اشاعتیں

January, 2016 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جنم دن

تصویر
سوچ کا ایک زاویہ ایسے بھی۔۔۔۔۔
شکریہ نورین تبسم صاحبہ ۔۔۔ اپنے سالگرہ کے دن یہ تحریرایک خوبصورت پیغام کی صورت یہاں پوسٹ کر رہی ہوں۔ :)
"اگر ہراُترتی شب ہم اپنا محاسبہ نہ بھی کر سکیں تو سال کا آخری روز پورے سال کے اعمال کا جائزہ لینے کو کافی ہوتا ہے لیکن یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں کم از کم ایک دن تو ایسا آتا ہے جب اتنی بڑی کائنات میں وہ دن صرف ہمارا ہوتا ہے۔۔۔
ہمارا جنم دن ۔۔۔۔۔ اگر اس روز ہمارا احساس نہ جاگے ایک پل کو بھی یہ خیال نہ آئے کہ ہم کیوں اس دُنیا میں آئے؟ ہماری تخلیق کا مقصد کیا تھا؟ تو اس سے بڑی زیادتی اپنے آپ کے ساتھ اورکوئی نہیں ۔ بے شک اس سوال کا جواب ہمیں کبھی نہیں ملتا اور نہ ہی ہم اس کو جاننے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ پر کسی سوال کا جواب نہ ملنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ سوال لایعنی ہے۔ اہم یہ ہے کہ اس روز اپنے ساتھ کچھ وقت گزارا جائے،اپنے آپ کو وقت دیا جائے۔اور ہم اس کے برعکس اپنے آپ کو فراموش کر کے اپنی خوشیاں دوسروں کی آنکھوں میں تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے پیاروں کے احساس میں وہ ہمیں ضرور ملتی ہیں لیکن جتنی خوشی ہم اپنے آپ ک…

دل صاف کرنا

تصویر
ماں جی آپ نے اپنا دل صاف کرنا کس سے سیکھا؟ انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا
دودھ والے سے۔  سارہ بھی اس بات پر ہنس پڑی، پھرکچھ دیر قبل جیٹھانی سے فون پر اپنی تلخ کلامی پر شرمندہ ہوتے ہوئے ساس سے مخاطب ہوئی پتہ نہیں غصّے میں زیادہ ہی بول جاتی ہوں، بڑی ہیں مجھ سے لیکن انکی عادتیں بھی تو دیکھیں پچھلی بار بھی ..خیر چھوڑیں آپ بتائیں ناں ماں جی جیسے میں آپ سے اکثر باتیں سیکھتی ہوں آپ نے یہ بات کہاں سے سیکھی ؟کیونکہ میں نے اتنے عرصے میں آپکو لوگوں کی شکایتیں کرتے نہیں دیکھا ،حالانکہ کچھ لوگوں کے بہت غلط رویے بھی آپ کے ساتھ دیکھے ہیں میں نے۔ ماں جی نے بڑی بہوکیساتھ سارہ کی بدکلامی کو یکسر نظرانداز کرتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔
"پتر مذاق نہیں سچ بتا رہی ہوں۔ واقعی دودھ والے ہی نے سکھایا تھا یہ سبق ، میں چھوٹی تھی جب کوئی بارہ سال کی رہی ہونگی ،فجر پر بھائی اور ابّا جی تو مسجد گۓ ہوتے امّاں جی صحن میں قران پڑھ رہی ہوتیں کہ دودھ والے بابے کی سائیکل کی گھنٹی بجنی شروع ہو جاتی میں باورچی خانے سے دیگچی لے کر اسے دیتی تو وہ غور سے اسے چیک کرتا۔ سونگھ کر کہتا اے نئیں کڑیے دوجا بھانڈہ لے کے آ، ایدے وچ ت…

آج کی بات ۔۔۔ 27 جنوری 2016

تصویر
اپنے سے مختلف رائے کو کھلے دل سے برداشت کیجیے،
یہ سوچنے کے لئے ہمیشہ تیار رہیں کہ ممکن ہے آپ کی رائے غلط اور دوسرے کی رائے درست ہو۔
حافظ محمد شارق

آج کی بات ۔۔۔۔ 26 جنوری 2016

تصویر
انسان کو انسان تسلیم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسکو انسان مان کر مکمل رائے کی آزادی دی جائے. چاہے وہ رائے آپ کی رائے سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔

خیالی دانشور

تصویر
انسان کی سب سے بڑی جہالت سب کچھ معلوم ہونے کی خوش فہمی ہے.جو انسان میں علمی ارتقاء کو روک دیتی ہے. اور انسان علمی تکبر میں مبتلا ہو کر دوسروں کو کم علم جاہل اور خود کو قابل و عقلِ کل سمجھنا شروع کردیتا ہے.جو کتابیں اسکی شعوری نشونما کرتی ہیں اسکا ظرف انہی کتابوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے.اور اس کی ذات پر ایک دانشوری کا بھوت سوار ہوجاتا ہے.وہ بھوت اسکو ایک خیالی دانشور تو بنادیتا ہے مگر اسکے انسانیت کے قد کو چھوٹا کردیتا ہے.
علم و سچائی کا متلاشی تاحیات علمی سفر پر رھتا ہے.اسکا علمی سفر معلوم سے نامعلوم کی طرف چلتا رہتا ہے.لیکن کبھی مکمل نہیں ہوتا. اور جیسے جیسے وہ علم حاصل کرتا جاتا ہے.اسکو اپنی جہالت کا ادراک بھی ہوتا جاتا ہے. ہماری زندگی میں آنے والا ہر شخص ہمارے لئے بےحد علمی خزانے لے کر آتا ہے. چاہیے وہ ان پڑھ ہو یا عالم. ہر شخص اپنے ذاتی تجربوں اور مشاہدوں کی بنیاد پر کچھ نیا سیکھتا ہے جسکو ہم سمجھ کر اپنا علم بڑھا سکتے ہیں لیکن اسکے لئے دوسروں کی عزت اور انکی باتوں پر غورو فکر ضروری ہے.انسان اپنی سوچ کا بیشتر حصہ اپنے ماحول سے عکس کرتا ہے. جبکہ کتابیں اسکو بہت ق…

پروپوزل

تصویر
عموماً میاں بیوی ایک دوسرے سے اظہارِ محبت کرتے ہی نہیں۔ شادی سے پہلے جب مناسب نہیں تھا، تب موبائل فوں پر 'لو یو' کے ٹیکسٹ ایک دوسرے کو دن میں درجنوں بار کرتے ہیں لیکن شادی کے بعد آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے یہ لَو مدہم پڑنے لگتی ہے۔ ہمیں بھول کیوں جاتا ہے کہ محبت کو اظہار اور تجدیدِ اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں اور بہت سی سنتوں کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے، اس سنت کو بھی زندہ کریں۔ اسی موضوع پر مبشر زیدی کا ایک بڑا پیارا سا آرٹیکل پڑھا، آپ سب سے شیئر کرنے کا دل کر رہا ہے۔
میں استقبالیہ سے پلٹا اور ٹھٹھک کے رُک گیا۔
اُس لابی میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سب باتیں کررہے تھے۔ میں کہاں بیٹھوں؟
اچانک میری نظر ایک خوب صورت لڑکی پر پڑی۔
شہابی رنگ، شرمیلی آنکھیں، ہونٹوں پر لالی کے بجائے باوقار مسکراہٹ۔
اُس مسکراہٹ نے میرا دل کھینچ لیا۔ مجھے بھی کھینچ لیا۔
میں دل پھینک نہیں ہوں لیکن اُس وقت خود پر قابو نہ رکھ سکا۔
میں ہولے ہولے قدم اٹھاتا اُس لڑکی کے قریب گیا اور بلااجازت ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
میرا خیال تھا کہ ایک اجنبی کو قریب بیٹھتے دیکھ کر وہ سادہ سی لڑکی پریشان ہوگی …

آج کی بات .... 11 جنوری 2016

تصویر
آگے ضرور بڑھئیے....
مگر دوسروں کو روند کر نہیں!!

قرآن۔۔۔ دعا۔۔۔ امید۔

تصویر
"تمہارا قرآن پاک ختم ہونے والا ہے بس تھوڑے ہی دن میں۔۔۔۔پھر ماشااللہ تم حافظ قرآن ہوجاوگے۔۔۔۔تم نے قرآن پاک سے ابھی تک کیا سیکھا؟" وہ گفتگو کو اس موضوع پر لے آئی جس پر وہ اکثر اس سے بات کرتی تھی۔۔۔وہ اب وارڈروب کی ایک دراز خالی کرنے والا تھا۔۔۔۔ ماں کے اس سوال پر کام کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔
"بہت ساری چیزیں ہیں۔۔"اس نے ذرا سوچ کر ماں سے کہا۔
لیکن اگر کوئی ایک چیز ہو جو تمہیں سب سے امپورٹنٹ بھی لگتی ہو اور سب سے اچھی بھی۔۔"وہ مطمئن تھی ان دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی تھی۔
"آپ کو پتا ہے،مجھے کیا چیز سب سے زیادہ امپورٹنٹ لگتی ہے قرآن پاک میں؟"وہ بھی اب بے حد دلچسپی سے بات کرنے لگا تھا؟
"کیا؟"
 "Hope"
امامہ اس کا منہ دیکھنے لگی "کیسے؟" پتا نہیں اس نے کیوں پوچھا تھا لیکن جواب وہ ملا تھاجس نے کسی مرہم کی طرح اس کے زخموں کو ڈھانپا تھا۔
"دیکھیں سارا قرآن ایک دعا ہے تو دعا hope ہوتی ہے نا۔۔۔ہر چیز کے لیے دعا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے نا کہ اللہ ہر مشکل میں ہمیں امید بھی دے رہا ہے۔۔۔یہ مجھے سب سے اچھی چیز لگتی ہے قرآن…

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی

تصویر
نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا
سچا کسی کا خواب ہُوا یا نہیں ہُوا
بے داغ کوئی شکل نظر آئی یا نہیں
آئینہ بے نقاب ہُوا یا نہیں ہُوا
لائی گئیں کٹہرے میں کتنی عدالتیں
قانون لاجواب ہُوا یا نہیں ہُوا

جو آج تک کیا گیا احسان کی طرح
اس ظلم کا حساب ہُوا یا نہیں ہُوا

اُس کے بھی دل میں آگ لگی یا نہیں لگی
پتھر بھی آب آب ہُوا یا نہیں ہُوا

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی
ختم اس کا کوئی باب ہُوا یا نہیں ہُوا

قدر اہلِ روشنی کی بڑھی یا نہیں بڑھی
ذرہ بھی آفتاب ہُوا یا نہیں ہُوا

انسانیت سے رابطہ کرنے کے باب میں
انسان کامیاب ہُوا یا نہیں ہُوا

کلام: مظفر وارثی

پلان B

تصویر
زندگی میں ہمارے پاس ہمیشہ ایک پلان B ہونا چاہئیے، ہر بڑی ناکامی کے بعد زندگی میں آگے بڑھتے رہنے کے لئے ایک متبادل راستہ۔ اگر ہم زندگی میں وہ نہ پا سکیں یا وہ نہ کرسکیں جو ہمارا ٹارگٹ ہے تو پھر ہمارے پاس ایک دوسرا آپشن ہونا چاہئیےاس صورتحال سے نمٹنے کے لئے۔  زندگی میں ہم نقصان کسی بھی کام میں ناکام ہونے کی وجہ سے نہیں اٹھاتے، ایک اچھا پلان B نہ ہونے کی وجہ سے اٹھاتے ہیں
عکس از عمیرہ احمد

زمرہ جات

سوئے حرم رمضان غزلیں امید سورہ البقرہ دعا سفرِ حج ایمان، استقبال رمضان، خطبہ مسجد نبوی میرے الفاظ پاکستان شاعری میری شاعری محبت یاد حرم صراط مستقیم لبیک اللھم لبیک خلاصہ قرآن سفرنامہ شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی کچھ دل سے #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل دوستی سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی سورہ المؤمنون عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی ماں معلومات نمرہ احمد یوم دفاع آبِ حیات جنت جنت کے پتے خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 والد پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، سوشل میڈیا سوشل میڈیا، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا مسدس حالی مصحف موسیقی یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل