اشاعتیں

June, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پیغام قرآن-1

چاند رات ، قمری مہینہ اور رمضان

تصویر
اسلامی عبادات قمری مہینوں کے ساتھ متعلق کی گئی ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں مثال روزے کا رمضان کے مہینے میں فرض ہونا ہے۔ قمری مہینہ تیس یا انتیس دن کا ہوتا ہے جس کا آغاز   نئے چاند (ہلال) کے نظر آنے سے ہوتا ہے۔ ہمارے مُلک میں بدقسمتی سے رویت ہلال ایک اختلاف اور جھگڑے کا عنوان بن گیا ہے۔ اس جھگڑے میں وہ حقیقت ہمیشہ نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے جس کی بنا پر عبادات کے لیے نئے چاند پر منحصر قمری مہینے کا انتخاب کیا گیا ہے۔ قمری مہینوں کی پہلی اور سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ شمسی مہینوں کے برعکس مختلف موسموں میں آتے ہیں۔ یعنی شمسی مہینے جولائی میں ہمیشہ گرمی ہوتی ہے، مگر قمری مہینہ رمضان گرمی، سردی، خزاں اور بہار ہر موسم میں آتا ہے۔ یہ چکر کم و بیش بتیس شمسی سالوں میں پورا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس برس اگر جولائی میں روزے آرہے ہیں تو یہ واقعہ بتیس تینتیس برس پہلے ١۹۸۰ میں بھی رونما ہوچکا ہے۔ جبکہ سن ١۹۹٦ میں روزے جنوری کی سردیوں میں، سن ١۹۸۸ میں موسمِ بہار اور سن ۲۰۰۵ میں موسمِ خزاں میں بھی آچکے ہیں۔ روزے کی عبادت کو قمری مہینوں کے ذریعے سے مختلف موسموں میں رکھنے کی حکمت یہ ہ…

آج کی بات۔۔ 18 جون 2014

تصویر
بعض اوقات ہمارے الفاظ بہت قیمتی ہوتے ہیں اتنے کہ سامنے والے کی ذہنیت کو سمجھتے ہوئے ہم انھیں لٹانے سے گریز کرتے ہیں ۔

آج کی بات۔۔۔۔ 06 جون 2014

تصویر
ہم پر غریبی نازل ہوتی ہے تو اتنی کہ ہم اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں،
اور دولت نازل ہوتی ہے تو اتنی کہ دوسروں کو زندگی سے مایوس کر دیتے ہیں۔

‘واصف علی واصف’

آج کی بات۔۔۔ 05 جون 2014

تصویر
"کبھی بھی لوگوں کے رویے یا کسی مشکل صورتحال میں پریشان نہ ھوں، آپ کے ردعمل کے بغیر وہ بالکل بے بس ھیں، کیونکہ تصادم اس وقت ھوتا ھے جب دو مخالف سمت سے آنے والی اشیاء آپس میں ٹکرا جائیں، جب آپ ھر قسم کے ردعمل سے گریز کریں گے تو وہ اپنی جھونک میں کہیں بہت دور نکل جائیں گے ، اور یہی عقلمندی ھے

انا ۔۔۔۔ محبت ۔۔!

تصویر
انا ۔۔۔۔ محبت ۔۔!

انا تعلق توڑنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے اور محبت تعلق نبھانے کے
انا بھٹکنے کے بہانے دیتی ہے اور محبت راہ پر لانے کے
انا تنہا کرواتی ہے اور پھر تنہا کر کے مارتی ہے! جبکہ محبت خلوت کو بھی جلوت بنانے کے ہنر سے آراستہ ہوتی ہے. اور تھامے رکھتی ہے
انا سزا دلواتی ہے ۔۔ محبت معاف کرتی ہے
انا چھینوا لیتی ہے ۔۔ محبت بخش دیتی ہے
انا کی عزت نفس نہیں ہوتی جبکہ محبت کی عزت نفس ہوتی ہے
انا ترس و ہمدردی گوارہ کرتی ہے! محبت انا تو پامال کرواتی ہے مگر یہ ترس اور ہمدردی کو بطور ہتھیار استمعال نہیں کرتی. یہ کسی فقیر کو بھی دلواۓ تو اس پر ترس جان کر نہیں بلکہ اسکا حق جان کر مان و محبت سے اسکا حق ادا کرواتی ہے
محبت عرش کا، عرش والے کا جذبہ و عطا ہے
انا عرش والے تک نہ پہنچ پانے کی راہ میں مزاحمت ہے
انا خوف میں رہتی ہے اور محبت یقین میں
انا ساۓ کے سراب میں پیچھے دوڑاتی ہے جبکہ محبت بذاتِ خود سایہ دیتی ہے
انا حصول کی ہوس میں رہتی ہے جبکہ محبت قناعت کے کیف میں رہتی ہے
انا کی نظر اسباب پر ہوتی ہے ۔۔ اور محبت کی مسبب الاسباب پر
انا خود غرض ہوتی ہے اور محبت خدا غرض
انا گھر توڑتی …

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل