چار اشرفیاں

Related image

پرانے زمانے کی بات ہےایک بادشاہ کا گزر ایک کھیت پرسے ہوا جہاں پر اس کی ملاقات ایک کسان سے ہوئی۔ کسان نے بقدرِ استطاعت بادشاہ کو کچھ کھانے پینے کو پیش کیا۔ بادشاہ کسان کی مہمان نوازی سے کافی متاثر ہوا اور اس سےباتیں کرنے لگا:۔

بادشاہ:۔ کتنے پیسے کما لیتے ہو۔

کسان:۔ عالی جاہ۔ چار اشرفیاں آمدن ہوجاتی ہے۔

 بادشاہ:۔ خرچ کیسے کرتے ہو؟

کسان:۔جناب۔ ایک اشرفی خود پر خرچ کرتا ہوں، ایک اشرفی قرض دیتا ہوں، ایک اشرفی قرض کی واپسی میں دیتا ہوں اور ایک اشرفی کنویں میں پھینک دیتا ہوں۔

بادشاہ:۔ میں سمجھا نہیں۔

کسان:۔ عالی جاہ ۔ایک اشرفی اپنے اور اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہوں،
ایک اشرفی اپنی اولاد پر خرچ کرتا ہوں[قرض دیتا ہوں] تاکہ جب میں اور میری بیوی بوڑھے ہوجائیں تووہ ہماری خدمت کریں،
ایک اشرفی اپنے والدین پر خرچ کرتا ہوں [قرض کی واپسی] کیونکہ انہوں نے مجھے پال پوس کر بڑا کیا،
اور ایک اشرفی خیرات کرتا ہوں [کنویں میں پھینکتا ہوں] کیونکہ اس کا بدلہ اس دنیا میں نہیں چاہتا۔ 

پرانے زمانے کی بات ہےایک بادشاہ کا گزر ایک کھیت پرسے ہوا جہاں پر اس کی ملاقات ایک کسان سے ہوئی۔ کسان نے بقدرِ استطاعت بادشاہ کو کچھ کھ...

چیزوں کو ان کی قیمت کے مطابق اہمیت دیجئے... خطبہ مسجد الحرام (اقتباس)


مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن إبراہیم الشریم 
جمعۃ المبارک 9 جمادی الاولی 1939ھ بمطابق 26 جنوری 2018 ء
ترجمہ : محمد عاطف إلياس

منتخب اقتباس:

لطیف وخبیر اللہ کے لیے ساری تعریف ہے، وہ فضل کبیر اور خیر کثیر کا مالک ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ میں اللہ پاک کی ثنا بیان کرتا ہوں، اسی سے مدد مانگتا ہوں، اسی سے معافی کا سوال کرتا ہوں اور اسی کی طرف پلٹتا ہوں۔ اسکی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں اور جس چیز کو وہ روک دے اسے آگے بڑھانے والا کوئی نہیں۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

سمجھدار وہ ہے کہ جو خود کا محاسبہ کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیئے تیاری کرے۔ اور بےوقوف وہ ہے جو خواہشات کی پیروی بھی کرتا رہے اور اللہ پر امید بھی باندھے رکھے۔ فرمان الٰہی ہے:
’لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور اطاعت کرو۔‘‘ (التغابن: 

اللہ کے بندو!
اخلاق انسانی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان ہی کے گرد انسان کے تمام اقوال اور اعمال گہومتے ہیں اور انہی کے ذریعے مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ تعامل کیا جاتا ہے۔
انسان کی زندگی سے اخلاق کو نکال دیا جائے تو لوگوں کا باہمی تعامل بے مقصد اور بے ضابطہ بن کر رہ جاتا ہے، جس میں ایک دوسرے پر اعتماد اور ایک دوسرے کے متعلق اچھا گمان نہیں ہوتا۔ دل محبت، الفت اور پاکیزگی سے ہاتھ دھو کر بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر ان تک رسائی ممکن نہیں رہتی اور نہ ان کے ذریعے لوگوں کی عقلوں تک رسائی ممکن رہتی ہے۔
پھر بس بد اخلاقی اور برے گمان کا دور دورہ ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر مختلف تہمتیں لگانے لگتے ہیں، برے الفاظ استعمال کرنے لگتے ہیں، شیطانی طریقوں کے استعمال پر اتر آتے ہیں، بات کا بتنگڑ بنانے لگتے ہیں اور چھوٹی غلطیوں کو مصیبت کا درجہ دینے لگتے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں ایسا رویہ نظر آئے تو جان لیجئے کہ اس معاشرے میں اخلاق کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

انسان میں عقل اور حکمت ہو تو وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اس کے لیے اچھے اور برے میں تمیز کرنا آسان ہوجائے، جہاں وہ باآسانی یہ جان لے کہ کونسی چیز کو مقدم کرنا ہے اور کون سی چیز کو مؤخر، کس چیز کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی اور کس چیز کی اہمیت کم نہیں کرنی۔
عقل و دانش مندی سے کام لیا جائے تو انسان ہر چیز کو مناسب اہمیت دینا سیکھ لیتا ہے اور پھر وہ ہر حقدار کو اس کا حق دیتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یا تو وہ احساس سے خالی ہوتا ہے یا وہ چیزوں کو ان کی قدرو قیمت کے مطابق اہمیت دینا نہیں جانتا ہوتا۔ ظاہر ہے کہ احساس ختم ہونا اور چیزوں کو مناسب اہمیت نہ دینا، دونوں ہی بری چیزیں ہیں، مگر چیزوں کو ان کی حیثیت سے کم اہمیت دینا زیادہ برا ہے۔ اگر انسان چیزوں کی اہمیت جان ہی نہ سکے اور اس لیے انہیں مناسب اہمیت نہ دے سکے تو اسکا نہ جاننا بڑی مصیبت ہے اور اگر وہ جان کر بھی انہیں مناسب اہمیت نہ دے تو جان بوجھ کر چیزوں کو مناسب اہمیت نہ دینا زیادہ بڑی مصیبت ہے۔

اس مختصر وقت میں ہم دوسری قسم کے بارے میں بات کریں گے۔ یعنی علم کے باوجود چیزوں کو مناسب اہمیت نہ دینا۔ ایسا کرنے والا مصیبت کو خود دعوت دیتا ہے اور دوہرے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔
ایک گناہ یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ وہ گناہ کو گناہ جاننے کے باوجود اس پر بضد رہتا ہے۔
دوسروں کو مناسب اہمیت نہ دینے والا کبھی ذمہ دار ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ وہ دوسروں کے حقوق صحیح طرح ادا کر سکتا ہے۔ کسی طور پر بھی دوسروں کو کم تر سمجھنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ یہ ایسی بری صفت ہے جسے اپنانے والا بھی برا بن جاتا ہے۔

دوسروں کو کمتر سمجھنے سے بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں، جیسا کہ گالی گلوچ، دوسروں کو حقیر سمجھنا، ان کا مذاق اڑانا اور ان کی بےعزتی کرنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ وہ اسے رسوا کرتا ہے اور ‏ نہ وہ سے حقیر سمجھتا ہے۔ تقوی یہاں ہے۔ ‘‘
یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہے اور یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔

جو اللہ کا حق اور لوگوں کا حق جانتا ہے وہ دوسروں کو کبھی حقیر نہیں سمجھتا، کیوں کہ جو آپ کو حقیر سمجھے گا وہ آپ کے ساتھ ناانصافی کرے گا اور اسی طرح جو کسی چیز کو حقیر سمجھے گا وہ یقینی طور پر وہ اس چیز کے مالک کو بھی حقیر ہی سمجھے گا۔
دوسروں کو حقیر سمجھنا اس وقت سب سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب یہ انفرادی سطح سے بڑھ کر اجتماعی سطح پر آجاتا ہے اور معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگتے ہیں کہ کون دوسرے کو زیادہ حقیر سمجھتا ہے۔

اللہ کے بندو! بندہ دوسروں کو حقیر اس وقت سمجھتا ہے جب وہ اپنے متعلق یہ گمان کرنے لگتا ہے وہ کامل ہے، پھر وہ اپنے گمان کے مطابق اپنی کامل تصویر میں کوئی نقص دیکھتا ہے، تو وہ اس نقص کو چھپانے کے لیے دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے تاکہ وہ اپنے آپکو اور دوسروں کو اپنے کمال کا دھوکا دے سکے، اور یہ ثابت کر سکے کہ وہ دوسروں سے بہتر ہے۔ کوئی شخص دوسروں کو اس وقت تک حقیر نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ بیک وقت کم عقلی اور ناسمجھی کا شکار نہ ہو جائے۔

لوگوں کو حقیر سمجھنا معاشرے میں اسی وقت رواج پاتا ہے جب قلم کی امانت اور زبان کی امانت اور عدل و انصاف کی امانت کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی صورت میں دوسروں کو حقیر سمجھنا عام ہوتا ہے اور پھر معاشرے میں اس سے جڑی کئی اور بیماریاں پھیل جاتی ہیں، جیسا کہ خود پسندی، غرور اور لا پروائی۔ اور ان کی وجہ سے پھر تکبر سامنے آتا ہے جو کہ حق کو رد کرنے اور دوسروں کو برا بھلا کہنے کا نام ہے۔ تکبر کرنے والا بھی بد ترین شخص ہوتا ہے۔ اور لازمی نہیں کہ کوئی عزت والا یا مالدار ہی تکبر کرے، بلکہ یہ مرض ہر اس نفس میں آسکتا ہے جس میں بیماری ہو، چاہے وہ لوگوں میں کمتر اور عوام الناس ہی میں سے کیوں نہ ہو۔

اللہ کے بندو! دوسروں کو حقیر سمجھنا ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے انسان خود عیب والا بن جاتا ہے، اس کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دنیا وآخرت تباہ ہو جاتی ہیں۔ سچا مسلمان کسی بھی شخص کو حقیر نہیں سمجھتا چاہے وہ کسی بھی حالت میں ہو۔ مومن نہ کسی کے نسب کو حقیر سمجھتا ہے، نہ کسی کے پیشے کو حقیر سمجھتا ہے، نہ کسی کو فقروفاقہ، یا کمزوری، یا کم عمری، یا جہالت کی وجہ سے حقیر سمجھتا ہے۔
اسی طرح سچا مسلمان اہم چیزوں کو ترتیب دینے میں کوتاہی نہیں کرتا۔ یعنی وہ اہم ترین چیز کو چھوڑ کر اہم چیز کی طرف نہیں جاتا یا بے قیمت اور بے فائدہ چیز کو دوسری چیزوں سے مقدم نہیں کرتا، چاہے وہ چیز عمل ہو یا کوئی بات۔

ہوشیار رہیے! کہیں آپ پر جہالت اور خواہشات نفس غالب نہ آجائیں، کہیں آپ اخلاق کے معاملے میں پیچھے نہ ہٹ جائیں یا ان کی اہمیت کم نہ کر دیں۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔‘‘ (الاحزاب: 72)

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ بہت سے لوگ اپنے گناہوں کو چھوٹا اور بے ضرر سمجھتے ہیں۔ وہ خطرناک سے خطرناک گناہ کو بھی ہلکا سمجھتے ہیں اور بڑی آسانی سے اس کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔ گناہ کرتے وقت یہی کہتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے۔ گناہ پر بضد قائم رہنے والوں کے لیے اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ نجانے لوگ گناہوں کے معاملے میں کیوں اتنے بے پرواہ ہیں، وہ اپنے گناہوں کو بال سے بھی باریک سمجھتے ہیں اور انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے اور گناہ کرنے کے بعد اللہ سے معافی بھی نہیں مانگتے اور اپنے گناہ پر نادم بھی نہیں ہوتے۔
سمجھ دار انسان کسی چھوٹے گناہ کو چھوٹا نہیں سمجھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پہاڑ بھی پتھروں سے بنتے ہیں اور سیلاب بھی قطروں سے بنتا ہے۔ جو صرف امید پر قائم رہتا ہے وہ بہت زیادہ گناہ کر بیٹھتا ہے اور جو صرف اللہ سے ڈرتا ہے وہ اپنے لیے بہت تنگی پیدا کرلیتا ہے۔ حالانکہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’خبردار ہو جاؤ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے۔‘‘ (المائدہ: 98)

اللہ سے امید اور اللہ کا ڈر یوں لازم اور ملزوم ہیں جیسے ایک پرندے کے دو پر کہ جن میں سے اگر ایک بھی ٹوٹ جائے تو پرندہ اڑ نہیں سکتا۔

یاد رکھیے کہ سچا مسلمان اپنے گناہ کو چھوٹا اور حقیر نہیں سمجھتا بلکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا گناہ اس کے ایمان کو کم کر دے گا اور اس کی وجہ سے اللہ تعالی اس سے ناراض ہو جائے گا اور صاحب توفیق وہ ہے کہ جو کسی بھی گناہ کو حقیر نہ سمجھے چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’مومن اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے، گویا وہ ایک پہاڑ ہے جو عنقریب اس کے اوپر گزرنے والا ہے اور فاجر اپنے گناہوں کو اتنا ہلکا سمجھتا ہے گویا کہ وہ اس کی ناک پر بیٹھی ایک مکھی ہے جیسے وہ بس ہاتھ ہلا کر اڑا سکتا ہے۔‘‘ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے

اللہ ہمیں اور آپکو اپنی خوشنودی عطا فرماکر اپنے غصب سے بچا لے، عافیت دے کر سزا سے بچا لے، اور اپنی رحمت سے اپنے غصے سے بچائے۔ ہم اللہ کی کماحقہ ثنا بیان نہیں کرسکتے وہ ایسا ہے جیسا اس نے خود بتایا ہے۔
کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے قیمت مت سمجھو اور اپنی زندگی کے معاملات کو انصاف کے ساتھ منظم کرو، اپنے دل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلا کر اس کی حفاظت کرو کیونکہ دلوں کی بیماریوں کی جڑ گناہوں کو حقیر سمجھنا ہے۔

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرة: 201)

اللہ کے بندو!
اللہ عظیم و جلیل کو یاد کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا اس کی نعمتوں اور نوازشوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید نوازے گا اللہ کا ذکر تو بلندتر ہے اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن إبراہیم الشریم  جمعۃ المبارک 9 جمادی الاولی 1939ھ بمطابق 26 جنوری 2018 ء عنوان :...

آج کی بات ۔۔۔ 29 جنوری 2018

~!~ آج کی بات ~!~
Birthday Special

" سکون" وہ نعمت وہ تحفہ ہے جو اپنے جنم دن کی صبح بستر سے صحت اور سلامتی کے ساتھ اٹھنے کے بعد ملتا ہے۔اگر ہم اس پل اس خوشگوار احساس کو محسوس کر سکیں ۔


~!~ آج کی بات ~!~ Birthday Special " سکون " وہ نعمت وہ تحفہ ہے جو اپنے جنم دن کی صبح بستر سے صحت اور سلامتی کے ساتھ اٹھن...

آج کی بات ۔۔۔ 28 جنوری 2018

~!~ آج کی بات ~!~

‏جب انسان سمجھتا ہے کہ وہ غلط بھی ہو سکتا ہے ، 
تب وہ ٹھیک ہونے لگتا ہے ..... !!

~!~ آج کی بات ~!~ ‏جب انسان سمجھتا ہے کہ وہ غلط بھی ہو سکتا ہے ،  تب وہ ٹھیک ہونے لگتا ہے ..... !!

بہت آسان ہے کہنا

Image result for heart leaf drop

ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ !...
ﻣَﮕﺮ ﻣَﻄﻠَﺐ ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﺎ،
ﺳَﻤﺠﮫ ﻟَﯿﻨﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﻥ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﭘﺎ ﮐﮯ ﮐَﮭﻮ ﺩَﯾﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﮭﻮ ﮐﮯ ﭘﺎ ﻟَﯿﻨﺎ،
ﯾﮧ ﺍُﻥ ﻟَﻮﮔُﻮﮞ ﮐﮯ ﻗِﺼّﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﺟَﻮ ﻣُﺠﺮِﻡ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻣِﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﮨَﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺑِﭽَﮭﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺭَﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ،

!.............! ﺳُﻨﻮ !.............!

ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗَﻮ،
ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣَﻮﺵ ﮨَﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻗُﺮﺑَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻓُﺮﻗَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﻓَﺮﯾﺎﺩ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﺍَﺷﮑُﻮﮞ ﮐَﻮ ﭘِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟَﻔﻆ ﮐﺎ،
ﭼَﺮﭼﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﻭﮦ ﻣَﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣُﺤﺒّﺖ  ﮐَﻮ،
ﮐَﺒﮭﯽ ﺭُﺳﻮﺍ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ، ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ !... ﻣَﮕﺮ ﻣَﻄﻠَﺐ ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﺎ، ﺳَﻤﺠﮫ ﻟَﯿﻨﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﻥ، ﻣُﺤﺒّﺖ ﭘﺎ ﮐﮯ ﮐَﮭﻮ ﺩَﯾﻨﺎ، ﻣُﺤ...

دوستی ۔۔۔ چاول

Image result for rice in hand

دوستی کا رشتہ چاول کی مانند ہے، جتنا پرانا ہو اتنا ہی زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ نئے دوست جتنے مرضی بن جائیں مگر پرانے دوستوں کی قدر اور اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی ۔ نئے دوست مل جانا اچھی بات ہے کیونکہ زندگی کا سفر دوستوں کے ساتھ ہی اچھا گزرتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ہمارے دوستوں کی فہرست میں اضافہ ہوتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم جب دُکھی ہوں یا دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہوں تو ہمیں کسی ایسے دوست کی ضرورت ہوتی ہے جو ہماری تاریخ سے اچھی طرح واقف ہو ، جو بغیر سوالات کیے ہمارا دکھ جان سکے، کیونکہ نئے دوستوں کے سوالات اتنے ہوتے ہیں کہ دکھ بیان کرتے کرتے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے "انٹرویو" کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ دوست نیا ہو یا پرانا دوست ہوتا ہے جیسے' ڈگری ' ڈگری ہوتی ہے۔

پرانے دوست اگر اچانک زندگی سے چلے جائیں تو آپ کو شدید صدمہ ہوتا ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہےکہ انسان سب سے زیادہ اعتبار انھیں پر کرتا ہے ، جبکہ نئے دوست اگر چلے جائیں تو آپ صبر کرلیتے ہیں کیونکہ ابھی زیادہ وقت گزرا نہ تھا۔

بہرحال دوستی کا رشتہ چاول کی طرح ہی ہے جتنا پرانا ہو اتنا ہی مزیدار ۔۔۔۔ پرانا دوست کرنل بھی بن جاتا ہے۔

بشکریہ: سیدہ سدرہ
فیس بک یادداشت 

دوستی کا رشتہ چاول کی مانند ہے، جتنا پرانا ہو اتنا ہی زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ نئے دوست جتنے مرضی بن جائیں مگر پرانے دوستوں کی قدر اور اہمی...

آج کی بات ۔۔۔ 26 جنوری 2018

~!~ آج کی بات ~!~

وقت گزاری کی روش اور ذاتی خوشی اتنی اہم ہے کہ دوسروں کا سکون غیر اہم ہو گیا ہے...
ہم سب ''ہم '' نہیں رہے ''میں '' ہو گے ہیں.
 جبکہ ہم اجتماعی زندگی کی بنیاد ہے.
 اور یہی ہم اجنبی ہو گیا ہے

~!~ آج کی بات ~!~ وقت گزاری کی روش اور ذاتی خوشی اتنی اہم ہے کہ دوسروں کا سکون غیر اہم ہو گیا ہے... ہم سب '' ہم ''...

آج کی بات ۔۔۔ 25 جنوری 2018


~!~ آج کی بات ~!~

جس نے اپنا آپ اِسی دنیا کو دے دیا، دنیا اُسے ’دو گز زمین‘ سے بڑھ کر کچھ دینے کی نہیں۔

جس نے اپنا آپ خدا کو دے دیا، خدا کے پاس اس کے لیے وہ بہشت ہے ’’جس کی چوڑان میں سب آسمان اور زمین آتے ہیں؛ جو خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے‘‘۔

~!~ آج کی بات ~!~ جس نے اپنا آپ اِسی دنیا کو دے دیا، دنیا اُسے ’ دو گز زمین ‘ سے بڑھ کر کچھ دینے کی نہیں۔ جس نے اپنا آپ خدا کو...

زندگی کا حسن (پوشیدگی)


"زندگی کے حسن کا سارا رس صرف بھید میں ہے۔ پوشیدگی اور پردے میں ہے۔۔ ہر خواب منزل پر پہنچ کر اپنے سامنے مایوسی کے سائے دیکھتا ہے اسی لیے آپ اپنے آپ کو ایکسائٹ کرتے ہیں اُس منظر سے لطف حاصل کرنے کے لیے جس کے آپ نے خواب دیکھے تھے۔۔ مایوسی اس لیے کہ ایک اور بھید ختم ہوا۔۔جو پوشیدہ تھا بے پردہ ہوگیا۔۔۔۔

شاید اللہ تعالیٰ بھی اسی لیے اپنے آپ کو کم کم ظاہر کرتا ہے۔۔۔۔پوشیدہ رہتا ہے۔"

(یاک سرائے )
مستنصر حسین تارڑ

"زندگی کے حسن کا سارا رس صرف بھید میں ہے۔ پوشیدگی اور پردے میں ہے۔۔ ہر خواب منزل پر پہنچ کر اپنے سامنے مایوسی کے سائے دیکھتا ...

حیا ایمان کا حصہ ہے...خطبہ مسجد الحرام (اقتباس)


مسجد الحرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی 
جمعۃ المبارک 2 جمادی الاول 1439ہجری بمطابق 19 جنوری 2018
ترجمہ: محمد عاطف الیاس

منتخب اقتباس:

الحمدُ للهِ! ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے، وہ بڑے فضل واحسان والا ہے اور اسی نے حیاء کو ایمان کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
’زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔‘‘ (الرحمن: 29)

میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ہیں اور جنوں اور انسانوں کے لیے اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر، صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اے مومن معاشرے کے لوگو!
اللہ سے ڈرو اور اس سے حیا کرو۔ خوب ذہن نشین کر لو کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اور ہر جگہ آپ کو دیکھتا ہے اور آپ کا حال جانتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران :102)

اے امت اسلام!
بھلے اخلاق کی طرف بلانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اولین مقصد ہے۔ مسند امام احمد میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھے تو اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘

اچھے اخلاق ہمیشہ ایمان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اہل ایمان میں کامل ترین ایمان اس کا ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔

اللہ کے بندو! اچھے اخلاق سے ایمان مکمل اور مزین ہوتا ہے، اچھے اخلاق سے میزان پھرتا ہے، ایمان بڑھتا ہے اور انسان کمال کے مرتبے کو چھونے لگتا ہے۔

اچھے اخلاق میں سے حیا کو ایمان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے جہاں حیا ختم ہوجائے وہاں ایمان بھی ختم ہوجاتا ہے اور جتنی حیاء کم ہوجائے اتناہی ایمان بھی کم ہوجاتا ہے۔
مستدرک امام حاکم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’حیا اور ایمان ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ جب ان میں سے ایک ختم ہوجائے تو دوسرا خود بخود ختم ہو جاتا ہے ۔‘‘

حیا جس چیز میں پائی جائے وہ اسے مزین کر دیتی ہے اور جس چیز سے حیاء چین لی جائے وہ انتہائی بری ہو جاتی ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حیا ہر بھلائی کی جڑ ہے، یہ اخلاق میں افضل ترین، فائدہ مند ترین اور قیمتی ترین اخلاق ہے۔ اگر حیا کا اخلاق نہ ہوتا تو نہ وعدے پورے ہوتے، نہ امانتیں ادا ہوتیں، نہ کسی کی حاجت پوری ہوتی، کوئی بھلائی کو پسند نہ کرتا، کوئی برائی سے نہ رکتا اور کسی کی پردہ پوشی بھی نہ کی جاتی۔

اللہ کے بندو! حیا نبیوں اور رسولوں اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے صحابہ اور تابعین کا اخلاق ہے۔
یہ ہیں موسی ، جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’حضرت موسی انتہائی پاکباز اور حیا کرنے والے تھے، ان کی حیا کا یہ حال تھا کہ لوگوں کو ان کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا تھا۔‘‘
اسی طرح ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حیا کے اخلاق میں سب سے آگے تھے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پردے کے پیچھے بیٹھی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم و حیا کرنے والے تھے۔ جب وہ کسی چیز کو ناپسند کرتے تو ان کے چہرے کارنگ تبدیل ہوجاتا اور ہم اسی سے پہچان لیتے کہ آپ کو کوئی چیز ناگوار گزری ہے۔ یعنی وہ دوسروں کو ٹوکنے سے حیا کرتے تھے یہاں تک کہ ناگواری ان کے چہرے پر نظر آنے لگتی تھی۔

اسی طرح جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آجاتے اور دیر تک بیٹھے رہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تنگی محسوس ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حیا کرتے ہوئے انہیں کچھ نہ کہتے اور ناگواری کا اظہار تک نہ کرتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں یہ آیت نازل فرما دی:
’’جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔‘‘ (الاحزاب: 53)

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اپنے بچوں کو بھی حیا سکھاتے تھے اور ان کی تربیت بھی اسی اخلاق پر کرتے تھے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت اسی اخلاق پر فرمائی تھی۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ حیا اخلاق اللہ تبارک وتعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور اس سے جڑا ہوا اللہ تعالی کا ایک نام بھی ہے۔ اللہ کی حیا کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت دینے والا اور کرم نوازی کرنے والا ہے، نیکی کی قدر کرنے والا اور بہت بلند ہے۔ وہ عطا کرنے والا ہے جب اسکا بندہ ہاتھ اٹھا کر اس سے کچھ مانگتا ہے تو اللہ اسکے ہاتھ خالی لوٹ آنے سے حیا کرتا ہے۔ اللہ تعالی کسی ایسے بوڑھے شخص کو بھی سزا دینے سے حیا کرتا ہے جس کے بال دین اسلام کی خدمت میں سفید ہوگئے ہوں۔

حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
’’میرے بندے نے میرے ساتھ عدل نہیں کیا! مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا رد کرنے سے حیا کرتا ہوں اور جب وہ گناہ کرنے لگتا ہے تو وہ مجھ سے حیاء نہیں کرتا۔‘‘

اللہ کے بندو! سچا مسلمان اللہ سے حیا کرتا ہے اور وہ یاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، وہ نیک کام میں دیر نہیں کرتا، نعمت کاشکر کبھی نہیں بھولتا، جہاں اللہ تعالی نے جانے سے منع کیا ہے، اللہ اسے وہاں کبھی نہیں دیکھتا اور جس جگہ جانے کا حکم دیا ہے، وہ اسے وہاں کبھی غیر حاضر نہیں پاتا۔ اللہ سب سے بڑھ کر اس چیز کا حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام کو یہی نصیحت کی تھی۔
امام ترمذی کی جامع میں حسن درجہ کی سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ ہو تعالئ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ سے یوں حیا کرو جیسے اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔‘‘
اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ الحمد للہ! ہم حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں اس حیا کی بات نہیں کر رہا! حقیقی حیا یہ ہے کہ تم سرکی اور سر میں موجود چیزوں کی حفاظت کرو، پیٹ کی اور پیٹ میں موجود چیزوں کی حفاظت کرو اور موت اور فنا ہوجانے کو یاد کرو۔ جو آخرت کا طالب ہوتا ہے وہ دنیا کی زیب و زینت سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔ جو ایسا کرتا ہے وہی اللہ سے صحیح معنوں میں حیا کرنے والا ہے۔‘‘

حیا اہل تقویٰ کا شعار ہے، نیک لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہے اور مومنوں کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ کا پردہ ہے۔ جب انسان گناہوں میں بڑھ جاتا ہے اور توبہ کی طرف نہیں پلٹتا تو اس سے حیا چھین لی جاتی ہے اور جس سے حیاء چین لی جاتی ہے تو اس کی ہلاکت کا وقت آ جاتا ہے، پھر وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگتا ہے، اس کی برائیاں واضح ہوجاتی ہیں اور نیکیاں چھپ جاتی ہیں۔ ایسا شخص اللہ کے ہاں بھی بے قیمت ہوتا ہے۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حیا کا لفظ حیات یعنی زندگی سے لیا گیا ہے۔ جس میں حیا نہیں ہوتی وہ دنیا میں مردوں کی مانند ہوتا ہے اور آخرت میں بدبخت ہوتا ہے۔ بے حیائی، بے غیرتی اور گناہوں کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو کھینچ لاتا ہے۔ جو گناہ کے وقت اللہ سے حیاء کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عذاب دینے سے حیا کرتا ہے اور جو اللہ سے حیا کیے بغیر گناہ کرتا جاتا ہے اللہ تعالی بھی اس سے قیامت کے دن حیا نہیں کرتا۔

اے امت اسلام!
برے الفاظ بولنا، برے کام کرنا، مردوں کا عورتوں کی مشابہت اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا، جھوٹ بولنا، گمراہی پھیلانا، دوسروں کے احساسات کا خیال نہ کرنا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر آداب کا خیال نہ کرنا اور بھلے طریقے کو چھوڑنا بے حیائی کی وہ صورتیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو رہی ہیں۔
اسی طرح بے حیائی کی صورتوں میں کھلے عام کیے جانے والے گناہ بھی شامل ہیں۔ ان گناہوں کی وجہ سے دنیا و آخرت کی عافیت ختم ہوجاتی ہے۔ 

نہیں خدا کی قسم زندگی میں کوئی خیر نہیں ہے بلکہ آگر حیا نہ ہو تو ساری دنیا میں کوئی خیر نہیں ہے۔ انسان جب تک حیا کو اپنائے رکھے اسی وقت تک وہ سلامت رہتا ہے۔ بالکل اس طرح جس طرح درخت اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک جڑیں مضبوط ہوں۔

ے مومن معاشرے کے لوگو!
خوب ذہن نشین کرلو کہ دل میں حیا کی موجودگی تین چیزوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک اللہ کی تعظیم اور اس سے محبت۔ دوسری اس چیز کے یقین سے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہمارے ہر حال سے واقف ہے۔ جب دل میں اللہ تعالی کے پیار اور تعظیم کے ساتھ یہ یقین موجود ہوگا کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہمارے ہر حال سے واقف ہے اور اس سے ہماری کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے تو دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے حیا خود ہی آ جاتی ہے۔

بعدازاں! اے مومنو!
جیسا کہ مردوں کے حق میں شرم و حیا کی موجودگی مردانگی اور اخلاق کا تقاضہ ہے اسی طرح یہ عورتوں کے حق میں زینت اور کمال ہے۔ مردوں کی نسبت عورتوں میں شرم و حیا کی اہمیت زیادہ ہے۔

اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اس پاکیزہ عورت کا ذکر فرما کر اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے، جو مکمل حیا اور بہترین اخلاق اپناتے ہوئے موسی علیہ السلام کے پاس پاکیزہ چال چلتے ہوئے آئی اور چند الفاظ بولے کہ جن میں کسی قسم کا جھکاؤ یا نرمی نہیں تھی۔ اللہ تعالی نے ان کا ذکر فرماتے ہوئے قرآن کریم میں فرمایا:
’’ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی “میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔‘‘ (القصص: 25)

اے مومن معاشرے کا لوگو!
جب مسلمان معاشرے میں حیا عام ہوجاتی ہے تواس کے افراد کے اخلاق بہت بلند ہو جاتے ہیں، ان کی ادب آداب شاندار بن جاتے ہیں، ان میں نیک اخلاق اور بھلے رویے رائج ہو جاتے ہیں۔ حیا کا ان کو کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس سے ان کو خیر ہی ملتی ہے۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’حیا سراسر بھلائی ہے اور اس سے بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے۔''

اے اللہ! ہمیں بہترین اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرما، کیونکہ تو ہی بھلے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرما سکتا ہے۔ ہمیں برے اخلاق سے بچا تو ہی ہمیں برے اخلاق سے بچا سکتا ہے۔
اے اللہ اے ارحم راحمین ہم تجھ سے ہدایت تقوی شرم و حیا اور بے نیازی کا سوال کرتے ہیں۔

مسجد الحرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی  جمعۃ المبارک 2 جمادی الاول 1439ہجری بمطابق 19 جنوری 2018 عنوان: ...

آج کی بات ۔۔۔۔ 23 جنوری 2018

~!~ آج کی بات ~!~

فکری خود انحصاری
==
"ابن تیمیہ نے یہ چاہا ہے کہ مسلمان اپنی (مسلمان والی) عقل سے سوچے نہ کہ ارسطو اور افلاطون اس کو سوچ کر دیں"
(محمود ماضی)

~!~ آج کی بات ~!~ فکری خود انحصاری == "ابن تیمیہ نے یہ چاہا ہے کہ مسلمان اپنی (مسلمان والی) عقل سے سوچے نہ کہ ارسطو اور افل...

گھر کی بنیاد - جنت کے پتے

"گھر کی بنیاد"


وہ ارادتاً دکانوں کے شیشی کی دیواروں کو دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی تاکہ اگر کچھ خریدنا ہو تو یا آجائے، ابھی وہ اسٹریٹ کے درمیان ہی تھی کہ ایک دم سے رُکی، وہ ایک گفٹ شاپ تھی جس کے بپار اسے کچھ دکھا تھا۔ وہ تیزی سے اس شاپ تک آئی اور گلاس ڈور دھکیل کراندر داخل ہوئی، اس دوران اس نے ایک لمحے کے لیے بھی نگاہ اس سے نہیں ہٹائی مبادا وہ اسے کھو نہ دے۔ اندر دروازے کی دائیں جانب ہی وہ چھت پہ نصب ایک ہُک سے لٹکا ہوا تھا، ایک بہت خوب صورت ساؤنڈ چائم، وہ گردن پوری اٹھائے ہوئےساؤنڈ چائم کے اطراف میں گھوم کر اسے دیکھنے لگی، وہ ایک فت لمبا تھا اوپر ایک سلور گول پلیٹ تھی جس سے لڑیاں نکل رہی تھیں: پانچ لڑیاں دراصل لکڑی کی ڈنڈیاں تھیں جس کو سلور پالش کیا گیا تھا، باقی پانچ لڑیاں کرسٹل کی تھیں جیسے ایک دھاگے میں پنکھڑیاں پِرو دی ہوں، گلاب کی پنکھڑیاں چاندی کی سی چمکتی کرسٹل کی روز پیٹل ہر دو پنکھڑیوں کے بیچ ایک سلور اسٹک لٹک رہی تھی۔
اس نے ہاتھ اٹھا کر ہولے سے نازک کانچ کی لڑی کو چُھوا وہ اسٹک سے ٹکرائی اور لکڑی اور کانچ کی کوئی عجیب سے دُھن بج اُٹھی موسیقی کی کسی بھی قسم کی سے مختلف وہ انوکھی سی آواز تھی، اس کے لمس سے لڑیاں جو گول گول دائرے میں گھومنے لگی تھیں اب آہستہ آہستہ ٹھہرنے کے قریب آرہی تھیں اور تب ہی اس نے دیکھا۔ اوپر کی سلور پلیٹ پر انگریزی میں کُھدا تھا:

"Must every house be built upon love? What about loyalty and appreciation?"(Omer Bin Khataab رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

اس نےزیر لب ان الفاظ کو پڑھا، اسے وہ واقعہ یاد تھا۔

ایک شخص اپنی بیوی کوصرف اس وجہ سے چھوڑنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا، اس کے جواب میں یہ الفاظ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمائے تھے:
 "کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت ہی ہو، پھر وفاداری اور قدردانی کا کیآ؟"

(البیان والتابعین 2/101۔ فرائض الکلام صفحہ 113)

نمرہ احمد کے ناول "جنت کے پتے" سے اقتباس

"گھر کی بنیاد" وہ ارادتاً دکانوں کے شیشی کی دیواروں کو دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی تاکہ اگر کچھ خریدنا ہو تو یا آجائے، ابھی و...

آج کی بات ۔۔ 22 جنوری 2018


~!~ آج کی بات ~!~

بار بار دہرانے سے کسی بھی سوچ، منصوبہ، یا مقصد کو دماغ میں بٹھانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

~!~ آج کی بات ~!~ بار بار دہرانے سے کسی بھی سوچ، منصوبہ، یا مقصد کو دماغ میں بٹھانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

برکت کا مفہوم اور اسباب و ذرائع - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)

برکت کا مفہوم اور اسباب و ذرائع - خطبہ جمعہ مسجد نبوی - Daleel.Pk

برکت کا مفہوم اور اسباب و ذرائع - خطبہ جمعہ مسجد نبوی
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 02 -جمادی اولی- 1439 کا خطبہ جمعہ " برکت کا مفہوم اور اسباب و ذرائع" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ  اس کائنات کو اللہ تعالی نے پیدا فرمایا اور اس میں تمام مخلوقات کی اشیائے ضروریات ودیعت کر دیں اور ان میں برکت بھی ڈالی، برکت سمیٹنے میں انبیائے کرام سب سے آگے ہوتے ہیں، اللہ تعالی نے ان کی ذات اور کردار و گفتار میں برکت ڈال دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کو صحابہ کرام نے کئی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اللہ تعالی نے قرآن کریم، بیت اللہ، مدینہ طیبہ، مسجد اقصی  ، امت محمدیہ،  اور صبح کے وقت کو بابرکت بنایا ہے۔

منتخب اقتباس:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اسی نے اپنے مخلص بندوں کو نعمتِ اخلاص اور برکت سے نوازا ہے۔ میں صدقہ خیرات کو فضیلت عطا کرنے پر اللہ کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ تعالی نے مشرکوں اور کافروں کا ٹھکانا آگ بنایا، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے جادوگروں کا پردہ چاک فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور فضائل مہارت رکھنے والے صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے ۔

اللہ تعالی نے اس دھرتی کو لوگوں کے لیے زندگی گزارنے کی جگہ بنایا ، اس میں برکتیں ڈالیں اور اسے مال و دولت سے بھر دیا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا}
 اللہ نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے، زمین میں برکت ڈالی اور اس کا صحیح تخمینہ لگایا۔[فصلت: 10]

اللہ تعالی نے انبیائے کرام کو اپنی چنیدہ شخصیات بنایا ، پھر ان کی زندگی اور کارکردگی دونوں میں برکت بھی ڈال دی، جیسے کہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
 {يَانُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ}
 اے نوح! اتر جا ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اور تمہارے ہمراہ امتوں پر نازل ہوئی ہیں۔ [هود: 48]

ایسے ہی اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: 
{وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ}
 اور میں جہاں بھی ہوں اس نے مجھے بابرکت بنایا ہے۔[مريم: 31]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت بھی ثابت شدہ ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی آنکھوں سے اس برکت کا مشاہدہ کیا تھا۔

قرآن کریم میں بھی برکت ہے، جو کہ قرآن کریم پر عمل کر کے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر حاصل ہوتی ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ}
 یہ کتاب ہم نے اسے نازل کیا ہے یہ بابرکت ہے لہذا اس کی اتباع کرو اور اللہ سے ڈرو، تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔[الأنعام: 155]

برکت اضافے اور خوشحالی کا نام ہے؛ جب کسی تھوڑی سی چیز میں برکت ہو تو اسے زیادہ کر دیتی ہے، اگر برکت کسی جگہ ہو تو وہاں برکت کے اثرات واضح اور عیاں نظر آتے ہیں، جس چیز میں برکت ہو تو بہت سے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مال و دولت، وقت، علم، اولاد، علم، کارکردگی اور اعضا ہر چیز میں برکت کے اثرات رونما ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالی نے بیت اللہ اور مدینہ طیبہ کو بابرکت بنایا، مسجد اقصی اور اس کے آس پاس والے علاقے کو مبارک بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ}
 بیشک سب سے پہلا گھر جو مکہ میں ہے وہ لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ بابرکت اور جہان والوں کے لیے ہدایت ہے۔[آل عمران: 96] 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا:
 (اَللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِيْنَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ
 [یا اللہ! مکہ میں جتنی برکت فرمائی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں فرما]) 
اللہ تعالی کا فرمان بھی ہے: 
{سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا} 
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصی کی سیر کروا ئی اس  کے ارد گرد ہم نے برکت فرمائی، تا کہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ [الإسراء: 1]

اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بابرکت بنایا تو یہ امت تمام امتوں سے آگے نکل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (درختوں میں ایک ایسا درخت بھی ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے ، اس کے اوصاف مسلمان جیسے ہیں، مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے؟) راوی کہتے ہیں کہ لوگ جنگلوں اور صحراؤں کے درختوں میں تلاش کرنے لگے، تو صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی بتلائیے وہ کون سا درخت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ کھجور کا درخت ہے) بخاری

مومن اپنے گھر کے لیے بھی برکت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے لیے مومن گھر میں اللہ کا ذکر کرنے کی پابندی کرتا ہے اور گھر میں سورت البقرہ کی تلاوت کا اہتمام کرتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو؛ کیونکہ سورت بقرہ کی تلاوت برکت ہے، اسے چھوڑنا باعث حسرت ہے، اور باطل لوگ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے) مسلم، باطل لوگوں سے مراد جادو گر ہیں۔

استغفار کی پابندی سے بھی برکت حاصل ہوتی ہے، جیسے کہ سیدنا نوح علیہ السلام کی دعا اللہ تعالی نے بتلاتے ہوا فرمایا: 
{فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا}
 تو میں [نوح علیہ السلام]نے کہا: تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو، بیشک وہی بخشنے والا ہے (10) وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا (12)وہ دولت اور نرینہ اولاد کے ذریعے تمہاری امداد فرمائے گا اور تمہارے لیے باغات بنا کر تمہارے لیے نہریں بہا دے گا۔[نوح: 10- 12]

مومن شخص نماز فجر با جماعت ادا کر کے بھی برکت تلاش کرتا ہے؛ کیونکہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے، صبح کے وقت میں برکت رکھ دی گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: 
(اَللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِيْ فِيْ بُكُوْرِهَا،
 [یا اللہ! میری امت کیلیے صبح کے وقت میں برکت فرما دے])،
 اسی لیے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر یا سریہ کو روانہ فرماتے تو انہیں اول وقت میں روانہ کرتے تھے، نیز صخر بن وداعہ غامدی رضی اللہ عنہ تاجر تھے وہ اپنی تجارت کے قافلے صبح کے وقت بھیجتے تھے تو ان کی دولت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا، نیز ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔

پابندی کے ساتھ ایک دوسرے کو سلام کرنے سے بھی برکت ملتی ہے، سلام کرنا اس بابرکت امت کا خاصہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً}
 پس جب تم گھروں میں داخل ہو جاؤ تو اپنے آپ پر سلام کہو، یہ اللہ تعالی کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔[النور: 61]

صلہ رحمی سے بھی عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور رزق میں برکت ہوتی ہے، چنانچہ بخاری اور مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص کو اچھا لگتا ہے کہ اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے اور اس کی زندگی لمبی کر دی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے)

مسلم معاشرے کے کمزور افراد کی مدد در حقیقت متلاشیاں برکت کے لیے وسیع میدان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تمہارے کمزور افراد کی وجہ سے ہی تمہاری مدد کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے) بخاری

جب مسلمان کی زندگی میں برکت آ جائے تو اللہ تعالی اسے پختہ عقل عطا فرما دیتا ہے، اسے سمجھ بھی دیتا ہے، اس کا دل علم اور ایمان سے منور ہوتا ہے۔
مسلمان کی زندگی میں برکت کا ظہور اس طرح ہوتا ہے کہ اسے بہت زیادہ کام کرنے اور کامیابیاں حاصل کرنے توفیق ملتی ہے، تھوڑے سے وقت میں اتنا زیادہ کام کر دکھاتا ہے کہ اس کے ساتھی اس سے پیچھے رہ جاتے ہیں، یہ خاص نوعیت کی برکت انسان کیلیے اطاعت گزاری اور مثبت عملی اقدامات کے لیے ممد اور معاون ثابت ہوتی ہے۔

لمبی زندگی کے ساتھ زبانی اور بدنی نیکیاں بھی ہو تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے کامیاب لوگوں کو عطا کردہ برکت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے) صحیح ابن حبان

اللہ کی ناراضی کا باعث بننے والے کاموں میں دولت اڑا کر اللہ تعالی کا حق ادا نہ کیا جائے تو اس سے برکت مٹ جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ}
 اللہ تعالی سود مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ کسی بھی گناہ گار کافر سے محبت نہیں کرتا۔[البقرة: 276]

تمام مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے ملکوں ، سماج اور اقوام میں برکت تلاش کریں، برکت کے اسباب اور ذرائع پیدا کریں، اس کے لیے سب سے مؤثر ترین ذریعہ یہ ہے کہ اللہ کی دھرتی پر اللہ کا نظام رائج ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ}
 اگر بستی والے ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کی کارستانیوں کی وجہ سے پکڑ لیا۔[الأعراف: 96]

کوئی بھی عقل مند اس بات کا انکار نہیں کرتا کہ منہجِ الہی سے اعراض برکت ختم ہونے کا سبب ہے، اس طرح خیر و بھلائی ختم ہوتی ہے، اللہ تعالی نے ہمارے لیے قوم سبا کا واقعہ بتلایا جنہیں عطا کردہ نعمتوں اور برکتوں کو جڑ سے نیست و نابود کر دیا گیا تھا، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتَانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمَالٍ كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ (15) فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ} 
قوم سبا کے لیے ان کے علاقے میں نشانی ہے، دو باغات دائیں اور بائیں [ان کے لیے تھے] تم اپنے پروردگار کا عطا کردہ رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، یہ [تمہاری رہائش کیلیے]پاکیزہ شہر ہے اور پروردگار بخشنے والا ہے (16) تو انہوں نے اعراض کیا ، پھر ہم نے ان پر بہت بڑا سیلاب بھیج دیا ، اور ہم نے ان کے دونوں باغوں کو ایسے دو باغوں سے بدل دیا جو بد مزہ  پھلوں، جھاؤ اور معمولی سی بیریوں پر مشتمل تھے۔[سبأ: 15، 16]

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

برکت کا مفہوم اور اسباب و ذرائع - خطبہ جمعہ مسجد نبوی ترجمہ: شفقت الرحمان مغل فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ ا...

آج کی بات۔۔۔ 20 جنوری 2018

~!~ آج کی بات ~!~

امید کسی سے لگانے کی نہیں، بلکہ کسی کی پورا کرنے کی شے ہے

~!~ آج کی بات ~!~ امید کسی سے لگانے کی نہیں، بلکہ کسی کی پورا کرنے کی شے ہے

یہی تو ہے زندگی!


رستہ، سفر، رفتار، منزل۔۔۔ یہی تو ہے زندگی! 
اسلئے ڈرائیونگ اور زندگی میں مجھے بہت مماثلت نظر آتی ہے۔

- ہر سڑک ہائی وے نہیں ہوتی کہ جہاں آپکی رفتار کم کرنے کے لئے کوئی کھڈا، کوئی سگنل نہ ہو۔ ہائی وے تک پہنچنے کے لئے ایسی بہت سے سڑکوں سے گزرنا ہو گا جن میں کوئی بہت تاریک ہو گی، کوئی سڑک بہت ہی ٹوٹی پھوٹی اور دگرگوں حالت میں ہو گی، کوئی بہت رش والی ہو گی۔ ایسے میں رفتار ہلکی کرنی ہے، کھڈے سے بچنا ہے، احتیاط سے نکلنا ہے۔ زندگی میں بھی ایسے کئی موڑ آ جاتے ہیں جہاں رفتار ہلکی کر کے احتیاط سے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ زندگی کی ہائی وے تک پہچنے کے لئے بھی پہلے ان سب سڑکوں سے گزرنا ہی پڑے گا۔ پہلے پہل مشکل آئے گی، پھر سب بہتر ہوتا جائے گا۔

- ہر سڑک پر ایک ہی رفتار نہیں رکھی جاتی۔ کچھ جگہ 40 سے اوپر جانا جرم ہے تو کہیں 120 سے کم کی اجازت نہیں ہوتی۔ رشتوں کو بھی اسی لحاظ سے دیکھنا چاہیے۔ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جہاں ایک حد سے آگے نہیں بڑھنا ہوتا، جب کہ کچھ ایسے ہیں جہاں کم از کم رفتار بھی تیز ترین ہی ہونی چاہیے۔ مقررہ حد سے کمی اور تجاوز، دونوں صورتوں میں ہی ایکسیڈنٹ کا خدشہ ہے۔

- بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ کی کوئی غلطی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی کسی دوسرے کی غلطی کی سزا بھی ہمیں بھگتنی پڑ جاتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ہمارے یہاں جب برف زیادہ ہو، کبھی صبح صبح سڑکوں پر شدید پھسلن ہو تو دونوں ڈرائیورز کی احتیاط کے باوجود حالات ایسے بن جاتے ہیں کہ ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے۔ کبھی رشتوں میں یہی ہوتا ہے ناں؟ دونوں اطراف کی ہی شاید غلطی نہیں ہوتی لیکن کوئی تیسری چیز اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ حالات یکسر بدل جاتے ہیں۔ کیا یہی تیسری چیز نصیب کہلاتی ہے؟

- کبھی کبھی ہم رستہ بھول بھی جاتے ہیں۔ ایسے میں وہیں رک نہیں جاتے، اور نہ ہی اسی رستے پر چلتے چلے جاتے ہیں بلکہ جہاں سے پہلا یو-ٹرن ملے، وہاں سے واپسی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زندگی میں بھی بارہا ہم سے غلطیاں ہونگی۔ جیسے ہی احساس ہو جائے کہ غلطی ہوئی، پلٹ آنا ہے۔ جتنا آگے جاتے جائیں گے، واپسی کرنا اتنا ہی طویل اور کٹھن ہو گا۔

- سب سے اہم سبق جو میں نے سیکھا: ہمیں آگے بڑھتے رہنا ہے۔ گاڑی میں لگے back-view mirrors ہمیں تین مختلف زاویوں سے پیچھے دیکھنے میں مدد کرتے ہیں، لیکن چلنا پھر بھی آگے ہی ہے۔ زندگی کی گاڑی میں بیٹھ کر بھی مختلف زاویوں سے گزرے حالات کا جائزہ لیں، اپنی غلطی جانچیں، دوسرے کی پرکھیں۔ ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں، اور آگے بڑھ جائیں۔ Move on! اگر، مگر، کاش۔۔۔ ان سب کو بھول جائیں۔ ماضی کو مستقبل میں ساتھ ساتھ مت گھسیٹیں۔ بس چلتے چلتے ایک اچٹتی سی نگاہ مختلف زاویوں سے گزرتے لمحات پر ڈالتے رہیں اور آگے بڑھتے رہیں۔ یہی زندگی ہے!

تحریر: نیر تاباں

رستہ، سفر، رفتار، منزل۔۔۔ یہی تو ہے زندگی!  اسلئے ڈرائیونگ اور زندگی میں مجھے بہت مماثلت نظر آتی ہے۔ - ہر سڑک ہائی وے نہیں ہوت...

آج کی بات ۔۔۔۔ 19 جنوری 2018

~!~ آج کی بات ~!~

 جیسے جیسے زندگی گزرتی ہے ، زندگی گزارنے کا شعور آتا جاتا ہےتو زندگی کی کوالٹی بہتر ہو رہی ہوتی ہے اور آپ اگلے مرحلے کے لیے تیار ہو رہے ہوتے ہیں ۔
 لیکن اگر زندگی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شعور نہ آ رہا ہو تو اس کا یقینی مطلب ہے کہ زندگی رکی ہوئی ہے اور آپ اگلے مرحلے کے لیے لیٹ ہو رہے ہوتے ہیں۔

اقتباس از قاسم علی شاہ

~!~ آج کی بات ~!~  جیسے جیسے زندگی گزرتی ہے ، زندگی گزارنے کا شعور آتا جاتا ہےتو زندگی کی کوالٹی بہتر ہو رہی ہوتی ہے اور آپ اگلے مرح...

محبت کے سجدے

Related image
*محبت کے سجدے*


وہ دھوپوں میں تپتی زمینوں پہ سجدے
سفر میں وہ گھوڑوں کی زینوں پہ سجدے
چٹانوں کی اونچی جبینوں پہ سجدے
وہ صحرا بیاباں کے سینوں پہ سجدے
علالت میں سجدے مصیبت میں سجدے
وہ فاقوں میں حاجت میں غربت میں سجدے
وہ جنگوں جدل میں حراست میں سجدے
لگا تیر زخموں کی حالت میں سجدے
وہ غاروں کی وحشت میں پُر نور سجدے
وہ خنجر کے سائے میں مسرور سجدے
وہ راتوں میں خلوت سے مامور سجدے
وہ لمبی رکعتوں سے مسحور سجدے
وہ سجدے محافظ مدد گار سجدے
غموں کے مقابل عطردار سجدے
نجات اور بخشش کے سالار سجدے
جھکا سر تو بنتے تھے تلوار سجدے

وہ سجدوں کے شوقین غازی کہاں ہیں؟ ؟
زمیں پوچھتی ہے نمازی کہاں ہیں؟؟؟؟

ہمارے بجھے دل سے بیزار سجدے
خیالوں میں الجھے ہوے چار سجدے
مصلے ہیں ریشم کے بیمار سجدے
چمکتی دیواروں میں لاچار سجدے
ریا کار سجدے ہیں، نادار سجدے ہیں،
بے نور، بے ذوق ، مردار سجدے
سروں کے ستم سے ہیں سنگسار سجدے
دلوں کی نحوست سے مسمار سجدے
ہیں مفرور سجدے ہیں مغرور سجدے
ہیں کمزور ، بے جان ،معذور سجدے
گناہوں کی چکی میں ہیں چُور سجدے
گھسیٹے غلاموں سے مجبور سجدے
کہ سجدوں میں سر ہیں بھٹکتے ہیں سجدے
سراسر سروں پر لٹکتے ہیں سجدے
نگاہ خضوع میں کھٹکتے ہیں سجدے
دعاؤں سے دامن جھٹکتے ہیں سجدے

وہ سجدوں کے شوقین غازی کہاں ہیں؟؟
زمیں پوچھتی ہے نمازی کہاں ہیں؟؟؟؟

چلو آؤ کرتے ہیں توبہ کے سجدے
بہت تشنگی سے توجہ کے سجدے
مسیحا کے آگے مداوا کے سجدے
ندامت سے سر خم شکستہ سے سجدے
رضا والے سجدے، وفا والے سجدے
عمل کی طرف رہنما والے سجدے
سراپاِ ادب التجا والے سجدے
بہت عاجزی سے حیا والے سجدے
نگاہوں کے دربان روادار سجدے
وہ چہرے کی زہرہ چمک دار سجدے
سراسر بدل دیں جو کردار سجدے
کہ بن جائیں جینے کے اطوار سجدے
خضوع کی قبا میں یقین والے سجدے
رفا عرش پر ہوں زمیں والے سجدے
لحد کے مکین ہم نشیں والے سجدے
ہو شافع محشر جبین والے سجدے

وہ سجدوں کے شوقین غازی کہاں ہیں ؟؟؟؟
زمیں پوچھتی ہے نمازی کہاں ہیں !!!!

*محبت کے سجدے* کلام: علاء الدین طالب سولا پوری وہ دھوپوں میں تپتی زمینوں پہ سجدے سفر میں وہ گھوڑوں کی زینوں پہ سجدے چٹانو...

کمال یہ ہے

Image result for selflessness

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ، بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دِیا جلانا ، جَلا کے رکھنا، کمال یہ ہے

ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے

کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دُکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا، کمال یہ ہے

خیال اپنا ، مزاج اپنا ،  پسند اپنی ، کمال کیا ہے
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے

کسی کی رہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے ، ہٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے

وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی  لڑکھڑائے ، شکست کھائے
لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے

ہزار طاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت، دعا کی خوشبو بسا کے رکھنا، کمال یہ ہے

بشکریہ: عمر الیاس

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ، بنا کے رکھنا کمال یہ ہے ہوا کی زد پہ دِیا جلانا ، جَلا کے رکھنا، کمال یہ ہے ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہی...

اپنے ماں باپ کا تو دِل نہ دُکھا ...... اپنی جنت کو خُدا کے لئے دوزخ نہ بنا

Image result for ‫رب ارحمهما کما ربیانی صغیرا‬‎

وہ جو اپنی آنکھیں بند ہونے تک آپ سے محبت کرتی ہے وہ "ماں" ہے!
وہ جو اپنی آنکھوں میں تاثر دکھائے بغیر آپ سے محبت کرے وہ "باپ" ہے!

ماں: دنیا میں آپ کو متعارف کرواتی ہے۔
باپ: دنیا کو آپ سے متعارف کرواتا ہے۔

ماں: آپ کو زندگی دیتی ہے۔
باپ: آپ کو زندہ رکھتا ہے۔

ماں: اس بات کو یقینی بناتی ہے آپ بھوکے نہیں۔
باپ: اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ بھوک کی قدر جانیں۔

ماں: دیکھ بھال کرتی ہے۔
باپ: ذمہ داری اٹھاتا ہے۔

ماں: گرنے سے بچاتی ہے۔
باپ: سکھاتا ہے کہ گر کر کیسے اٹھنا ہے۔

ماں: چلنا سکھاتی ہے۔
باپ: زندگی کی چال سکھاتا ہے۔

ماں: اپنے تجربات سے سکھاتی ہے۔
باپ: خود تجربہ کرکے اس سے سیکھنا سکھاتا ہے۔

ماں: نظریات کی عکاسی کرتی ہے۔
باپ: حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔

ماں کی محبت اپنی پیدائش کے وقت سے معلوم ہوتی ہے۔
باپ کی محبت تب پتا چلتی ہے جب آپ خود باپ بنتے ہیں۔




وہ جو اپنی آنکھیں بند ہونے تک آپ سے محبت کرتی ہے وہ " ماں " ہے! وہ جو اپنی آنکھوں میں تاثر دکھائے بغیر آپ سے محبت کرے وہ &...

حق پر ثابت قدمی ۔۔۔ خطبہ مسجد الحرام (اقتباس)


مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید حفظه الله

جمعہ المبارک 25 ربیع الثانی 1439 ہجری بمطابق 12 جنوری 2018


ترجمہ: محمد عاطف الیاس

منتخب اقتباس:

اللہ آپ پر رحم فرمائے! میں اپنے آپکو اور آپ سب کو اللہ تبارک تعالیٰ سے ڈرنے اور اچھے اخلاق اپنانے کی تلقین کرتا ہوں! کیونکہ ساری اولاد آدم غلطیاں کرنے والی ہے، جب آپ سے غلطی ہو جائے تو گناہ چھپایا کرو، انہیں لوگوں کے سامنے بیان مت کیا کرو، اللہ سے معافی مانگا کرو اور گناہ پر بااصرار نہ رہا کرو۔  پھر گناہ کے بعد نیکی کرنے کی کوشش کیا کرو۔ خوش قسمت وہی ہے جو اپنے ماضی سے سبق سیکھتا ہے اور اپنا محاسبہ کرتا ہے اور محروم وہ ہے جو دوسروں کے لیے مال جمع کرتا ہے اور خود اپنے اوپر خرچ کرنے سے کنجوسی کرتا ہے۔ بہترین عمل اس کا ہے جو آج کا کام کل تک موخر نہیں کرتا۔

اے مسلمانو!

دل کا نام قلب اسی لیے رکھا گیا ہے کہ یہ متردد اور متقلب رہتا ہے۔ حالات اور ماحول اس کا حال تبدیل کر دیتے ہیں۔ ایک طرف اسے بھلائ کھینچ رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف برای اپنی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ ایک طرف فرشتہ ثابت قدم کررہا ہوتا ہے اور دوسری طرف شیطان ورغلا رہا ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:

’’ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں۔‘‘    (الانعام: 110)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دل کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے بڑا ہی انوکھا اور شاندار بنایا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں ’’ اے دلوں کو پھیرنے والے‘‘ کہہ کر یہ واضح کیا ہے کہ دل اللہ تبارک وتعالیٰ پھیرتا ہے۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا بھی فرمائی: کہ اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما! اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپکو بھی دل کے پھر جانے سے ڈر لگتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

میں اس حوالے سے امن میں کیسے رہ سکتا ہوں۔ دل تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں پھیرتا رہتا ہے۔

اللہ کے بندو!

دل کبھی ایک طرف مائل ہوتا ہے اور کبھی دوسری طرف مگر اللہ تبارک وتعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو ثابت قدمی بھی اسی بدولت ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: کہ اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو دین پر ثابت قدمی نصیب فرما۔ اسے امام ابن ماجہ اور امام ترمذی نے سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔

قول و عمل میں ثابت قدمی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے۔ انسان اپنی ساری زندگی میں اس نعمت کا پھل کھاتا رہتا ہے اور پھر سب سے بہتر پھل تو اسے قبر میں ملتا ہے۔ فرمان الہی ہے:

’’ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘             (ابراہیم: 27)

اللہ آپکی نگہبانی فرمائے! ثابت قدمی یہ ہے کہ انسان فتنوں، خواہشات نفس اور مختلف ورغلانے والی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے حق اور ہدایت پر قائم رہے۔

اللہ کے بندو!

ثابت قدمی کا اسی وقت پتہ چلتا ہے جب انسان ایسے دور اور معاشرے میں رہتا ہے جس میں ہر کوئی کنجوسی کا قیدی اور خواہشات کا غلام ہوتا ہے۔ جہاں ہر شخص اپنی ہی راہ کو حق سمجھتا ہے۔

بزرگ فرماتے ہیں: ثابت قدمی کی نشانی یہ ہے کہ انسان آخرت کی طرف متوجہ ہو جائے اور دنیا سے بے نیاز ہو جائے اور موت کے آنے سے پہلے ہی موت کی فکر کرنے لگے۔

چونکہ دل کی ثابت قدمی انتہائی اہم ہے، اسی لیے اہل علم نے ان اسباب ووسائل کا ذکر کیا ہے کہ جن سے ثابت قدمی حاصل ہوسکتی ہے اور جن سے انسان فتنوں اور مشکلات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

ان اسباب و وسائل میں سب سے پہلا اور اہم سبب اللہ تعالی کی توحید کا اقرار کرنا ہے۔ ایسی توحید کہ جو انسان کے دل میں بھی ہو، اس کی زبان پر بھی ہو اور اس کے عمل میں بھی نظر آتی ہو۔ توحید کے لئے اللہ تعالی کو پہچاننا بھی لازمی ہے۔ اللہ کے متعلق کتاب کے پاس جتنا زیادہ علم ہوگا اتنا ہی آپ اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہونگے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔‘‘           (فاطر: 28)

اللہ کے بندو! ثابت قدمی کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ انسان نیکی پر قائم رہے اور نیک اعمال کرتا رہے، اپنی بساط کے مطابق بھلائی کے کام کرتا رہے، دین کی راہ پر قائم رہے، لوگوں کی مدد کرتا رہے اور تمام کاموں کا مقصد اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی اور اسی سے اچھی جزا کی طلب بنائے۔

ثابت قدمی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ علماء کے ساتھ رہا جائے اور دینی مسائل جاننے کے لیے انہی کی طرف رجوع کیا جائے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔‘‘                (النحل: 43)

اسی طرح ثابت قدمی کا ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اپنائی جائے، کیونکہ مومن اپنے بھائی کا آئینہ ہوتا ہے اور بھائی ہوتا ہے، اسے گھاٹے سے بچاتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کے مال اور حقوق کی حفاظت کرتا ہے، اس کا دفاع کرتا ہے اور اسے ثابت قدمی کی تلقین کرتا ہے۔

ثابت قدمی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگی جائیں، اس کی طرف لپکا جائے، اس کے ذکر میں وقت گزارا جائے اور اس کے ساتھ تعلق کو بڑھایا جائے۔

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے یہ لازمی ٹھہرایا ہے کہ وہ ہر رکعت میں اس سے ہدایت کا سوال کریں۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔‘‘    (الفاتحہ: 6)

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر بندے کو دن رات، ہر وقت ہدایت کا سوال کرنے کی ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالی اس پر یہ لازمی نہ ٹہراتا۔ مگر حقیقت یہ ہے انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہر لمحہ ضرورت رہتی ہے، کہ وہ اسے ہدایت پر قائم رکھے، ثابت قدمی نصیب فرمائے، ہدایت کی پہچان نصیب فرمائے اور ہدایت کی راہ پر چلنے کی ہمت نصیب فرمائے۔ انسان خود اپنا نفع کرنے اور نقصان سے بچنے سے تو قاصر ہے۔

ثابت قدمی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب سے جڑا جائے۔ فرمان الہی ہے:

’’دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں۔‘‘      (الانعام: 104)

اللہ کی نگہبانی فرمائے! غور کیجئے کہ کتاب اور بصیرت میں کتنا گہرا تعلق ہے۔ اگر انسان کو بصیرت مل جائے تو حق و باطل، بھلائی اور برائی اور سنت اور بدعت کے درمیان فرق کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ آج فتنوں کے دور میں تو مسلمان کو سب سے بڑھ کر بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بصیرت کا نور ہی فتنوں کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے۔

اسی طرح ثابت قدمی کا ایک ذریعہ حاصل کردہ علم پر عمل کرنا ہے۔ یعنی شرعی مسائل، احکام اور آداب میں سے آپ کو جن جن چیزوں کا علم ہے ان پر عمل کیا جائے۔

جو شخص اپنے علم پر عمل کرتا ہے اللہ تعالی اسے مزید علم عطا فرماتا ہے اور پھر اسے سب سے بڑی عطا، تقوی دے دیتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا۔‘‘  (الانفال: 29)

ثابت قدمی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ زبان کو شکایت سے روکا جائے، صبر کیا جائے اور نفس کو قابو میں رکھا جائے۔ جلد بازی، غصہ، لالچ، اکتاہٹ، بے ضابطگی اور حرص سے بچا جائے۔ ان کاموں سے بچنے سے دل کو ہدایت ملتی ہے، اللہ تعالی کی محبت میں نصیب ہوتی ہے اور لوگوں کی محبت بھی مل جاتی ہے۔

ان سارے اسباب کو جمع کرنے والی چیز اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھنا ہے اور اس کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہے۔ مومن مایوس ہونے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ اللہ تعالی سے اچھی توقع رکھنے والا ہوتا ہے۔ مگر خیال رہے کہ نیک اعمال کرنے، اللہ کی طرف متوجہ ہونے، اطاعت گذاری پر قائم رہنے اور فرماں برداری کے بغیر اللہ تعالی کے متعلق اچھا گمان رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

مومن جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہے تو اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کے نفس کو سکون مل جاتا ہے، اسے انتہا درجہ سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہوجاتاہے اور اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔

پیارے بھائیو!

ثابت قدمی کے عظیم اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ دل میں یہ یقین ہو کی عاقبت پرہیزگار لوگوں ہی کی ہے اور اللہ کا وعدہ حق ہے۔ جب یہ یقین دل میں ہوتا ہے تو مومن تمام مشکلات پر صبر کرتا ہے اور دین پر قائم رہتا ہے۔ پھر وہ جان لیتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دین کی حفاظت ضرور کرے گا اور اپنے لشکر کی مدد لازمی فرمائے گا۔

بہت سے لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ جب وہ اہل اسلام کے حالات بدلتے دیکھتے ہیں تو وہ نوحہ کرنے لگتے ہیں اور یوں رونے لگتے ہیں جیسے بڑی مصیبت والے روتے ہیں، جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز سے منع فرمایا ہے اور لوگوں کو صبر، توکل اور ثابت قدمی کی تلقین فرمائی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ یقین رکھے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ پرہیزگارلوگوں اور احسان کرنے والوں کا ساتھی ہے، اس پر بھی یقین رکھے کہ اس پر جو بھی مصیبت آ رہی ہے وہ اس کے گناہوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے آرہی ہے اور اللہ کا وعدہ حق ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور صبح و شام اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے۔

خوب جان رکھو کہ جس نے آپ کو منہ کھولنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے وہ آپکو کبھی بھولنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالی جب بھی اپنی حکمت سے کوئی دروازہ بند کرتا ہے تو اس کی جگہ رحمت کا ایک دروازہ ضرور کھولتا ہے۔

اللہ جسے چاہتا ہے ان اسباب کو اپنانے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے جو اس کے فضل و کرم سے فتنوں اور مصیبتوں کے وقت ثابت قدمی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جو فائدہ انسان کے حق میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے، وہ اسے مل کر رہتا ہے چاہے وہ اس فائدے کو ناپسند کرتا ہو اور جو فائدہ اس کے حق میں نہیں لکھا گیا ہوتا وہ اسے کبھی حاصل نہیں ہو سکتا چاہے وہ کتنی ہی تگ ودو کیوں نہ کر لے۔

ثابت قدمی کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالٰی سے راضی ہوجائے۔ اللہ کی رضا مندی اللہ تعالی کے متعلق اچھے گمان سے جڑی ہوئی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے  اس صفت کا ذکر قرآن کریم میں چار مرتبہ فرمایا ہے۔ فرمایا:

’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے۔‘‘                (المائدہ: 119، التوبہ: 100، المجادلہ: 22، البینہ: 8)

تو اے اللہ کے بندے! اپنے حال پر غور کر۔ کیا تو واقعی اللہ سے راضی ہے؟

اللہ آپکے نگہبانی فرمائے! اللہ تعالی سے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی لکھی ہوئی ہر چیز پر راضی رہا جائے۔ یہ یقین رکھا جائے کہ اچھے اور برے حالات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے لیے بھلائی ہی لکھی ہے۔ جب آپ اللہ سے راضی ہو جائیں گے تو آپ لوگوں کے سامنے شکایتیں بھی کم کریں گے اور حلات سے تنگی کا اظہار بھی کم ہی کریں گے۔

اللہ سے راضی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اسباب پر عمل کرنا چھوڑ دے اور مشکلات کو حل کرنے کی کوشش سے ہاتھ دھو لے، اس کا معنیٰ یہ بھی نہیں ہے کہ کسی مصیبت پر آپ کو پریشانی نہیں ہوگی یا کسی مشکل میں آپکو درد نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ سے راضی رہتے ہوئے بھلائی کی تگ و دو جاری رکھی جائے۔

اللہ سے راضی ہو جانے سے اللہ بھی انسان سے راضی ہو جاتا ہے۔ ہم اللہ سے رب کے طور پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نبی کے طور پر اور اسلام سے دین کے طور پر راضی ہوگئے۔

اے اللہ! ہمیں اپنے متعلق اچھا گمان کرنے والا بنا، صحیح معنوں میں توکل کرنے کی توفیق عطا فرما، اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمارا یقین پختہ فرما یہاں تک کہ ہمیں قرآن وحدیث میں بتائی گئی باتوں پر ان چیزوں سے زیادہ یقین ہو جائے جو ہمیں نظر آتی ہیں۔

ہمیں امید کے ساتھ عمل کرتے رہنا چاہیے، اور ثابت قدمی کے ساتھ محنت کرنی چاہیے کیونکہ فتح قریب ہے، اجر بہت زیادہ ہے، ہر معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ ھر چیز پر غالب ہے مگر اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے۔

اے اللہ ہم تیری ہی ایک مخلوق ہیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں اپنے فضل وکرم سے محروم نہ فرما۔

’’ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔‘‘ (یونس: 85)

’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘          (الاعراف: 23)

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘           (البقرہ: 201)

’’ پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘


مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید حفظه الله جمعہ المبارک 25 ربیع الثانی 1439 ہجری بمطابق 12 جنو...

آج کی بات ۔۔۔ 16 جنوری 2018

~!~ آج کی بات ~!~

جو انسانوں کی طرف بلاتے ہیں وہ سوچنے سے منع کرتے ہیں،
اور جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں وہ سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

"آخری جنگ" از ابو یحییٰ

~!~ آج کی بات ~!~ جو انسانوں کی طرف بلاتے ہیں وہ سوچنے سے منع کرتے ہیں، اور جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں وہ سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ...

بچوں کے اقوالِ زریں

Image result for children quotes
Image result for children

بچوں کے اقوالِ زریں ۔۔۔۔ گل نوخیز اختر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ایک دوست کے ہاں ڈنر پر مدعو تھا‘ ڈنر تھوڑا لیٹ تھا اس لیے مجھے سخت بوریت ہورہی تھی ۔ اتنے میں اُن کی 6 سالہ بیٹی کھیلتے کھیلتے میرے قریب آئی اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ٹافی میری طرف لہرا کر بولی’’کھائیں گے؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلایا اور منہ کھول دیا۔۔۔اُس نے اطمینان سے ٹافی کا ریپر کھولا اور ٹافی میرے منہ میں ڈالنے کی بجائے اپنے منہ میں ڈال کر چٹخارے لیتے ہوئے بولی’’مزیدار ہے ناں؟‘‘۔۔۔ سیچوایشنل کامیڈی کے اتنے اچھے مظاہرے نے مجھے ایک دم فریش کر دیا۔میں جب بھی کسی بچے سے گفتگو کرتا ہوں تو ایسے ایسے تخلیقی جملے سننے کو ملتے ہیں کہ ہنس ہنس کر برا حال ہوجاتا ہے۔میرے ہمسائے میں ایک صاحب ہیں جن کے سر پر 60سال کی عمر میں بھی گھنے بال ہیں‘ ایک دن ان کی پوتی مجھ سے پوچھنے لگی ’’انکل۔۔۔میرے دادا امیر ہیں کہ غریب؟‘‘ میں نے پیار سے کہا’’بھئی آپ کے دادا بہت امیر ہیں‘‘۔ منہ بنا کر بولی’’سر سے تو نہیں لگتے‘‘۔۔۔!!! ایک دفعہ میری چھوٹی بھانجی کہنے لگی’’ماموں۔۔۔میں نے میکڈونلڈ جانا ہے‘‘۔ میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔’’ٹھیک ہے‘ لے جاتا ہوں لیکن پہلے میکڈونلڈ کے سپیلنگ بتاؤ‘‘۔۔۔کچھ دیر سوچ کر بولی’’رہنے دیں۔۔۔کے ایف سی چلتے ہیں۔۔۔!!!‘‘

بچے چونکہ من کے سچے ہوتے ہیں لہٰذا ان کی باتیں اتنی بے ساختہ ہوتی ہیں کہ سڑیل سے سڑیل انسان بھی دانت نکالنے پر مجبور ہوجاتاہے۔ بچے بعض اوقات اتنا خالص اور بے ساختہ جملہ کہتے ہیں کہ شاید بڑے سے بڑا مزاح نگار بھی ایسا جملہ تخلیق نہ کر سکے۔ایک دن میرا بڑا بیٹا ثمریز لیپ ٹاپ پہ کوئی گیم کھیل رہا تھا اور چھوٹا بیٹا مہروز بار بار اُسے تنگ کرنے کے لیے چارجر کی پن نکال رہا تھا۔کچھ دیر تو ثمریز نے برداشت کیا‘ پھر غصے سے بولا’’تم اُلو ہو‘‘۔ میں پاس ہی بیٹھا تھا‘ میں نے ثمریز کو گھورا ’’خبردار! اگر تم نے بھائی کو دوبارہ ایسے کہا‘‘۔ ثمریز نے منہ بنایا اور دوبارہ گیم کھیلنے لگا۔ میں اتنی دیر میں کسی کام سے باہر چلا گیا‘ واپس آیا تو چھوٹا پھر ثمریز کو تنگ کر رہا تھا‘ ثمریز پھر اُسے غصے سے اُلوکہنے لگا تھا کہ اچانک مجھ پر نظر پڑتے ہی دانت پیس کراُس سے بولا’’وہی ہو تم ۔۔۔وہی ہو۔۔۔!!!‘‘ مو صوف ایک دفعہ چودہ اگست کے موقع پر جھنڈا خریدتے ہوئے دکاندار سے یہ بھی فرما چکے ہیں کہ ’’انکل کوئی پرپل کلر والا جھنڈا ہے؟؟؟‘‘

مجھے اعتراف ہے کہ مجھ میں اگر جملہ کہنے کی کوئی تھوڑی بہت صلاحیت ہے تو وہ میں نے بچوں سے سیکھی ہے‘ آج سے دو سال پہلے میں ایک رشتہ دار کی شادی میں گیا ہوا تھا‘ اُن کے ایک چھوٹے بچے نے مجھ سے پوچھا’’انکل آپ رائٹر ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں‘‘۔۔۔ یہ سنتے ہی وہ جھٹ سے بولا’’میرے پاپا بھی رائٹر ہیں‘‘۔ میں الجھن میں پڑ گیا‘ کیونکہ میں اُس کے پاپا کو بچپن سے جانتا تھا‘ وہ تو جنم جنم کے آڑھتی تھے‘ تاہم اپنے اطمینان کے لیے پوچھ ہی لیا کہ’’بیٹا آپ کو کیسے پتا چلا؟‘‘ ۔۔۔بچہ انتہائی معصومیت سے بولا’’وہ روز ماما کو کہتے ہیں کہ میں تمہارے خاندان کو جوتی پر لکھتا ہوں‘‘۔میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری‘ کاش میں بچے کو بتا سکتا کہ جوتی پر لکھنے والا عموماًرائٹر نہیں اینکر پرسن ہوتاہے۔میری ایک کولیگ کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے‘ ان کے چھوٹے بیٹے نے سکول میں پہلی بار لفظ’’پیشہ‘‘ سنا توماں سے پوچھنے لگا کہ امی پیشہ کسے کہتے ہیں؟ ماں نے بتایا کہ بیٹا پیشے کا مطلب ہے کام کاج۔ بچے نے بات ذہن نشین کرلی۔کچھ دنوں بعد سکول میں اس کی ٹیچر نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی ماما گھر میں کیا کرتی ہیں؟ اطمینان سے بولا۔۔۔’’سارادن پیشہ کرتی ہیں‘‘۔ میرے بھتیجے نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ چاچو’’حضرت‘‘ کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ میں نے کہا ’’حضرت کا لفظ کسی کو احترام سے بلانے کے لیے استعمال ہوتاہے‘ یوں سمجھ لو کہ اس کا مطلب ہے جناب‘ محترم وغیرہ‘‘۔اس نے سرہلایا اور چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد دروازے پر بیل ہوئی ‘ بھتیجا دوڑتا ہوا میرے کمرے میں داخل ہوا اور جلدی سے بولا’’چاچو۔۔۔حضرت دادا ابو آئے ہیں۔۔۔‘‘

گود میں اٹھانے والے بچے بھی اپنے پیار کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں‘ اِنہیں جس سے زیادہ پیار ہوتا ہے اُسی کو اپنی محبت میں ’’شرابور‘‘ کرتے رہتے ہیں۔ عقل و دانش کی باتیں سیکھنی ہوں تو بچوں سے بہتر کوئی اُستاد نہیں‘ یہ بھول کر بات کو الٹ بھی کر دیں تو بعض اوقات وہی بہترین جملہ بن جاتاہے۔ قاسمی صاحب نے ایک دفعہ ایک بچے سے پوچھا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ مزے سے بولا’’مریض بن کر ڈاکٹروں کی خدمت کروں گا‘‘۔

یہ سچ ہے کہ آج کی جدید دنیا کا بچہ بہت تیز ہوچکا ہے‘ اب دس سال کا بچہ ‘ بچہ نہیں رہتا‘ کیبل اور انٹرنیٹ کی بدولت اسے ’’بلاتکار‘ گود بھرائی‘ آتما ہتھیا‘ دوسری شادی اور ناجائز تعلقات ‘‘جیسے الفاظ سے واقفیت ہوچکی ہے لیکن وہ ان کے مفہوم اور پیچیدگیوں سے آج بھی ناواقف ہے۔ ایسے بچوں کے سوالات کچھ کچھ بڑوں والے ہوتے ہیں لیکن وہ بچے جو ابھی ’’ننھے‘‘ ہیں ان کی حیرت انگیز اور قہقہہ بار باتیں آج بھی دل و دماغ معطر کر دیتی ہیں۔بڑوں کے اندر کا کارٹون سب سے پہلے بچے ہی دریافت کرتے ہیں‘ سنجیدہ سے سنجیدہ انسان بھی کسی بچے کو اپنی ڈیسنٹ پرسنیلٹی سے متاثر نہیں کر سکتا‘ بچے کا دل جیتنے کے لیے اوٹ پٹانگ منہ بنانا ضروری ہے‘ آپ نے کئی ایسے باپ دیکھے ہوں گے جو اپنی جوان اولادوں کے سامنے مسکرانے سے بھی گریز کرتے ہیں‘ اِن کے چہروں پر ہر وقت ایک کرختگی چھائی رہتی ہے ‘ اِن کی اولادیں بھی باپ کے سامنے سہمی سہمی رہتی ہیں‘ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اتنی سخت گیر شخصیت کے مالک نے کبھی اوٹ پٹانگ منہ بھی بنایا ہوگا۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں۔۔۔یہ بھی اپنی اولاد کے بچپن میں اُن کے ساتھ کارٹون بن کرکھیلتے ہیں تاہم اولاد جوان ہونا شروع ہوتی ہے تو یہ فوراً خود پر بردباری کا نقاب چڑھا لیتے ہیں اور اولاد کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ان کا باپ بھی کبھی مسکرایا تھا۔۔۔

یہ لوگ اپنی اس کیفیت کو تاعمر برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن جونہی اِن کا کوئی پوتا‘ پوتی پیدا ہوتا ہے ‘ اِن کو شکست فاش ہوجاتی ہے۔۔۔یہ اپنے اندر کا کارٹون دبانے کی بڑی کوشش کرتے ہیں لیکن اولاد کی اولاد ایک ہی دن میں اِن کے اندر خودکش حملہ کرکے ساری مصنوعی دیواریں پاش پاش کر دیتی ہے۔مجھے یقین ہے آپ کے بچے بھی پُرلطف جملوں سے مالا مال ہوں گے‘ اِن کی باتیں بھی شیئر کیجئے ناں۔۔۔!!!
😇😍😄😍

بچوں کے اقوالِ زریں ۔۔۔۔ گل نوخیز اختر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک دوست کے...