جمعرات, اگست 27, 2015

منگل, اگست 25, 2015

اپنے کل کو روشن کیجیے.... (AbuYahya – ابویحییٰ)


اپنے کل کو روشن کیجیے – بچوں کی تربیت سے متعلق ایک رہنما تحریر
(AbuYahya – ابویحییٰ)

اولاد انسان کا بہترین سرمایہ ہے۔ یہ اس کی ذات کا تسلسل ہی نہیں، اس کی امیدوں اور خواہشوں کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے۔ ہم میں سے کون ہے جو اپنی اولاد کے برے مستقبل کا تصور بھی کر سکے۔ لیکن اولاد کا اچھا مستقبل صرف خواہشوں اورتمناؤں کے سہارے وجود پذیر نہیں ہوسکتا۔

پیر, اگست 24, 2015

جمعرات, اگست 20, 2015

آج کی بات 20 اکست 2015


ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮ، ﮐﺴﯽ ﻏﻠﻂ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔

بدھ, اگست 19, 2015

اللہ کی محبت


اس کے نام جو کہتا ھے " میں کبھی مسلمان تھا اب کچھ بھی نہیں "
مگر کسی کے لئے تم ھی سب کچھ ھو ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اس نے تمہیں سوچا تو پھر اس کے بعد کسی کو نہیں سوچا ،،،
اس نے جو بنایا ، تمہارے لئے ھی بنایا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
خلق لکم ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سخر لکم ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جعل لکم ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
انشاء لکم ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ضرب لکم ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ہفتہ, اگست 15, 2015

جمعہ, اگست 14, 2015

دل سے میں نے دیکھا پاکستان


اس وطن پہ جان و دل قرباں یہ وطن ہمارا
اس وطن سے پہچان ہماری یہ وطن ہمارا
قربانیاں کتنی دے کر آزادی لائے
میں تو یہ چاہوں ساری دنیا بھی یہ جانے

دل سے میں نے دیکھا پاکستان
جاں سے میرا دھرتی پر ایمان

دیکھو کیسے رنگ رنگ کے پھول کھلے دیکھو ہے کیسی خوشبو
 دھیرے دھیرے جیسے صبح سے شام ملے
جہاں زندگی ہے ہر سو

یوں ملیں گے جیسے ملتا ہے لہر سے کنارہ
یوں چلیں گے جیسے چلتا ہے زندگی کا دھارا
مل کے یہاں سارے جانا ، آگے ہی جائیں
جو بھی ہیں راہیں ساری جینے کی یہ راہیں

دل سے میں نے دیکھا پاکستان
جان سے میرا دھرتی پہ ایمان

جمعرات, اگست 13, 2015

عجیب قوم ہے.... مستنصر حسین تارڑ


عجیب قوم ہے
مستنصر حسین تارڑ
Posted Date : 12/08/2015


ہربرس چودہ اگست کا دن مجھے ایک خوشگوار حیرت سے دوچار کرتا ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ جس پاکستان کے پاکیزہ وجود کو گِدھ نوچتے چلے جا رہے ہیں، اس کے خون کے چھینٹوں سے یورپ اور امریکہ میں جائیدادیں دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں، سپین اور فرانس میں وسیع کاروبار قائم کر رہے ہیں۔۔۔جہاں دہشت گردی راج کرتی ہے جسے پاک فوج اپنی جان کے نذراتوں سے ملیا میٹ کرنے کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں کہ دہشت گردوں کے لئے دل میں نرم گوشت رکھنے والے بھی بہت ہیں، قوم کو اندھیروں میں گم کرکے انہیں وقفوں وقفوں سے روشنی صرف اس لئے عطا کی جاتی ہے کہ مکمل اندھیرے میں شکار ممکن نہیں ہوتا۔۔۔ پاکستان کا نام سن کر لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں ، آپ دنیا کے کسی ایئرپورٹ پر اپنا پاسپورٹ کاؤنٹر پر رکھتے ہیں تو وہاں کے اہلکار اسے ہاتھ لگانے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں وہ ایک دھماکے سے پھٹ نہ جائے اور ۔۔۔ کسی ماڈل بی بی کو جیل میں نہ صرف فائیو سٹار ہوٹل کی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں بلکہ اس کے ضمانت پر رہا ہونے پر سیاہ شیشوں والی متعدد گاڑیاں اسے گھیرے میں لے کر وہاں لے جاتی ہیں جن نامعلوم افراد کے لئے وہ بے چاری چند کروڑ روپے یونہی سمگل آؤٹ کر رہی تھی۔۔۔

 کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں تو ایک ایسے ملک کے یوم آزادی پر عوام کا جوش و خروش سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ کیوں اتنے پُرمسرت اور باولے ہوئے جاتے ہیں۔۔۔ جیسے مغرب میں کرسمس کی آمد سے ہفتوں پیشتر رونقیں شروع ہو جاتی ہیں، اسی طور یوم آزادی کے استقبال کے لئے بھی کئی روز پہلے شہروں، قریوں کے بام و در سجنے لگتے ہیں، لوگوں کی آنکھوں میں دیئے روشن ہونے لگتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تو ہم غلام ہیں اور ہمیں چودہ اگست کو آزادی نصیب ہو جائے گی، لوگ اس قدر بے خود اور مست ہونے لگتے ہیں، تو یہ کیا بھید ہے کہ ایسے حالات میں جب کہ روشنی کی کرنیں مدھم ہیں، پشاور کے ڈیڑھ سو بچوں کے بدنوں سے ابھی خون رِس رہا ہے اور ان کے قتل کو جائز قرار دینے والے بھی ہمارے درمیان موجود ہیں، اس کے باوجود یہ کیسی قوم ہے جو یہ سب فراموش کرکے دل و جان سے پاکستان کے پرچم لہرا رہی ہے، عجیب قوم ہے، کوئی اور قوم ہوتی تو ذلت کے گڑھوں میں دفن ہو چکی ہوتی، مایوسی کی گہری کھائیوں میں گر کر ہلاک ہوچکی ہوتی، اجتماعی خودکشی کر چکی ہوتی۔۔۔ تو پھر یہ قوم ہمت کیوں نہیں ہارتی، اس کے بدن پر اب مزید زخموں کی گنجائش نہیں، اس کے بچے مارے گئے، اس کی بیٹیاں سکول کی وینوں میں جلا دی گئیں، اس کے نوجوان فوجیوں کے سر کاٹ کر کھمبوں پر آویزاں کیے گئے لیکن اس کے باوجود یہ اپنے زخم فراموش کردیتی ہے، اپنے ہزاروں شہیدوں اوربچوں کی قبروں پر پھول چڑھاتی ہے لیکن وہ یوم آزادی کی شب اپنی منڈیروں پر دیئے جلاتی ہے۔۔۔ کیا کوئی ہے جو مجھے یہ بھید بتلادے کہ اس قوم کے ضمیر میں وہ کیا ہے کہ یہ مایوس نہیں ہوتی۔۔۔ امید اور اُس کا دامن تھامے رکھتی ہے۔۔۔ 

استنبول یعنی ان زمانوں کا قسطنطیہ فتح ہونے کوتھاجب امیر تیمور نے تُرک سلطان پر حملہ کرکے اسے انگورہ کے قریب شکست سے دوچار کیا اور جب ہزیمت شدہ سلطان بایزید کو زنجیروں میں باندھ کر تیمور کے سامنے پیش کیا گیا اور یاد رہے کہ یہ دونوں حضرات سلطان تھے تو تیمورنے پوچھا تھا کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے تو ایڈورڈ گبن جسے سب سے بڑا تاریخ دن قراردیا جاتا ہے اس نے اپنی شہرۂ آفاق ’’ڈیکلائن اینڈ فال آف رومن ایمپائر‘‘ میں لکھا ہے کہ ۔۔۔ تب وہ جری تُرک سلطان بھول گیا کہ وہ شکست خوردہ ہے اور اس نے اپنی عزت نفس کو یاد رکھا اور کہا کہ میں اب بھی ایک سلطان ہوں، میرے ساتھ وہی سلوک کرو جو ایک سلطان دوسرے کے ساتھ کرتا ہے، تو کیا ایسا تو نہیں کہ یہ قوم بے شک ہزیمت خوردہ ہے، اس کے سیاست دانوں، صحافیوں، تاجروں، دانشوروں اور مذہبی پیشواؤں نے اس کے ساتھ وفا نہیں کی لیکن وہ شکست بھولتی ہے اور صرف اپنی عزت نفس کو یاد رکھتی ہے۔

میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، یوں جانئے کہ کسی بہت اہم اشتہاری ادارے نے مجھ سے رابطہ کیا کہ ہم کراچی کی ایک تاریخی عمارت میں چودہ اگست کی رات کو ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کر رہے ہیں اور یہ نصف شب ہوگی اور پندرہ اگست کی سویرمیں داخل ہو گی جو کہ ہندوستان کا یوم آزادی ہے۔ بقول ان کے پاکستان کے جن دانشوروں کو مدعو کیا جا رہا ہے ان میں آپ بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب سے ہندوستان کے نامور دانشور شریک ہوں گے اور آپ آزادی اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالیں گے جسے پاکستان کے علاوہ ہندوستان کے تمام ٹی وی چینلز سے براہ راست نشر کیا جائے گا۔ آپ کی رہنمائی کے لئے ایک سکرپٹ مہیا کی جائے گی لیکن یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔ میں نے عرض کیا کہ ایک تو میں آج تک کبھی بھی کسی سکرپٹ کے سہارے نہیں چلا۔ میں وہی کہوں گا جو کہ میں کہتا چلا آیا ہوں۔۔۔ مجھے تفصیل سے بتائیے کہ اس پریس کانفرنس کی نوعیت کیا ہے۔۔۔ ابھی تک جواب نہیں آیا۔۔۔ شاید میں نے بھی اپنی عزت نفس کو یاد رکھا۔۔۔

اور شاید نہیں، یقیناًپاکستانی قوم بھی تمام رسوائیوں اور اپنوں کے ہاتھوں شکست خوردہ ہونے کے باوجود۔۔۔ اور ان کے سامنے شب و روز تماشے ہوتے ہیں، انہیں تاریکیوں میں دھکیل کر ان پر ظلم کرنے والوں کے سوگ منائے جاتے ہیں اور پھر بھی یہ قوم اپنی عزت نفس کو یاد رکھتی ہے، آس امید کے دیئے جلائے رکھتی ہے۔۔۔ سبز پرچم کو سینے سے لگے لگائے رکھتی ہے۔۔۔ اس زخم خوردہ پاکستان سے محبت کرتی چلی جاتی ہے۔ یہ ہارنہیں مانتی اپنی آزادی کا جشن یوں مناتی ہے جیسے یہ پہلایوم آزادی ہو۔

میں اس قوم کو سلام کرتا ہوں۔۔۔ یوم آزادی مبارک کہتا ہوں کہ یہ ایک نایاب اور عجب قوم ہے جو اپنی عزت نفس کی امین ہے۔

بدھ, اگست 12, 2015

ہم نے پاکستان کو کیا دیا ؟ ( ایک انتخاب)

ہم نے پاکستان کو کیا دیا ؟

دُنیا میں سینکڑوں قومیں بستی ہیں ہر قوم کی اپنی زبان،اپنی پہحان،اپنا رنگ، اپنی نسل اور سب سے بڑھ کر اپنی زمین ہوتی ہیں جس پہ وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہر قوم کی پہچان ہر چیز سے بڑھ کراُن کی زمین ہوتی ہیں یعنی اُن کا مُلک۔اور ہر قوم اپنی پہچان پہ فخر محسوس کرتی ہیں۔ دُنیا اِدھرسے اُدھرہوجائے لیکن کوئی بھی قوم اپنے ملک کے بارے میں کچھ بُرا بھلا برداشت نہیں کرسکتی۔ یہ کوالٹی جسں قوم میں پائی جاتی ہیں وہ زندہ قوم کہلاتی ہیں۔ پاکستان دُنیا کا وُہ بد نصیب ملک ہیں جہاں کے اکثر لوگوں میں یہ سوچنے اور کہنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے کہ (پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے ؟ ) اگر میرا اندازہ غلط نہیں تو یہ قوم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے ملک کے بارے میں اِس طرح کے عجیب و غر یب خیالات رکھتی ہیں۔ اگر آپ بھی اِن سے مِلتے جُلتے خیالات رکھتے ہیں تو آپ کو بہت بہت مبارک ہو کیونکہ آپ بھی اُن لوگوں کی سازش کا نشانہ بن چکے ہیں جو کسی بھی طرح وطنِ عزیز کو توڑنے کا تہیہ کر چُکے ہیں۔ لیکن اُن کو شاید اِس بات کا علم نہیں کہ پاکستان قیامت تک قا ئم رہنے کیلئے بنا ہے۔ یہ ملک صِرف زمین کا ٹکڑا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کے رازوں میں سے ایک راز ہیں۔ اِس ملک کو توڑنے کے خواب دیکھنے والے صرف اپنا وقت اور وسا ئل ضائع کر رہے ہیں۔ اُ ن کے منصوبے اپنی جگہ، لیکن آ ج اِس قوم سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے، تو کیا ہم نے بھی پاکستان کو کچھ دینا گواراہ کیا ہے؟۔ٓ


آ ج سے ۶۴سال قبل ۱۴اگست ۱۹۴۷ء کو جب پاکستان کا وجود بنا،تو یہاں کے لوگوں میں تو ایک نیا جذبہ تھا ہی،بلکہ سرحد پار سے تقریبا۱۲ ملین سے ذائد لوگ دیوانہ وار ہجرت کرتے آئے۔ جن میں سے آدھے بھی پاکستان نہ پہنچ سکے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہجرت کبھی نہیں ہوئی۔ بس اِک جنون تھا، عشق تھا، دیوانگی تھی۔ اُنہوں نے کسی سے نہ پوچھا کہ پاکستان نے ہمیں کیادیا؟ یا پاکستان نے ہمیں کیا دینا ہے؟۔کسی نے یہ نہ پوچھا کہ پاکستان میں ہمیں کیا ملے گا؟ او ہماری سیکورٹی اور رہائش کا کیا انتظام ہو گا ؟ بس یہ لوگ دیوانوں کی طرح آتے رہے۔ مشرقی پنجاب،لھدیانہ،جالندھروغیرہ کے اسّی ہزارمربع کلومیٹر میں کوئی مسلمان زندہ نہ بچ سکا۔چالیس لاکھ سے ذائد مسلمان اغوا ہوئے، لیکن وہ پاکستان کو نظرانداز نہ کر سکے کیونکہ اُنہوں نے ہر حال میں پاکستان آنے کا اِرادہ کرلیا تھا۔ دہلی سے ایک ٹرین نکلتی، اور مشرقی پنجاب میں پوری کی پوری کاٹ دی جاتی۔اور یہاں صرف لاشیں پہنچھتی،مگر وہ جنونی بار بار اُن ٹرینوں میں سوار ہو کر مرنے کیلئے تیار ہو جاتے۔ کیونکہ اُنہیں یہ با سمجھا دی گئ تھی کہ اگر اِس وقت کسی نے پاکستان کا ساتھ نہ دیا تو اُس کی دنیاوآخرت تباہ و برباد ہو کہ رہ جائے گی۔ ماناکہ آج کے پاکستان میں ہزاروں تکالیف ہیں،دانا لوگ کہتے ہیں کہ(Trouble comes not alone but in battalion)

لیکن پھر بھی آپ کبھی بھوکے نہیں سو ئے ہونگے،آپ کبھی ننگے نہیں ہو ئے معا ف کیجے لیکن آپ کی ماؤں بہنوں کی عزّت پہ ہاتھ نہیں ڈالے گئے، آپ کے گھروں سے آپ کو نکالا نہیں گیا اور نہ ہی آپ کو ہجرت کرنا پڑی، اِسلئے شکایتں کِس بات کی؟ ہماری موجودہ نسل کو یہ معلوم ہونا چاہئے،کیونک اِنہوں نے آنے والی نسلوں کو بتانا ہے کہ اِن کے بزرگوں کو گھررں سے نکالا گیا، اُن کو سرِعام لٹکا یا گیا، اُن کی ماؤں بہنوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، اُنہیں لوٹا گیا، لیکن اُنہوں نے تو کبھی پاکستان کو بُرا بھلا نہیں کہا، اور نہ ہی کسی سے شکایت کی۔ اِسلئے کہ اُن کو پتہ تھا کہ پاکستان ہی ہماری پہچان ہے۔ پاکستان نے ہمیں وہ نعمت دی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، جس کی قیمت کا کوئ اندازہ نہیں۔ اِس ملک نے ہمیں وہ نعمت دی ہے جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگانے اور اِس نعمت کو جاننے کیلئے آپ کوکشمیر، افغانستان، عراق یا پھر فلسطین کا رُخ کرنا ہو گا۔ اِسلےأ کہ وہ لوگ پَل پَل اِس نعمت کے حصول کیلےؤ جدّوجہد کر رہے ہیں۔ مگر اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے کہ اُن کو یہ نعمت کب نصیب ہو گی۔ اِس نعمت کا نام آذادی ہے، خودمختاری ہے۔ یہ نعمت اِک پہچان ہے جو صرف اور صرف پاکستان کے وجور سے وابستہ ہے۔ آپ دُنیا میں کہیں بھی چلے جائیں آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں پٹھان ہو، پنجابی ہو، سندھی ہو یا بلوچی ہو، آپ کو صرف یہی کہنا پڑے گا کہ میں پاکستانی ہو۔ اِس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہیں کہ پاکستان ہمارا ملک ہیں اور یہ ملک ہماری پہچان ہے۔

اِس لیے سب کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ پاکستان نے ہمیں جو کچھ دینا تھا وہ ۶۴ سال پہلے دے چکا ہے۔ اَب جو کچھ بھی کرنا ہے ہم نے کرنا ہے، جو کچھ بھی دینا ہے ہم نے دینا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم پاکستان کو وہ سب کچھ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں جو ہمارے آباواجداد کی خواہیش تھی، جس کا خواب علّامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا، جس کی جدّوجہد قائداعظمؒ نے کی تھی۔ جس کیلئے لیاقت علی خان نے اپنی شہادت پیش کی۔

آج کے اِس دور میں ہر طرف ملک دُشمن عناصر سازشوں میں مصروف ہیں، جبکہ ہم ایک طرف دہشتگردی اور فرقہ واریت کا شکار ہیں، تو دوسری طرف بدعنوان اور کرپٹ حکمران ہمارے اوپر مسلّط ہیں۔ ٹرانسپرنسی اِنٹرنیشنل ک مطابق اِس سال کرپشن میں کئ گُناہ اِضافہ ہوا ہے۔ اِس کے علاوہ مہنگاأی اور غربت سے تنگ عوام قدرتی آفات کا بھی شکار ہیں،جسکی وجہ سے پاکستانی معیشت کو اَربوں ڈالر کا نقصان ہوچُکا ہے۔ ریڈ کراس کے اندازے کے مطابق پِچھلے سال آنے والے سیلاب سے پورے پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ لوگ متاثر ہوں جبکہ صوبہ سِندھ میں آنے والے حالیہ سیلاب سے بھی لاکھوں لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی،جبکہ ملک میں سیاسی بے چینی بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اِن حالات میں اگر ہم غیروں کی سازِشوں کا نشانہ بن جائنگے تو یہ اِک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہو گا۔ اسلئے بحثیّتِ قوم ہماری ذمہ داری ہیں کہ اِن حالات میں غیروں کے اِشاروں پر چلنے کے بجائے آپس میں اِنسانیّت کا اِحساس بڑھائیں غمزدہ پاکستانی بھائیوں کی ہر مُمکن مدد کریں ۔ اِور اپنے جذبات کا اظہار اِس انداز میں کریں، کہ اگر حکومت کے خلاف بات کرنی ہو تو بے شک کریں کیونکہ یہ آپ کا شرعی، آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن اِس ملک کے خلاف بات کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ یہ ملک صرف حکمرانوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا نہیں، یہ ملک سترہ کروڑ پاکستانیوں کا ہے۔ اِس پر آپ کا بھی اُتنا ہی حق ہے جِتنا اِیلیٹ کلاس کے لوگوں کا ہے۔ اِس ملک کو ہم سب نے آگے لے کر جانا ہے۔ اِسلئے یہ نہ سوچیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا، بلکہ یہی سوچیں کہ ہم نے آج تک پاکستان کو کیا دیا،اور کیا دینا چاہئے؟جان ای کینیڈی نے خوب کہا تھا کہ
ask not what your country can do for you, ask what you can do for your country

منگل, اگست 11, 2015

خدا دن وہ لائے مدینے کو جائیں



شب و روز اب تو یہی ہیں دعائیں
خدا دن وہ لائے مدینے کو جائیں
نظر آئیں جس دم حرم کی فضائیں
بہر کام اپنی نگاہیں جھکائیں

عرب کے بیاباں کا ہرذرہ چومیں
غبارِ حرم کو گلے سے لگائیں
وہ دنیا کی جنت ، وہ جنت کی دنیا
معنبر ہوائیں، معطر فضائیں

جہاں پر ہیں انسان جیسے فرشتے
مہکتی ہیں ہر سو عبائیں قبائیں
کبھی مسجد فتح و نصرت کو دیکھیں
کبھی جا کے لے لیں اُحد کی بلائیں

کبھی دور اس سبز گنبد کو دیکھیں
کبھی پاس آکر نگاہیں جھکائیں
 کریں جالیوں پر ان آنکھوں کو صدقے
مواجہ میں اشکوں کے موتی لٹائیں

اِدھر سے امڈتےہوں اشک ندامت
اُدھر رحمتوں کی برستی گھٹائیں
تصور جب اپنی خطائوں کا آئے
بھلا دیں سب ان کی مسلسل عطائیں

فضائوں میں نغمہ ہو صلؔ علیٰ کا
سلامُ علیکم کی لب پر صدائیں
دعا ہے یہ کیفی کہ اس سال ہم بھی
مدینے کے دیوار و دردیکھ آئیں