ہفتہ, اپریل 30, 2016

موبائل نامہ

موبائل نامہ ۔۔۔ 

دیہاڑی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
کسی جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

ہمارا موبائل کیا چھنا ،ہمارے لیے تو جینا دو بھر ہو گیا ۔سارا دن ایسے گزرا جیسے عاشق نامراد کا محبوب کی گلی کے چکر کاٹتے گزرتا ہے کہ شاید اس بار دیدہ بے قرار کو چین آ جائے ۔صبح آنکھ ہمیشہ موبائل الارم سے کھلتی ہے اور ہمیشہ سوتے میں ہی ہاتھ بڑھا کر اسے بھی سونے کا مشورہ دے کر خود بھی سو جاتے ہیں ۔
رات کو جب سونے کے لیے لیٹنے کا ارادہ کیا تو حسب عادت الارم لگانے کے لیے موبائل جیب سے نکالنا چاہا تو ہاتھ بچارہ اپنا سا منہ لے کر باہر آ گیا ۔یاد آیا کہ موبائل تو صبح سے داغ مفارقت دے گیا ہے ۔ موبائل کو ہاتھ میں نہ پا کر دل پر گھونسا سا لگا ، یہی گھونسا ہم نے تکیے پر دے مارا ۔الارم لگانا ضروری تھا تا کہ صبح بولتے وقت اس کا گلہ گھونٹ کر دلی تسکین حاصل کی جائے، اس لیے پرانے زمانوں سے کہیں پڑی ایک گھڑی (رسٹ واچ) یاد آئی ۔ اب لگے اسے ڈھونڈنے، مگر وہ تو ملنی تھی نہ ملی۔ لیکن ایک اور گھڑی نظر آ گئی موقع غنیمت سمجھ کر اسے ہی ہتھیا لیا ۔ مگر جب الارم لگانے لگے تو معلوم ہوا کہ گھڑی ساز اس میں الارم کی آپشن ڈالنا ہی بھول گیا ۔ شاید بیگم نے اسے فوراََ دہی لانے کا کہا ہو گا تو جلدی کے چکر میں الارم ڈالنا بھول گیا ہو گا ۔
خیر گھڑی کا سرہانے رکھ کر یہی سوچا کہ الارم لگا لیا ہے (تا کہ نیند آ جائے)۔نیند تو آ گئ مگر صبح جب آنکھ کھلی تو طبیعت میں عجیب بوجھل پن تھا ۔ حسب عادت موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھنا چاہا تو ہاتھ میں کالی سی کوئی چیز آ گئی ۔ گھبرا کر اسے نیچے پھینکا کہ شاید کوئی سانپ وغیرہ ہے ۔سانپ کا خیال آتے ہی دماغ جو کہ بیدار ہوتے ہوتے پانچ منٹ لے لیتا تھا فوراََ تین سو واٹ کے بلب کی طرح روشن ہو گیا ۔جلدی سے لائٹ کا بٹن دبایا اور لگے سانپ کو تلاش کرنے ۔ مگر سانپ نے کہاں جانا تھا ۔ غور سے دیکھا تو معلوم ہوا یہ تو وہی گھڑی تھی جس پر رات کو الارم لگانے کی لگاتار کوشش کی تھی کہ شاید لگ ہی جائے۔(یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس میں الارم کی آپشن نہیں ۔ ) طبیعت کے بوجھل پن پر غور کیا تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ آج الارم نہ بجنے پر اُسے بند بھی نہ کر سکے اس لیے دل بوجھل بوجھل ہے۔
خیر نہا کر نکلے تو ٹائم دیکھنے کے لیے موبائل تلاش کیا مگر کہیں نہ ملا تو یاد آیا کہ وہ تو داغ مفارقت دے چکا ہے ۔ آئینے میں چہرے پر نظر پڑی تو کسی ایسےمسکین کی شکل نظر آئی جس کے محبوب کو وصل کی رات پھلبیریا نکل آیا ہو۔
ناشتہ کرنے کے بعد کام کے لیے نکلنے لگےتو اچانک موبائل بجنے لگا ۔ خوشی سے دل ِبے قابو کو قابو میں کرتے ہوئے جیب سے موبائل نکالنا چاہا تو پتا چلا کہ بھائی کا موبائل تھا ۔ جس پر کال آئی تھی ۔ بڑی غیرت آئی کہ دیکھو بھائی تو موبائل پر بات کرے اور ہم جیبیں ٹتولتے رہ جائیں ۔ کاش !یہ دن دیکھنے سے پہلے ہم ‘مری’ گئے ہوتے، تاکہ جاتی سردیوں کا نظارہ کر سکتے وہاں پر۔
راستے میں جاتے ہوئے کسی نے ٹائم پوچھا تو دل چاہا اس کا ٹینٹوا دبا دیں ۔ ابے کمینوں دیکھتے نہیں موبائل نہیں ہے ہمارے ہاتھ میں ، تو ٹائم کیسے بتائیں ۔موبائل لیس غریب کے ساتھ مستیاں کرتے ہو !

پتا نہیں آج دن کونسا ہے؟ اور تاریخ بھی یاد نہیں آ رہی ! مہینہ تو شاید اپریل کا ہے ۔ سال کا تو کنفرم ہے کہ 2016 ہی ہے۔ کوئی بے بسی سی بے بسی ہے ۔
سمجھ نہیں آ رہی میسج کیسے چیک کروں ؟ ضرور کوئی نہ کوئی میسج آیا ہو گا ۔ دل میں عجیب کھد بد سے مچی ہے ۔ لوگ سوچتے ہوں گے کہ ہم مغرور ہو گئے ہیں جو میسج کا جواب نہیں دے رہے ۔ سوچتے ہیں تو سوچتے رہیں ! ہم مغرور ہی سہی۔ نہیں دیں گے جواب۔ ہماری مرضی۔ ۔۔۔۔ ابے یہ کیسی سوچیں آ رہی ہیں ہمارے دماغ میں ؟ کیا ہم پاگل ہو گئے ہیں ؟

سارا دن اکارت گیا ۔ کوئی کام کرنے کو دل نہیں چاہتا ۔ دل میں کوئی چٹکیاں لیتا ہے ۔ لگتا ہے ہلکا ہلکا بخار ہے ( مگریہ سب تو محبت کی علامات ہیں ) اللہ خیر کرے ۔
پچھلے دنوں خبر پڑھی تھی کہ موبائل سے خطرناک شعائیں خارج ہوتی ہیں اس خود سے زیادہ سے زیادہ دور رکھا کریں ۔ مگر آج معلوم ہوا کہ موبائل اگر دور رہے تو پورے جسم سے معلوم نہیں کیسی کیسی شعائیں نکلتی ہیں، دماغ سائیں سائیں کرنے لگتا ہے ، کانوں میں سیٹیاں سی بجنے لگتی ہیں ، نہ کھانے کو جی چاہتا ہے نہ پینے کو من۔ اب تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ:

کس سے پوچھوں میں تیرا پتا ۔۔ ۔لوگ اُڑاتے ہیں میری ہنسی
تیری راہوں سے ہوں بے خبر ۔ ۔۔ دیکھ آکر میری بے بسی ،
تجھ سے میں دورُ ہوں ۔ ۔ کتنا مجبور ہوں ۔ ۔دل کے زخم دکھاؤں کسے۔
مجھکو آواز دے ۔ ۔
میں اپنے ہی شہر میں اجنبی بن کر ۔۔۔ ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے
مجھکو آواز دے۔ مجھکو آواز دے۔

آج سکون کی نیند آئے گی ۔ کیونکہ نیا موبائل ہاتھ میں ہے ۔
پتہ نہیں خوشی سے نیند آئے گی بھی یا نہیں.

جمعہ, اپریل 29, 2016

حُسن ظن


آپ نے اپنے گرد و نواح میں ایک بات ہمیشہ نوٹ کی ہو گی کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ:فلاں ویسے تو ہمیں کبھی یاد نہیں کرتا مگرجب کوئی ضرورت آن پڑے تو جھٹ سے کال کرتا ہے۔ پیارے بھائی: تجھے پتہ نہیں ہے کہ انسان کو جب بھی کبھی تکلیف یا دکھ اور درد پڑے تو اسے فوراً اس شخص کا خیال آتا ہے جو اس کے درد کا مداوا کر سکتا ہو؟بس تو پھر، اگر تجھے کسی نے اپنی ضرورت میں یاد کیا ہے تو تجھے یہ جاننا چاہئے کہ وہ تجھے اپنی مرض کی شفا، دکھ  درد کا مداوا اور اپنی حاجت کو روا اور پورا کرنے والا سمجھتا ہے۔ اب تجھے چاہیئے کہ تو اس امر کو اپنے حُسن ظن سے دیکھ، اپنے رب کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے یہ عزت بخشی ہے کہ تو لوگوں کی ضرورتوں میں ان کے کام آ سکتا ہے۔ پیارے بھائی، اللہ پاک کا احسان مان کہ اس نے تجھے یہ عزت، فضیلت اور عظمت دی ہے
۔
الحمدلله الذي أكرمني بقضاء حوائج الناس۔

جمعرات, اپریل 28, 2016

تبدیلی

پہلے مجھے لگتا تها کے هر چیز کی ریپلیسمنٹ هو سکتی هے
سوائے
انسان کے
رشتوں کے
جذبوں کے
مگر آج مجھے اس بات کے اعتراف میں کوئی تامل نہیں کہ چیزوں کے ساتھ ساتھ انسانوں، جذبوں اور رشتوں کی بهی ریپلیسمنٹ ہوتی ہے
جیسے بچپن میں ہمارے نزدیک والدین سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا
پهر شادی ہوئی تو شریک حیات سے زیادہ کچھ اہم نہیں
اور جب والدین کے عہدے پہ فائز ہوئے تو لگا اولاد سے زیادہ تو کچھ بھی اہم اور لازمی نہیں ہو سکتا
دوست ہوں تو لگتا ہے کسی دوسرے کی گنجائش نہیں
مگر کب کوئی تیسرا بیچ میں آجاتا ہے پتہ نہیں چلتا اور پهر وہی تیسرا نہ صرف شامل ہو جاتا هے بلکہ اہم بهی ہو جاتا هے
محبت کرتے ہیں کسی سے تو کسی اور کا وجود بیچ میں برداشت نہیں کر سکتے
مگر کب کوئی دوسرا بیچ میں آ کے اتنا اہم ہو جاتا هے کے پہلا کہیں پیچهے رہ جاتا ہے...
شاید اسی کو کائنات کا اصول کہتے ہیں
ہر کسی کی جگہ بدلتی رہتی هے
یہ ازل سے ہوتا آرہا هے
اور ابد تک قائم رہے گا یہ سلسلہ
اگر کسی ایک کے چلے جانے سے زندگی رک جاتی ہے
تو کسی دوسرے کے آنے سے زندگی میں تحریک بهی تو ہوتی ہے
نہ تو کبهی وقت رکا ہے نہ زندگی
چلتے رہنا
آگے بڑہنا
یہی قدرت کا قانون هے.....
" انتخاب "
* " تبدیلی کائنات کا حسن ہے ...
  ..... اور تبدیلی قبول کر کے وقت کے دھارے میں بہنے سے آپ کبھی دقیانوس نہیں ہوتے ....اگرچہ یہ تبدیلی خوشگوار اور مثبت ہو " 

تحریر: فوزان خان

منگل, اپریل 26, 2016

پیر, اپریل 25, 2016

ہفتہ, اپریل 23, 2016

سوال نامہ


پینسل یا کاغذ اٹھانے کی زحمت گوارا نہ کریں بس پڑھ لیں اگر آپ جواب نہیں دے سکتے تو پرواہ نہیں، پڑھنا جاری رکھیں
1- دنیا کے پانچ امیر ترین لوگوں کے نام بتائیں
2- گزشتہ پانچ فیفا ورلڈ کپ جیتنے والے ملکوں کے نام بتائیں
3- حسینہ امریکہ کا مقابلہ جیتنے گزشتہ پانچ خواتین کے نام بتائیں
4- ان دس افراد کے نام بتائیں جنھوں نے طب میں نوبل اعزاز حاصل کیا ہے
5- بہترین اداکار یا اداکارہ کا آسکر ایوارڈ جیتنے والے آخری پانچ اداکاروں کے نام بتائیں

آپ کس حد تک کامیاب رہے؟
بات یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی کل کی شہ سرخیاں یاد نہیں رکھ سکتا یہ دوسرے درجے کے کامیابی حاصل کرنے والے افراد نہیں ہیں، یہ اپنے اپنے شعبوں میں بہترین ہیں، لیکن تالیوں کی گونج ماند پڑ جاتی ہے اعزازات پر زنگ یا میل کی تہہ چڑھ جاتی ہے کارنامے فراموش کر دیے جاتے ہیں خطابات اور اعزازات ان کے مالکوں کے ساتھ دفنا دیے جاتے ہیں
اب ذیل میں ایک اور سوال نامہ دیا جا رہا ہے دیکھتے ہیں کہ آپ اسے کس طرح حل کرتے ہیں
1- ایسے تین اساتذہ کے نام بتائیں جنھوں نے اسکول کے سفر میں آپ کی مدد کی تھی
2- ایسے تین دوستوں کے نام بتائیں جنھوں نے مشکل وقت میں آپ کی مدد کی تھی
3- ایسے پانچ افراد کے نام بتائیں جنھوں نے آپ کو ایسی بات کا درس دیا جو آپ کے لیے واقعی اہم تھا
4- چند ایسے لوگوں کے بارے میں سوچیں جنھوں نے آپ کو یہ احساس دلایا کہ آپ خاص ہیں، اور آپ کی حوصلہ افزائی کی
5- پانچ ایسے افراد کے نام بتائیں جن کے ساتھ وقت گزارنے میں آپ کو بے حد لطف آیا

یہ سوال زیادہ آسان تھے نا؟
جو لوگ آپ کی زندگی میں تبدیلی لاتے ہیں وہ لوگ، وہ نہیں ہوتے جن کے پاس سب سے زیادہ اسناد ہوں، سب سے زیادہ دولت ہو، یا سب سے زیادہ اعزاز ہوں
وہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں

جمعہ, اپریل 22, 2016

ازل کی خوشبو



ازل کی خوشبو ہو جس میں پنہاں ، کوئی بتائے تو نام ایسا
وہ نام احمد کہ پھول برسیں ، بیان ایسا ، کلام ایسا


وہی ہے قرآں ، وہی ہے فرقاں ، وہی ہے ، رب جس کا ہے ثنا خواں
فرشتے پڑھ پڑھ کے جھومتے ہیں ، درود ایسا ، سلام ایسا


ہے دین حق میں جمال یزداں ، ہے عرش بھی جس پہ آج نازاں
وہی تو لایا ہے دین ایسا ، وہی تو لایا نظام ایسا


وہ جس کا سایہ تو عرش پر ہے ، وہ جس کا ذروں کے دل میں گھر ہے
وہی جو چمکا تو پھر نہ ڈوبا ، وہی ہے ماہ تمام ایسا


نظر میں یکساں غلام و آقا ، بزرگ و برتر ہے صرف تقوی
کوئی جہاں میں ہے دین ایسا ؟ کہیں ہے کوئی نظام ایسا ؟


وہ جس اندھیری گلی سے گذرا ، بدل دیا نور میں اندھیرا
دلوں کی دنیا بدل کے رکھ دی ، دیا دلوں کو پیام ایسا


عقیل ایسا ، خلیل ایسا ، جلیل ایسا ، جمیل ایسا
نہ رفعتوں میں ، نہ عظمتوں میں ، کسی نے پایا مقام ایسا

قناعت ایسی، سعادت ایسی، ریاضت ایسی، عبادت ایسی

وہ جس پہ کعبے کو وجد آیا، سجود ایسا، قیام ایسا


ازل کی خوشبو ہو جس میں پنہاں ، کوئی بتائے تو نام ایسا
 وہ نام احمد کہ پھول برسیں ، بیان ایسا ، کلام ایسا

بدھ, اپریل 13, 2016

جمعہ, اپریل 08, 2016

ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری (میرے الفاظ)


خدا نے بلایا مجھے اپنے گھر میں
ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری
سنی ہیں اس نے صدائیں
جو میری
ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری


جو لوگوں سے سن سن کے نقشے تھے کھینچے
حقیقت میں دیکھے مناظر وہ میں نے
وہ دیکھے ہیں ،میں نے خود آنکھوں سے اپنی
ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری


میرے سامنے تھی وہ کعبہ کی چوکھٹ
وہ رکن یمانی، وہ میزاب رحمت
کیے میں نے صحنِ حرم میں جو سجدے
ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری


خدا نے اتارا جسے آسماں سے
کیا نصب تھا جس کو رسوُل خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) نے
اسی حجر اسود کا دیکھا تھا جلوہ
ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری


وہ شہرِ حرم،  وہ مدینے کی گلیاں
وہ عرفات کا دن، منیٰ کی وہ راتیں
میسر ہوئے مجھ کو سارے وہ جلوے
ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری


میرے سامنے تھا وہ گنبد خضریٰ
ان آنکھوں سے دیکھا وہ جنت کا گوشہ
معطر منور وہ شہر مدینہ
ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری


دوبارہ بلاوے کی کی ہیں دعائیں
بھروسا ہے مجھ کو وہ مقبول ہونگی
بلایا جو رب نے مجھے اپنے گھر پہ
ہوئی میری مدت کی یہ آس پوری


میرے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ
ماخوز

جمعرات, اپریل 07, 2016

پسندیدہ ترین

ہر وہ چیز جو دوسرے کی ملکیت ہو ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہو سکتی نہ ہی ہماری پسندیدہ ترین چیز ہو سکتی ہے..

ہماری پسندیدہ ترین چیز وہی ہوتی ہے اور ہونی چاہیے جو ہمارے پاس ہے.. کسی دوسرے کی پسندیدہ ترین چھیننے کا ہمیں حق نہیں!!!

عمیرہ احمد از آب حیات

بدھ, اپریل 06, 2016

اتوار, اپریل 03, 2016

مرضی

کبھی سوچئیے!!

وہ خدا ہو کر ہماری مرضی پر کیوں چلے؟
جب ہم بندے ہو کر اس کی مرضی پر نہیں چلتے

ہفتہ, اپریل 02, 2016

ریموٹ کنٹرول


آپکی زندگی کا ریموٹ کنٹرول کس کے پاس ہے ؟
لوگوں کے پاس یا خود آپ کے پاس ؟
ہم اکثر کہتے میں غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اس نے مجبور کردیا--
میرا تو جھگڑنے کا ارادہ نہیں تھا مگر اس بات سے بے قابو ہوگیا--
میرا موڈ میرے باس نے خراب کردیا--
آج میرے دوست نے مجھے خوش کردیا--
آج فلاں سے مل کر اداس ہوگیا--

 یعنی ہماری خوشی اور غم غصہ گالی گلوچ کروانا دوسروں کے ہاتھ میں ہے
 ہم خود کچھ نہیں ہیں؟
زندگی کامیاب جب ہوگی جب اپنا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں گے۔

آج کی بات ۔۔۔ 02 اپریل 2016


✿.。.:.* زندگی میں طوالت کی نہیں گہرائی کی اہمیت ہوتی ہے، حقوق و فرائض ، مصائب و راحت ، محبتوں اور ضرورتوں کے درمیان ایک متواتر توازن زندگی کی اصل خوبصورتی ہے *.:。.✿