پیر, نومبر 30, 2015

زبانیں جہاں گنگ ہیں ، لفظ ششدر



حرم کی مقدس فضاؤں میں گم ہوں
میں جنت کی ٹھنڈی ہواؤں میں گم ہوں

میں بے گانہ ہوکر ہر اک ماسوا سے
بس اک آشنا کی وفاؤں میں گم ہوں

زبانیں جہاں گنگ ہیں ، لفظ ششدر
تحیر کی ایسی فضاؤں میں گم ہوں

میں کعبے کے بے آب و رنگ پتھروں سے
کرم کی امڈتی گھٹاؤں میں گم ہوں

کبھی سنگِ اسود کی کرنوں سے حیراں
کبھی ملتزم کی دعاؤں میں گم ہوں

مقفل ہے در ، لٹ رہے ہیں خزانے
عطا کی نرالی اداؤں میں گم ہوں

ہر اک دل سے ظلمت کے دل چھٹ رہے ہیں
غلافِ سیہ کی ضیاؤں میں گم ہوں

جو میرے گناہوں کو بھی دھو رہی ہے
میں رحمت کی ان انتہاؤں میں گم ہوں

یہ میزابِ رحمت پہ پُر درد نالے
فلک سے برستی عطاؤں میں گم ہوں

یہ زمزم کے چشمے ، یہ پیاسوں کے جمگھٹ
زمیں سے ابلتی شفاؤں میں گم ہوں

جو اس آستاں کے لگاتے ہیں پھیرے
میں ان کے جنوں کی اداؤں میں گم ہوں

کھڑے ہیں بھکاری ترے در کو تھامے
میں ان کی بلکتی صداؤں میں گم ہوں

یہ سینے سے اٹھتی ندامت کی آہیں
میں ان دردِ دل کی دواؤں میں گم ہوں

یہ کعبے کے درباں ، یہ نازوں کے پالے
میں ان کی پیاری جفاؤں میں گم ہوں

تصور میں یادوں کی محفل سجی ہے
تخیل کی دلکش خلاؤں میں گم ہوں

ابھی شرحِ الفت کی منزل کہاں ہے
ابھی تو تقی! ابتداؤں میں گم ہوں

کلام
مفتی تقی عثمانی ​

اتوار, نومبر 29, 2015

ہفتہ, نومبر 28, 2015

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ


دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا ۔۔۔ لادے ہوئے پشتارا

سرگشتہ و درماندہ ۔۔۔ بے ہمت و ناکارہ
وارفتہ و سرگرداں۔۔ بے مایہ و بے چارہ
شیطاں کا ستم خوردہ ۔۔ اس نفس کا دکھیارا
ہر سمت سے غفلت کا ۔۔۔ گھیرے ہوئے اندھیارا

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

جذبات کی موجوں میں ۔۔۔ لفظوں کی زباں گم ہے
عالم ہے تحیر کا ۔۔۔ یارائے بیاں گم ہے
مضمون جو سوچا تھا ۔۔۔ کیا جانے کہاں گم ہے
آنکھوں میں بھی اشکوں کا ۔۔۔ اب نام و نشاں گم ہے
سینے میں سلگتا ہے ۔۔۔ رہ رہ کے اک انگارہ

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

آیا ہوں ترے در پر ۔۔۔ خاموش نوا لے کر
نیکی سے تہی دامن ۔۔۔ انبارِ خطا لے کر
لیکن تری چوکھٹ سے ۔۔۔ امیدِ سخا لے کر
اعمال کی ظلمت میں ۔۔۔ توبہ کی ضیا لے کر
سینے میں تلاطم ہے ۔۔۔ دل شرم سے صدپارہ

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

امید کا مرگز ہے ۔۔۔ رحمت سے بھرا گھر ہے
اس گھر کا ہر اک ذرہ ۔۔۔ رشکِ مہ و اختر ہے
محروم نہیں کوئی ۔۔۔ جس در سے یہ وہ در ہے
جو اس کا بھکاری ہے ۔۔۔ قسمت کا سکندر ہے
یہ نور کا قلزم ہے ۔۔۔ یہ امن کا فوّارہ

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

یہ کعبہ کرشمہ ہے ۔۔۔ یارب تری قدرت کا
ہر لمحہ یہاں جاری ۔۔۔ میزاب ہے رحمت کا
ہر آن برستا ہے ۔۔۔ دھن تیری سخاوت کا
مظہر ہے یہ بندوں سے ۔۔۔ خالق کی محبت کا
اس عالم پستی میں ۔۔۔ عظمت کا یہ چوبارا

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

یارب! مجھے دنیا میں ۔۔۔ جینے کا قرینہ دے
میرے دلِ ویراں کو ۔۔۔ الفت کا خزینہ دے
سیلابِ معاصی میں ۔۔۔ طاعت کا سفینہ دے
ہستی کے اندھیروں کو ۔۔۔ انوارِ مدینہ دے
پھر دہر میں پھیلادے ۔۔۔ ایمان کا اجیارا

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

یارب میری ہستی پر ۔۔۔ کچھ خاص کرم فرما
بخشے ہوئے بندوں میں ۔۔۔ مجھ کو بھی رقم فرما
بھٹکے ہوئے راہی کا ۔۔۔ رخ سوئے حرم فرما
دنیا کو اطاعت سے ۔۔۔ گلزارِ ارم فرما
کردے میرے ماضی کے ۔۔۔ ہر سانس کا کفارہ

آج اپنی خطاؤں کا ۔۔۔ لادے ہوئے پشتارا
دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

کلام: مفتی تقی عثمانی

جمعہ, نومبر 27, 2015

کوا چلا ہنس کی چال


نومبر کے شروع میں فیس بک پر ایک اشتہار پر نظر پڑی کہ ” بلیک فرائیڈے پر شاپنگ کریں حیرت انگیز کم قیمت پر“ ۔۔۔ میں نے سوچا کہ یہ بلیک فرائیڈے کیا نئی بلا آگئی اب کس قسم کا یوم سیاہ ہے ۔۔ گوگل سے مدد لی تو معلوم ہوا اس بلا کا ۔۔۔ سو سب سے پہلے مجھے جو پتا چلا اس بارے میں وہ گوش گذار کردوں:
 
اس کے بعد اتفاق سے میرے پاس آج ایک ای میل آئی جس میں اس دن کی پرزور مذمت کی گئی تھی تو میں نے سوچا کہ کچھ اظہار خیال میں بھی کرلوں اس پر۔
تو جیسا کے اس کی تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ دن خاص طور پر امریکہ اور کینیڈا میں منایا جاتا ہے بلکہ ان کا "قومی" اور "ثقافتی" تہوار ہے ۔۔۔ مگر نہ جانے ہم کیوں اتنے عقل کے اندھے ہوئے جا رہے ہیں کہ اندھا دھند تقلید کیے جا رہے ہیں ترقی یافتہ کہلانے کے شوق میں ۔۔۔ یہ جانے بغیر کہ ترقی یافتہ بننے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، مخلص ہونا پڑتا ہے اپنے مذہب سے، اپنے ملک سے اور اپنے کام سے مگر ہم صرف ان کے تہواروں کو اپنے معاشرے میں پیوست کرتے جا رہے ہیں ان کا پس منظر جانے بغیراپریل فول ڈے، ویلنٹائین ڈے، مدر ڈے، فادر ڈے، اور نہ جانے کون کون سے ڈے ۔۔۔ اور کچھ عرصے سے ہالووین (Halloween) ڈے بھی منایا جانے لگا ہے ۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
 
آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا ۔۔۔ ہمارا تو وہ حساب ہو گیا ہے کہ  "کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا"
 
پھر ہم کہتے ہیں اللہ ہم سے ناراض کیوں ہے؟ ذرا سوچئیے!!!
 
سیما آفتاب

جمعرات, نومبر 26, 2015

کیا ہم نے سورہ الفاتحہ پڑھی ہے؟

کیا آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟
پروفیسر محمد عقیل(کراچی)
--------------------------------------------
کیا تم نے سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟ ایک بزرگ نے اس سے پوچھا۔
" ہاں ہاں ! کیوں نہیں! ہر روز نماز میں پڑھتا ہوں؟" اس نے تعجب سے جواب دیا۔
" اچھا ذرا پہلی آیت پڑھ کر سناؤ۔" بزر گ نے کہا
"الحمد للہ رب العالمین۔ یعنی تمام تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔" اس نے جواب دیا
" اچھا تم فیس بک پر تصاویر لائیک کرتے ہو، کیا تم نے کبھی خدا کی مصوری کو بھی لائیک کیا؟ تم فلمی ستاروں کی تعریف کرتے ہو، کبھی خدا کے ستاروں کی تعریف کی؟ تم کاغذ کے پھولو ں سے جی بہلاتے ہو، کبھی خدا کے گلزاروں کو چاہنے کی کوشش کی؟
" نہیں یہ تو میں نے کبھی نہیں کیا؟"

" تو پھر تم نے یہ آیت پڑھی ہی نہیں۔ اچھا آگے پڑھو۔"
"الرحمٰن الرحیم، مالک یوم الدین۔ یعنی وہ رحمان ہے اور رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے۔"
" کیا تم نے کبھی غور کیا کہ وہ کس طرح مخلوق پر محبت اور شفقت نچھاور کرتا نظر آتا ہے ؟ مخلوق کی بات سنتا ہے، ان کی غلطیوں پر تحمل سے پیش آتاہے، ان کی خطاؤں سے درگذر کرتا ہے، نیکو کاروں کی قدر دانی کرتا ہےاور اپنی حکمت کے تحت انھیں بے تحاشا نوازتا دکھائی دیتاہے۔ کیا تم نے محسوس کیا کہ ایک بندہ جب مشکل میں گرفتا ر ہوتا ہے تو وہ شفیق خدا کیسے اس کے لیے سلامتی بن جاتا ہے، اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے، مشکلات میں آگے بڑھ کر اس کی مدد کرتا ہے اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہدایت کا نور بن جاتا ہے۔ کیا تم نے خود کو تصور میں اس کے سامنے جوابدہ کھڑا پایا ؟"
" نہیں حضرت! یہ تو میں نہیں کرتا۔"
" تو تم نے پھر اس آیت کی کیا تلاوت کی؟ اچھا آگے سناؤ۔"
"ایاک نعبد وایاک نستعین۔ ہم تیر ی ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سی مدد مانگتے ہیں۔"
" کیا ایسا نہیں کہ تم اپنے نفس کی عباد ت کرتے ہو؟ اسی کے لیے صبح اٹھتے اور رات کو سوتے ہو؟ اسی کی خواہشات کو پورا کرنے میں نمازوں سے غافل رہتے، مال سے محبت کرتے، کمزوروں کو کچلتے اور طاقتو ر سے ڈرتے ہو؟" اگر ایسا ہے تو تم نے خاک اس آیت کو پڑھا۔ آگے پڑھو۔"
"اھدنا الصراط المستقیم۔ صراط الذین انعمت علیہم۔ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا جن پر تونے اپنا کرم فرمایا۔ ان کے راستے پر نہیں جن پر تونے اپنا غضب نازل کیا اور نہ ہی گمراہوں کے راستے پر۔"
"اچھا تو کیا کبھی تم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ تم جس راستےپر ہو وہ درست ہے یا غلط؟ جو عقائد تمہارے والدین نے سکھائے کیا انھیں سمجھنے کے لیے کوئی تگ و دو کی؟ کیا تم نے معلوم کیا کہ خدا کا پسندیدہ راستہ کون سا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جن پر اس کا غضب ناز ل ہوا اور وہ کون لوگ ہیں جو گمراہ ہیں؟" " نہیں حضرت! میں نے تو ان میں سے کوئی عمل نہیں کیا۔"
"تو بس پھر تم نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی ۔" بزرگ نے اسے جواب دیا اور اپنی راہ ہولیے۔
اس نے پہلے پشیمانی سے اپنا سر جھکالیا۔کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھایا اور اس عزم سے اٹھا یا کہ اب اس نے سورہ فاتحہ پڑھنی ہے۔
کیا آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟

بدھ, نومبر 25, 2015

بدھ, نومبر 18, 2015

اللہ اکبر


اللہ اکبر کے الفاظ وہ سب سے بڑی حقیقت ہیں جو کسی انسان کی زبان سے ادا ہو سکتے ہیں ۔ یہ اتنے بڑے الفاظ ہیں کہ آسمان و زمین بھی ان کی عظمت کا تحمل نہیں کرسکتے، مگر شرط یہ ہے کہ یہ الفاظ اپنی اصل اسپرٹ کے ساتھ پڑھے جائیں ۔ ان الفاظ کی اصل اسپرٹ یہ ہے کہ ایک بندہ عاجز یہ دریافت کر لے کہ یہ عظیم ترین کائنات ، سورج، چاند، ستارے ، شجر و حجر، چرند و پرند، ہواپانی، دریا صحرا، خشکی و تری، بلندی و پستی، انسان و حیوان، مرد و عورت سب کا مالک ایک ہی ہے ۔ اور وہی میرا بھی مالک ہے ۔ میرا ہر خیر و شر، خوشی و غمی، نفع و ضرر اسی کے ہاتھ میں ہے۔ میں عاجز مطلق ہوں وہ قادر مطلق ہے ۔ میں کچھ بھی نہیں وہ سب کچھ ہے ۔

یہی احساس اللہ اکبر ہے۔ یعنی اللہ بڑا ہے اور میں چھوٹا ہوں ۔ مگرجیسا کہ ایک عارف باللہ نے ٹھیک کہا ہے۔ آج اللہ اکبر کا مطلب یہ بن گیا ہے کہ اللہ بڑا ہے اور تم چھوٹے ہو۔ لوگوں نے اللہ کی عظمت کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ دوسروں کو چھوٹا سمجھا جائے ۔ حالانکہ اللہ کی عظمت وہی شخص دریافت کرتا ہے جو اپنے چھوٹے ہونے کو جان لے ۔ ایسا شخص دوسروں کی خامیاں دریافت کرنے اور ان کے عیوب ڈھونڈنے کے بجائے اپنی اصلاح کی طرف زیادہ متوجہ رہتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ اکبر سے بڑا کوئی کلمہ نہیں جو انسانی زبان ادا کرسکے ۔ مگر یہ کلمہ رب کی عظمت کو دریافت کرنے اوراس کے سامنے اپنے عجز کو جاننے کا نام ہے ۔ یہ زبان سے محض اللہ اکبر کے الفاظ ادا کر کے دوسروں کے عیوب ڈھونڈنے اور ان پر اسلام ٹھونسنے کا نام نہیں ۔

تحریر: ابو یحییٰ 
www.inzaar.org

منگل, نومبر 17, 2015

ہفتہ, نومبر 14, 2015

جمعہ, نومبر 13, 2015

یادِ حرم


مجھے فرقت میں رہ کر پھر وہ مکہ یاد آتا ہے
وہ زم زم یاد آتا ہے، وہ کعبہ یاد آتا ہے

پہن کر صرف دو کپڑے میرا وہ چیختے پھرنا
وہ پوشش یاد آتی ہے، وہ نعرہ یاد آتا ہے

جہاں جا کر میں سر رکھتا، جہاں میں ہاتھ پھیلاتا
وہ چوکھٹ یاد آتی ہے، وہ پردہ یاد آتا ہے

کبھی وہ دوڑ کر چلنا کبھی رک رک کے رہ جانا
وہ چلنا یاد آتا ہے، وہ نقشہ یاد آتا ہے

کبھی وحشت میں آ کر پھر صفا پر جا کے چڑھ جانا
وہ مسعیٰ یاد آتا ہے، وہ مروہ یاد آتا ہے

کبھی چکر لگانا حاجیوں کی صف میں لڑ بھڑ کر
وہ دھکے یاد آتے ہیں، وہ جھگڑا یاد آتا ہے

کبھی پھر ان سے ہٹ کر دیکھنا کعبے کو حسرت سے
وہ حسرت یاد آتی ہے، وہ کعبہ یاد آتا ہے

کبھی جانا منیٰ کو اور کبھی میدانِ عرفہ کو
وہ مجمع یاد آتا ہے، وہ صحرا یاد آتا ہے

وہ پتھر مارنا شیطان کو تکبیر پڑھ پڑھ کر
وہ غوغا یاد آتا ہے، وہ سودا یاد آتا ہے

منیٰ میں لوٹ  کر قربانی کرنا میرا دنبے کو
وہ سنت یاد آتی ہے، وہ فدیہ یاد آتا ہے

منیٰ سے سر منڈا کر دوڑ جانا میرا کعبے کو
وہ زیارت یاد آتی ہے، وہ جانا یاد آتا ہے

منیٰ میں رہ کے راتوں میں دعائیں مانگنا میرا
وہ نالے یاد آتے ہیں، وہ گِریہ یاد آتا ہے

وہ رخصت ہو کے میرا دیکھنا کعبے کو مڑ مڑ کر
وہ منظر یاد آتا ہے، وہ جلوہ یاد آتا ہے

مجھے فرقت میں رہ کر پھر وہ مکہ یاد آتا ہے
وہ زم زم یاد آتا ہے، وہ کعبہ یاد آتا ہے

پیر, نومبر 09, 2015

یوم اقبال


 ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں


 


کی محمداﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

 

گفتار میں، کردار میں، اللہ کی برہان!

مرد مسلمان

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گفتار میں، کردار میں، اللہ کی برہان!

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

ہمسایۂ جبریل امیں بندۂ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن!

قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں، وہ طوفان

فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفت سورۂ رحمن

بنتے ہیں مری کار گہ فکر میں انجم
لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان

اتوار, نومبر 08, 2015

میرے ڈائری، میرا آئینہ (ذاتی کاوش)


نومبر 2011 میں ایک ویب ریڈیو سے وابستگی کے دوران "ڈائری" کے موضوع پر کیے گئے پروگرام کے لئے کچھ اپنی کاوش شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ فیس بک کے ذریعے 3 دن پہلے مجھے نظر آئی تو یاد تازہ ہو گئی سوچا یہاں بھی پوسٹ کروں۔ 

"میری ڈائری، میرا آئینہ"

ہے یہ میری ذات کا اک بایں
ملے اس میں مجھ کو میرا نہاں
میرے ذوق کا، میرے شوق کا
میرے درد کا، میرے چین کا
میری ہر خوشی، میرا کوئی دکھ
وہ ہے اس کے ورق پر عیاں
کبھی اس کو کھول کے دیکھوں تو
یہ ملاتی ہے میری ذات سے
میں نے کب لکھا؟
میں نے کیوں لکھا؟
یہ ملاتی ہے اسی یاد سے
کوئی اس کو اپنی سکھی کہے
کوئی یہ کہے، میری رازداں
مگر میں تو بس اسے یہ کہوں
"میری ڈائری، میرا آئینہ"

جمعہ, نومبر 06, 2015

کاسہ


"کاسہ"

بادشاہ نے فقیر سے خوش ہو کر کہا "مانگو کیا مانگتے ہو"
فقیر نے کہا " حضور بس میرا یہ کاسہ بھر دیجئے ،، مجھے اور کچھ نہیں چاہئے "
بادشاہ ہنسا اور کہنے لگا "بس ...." .... پھر اس نے اپنے سارے پہنے ہوۓ جواہرات کاسے میں ڈال دئے ، مگر کاسہ نہ بھرا ،،،،،، بادشاہ بڑا حیران ہوا ، مگر یہ اسکی عزت کا معاملہ تھا ،،اس نے وزیروں کو حکم دیا ... وہاں موجود سارے وزیروں نے بھی اپنے اپنے جواہرات اتار کر کاسے میں ڈالے ،، پھر بھی کاسہ خالی کا خالی ...
اب بادشاہ نے سلطنت کے خزانے کا منہ کھول دیا ....... سلطنت کا سارا خزانہ کاسے میں ڈال دیا گیا ، مگر کاسہ پھر بھی خالی ہی رہا ..
فقیر مسکراتے ہوۓ واپس جانے لگا ،، بادشاہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ، کہنے لگا "حضور ، صرف اتنا بتا دیں کہ یہ پیالہ ہے کیا چیز ؟"
فقیر نے جواب دیا ..
"حضور یہ خواہشات کا پیالہ ہے ،،اسے قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی"


مجھے یہ واقعہ یاد نہ آتا اگر میں توفیق صاحب سے نہ ملتا ... میں کل قائد_اعظم لائیبریری میں بیٹھا اسٹڈی کر رہا تھا کہ چار بجے کے قریب مجھے بھوک محسوس ہوئی ... میں کتاب رکھ کے باہر آیا ، دیکھا تو لائبریری کی کنٹین بند تھی ،، آخر باغ_ جناح کی گلشن کینٹین کی جانب چل دیا .. وہاں جا کے دیکھا تو وہ بھی بند ... مایوس ہو کر واپس آ رہا تھا کہ میری نظر اس آدمی پہ پڑی جو کہ آلو چنے بیچ رہا تھا ...
میں نے پوچھا "کتنے کا کپ ہے "
کہنے لگے " 20 کا "
کپ لے کر میں وہیں پہ کھڑا کھڑا چنے کھانا شروع ہوگیا .... کافی مزے کے تھے .... وقت کاٹنے کے لئے گفتگو شروع کر دی
میں نے پوچھا " کیا نام ہے ؟ "
کہنے لگے " توفیق"
پوچھا "آپ کہاں سے ہو "
کہنے لگے " جی میں تاجپورہ سکیم سے ہوں "
" روزانہ اتنی دور کیسے آتے ہو "
بولے " جی پہلے اسٹیشن پر ، اور پھر وہاں سے بس پہ یہاں "
"کب سے آ رہے ہو ؟؟"
"جی میں ضیاء الحق کے دور سے روزانہ یہاں آرہا ہوں "
"یہی کام کر رہے ہیں"
"جی یہی کام کر رہا ہوں "
"گزارہ ہو جاتا ہے اس سے ؟؟"
اس پر وہ کمال اطمینان سے بولے " اللہ کا بڑا کرم ہے ... تین ، چار سو بچ ہی جاتا ہے ،، بڑی اچھی گزر رہی ہے "
"اچھا .. بچے کیا کرتے ہیں "
"جی وہ اقرا پبلک سکول میں پڑھتے ہیں "
"کس کلاس میں ؟"
"کلاس کا تو مجھے نہیں پتا ... میں بس صبح سکول چھوڑ دیتا ہوں ،، اور پھر چھٹی کے وقت انکی ماں انکو لے جاتی ہے "
.... توفیق بھائی کے ساتھ میری بات یہاں ختم ہو گئی ،، مگر میں سوچنا شروع ہو گیا کہ خواہش کیا چیز ہے ، اور ذہنی سکون کا معیار کیا ہے ...
صرف ایک نکتہ سمجھنے والا ہے ، اور وہ یہ کہ دماغی سکون صرف اور صرف جو موجود ہے اس پر مطمئن اورشکرگزار ہونے میں رکھا ہے ... انسان جتنا قانع ہو گا اتنی ہی زیادہ پر سکون زندگی گزارے گا ،،، "ھل من مزید" کی گردان اگر ایک بار شروع ہو جائے تو کبھی ختم نہیں ہوتی ....
آپ کہیں گے کہ یہ کیا بات ہوئی ، بہتر سے بہتر کی کوشش تو کرنی چاہیے ، ترقی تو کرنی چائیے ،، میں بہتر کی کوشش کے خلاف نہیں بول رہا ،،،، میں تو یہ کہ رہا ہوں کہ آپ جو مرضی کریں ، مگر جو موجود ہے اس پر مطمئن ہو جائیں ...
توفیق بھائی اپنے کام سے واقعی مطمئن ہیں ،، کیوں کہ کوئی انسان بغیر اطمینان کے ایک کام مسلسل تیس سال نہیں کر سکتا ، اگر وہ نہ ہوتے تو یقینا تیس سال کے عرصے میں یہ کام تبدیل کر چکے ہوتے ....
.... روزمرہ سے متعلق دو چیزیں انسان کی زندگی میں کردار ادا کرتی ہیں ،، بنیادی ضرورت ، اور آسائشات ..... آپ ترقی کریں ، اچھی سے اچھی چیز لائیں ،، مگر بنیادی ضروریات اور آسائشات میں فرق رکھیں ،،، جس دن آپ ناقابل_ رسائی آسائشات کو بنیادی ضروریات کے کھاتے میں لے آئے ، اس دن آپ کا ذہنی سکون ختم ہو جائے گا ... اور آپ ان کے پیچھے بھاگنا شروع ہو جائینگے ، یہ سوچ کر کہ میں تو اچھی زندگی گزار ہی نہیں رہا .... مگر اس میں بات یہ ہے کہ وہ اچھی زندگی کبھی نہیں آئیگی ، کیونکہ جب اس لیول پر پہنچیں گے تو اس سے اوپر والے لیول کی زندگی اچھی اور وہ عام لگنا شروع ہو جائے گی ، اور آپ پھر اس کے لئے بھاگنا شروع کر دینگے ... جسکے پاس ایک ارب روپیہ موجود ہے ، اور اسکی زندگی میں سکون نہیں ہے ، وہی یہی سمجھتا ہے کہ جب یہ ایک ارب ، دو ارب میں تبدیل ہو جائیگا تو سکون آ جائیگا اور زندگی بہتر گزرنا شروع ہو جائیگی ،،، حالانکہ یہ ہونے کے بعد بھی اسے سکون نہیں ملے گا ، اور وہ تین ارب کے پیچھے جائیگا ..
اسکے برعکس توفیق بھائی جیسے لوگ چار سو روپے میں وہ سکون اور خدا پہ بھروسہ پا لیتے ہیں جو اربوں والے نہیں پا سکتے

سفر مدینہ 2015

سفرِ حج 2015 کے دوران زیارات مدینہ


جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اللہ کی رحمت کے آثار نظر آئے


منظر ہو بیاں کیسے ، الفاظ نہیں ملتے
جس وقت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا دربار نظر آئے



جنت البقیع 



مسجد قباء ( اسلام کی پہلی مسجد)




مدینہ میں قباء کے نزدیک بستی کے آثار جس جگہ حضورﷺ کی مدینہ آمد کے موقع پر وہاں کی بچیوں سے آپ کا استقبال کیا تھا


جبل احد 

شہدائے احد کا احاطہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار


مسجد ذو قبلتین


مسجد فتح ( غزوہ خندق کے مقام پر) 




- یہ وہ متبرک مسجد ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سخت دھوپ میں جب مدینہ قحط کی صورت سے دو چار تھا اور انسانوں سمیت جانور اور درخت تک سوکھ گئے تھے ، الله سبحان و تعالی کی بارگاہ میں بارش کی دعا کی تھی تو دوران دعا بادل کا ایک ٹکڑا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سر مبارک پر سایہ فگن ہوگیا تھا اور فوری طور سے مدینہ میں بارش شروع ہوگی اور پورا مدینہ ہرا بھرا ہوگیا - اس واقعہ کے وقت آپکے نو عمر نواسے سیدنا حسن رضی الله عنہ بھی آپ کے ساتھہ تھے - اس واقعہ کی مناسبت سے اس مقام پر بنائی جانے والی اس مسجد کا نام '' مسجد غمامہ '' رکھا گیا کیوں کہ عربی میں غمامہ ''بادل '' کو کہتے ہیں -

اس کے علاوہ اس مقام پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عید کی نمازیں بھی پڑھی ہیں اور قربانی کے اونٹ اور بھیڑیں بھی نحر یعنی قربان کی ہیں



مسجد ابو بکر صدیق ۔۔ اس جگہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکان تھا


جمعرات, نومبر 05, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 05 نومبر 2015


آج کا انسان ایک نا معلوم اندیشے سے دوچار ہے۔
اندیشے کی ضد امید ہے۔
امید اس خوشی کا نام ہے، جس کے سہارے غم کے ایؔام بھی کٹ جاتے ہیں۔
فطرت کے مہربان ہونے پر یقین کا نام امید ہے۔
جس طرح موسم بدلنے کا ایک وقت ہوتا ہے اسی طرح وقت بدلنے کا بھی ایک موسم ہوتا ہے

واصف علی واصف

زیاراتِ مکہ 2015

ہمارے 2015 کے سفرِ حج کے دوران زیاراتِ مکہ کی چند تصاویر۔



جبل ثور جہاں غار ثور واقع ہے


جبل الرحمتہ (عرفات)




نہر زبیدہ کے آثار 


مسجد مشعر الحرام (مزدلفہ)

جبل نور ( غار حرا)

مسجد جن