جمعہ, جنوری 29, 2016

جنم دن

 سوچ کا ایک زاویہ ایسے بھی۔۔۔۔۔

شکریہ نورین تبسم صاحبہ ۔۔۔ اپنے سالگرہ کے دن یہ تحریرایک خوبصورت پیغام کی صورت یہاں پوسٹ کر رہی ہوں۔ :)

"اگر ہراُترتی شب ہم اپنا محاسبہ نہ بھی کر سکیں تو سال کا آخری روز پورے سال کے اعمال کا جائزہ لینے کو کافی ہوتا ہے لیکن یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں کم از کم ایک دن تو ایسا آتا ہے جب اتنی بڑی کائنات میں وہ دن صرف ہمارا ہوتا ہے۔۔۔
ہمارا جنم دن ۔۔۔۔۔ اگر اس روز ہمارا احساس نہ جاگے ایک پل کو بھی یہ خیال نہ آئے کہ ہم کیوں اس دُنیا میں آئے؟ ہماری تخلیق کا مقصد کیا تھا؟ تو اس سے بڑی زیادتی اپنے آپ کے ساتھ اورکوئی نہیں ۔ بے شک اس سوال کا جواب ہمیں کبھی نہیں ملتا اور نہ ہی ہم اس کو جاننے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ پر کسی سوال کا جواب نہ ملنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ سوال لایعنی ہے۔ اہم یہ ہے کہ اس روز اپنے ساتھ کچھ وقت گزارا جائے،اپنے آپ کو وقت دیا جائے۔اور ہم اس کے برعکس اپنے آپ کو فراموش کر کے اپنی خوشیاں دوسروں کی آنکھوں میں تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے پیاروں کے احساس میں وہ ہمیں ضرور ملتی ہیں لیکن جتنی خوشی ہم اپنے آپ کو دے سکتے ہیں اتنی شاید کسی کا بڑے سے بڑا تحفہ بھی نہیں دے سکتا۔ " سکون" وہ نعمت وہ تحفہ ہے جو اپنے جنم دن کی صبح بستر سے صحت اور سلامتی کے ساتھ اٹھنے کے بعد ملتا ہے۔اگر ہم اس پل اس خوشگوار احساس کو محسوس کر سکیں ۔

" سوال ہمارے وجود کے شجر سے پھوٹتی وہ نرم ونازک کونپلیں ہیں جو خیال کی بارش کے بعد نمودار ہوتی ہیں اور اِسے سرسبز بناتی ہیں۔اگر یہ نہ ہوں تو ٹنڈ منڈ درخت نہ سایہ دیتے ہیں اورنہ ہی بارآور ہوتے ہیں"۔

جنم دن سالگرہ کا دن بھی کہلاتا ہے۔ گزرتے سال جو کھویا جو پایا اُس کو گرہ کی صورت ذہن نشیں کر لینا آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ماضی کی یاد میں ٹھنڈی آہیں بھرنے والے نہ صرف حال سے مطمئن نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کے وسوسے اوراندیشے بھی کسی پل چین نہیں لینے دیتے۔ سالگرہ کے بعد آنے والا اگلا دن ہمارا ایک نیا جنم دن ہوتا ہے جس میں آنے والے سال کے خواب ہمارے ساتھ آنکھیں کھولتے ہیں ۔ خواب اور حقیقت کے مابین فاصلہ رکھنا ہی اصل کمائی اوراہلیت ہے۔ جن کے خواب زندہ رہتے ہیں حقیقت کی دُنیا میں بھی پوری تابندگی کےساتھ جگمگانا اُن کا مقدر ہے۔ ورنہ محض خواب دیکھنے والی آنکھیں عمل سے دور اپنی ذات کی اسیر ہوجاتی ہیں ۔

از: نورین تبسم (سالگرہ)

جمعرات, جنوری 28, 2016

دل صاف کرنا


ماں جی آپ نے اپنا دل صاف کرنا کس سے سیکھا؟ انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا
دودھ والے سے۔
 سارہ بھی اس بات پر ہنس پڑی، پھرکچھ دیر قبل جیٹھانی سے فون پر اپنی تلخ کلامی پر شرمندہ ہوتے ہوئے ساس سے مخاطب ہوئی پتہ نہیں غصّے میں زیادہ ہی بول جاتی ہوں، بڑی ہیں مجھ سے لیکن انکی عادتیں بھی تو دیکھیں پچھلی بار بھی ..خیر چھوڑیں آپ بتائیں ناں ماں جی جیسے میں آپ سے اکثر باتیں سیکھتی ہوں آپ نے یہ بات کہاں سے سیکھی ؟کیونکہ میں نے اتنے عرصے میں آپکو لوگوں کی شکایتیں کرتے نہیں دیکھا ،حالانکہ کچھ لوگوں کے بہت غلط رویے بھی آپ کے ساتھ دیکھے ہیں میں نے۔ ماں جی نے بڑی بہوکیساتھ سارہ کی بدکلامی کو یکسر نظرانداز کرتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔
"پتر مذاق نہیں سچ بتا رہی ہوں۔ واقعی دودھ والے ہی نے سکھایا تھا یہ سبق ، میں چھوٹی تھی جب کوئی بارہ سال کی رہی ہونگی ،فجر پر بھائی اور ابّا جی تو مسجد گۓ ہوتے امّاں جی صحن میں قران پڑھ رہی ہوتیں کہ دودھ والے بابے کی سائیکل کی گھنٹی بجنی شروع ہو جاتی میں باورچی خانے سے دیگچی لے کر اسے دیتی تو وہ غور سے اسے چیک کرتا۔ سونگھ کر کہتا اے نئیں کڑیے دوجا بھانڈہ لے کے آ، ایدے وچ تے ہالی تکر سالن دی بو نئیں مکی ، (یہ نہیں بیٹا، دوسرا برتن لے کر آؤ۔ اس میں سے تو ابھی تک سالن کی بو نہیں ختم ہوئی( کسی دن کہتا نہ پتر اے ویکھ سیڈاں تے پرانا دودھ نالے چپکا پڑا اے ، اینج تے نواں دودھ فھٹ جاناں اے (نہیں بیٹا، یہ دیکھو سائڈ پر پرانا دودھ چپکا ہوا ہے، یوں تو نیا دودھ پھٹ جائے گا۔(
جس دن کبھی دودھ پھٹ جاتا امّاں جی سے ڈانٹیاں بھی خوب پڑتیں اتنا دودھ ضائع ہونے پہ ...تین چار سال یہی سلسلہ چلتا رہا پھر میری شادی ہو گئی ،کچھ عرصے بعد مسائل شروع ہو گۓ جو نبیڑے نئیں تھے جاتے مجھ سے۔ میں گھٹ گھٹ کے رو رو کے اللہ جی سے دعا کرتی۔ ایک دن صبح کو اٹھی دیکھا تو چاۓ بنانے کو دودھ نہیں ڈھیر سارا دودھ پھٹ چکا تھا، مجھے یاد آیا اماں جی اس سے طرح طرح کی مٹھائیاں اور پنیر بنا لیا کرتی تھیں۔ سو میں نے بھی آدھے دودھ سے قلاقند آدھے کے پنیر کے پکوڑے بنا لیے، ناشتے میں اتنا اہتمام دیکھ کر سب گھر والے بڑے خوش ہوۓ بڑی تعریفیں ہوئیں سسر نے نیا جوڑا خریدنے کے پیسے انعام میں دیے اس دن مجھے شدت سے احساس ہوا کہ لوگ اتنے برے بھی نہیں ہوتے ،یہ انسان کی غلطی ہوتی ہے کہ وہ ہر بار نئے معاملات کو پچھلی ناراضگی سے بھی جوڑ لیتا ہے کہ اس وقت اس نے یوں کیا تھا یوں کہا تھا۔ یہی میری غلطی تھی۔ تب سمجھ آئی کہ دل کی دیگچی کو بھی ایسے ہی ستھرا کرنا پڑتا ہے کہ پھر نیا دودھ پھٹے بھی نہ، اس میں پرانے سالن کی بو بھی نہ آۓ ،اور کبھی غلطی سے پھٹ جاۓ تو ایسے ہی خوب چینی ڈال ڈال کر اسکی مٹھائی بنا لیتے ہیں۔

بدھ, جنوری 27, 2016

منگل, جنوری 26, 2016

خیالی دانشور


انسان کی سب سے بڑی جہالت سب کچھ معلوم ہونے کی خوش فہمی ہے.جو انسان میں علمی ارتقاء کو روک دیتی ہے. اور انسان علمی تکبر میں مبتلا ہو کر دوسروں کو کم علم جاہل اور خود کو قابل و عقلِ کل سمجھنا شروع کردیتا ہے.جو کتابیں اسکی شعوری نشونما کرتی ہیں اسکا ظرف انہی کتابوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے.اور اس کی ذات پر ایک دانشوری کا بھوت سوار ہوجاتا ہے.وہ بھوت اسکو ایک خیالی دانشور تو بنادیتا ہے مگر اسکے انسانیت کے قد کو چھوٹا کردیتا ہے.

علم و سچائی کا متلاشی تاحیات علمی سفر پر رھتا ہے.اسکا علمی سفر معلوم سے نامعلوم کی طرف چلتا رہتا ہے.لیکن کبھی مکمل نہیں ہوتا. اور جیسے جیسے وہ علم حاصل کرتا جاتا ہے.اسکو اپنی جہالت کا ادراک بھی ہوتا جاتا ہے. ہماری زندگی میں آنے والا ہر شخص ہمارے لئے بےحد علمی خزانے لے کر آتا ہے. چاہیے وہ ان پڑھ ہو یا عالم. ہر شخص اپنے ذاتی تجربوں اور مشاہدوں کی بنیاد پر کچھ نیا سیکھتا ہے جسکو ہم سمجھ کر اپنا علم بڑھا سکتے ہیں لیکن اسکے لئے دوسروں کی عزت اور انکی باتوں پر غورو فکر ضروری ہے.انسان اپنی سوچ کا بیشتر حصہ اپنے ماحول سے عکس کرتا ہے. جبکہ کتابیں اسکو بہت قلیل علم دیتی ہیں. یوں تو کتابیں اپنی افادیت رکھتی ہیں لیکن علم کتابوں کی میراث نہیں اور نا ہی دانش کتابوں سے ملتی یے. اس لیئے چار کتابیں پڑھ کر خود کو دانشور بنے کی کبھی بھول نا کریں ورنہ آپ پر بھی دانشوری کا بھوت سوار ہوجائے گا اور آپ انسان کے بجائے چلتا پھرتا کتب خانہ بن جائیں گے.

بدھ, جنوری 13, 2016

پروپوزل


عموماً میاں بیوی ایک دوسرے سے اظہارِ محبت کرتے ہی نہیں۔ شادی سے پہلے جب مناسب نہیں تھا، تب موبائل فوں پر 'لو یو' کے ٹیکسٹ ایک دوسرے کو دن میں درجنوں بار کرتے ہیں لیکن شادی کے بعد آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے یہ لَو مدہم پڑنے لگتی ہے۔ ہمیں بھول کیوں جاتا ہے کہ محبت کو اظہار اور تجدیدِ اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں اور بہت سی سنتوں کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے، اس سنت کو بھی زندہ کریں۔ اسی موضوع پر مبشر زیدی کا ایک بڑا پیارا سا آرٹیکل پڑھا، آپ سب سے شیئر کرنے کا دل کر رہا ہے۔

میں استقبالیہ سے پلٹا اور ٹھٹھک کے رُک گیا۔
اُس لابی میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سب باتیں کررہے تھے۔ میں کہاں بیٹھوں؟
اچانک میری نظر ایک خوب صورت لڑکی پر پڑی۔
شہابی رنگ، شرمیلی آنکھیں، ہونٹوں پر لالی کے بجائے باوقار مسکراہٹ۔
اُس مسکراہٹ نے میرا دل کھینچ لیا۔ مجھے بھی کھینچ لیا۔
میں دل پھینک نہیں ہوں لیکن اُس وقت خود پر قابو نہ رکھ سکا۔
میں ہولے ہولے قدم اٹھاتا اُس لڑکی کے قریب گیا اور بلااجازت ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
میرا خیال تھا کہ ایک اجنبی کو قریب بیٹھتے دیکھ کر وہ سادہ سی لڑکی پریشان ہوگی لیکن اُس کی مسکراہٹ برقرار رہی۔
’’مجھے آپ سے ایک بات کہنی ہے۔‘‘ میں اُس سے مخاطب ہوا۔
وہ حیران ہوکر مجھے دیکھنے لگی۔
’’میرا نام مبشر زیدی ہے۔ چوں کہ میں ایک جرنلسٹ ہوں اِس لیے مجھے تمہید باندھنی نہیں آتی اور نہ ہی لگی لپٹی باتیں کرتا ہوں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔
’’میں زیادہ پیسے نہیں کماتا اور میری عمر بھی کچھ زیادہ ہوگئی ہے لیکن میرے پاس اپنی گاڑی ہے اور صحت بھی اچھی ہے۔‘‘
’’آپ یہ سب باتیں کیوں بتارہے ہیں؟‘‘ اُس نے ہنس کر کہا۔
’’کیوں کہ مجھے بنی ٹھنی میک اپ زدہ لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں۔ مجھے آپ کی سادگی بہت پسند آئی ہے۔ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
اُس لڑکی نے، میں جس کی مانگ میں ستارے بھرنا چاہتا تھا، آنکھوں میں ستارے بھرلیے۔
کچھ دیر بعد بولی، ’’میری شادی ہوچکی ہے۔‘‘
میرے دل پر جیسے کسی نے گھونسا ماردیا۔ عشق کی کلی کھلنے سے پہلے کملاگئی، ارمانوں پر اوس پڑگئی۔
پھر الزائمر کلینک کے کلرک نے آواز لگائی، ’’پیشنٹ نمبر گیارہ، مبشر زیدی۔‘‘
اور اُسی وقت اُس لڑکی نے جملہ مکمل کیا،
’’پندرہ سال پہلے۔ ۔ ۔ ۔ آپ ہی کے ساتھ۔۔‘‘

(اب اس حسین واقعے کو سترہ سال ہوچکے ہیں۔)

بذریعہ: https://www.facebook.com/MJhy.Hy.Hukm.e.Azan/

پیر, جنوری 11, 2016

ہفتہ, جنوری 09, 2016

قرآن۔۔۔ دعا۔۔۔ امید۔



"تمہارا قرآن پاک ختم ہونے والا ہے بس تھوڑے ہی دن میں۔۔۔۔پھر ماشااللہ تم حافظ قرآن ہوجاوگے۔۔۔۔تم نے قرآن پاک سے ابھی تک کیا سیکھا؟" وہ گفتگو کو اس موضوع پر لے آئی جس پر وہ اکثر اس سے بات کرتی تھی۔۔۔وہ اب وارڈروب کی ایک دراز خالی کرنے والا تھا۔۔۔۔ ماں کے اس سوال پر کام کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔

"بہت ساری چیزیں ہیں۔۔"اس نے ذرا سوچ کر ماں سے کہا۔

لیکن اگر کوئی ایک چیز ہو جو تمہیں سب سے امپورٹنٹ بھی لگتی ہو اور سب سے اچھی بھی۔۔"وہ مطمئن تھی ان دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی تھی۔
"آپ کو پتا ہے،مجھے کیا چیز سب سے زیادہ امپورٹنٹ لگتی ہے قرآن پاک میں؟"وہ بھی اب بے حد دلچسپی سے بات کرنے لگا تھا؟

"کیا؟"

 "Hope"

امامہ اس کا منہ دیکھنے لگی "کیسے؟" پتا نہیں اس نے کیوں پوچھا تھا لیکن جواب وہ ملا تھاجس نے کسی مرہم کی طرح اس کے زخموں کو ڈھانپا تھا۔

"دیکھیں سارا قرآن ایک دعا ہے تو دعا hope ہوتی ہے نا۔۔۔ہر چیز کے لیے دعا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے نا کہ اللہ ہر مشکل میں ہمیں امید بھی دے رہا ہے۔۔۔یہ مجھے سب سے اچھی چیز لگتی ہے قرآن پاک کی۔۔۔ کہ ہم کبھی hopeless نہ ہوں۔۔۔کوئی گناہ ہوجائے تب بھی اور کوئی مشکل پڑے تب بھی۔۔۔۔کیونکہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔۔"

اس کا دس سالہ بیٹا بے حد آسان الفاظ میں اسے وہ چیز تھما رہا تھا جو اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی۔۔۔جو باتیں دانائی سمجھا نہیں پاتی وہ معصومیت سمجھادیتی ہے۔

آب حیات از عمیرہ احمد

ہفتہ, جنوری 02, 2016

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی


نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا
سچا کسی کا خواب ہُوا یا نہیں ہُوا

بے داغ کوئی شکل نظر آئی یا نہیں
آئینہ بے نقاب ہُوا یا نہیں ہُوا

لائی گئیں کٹہرے میں کتنی عدالتیں
قانون لاجواب ہُوا یا نہیں ہُوا


جو آج تک کیا گیا احسان کی طرح
اس ظلم کا حساب ہُوا یا نہیں ہُوا


اُس کے بھی دل میں آگ لگی یا نہیں لگی
پتھر بھی آب آب ہُوا یا نہیں ہُوا


پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی
ختم اس کا کوئی باب ہُوا یا نہیں ہُوا


قدر اہلِ روشنی کی بڑھی یا نہیں بڑھی
ذرہ بھی آفتاب ہُوا یا نہیں ہُوا


انسانیت سے رابطہ کرنے کے باب میں
انسان کامیاب ہُوا یا نہیں ہُوا


کلام: مظفر وارثی

جمعہ, جنوری 01, 2016

پلان B


زندگی میں ہمارے پاس ہمیشہ ایک پلان B ہونا چاہئیے، ہر بڑی ناکامی کے بعد زندگی میں آگے بڑھتے رہنے کے لئے ایک متبادل راستہ۔ اگر ہم زندگی میں وہ نہ پا سکیں یا وہ نہ کرسکیں جو ہمارا ٹارگٹ ہے تو پھر ہمارے پاس ایک دوسرا آپشن ہونا چاہئیےاس صورتحال سے نمٹنے کے لئے۔ 
 
زندگی میں ہم نقصان کسی بھی کام میں ناکام ہونے کی وجہ سے نہیں اٹھاتے، ایک اچھا پلان B نہ ہونے کی وجہ سے اٹھاتے ہیں

عکس از عمیرہ احمد