بدھ, نومبر 26, 2014

ہدایت

ہدایت

ہدایت بندوق کی گولی نہیں ہوتی جس سے دوسروں کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ روشنی ہوتی ہے جو دل سے پھوٹتی ہے اورسب سے پہلے ہمارے اپنے وجود کو منور کرتی ہے۔
 مگر ہم کبھی اس روشنی کو اپنے رب سے اپنے لیے نہیں مانگتے ۔ کبھی رسمی طور پر مانگ لیا تو اپنی شخصیت اور عادات ایسی نہیں بناتے کہ اس روشنی کے مستحق ٹھہریں ۔ہم اپنے تعصبات، گروہوں ، نظریات اور تصورات کے اسیر ہوتے ہیں اور انھی کو دوسروں پر ٹھونسنا چاہتے ہیں ۔
 سو نہ ہم نے ہدایت پانے کو اپنا مقصد بنایا نہ خود کو ہدایت پانے کے قابل بنایا۔ ہم پیغمبر تو ہیں نہیں کہ اللہ پاک ہم پر ہدایت بن مانگے اتار دے ۔ اس لیے ہمارے اندر اندھیرا رہتا ہے اور انھی اندھیروں کو ہم دوسروں میں بانٹتے ہیں ۔ 

منگل, نومبر 25, 2014

آج کی بات۔۔۔ 25 نومبر 2014



دوسروں کی ذندگیوں میں بے جا مداخلت سے آپ کو کچھ نہیں ملنے والا۔۔
یقین مانیے آپ کی اپنی ذندگی میں بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کی توجہ کا محتاج ہے۔

قیادت



ﺟﺐ ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺎﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .… ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﺜﺮﺕ  ﻣﻠﺖ ﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﮯ ﺗﻌﯿّﻦ ﮐﻮ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﺑنا ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .… ﻭﺣﺪﺕِ ﻣﻘﺼﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗو ﮐﺜﯿﺮﺍﻟﻤﻘﺼﺪﯾﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮨﯽ ﻣُﺒﮩﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

 ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ

اتوار, نومبر 23, 2014

رشتے



زِندگی کی خُوبصُورتی رِشتوں سے ہے اور رِشتے تب ہی قائم رہتے ہیں جب ھم معاف کرنا اور درگزر کرنا سیکھ جاتے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم صرف ایک قیدی ہیں ان سماجی رسموں کے جو ہمیں ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرادینے پر مجبور کردیتی ہیں

ہفتہ, نومبر 22, 2014

خوشی اور غم



خوشی اور غم زندگی کی وہ کیفیات ہیں جو ہر انسان پریکے بعد دیگرے طاری ہوتی رہتی ہیں.
کوئی بھی انسان نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس جس طرح دن اور رات کا سلسلہ جاری و قائم رہے گااسی طرح جب تک یہ زندگی ہے ہر ذی حیات انسان کو کسی نہ کسی صورت خوشی اور غم کی کیفیات سے واسطہ بھی رہے گا
جس طرح نہ ہی ہر وقت دن رہتا ہے اور نہ ہی رات اسی طرح انسان بھی نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس....
یہ خوشی اور غم ہی ہے جوانسان کو اداسی یا مسرت سے دوچار کرتی رہتی ہے اب یہ انسان پر ہے کہ وہ ان دونوں کیفیات میں اپنی شخصیت کا توازن کس طرح برقرار رکھتا ہے سوگواریت کو اپنے اوپر طاری نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ پھر مایوسی کی علامت ہے۔

اتوار, نومبر 16, 2014

زندگی کی قوت



~~~ زندگی کی قوت ~~~

گھر کے آنگن میں ایک بیل اُگی ہوئی تھی.. مکان کی مرمت ہوئی تو وہ ملبہ کے نیچے دب گئی...آنگن کی صفائی کرواتے ہوئے مالک مکان نے اس بیل کو کٹوا دیا دور تک اس کی جڑیں بھی کھود کر نکال دی گئیں اس کے بعد صحن میں اینٹیں بچھا کر سیمنٹ سے پختہ کر دیا گیا...

کچھ عرصے بعد بیل کی سابق جگہ پر ایک نیا واقعہ ہوا پختہ اینٹیں ایک مقام پر ابھر آئیں... ایسا لگتا تھا کہ کسی نے دھکا لگا کر ان کو اٹھا دیا ہے کسی نے کہا کہ یہ چوہوں کی کاروائی ہے کسی نے کوئی اور قیاس کرنے کی کوشش کی آخر کار اینٹیں ہٹائی گئیں تو معلوم ہوا کہ بیل کا پودا اس کے نیچے مڑی ہوئی شکل میں موجود ہے...بیل کی کچھ جڑیں زمین کے نیچے رہ گئیں اب وہ اوپر آنے کے لیے زور کر رہی تھیں...

“یہ پتیاں اور انکھوے جن کو ہاتھ سے مسلا جائے تو آٹے کی طرح پِس جائیں ان کے اندر اتنی طاقت ہے کہ اینٹوں کے فرش کو توڑ کر اوپر آجائیں“.. مالک مکان نے کہا کہ میں ان کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتا اگر یہ بیل دوبارہ زندگی کا حق مانگ رہی ہے تو میں اسے زندگی کا حق دوں گا...چناچہ انہوں نے چند اینٹیں نکلوا کر اس کے لیے جگہ بنوا دی...

پہاڑ اپنی ساری وسعت اور عظمت کے ساتھ یہ طاقت نہیں رکھتا کہ ایک پتھر کے ٹکڑے کو ادھر سے ادھر کھسکا دے...مگر درخت کے ننھے سے پودے میں اتنا زور ہے کہ وہ پتھر کے فرش کو دھکیل کر باہر آجاتا ہے یہ طاقت اس کے اندر کہاں سے آئی .. اس کا سرچشمہ عالمِ فطرت کا وہ پر اسرار مظہر ہے جس کو زندگی کہا جاتا ہے...

زندگی اس کائنات کا حیرت آنگیز واقعہ ہے زندگی ایک ایسی طاقت ہے جس کو کوئی دبا نہیں سکتا اس کو کوئی ختم نہیں کرسکتا... اس کو پھیلنے اور بڑھنے کے حق سے کوئی محروم نہیں کرسکتا...

جب زندگی کی جڑیں کھود دی جاتیں ہیں اس وقت بھی وہ کہیں نہ کہیں اپنا وجود رکھتی ہے اور موقع پاتے ہی دوبارہ ظاہر ہوجاتی ہے جب ظاہری طور پر دیکھنے والے یقین کر لیتے ہیں کہ اس کا خاتمہ کیا جاچکا ہے اس وقت بھی وہ عین اس مقام سے اپنا سر نکال لیتی ہے جہاں اسے توڑا اور مسلا گیا ہو....

مولانا وحیدالدین خان...
رازِحیات...
صفحہ 30...

ہفتہ, نومبر 15, 2014

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی



نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا
سچا کسی کا خواب ہُوا یا نہیں ہُوا

بے داغ کوئی شکل نظر آئی یا نہیں
آئینہ بے نقاب ہُوا یا نہیں ہُوا

لائی گئیں کٹہرے میں کتنی عدالتیں
قانون لاجواب ہُوا یا نہیں ہُوا

جو آج تک کیا گیا احسان کی طرح
اس ظلم کا حساب ہُوا یا نہیں ہُوا

اُس کے بھی دل میں آگ لگی یا نہیں لگی
پتھر بھی آب آب ہُوا یا نہیں ہُوا

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی
ختم اس کا کوئی باب ہُوا یا نہیں ہُوا

قدر اہلِ روشنی کی بڑھی یا نہیں بڑھی
ذرہ بھی آفتاب ہُوا یا نہیں ہُوا

انسانیت سے رابطہ کرنے کے باب میں
انسان کامیاب ہُوا یا نہیں ہُوا

کلام: مظفر وارثی

نصیب



انسان دوسرے کی دولت کو دیکھ کر اپنے حالات پر اس قدر شرمندہ کیوں ہوتا ہے؟ یہ تقسیمِ تقدیر ہے۔ ہمارے لیے ہمارے ماں باپ ہی باعث تکریم ہیں، ہماری پہچان ہمارا اپنا چہرہ ہے، ہماری عاقبت ہمارے اپنے دین میں ہے، اسی طرح ہماری خوشیاں ہمارے اپنے حالات اور ماحول میں ہیں۔ مور کو مور کا مقدر ملا، کوے کو کوے کا۔ ہم یہ نہیں پہچان سکتے کہ فلاں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا اور ہمارے ساتھ ویسا کیوں ہوا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ 'اے رب العالمین آپ نے چھپکلی کو کیوں پیدا فرمایا؟'۔ اللہ نے جواب دیا: 'عجب بات ہے، ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی کہ اے رب! تم نے موسیٰ کو کیوں پیدا کیا؟ '۔

 بات وہی ہے کہ انسان اپنے نصیب پر راضی رہے تو اطمینان حاصل کرے گا۔ نصیب میں تقابلی جائزہ نا جائز ہے۔

واصف علی واصف از دل دریا سمندر

جمعہ, نومبر 14, 2014

بدھ, نومبر 12, 2014

تصویر کا چھوٹا سا ٹکڑا



قدیم چینی دور کی کہانی ہے ۔ کہتے ہیں کسی گاؤں میں ایک بوڑھا اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ رہتا تھا۔ پرانا سا ایک مکان تھا، ایک کمرے میں باپ بیٹا رہتے ، دوسرے کمرے کو اصطبل بنایا ہوا تھا، وہاں ان کا گھوڑا رہتا ہے ۔ یہ گھوڑا بڑا شاندار اور نہایت اعلیٰ نسل کا تھا۔ بہت پہلے بوڑھے کسان کے ہاتھ ایک گھوڑے کا بچہ لگا، اس نے باپ کی طرح اسے پالا ۔ بڑا ہو کر اس گھوڑے کی خوبصورتی کی دھوم مچ گئی۔ دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے ۔ گاؤں کے رئیس نے اسے دیکھا تو پہلی نظر میں فریفتہ ہو گیا، اس نے بوڑھے کو بلا کر منہ مانگی قیمت کی پیش کش کی۔ کسان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھوڑا نہیں ، میرا بیٹا ہے ، اپنی اولاد کو کوئی فروخت نہیں کرتا۔اور بھی لوگوں نے خریدنے کی کوشش کی ، سب ناکام رہے ۔ گاؤں کے کچھ سمجھدار لوگوں نے بوڑھے کو سمجھایا کہ تم غریب آدمی ہو، ایسے اعلیٰ گھوڑے کو کتنی دیر تک سنبھال کر رکھ لو گے ، اچھی قیمت مل رہی ہے ، بیچ ڈالو، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی یہ گھوڑا چرا کر لے جائے ۔ ایسے ہر مشورے کے جواب میں وہ بابا جی مسکرا دیتے اور بس، بات ختم ہوجاتی۔

ایک دن بوڑھا کسان اور اس کا بیٹا حسب معمول صبح اٹھے تو دیکھا کہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا اور گھوڑا غائب ہے ۔ پریشان ہو کر آس پاس دیکھا، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ بستی والوں کو پتہ چلا تو وہ افسوس کرنے آئے ۔ جن لوگوں نے گھوڑا بیچنے کا مشورہ دیا تھا، انہوں نے فٹ سے طعنہ دیا کہ تمہیں سمجھایا تو تھا کہ گھوڑا بیچ دو ، اس وقت نہیں مانے ۔ اب تمہاری بدقسمتی کہ بغیر کچھ لئے گھوڑا گنوا بیٹھے ۔ کسان یہ سب باتیں سنتا رہا، پھر بڑے اطمینان سے بولا، بھائیو، تمہاری بڑی مہربانی کہ میرے پاس آئے ، اپنی ہمدردی کا اظہار کیا، مگر مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اس میں بدقسمتی کہاں سے آ گئی۔ یہ درست ہے کہ میرے پاس گھوڑا تھا، جو مجھے اپنی اولاد کی طرح عزیز تھا، آج صبح وہ گھوڑا اپنے کمرے سے غائب ہے ۔ اس حد تک تو یہ بات درست ہے، مگر اس کے بارے میں ابھی سے یہ کیسے طے کر لیا گیا کہ یہ بدقسمتی ہے ؟ گاؤں والے بڑے حیران ہوئے ، آپس میں کہنے لگے کہ شائد صدمے کی وجہ سے بابے کا دماغ چل گیا ہے ، یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہزاروں کی مالیت کا گھوڑا چوری ہو گیا۔ بڑبڑاتے ہوئے سب لوگ واپس چلے گئے ۔ دو تین دن بعد اچانک وہ گھوڑا واپس آ گیا، اپنے ساتھ وہ جنگل سے صحت مند، اعلیٰ نسل کے اکیس نوجوان گھوڑے بھی لے آیا۔ گاؤں میں دھوم مچ گئی۔ لوگ آ کر بوڑھے کو مبارکبادیں دینے لگے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے اس روز غلط بات کی تھی، گھوڑے کا چلا جانا بدقسمتی نہیں تھی، اصل میں توتمہاری خوش قسمتی تھی، آج پورے اکیس گھوڑے تمہارے گھر آ گئے ۔ کسان نے حیرت سے یہ سب تبصرے سنے اور پھر کہا، بھائیوِ، مجھے ایک بار پھر تمہاری باتوں کی سمجھ نہیں آئی، میرا گھوڑا واپس آ گیا، یہ درست ہے کہ وہ اکیس گھوڑ ے لے آیا ہے ، مگر اس میں خوش قسمتی کی کیا بات ہے ؟

گاؤں والے یہ سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔ چند دن گزرگئے ، کسان کا بیٹا ان جنگلی گھوڑوں کو سدھانے کی کوششوں میں مصروف تھا، ایک دن ایک سرکش گھوڑے نے اسے ایسی پٹخنی دی کہ اس کی ٹانگ ہی ٹوٹ گئی، طبیب نے دیکھا بھالا اور تین مہینوں کے لئے بستر پر آرام کی ہدایت کی۔ ایک بار پھر گاؤں امنڈ آیا۔ ہر ایک نے بوڑھے کے ساتھ ہمدردی کی۔ چند ایک نے صاف گوئی کے ساتھ اعتراف کیا کہ باباجی آپ ہی ٹھیک تھے ، ان اکیس گھوڑوں کا آنا خوش قسمتی نہیں بلکہ درحقیقت بدقسمتی کا اشارہ تھا۔ آپ کا اکلوتا سہارا ، نوجوان بیٹا زخمی ہو گیا، نجانے اس کی ٹانگ درست طور پر جڑ تی بھی ہے یا نہیں ، آپ بوڑھے بندے ہو، تمام کام کاج بیٹا کرتا تھا، اب مشکل ہو گی، آپ کی قسمت خراب ہے کہ ایسا ہو گیا۔ بوڑھے کسان نے یہ سن کر ٹھنڈی سانس بھری اور قدرے جھنجھلاہٹ کے ساتھ کہا ، یارو ہر واقعے میں خوش قسمتی یا بدقسمتی نہ ڈھونڈ لیا کرو، جو بات جتنی ہے ، اتنی ہی بیان کرو، اتنی قطعیت سے کوئی فیصلہ کن رائے نہ دیا کرو، میرا بیٹا گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھا، اس حد تک تو تمہاری بات درست ہے ، باقی خوش قسمتی یا بدقسمتی کا حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے ، قدرت ہی اس کے بارے میں بہتر جانتی ہے ۔

دو تین ہفتے گزرے ، اچانک ہی جنگ چھڑ گئی، قریبی ملک کی فوج نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے جبری بھرتی کا حکم دیا۔ ریاستی اہلکار دوسرے دیہات کی طرح اس گاؤں میں بھی آئے اور بوڑھے کسان کے زخمی بیٹے کے سوا ہر نوجوان کو پکڑ کر لے گئے ۔ گاؤں والے روتے پیٹتے بابے کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں بےوقوف سمجھتے تھے ، تم تو ہم سب سے زیادہ سیانے نکلے ۔ واقعی تمہارے بیٹے کا حادثہ بدقسمتی نہیں تھا۔ سچ پوچھو تو تمہاری انتہائی خوش قسمتی تھی، ہم سب کے بیٹے جنگ لڑنے چلے گئے ، معلوم نہیں واپس لوٹتے بھی ہیں یا نہیں ، تمہارا بیٹا تو چلو تین چار ماہ میں ٹھیک ہوجائے گا۔ بوڑھے کسان کے پاس سوائے سر پیٹنے کے کوئی چارہ نہیں تھا، بے چارگی سے اس نے کہا، بھائیو اگر تم لوگ اصل بات کو سمجھ لیتے تو کبھی اتنا پریشان نہیں ہوتے ۔ ہم سب بہت جلدی کسی واقعے پر خوش قسمتی ، بدقسمتی کا لیبل لگا دیتے ہیں ، حالانکہ یہ سب تصویر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں ، ہم میں سے کسی کے پاس مکمل تصویر نہیں ، تصویر کا ایک ٹکڑا ہی ہوتا ہے ۔ اسی ٹکڑے کو ہم مکمل تصویر سمجھ لیتے ہیں ۔ ایک ٹکڑا کبھی تصویر کو درست طریقے سے بیان نہیں کر سکتا، اس کے رنگ تک نہیں بتا سکتا۔ ہمیں حتمی رائے دینے کے بجائے انتظار کرنا چاہیے ، جو واقعہ ہوا ہے ، اسے اتنا ہی سمجھنا اور ماننا چاہیے ۔

اقتباس از کالم محمد عامر خاکوانی

منگل, نومبر 11, 2014