بدھ, نومبر 30, 2016

سوال جواب (حکمتِ رومی)




ایک مرید نے مولانا روم سے چند سوالات پوچھے جن کے انہوں نے بہت خوبصورت، مختصر اور جامع جوابات عطا فرمائے جو بالترتیب پیش خدمت ہیں:


1- زہر کسے کہتے ہیں؟

جواب: ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زائد ہو وہ ہمارے لیے زہر ہے۔ خواہ وہ قوت و اقتدار ہو، دولت ہو، بھوک ہو، انانیت ہو، لالچ ہو، سستی و کاہلی ہو، محبت ہو، عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو۔


2- خوف کس شے کا نام ہے؟

جواب: غیر متوقع صورت حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کرلیں تو وہ ایک ایڈونچر، ایک مہم جوئی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔


3- حسد کسے کہتے ہیں؟

جواب: دوسروں میں خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر ہم اس خوبی کو تسلیم کرلیں تو یہ رشک اور انسپائریشن بن کر ہمارے لیے ایک مہمیز کا کام انجام دیتی ہے۔


4- غصہ کس بلا کا نام ہے؟

جواب: کو امور ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر ہم ان کو تسلیم کرلیں تو عفو درگزر اور تحمل اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔


5- نفرت کسے کہتے ہیں؟

جواب: کسی شخص کو جیسا کہ وہ ہے، تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اسے تسلیم کرلیں اسے محبت کہیں گے۔

منگل, نومبر 29, 2016

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

پلیٹ میں تین چیزیں نظر آرہی ہیں،
غور سے دیکھیں اور انکے نام کمنٹ میں لکھ دیں.
 
پہلی نظر میں ذہن میں یہی آئے گا کہ پلیٹ پر انڈے اور آلو چیپس ہیں..لیکن حقیقت میں:
انڈے کی زردی (آڑو) ھے.
انڈے کی سفیدی (دہی) ھے.
آلو کے چپس (سیب کے سلائس) ھے.

لہذا ظاھری شکل اور خبر پر بلاتحقیق کوئی فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اسکی تحقیق ضروری ھے، جس طرح قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں 

{ يٰأَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُوۤاْ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوۤاْ أَن تُصِيبُواْ قَوْمَا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ}.الحجرات:6

مومنو! اگر کوئی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے.

اس پوسٹ کے ساتھ سوال کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کون تحقیق اور سوچ سمجھ کے جواب دیتا ھے اور کون جلدی بازی میں کوئی فیصلہ صادر کرتا ھے.!
لہذا اس پوسٹ کا مقصد کوئی گیم یا ٹائم پاس نھیں بلکہ ایک مثال کیساتھ اہم پوائنٹ کی وضاحت مقصود تھا، کیونکہ بلاتحقیق کسی پر رائے قائم کرنے والی بیماری آج کل بھت عام ھوچکی ھے..

بشکریہ: اردو دعوۃ

کچن باغیچہ

ہمارا کچن باغیچہ

بہت عرصے سے کئی جگہ سننے اور دیکھنے کے بعد ہمیں بھی شوق ہوا 'کچن گارڈننگ" کا تو ہم نے بھی سوچا تجربہ کرکے دیکھتے ہیں۔ تقریباً چھ آٹھ مہینے کی کوشش کے بعد ہمارا باغیچہ کچھ ایسا ہے۔

گملے میں عجوہ کھجور کا باغ :)

گاجر (مرحلہ وار)

ادرک

لہسن

پیاز اور لیموں

ہری مرچ

ٹماٹر

گھیگوار (ایلو ویرا)

کینو

پیاز (پانی میں اگانے کا تجربہ)

تو کیسا لگا آپ کو ہمارا کچن باغیچہ؟؟



سوموار, نومبر 28, 2016

آج کی بات ۔۔۔۔ 28 نومبر 2016

 آج کی بات

عام لوگ جن میں اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی شامل ہیں آئے دن کچھ ایسے عمل کرتے رہتے ہیں جو گناہ ہیں لیکن اُنہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں
اِن عوامِل کو ایک اہلِ عِلم نے آسان زبان میں لکھا ہے تاکہ عوام کی سمجھ میں آ جائیں اور وہ اِن گناہوں سے بچ سکیں
1 ۔ ریا کاری ۔ عبادت یا نیکی کرتے ہوئے دِکھانا ۔ آج کل کئی لوگوں کا معمول بن گیا ہے کہ وہ حج یا عمرہ کیلئے جاتے ہیں تو احرام پہنے اور حرم شریف کے اندر تصاویر کھینچ کر عزیز و اقارب کو بھیجتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں سوشل میڈیا جیسے فیس بُک پر لگا دیتے ہیں
2 ۔ بد گمانی ۔ کسی کیلئے غلط خیال دل میں لانا
3 ۔ دھوکہ ۔ عیب چھُپا کر مال بیچنا ۔ یا بیچتے ہوئے عیب دار مال کا عیب نہ دکھانا
4 ۔ ٹوہ میں رہنا ۔ دوسرے کی سرگرمی پر نظر رکھنا
5 ۔ غیبت ۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا (خواہ وہ برائی اُس میں موجود ہو)
6 ۔ طعنہ دینا ۔ احسان کر کے جتانا
7 ۔ تکبّر ۔ اپنے آپ کو بڑا یا بہتر سمجھنا (کئی بڑے نمازی اور خیرات کرنے والے اپنے نوکروں یا حاجت مندوں کو سامنے کھڑا رکھتے یا زمین پر بٹھاتے ہیں جبکہ خود صوفہ پر بیٹھے ہوتے ہیں)
8 ۔ چُغلی ۔ ایک کی بات کسی دوسرے سے بیان کرنا
9 ۔ سازش ۔ دوسرے کے خلاف کوئی منصوبہ بنانا یا کسی کو منصوبہ بنانے کی ترغیب دینا
10 ۔ اسراف ۔ ضرورت سے زیادہ خرچ یا استعمال کرنا ۔ جیسے گلاس بھر کر پانی لینا لیکن سارا نہ پینا اور چھوڑ دینا
11 ۔ حسد ۔ کسی کی خوشی یا ترقی سے بُرا محسوس کرنا
12 ۔ کانا پھُوسی ۔ محفل میں کھُلی بات کرنے کی بجائے کسی ایک کے کان میں کہنا

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ- 19

تدبر قرآن (سورہ بقرہ) حصہ 19

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 اس مثال آپ کو ایسے سمجھائی جا سکتی ہے کہ یہ دو مختلف تصویریں ہیں. ایک تصویر مختصر ہو گی اور دوسری تفصیل سے. میں پہلے ایک تصویر کے بارے میں مختصراً آپ کو بتاؤں گا آپ کو بس تصور کرنا ہے کہ الله پاک نے کیسے اس کا نقشہ کھینچا ہے پھر ہم اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے. تو الله پاک فرماتے ہیں

مَثَلُهُمْ كَمَثَل

الله پاک فرماتے ہیں کہ آیت نمبر ۱۶ میں جن کا ذکر ہے

 أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾

 جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور ان کی تجارت کا انہیں کوئی فائدہ بھی نہ ہوا اور اصل میں انہیں ہدایت حاصل کرنے میں دلچسپی تھی بھی نہیں.
 ان کے پاس جو بھی ہدایت بچی تھی اس سے انہیں کوئی لگاؤ تھا ہی نہیں اس لیے تو سستے داموں بیچ ڈالی. اللہ پاک یہاں ان ہی لوگوں کی مثال بیان کرتے ہیں.
عربی زبان کی وسعت کی وجہ سے جہاں یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ مَثَلُھُم الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا "ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آگ جلانے کی کوشش کرے". مگر قرآن پاک میں ایسے نہیں کہا گیا. قرآن پاک میں اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا

مثل کا لفظ دو بار استعمال کیا گیا اور اس میں ایک اور لفظ جوڑ دیا گیا کَ.
تکنیکی باریکی میں جائے بغیر اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کو درپیش مسئلے کا ایک بہت چھوٹا حصہ اس تصویر میں دکھایا جا رہا ہے. اگر یہ تصویر منافقین کے کردار یا ان کافروں کے کردار کو مکمک طور پر پیش کرتی تو پھر لفظ مَثََلُھُم کے بعد سیدھا ان الفاظ کا استعمال ہوتا الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا. مگر چونکہ یہاں دونوں کلموں کے درمیان  فاصلہ ہے تو آپ کو اس پہیلی کے ایک چھوٹے سے حصے کی ہی سمجھ آئے گی. اب یہاں پہیلی کے ایک ہی حصے کا تذکرہ الله پاک نے کیوں فرمایا؟ کیونکہ پہیلی کے باقی حصے الله پاک آپ کو قرآن پاک کے مختلف حصوں میں پیش کریں گے. بس آپ کو تصویر کو مکمل کرنے کے لیے پزل کے باقی حصوں کی تلاش جاری رکھنی ہے. یہاں ان الفاظ میں صرف ایک جھلک ہی ہمیں دکھائی گئی ہے کہ
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا.

کہتے ہیں کہ عرب لفظ " مَثَلِ " کا استعمال کسی عام مثال کے لیے نہیں کرتے تھے. وہ لفظ  " مَثَلِ " کا استعمال تب کرتے تھے جب کسی عجیب و غریب چیز کی مثال دینا مقصود ہو. تو جب لفظ  "مَثَلِ" کا استعمال ہو تو آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ آگے کوئی عجیب حقیقت آشکار ہونے جا رہی ہے. کسی عام چیز کی بات نہیں ہو رہی، اگر کسی عام  چیز کا  ذکر ہوتا تو اس کے لیے حرف  " كَ " تشبیہہ دینے کے لیے استعمال ہوتا، لیکن اگر کوئی مختلف سی، عجیب چیز ہو تو  تشبیہہ دینے کے لیے لفظ  " مَثَلِ " کا استعمال کیا جاتا. عرب کسی عام سادہ چیز کے لیے لفظ  " مَثَلِ " کا استعمال نہیں کرتے تھے. اب قرآن کی اس آیت کے پیشِ نظر آپ سب  تصور کریں اور اپنے ذہن میں منظر کشی کریں ،

 الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا

تو ان کی مثال اس ایک شخص کی سی جس نے آگ جلانے کی کوشش کی. عرب میں یہ تصور اور منظر کشی نہایت عام تھی کہ ایک انسان رات کی تاریکی میں صحرا کے وسط میں بھٹک رہا ہے ، وہ صحیح راستے کی تلاش میں ہے لیکن گھپ اندھیرا ہے اور اسے سیدھا راستہ مل ہی نہیں رہا تو وہ ایک جگہ رکتا ہے تاکہ آگ جلا سکے اور کم ازکم اس تاریکی سے تو نجات پا لے ، اب اس تاریک صحرا کے وسط میں ایک شخص آگ جلانے کی کوشش کرتا ہے ، اور ابھی اس نے آگ روشن نہیں کی ، اگر کہا جاتا " اَوْقَدَ نَارًا "  تو اس کے معنی ہیں اس نے آگ جلائی ، لیکن اسْتَوْقَدَ نَارًا کے معنی ہیں اس نے آگ جلانے کی کوشش کی ، تو وہ شخص بھرپور کوشش کر رہا ہے آگ جلانے کی . صحرا میں رات کا اندھیرا چھایا ہے، شدید سردی ہے. اور جانوروں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں. یعنی وہ شخص خطرے میں ہے اور اس تاریکی میں صحرا میں رات بسر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے تو اپنی حفاظت کے لیے  آگ جلانا ناگزیر ہے ، ہو سکتا ہے آگ کی روشنی سے جانور گھبرا کر دور بھاگ جائیں، اور ویسے بھی آگ کی حدت کے بغیر سردی سے ہی مر جانے  کا خطرہ ہے، تو وہ شخص آگ جلانے کی کوشش کرتا ہے اور آگے ہی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ

 " فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ "

اور جب آگ نے اس کے گردوپیش کو روشن کر دیا

یعنی آگ جل اٹھی اور چاروں طرف روشنی پھیل گئی. جب صرف آگ روشن ہو تو کہا جاتا ہے نارا، لیکن جب آگ بھڑک کر الاؤ کی شکل اختیار کر لے تو اسے ضَؤ کہا جاتا ہے، یعنی ایسا عظیم الاؤ جس کے شعلے آسمانوں سے باتیں کریں تو اس بندے کی لگائی گئی چنگاری سے عظیم الاؤ بھڑک اٹھا اور اس کے گردوپیش کو روشن کر دیا، ' "مَا حَوْلَهُ ".
   ضَاءَ عربی میں ضَؤ سے نکلا ہے جا کے معنی روشنی کے ہیں، اردو بولنے والوں میں ضیاء نام بہت عام ہے، جس کے معنی روشنی کے ہیں .  لیکن ضَؤ اور نور میں بہت فرق ہے، ضَؤ ایسی روشنی ہے جس میں حدت یا گرمی  ہوتی ہے، اور نور وہ ہے جس میں گرمی نہیں ہوتی اور نور منعکس شدہ روشنی کو کہا جا سکتا ہے. دوسرے لفظوں میں صبح صادق کے وقت جو آپ روشنی آسمان پر دیکھتے ہیں وہ ضَؤ نہیں بلکہ نور ہوتا ہے ، کہ اس وقت آپ سورج کی روشنی براہ راست نہیں دیکھتے ، آپ سورج کی روشنی آسمان پر منعکس ہوتے دیکھتے ہیں، تو اسے نور کہا جاتا ہے لیکن جب سورج طلوع ہو جائے اور اس کی روشنی حدت پکڑ لے تو اسے ضَؤ کہتے ہیں اور اس روشنی میں حدت بھی ہوتی ہے. تو یہ ہے سورج کی روشنی.

 هُوَ الَّذِى جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً
وہی ہے جس نے سورج کو ضیاء( روشنی) اور چاند کو نور کا ذریعہ بنایا، کیونکہ چاند سورج کی ہی روشنی منعکس کرتا ہے ، اسی لیے چاند کی روشنی کو پرنور کہا جاتا ہے.

-نعمان علی خان

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

جمعہ, نومبر 18, 2016

جہاں دیکھو خدا کے نام کے بعد ان کا نام ائے



نبی آتے رہے آخر میں نبیوں کے امام آئے
وہ دنیا میں خدا کا آخری لے کر پیام آئے

جھکانے آئے بندوں کی جبیں اللہ کے در پر
سکھانے آدمی کو آدمی کا احترام آئے

وہ آئے جب تو عظمت بڑھ گئی دنیا میں انساں کی
وہ آئے جب تو انساں کو فرشتوں کے سلام ائے

پرِ پرواز بخشے اس نے ایسے آدمیت کو
ملائک رہ گئے پیچھے کچھ ایسے بھی مقام آئے

وہ آئے جب تو دنیا اس طرح سے جگمگا اٹھی
کہ خورشید درخشاں جس طرح بالائے بام آئے

خدا شاہد یہ ان کے فیضِ صحبت کا نتیجہ تھا
شہنشاہ گر پڑے قدموں میں جب ان کے غلام آئے

وہ ہیں بے شک بشر لیکن تشہد میں ،اذانوں میں
جہاں دیکھو خدا کے نام کے بعد ان کا نام ائے

بروزِ حشر امیںؔ جب نفسانفسی کا سماں ہوگا 
وہاں وہ کام آئیں گے جہاں کوئی نہ کام آئے

صلی اللہ علیہ وسلم

جمعرات, نومبر 17, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 17 نومبر 2016

~!~ آج کی بات ~!~

سوچ, لہجہ اور الفاظ میں سے اگر کوئی ایک  بھی نا مناسب ہو تو آپ اپنی بات کی اہمیت کھو دیتے ہیں.
لیکن اگر سوچ پاکیزہ ہو, لہجہ نرم ہو اور الفاظ دل میں اترنے والے ہوں تو کوئی آپ کی بات کو رد نہیں کر سکتا.

بدھ, نومبر 16, 2016

نو باتیں


کتنی زبردست ہیں یہ نو باتیں ، کوشش کریں کہ ہم اسے اپنے عمل میں لائیں!!!

1- *فتبينوا:*
کوئ بھی بات سن کر آگے کرنے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے
۔
2 - *فأصلحوا:*
دو بھایوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

3- *وأقسطوا:*
ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

4 - *لا يسخر:*
کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے قریب تم سے بہتر ہو۔

5 - *ولا تلمزوا:*
کسی کو بے عزّت مت کرو۔

6- *ولا تنابزوا:*
لوگوں کو برے القابات (الٹے ناموں) سے مت پکارو.

7- *اجتنبوا كثيرا من الظن:*
زیادہ گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرہ میں آتے ہیں۔

8 - *ولا تجسَّسُوا:*
ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔

9- *ولا يغتب بعضكم بعضا:*
تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔

(سورہ الحجرات)

الله کریم اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی تو فیق دے۔
آمین یاربُّ العالمین۔

منگل, نومبر 15, 2016

سب سرمئی ہیں


چند سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق انسان پہلے چھ ماہ تک بلیک اینڈ وائٹ دیکھتا ہے۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو ہم ایک عمر تک بلیک اینڈ وائیٹ ہی دیکھتے رہتے ہیں، بچپن میں اور پھر ٹین ایج میں ہر انسان بلیک یا وائٹ لگتا ہے ہمیں۔ bad guys اورgood guys ۔۔۔ نیک لوگ اور گناہ گار لوگ ۔۔ ہم اگر کسی اداکار، اسکالر یا سیاستدان سے محبت کرنے لگیں تو اس کو ایسا سفید مجسمہ بنا دیتے ہیں کہ اس میں خامی نظر نہیں آتی اور جب خامی دیکھ لیں تو اسے دیکھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن 'مسعود صاحب' جب ہم میں سے اکثر لوگ میری عمر کو پہنچتے ہیں تو جان پاتے ہیں کہ یہاں نہ کوئی سفید ہے نہ سیاہ، سب سرمئی (grey) ہیں، کوئی گہرا سرمئی، کوئی ہلکا سرمئی، کوئی مٹیالہ، کوئی کم گدلا، مگر بے داغ کوئی نہیں۔

نمرہ احمد کے ناول 'نمل' سے اقتباس۔

ہفتہ, نومبر 12, 2016

ہم ارب پتی ہیں


"ہم ارب پتی ہیں"
منقول

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا

’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔

میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘

صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-

ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔

ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘

مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘

مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘

مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘

ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں-

 سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘

مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘

 سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں

جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔

ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘

 صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘

ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘

 ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘

دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘

ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘

آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘

دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘

 آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘

 دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘

قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘

دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘

آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘

شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں

 اور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘

منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘

ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیں

تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘

 ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔

اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں.....

➰ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے.

جمعہ, نومبر 11, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ 18

تدبر قرآن 
 سورہ بقرہ ۔۔ حصہ 18

پورے قرآن میں جب اللہ انسانوں پر کسی نوازش کا ذکر کرتا ہے تو وہ لفظ *اَمَدَّ* استعمال کرتا ہے. اور باقی ہر چیز کے لیے وہ لفظ *مَدَّ*استعمال کرتا ہے. اللہ پاک نے ہمیں کسی بھی چیز کے دینے کے لیے وسعت والا صیغہ استعمال کیا ہے.
اللہ پاک فرماتے ہیں
*يُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ*
*نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِين*
*يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ*
*أَمْدَدْنَاهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَلَحْم مِمَّا يَشْتَهُونَ*
*كُلًّا نُّمِدُّ هَٰؤُلَاءِ وَهَٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ*

الفاط جیسے نُمِدُ، أَمْدَدْنَا، يُمْدُ یہ سب لفظ *اَمَدَّ* یعنی وسعت سے نکلے ہیں. توسیع جیسے اللہ اپنی رحمت کو وسعت دیتا ہے اور بھی بہت سی جگہوں پر بھی جیسے کہیں سمندر کی وسعت کو بڑھانے کا ذکر کیا گیا، یا سزاؤں کے بڑھائے جانے کا ذکر ہے. اسی طرح یہاں پر کہا جا رہا ہے کہ اللہ انہیں ان کی سرکشی میں بڑھا دے گا. یہاں پر الله پاک نے لفظ أَمَدَّ استعمال نہیں کیا بلکہ اللہ پاک نے لفظ يَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ استعمال کیا ہے جو کہ شدت میں کمتر ہے. یہ صرف تئیس سال کے عرصہ کی سرکشی کی شدت بیان کی جا رہی ہے. ایسا نہیں ہے کہ یہ سب بھاری بھرکم الزام ایک ہی پیراگراف میں اترے اور اسی میں سجا دئیے گئے. سبحان الله اس قدرت پر الله کریم کی. اور آج صدیوں بعد لسانیات کے ماہر دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ ایسا کیسے ہوا؟ یہ اتفاقی تو نہیں ہے.

الله تعالٰی فرماتے ہیں *وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ* اس کے آخر میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے میں آپ کو بتاؤں تو وہ بہت خوبصورت ہے. الله پاک نے لفظ استعمال کیا ہے *يَعْمَهُونَ*.
عربی میں اس کا مطلب العمه: التحیر و تردد. یعمھون کا مطلب ہے 'حیران ہونا' اس کا مطلب 'جھجھکنا' بھی ہے. دوسرے لفظوں میں ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کرنے میں ہمیشہ جھجھکیں گے اور اپنی سرکشی میں غلط رستے پر ہی چلتے جائیں گے اور ہر وہ وحی جس سے انہیں فرق پڑتا ہو گا اسے جان کر حیران ہو جائیں گے اور اپنے جرم کی وجہ سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے نظریں ملانے سے حد ممکن بچیں گے. مثال کے طور پر جو طالبعلم جماعت میں دیر سے آتا ہے ہمیشہ نظریں ملانے سے پرہیز کرتا ہے یہ تردد النظر ہے. اللہ انہیں ڈھیل دے دیتا ہے اور نظریں بچا کر سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ بچ گئے جب کہ
*قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا*
الله تعالٰی جانتا ہے جو آپ سے بہانے بنا کر الگ ہو جاتے ہیں. اللہ پاک انہیں جانتا یے۔ یہاں یہی کہا جا رہا ہے کہ اللہ انہیں ڈھیل دے دیتا یے.
لفظ *عَمَه* اس لیے بھی خوبصورت ہے کہ *عَمَی* کے قریب ترین ہے. اور *عُمىٌ* کا مطلب اندھاپن ہے. ابن کثیر دونوں کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں *العمه في البصيرة كالعمى في البصر*. *عَمَه* کامطلب ہے آگاہی، سوچنے، غور و تفکر کی صلاحیت. یہ لوگ سوچنے کی صلاحیت سے انکاری ہیں. اگر الله پاک نے لفظ *یَعمُون* استعمال کیا ہوتا تو اس کا مطلب ان کی آنکھوں کا اندھا پن ہونا تھا. 

*العمه عمى القلب و العمى فى البصر*. لفظ *یَعمَھُون* کا مطلب ہے کہ وہ دل کے اندھے ہیں. ان کے دلوں میں احساس نہیں بچا. یہ واپس گھوم پھر کر وہیں بات آ رہی ہے جہاں سے ہم نے شروع کی تھی کہ ان کے دلوں پر مہر ہے اور اب ان کے دل اندھے، احساس سے عاری ہیں.

ایک آخری آیت جو میں آج آپ کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہوں پھر ہم واپس جائیں گے اور ان آیات کو یہودیوں کے پس منظر میں رکھ کر دیکھیں گے جنہیں پہلے ہم منافقین کے نظریے سے دیکھ چکے.
*أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ*
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ھدایت بیچ کر یا اس کی قیمت کے بدلے گمراہی خریدی.
*الباءللمتروك مع فی الاشترا.* الباء کا مطلب ہے جو آپ چھوڑ دیتے ہو. کوئی بھی چیز تب ہی خرید سکتے ہیں جب آپ کے پاس پیسے ہوں اگر پیسے نہیں ہیں تو خرید بھی نہیں سکتے.

الله تعالیٰ لفط *بِالھُدی* استعمال کرنے کے یہ بتا رہا ہے کہ ان بچارے لوگوں کے پاس ھدایت تھی اور انہوں نے ھدایت بیچ کر گمراہی لے لی. انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنا نقصان کیا. اس کلام کی یہی وضاحت کی گئی ہے. اللہ تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ جو سب سے کمتر درجے کے مسلمان ہوتے ہیں ان کے پاس بھی ھدایت ہوتی ہے تو اسے مت بیچوـ
بہت سے لوگوں نے اس آیت کا درست مفہوم نہیں سمجھا ان کے مطابق ان لوگوں نے گمراہی کے بدلے ھدایت بیچ دی ہوئی ہے. لفظ *اِشتَرَا*کا مطب بیچنا نہیں خریدنا ہے. *شَرَا* بیچنا ہے. تو یہ ترجمہ کی غلطی ہے.
اکثر مجالس کے بعد لوگ مجھے پوچھتے ہیں کہ آپ کون سا ترجمہ تجویز کرتے ہیں؟ تو یہ ایک مشکل سوال ہے. آپ میں سے جو طالبعلم عربی سے بالکل ناآشنا ہیں اور ابھی ابتدا ہی کر رہے ہیں تو میں ان کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی آف لنڈن کے پروفیسر عبدالحلیم کا ترجمہ والا نسخہ تجویز کر دیتا ہوں. یہ ایک بہت اچھا ترجمہ ہے. کم از کم یہ درست معنی تو پیش کرتا ہے.
اکثر لوگ اپنے متراجم نسخے میرے پاس لا کر کہتے ہیں کہ آپ یہ دوسروں کو تجویز کر دیا کریں اور جب میں ان کی کتابیں پڑھتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ آپ نے یہ ایسے کیوں لکھا یا ایسے کیوں کیا تو وہ مجھ سے نظر بچاتے ہیں اور پھر دکھائی نہیں دیتے. میں بس ایسے نسخے ہی تجویز کر سکتا ہوں جن کے بارے میں مجھے معلوم ہو کہ یہ واقعی کچھ منظم اصولوں کو مدنظر رکھ کر لکھے گئے ہیں.

*أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُم*

*الرباح النماء في التجر* ان کے معاملات اور لین دین کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا. اب ھدایت کے بدلے گمراہی کو خدیدنا اس کا بھلا کیا مطلب ہوا؟ ھدایت جو الله پاک نے نازل کی تھی آسان نہیں تھی خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے بالکل نہیں جنہیں اس کے بدلے قربانیاں دینی پڑنی تھیں اور اگر آپ ھدایت سے جان چھڑاتے ہو اور بہانے تراشتے ہو کہ کسی طرح اس پر عمل نہ کرنا پڑے مگر بظاہر سب کو یہی لگے کہ آپ دل سے مسلمان ہی ہیں تو یہ آپ نے ھدایت کے بدلے گمراہی کا سودا کیا ہے.
آپ اسلام کو جیے بنا اسکو اپنا نہیں سکتے. آپ قرآن پر عمل نہ کرتے ہوئے بھی اس سے اپنی وفاداری کا دعویٰ نہیں کر سکتے. آپ کو اسلام اور قرآن دونوں کو اپنانا پڑتا ہے.
اللہ تعالى فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کا یہ عمل سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے لیے تو یہ بس ایک کاروباری لین دین ہے پر افسوس اس سے انہیں کوئی فائدہ ہوتا نہیں.
*فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾*
ویسے بھی انہیں کبھی ھدایت کے حصول کا شوق تھا بھی نہیں. یہ لوگ اس قسم کے تھے ہی نہیں جو کسی بات پر قائم رہیں.
میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ ردعمل کے تین درجات ہوتے ہیں سب سے انتہائی درجہ ہے انتہائی محبت، وفاداری کا کہ چاہے کچھ بھی ہو ہم اپنا دین نہیں چھوڑنے والے، دوسرا انتہائی درجہ انتہائی درجے کی نفرت کہ کچھ بھی ہو ہم اس دین کو نہیں ماننے والے اور ان دو انتہاؤں کر درمیان والے ایسے ہوتے ہیں جنہیں معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں دین اپنانا بھی چاہیے یا نہیں. لفظ *اھتدی* یعنی *الالتزام بالھدی، التمسک بالھدی*. جب آپ قرآن میں یہ الفاظ پڑھتے ہیں يَهْتَدُونَ، مُهْتَدِينَ، اھْتَدٰی تو آپ ان لوگوں کے بارے میں پڑھ رہے ہوتے ہیں جنہوں نے ھدایت کو مضبوطی سے تھامے رکھا. افتعال کا وزن مبالغہ کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ انہوں نے بے حد مضبوطی سے ھدایت کو تھامے رکھا.
جب کہ اس آیت میں بیان کیے گئے لوگوں کہ بارے میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ انہوں نے کبھی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑا ہی نہیں تھا. مجھے اس آیت کا ایسا ترجمہ کیا جانا پسند نہیں کہ
*وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ*
اور انہیں ہدایت نہ دی گئی تھی.
پہلی بات تو یہ کہ اس ترجمہ میں یہ عمل غیر فعال لگتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ فعال عمل ہے اس لیے یہ ترجمہ درست نہیں. اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی مرضی سے هدایت کو پکڑے رکھنا نہیں چاہتے تھے. الله پاک یہاں یہی تو تنقید کر رہے ہیں ان لوگوں پر کہ ان لوگوں نے ہدایت کو چھوڑا تب ہی تو ایسا انجام ہوا.
اب ہم واپس پیچھے چلتے ہیں اور میں آپ کو اللہ پاک کی ذومعنی گفتگو کی خوبی دکھاتا ہوں. آپ کو یاد ہے نا میں نے بتایا تھا کہ یہ آیات منافقین پر بھی لاگو ہوتی ہیں اور یہودیوں کے گروہ پر بھی. اب ایک ہی انجام کو دو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں میں اس کا خلاصہ جلدی سے کر دیتا ہوں. 

ان آیات میں ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ آپ لوگ دوسروں کی طرح ایمان کیوں نہیں لاتے؟ لوگ تو الله، آخرت اور تو اور آخری رسول صلی الله علیہ وسلم پر بھی ایمان لا چکے تم لوگ باقی تو مان لیتے ہو پر آخری نبی کو ماننے سے کیوں انکار کر دیتے ہو؟ تم یہی کہتے ہو نا *آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِر وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ*. پر تمہارے ایمان میں نبی کو ماننے والا حصہ کیوں غائب ہے؟ اوروں کی طرح تم کیونکر ایمان نہیں لاتے ہو؟
تو وہ لوگ جواباً کہتے ہیں
*أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ*
آپ چاہتے ہیں کہ ہم ان بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں؟
اب ان کی مراد لفظ *بےوقوف* سے کیا ہے؟ ہم یہ تو پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ منافقین کے نزدیک بےوقوفی کیا تھی پر اسرائیلیوں کے نزدیک *بےوقوف* کا الگ ہی مطلب ہے. وہ لوگ خود کو تعلیم یافتہ سمجھتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ عرب لوگ خاص طور پر مکہ کے عرب ان پڑھ لوگ تھے. یہودیوں نے لفظ *ْأُمِّيِّينَ* دراصل مکہ کے عربوں کی تحقیر کے لیے استعمال کیا تھا. ان کے برعکس قرآن نے اس لفظ کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں میں سے ایک خوبی بیان کیا ہے. یہودی کہتے تھے کہ ہم تورات کی شریعت پر عبور رکھنے والے، وسیع معجزات کے حامل اور اتنے سالوں کی تعلیم رکھنے والوں کو آپ کہہ رہے ہیں کہ ان عربوں جیسے ان پڑھوں پر ایمان لے آئیں؟ آپ کیسے ہمیں اتنے نچلے درجہ پر آ جانے کا کہہ سکتے ہیں؟ واقعی؟ *أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ* .
الله پاک فرماتے ہیں کہ ان کی ساری تعلیم ایک جگہ پر
*أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ*
دراصل یہ خود ہی بے وقوف ہیں اور الله پاک مزید ان کی گوناگوں حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
*وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ﴿١٣﴾*
اس پر طرہ یہ کہ انہیں یہ معلوم بھی نہیں حالانکہ ان کا تکبر ہی علم کے سبب تھا.

عربوں پر انہیں جو فوقیت حاصل تھی وہ علم ہی کی بنا پر تھی مگر اللہ پاک ان کی حقیقت کھولتے ہوئے فرماتے ہیں *وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُون* اور انہیں یہ معلوم بھی نہیں کہ اصل ایمان ہوتا کیا ہے، یہ تو ان کی سمجھ سے بھی باہر ہے، انہیں تو وحیوں کے نزول کا مقصد ہی نہیں معلوم. ہمیں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہودی علماء اور احبار نے اپنی مقدس کتابوں کے ساتھ کیا غلطیاں کیں تاکہ ہم وہ غلطیاں نہ دہرا سکیں.
قصہ مختصر وہ لوگ تفصیلات میں چلے گئے اور فروعات میں کھو کر رہ گئے کہ فلاں حکم کے ذیل میں کیا ہے پھر اس کے ذیل میں پھر اس کے ذیل میں یہاں تک کہ وہ مذہب کی روح کو ہی بھول گئے. وہ الله تعالی کی نافرمانی کی پرواہ کیے بنا موضوعات پر کبھی نہ ختم ہونے والے مباحثے کرتے رہتے.
آپ جان لیں کہ جب آپ کی ترجیحات اور مذہب الجھ جاتے ہیں تو آپ اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس میں وہ یہودی مبتلا تھے. جیسے اگر آپ کسی مسلہ پر بات کر رہے ہوں کہ وضو ایسے نہیں ایسے بہتر کیا جاتا ہے یا یہ کہ چمڑے کے موزے جائز ہیں یا کاٹن کے یا پھر کہ آپ کو رفع الیدین کرنا چاہیے یا نہیں اور جب آپ ان سب پر بحث کر رہے ہوں اور مسجد کے باہر ایک یتیم رو رہا ہو مگر اس بارے میں کوئی بات نہ کرے تو یہ مذہب تو اسلام کا مذہب ہی نہیں ہے. ایسے میں آپ اور کچھ نہیں پر شاید یہودیوں کے ربانیوں جیسے ضرور بن رہے ہیں. ہمارے سامنے حقیقتا کئی ایسے جرائم جیسے نسل پرستی، کرپشن، جھوٹ، دھوکادہی، چوری جنہیں دین نے شروع سے ختم کرنا چاہا رونما ہو رہے ہوتے ہیں اور ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا ہوتا.
ایسے جرائم کی بدترین مثالیں اکثر مسلم امه میں ہی دیکھنے کو ملتی ہیں. جنہیں سب سے بہتر ہونا چاہیے تھا جہاں یہ سوچ کر ہم جاتے ہیں کہ یہ اسلام کا گھر ہے اور وہاں جا کر وہاں کا حال دیکھ کر رونا آتا ہے جب علماء جیسے مذہبی لوگ ہی چائے پیش کرتے اپنے نوکروں سے ایسے بات کرتے ہیں جیسے وہ جانور ہوں. کوئی پوچھے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس لہجے میں کسی سے بھی بات کی؟ تو آپ کیسے اس طرح بات کر رہے ہیں؟ یہ حق آپ کو کس نے دیا؟ آپ کو کیسے پتا کہ قیامت کہ دن آپ کا نوکر آپ کو نظریں جھکا کر نہیں بلکہ سر جھکا کر آپ کو خود سے کہیں نیچے دیکھ رہا ہو گا؟ آپ کو کیا معلوم کہ اللہ کے سامنے اس کا مقام کیا ہے؟ اور مسلہ ہی یہ ہے کہ ایسا رویہ ان کا ہوتا ہے جو مذہب کو اچھی طرح جانتے ہوتے ہیں بجائے ان کے جو ناآشنا ہیں. آخر کیسے ہمت پڑ جاتی ہے لوگوں کی ایسے کام کرنے کی.
خیر تو وہ لوگ نفسیاتی طور پر ایسے بن چکے تھے کہ اپنے نامناسب عقیدوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اختلافی ردعمل اختیار کیے رکھیں اور علوم سیکھتے رہیں، اعجازات حاصل کرتے رہیں، ماہر علمیات بن جائیں مگر جب اسلام پر عمل کی بات آتی تھی تو وہ ان کی ذات میں ڈھوندنے سے بھی نہیں ملتا تھا. اصل بے وقوفی تو یہی ہے. اگر آپ کو یہ بےوقوفی نہ لگے تو جانے بےوقوفی اور کیا ہوتی ہے.
*وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا*
جب وہی یہودی آپ صلی اللە علیہ وسلم کے پاس آتے تھے، ایمان والوں کے پاس آتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم بھی تمہاری ہی طرح ایمان رکھتے ہیں. اور جب واپس اپنے شیطان آقاؤں کے پاس اتے تھے تو کہتے تھے "آپ فکر نہ کریں ہم ان جیسے نہیں. آپ کو لگتا تو ہوگا کہ ہم ان مسلمانوں سے کہتے تو ہیں کہ ہمارے مذاہب میں بہت کچھ ایک جیسا ہے پر آپ یقین کریں ایسا بالکل نہیں ہم ان کے ساتھ کے نہیں. ہم تو آپ کے ساتھ ہیں. ہم تو بس ان کے ساتھ تفریح کرتے ہیں."
*اللَّـهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِم*
الله تو ان ہی کا مذاق اڑاتا، تضحیک کرتا ہے.
*وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُون*
اور الله انہیں اس تضحیک کے ساتھ ڈھیل دے دیتا ہے. وہ انہیں یہ یقین کرنے دیتا ہے کہ وہ ایمان والے ہیں. الله انہیں تورات کے ساتھ کھیل کھیلنے کو ڈھیل دیتا جاتا ہے. چاہے قرآن آ چکا ہے جو فرقان ہے مگر اللہ انہیں ڈھیل دے چکا ہے. پھر اللہ پاک فرماتے ہیں
*أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ*
مدینے کے ان لوگوں سے بڑی مثال ایسے لوگوں کی اور کیا ہو گی جنہوں نے ہدایت بیچ کر گمراہی خریدی. انہوں نے حقیقتا اپنی کتاب کو پڑھا پھر قرآن دیکھا پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھا جو آخری آنے والے نبی کی خبر کی تصدیق تھے اور پھر بھی اس باب کو بند کر دینے کا فیصلہ کیا.
*فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ*
اس کادوباری لین دین کا انہیں کچھ فائدہ تو ہوا نہیں.
اور الله پاک ان کا انجام بھی بتا رہا ہے کہ
*وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾*
ویسے بھی وہ گروہ اور ان کے سردار دین کے ساتھ مخلص تھے بھی نہیں. انہوں نے مذہب کو کاروبار ہی بنا رکھا تھا اپنی مرضی کی سیاسی تبدیلیاں کر رکھیں تھیں. وہ دین کے ساتھ مخلص تھے ہی نہیں اس لیے ان سے اور امید بھی کیا کی جا سکتی تھی. *وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ*.

آج یہاں اختتام کرتے ہوئے میں آپ کو کل کے لیے بتاتا ہوں کہ کل یہ موضوع اپنے اختتام کو پہنچے گا. منافقت کا موضوع کافی لمبا چلا ہے. یہ ویسے بھی اب تک کا طویل ترین موضوع رہا ہے. ایمان اور کفر کے موضوع مختصر تھے. کفر کی خفیہ قسم نفاق کا موضوع کل انجام کار کو پہنچے گا اور ان شاء اللە تعالى اس کا انجام اللہ کی بیان کی گئی مفصل مثال کے ساتھ ہو گا. قرآن میں دی گئی مثالیں بظاہر بہت پیچیدہ ہوتی ہیں مگر جب آپ ان پر دل سے غور و فکر کرتے ہیں، سمجھتے ہیں تو قرآن کے بارے میں کچھ نیا بہت خوبصورت سیکھ جاتے ہیں. الله تعالى واقعی ہی لفظوں سے ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ ایسا لگتا یے سب ہمارے سامنے رونما ہو رہا ہےاور جب آپ اس منظر کو سمجھ جاتے ہیں تو الله کے پیغام کو بھی سمجھ جاتے ہیں. سبحان الله. تو ان شاء اللہ ہم کل اسی کو سراہیں گے. قرآن کی ترتیب میں یہ پہلی مثال ہے اور میں آپ کے ساتھ یہ کل بانٹنے کے لیے بہت پرجوش ہوں ان شاء الله تعالی.
اور ہاں کل میرے پاس آپ کو بتانے کے لیے ایک سرپرائز بھی ہے جو میں کل ہی بتاؤں گا ورنہ مزہ خراب ہو جائے گا.ْ

-نعمان علی خان
جاری ہے...........

جمعرات, نومبر 10, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 10 نومبر 2016

~!~ آج کی بات ~!~

اگر کبھی ذندگی میں آپکو محبت یا دولت میں سے ایک کا اختیار دیا تو آپ ہمیشہ محبت کو ہی اہمیت دینا
 اور اگر محبت یا عزت کو چننا ہو تو محبت کو عزت پر فوقیت نہیں
 اگر عزت یا اعتبار کے چناؤ کا مرحلہ ہو تو اعتبار ذیادہ اہم ہونا چاہیے

سورہ الفاتحہ سے تعلق


سورۃ الفاتحہ سے میرا ذاتی تعلق
تحریر: رضوان اسد خان 

 
اے اللہ جو کچھ بھی تو نے مجھے دین اور دنیا میں عطا فرمایا ہے، اس پر میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تیری حمد بیان کرتا ہوں۔ اے اللہ تیرے احسانات مجھ بندہ حقیر پر اس قدر ہیں کہ ان کا شمار ناممکن ہے۔ اور صرف مجھ پر ہی نہیں، تیرا کرم تو تمام جہانوں پر ہے جن کا تو رب ہے۔ تیری عظمت بیان سے باہر ہے اور عقلوں کو عاجز کر دینے والی ہے۔ یہ پوری کائنات جو ہمیں ستاروں سے مزین لاکھوں کہکشاؤں پر مشتمل نظر آتی ہے، یہ تو محض تیرا پہلا آسمان ہے! اور اس کی حیثیت دوسرے آسمان کے مقابلے میں محض ایک لق و دق صحرا میں پڑی انگوٹھی کی سی ہے۔ اور یہی حقیقت دوسرے کی تیسرے اور تیسرے کی چوتھے کی نسبت ہے۔ اور یہ سلسلہ ساتویں آسمان تک ہے جس کا احاطہ تیرے عرش نے ایسے کر رکھا کہ گویا اس کائنات کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو اور اس عرش پہ تیری ذات با برکات ہے جس کا تصور ہی ہمارے لیے محال و حرام ہے۔ اللہ اکبر کبیرا۔

”الحمد للہ رب العالمین“
اے اللہ تو اس دنیا میں مومنین پر بھی مہربان ہے اور ان پر بھی جو تجھے نہیں مانتے یا تیرے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ تو ان سے ناراضگی کے باوجود نہ ان کی ہوا بند کرتا ہے، نہ پانی نہ خوراک۔ تیری رحمت چرند، پرند، درند، درختوں، پھولوں، پودوں پر بھی ہے۔ حتیٰ کہ سیاہ اندھیری رات میں، کالی چٹان کے تاریک سوراخ میں دبکی سیاہ چیونٹی کو تو اپنے عرش سے دیکھتا بھی ہے، اس کی سنتا بھی ہے اور اس کے رزق کا انتظام بھی فرماتا ہے!
اے اللہ آخرت میں جب تیری یہ رحمت محض تیرے مومن بندوں کے لیے مخصوص ہو جائے گی تو میرا شمار انہی مخلص ایمانداروں میں فرمانا اور قبر و حشر کی سختیوں سے اپنی رحمت کے ساتھ بچا لینا۔ اے اللہ میرے اعمال تو جنت میں لے جانے والے نہیں۔ بس تو اپنی رحمت سے ڈھانپ کر مجھے جنت الفردوس میں داخل فرما دینا۔
اے اللہ اس کائنات کا بلا شرکت غیرے تو اکیلا مالک ہے۔ اور جب یہ فنا ہو جائے گی تو قیامت والے دن بھی تیرے سوا کسی کی ملکیت اور کسی کی مملکت نہ رہے گی۔ آج جو تیری ملوکیت کے منکر ہیں وہ بھی اس دن ہیبت سے فنا ہو چکے ہوں گے جب تو پوچھے گا:
”لمن الملک الیوم“
تو اے روز جزا کے مالک، اس پچاس ہزار سال کے برابر طویل ترین اور سخت ترین دن میں مجھے ان خوش نصیبوں میں شامل فرمانا جن کے لیے اس کی طوالت ایک پہر سے زیادہ نہ ہوگی۔ جو اس دن تیرے عرش کے سائے میں ہوں گے جب شدید گرمی میں کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ جو تیرے حبیبﷺ کے دست مبارک سے جام کوثر نوش کریں گے جبکہ منافق اور بدعتی پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے۔ جن کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے جبکہ کفار کے چہرے ہیبت و مایوسی سے سیاہ پڑے ہوں گے۔ جن کے رفقاء نبیین، صدیقین، شہداء اور صالحین ہوں گے۔ جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں ہوگا اور جن کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ اور جو نور اور سلامتی کے ساتھ پل صراط پار کر کے تیری جنتوں کے وارث قرار پائیں گے۔
”مالک یوم الدین“
اے اللہ میں صرف اور صرف تیری ہی عبادت کرتا ہوں۔ تیرے سوا عبادت کے لائق ہو بھی کون سکتا ہے۔
-جب پیدا تو نے کیا تو کسی ”پیراں دتا“ کا کیا سوال۔
-جب رزق دینے والا صرف تو ہے تو”داتا“ کوئی اور کیسے۔
-جب خزانوں کا مالک صرف تو ہے تو کسی”گنج بخش“ کی کیا حیثیت۔
-جب مصائب و آلام سے صرف تو نکالتا ہے تو کوئی اور ”مشکل کشا“ کیوں۔
-جب مسائل میں گھرے بندے کے ہاتھ ہی نہیں دل بھی تھامنے والا صرف تو ہے تو کسی دوسرے ”دستگیر“ کی کیا اوقات۔
-جب بھنور میں پھنسی کشتی صرف تو نکال سکتا ہے تو بیڑے پار کروانے کا ٹھیکہ کسی غیر کا کب سے۔
-جب قانون ساز صرف تیری ذات ہے تو میں کسی جمہوری نظام کے قوانین کو کیوں مانوں۔
-جب تیری رہنمائی دین و دنیا دونوں کے لیے ہے تو سیکولرزم میرے جوتے کی نوک پر۔
اور یہ عبادت تو محض ایک علامت ہے میری عاجزی اور عبدیت کی۔ بندگی کا حق تو میں ساری عمر زمین پہ ناک رگڑ کر بھی ادا نہیں کر سکتا۔
اور اے اللہ میں صرف اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتا ہوں۔
جب حاضر و ناظر تیرے سوا کوئی نہیں تو میرا نعرہ بھی ”یا اللہ مدد“ کے سوا کوئی نہیں۔
دنیا میں بھی تیرے سوا کوئی مددگار نہیں کہ تو اکیلا غنی اور باقی سب تیرے محتاج ہیں۔
اور دین میں بھی تیرے سوا کوئی مددگار نہیں کہ ایک تیرا راستہ ہی ہدایت کا راستہ ہے اور باقی سارے راستے گمراہی کے راستے ہیں۔
اور آخرت میں بھی تیرے سوا کوئی مددگار نہیں کہ تیرا ہی اختیار ہے کہ جسے چاہے جنت میں داخل فرمائے اور جسے چاہے جہنم میں پھینک دے۔
تو اے میرے مالک اپنی مدد کو ہر ہر قدم پر میرے شامل حال رکھنا۔
”ایاک نعبد و ایاک نستعین“
اے اللہ میں نے تیری حمد بیان کی، جیسی تو نے سکھائی، تو خوش ہوا۔
(الحمد للہ رب العالمین)
میں نے تیری ثناء بیان کی، جیسی تو نے سکھائی، تو خوش ہوا۔
(الرحمٰن الرحیم)
میں نے تیری عظمت بیان کی، جیسی تو نے سکھائی، تو خوش ہوا۔
(مالک یوم الدین)
میں نے اقرار کیا کہ تیرے سوا نہ کسی کی عبادت کروں گا، نہ کسی سے مدد مانگوں گا،
(ایاک نعبد و ایاک نستعین)
تو اتنا خوش ہوا کہ تو نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے، تجھے دیا جائے گا۔
اے اللہ میں تجھ سے وہی مانگتا ہوں جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور جو تیرے علم میں میرے لیے سب سے بڑی دولت ہے:
اے اللہ مجھے ”ہدایت“ کی دولت عطا فرما دے۔
وہ ہدایت جو تیرے دین متین کے صراط مستقیم پر چلاتی ہے۔
وہ ہدایت جو تیرے محبوبﷺ کی سنتیں سکھاتی ہے۔
وہ ہدایت جو کفر و نفاق کی بھول بھلیوں سے بچاتی ہے۔
وہ ہدایت جو قبر میں ساتھ نبھاتی ہے۔
وہ ہدایت جو حشر میں پار لگاتی ہے۔
وہ ہدایت جو پل صراط کی تاریکی میں نور بن جاتی ہے۔
وہ ہدایت جو جنت میں پہنچاتی ہے۔
وہ ہدایت جو سیدھا تجھ تک لے جاتی ہے اور تیرے چہرے کا دیدار کرواتی ہے!
اور پھر اس ہدایت پر مرتے دم تک قائم رکھنا۔
کسی موڑ پہ قدم لڑکھڑا نہ جائیں۔
کسی گھاٹی پر شیطان پھسلا نہ دے۔
کسی لمحے میں ایمان ڈگمگا نہ جائے۔
زندہ رہوں تو اسلام پر،
موت آئے تو ایمان پر۔
”اھدنا الصراط المستقیم“
اے اللہ تیرے کچھ ایسے پراسرار بندے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو تیری محبت اور انعام کا اہل ثابت کیا۔
انہوں نے تیری ذات کو پہچانا جیسا کہ پہچاننے کا حق تھا۔
انہوں نے تیری حمد و ثناء کی جیسا کہ کرنے کا حق تھا۔
یہ وہ بندے ہیں جو روز محشر خوف سے مبرا، عزت والی اونچی مسندوں پر ہوں گے۔
اے اللہ بس انہی نبیین، صدیقین، شہداء و صالحین کے راستے پر مجھے چلا دے جو آخرت میں مجھے ان نفوس قدسیہ کا ساتھی بنا دے اور اسی منزل پر پہچا دے جو ان جلیل القدر ہستیوں کا ابدی مقام ہے۔
اے اللہ رسول اللہﷺ کی سنتوں پہ چلنے والا بنا دے۔
نوحؑ کی ثابت قدمی،
ابراہیمؑ کی عزیمت،
موسیٰ ؑ کا عزم،
عیسیٰ ؑ کا حلم،
ابوبکرؓ کی قربانی و فقاہت،
عمرؓ کا رعب و جذبہ،
عثمانؓ کی فیاضی و حیا،
اور علیؓ کی فراست و بہادری
میں سے تھوڑا تھوڑا حصہ نصیب فرما دے۔ (آمین)
(صراط الذین انعمت علیھم)
بچا لے میرے مالک، مجھے بچا لے اس راستے سے جو تیرے غضب کو دعوت دیتا ہو۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے یہود کی طرح نہایت ارزاں قیمت پر تیرے دین کو بیچ ڈالا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے اپنے مفاد کے لیے تیرے احکام کو تبدیل کیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے حکمرانوں کی کاسہ لیسی میں ان کی مرضی کے فتوے دیے۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے توحید کو شرک بنایا اور شرک کو توحید۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے وحدت الوجود کو توحید بتایا اور اللہ اور رسول میں فرق کو شرک۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے سود کو حلال کیا اور تجارت پر ٹیکس لگائے۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے زنا کو آسان کیا اور نکاح کو مشکل۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے فحاشی کو ثقافت کہا اور دینی اجتماعات کو شرارت۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے جمہوریت کو شورائیت کہا اور خلافت کو انتہاپسندی۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے سیکولرزم کو آزادی کہا اور بنیاد پرستی کو دہشتگردی۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے جہاد کو فساد کہا اور دراندازی کو حق۔
اور ان لوگوں کے راستے سے بھی جو نصاریٰ کی مانند تیری عبادت میں حد سے گزر گئے اور گمراہ ہو گئے۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے نبی کو اللہ کا بیٹا تو نہ کہا پر اس کا جزو بنا دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے نبی کے طریقے کو کافی نہ جانا اور بدعت کو بھی حسنہ کہا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے نبی کی شفاعت کو اللہ کی پکڑ پر غالب قرار دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے اطاعت اولیاء کو پرستش اولیاء بنا دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے قبروں اور بتوں کے فرق کو مٹا دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے اللہ کے دیدار اور حدیثوں کے انکار کو ولایت کی معراج قرار دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے فنا فی اللہ اور حلول جیسی خرافات کو سلوک کی منزل قرار دیا۔
پس اے اللہ! ان ساری جہنم کو جاتی پگڈنڈیوں سے بچا لے، کہ جن میں سے ہر ایک کے داخلے پر ایک شیطان بیٹھا لبھا رہا ہے۔ اور ان کی آسائشات کو ہمارے لیے وبال
بنا دے۔
اور بس اس ایک شاہراہ مستقیم پر چلا دے جو تیرے انبیاء کا راستہ ہے، جو سیدھا تیری جنت کو جاتا ہے۔ اور اس راہ کی تمام مشکلات ہم پر آسان فرما دے۔آمین۔
(غیر المغضوب علیھم ولا الضالین)
 

بدھ, نومبر 09, 2016

پیغامِ اقبال

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لئے ہے اکسیر
دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو
ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بنا پر تعمیر

ہے لازوال عہدِ خزاں اس کے واسطے
کچھ واسطہ نہیں ہے اسے برگ و بار سے
ملت کے ساتھ رابطہِ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے۔ امید بہار رکھ

 پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لب و بام ابھی

 نہ ہو عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی



منگل, نومبر 08, 2016

جانے کون یہ بھید


جانے کون یہ بھید
ہنستے کھیلتے انساں کے
دل میں کتنے چھید


زندگی چاہے جتنی بھی حسین ہو، کچھ نہ کچھ خلش تو باقی رہ ہی جاتی ہے۔ ہر نعمت کے ہوتے ہوئے بھی کوئی تو ایسی محرومی ہوتی ہی ہے جس کا خیال آتے ہی دل کی دھڑکن جیسے چند لمحے کے لئے رک سی جاتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دنیا میں پرفیکشن تلاشتے ہیں لیکن وہ تو اللہ نے بعد کی زندگی کے لئے رکھ چھوڑی۔ یہاں تو سب کچھ عارضی ہے۔ یاد رکھنے کی بات لیکن یہ ہے کہ اگر یہاں کی خوشیاں عارضی ہیں تو یہاں کے غم بھی مستقل نہیں۔ گلاس پورا بھرا ہوا نہیں تو مکمل خالی بھی نہیں۔ اپنے دکھوں کے ساتھ جینا، اپنی محرومیوں کے باوجود مسکرانا۔۔۔ یہی زندگی ہے۔ یہ شاید اتنا آسان کام نہ سہی، بہت مشکل بھی نہیں ہے۔ آئیں آپکو بتاؤں کیسے


سورۃ البقرۃ کی بہت پیاری سی آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
 یہ ممکن ہے کہ جسے تم شر سمجھتے ہو وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور جسے تم دوست رکھتے ہو وہ شر ہو خدا سب کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو۔

اسکو پڑھنے کے بعد اگر کسی بھی چیز پر دل خفا ہو تو سوچیں کیا پتہ اسی میں میرے لئے بھلائی ہو، بس مجھے سمجھ نہ آ رہی ہو۔

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سی حدیث ہے جس سے دل کو انتہائی سکون ملاتا ہے:
"مؤمن کا معاملہ تعجب خیز ہے! کہ صرف مؤمن کا ہر معاملہ خیر سے بھر پور ہوتا ہے، اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، جو اس کیلئے بہتری کا باعث ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کیلئے خیر کا باعث ہے۔"

یہ بات ایسی دل کے اندر راسخ ہوئی کہ اب کچھ مل جائے یا ملنے سے رہ جائے، دونوں صورتوں میں دل مطمئن ہی ہوتا ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ کبھی "لَو" یعنی کاش/اگر نہ کہیں کیونکہ ایسا کہنا شیطان (کے وسوسوں) کا دروازہ کھولتا ہے، بلکہ یوں کہیں کہ یہی اللہ کی مرضی تھی۔

یہ بات بھی جب دل کے اندر جذب ہو جائے تو خود بخود سکون آ جاتا ہے۔ جو کچھ بھی ہو جائے، انسان کا کامل یقین اسی بات پر ہوتا ہے کہ اللہ نے چاہا، اسلئے ایسا ہوا۔ اسکے بعد کوئی اگر مگر اور کاش دل میں خلش پیدا نہیں کرتے۔۔ کاش میں اس وقت یوں نہ کرتا، اگر وہ فلاں وقت ایسا کر لیتا تو۔۔۔ یہ خیال اپنے ذہن میں بھی نہ لائیں ، اور زبان سے نکالنے کی تو خیر قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔

ایک بار کہیں پڑھا تھا:
Accept what you cannot change; change what you cannot accept.
جو چیز تبدیل کرنا ممکن ہو سکے، اسے تبدیل کیا جائے اور جو ممکن نہ ہو اسے اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرنے کی کوشش کی جائے۔

اوپر دی گئی سبھی ٹپس پر اگر آپ غور کریں تو ایک مماثلت سبھی میں پائیں گے؛ !Acceptance
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ، جو نہیں ملا اسے بھول جا! اپنی بھرپور کوشش کریں، دعا کریں اور ایسے کریں کہ دل کھول کے رب کے سامنے رکھ دیں، رونا آئے تو روئیں، اور اسکے بعد نتائج اللہ پر چھوڑ دیں، اور جو بھی ہو اس پر راضی رہیں۔ یاد رہیں کہ کوئی بھی واقعہ بےمقصد یا بلاوجہ وقوع پذیر نہیں ہوتا۔
"It's either a memory made or a lesson learnt"

اسکے علاوہ یہ ہر وقت اداس شاعری پڑھنا، اداس غزلیں سننا، منفی ذہنیت کے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا انسان کے موڈ پر انتہائی منفی اثرات ڈالتا ہے؛ تو اچھے لوگوں کی صحبت میں رہیں تا کہ کچھ مثبت سیکھ کر اٹھیں. اچھی کتابیں پڑھیں، اچھی باتیں سنیں، اچھی باتیں بولیں۔

ختم کرنے سے پہلے آخری بات؛ آپ دل سے رب کے ہر فیصلے پر راضی ہوں تو بھی کسی وقت دل بوجھل ہو جانا بالکل فطری ہے۔ اداس ہو جانا، رو لینا تو ہمارے ایک نارمل انسان ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ ہم روبوٹ تھوڑی ہیں؟! ہاں یہ ضرور یاد رہے کہ اداس ہو جانے میں خرابی نہیں، اداس رہنا مسئلے کی بات ہے۔ اللہ تعالی آپکے دل کی ہر جائز مراد پوری فرمائے، آپکی ہر الجھن دور کر دے اور اپنے ان شکر گزار بندوں میں شامل کر لے جو اسکے ہر فیصلے پر راضی ہوں۔ آمین

تحریر: نیر تاباں

سوموار, نومبر 07, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ 17

تدبر قرآن حصہ-17


أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
پس وہی ہیں جو بیوقوف ہیں مگر وہ جانتے نہیں

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا
یہ اس مسئلے کا دوسرا حصہ ہے وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا  اور جب وہ ان لوگوں سے ملنے آتے ہیں جو ایمان لائے، ایک چیز یہ تھی کہ کچھ اہل ایمان ان منافقین سے اکیلے میں ملنے گئے. یہ پچھلا سین تھا کہ اہل ایمان ان سے اکیلے میں ملے اور انہیں کہا کہ بس کرو بھائی ، اپنی اصلاح کرو. تو ان منافقین نے جواب دیا کہ "جی نہیں  شکریہ! ہمیں ان بیوقوفوں  جیسا بننے کا کوئی شوق نہیں" . اب اگلا سین یہ ہے کہ اہل ایمان ان منافقین کے پاس نہیں گئے بلکہ منافقین خود مسلمانوں کے پاس آئے ہیں. تو وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس  یا کسی  ایسی محفل میں آئے جہاں اہل ایمان کی کثیر تعداد ہے . اب یہاں منافقین اپنا اصل چہرہ نہیں دکھا سکتے. یہ ضروری ہے کہ آپ  پچھلی آیت اور اس آیت میں فرق سمجھیں. پچھلی آیت میں بتایا گیا کہ کہ منافقین جب اکیلے تھے تو وہ کھل کر کہہ سکتے تھے کہ یہ ایمان لانے والے تو نرے بیوقوف ہیں. لیکن اب جبکہ وہ اہل ایمان کی محفل میں موجود ہیں، انہیں لوگوں میں جنہیں وہ بیوقوف کہا کرتے ہیں تو انہیں اپنا اصل چہرہ چھپانے کی ضرورت ہے. اس لیے  وہ دوغلے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں.

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا 
 منافقین اہل ایمان کی محفل میں کہتے ہیں" ہم بھی ایمان والے ہیں، قسم سے ہم بھی ایمان لاتے ہیں، ہاں ہم تمہارے ساتھ ہیں" .
آپ غور کریں کہ پچھلی ہی آیت میں اللہ تعالٰی نے بتا دیا کہ وہ منافق اصل میں کیا سوچتے ہیں اور آگلی ہی آیت میں اللہ تعالٰی مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ اہل ایمان کے سامنے ان منافقین کا طرزِ عمل نہایت متاثر کن ہے. اللہ عزوجل سورۃ المنافقون میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ منافقین کس قدر متاثر کن، کتنے متاثرکن لگ سکتے ہیں.
تُعۡجِبُکَ اَجۡسَامُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِہِمۡ ؕ کَاَنَّہُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ ؕ
اور جب تم انکے تناسب اعضاء کو دیکھتے ہو تو انکے جسم تمہیں کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب یہ گفتگو کرتے ہیں تو تم انکی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئیں.

*تُعۡجِبُکَ اَجۡسَامُہُمۡ ؕ حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ و السلام کو بتایا جا رہا ہے کہ آپ بھی دیکھیں تو آپ ان منافقین کے ڈیل ڈول سے نہایت متاثر ہوں گے. اس آیت میں اجسام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے. "جسم".
 یہاں یُعۡجِبُکَ یعنی وہ تمہیں امپریس کریں گے نہیں کہا گیا بلکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا تُعۡجِبُکَ اَجۡسَامُہُمۡ ان کے اجسام آپ کو متاثر کن لگیں گے. اور اللہ تعالٰی نے صرف جسم کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ کیونکہ ان کے دل مردہ ہیں. اور جب دل مردہ ہو جائے تو کیا رہ جاتا ہے؟ صرف ایک جسم. تو ان کے اجسام آپ کو متاثر کن لگتے ہیں. بعض لوگوں نے اس کی تفسیر یوں کی ہے کہ وہ منافقین بڑے ڈیل ڈول والے ہوں گے. کیونکہ انہوں نے اسلام کی راہ میں کوئی قربانی تو دی نہیں تو وہ بہت کھاتے پیتے ہوں گے. اور ان کے جسم نہایت توانا ہوں گے.
ایک طرف تو اہل ایمان ہیں جو دین کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھے اور دوسری طرف منافقین جب بھی ان سے جنگ کے لیے کچھ حصہ ڈالنے کو کہا جائے تو ان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ تھا.
    وَ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِہِمۡ ؕ    اور وہ منافقین نہایت خوبصورت اور فصیح گفتگو کرتے ہیں. وہ نہایت خوبصورت باتیں کرتے ہیں. جب وہ بولتے ہیں تو آپ ان کی باتوں کے سحر میں کھو جاتے ہیں.
 کَاَنَّہُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ ؕ 
 گویا لکڑیاں ہیں  دیواروں سے لگائی گئیں*.
اللہ تعالٰی ان کی مثال سہارا دی ہوئی لکڑی کی مانند دیتے ہیں. یہ کس قسم کا سہارا ہے؟ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ قرآن کی عربی نہایت خوبصورت ہے. "مُّسَنَّدَۃٌ " کہتے ہیں ان چیزوں کو جو ایک قطار میں کھڑی کی گئی ہوں. آپ نے آج کل وہ باڑ دیکھیں ہیں گھروں کے دالان میں جو بانس کی پتلی پتلی ڈنڈیوں کی بنی ہوتی ہیں. وہ بانس کی لکڑیاں قطار میں لگی ہوتی ہیں اور ان کے پیچھے ایک رسی سی ہوتی ہے جو ان کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے. اب ایک ایسی باڑ کا تصور کریں جس میں پیچھے سے مضبوط کرنے کے لیے کوئی رسی بھی نہیں بندھی. دور سے لگے گا کہ یہ ایک  مضبوط باڑ ہے . مگر ذرا سی ہوا چلے گی تو کیا ہو گا؟
ایک لکڑی گری تو سب کو گراتی چلی جائے گی. یہ ہے خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ.  دوسری بات یہ کہ*" خُشُب"* صرف کھوکھلی لکڑی کو ہی نہیں کہا جاتا. " خُشُب" کا  استعمال دراصل النار کے لیے ہوتا ہے. ایسی لکڑی جو جلانے کے علاوہ کسی اور  کام نہیں آتی. اور یہ تصور دراصل منافقین کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنائے جانے کے متعلق ہے .  اور ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں.اللہ تعالٰی ہمیں اس جہنم کی آگ میں جلنے سے بچائے .   اللھم اجرنی من النار. آمین یا رب العالمین.

 وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا
جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں آمَنَّا ہم بھی ایمان لانے والوں میں سے ہیں.

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ (14
اور جب وہ ملاقات کرتے ہیں ایمان والوں سے، وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، اور جب وہ تنہا ہوتے ہیں اپنے شیاطین کی طرف تو کہتے ہیں کہ ہم تو آپکے ساتھ ہیں، بے شک ہم ان کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔
ہم آیت نمبر 14 کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں:
   واذا خلو الي شياطينهم
لفظ خلو، خلوہ، ( خلوت،  اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ) خالین، اس کا مطلب "خالی ہے"
  خلوت کا مطلب "کسی دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ملنا
۱-اگر آپ اپنے برابر والے سے ملنے جارہے ہیں تو "خلوت بہ" استعمال ہو گا.
۲- اگر آپ اپنے سے اونچے درجے والے سے ملنے جارہے ہیں،  تو پھر "خلوت اليه " استعمال ہوتا ہے،  مثلا اگر میں اپنے استاد سے ملنے جا رہا ہوں تو "خلوت الیہ" ہے.

اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ وہ لوگ  اپنے سے اونچے درجے کے شیطانوں کے پاس مشورے کیلئے جاتے ہیں. کیونکہ وہ ان کو اپنا حقیقی سردار مانتے ہیں. اس لئے قرآن مین لفظ "الٰی" استعمال ہوا ہے. وہ اپنے شیطانوں کی طرف دیکھتے ہیں. یہاں شیطان سے مراد وہ آگ سے بنے ہوئے شیطان ہرگز نہیں ہیں، بلکہ منافقین کی کمپنی کے بدترین لوگ مراد ہیں. 

چند دن پہلے میں نے تذکرہ کیا تھا کہ اگر آپ شیطان کو اپنے سینے میں داخلے کی اجازت دے دیتے ہیں. پھر اس کا ایک لمبے عرصے تک وہاں قیام رہتا ہے، تو ایک مدت کے بعد وہ میزبان انسان ہی شیطان میں تبدیل ہو جاتا ہے اور شیطان کی غیرموجودگی میں بھی وہ سارے کام اسی طرح سے انجام پاتے ہیں جیسے سب آٹو پائلٹ ہو.
شیطان کے طویل قیام کی وجہ سے منافقین کے سردار شیاطین میں تبدیل ہو چکے ہیں. یہاں انہی تبدیل شدہ شیاطین کا ذکر ہے.
"قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ"
 وہ کہتے ہیں کہ ہم کلی طور پر آپ کے ساتھ ہیں، ہم مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہیں.  آپ نے آج مجھے مسلمانوں کے اجتماع میں دیکھا، آپ کو فکر لاحق ہوئی ہوگی کہ شاید میں نے آپ سے تعلق توڑ لیا ہے؟ نہیں نہیں. ایسا نہیں ہے. ہم آپکے ساتھ ہیں.
 إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ

"ہم تو ان کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں"
استہزاء دوسرے کے ساتھ طنزیہ رویہ اپنانے کو کہتے ہیں،  کسی کا مذاق اڑانا، کسی کو ٹہوکے لگانا،
عربی میں 'ہزالابل' کسی جانور کو جانتے بوجھتے ( غصے کے اظہار کے طور پر) سردی میں باہر ٹھہرانے کو کہتے ہیں.  جانور کو آہستہ آہستہ سردی سے مارنے کا عمل بھی استہزاء ہے. 

مدینہ کے منافقین اپنے سرداروں کے پاس یقین دہانی کیلئے جاتے ہیں، کہ ہم بظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہیں، لیکن درحقیقت ہم ان کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں، ہمارا مقصد ان کو تکلیف پہنچانا ہے.
اب ذرا لفظ "شیطان" کی طرف آجائیے اس کی جڑیں یونان سے ملتی ہیں( satan ) دیگر قدیمی زبانوں مثلا عبرانی میں بھی یہ لفظ ہے. عربی میں اس کے دو طرح کے روٹ ورڈز ہیں. دونوں کے مطالب سے انکار ممکن نہیں.
۱- ش ی ط
۲- ش ط ن
۱- "ش ی ط "ایسا گوشت جو بار بی کیو کیلئے تیار ہو آگ پر سینکنے کیلئے تیار ہو ( تشہیط) یا کسی کو اس حد تک جلا دینا کہ اس کی موت واقع ہو جائے ( شء ط، ایشاط ، تشہیط،)
۲- "ش ط ن"  خوب بھڑکا ہوا، غصے کی آگ میں بھسم. آپ سب جانتے ہی ہیں کہ غصہ کیلئے آگ کا لفظ عموما استعمال ہوتا ہے. جیسے وہ فلاں شخص غصے کی آگ میں جل رہا ہے.
مدینہ طیبہ میں منافق  جب مسلمانوں کے پاس آتے تھے تو ان کے سردار یہ سب دیکھ کے بھڑکتے تھے. پھر وہ  منافق بھاگے بھاگے اپنے سرداروں کے پاس، ان کو ٹھنڈا کرنے کیلئے آتے تھے،  کہ آپ غصہ نہ کیجئے ہم تو آپ کے ساتھ ہیں. 
شیطان کو دو وجوہات کی بنا پر شیطان کہا جاتا ہے:
۱- شیطان آگ سے بنا ہوا ہے آگ ہی اس کا گھر ہے.
۲- وہ حضرت آدم عليه السلام سے نفرت کرتا ہے اور اپنا غصہ بنی نوع آدم پر اتارتا ہے.

 "ش ط ن " اس رسی کو بھی کہتے ہیں جس سے گھوڑے کو باندھا جاتا ہے.
 یہ رسی والی تشبیہہ سمجھنے کیلئے ہم ایک مثال لیتے ہیں:

پرانے زمانے میں گھریلو استعمال کےلئے بہتے پانی کا نظام نہیں ہوتا تھا، کہ آپ پانی کی ٹونٹی کھولیں اور پانی آنا شروع ہو جائے. پھر کیا سسٹم تھا؟ تب پانی لینے کیلئے کنویں پر جانا پڑتا تھا.  وہاں کیا ہاتھ ڈال کر پانی نکالتے تھے؟ نہیں بلکہ کنویں سے بالٹی یا ڈول کے ذریعے پانی نکالا جاتا تھا.  جس کے ساتھ ایک لمبی رسی بندھی ہوتی تھی.  آپ اس رسی کے ذریعے ڈول کو کنویں میں گہرا اتارتے جاتے تھے.  یہاں تک کہ پانی کی سطح آجاتی. اور آپ پانی بھر کر رسی کو واپس کھینچ لیتے تھے.
شیطان بھی اسی طرح اپنی رسی ہماری طرف پھینکتا ہے. جب آپ کا اس سے تعلق بن جاتا ہے. تو پھر وه آہستہ آہستہ رسی کو اپنی طرف واپس کھینچتا ہے.
یہاں اس عمل کو سمجھنے کیلئے ایک اور مثال سے بھی مدد لی جا سکتی ہے. ذرا پہلے وقتوں کے شکاریوں کا مشاہدہ کریں. وہ اپنے ٹریپ یا پھندے کے سرے پر تھوڑی سی خوراک لگا کر جانور کو اپنی طرف مائل کرتے تھے.  پھر رسی کو اپنی طرف کھینچتے جاتے اور جانور اس خوراک کے لالچ میں ان کی طرف گھسٹتا آتا.

یہ عمل ہے "شطن". 

شیطان اپنی رسی کے ذریعے ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے.

یہی بات سورت الاعراف میں بھی استعمال ہوئی ہے
فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ (22)

غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے

 شطن کا ایک مطلب  "الله تعالى  کی رحمت سے دور" بھی ہے. صراط مستقیم سے دور.  گم ہو چکا ہوا. جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں. غرض شیطان کے بہت سے مطالب ہیں. جو یہاں ان لوگوں پر پورے اترتے ہیں، یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ میں ملوث ہیں، یہ منافق ہر صورت میں اپنے سرداروں کو متاثر کرنے کی کوششوں میں ہیں. اور ان کو یقین دھانی کروارہے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ بہت خوش ہیں. اب الله تعالى  کا جواب سن لیں ان کیلئے. 

﴿ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴾
الله  عزوجل  ان کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں، الله تعالى  کس طرح ان کے ساتھ "مذاق " کر رہے ہیں؟ یہ قرآن کی اہم خصوصیات میں سے ہے کہ بعض اوقات قرآن پاک میں ایسے الفاظ آتے ہیں کہ ہم بے اختیار سوچتے ہیں کہ یہ لفظ الله تعالى  کیلئے مناسب نہیں لگ رہا جیسے یہی لفظ مذاق، یا مکر وغیرہ.

{وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ } - أل عمران 5 
إنهم  يَكِيدُونَ كَيْدًا * وَأَكِيدُ كَيْدًا* الطارق: 15 *

یہ وہ مسائل ہیں، جن کی وجہ سے ایک زبان کو مکمل طورپر دوسری  زبان میں ترجمہ کرنا آسان نہیں ہوتا اور پھر خصوصا اس زبان کو جو  چودہ سو سال پرانی ہے. عربی زبان میں دونوں فاعل کیلئے ایک جیسا فعل استعمال ہوتا ہے.

لوگ چالیں چلتے ہیں = الله  چالیں چلتا ہے.
 لوگ مذاق اڑاتے ہیں= الله  مذاق اڑاتا ہے.  

یعنی اللہ کہہ رہے ہیں کہ میں وہی کر رہا ہوں جس کے وہ مستحق ہیں.
الله  ان لوگوں کو ان کے جیسے الفاظ میں ہی جواب دے رہے ہیں.

 لوگ جو عمل کرتے ہیں ویسا ہی ردعمل پاتے ہیں.
الله  ان کا استہزاء اڑا رہے ہیں مگر کیسے؟ کس طریقے سے؟
اس کی تشریح الله  رب العزت خود ہی  فرما رہے ہیں:
 ﴿ .. وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴾
وہ ان  (منافقین ) کو ان کی سرکشی میں بڑھا دیتے ہیں. وہ راہ گم کر بیٹھتے ہیں، اور ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت بالکل ختم ہو جاتی ہے.
الله  ان کو اجازت دئیے جا رہے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں، طغیانی میں مسلسل بڑھتے جائیں.
اللہ کا ان کا ساتھ یہ رویہ ہے: "اگر تم نافرمانی پر ہی تلے ہوئے ہو تو میں تمہیں نہیں روک رہا"
ان کو عین وقت پر سزا نہیں مل رہی. اللہ ان کو مزید نا فرمانی کا موقع دئیے جا رہے ہیں.
یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک کلاس روم میں استاد کسی بچے کو شرارتیں کرتے ہوئے دیکھتا جاتا ہے، اور اس کو روکتا نہیں. استاد اگر بچے کو شروع میں ہی روک دیتا تو بچہ آرام سے بیٹھ جاتا مگر استاد نے روکا نہیں. اب اس ڈھیل کا کیا نتیجہ برآمد ہو رہا ہے؟ بچہ زیادہ دلیر ہو گیا ہے. اس کی شرارتوں کا دائرہ بڑھ گیا ہے. اب وہ کبھی ڈیسک پر کھڑا ہو رہا ہے، کبھی کھڑکی کے ساتھ لٹک رہا ہے. آخر کار استاد اس کو پرنسپل آفس میں لے جاتا ہے، اس کے والدین کو کال کرتا ہے کہ آپ کے بچے کو ان ان وجوہات کی بنا پر سکول سے خارج کر دیا جائے گا.
آپ اس ساری صورت حال کو سمجھ رہے ہیں؟
آج سے پندرہ سال پہلے میرے استاد نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک مثال دی تھی. جو میرے ذہن میں چپک کے رہ گئی ہے. 
فرض کیجئے کہ آپ ایک باغی کتے کے مالک ہیں. جو کسی کو  کاٹ بھی سکتا ہے. اگر اس کی رسی محض دو فٹ کی ہے تو وہ کلبلاتا ہوا،  مگر آپ کے ساتھ ساتھ ہی چلتا ہے. اب اگر آپ اسے حقیقت میں سزا دینا چاہتے ہیں،  تو آپ اس کی رسی کو ۱۰۰ فٹ تک لمبا کر دیں. وہ جتنا تیز بھاگ سکتا ہے، بھاگے گا.
۵۰ فٹ کے اندر اندر وہ سمجھے گا کہ میں آزاد ہوں.
۹۰ فٹ کے اندر بھی وہ تیز ترین رفتار سے بھاگے گا اور اپنے آپ کو آزاد ہی محسوس کرے گا.
۹۹ فٹ تک بھی دنیا اس کے سامنے کھلی ہے ہر طرف آزادی ہے.
مگر  ۱۰۰ فٹ پر کیا ہوگا؟؟؟
آپ اس کی رسی کھینچ لیں گے. اب آپ محض اس کی رسی نہیں کھینچ رہے بلکہ آپ اس کا گلا گھونٹ رہے ہیں.  یہ رسی دراز کرنا کتے کے ساتھ مذاق ہی تو تھا. اب اس کو ایک دم دھچکا لگے گا. کہ اس کو پیچھے کھینچ لیا گیا ہے. جب اس کی رسی دو فٹ کی تھی، تب آپ اس کو کھینچتے تو وہ اس کو زیادہ ہرٹ نہیں کرتا. مگر جب ۱۰۰ فٹ کی رسی کھینچی جاتی ہے. تو گویا کہ آپ اسے مارنے کے درپے ہیں. اس کیلئے یہ دھچکا،  پھندہ لگنے کے برابر ہی ہے.
الله  کا بھی منافقین کے ساتھ ایسا ہی مذاق ہے. منافقین اس ڈھیل کو سمجھ رہے ہیں کہ جیسے وہ ہی بالا دست ہیں. 
جبکہ الله تعالى  کہتے ہیں کہ "میں"ان کو یہ سوچنے کی اجازت دے رہا ہوں، کہ وہی بالادست ہیں. وہی غالب ہیں. 
سبحان الله  ! یہ ہے الله  کا "منافقون کیلئے ردعمل"
 اُس دور کے عربی لوگ بھی اس بات کو سمجھ نہ پا رہے تھے، کہ کس طرح یہ صاحب ( رسول الله صلى الله عليه وسلم )  قرآنی عربی بول رہے ہیں؟ اگرچہ وہ اُن سب کی زبان تھی، مگر قرآن میں کچھ ایسا تھا. جس کی تشریح ، زبان دانی کے ماہر بھی نہیں  کر پا رہے تھے.
 اور انگریز حاضرین کے سامنے ان باتوں کی وضاحت اور بھی مشکل امر ہے.  ابھی میں ان میں سے ایک بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں: 
قرآن کتنے عرصے میں نازل ہوا؟ تقریبا ۲۳ سال میں،  یہی قرآن کا نزولی دور ہے، اور اس کے کم و بیش چھ سو صفحات ہیں.  یہ قرآن ایک وقت میں نہیں اُترا. قرآن کے نزول کے ساتھ ساتھ حدیث بھی بیان ہوتی رہی. یعنی کبھی کسی ایک وقت میں حضور پاک سے قرآن لوگوں تک پہنچ رہا تھا، اور کبھی دوسرے وقت میں حدیث.
درحقیقت رسول الله صلى الله عليه وسلم  کے ذریعے ہزاروں چیزیں بیان ہوئی ہیں.  کبھی قرآن کی شکل میں کبھی حدیث کی شکل میں.  اگر آپ لغوی اعتبار سے قرآن اور حدیث کا تجزیہ کریں: ( جو کچھ علماء نے کیا بھی ہے) تو رسول الله  صلى الله عليه وسلم کے اندازگفتگو کو جان جائیں گے کہ وہ کس طریقے سے بات کرتے تھے؟  قرآن کا انداز بیان کیا  ہے؟ رسول الله  صلى الله عليه وسلم کے اسلوب اور قرآن کے اسلوب میں واضح فرق ہے. احادیث کا بیانیہ قرآن کے بیانیہ سے مختلف ہے. یہ ایک جیسا نہیں ہے.  بے شک یہ ایک ہی انسان کے منہ سے بیان ہوئی ہیں، لیکن پھر بھی یہ اپنے اسلوب کی وجہ سے دو مختلف مصنفین کی تحریریں ہی لگتی ہیں. 
قرآن میں کچھ ایسی منفرد چیزیں،  ایسے الفاظ موجود ہیں، جو کبھی کسی انسان نے اتنی باریکی کے ساتھ استعمال نہیں کئے.
ایک عربی  لفظ ہے { مٓدَّه}اس کا مطلب ہے کھینچنا.
ایک اور لفظ ہے  {آمٓدَّه} اس کا مطلب بھی کھینچنا ہی ہے.
مٓدٓدْتُهٌ  آمْدٓدْتُهٌ  ان دونوں کا بھی کسی قدر ایک ہی مطلب  ہے.
عربی لوگ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہم معنی لفظ استعمال کرتے رہتے ہیں. 
لیکن الله  رب العزت ایک ایسے طریقے سے ان الفاظ کو استعمال میں لا رہے ہیں، جو اس سے قبل کسی انسان نے نہیں اپنایا۔۔

-نعمان علی خان

جاری ہے...