
Yeh dharkan bethey bethey hi
Kisi ko kyun bulati hai
Sakhi! yeh bhed hai jag main
Younhi sochey bina aksar
Achanak be irada hi
Mohabbat ho hi jati hai

Chioonti



چیونٹی کے بارے میں مشہور ہے کہ جب اس کا بچہ جنم لیتا ہے تو وہ دو چیزیں بڑی محبت سے اس کے ذہن میں بٹھاتی ہے۔ ایک اتفاق دوسرے سمت کی پہچان۔ اس کا بچہ جہاں بھی چلا جائے وہ گھر نہیں بھولتا۔ چاہے آندھی ہو یا طوفان۔ دنیا کی کوئی بھی شے اسے گھر جانے سے نہیں روک سکتی ہے اور ایک ہم ہیں کہ اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی یہ باتیں بچوں کو نہیں سکھاتے ۔

Saanson ke darmiyaan



جیسے دھاگہ ہو کوئی تسبیح میں
ایسے سانسوں کے درمیاں تو ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Jaise dhaga ho koi tasbeeh main
Aise saanson ke darmiyan tu hai

Un ki talash Asl main


کل تک جو کر رہے تھے بڑے حوصلے کی بات
ہے ان کے لب پہ آج کٹھن مرحلے کی بات

جس کارواں کے سامنے تارے نِگوں رہے
صحرا میں اُڑ گئی ہے اُسی قافلے کی بات

آخر سرِ غرور نے سجدہ کیا اسے
یوں مختصر ہوئی ہے بڑے فاصلے کی بات

راہِ طلب میں ہم سے کوئی بھول ہو گئی
کیوں کر رہے ہیں آپ ہمارے صِلے کی بات

ہم نے تو عرض کر ہی دیا حرفِ مدعا
اب آپ ہی کریں گے کسی فیصلے کی بات

اُن کی تلاش اصل میں اپنی تلاش ہے
کس سلسلے سے جا ملی کس سلسلے کی بات

واصف علی واصف

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Kal tak jo kar rahey they barey hosley ki baat
Hai un ke lab pe aaj kathin marhaley ki baat

Jis kaarwan ke samney tarey nigoon rahey
Sehra main urr gayi hai usi qaafley ki baat

Aakhir sar-e-ghuroor ne sajda kiya usey
Yun mukhtasir hui hai barey faasley ki baat

Rah-e-talab main ham se koi bhool ho gayi
Kyun kar rahey hain aap hamarey siley ki baat

Ham ne to arz kar hi diya harf-e-mudd'ua
Ab ap hi karain ge kisi faisle ki baat

Us ki taalash asl main apni talash hai
Kis silsiley se ja miliy kis silsiley ki baat

Wasif Ali Wasif

بدھ, مئی 01, 2013

Chahat ka paighaam



ابھی تک سادہ رکھا ہے یہ کاغذ اپنی چاہت کا
مناسب جب بھی سمجھیں گے کوئی پیغام لکھ دیں‌گے
کوئی پیغام کیا لکھیں‌ گے اک چھوٹے سے کاغذ پر
جسے ہم چاہتے ہیں بس اسی کا نام لکھ دیں گے

اعتبار ساجد

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Abhi tak sada rakha hai yeh kaghaz apni chahat ka
Munasib jab bhi samjhain ge koi paigham likh dain ge
Koi paighaam kiya likhain ge ik chotey se kaghaz per
Jisey ham chahtey hain bas usi ka naam likh dain ge

Aitebaar Saajid

Nazuk rishtey



" رشتے اپنائیت کے ہوں یا خلوص کے ، اتنے ہی نازک ہوتے ہیں جتنے آبگینے ، ذراسی ٹھیس لگی تو ٹوٹ گۓ ۔
بدگمانی نے سر اٹھایا تو چکنا چور ہوگۓ ،
پھر ان پر کیسا فخر ، کیسا مان ؟؟
ایسا ہوتا ہے ناں !!!
تو پھر کیوں ناں ، ہم اپنے رشتوں کو بد گمانی سے بچائیں ، ایسا کوئ عمل نہ کریں جس سے اعتبار کے آبگینے کو ٹھیس لگے ۔ "

Kuch Log


یاد رکھیۓ گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
کچھ لوگ زندگی میں آپ کیلیۓ بہت اہم ہوتے ہیں ، جو آپ کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں، جو آپ کو زندگی کے اصولوں سے آگاہ کرواتے ہیں، اچھے برے کی شناخت کرواتے ہیں، ایسے لوگ اگر آپ کے اردگرد ہیں، تو کبھی بھی انہیں روٹھنے نہیں دینا۔۔۔۔۔۔ !
کیونکہ ایسے خیر خواہ زندگی میں ایک ہی بار ملتے ہیں، جو اگر روٹھ جائیں، تو ان کی راہ دیکھنی پڑتی ہیں،
اور اگر گم ہو جائیں، تو ساری زندگی ان کی تلاش میں گزر جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

Allah Se Faasla


یہ جو ہمارا اللہ سے فاصلہ آ جاتا ہے نا ،یہ سیدھی سڑک کی طرح نہیں ہوتا یہ پہاڑ کی طرح ہوتا ہے اس کو بھاگ کر طے کرنے کی کوشش کرو گی تو جلدی تھک جاؤ گی ، جست لگاؤ گی تو درمیان میں گر جاؤ گی ، اڑنے کی کوشش کرو گی تو ہوا ساتھ نہیں دے گی "
یہ فاصلہ بےبی اسٹیپس سے عبور کیا جاتا ہے 'جھوٹے جھوٹے قدم اٹھا کر چوٹی پر پہنچا جاتا ہے کبھی بھی درمیان میں پلٹ کر نیچے اترنا چاہو گی تو پرانی زندگی کی کشش ثقل کھینچ لے گی اور قدم اترتے چلے جائیں گے اور اوپر چڑھنا اتنا ہی دشوار ہو گا مگر ہر اوپر چڑھتے قدم پہ بلندی ملے گی . سو بھاگنا مت ،جست لگانے کی کوشش بھی نہ کرنا .بس چھوٹے چھوٹے اچھے کام کرنا اور چھوٹے چھوٹے گناہ چھوڑ دینا.

نمرہ احمد کے ناول جنت کے پتے سے اقتباس

Value


"یہ جو پیسہ ہے نا اسکی گنتی اربوں کھربوں تک جاتی ہے بلکہ اس سے بھی آگے- جو چیز اربوں کھربوں تک جائے نا اسکی کوئی قدر نہیں ہوتی- ویلیو اسی کی ہوتی ہے جو انگلیوں کی پوروں سے شروع ہو کر پوروں پر ہی ختم ہو جائے جیسے خون کے رشتے بہت بھی ہوں نا تو بس دونوں ہاتھوں کی پوریں ہی بھر جاتی ہیں- ایک آدمی کا پیسہ اربوں کھربوں ہو سکتا ہے رشتے اربوں کھربوں نہیں ہو سکتے.......تو بس یاد رکھنا جو چیز کم تعداد میں ملے اسکی ویلیو زیادہ، جو ڈھیروں کے حساب سے ملے اسکی ویلیو کم-"

Kaarigar



کیسے کاریگر ہیں یہ!
آس کے درختوں سے
لفظ کاٹتے ہیں اورسیڑھیاں بناتے ہیں!

کیسے با ہنر ہیں یہ!
غم کے بیج بوتے ہیں
اور دلوں میں خوشیوں کی کھیتیاں اُگاتے ہیں

کیسے چارہ گر ہیں یہ!
وقت کے سمندر میں
کشتیاں بناتے ہیں آپ ڈوب جاتے ہیں

امجد اسلام امجد

ًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًً~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Kaise Kaarigar Hain Yeh!
Aas Ke Darakhton Se
Lafz Kat'tey Hain Aur Seerhiyan Banatey Hain

Kaise Ba-Hunar Hain Yeh!
Gham Ke Beej Botey Hain
Aur Dilon Main Khushiyon Ki Khetiyan Ugatey Hain

Kaise Chara-Gar Hain Yeh!
Waqt Ke Samandar Main
Kashtiyan Banatey Hain, Aap Doob Jatey Hain

Amjad Islam Amjad

Barg-o-gul


برگ و گل موسمی عنایت ہیں
کیوں نہ ھم خوشبوؤں میں ڈھل جائیں

کنول حسین

~~~~~~~~~~~~~~~~~

Barg-o-gul mausmi inayat hain
Kyun na ham khushboun main dhal jayen

Kanwal Hussain

Wadiyat


محبّت قدرت کی طرف ودیعت ہوتی ہے- جس کو آپ سے محبّت نہیں ہے، آپ چاند تارے بھی توڑ کر لائیں تو وہ آپ سے محبّت کر ہی نہیں سکے گا- کسی بھی انسان کے پیچھے پاگل ہونے سے صرف اپنا نقصان ہوتا ہے- اسی طرح جو لوگ انتقام کی آگ میں جلتے ہیں وہ بدلہ لینے کے بعد بھی خوشی حاصل نہیں کر سکتے- انتقام تو کسی دوسرے کی بربادی ہوتا ہے، یہ بھلا کسی کو خوشی کیسے دے سکتا ہے؟

تحریر: نمرہ احمد
اقتباس: سانس ساکن تھی

Dhoop chaaoun ka mausam



رکا ہوا ہے عجب دھوپ چھائوں کا موسم
گزر رہا ہے کوئی دل سے بادلوں کی طرح

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Ruka hua hai ajab dhoop chaon ka mausam,
Guzar raha hai koi dil se badlon ki tarah