اتوار, جون 29, 2014

پیغام قرآن-1



چاند رات ، قمری مہینہ اور رمضان


اسلامی عبادات قمری مہینوں کے ساتھ متعلق کی گئی ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں مثال روزے کا رمضان کے مہینے میں فرض ہونا ہے۔ قمری مہینہ تیس یا انتیس دن کا ہوتا ہے جس کا آغاز   نئے چاند (ہلال) کے نظر آنے سے ہوتا ہے۔ ہمارے مُلک میں بدقسمتی سے رویت ہلال ایک اختلاف اور جھگڑے کا عنوان بن گیا ہے۔ اس جھگڑے میں وہ حقیقت ہمیشہ نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے جس کی بنا پر عبادات کے لیے نئے چاند پر منحصر قمری مہینے کا انتخاب کیا گیا ہے۔
قمری مہینوں کی پہلی اور سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ شمسی مہینوں کے برعکس مختلف موسموں میں آتے ہیں۔ یعنی شمسی مہینے جولائی میں ہمیشہ گرمی ہوتی ہے، مگر قمری مہینہ رمضان گرمی، سردی، خزاں اور بہار ہر موسم میں آتا ہے۔ یہ چکر کم و بیش بتیس شمسی سالوں میں پورا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس برس اگر جولائی میں روزے آرہے ہیں تو یہ واقعہ بتیس تینتیس برس پہلے ١۹۸۰ میں بھی رونما ہوچکا ہے۔ جبکہ سن ١۹۹٦ میں روزے جنوری کی سردیوں میں، سن ١۹۸۸ میں موسمِ بہار اور سن ۲۰۰۵ میں موسمِ خزاں میں بھی آچکے ہیں۔
روزے کی عبادت کو قمری مہینوں کے ذریعے سے مختلف موسموں میں رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ روزہ رکھ کر مختلف احوال سے گزریں۔ سخت سردی کی بھوک اور حرارت کی کمی، سخت گرمی کی پیاس اور طویل روزے، خزاں کی گلا سکھا دینے والی خشک ہوا اور بہار کا خوشگوار موسم انہیں یاد دلاتا رہے کہ زندگی میں اچھے بُرے حالات کے سرد و گرم اور بہار و خزاں تو آتے رہیں گے مگر بندہ مومن کو ان سے بے نیاز ہوکر ہر حال میں بندگی اور اطاعت کی زندگی گزارنی ہے۔
موسموں کے اختلاف کے علاوہ قمری مہینے کی ایک بڑی اہم خصوصیت اس کا دنیا میں انسانی زندگی کی تعبیر ہونا ہے۔ قمری مہینہ چاند کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ پہلا حصہ  نئے چاند سے شروع ہوتا ہے اور دس راتوں تک جاتا ہے جن میں چاند بتدریج بڑھتا ہے۔ مگر ان دس ایام میں رات کی تاریکی چاند پر غلبہ پائے رکھتی ہے۔ اگلے دس ایام گویا چاند کی حکمرانی کے ایام ہوتے ہیں جن میں روشن چاند بدر کامل بنتا ہے اور دس دنوں تک  اپنے نورانی وجود سے راتوں کو روشن کیے رکھتا ہے۔ اگلے دس یا نو دن چاند کے زوال کے ہوتے ہیں جن میں چاند بتدریج گھٹنے لگتا ہے۔ مہینہ کے آخر تک چاند اپنا وجود کھودیتا ہے اور وادیٴ عدم میں اتر کر  اپنے پیچھے اماوس کی شبِ   تاریک چھوڑ جاتا ہے۔ پھر ایک غیر یقینی کا تاریک سایہ چھا جاتا ہے۔ خبر نہیں کہ اس تاریکی کے پردے سے نیا چاند انتیس دن کے بعد طلوع ہوگا یا تیس کے۔
دیکھا جائے تو یہ انسانی زندگی کی مکمل تعبیر ہے۔ انسانی زندگی بھی چاند کی زندگی کی طرح تین حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلا حصہ ارتقا کا ہے جو پیدائش، شیرخوارگی، بچپنے سے گزر کر لڑکپن تک جاتا ہے۔ دوسرا حصہ جو نوجوانی، جوانی اور پختہ عمر سے عبارت ہے انسان کی قوت، جوش اور صلاحیت کا مکمل آئینہ دار ہوتا ہے۔ جبکہ تیسرا حصہ زوال کا ہے جو ادھیڑ عمر، بڑھاپے اور بزرگی کی ان آخری کیفیات سے عبارت ہے جو ضعف و ناتوانی کا انتہائی نشان ہوتی ہیں۔ پھر جس طرح مہینے کا انتیس یا تیس کا ہونا غیر یقینی کیفیت سے دوچار رکھتا ہے اسی طرح بزرگی کی دہلیز سے قبر کا دروازہ کب کھلے یہ بھی ایک غیر یقینی معاملہ ہوتا ہے۔ 
انسان اگر قمری مہینے کی اس اسپرٹ کو پالیں تو بلاشبہ روزے سے اچھی اس بات کی کوئی یاددہانی نہیں کہ زندگی کی نقدی کس طرح ہر روز ہاتھوں سے غیر محسوس طریقے پر پھسل رہی ہے۔ یہ سمجھ آجائے تو ہم رمضان میں روزے کے ایام گننے کے بجائے یہ گنا کریں گے کہ ہماری زندگی کا پہلا حصہ گزرا ہے، دوسرا گزر رہا ہے یا پھر ہم آخری مرحلہ حیات میں ہیں۔ پھر ہم یہ جان لیں گے کہ جس طرح روزے کے بقیہ ایام گزر جاتے ہیں، جلد ہی میری زندگی کے بقیہ ایام بھی گزر جائیں گے۔ پھر ایک روز جو نجانے انتیس ہو یا تیس؛ آخرت کی زندگی کا وہ چاند طلوع ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ یوں ہم رمضان کے دنوں میں روزہ کے دن گن کر خوشی منانے کے بجائے زندگی کے گزرے دنوں کا احتساب کیا کریں گے۔
یہ سوچ اگر عام ہوجائے تو رمضان اور عید کے نئے چاند پر جھگڑنے کی نفسیات ختم ہوجائے گی۔ پھر اہم بات یہ ہوگی کہ رمضان کے آغاز سے ہم روز بیٹھ کر اپنا احتساب کریں گے۔ پہلے دس دنوں میں ہم دیکھیں گے کہ کہیں ہم نے اپنے بچپن اور لڑکپن کو کھیل کود میں ضائع تو نہیں کردیا۔ دوسرے عشرے میں جائزہ لیں گے کہ کہیں جوانی کی قوت اور پختگی کی صلاحیت کو ہم نے شہوت پرستی اور ہوس مال کی نظر تو نہیں کردیا۔ آخری دس دن میں ہم جائزہ لیں گے کہ کہیں ہمارا بڑھاپا مال و اولاد اور اسٹیٹس کے معاملات کی نظر تو نہیں ہورہا۔ پھر زندگی کے جس حصے میں ہم ہوں گے ہم اپنے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم دنیا کے بجائے آخرت کو اپنا مقصد بنالیں گے۔ تاکہ آخرت کی زندگی کا نیا چاند طلوع ہو تو ہم جنت کی روشن راتیں دیکھیں۔ جہنم کی اماوس زدہ تاریک راتیں ہمارا مقدر نہ بن جائیں.

( ابویحییٰ﴿

بدھ, جون 18, 2014

آج کی بات۔۔ 18 جون 2014



بعض اوقات ہمارے الفاظ بہت قیمتی ہوتے ہیں اتنے کہ سامنے والے کی ذہنیت کو سمجھتے ہوئے ہم انھیں لٹانے سے گریز کرتے ہیں ۔

جمعہ, جون 06, 2014

آج کی بات۔۔۔۔ 06 جون 2014


ہم پر غریبی نازل ہوتی ہے تو اتنی کہ ہم اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں،
اور دولت نازل ہوتی ہے تو اتنی کہ دوسروں کو زندگی سے مایوس کر دیتے ہیں۔

‘واصف علی واصف

جمعرات, جون 05, 2014

آج کی بات۔۔۔ 05 جون 2014



"کبھی بھی لوگوں کے رویے یا کسی مشکل صورتحال میں پریشان نہ ھوں، آپ کے ردعمل کے بغیر وہ بالکل بے بس ھیں، کیونکہ تصادم اس وقت ھوتا ھے جب دو مخالف سمت سے آنے والی اشیاء آپس میں ٹکرا جائیں، جب آپ ھر قسم کے ردعمل سے گریز کریں گے تو وہ اپنی جھونک میں کہیں بہت دور نکل جائیں گے ، اور یہی عقلمندی ھے

اتوار, جون 01, 2014

انا ۔۔۔۔ محبت ۔۔!



انا ۔۔۔۔ محبت ۔۔!

انا تعلق توڑنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے اور محبت تعلق نبھانے کے
انا بھٹکنے کے بہانے دیتی ہے اور محبت راہ پر لانے کے
انا تنہا کرواتی ہے اور پھر تنہا کر کے مارتی ہے! جبکہ محبت خلوت کو بھی جلوت بنانے کے ہنر سے آراستہ ہوتی ہے. اور تھامے رکھتی ہے
انا سزا دلواتی ہے ۔۔ محبت معاف کرتی ہے
انا چھینوا لیتی ہے ۔۔ محبت بخش دیتی ہے
انا کی عزت نفس نہیں ہوتی جبکہ محبت کی عزت نفس ہوتی ہے
انا ترس و ہمدردی گوارہ کرتی ہے! محبت انا تو پامال کرواتی ہے مگر یہ ترس اور ہمدردی کو بطور ہتھیار استمعال نہیں کرتی. یہ کسی فقیر کو بھی دلواۓ تو اس پر ترس جان کر نہیں بلکہ اسکا حق جان کر مان و محبت سے اسکا حق ادا کرواتی ہے
محبت عرش کا، عرش والے کا جذبہ و عطا ہے
انا عرش والے تک نہ پہنچ پانے کی راہ میں مزاحمت ہے
انا خوف میں رہتی ہے اور محبت یقین میں
انا ساۓ کے سراب میں پیچھے دوڑاتی ہے جبکہ محبت بذاتِ خود سایہ دیتی ہے
انا حصول کی ہوس میں رہتی ہے جبکہ محبت قناعت کے کیف میں رہتی ہے
انا کی نظر اسباب پر ہوتی ہے ۔۔ اور محبت کی مسبب الاسباب پر
انا خود غرض ہوتی ہے اور محبت خدا غرض
انا گھر توڑتی ہے اور محبت گھر جوڑتی ہے
انا بظاہر خوشنما ہوتی ہے درحقیقت کریہہ
محبت کی حقیقت پاکیزگی ہے
انا، مسلمان میں بھی ہو سکتی ہے
محبت، بظاہر عیسائ، ہندو، کافر میں بھی ہو سکتی ہے
انا منافق، مشرک، کافر ہوتی ہے
محبت مسلمان مومن، محبت اسلام ہوتی ہے
انا دکھاوا ہوتی ہے ۔۔ محبت حقیقت ہوتی ہے
محبت محبت کو بچاتی ہے اور انا، انا کو رسوا کرواتی ہے
انا بے صبر، جلد باز، ناشکری، بدگمان، اور کم ظرف ہوتی ہے
محبت با وفا، صابر، شکرگزار، اور نیک گمان ہوتی ہے
انا میں ایمان نہیں ہوتا .. محبت ایمان ہوتی ہے
انا زخم دیتی ہے ۔۔ محبت مرہم رکھتی ہے
انا فریب دیتی ہے ۔۔ محبت یقین بنتی ہے
انا چھوڑ دیتی ہے محبت ساتھ نبھاتی ہے
انا خبط ہوتی ہے ۔۔ محبت ضبط ہوتی ہے
انا خلاء ہوتی ۔۔ محبت ربط ہوتی ہے
انا عریاں کرتی ہے ۔۔ محبت ڈھانپ لیتی ہے
انا جبر ہوتی ہے ۔۔ محبت صبر ہوتی ہے
انا وحشت ہوتی ہے محبت حلاوت ہوتی ہے
انا ظالم ہوتی ہے ۔۔ محبت نور ہوتی ہے
انا اذیت دیتی ہے ۔۔ محبت سکون دیتی ہے۔۔!
انا ٹوہ میں رہتی ہے ۔۔ محبت کشف، محبت وجدان ہوتی ہے
انا احسان فراموش ۔۔ محبت احسان کا حق ادا کرتی ہے
انا حق چھیننے والی حق غصب کرنے والی ہے۔۔ محبت حق ادا کرنے والی
انا ظالم ۔۔ محبت رحمان ہوتی ہے
انا خائن ۔۔ محبت امین ہوتی ہے
انا باطل ۔۔ محبت حق ہوتی ہے
انا ''میں'' محبت ''تم'' ہے
انا محبت تک لے جانا والا وہ راستہ ہے کہ جو واقعی محبت ہی کی تلاش میں ہے وہ انا کی اذیت کو جان لے گا اور محبت کی پناہ میں خود کو سونپنے کے لیئے محبت کا در کھٹکھٹا اٹھے گا۔۔!
انا محبت تک لے جانے والی سیڑھی ہے
انا شیطان ہے ۔۔ اور محبت اللہ۔۔!
انا خار ہے تو محبت وہ پھول ہے جو اس تک صرف اسکو پہنچنے دیتا ہے جو اس خار خار راستے کی اذیت سے بے نیاز اپنی نگاہ و دل و روح و جان فقط پھول کو منسوب کردے!
االلہ پاک ہمیں اپنی خالص محبت عطا فرمایں اس میں اضافہ فرمایں، پل پل انا سے محفوظ اپنی محبت کی چادر میں اور محبت سے ڈھانپیں رکھیں اللہ ھمّ آمین !!


(منقول)