اشاعتیں

November, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہدایت

تصویر
ہدایت
ہدایت بندوق کی گولی نہیں ہوتی جس سے دوسروں کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ روشنی ہوتی ہے جو دل سے پھوٹتی ہے اورسب سے پہلے ہمارے اپنے وجود کو منور کرتی ہے۔  مگر ہم کبھی اس روشنی کو اپنے رب سے اپنے لیے نہیں مانگتے ۔ کبھی رسمی طور پر مانگ لیا تو اپنی شخصیت اور عادات ایسی نہیں بناتے کہ اس روشنی کے مستحق ٹھہریں ۔ہم اپنے تعصبات، گروہوں ، نظریات اور تصورات کے اسیر ہوتے ہیں اور انھی کو دوسروں پر ٹھونسنا چاہتے ہیں ۔  سو نہ ہم نے ہدایت پانے کو اپنا مقصد بنایا نہ خود کو ہدایت پانے کے قابل بنایا۔ ہم پیغمبر تو ہیں نہیں کہ اللہ پاک ہم پر ہدایت بن مانگے اتار دے ۔ اس لیے ہمارے اندر اندھیرا رہتا ہے اور انھی اندھیروں کو ہم دوسروں میں بانٹتے ہیں ۔ 
ابو یحییٰ


آج کی بات۔۔۔ 25 نومبر 2014

تصویر
دوسروں کی ذندگیوں میں بے جا مداخلت سے آپ کو کچھ نہیں ملنے والا۔۔ یقین مانیے آپ کی اپنی ذندگی میں بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کی توجہ کا محتاج ہے۔

قیادت

تصویر
ﺟﺐ ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺎﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .… ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﺜﺮﺕ  ﻣﻠﺖ ﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﮯ ﺗﻌﯿّﻦ ﮐﻮ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﺑنا ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .… ﻭﺣﺪﺕِ ﻣﻘﺼﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗو ﮐﺜﯿﺮﺍﻟﻤﻘﺼﺪﯾﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮨﯽ ﻣُﺒﮩﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
 ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ

صراحی سرنگوں ہو کر

تصویر
جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانے

رشتے

تصویر
زِندگی کی خُوبصُورتی رِشتوں سے ہے اور رِشتے تب ہی قائم رہتے ہیں جب ھم معاف کرنا اور درگزر کرنا سیکھ جاتے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم صرف ایک قیدی ہیں ان سماجی رسموں کے جو ہمیں ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرادینے پر مجبور کردیتی ہیں

خوشی اور غم

تصویر
خوشی اور غم زندگی کی وہ کیفیات ہیں جو ہر انسان پریکے بعد دیگرے طاری ہوتی رہتی ہیں.
کوئی بھی انسان نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس جس طرح دن اور رات کا سلسلہ جاری و قائم رہے گااسی طرح جب تک یہ زندگی ہے ہر ذی حیات انسان کو کسی نہ کسی صورت خوشی اور غم کی کیفیات سے واسطہ بھی رہے گا
جس طرح نہ ہی ہر وقت دن رہتا ہے اور نہ ہی رات اسی طرح انسان بھی نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس....
یہ خوشی اور غم ہی ہے جوانسان کو اداسی یا مسرت سے دوچار کرتی رہتی ہے اب یہ انسان پر ہے کہ وہ ان دونوں کیفیات میں اپنی شخصیت کا توازن کس طرح برقرار رکھتا ہے سوگواریت کو اپنے اوپر طاری نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ پھر مایوسی کی علامت ہے۔

آج کی بات ۔۔۔ 22 نومبر 2014

تصویر
اگر انسان اپنی انگلیوں کا استعمال اپنی ہی غلطیوں کو گننے کے لیے کرے، تو دوسروں پر انگلی اٹھانے کا وقت ہی نہ ملے۔

زندگی کی قوت

تصویر
~~~ زندگی کی قوت ~~~

گھر کے آنگن میں ایک بیل اُگی ہوئی تھی.. مکان کی مرمت ہوئی تو وہ ملبہ کے نیچے دب گئی...آنگن کی صفائی کرواتے ہوئے مالک مکان نے اس بیل کو کٹوا دیا دور تک اس کی جڑیں بھی کھود کر نکال دی گئیں اس کے بعد صحن میں اینٹیں بچھا کر سیمنٹ سے پختہ کر دیا گیا...

کچھ عرصے بعد بیل کی سابق جگہ پر ایک نیا واقعہ ہوا پختہ اینٹیں ایک مقام پر ابھر آئیں... ایسا لگتا تھا کہ کسی نے دھکا لگا کر ان کو اٹھا دیا ہے کسی نے کہا کہ یہ چوہوں کی کاروائی ہے کسی نے کوئی اور قیاس کرنے کی کوشش کی آخر کار اینٹیں ہٹائی گئیں تو معلوم ہوا کہ بیل کا پودا اس کے نیچے مڑی ہوئی شکل میں موجود ہے...بیل کی کچھ جڑیں زمین کے نیچے رہ گئیں اب وہ اوپر آنے کے لیے زور کر رہی تھیں...

“یہ پتیاں اور انکھوے جن کو ہاتھ سے مسلا جائے تو آٹے کی طرح پِس جائیں ان کے اندر اتنی طاقت ہے کہ اینٹوں کے فرش کو توڑ کر اوپر آجائیں“.. مالک مکان نے کہا کہ میں ان کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتا اگر یہ بیل دوبارہ زندگی کا حق مانگ رہی ہے تو میں اسے زندگی کا حق دوں گا...چناچہ انہوں نے چند اینٹیں نکلوا کر اس کے لیے جگہ بنوا دی...

پ…

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی

تصویر
نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا
سچا کسی کا خواب ہُوا یا نہیں ہُوا

بے داغ کوئی شکل نظر آئی یا نہیں
آئینہ بے نقاب ہُوا یا نہیں ہُوا

لائی گئیں کٹہرے میں کتنی عدالتیں
قانون لاجواب ہُوا یا نہیں ہُوا

جو آج تک کیا گیا احسان کی طرح
اس ظلم کا حساب ہُوا یا نہیں ہُوا

اُس کے بھی دل میں آگ لگی یا نہیں لگی
پتھر بھی آب آب ہُوا یا نہیں ہُوا

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی
ختم اس کا کوئی باب ہُوا یا نہیں ہُوا

قدر اہلِ روشنی کی بڑھی یا نہیں بڑھی
ذرہ بھی آفتاب ہُوا یا نہیں ہُوا

انسانیت سے رابطہ کرنے کے باب میں
انسان کامیاب ہُوا یا نہیں ہُوا

کلام: مظفر وارثی

آج کی بات ۔۔۔ 15 نومبر 2014

تصویر
انسان کے اندر دو کمزوریاں بہت عام ہیں
بھلانے کے قابل باتوں کو 'یاد' رکھنا اور یاد رکھنے کے قابل باتوں کو 'بھلا دینا'۔

نصیب

تصویر
انسان دوسرے کی دولت کو دیکھ کر اپنے حالات پر اس قدر شرمندہ کیوں ہوتا ہے؟ یہ تقسیمِ تقدیر ہے۔ ہمارے لیے ہمارے ماں باپ ہی باعث تکریم ہیں، ہماری پہچان ہمارا اپنا چہرہ ہے، ہماری عاقبت ہمارے اپنے دین میں ہے، اسی طرح ہماری خوشیاں ہمارے اپنے حالات اور ماحول میں ہیں۔ مور کو مور کا مقدر ملا، کوے کو کوے کا۔ ہم یہ نہیں پہچان سکتے کہ فلاں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا اور ہمارے ساتھ ویسا کیوں ہوا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ 'اے رب العالمین آپ نے چھپکلی کو کیوں پیدا فرمایا؟'۔ اللہ نے جواب دیا: 'عجب بات ہے، ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی کہ اے رب! تم نے موسیٰ کو کیوں پیدا کیا؟ '۔
 بات وہی ہے کہ انسان اپنے نصیب پر راضی رہے تو اطمینان حاصل کرے گا۔ نصیب میں تقابلی جائزہ نا جائز ہے۔
واصف علی واصف از دل دریا سمندر

آج کی بات ۔۔۔ 15 نومبر 2014

تصویر
ہر مسئلے کا حل موجود ہے،
 سوائے اس کے جسے انا کا مسئلہ بنا لیا جائے۔

تصویر کا چھوٹا سا ٹکڑا

تصویر
قدیم چینی دور کی کہانی ہے ۔ کہتے ہیں کسی گاؤں میں ایک بوڑھا اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ رہتا تھا۔ پرانا سا ایک مکان تھا، ایک کمرے میں باپ بیٹا رہتے ، دوسرے کمرے کو اصطبل بنایا ہوا تھا، وہاں ان کا گھوڑا رہتا ہے ۔ یہ گھوڑا بڑا شاندار اور نہایت اعلیٰ نسل کا تھا۔ بہت پہلے بوڑھے کسان کے ہاتھ ایک گھوڑے کا بچہ لگا، اس نے باپ کی طرح اسے پالا ۔ بڑا ہو کر اس گھوڑے کی خوبصورتی کی دھوم مچ گئی۔ دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے ۔ گاؤں کے رئیس نے اسے دیکھا تو پہلی نظر میں فریفتہ ہو گیا، اس نے بوڑھے کو بلا کر منہ مانگی قیمت کی پیش کش کی۔ کسان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھوڑا نہیں ، میرا بیٹا ہے ، اپنی اولاد کو کوئی فروخت نہیں کرتا۔اور بھی لوگوں نے خریدنے کی کوشش کی ، سب ناکام رہے ۔ گاؤں کے کچھ سمجھدار لوگوں نے بوڑھے کو سمجھایا کہ تم غریب آدمی ہو، ایسے اعلیٰ گھوڑے کو کتنی دیر تک سنبھال کر رکھ لو گے ، اچھی قیمت مل رہی ہے ، بیچ ڈالو، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی یہ گھوڑا چرا کر لے جائے ۔ ایسے ہر مشورے کے جواب میں وہ بابا جی مسکرا دیتے اور بس، بات ختم ہوجاتی۔

ایک دن بوڑھا کسان اور اس کا بیٹا حسب معمول صبح اٹھے…

آج کی بات ۔۔۔ 11 نومبر 2014

تصویر
"آپ اپنا کام کرتے جائیں، وقت آپ کے لیے دوستیاں اور محبتیں خود پیدا کر لے گا"

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل