اتوار, جولائی 31, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ سوم

حصہ سوم

الف لام میم کا ایک اور کنکشن
الم ( مبتدا ہے)
ذلک الکتاب (خبر )۔
الف لام میم اصل میں وہ کتاب ہے. کچھ علماء کے مطابق الف لام میم قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے. الف لام میم قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ ایک بہت خوبصورت (بات) بھی ہے کہ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ایک راز ہے کیونکہ اس میں ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو عاجز بناتی ہیں. ہم خواہ کتنا بھی سیکھ لیں آخر میں ہم کچھ نہیں جانتے.
انسانیت کے بارے میں ، انسان کا علم ناقص ہونے کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں
(ھوالذی) وَ اللّٰہُ اَخۡرَجَکُمۡ  مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ۙ
وہی ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں سے نکالا ( اور پھر وہ کہتا ہے کہ جیسے اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ) تم کچھ نہیں جانتے تھے.
ظاہر ہے جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہم کچھ نہیں جانتے ہوتے. لیکن اسکا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اور اب بھی بھی تم کچھ نہیں جانتے. سبحان اللہ. اللہ انسانیت کو اس کی اصل جگہ پر رکھتا ہے جب وہ ایسے بات کرتا ہے.
تو وہ کہتا کہ الم ذلک الکتاب یہ کتاب کا نام ہو سکتا ہے۔
تیسرا کنیکشن الف لام میم کا الف لام میم ہی ہے. ذلک الکتاب یعنی درحقیقت  یہی اصلی کتاب ہے. گویا انسانیت اسی انتظار میں تھی. یہ سورہ کب نازل ہوئی تھی؟  مدینہ میں. مدینہ کی آبادی میں یہودی اور عیسائی شامل تھے اور یہودی اور عیسائیوں کے پاس کئی ٹیکسٹ اور کئی نشانیاں تھیں کہ آخری الہامی کتاب آنے والی ہے. وہ انتطار کر رہے تھے. اور جب انہوں نے الف لام میم سنا.  (تو سوچا) ضرور ان (آپ صلی اللہ علیہ وسلم )کا کوئی باہر کا استاد ہوگا.  اللہ ان لوگوں کو فوری جواب دیتا یہ کہ " یہ وہ کتاب ہے جس کا تم انتظار کر رہے تھے.  یہی ہے وہی کتاب جس کے لیے تم دعا کرتے تھے کہ نشانیاں آئیں ، فتح آئے اور آخری رسول آئے." (تو) یہ آ گئی ہے. ذلک الکتاب  اور دوسرا جملہ ہے لا ریب فیه اس میں قطعی کوئی شک نہیں ہے کہ یہی وہ کتاب ہے جس کا تم انتظار کر رہے تھے. وہی (کتاب) ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ " الکتاب الموعود" ۔جیسے کہ کچھ دوسرے مفسر کہیں گے "ذلک ھو الکتاب الموعود" . یہی وہ کتاب ہے جس کا پہلے وعدہ کیا گیا تھا.  وہی جس کے انتظار میں تم تھے۔
"ویَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ " جو ہم سورہ بقرہ میں پڑھیں گے۔
یہود آخری رسول اور آخری کتاب کی آمد کے لیے بہت بے چین تھے. وہ اس بارے میں بات بھی کیا کرتے تھے. وہ کہا کرتے تھے کہ " یہ قریش ہر وقت ہمیں مارتے ہم سے جنگ کرتے ہیں مگر اگلی بار اے قریش (سن لو) ہمارا رسول بہت جلد آنے والا ہے آخری کتاب کے ساتھ اور جب وہ آئے گا تو اللہ نے فتح کا وعدہ کیا ہے تب ہم تمہیں پوچھیں گے۔" وہ لوگ ایسے کیا کرتے تھے ۔تو اللہ پاک اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ذٰلِکَ  الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚ ۖ ۛفِیۡہِ۔
اور پھر تیسرا حصہ ہے ہُدًی  لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲﴾ یہ حتمی حصہ ہے (اس آیت کا).   ایک شاندار رہنمائی. طاقتور رہنمائی. ان لوگوں کے لیے جو احتیاط برتنا چاہتے ہیں، اس نقصان سے بچتے ہوئے جو ان کی طرف آئے ہر قدم محتاط ہوکر اٹھانا چاہتے ہیں.  ایسے لوگ جو واقعی زندگی کی پرواہ کرتے ہیں ان کے لیے اس کتاب میں حتمی رہنمائی ہے.
اس موقع پر آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ سے کچھ شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ اس سب تعارف یا قرآن کی واقفیت میں اللہ اپنی حکمت سے فیصلہ کرتا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد اگلی سورہ یہ ہونی چاہیے. تو یہ سورہ ہمیں اسلام اور قرآن کی ایسی تصویر دے گی جو کچھ اور نہیں دے سکتا. تاکہ ہمارے ذہن مکمل طور پر  اللہ کی کتاب کو ہماری ساری زندگی اپنانے کے لیے تیار ہوں.  تو یہ آیات بہت قیمتی ہیں. تو میں ان آیات پر زیادہ وقت لگاؤں گا کہ ہر بار جب ہم یہ آیات سنیں تو ہم اس سب کو دوبارہ سے یاد کرسکیں.
تو میں آپ سے یہ شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ پہلی بات یہ کہ اس کی پیدائش آسمانی ہے الم ذلک الکتاب.
 پر یہاں دو اصول ہیں جو اللہ تعالی نے بتائے ہیں۔دو چیزیں جو میرے اس کتاب سے رشتے کا تعین کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک اصول یہ ہے کہ لا ریب فیہ اس میں کہیں کوئی کسی شک کی گنجائش نہیں جو آپ کو اندر سے پریشان کرے خواہ اس میں کچھ بھی ہو. اس کتاب میں کسی قسم کے شک کی ، کسی بے یقینی کی کوئی گنجائش نہیں ہے.
"مجھے یقین نہیں ہے کیا یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہے ؟" اس کتاب میں ایسے کسی شک کے لیے قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے. پھر سوال اٹھتا ہے کہ "کیسے نہیں؟" میں اس کی طرف کچھ دیر میں آؤں گا.
تو ان (اصولوں) میں سے پہلا ہے کہ کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور ایک ہی رستہ ہے جس سے کوئی شک باقی نہ رہ جائے. 
آپ کیسے کسی کو بتا سکتے ہیں کہ یہ خدا کی کتاب ہے؟ وہ کہے گا میرے پاس بائبل ہے وہ بھی خدا کی کتاب ہے. کوئی ہندو صحیفے کا ویدہ لا کر کہے گا یہ بھی خدا کی کتاب ہے بلکہ یہ تو بہت سے خداؤں کی کتاب ہے. تمہاری کتاب قرآن خدا کی کتاب ہے تو میں کیسے مانوں کہ یہ صیحح ہے اور باقی غلط ؟؟  آپ کے ساتھی ،دوست آپ سے کہہ سکتے ہیں کہ اتنے مذہب ہیں کوئی تو غلط ہو گا تو آپ کیسے جانتے ہیں کہ آپ ٹھیک ہیں ؟؟  بعض اوقات بچے آ کر ماں باپ سے پوچھ سکتے ہیں "ماں کیا آپ کبھی سوچتی ہیں کہ جب فیصلہ کا دن آئے گا تو کون صیحح ٹھہرایا جائے گا؟؟" اور ماں پریشان ہو جائے کہ " یہ کیا ہوا ہے ، میں اس وقت میں کونسی آیت پڑھوں ؟ کونسی رقیہ پڑھوں ؟ " ہم بنا کسی شک کی گنجائش کہ کیسے جان سکتے ہیں کہ یہی اللہ کی کتاب ہے ؟؟
موسٰی علیہ السلام کے پیروکار بنا کسی شک کے کیسے جانتے تھے کہ وہ (موسٰی) ایک رسول ہیں؟ وہ ان سے بہت سوال کیا کرتے تھے۔ پر جب انہوں نہیں عصا مارا اور پانی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔اگر آپ اس عوام میں حاضر ہوتے تو کوئی شک نہ رہ جاتا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں. میں بس اس دریا میں سے گزر جاؤں گا دونوں طرف دو بہت بڑے پانی کے پہاڑ بلند اور (پہاڑ کی) شکل اختیار کیے ہوئے بنا کسی سہارے کے اور میں ان کے درمیان سے گزر رہا ہوں تو یقینی طور پر مان جاؤں گا کہ یہ ایک رسول ہیں. اب میرا سوال کرنا نہیں بنتا. میں ان سے خوش ہوں اور مطمئن ہوں. 
دوسرے لفظوں میں شک کیسے دور ہوتا ہے؟ جب آپ ایک معجزہ دیکھتے ہیں. معجزہ دیکھ کر شک دور ہو جاتا ہے.  جن لوگوں نے عیسٰی علیہ السلام کو سوال کیے (شک کیا)جب انہوں نے اللہ کے حکم سے ایک مٹی کے پرندے کو اصلی جاندار پرندے میں بدلتے دیکھا تو ان کا شک دور ہو گیا. جب ایک عصا سانپ میں بدلتا ہے تو شک دور ہو جاتا ہے. 
پر سوال یہ ہے کہ یہ کتاب (قران) کسی دریا کو پھاڑ نہیں رہی ، کسی ڈنڈے کو سانپ میں نہیں بدل رہی یہ تو بس ایک بہت سے صفحوں پر چھپی کتاب ہے تو معجزہ کہاں ہے ؟؟ اللہ تعالٰی نے ہمیں یہ کتاب دی ہے اور یہ آنکھوں کے لیے معجزہ نہیں ہے بلکہ یہ کانوں کے لیے معجزہ ہے۔یہ سب معجزوں میں سے آخری معجزہ ہے ۔پجھلے معجزات شکوک دور کرنے کے لیے پیغمبروں کو دئے گئے تھے. معجزہ کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ شک کو دور کرنا. معجزے اسلیے نہیں دکھائے جاتے کہ آپ دیکھ کر کہیں واؤ کیا شاندار ہے.  معجزے شک کو دور کرنے کے لیے دیے گئے تھے.
 لیکن ایک ہی نسل میں معجزہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اگلی نسل کے لیے وہ معجزہ بس ایک کہانی ہوتا ہے. انہوں نے اسے دیکھا نہیں ہوتا.  ایک معجزہ کا تجربہ کرنے کے لیے آپ کو اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا پڑتا ہے۔ حتٰی کہ بنی اسرائیل کی اگلی نسل یا عیسٰی علیہ السلام کے پیروکاروں کی اگلی نسل یا صالح علیہ السلام یا ابراہیم علیہ السلام ۔۔۔اللہ کہتا ہے کہ جب وہ آگ میں سے سلامت باہر نکلے تو ان کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔تو وہ لوگ جب اپنے بچوں کو کوئی واقعہ بتاتے ہیں تو وہ بس ایک کہانی ہوتا ہے کیونکہ انہوں(بچوں) نے اسے دیکھا نہیں ہوتا۔بچہ چاہے کہے کہ اچھی کہانی تھی اگرچہ مجھے اس کے بارے میں شکوک، سوال ہیں. 
مگر یہ قرآن ، یہ آخری آسمانی کتاب جو اللہ نے ہمیں دی اللہ نے اس کے اندر معجزہ رکھا ہے جو آنکھوں کے لیے نہیں ہے. یہ کانوں کے لیے ہے۔اور یہ ہر ایک کان کے لیے بھی (معجزہ)نہیں ہے۔یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔
وہ معجزات چاہے آپ موسٰی علیہ السلام کے پیروکار نہ بھی ہوتے ،اگر آپ بس اس دریا میں مچھلیاں ہی پکڑ رہے ہوتے اور پانی پھٹتا اور آپ اس انسان کو دیکھ کر سوچتے کہ ضرور اس کا خدا سے کوئی ایسا تعلق واسطہ ہے. آپ اسے معجزہ سمجھتے کہ نہیں؟ آپ بالکل فوراً یہی سمجھتے.
لیکن سوال. یہ ہے کہ کیا جو بھی قرآن پڑھتا ہے اسکو قرآن معجزاتی لگتا ہے؟؟ نہیں
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جو بھی قرآن پڑھتا ہے اسکو یہ معجزاتی لگتا ہے؟  نہیں.
 کئی لوگ قرآن پڑھتے ہیں یَزِیۡدُہُمۡ نُفُوۡرًا انکی نفرت میں اضافہ ہی ہوتا ہے. انہیں اسلام سے پہلے ہی نفرت ہوتی ہے ،قرآن پڑھنے کے بعد وہ اسلام سے اور نفرت کرتے ہیں۔وہ واقعی اسلام سے نفرت کرت ہیں ۔ایسے بھی لوگ ہیں جو پہلے ہی انکاری تھے ترجمہ پڑھنے کے بعد وہ اور انکار،شک میں پڑھ جاتے ہیں ۔کیا ایسا ہی نہیں ہے؟
تو سوال یہ ہے کہ معجزہ کہاں ہے ؟تو  اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آخری رسول اور آخری پیغام مفت نہیں ہیں. ایسا نہیں ہے اب کہ کوئی بھی ایک جھلک دیکھے اور معجزہ پا جائے. اس کتاب کا معجزہ پانے کا ایک ہے طریقہ ہے کہ آپ اس (معجزہ کو) کھوجیں اور آپ اس کتاب پر سوچیں  اور آپ اس کتاب میں غور و فکر کریں، تدبر کریں، تب ہی یہ واضح ہو گا کہ یہ( کتاب) اللہ ہی کی طرف سے ہے. اگر آپ اسے ایک سطحی نظر سے دیکھیں گے تو یہ آپ کو کچھ نہیں دے گی۔ اگر آپ اس کی گہرائی میں جانے کا  فیصلہ کرتے ہیں تو......
میرا کالج میں ایک دوست تھا جو مسلم خاندان سے تھا پر وہ بہت مذہبی لوگ نہیں تھے. انہوں نے اسے کالج بھیجا اور اس نے فلاسفی میں بیچلر کرنے کا فیصلہ کیا. فلاسفی پڑھنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ آپ کی ایمان کا جنازہ نکل جاتا ہے 'انا للہ و انا الیہ راجعون'.
تو وہ بالکل(ایمان سے) نکل جاتا ہے بے یقین ، انکاری، شکی ہو جاتا ہے.
کسی چیز میں یقین نہیں رکھتا. اسے اپنے وجود کے ہونے پر بھی شک ہوتا ہے.  وہ ان لوگوں میں سے ہو جاتا ہے جو خلا میں لٹک رہے ہوتے ہیں۔تب اسے (دوست) کو قرآن میں غور کرنے کا  چیلنج دیا گیا. تو اس نے غور کیا. اس نے اپنے تمام فلاسفی کے سوال جو بھی وہ سوچ سکا وہ قرآن پر لے آ یا. اور اس نے اسے قراں کو بس دو سال ہی پڑھا اس امید سے کہ وہ کچھ شاید کچھ ایسا مل جائے کہ فلاسفی کے آگے یہ کتاب دب کر رہ جائے. پر وہ اس کتاب سے مسلسل شکست کھاتا رہا.
اور آپکو پتا ہے جو لوگ فلاسفی پڑھتے ہیں وہ بحث مباحثہ بہت پسند کرتے ہیں.  سو جب وہ بحث میں شکست کھائیں تو بہت غصہ ہو جاتے ہیں.  انکی انا پر چوٹ لگتی ہے.  سو وہ اگلی بار مزید سوالات کے ساتھ تیار ہو کر آتے ہیں.
وہ بھی ایسا ہی کرتا تھا. 
لیکن ہر دفعہ یہ کتاب جواب اس کے منہ پر دے مارتی تھی. وہ یہ دلائل کسی انسان کو تو نہیں دے رہا تھا. وہ کس کو دے رہا تھا؟ ایک کتاب کو۔۔ یا اللہ کو؟ وہ تو ایک کتاب کے ساتھ مباحثہ کر رہا تھا۔۔۔
دو سال کے بعد وہ میرے پاس آیا کہ میں نے اس کتاب کے ساتھ سخت مقابلہ کیا ہے،،،مگر اس نے مجھے مضبوطی سے جکڑ لیا ہے. مجھے ہر بات کا مطلب سمجھا دیا. اور میں یہاں تک پہنچا ہوں ۔۔۔کہ یہ ہے۔۔۔۔"لا ریب فيه"۔۔
یہ مرحلہ صرف ترجمے سے حاصل نہیں ہوگا، بلکہ  جب آپ اس پر غور و فکر کریں گے تب حاصل ہوگا. یہ میرا دعوٰی نہیں ہے، یہ اللہ کا دعوی ہے. 
"افلا يتدبرون القران ولو کان من عند غيرالله لوجدو فيه اختلافا كثيرا" سورت النساء آیت ٨٢

 یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلاف ہوتے.
ویسے اگر آپ قرآن کا مطالعہ سرسری یا سطحی کر رہے ہیں تو اس میں بہت سے اختلاف ملیں گے. تو پھر ایسے لوگ ان اختلافات (جو وہ قرآن میں پاتے ہیں )کی ویب سائیٹس بناتے ہیں،بلاگز  بناتے ہیں، ویڈیوز، فہرستیں مرتب کرتے ہیں.
کیوں ؟ کیونکہ انھوں نے قرآن میں تدبر نہیں کیا. اگر وہ تدبر کرتے تو وہ جان جاتے کہ یہ اللہ کے الفاظ ہیں۔۔۔
قرآن کے ساتھ میرے تعلق کا پہلا حصہ یہی ہے ۔۔۔کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔۔اس میں کوئی شک نہیں ۔۔یہ معجزہ ہے۔۔
قرآن کے ساتھ میرے تعلق کا دوسرا حصہ یہ ہے۔۔۔کہ یہ ھدی للمتقین ہے۔۔یہ ایک گائیڈینس ہے۔۔رہنمائی ہے۔۔نصیحت ہے۔۔رہنمائی کس کیلئے ہوتی ہے؟؟؟ اس کیلئے جو اس کا طلب گار ہوتا ہے۔۔جو کہتا ہے کہ میں مسلسل رہنمائی کی تلاش میں ہوں۔
هدى ۔۔ھدایہ۔۔عربی لفظ ھدیہ سے ملتا جلتا ہے۔یعنی ۔گفٹ۔۔تحفہ۔۔آپ صحرا میں رستہ بھٹک جانے والے کا تصور کریں۔۔ذرا صحرا میں سفر کی مشکلات کو ذہن میں لائیں ۔صحرا میں خط مستقیم پر سفر نا ممکن ہوتا ہے۔۔اگر آپ کوشش کریں بھی تو کیا ہوگا؟ آپ گول گول ہی گھوم جائیں گے. اب دیکھئے کہ صحرا میں بھٹکنے والے کیلئے سب سے بڑا تحفہ کیا ہو سکتا ہے؟ جو آپ اسے دے سکتے ہیں ؟
اب آپ خود یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔۔اسی وجہ سے "ہدی "  اور "ہدیہ " بہت مماثلت رکھتے ہیں.
 یہ دنیا قرآن سے ہمارے عقلی رشتے کی عکاسی نہیں کر سکتی.  وہ رشتہ جسکا ذکر لاریب فیہ میں ہوا ہے. 
اب والا رشتہ یہ ہے جس میں مجھے ہمہ وقت قرآن سے رہنمائی کی ضرورت ہے.  ویسی ضرورت جو ہمارے جسم کو پانی کی ہوتی ہے.  ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کل پانی پیا تھا تو آج میرے جسم کو پانی کی ضرورت نہیں. ہم جانتے ہیں پانی ہمارے جسم کی ضرورت ہے۔۔
اللہ عزوجل جب قرآن میں وحی کے نزول کا ذکر کرتے ہیں تو اس کو پانی سے کمپیئر کرتے ہیں.
اس کا پانی سے قریبی تعلق ہے. 
آپ کا جو تعلق پانی سے ہے وہی تعلق قرآن سے ہے. آپ اپنی پیاس کو اگنور نہیں کرتے۔ ہر چند گھنٹے کے بعد آپکو کچھ پینے کی ضرورت ہے۔یا ایسی خوراک لینے کی جس میں لیکوڈ ہو۔یعنی آپکو اپنی پیاس بجھانے کیلئے کسی بھی مائع کی ضروت ہے.  ایسے ہی آپکے دل کو ہر چند گھنٹے بعد وحی کی ضرورت ہوتی ہے.  اور یہ وحی قرآن ہے. 
ہر روز چند گھنٹوں کے بعد آپ  نماز میں اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ۔۔اھدنا الصراط المستقیم ۔۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ پانی پی رہے ہوں ۔۔آپ کیا مانگ رہے ہیں ؟ رہنمائی ،ہدائیت، گائیڈنس۔۔۔۔
رہنمائی اور پیاس دونوں قریبی تعلق رکھتے ہیں۔یہی ہے وہ دوسری چیز ہمارے تعلق کی.
جب کوئی شک نہیں رہ جاتا اور آپ مکمل طور قائل ہو جاتے ہیں کہ یہ الفاظ اللہ ہی کے ہیں. تب آپ قرآن کی طرف آتے ہیں. آپ اس سے ہدائیت مانگتے ہیں ،پھر آپ پیروی کرتے ہیں۔کیونکہ اب آپکو کوئی شک نہیں ہے. 
آج ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان لوگ اللہ کے فرمان کی پیروی کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں. وہ زیادہ آمادہ نظر نہیں آتے. وہ ھدیً للمتقین کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے.
آپ جانتے ہیں کہ عمومی طور پر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ' لا ریب فیہ ' کو سمجھت  ہی نہیں. 
اگر آپ لاریب فیہ کا خیال رکھیں گے تو آپ کو ھدًی للمتقین ملے گا. 
یہ ایک آرڈر ہے۔۔ایک ترتیب ہے۔۔یہی ترتیب/ یہی آرڈر ہمیں اسٹیبلش کرنے کی ضرورت ہے۔۔
نوجوان نسل کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ اس میں معجزاتی طاقت ہے. یہ صرف اللہ  ہی کی طرف سے کیوں ہے؟ یہ کیوں کسی اور کی طرف سے نہیں؟ اس میں شک کی کوئی گنجائش ہے۔۔
پس ان تینوں چیزیں خاص ترتیب سے ہیں اور اس آیت کو دوبارہ پڑھیں۔۔
"ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين" ساری آیت کو ایک اور طریقے سے.
ذلک الکتاب کو ایک ساتھ اور لاریب فیہ ھدیً للمتقین کو ایک ساتھ.
وہ ایسی کتاب ہے،  جس میں اس بات کا کوئی شک نہیں کہ اس کتاب میں ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو تقوٰی والے ہیں. 
دوسرے الفاظ میں اگر آپ محتاط زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ آپکی مطلوبہ پانی تک رہنمائی نہ کرے. تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آپکو گمراہ کردے. یا وہ آپکی حفاظت نا کرے. 
آج کا دور بہت زیادہ معلوماتی ہے. بہت سی متضاد معلومات موجود ہیں اور لوگ نہیں جانتے کہ کس کو فالو کریں؟
اگر آپ اللہ کی طرف مڑتے ہیں یہ کہہ کر کے اے میرے رب ! میری حفاظت کیجئے. تو یہ اللہ کی گارنٹی ہےکہ " لا ریب فیہ ھدی للمتقین "  اس میں کسی قسم کا کوئی شک کی بات نہیں پریشانی کی بات نہیں کہ یہ کتاب آپکو ضرور ہدایت دے گی.  یہ زندگی بھر کا تعلق ہے. 

آخری چیز جو میں اس وقت شئیر کرنا چاہوں گا ۔۔وہ ہے ھدیً للمتقین۔ یہ ایک مشکل
  adverbial phrase
ہے۔
اس کو سمجھنے کیلئے  میں ایک مثال دیتا ہوں. 
جب میں کہوں کہ ایک کار چل رہی ہے. 
اسکا انجن آن ہے یعنی کار وائیبریٹ کر رہی ہے. 
جب آپ کہتے ہیں کہ کار چلتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ کار شاید ابھی نہیں چل رہی لیکن یہ چلتی ہے، اس کے اندر کوئی پوٹینشل ہے (کوئی طاقت ہے، توانائی ہے ) جو اس کے انجن کو سٹارٹ کر سکے. اب غور کریں یعنی حقیقت میں کوئی ایسی چیز ہے اس کے اندر ، جو کار کو اس کام میں مصروف کر رہی ہے. 
اب جب اللہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب ھدیً للمتقین ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ نہ صرف آپکو گائیڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ یہ آپکو مسلسل گائیڈ کر بھی رہی ہے. صرف ایسا نہیں کہ اس میں ہدایت دینے کی طاقت موجود ہے بلکہ یہ اس وقت بھی آپکی رہنمائی کررہی ہے.  یعنی ابھی بھی انجن چل رہا ہے، اور آپ اسکو چلتا ہوا دیکھ رہے ہیں. 
یہ مؤمنین کیلئے ،یقین رکھنے والوں کیلئے زندہ تجربہ ہے. قرآن کے معجزانہ تجربات کو آپ خود ہی ایکسپیرئنس کر سکتے ہیں. آپ کیلئے کوئی دوسرا شخص، اس کی تشریح نہیں کرسکتا. اللہ کی کتاب میں معجزانہ رہنمائی موجود ہے. 
کبھی آپکی زندگی میں کوئی مشکل مرحلہ آئے اور آپ اس کتاب کو کھولیں خواہ کوئی سا بھی صفحہ پڑھیں. کہیں سے بھی چند آیات تلاوت کریں. یہ آپکو بالکل وہی مطلب دیں گی آپکو عین وہی جواب دیں گی، جو اس وقت آپکا اصل مسئلہ ہوگا. آپ کسی کو اس کا ثبوت پیش نہیں کر سکتے. کسی کو قائل نہیں کر سکتے کہ یہ ایک معجزہ ہے. یہ اللہ کی طرف سے رہنمائی کا انفرادی تحفہ ہے. یہ اللہ کی طرف سے آپ کیلئے زندگی میں رہنمائی کا گفٹ ہے. 
یہ ہے "ھدًی للمتقین۔۔۔۔۔"
اور جہاں تک صحابہ کرام رضوان اللہ  (ابتدائی اور اصلی مسلمانوں) کا ذکر ہے تو وہ بہت خوش قسمت لوگ تھے۔۔سبحان اللہ۔۔
جب وہ ایسے حالات  میں ہوتے کہ انکو سمجھ نا آتی کہ کیا کریں؟؟؟ تب حضرت جبرئیل علیہ السلام آسمان سے آتے اور آیات دیتے کہ یہ ہے جو آپکو کرنا ہے. 
سورت الاسراء آیت نمبر 106 "۔۔وقرآنا فرقنه لتقراه على الناس على مكث ونزلنه تنزيلا "
 ترجمہ : قرآن کو ہم نے کھول کھول کر ( وضاحت سے ،تھوڑا تھوڑا کر کے) اس لئے اتارا ہے کہ آپ اسے بہ مہلت لوگوں کو سنائیں. اور ہم نے خود بھی اسے بتدریج نازل کیا ہے۔
تب حالات کے عین مطابق آیات نازل ہو رہی تھیں. لیک. آپ اور میرے لئے  23 سال تک اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  موجود رہے. اب جبکہ ساری چیزیں سارے احکامات آچکے ہیں. سارا قرآن نازل ہو چکا ہے.
ہم جان گئے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔کیونکہ تمام قرآن بیان ہو چکا ہے۔سارا قرآن رہنمائی کا ایک ہال ہے.  یہ آپکو ہمیشہ رہنمائی دیتا ہے. اور ایسے ہی دیتا ہے جیسے یہ آپ ہی کے لیے ابھی ہی اترا ہے.  اور دیتا رہے گا.  یہ اللہ عزوجل کا تحفہ ہے ان لوگوں کیلئے جو متقین ہیں.
یہاں ہمارا آجکا سبق ختم ہوتا ہے.. کل ہم ان شاء اللہ دیکھیں گے متقین، تقوٰی والے لوگ، کون ہوتے ہیں یہ لوگ؟ آپ کیسے تقوٰی والے بن سکتے ہیں تاکہ مجھے اور آپکو صحیح معنوں میں اللہ کیطرف سے ہدایت مل سکے.  

-نعمان علی خان

جاری ہے.

جمعہ, جولائی 29, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ دوم

حصہ دوم

جب کوئی بول رہا ہو تو وہ بس اپنے لب ہلا رہا ہوتا ہے. لیکن جب کوئی پڑھا رہا ہو تو اس کے ذہن میں کس کا خیال ہوتا ہے؟ اپنے طلباء کا، تو جو بھی استاد پڑھاتا ہے اس کا مقصد کس کو فائدہ پہنچانا ہے؟ طلباء کو.
تو اس اصول کے پیش نظر جب اللہ تعالٰی ہمیں پڑھاتے ہیں الف لام میم، تو اس میں بھی قرآن کے طالبعلم کے لیے کوئی نہ کوئی فائدہ ہے. آپ کا فائدہ ہے. لیکن سوال یہ ہے کہ جب میں  اس کے معنی سے ہی ناواقف ہوں تو اس سے مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ کیونکہ  اس سے  فائدہ اٹھانے کے لیے مجھے اس کے مفہوم سے تو واقف ہونا چاہیے؟ کلاس میں اگر استاد کچھ پڑھائے اور وہ آپ کو سمجھ نہ آئے تو آپ کیا کریں گے؟ آپ ہاتھ کھڑا کریں گے اور سوال کریں گے کہ یہ مجھے سمجھ نہیں آیا. کیا آپ اسے دوبارہ سمجھا سکتے ہیں؟ مجھے واضح کر کے سمجھائیے. لیکن آپ دنیا میں کسی سے بھی پوچھ لیں. کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ الف لام میم کیا ہے؟  کسی کو علم ہے کہ ان کے معنی کیا ہیں؟  ان کی تفسیر کیا ہے؟ ان کے پیچھے کیا راز ہے؟  کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے. کسی کو اس سوال کا جواب نہیں ملا اور یہ ظاہر ہے کہ کسی کو ملے گا بھی نہیں. تب تک نہیں جب تک روز قیامت نہ آ جائے اور اللہ تعالٰی ہمیں اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر لیں اور ہمیں اپنے استاد اللہ تعالٰی سے یہ پوچھنے کا موقع نہ مل جائے کہ یہ ا ل م کے کیا معنی ہیں؟ بے شک آپ ا ل م کے معنی سے ناواقف ہیں. لیکن پتہ ہے کہ تب بھی ان میں فائدہ ہے آپ کے لیے. میں آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرنا چاہ رہا ہوں کہ اس کا کیا فائدہ ہے؟ کیا مقصد ہے؟ فائدہ یہ ہے.
آپ جانتے ہیں کہ آج کل کالج کے پہلے دن کو طلبہ کے لیے کیا نام دیا جاتا ہے؟
 student's orientation.
طلباء کی واقفیت

آپ نے کبھی اس کے بارے میں سنا ہے؟ کلاس کا پہلا دن ہو تو استاد طلبہ کو کیا کہتے ہیں؟ "آپ کو ایسا طرز عمل اپنانا چاہیے. آپ کو اتنے گھنٹے پڑھائی کو دینے چاہئیں فلاں فلاں سرگرمیوں سے دور رہیں. اپنی اسائینمنٹس وقت پر جمع کروانی ہوں گی. امتحان کے لیے ہفتوں پہلے تیاری شروع کر دیں.وغیرہ وغیرہ."
 استاد آپ کو ذہنی طور پر اس چیز کے لیے تیار کرتے ہیں جس کا سامنا آپ کو آگے جا کر کرنا ہے. اور اگر آپ ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے، تو آپ کا طرز عمل ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ  کچھ سیکھنے میں کامیاب ہو جائیں.
قرآن کے طالب علم کے لیے پہلی واقفیت یہ ہے کہ "وہ کچھ نہیں  جانتے". پہلی واقفیت قرآن کے طالب علم کے لیے یہ ہے الف لام میم. اس کا کیا مطلب ہے آپ نہیں جانتے. اور اس بات کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کر لیں کہ آپ نہیں جانتے جو وہ جانتا ہے.
واللہ یعلم و انتُم لا تعلمون
اللہ جانتا ہے  اور تم نہیں  جانتے.

اس کتاب کی طرف تنقید کرنے کے ارادے سے مت آؤ. اور اللہ تعالٰی پہ یہ زور مت دو کہ جب تک مجھے سمجھ نہ آئے میں ایمان نہیں لاؤں گا. جب تک میں مطمئن نہ ہوں، میرا تجسس نہ ٹوٹے تب تک مجھے یقین نہیں آئے گا. نہیں. بالکل نہیں.
 آپ کو اس کتاب کی طرف عاجزی سے آنا ہو گا. تجسس کے ہاتھوں نہیں. آج کے دور میں آپ نیٹ سے کتاب ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں، موبائل پہ محفوظ کر کے پڑھ سکتے ہیں. اس کے کچھ باب آپ کو پسند آتے ہیں اور کچھ پسند نہیں آتے. اور کیونکہ آج نیٹ کا دور ہے تو آپ کوئی بھی کتاب خریدنے سے پہلے اس کے بارے میں لوگوں کی رائے دیکھتے ہیں. کیا یہ کتاب بہترین بِکنے والی کتابوں میں سے ہے. انٹرنیٹ پر اس کے بارے میں لوگوں کے تبصرے کیا بتاتے ہیں؟ جب بھی ہم کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ ہم صرف اس کو پڑھتے ہی نہیں ہیں ہم تنقید بھی کرتے ہیں. ہم اس پر تبصرہ بھی کرتے ہیں کہ ہاں یہ پسند آیا، یہ بس ٹھیک لگا، یہ حصہ پسند نہیں آیا. یہ کام ہم فلموں، اور کارٹونز کے ساتھ بھی کرتے ہیں. حتٰی کہ یہ کام ہم اپنے کالج اور اساتذہ کے ساتھ بھی کرتے ہیں. فلاں استاد تو بہت برا سمجھاتے ہیں. ان کے سمجھانے کا انداز نہیں اچھا. وغیرہ وغیرہ.
دوسرے لفظوں میں اختیار آپ کے پاس ہوتا ہے. کاروباری دنیا میں کیا کہا جاتا ہے؟ " گاہک ہمیشہ درست کہتا ہے." کالج میں طالب علم گاہک ہے کیونکہ وہ فیس دیتا ہے. کتاب پڑھنے والا گاہک ہے کیونکہ اس نے کتاب کے پیسے دیے ہیں. ہر گاہک کو تنقید کا حق ہے. اور لوگ یہی گاہکوں کا سا رویہ لے کر قرآن کی طرف آتے ہیں. یہاں تک کہ بہت سے مسلمان بھی یہ کہتے ہیں " یہ حصہ سمجھ سے باہر ہے. یہ مجھے سمجھ نہیں آیا. یہ حصہ میں نے پڑھا تو مجھے عجیب لگا. یہ کچھ کنفیوژنگ ہے." اور وہ یوں بات کرتے ہیں جیسے کسی عام کتاب کی بات کر رہے ہوں. یہ کوئی عام کتاب نہیں ہے. آپ اس کتاب کی طرف ایک گاہک بن کے نہیں آ سکتے جو ہمیشہ ٹھیک بات کرتا ہے.
آپ اس کتاب کی طرف ایک بھکاری بن کر آئیں، ایک مفلس شخص کی طرح آئیں اور صرف یہی ہے جو آپ کی بھوک مٹائے گی. 
آپ اس کتاب کی طرف ایک ایسے شخص کی مانند آئیں جو صحرا میں بھٹک رہا ہو، پیاس سے مر رہا ہو. آپ اسے پانی کے چند گھونٹ دیں گے تو وہ پانی کے گرم ہونے پر اعتراض نہیں کرے گا. نہ ہی وہ یہ کہے گا کہ پانی کے بجائے جوس یا سوڈا مل سکتا ہے؟ وہ بس جلدی سے پانی پی لے گا. جب آپ ہدایت کے شدت سے طلبگار ہوں تو آپ یہی کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی جانتے ہیں کہ میرے لیے کیا بہتر ہے. جو مجھے جاننا چاہیے اور جو مجھے نہیں جاننا چاہیے یہ اللہ تعالٰی کو پتہ ہے.
اور ایک اور بہت خوبصورت حصہ اس واقفیت(اورئینٹیشن) کا.
اللہ تعالٰی ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے یہ کتاب پڑھتے ہوئے. کیونکہ واللہ العظیم.
ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ بھٹک جائیں اور یہ تب ہوتا ہے جب آپ کا طرز عمل ٹھیک نہیں.  آپکا دماغ اور دل ٹھیک جگہ پر نا ہو. 
تو پھر..
يضل به كثيراً و يهدي به كثيراً
یہی کتاب بہت سوں کو ہدایت دے گی اور بہت لوگ اسی کے ذریعے بھٹکتے رہیں گے. کیونکہ ان کا طرز عمل درست نہیں تھا. اس لیے اللہ تعالٰی خود فرماتے ہیں
"و ما یضل به الا الفسقين "
اور وہ نہیں گمراہ کرتا کسی کو مگر وہ جو فاسق ہوں.

تو الف لام میم میں اگلا سبق کیا ہے جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں؟ کہ ہمیں اپنے تجسس کا رخ واپس موڑنے اور روکنے میں کوئی شرم یا بے عزتی محسوس نہیں کرنی چاہیے. بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تک الف لام میم میں  اٹکے ہوئے ہیں. وہ دس سال سے قرآن کے طالب ہیں اور وہ کس چیز پر تحقیق کر رہے ہیں؟ کہ الف لام میم کے کیا معنی ہیں.؟ وہ ابھی ذلك الكتاب لا ريب فيه تک بھی نہیں پہنچ پائے.
"مجھے لگتا ہے الف ایک کوڈ ہے اس کی عددی ویلیو 37.8  ہے." لام" بھی ایک کوڈ ہے اس کی یہ  ویلیو ہے اور "میم" یہ ہے. میرا نظریہ یہ ہے............ وغیرہ"
یا اللہ..... میں اپنا سر پکڑ لیتا ہوں ان باتوں پر. وہ قرآن کے بارے میں سب کچھ پڑھ رہے ہیں سوائے قرآن کے. آپ بھٹک سکتے ہیں قرآن میں کیونکہ اب آپ نے اللہ تعالٰی کے الفاظ کو پہلے نہیں رکھا. آپ نے اپنے تجسس کو فوقیت دی. جو آپ کو دلچسپ لگا، بس وہ  آپ کے لیے مقدم ہے.
 اور کچھ لوگ متشابہات کے پیچھے بھاگتے ہیں. وہ صرف اس کی پیچھے جاتے ہیں جو اللہ تعالٰی نے کسی مقصد کے باعث غیر واضح رکھا.
 جانتے ہیں کہ ایک استاد کے لیے بہت اہم ہے کہ وہ آپ کو کچھ چیزیں سکھائےاور ایک استاد کے لیے اتنا ہی اہم ہے کہ وہ کچھ چیزیں آپکو نا سکھائے. یہ بھی سکھانے کا ہی ایک عمل ہے. کچھ چیزیں ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں کرنا. ہر چیز کے بارے میں تجسس اچھا نہیں ہوتا. کچھ سوال آپ کو پوچھنے ہی نہیں چاہیے. ہم ہر جمعہ کو سورۃ الکھف کی تلاوت کرتے ہیں. موسٰی علیہ السلام ایک سفر پر تھے. ان کی اورئینٹیشن کیا تھی؟
 لاتسئلنی فی شئ... مجھ سے کچھ سوال مت کرنا جب تک میں اجازت نہ دوں. یہ ان کی اورئینٹیشن کا حصہ تھا. ہمارے معاشرے میں آج کل ہر سوال کو ویلکم کہا جاتا ہے. ہر سوال درست ہے.
کچھ معاملوں میں ہر سوال کرنا ایک الگ بات ہے لیکن قرآن اپنے پڑھنے والے کو مفید سوالات اور غیر ضروری سوالات میں فرق جاننے کا کہتا ہے.
 سوال پوچھیے لیکن وہ جن سے کچھ فائدہ ہو. اگر اللہ تعالٰی نے نہیں بتایا ان کا مطلب، تو نہ جاننا آپ کے لیے فائدہ مند ہے. اس کے مفہوم سے ناواقفیت آپ کے لیے ذیادہ فائدہ مند ہے. تو یہ الف لام میم کی کہانی ہے.
اور سبحان اللہ میں نے آپ کو کیا بتایا کہ یہ آپ کے لیے ایک پہلی واقفیت ہے اور آپ قرآن میں ایک نہایت زبردست چیز پر ذرا غور کریں گے. جب بھی آپ قرآن میں اس طرح  کے حروف دیکھیں ا ل م، ق،  ص، الف لام میم را ، الف لام را،  تو ان حروف کے بعد اگلی آیات بھلا کون سی آتی ہیں؟
الم الله لا اله إلا هوالحیی القیوم نزل عليك الكتاب
المص كتاب انزل اليك
الر تلك أيت الكتاب الحکیم
الر كتاب انزلنه اليك
طه ما انزلنا اليك القرآن لتشقٰى
الم تلك أيت الكتاب الحكيم هدى و رحمة المحسنين
حم تنزيل من الرحمن الرحيم
يس والقرآن الحكيم
حم والكتاب المبين


بار بار جب بھی یہ حروف  آئیں، اگلی آیات میں قرآن کا ذکر ہے. بار بار جب بھی ان حروف کا استعمال ہو اور آپ کے دماغ میں یہ سوال اٹھے کہ ان کا کیا مطلب ہے اللہ تعالٰی فوراً کہتے ہیں کہ  قرآن واضح ہے. قرآن ہدایت سے، حکمت سے بھر پور ہے. یہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں ایک تعارف ایک واقفیت دیتے ہیں لیکن تعارف کا یہ حصہ ہم آسانی سے بھول جاتے ہیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمیں تجسس نہیں عاجزی دکھانی ہے اور اپنے دماغ کو سیدھی راہ کی طرف راغب کرنا ہے. تو اللہ تعالٰی ہمیں بار بار یاددہانی کرواتے ہیں اور وہ صرف ایک ہی طرح کے حروف استعمال نہیں کرتے. وہ حروف بدل دیتے ہیں کہ ہمارے اندر تجسس کی بلی اچھل کر کہے کہ اس دفعہ "ح م" کیوں کہا گیا، اس بار" ا ل م" کیوں نہ استعمال کیا گیا. یا "ا ل ر" کیوں نہیں. وہاں "ا ل م" تھا یہاں  "ا ل ر" ہے. یہ کیا ہے؟  اور اللہ تعالٰی ہمارا امتحان لیتے ہیں. وہ واقعی ہمارا امتحان  لیتے ہیں کہ کیا تم تجسس کے ہاتھوں بھٹک جاتے ہو یا کتاب کے ذریعے ہدایت پاتے ہو. سبحان اللہ

اگلی آیت کی طرف  چلتے ہیں.
ذالك الكتاب لا ريب فيه هدى  المتقين
اس آیت کے بہت سے تدبر ہیں لیکن میں کچھ ذخیرہِ الفاظ (ووکیبیولری) کی بات کروں گا. اس آیت کے اہم الفاظ ہیں
کتاب
ریب
ھُدًی
تقوٰی

پہلا لفظ ہے کتاب یا کتب..
جدید عربی میں کَتَبَ کے معنی ہیں "لکھنا". مگر پرانے وقتوں میں قلم کا استعمال بہت کم تھا. لوگ لکھا کرتے تھے، مگر ان کے لکھنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ پتھروں کو تراشتے تھے یا لکڑی کو، یا پھر چمڑے پہ سیتے تھے. یہاں وہی نظریہ پیش کیا جا رہا ہے کہ جب آپ تراشتے ہیں یا پھر چمڑے پہ سیتے ہیں تو اصل میں اُسے ہی  "کِتابہ" کہا جاتا ہے.
اب وہ آج کے دور سے کچھ مختلف ہے. کیونکہ آج کل ہم ڈیجیٹل ڈیوائسز پہ لکھتے ہیں. اپنی انگلیوں کے ذریعے کی بورڈ کو چھو کر لکھتے ہیں.
اب جب آپ لکھ رہے ہیں، اور ایک جملہ لکھنے کے بعد آپ کو اس میں کوئی لفظ پسند نا آئے تو آپ کیا کرتے ہیں؟
آسانی سے ڈیلیٹ کردیتے ہیں. یا پھر کٹ/پیسٹ، یا کسی جملے کو پیراگراف کے آخر میں پیسٹ کرنا ہو یا شروع میں لانا ہو تو یہ ہمارے لیے بہت آسان ہے اب. ڈیجیٹل رائٹنگ میں یہ کام بہت آسان ہے.
پر اگر آپ کو لکڑی یا پتھر پہ تراشنا پڑجائے اور آخر میں آپ کو لگے کہ یہ فلاں لفظ یہاں نہیں کہیں اور ہونا چاہیے تھا تو آپ کیا کرتے؟
سارا کام دوبارہ سے کرنا پڑتا.
یہی نقصان ہے "کتابہ" کا، ایک دفعہ لکھ دیا تو بس لکھ دیا، اس کے لیے کوئی ڈیلیٹ بٹن نہیں ہے. پرانے وقتوں میں یہ ایک نقصان تھا ایک دفعہ تراش دیا تو تبدیل کرنا ناممکن تھا.
اللہ نے لفظ "کتاب" استعمال کر کے قرآن کی ایک بہت گہری حقیقت  سے روشناس کروایا ہے ہمیں.
یہ جو ہے، یہی رہے گا، اس میں تبدیلی کی کوئی جگہ نہیں! اسے بدلا نہیں جا سکتا. یہ ایسا ہی رہے گا.
ویسے جب آپ تراشتے ہیں تو اسے پرفیکٹ طریقے سے کرتے ہیں نا؟ کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت نہ رہے. ہے نا؟
تصور کریں، زبانی روایات (اورل ٹریڈیشن)میں یہ کیسا ہوگا؟ یہ قرآن رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم پہ زبانی نازل ہوا تھا، اور پھر بھی اللہ نے اسے کتاب کہا ہے.
کیونکہ قرآن پرفیکٹ فارم میں سیٹ کیا جاچکا تھا. تو یہ فاتحہ پہلے کیوں ہیں، بقرہ دوسری کیوں ہے، آل عمران تیسری کیوں ہے؟ نساء اس کے بعد کیوں ہے، یہ پرفیکٹ آرڈر ہے. اگر یہ پرفیکٹ نہ ہوتا، یہ سورتیں آگے پیچھے ہوتیں تو قرآن کو کتاب نہ کہا جاتا. کیونکہ کتاب پرفیکٹ فارم میں ہوتی ہے، اس میں لچک نہیں ہوتی. آپ اسکو کلام کہہ سکتے ہیں لیکن کتاب نہیں. 

اب بات کرتے ہیں کتاب اور قرآن میں کیا فرق ہے.
لفظ قرآن "قرا" سے نکلا ہے. اور قرا کا معنی ہے "اونچی آواز میں پڑھنا"
کتب کا میں نے پہلے بتایا کے گڑھ کے لکھنا.
اللہ کے کلام کے دو مشہور نام یہی ہیں، کتاب اور قرآن.
دونوں کے معنی میں ذرا سا فرق ہے. جب اللہ فرماتے ہیں "الکتاب" تو وہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں جو لکھی گئی ہے، اور جب قرآن کہتے ہیں تو اس کی تلاوت کی طرف اشارہ ہوتا ہے.
اب بات یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت یہاں ہوتی ہے، دنیا میں! پر لکھی کہاں گئی تھی؟ لوح محفوظ میں، ساتویں آسمان پر.
قرآن کی تلاوت اس دنیا میں ہوتی ہے، جو ہمارے نزدیک ہے. مگر اس کا لکھا جانا ہم سے بہت دور ہے.
جب کوئی چیز نزدیک ہوتی ہے آپ اسے "یہ" کہتے ہیں. جب کوئی چیز دور ہوتی ہے تب اسے "وہ" کہتے ہیں.
اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا "ھذالکتٰب لاریب" انہوں نے فرمایا "ذلک الکتٰب" وہ کتاب. انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ "یہ کتاب" بلکہ فرمایا "وہ کتاب".
کیونکہ یہ کتابی شکل میں ہمارے نزدیک نہیں بلکہ بہت دور ہے. لوح محفوظ میں. مگر جہاں بھی اللہ نے قرآن کہا تو ساتھ "ھذا" استعمال کیا. کہ یہ قرآن. "ان ھذا القرآن" یہ قرآن. وہ قرآن نہیں فرمایا گیا.
وہ لفظ استعمال ہوا جو نزدیک ہونے کو ظاہر کرتا ہے. کیوں؟ کیونکہ قرا، قرات، یہاں اس دنیا میں ہمارے نزدیک ہوتی ہے دور نہیں. سبحان اللہ....

یاد ہے الم نے لوگوں کو تجسس میں ڈال دیا تھا، کہ یہ تو حروف تہجی ہیں. اور حروف تو کسی کتاب میں ہی ہوتے ہیں. تو کتاب کہاں ہے؟ تو یہاں بتایا جارہا ہے کہ کتاب بہت دور ہے. 

اس کے بعد لفظ رَیب
ریب ان کئی لفظوں میں سے ایک لفظ ہے جسے عربی میں "شک" کے لیے استعمال کیا جاتا ہے.
شک، مرج، اور بھی کافی لفظ ہیں اس ایک معنی کے لیے. مگر ریب ایسا لفظ ہے،جو کسی انسان کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے. جب کوئی شخص اندر سے مضطرب ہو، ہل کر رہ گیا ہو.
شک کی بھی قسمیں ہوتی ہیں. مثال کے طور پر، آپ کے پاس سے کوئی گاڑی گزری ہے اور آپ شک میں پڑجاتے ہیں کہ کیا وہ مرسڈیز تھی؟ یا شاید کوئی اور گاڑی تھی. یہ ایسا شک ہے جس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا. آپ مضطرب نہیں ہوتے. پھر ایک شک ہوتا ہے جس سے آپ کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ مسلسل آپ کو پریشان کرتا رہتا ہے، آپ کی نیند میں خلل پیدا کرتا ہے، آپ پریشان ہی رہتے ہیں جب تک وہ کنفیوژن حل نہیں ہوجاتی. اور اس طرح کے شک کو، جس میں آپ کی نیندیں اُڑ جائیں ریب کہتے ہیں. 

اگلا لفظ جو ہم ڈسکس کریں گے وہ "متقین" ہے.
یہ لفظ تقوٰی یا وقایا سے نکلتا ہے. وِقایا کا معنی ہے  بہت زیادہ حفاظت/بے اندازہ حفاظت
بعض گھوڑوں کو محافظ گھوڑے کہا جاتا ہے، اور کیوں کہا جاتا ہے؟
آپ جانتے ہیں نا گھوڑوں کے کھر/پاوں ہوتے ہیں اور ان کے پاوں کی حفاظت کے لیے آپ ان کے نیچے میٹل کلیمپ لگادیتے ہیں اور ان کے جوتے اس پر پہناتے ہیں.
تصور کریں کہ ایک جنگی گھوڑے نے اپنے جوتے کھودیے ہیں، اس کے پاوں اس کے باعث بہت زیادہ حساس ہوجائیں گے، اس لیے وہ ناہموار زمین پہ چلتے ہوئے بہت ہی زیادہ احتیاط کرے گا. ہر جگہ احتیاط سے قدم رکھے گا. اور اس گھوڑے کو، جو اپنے پاوں کی حفاظت کررہا ہوتا ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ تقوی اختیار کررہا ہے.
عربی میں، اسلام سے قبل، اس گھوڑے کو یہ کہا جاتا تھا. کیونکہ وہ ایک ایک قدم پھونک کر رکھ رہا ہوتا ہے کہ کوئی قدم مجھے تکلیف میں نہ مبتلا کردے..سبحان اللہ.
اللہ نے وہی لفظ ایک مومن کے رویے کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا ہے. اور یہ لفظ متقین کے معنی کا ایک حصہ ہے.
اب آیت کا صحیح سے مطالعہ کرتے ہیں.

ذلک الکتب لاریب فیہ ھدی للمتقین
اس آیت کو سمجھنے کے چھ مختلف طریقے ہیں.
پہلا:
الم. وہ کتاب ہے.
الم اس کی واقفیت/تعارف ہے.
الم سنتے ہی سننے والا کہے گا،
 کیا؟
کیا کہا ابھی اس نے؟
پھر آگے آتا ہے وہ کتاب ہے
میں یہاں کتاب کا دوسرا معنی استعمال کر کے بات کو سمجھاتا ہوں، کیونکہ لفظ کتاب عربی میں مصدر ہے، جس کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ حقیقت میں وہ لکھی ہوئی ہے یا وہ خود لکھی جارہی ہے
میں چاہتا ہوں کہ آپ تصور کریں کہ کسی شخص نے رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کو الم. ذلک الکتب  پڑھتے سنا. اور اللہ انہیں بتا رہا کے کہ کیا تم نے ابھی الم سنا؟ وہ لکھی جارہی ہے. وہ (نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم) صرف اس کی تلاوت نہیں کر رہے وہ کہیں سے لکھی ہوئی نازل ہوئی ہے. یہ منفرد طریقے سے لکھی گئی ہے. اور اس طرح لکھی گئی ہے جس طرح اور کوئی چیز نہیں لکھی گئی. اس لیے یہ ذلک کتابُ نہیں بلکہ ذلک الکتٰب ہے..کہ یہ ایک بہت خاص کتاب ہے، ایسی کتاب پہلے کبھی نہیں لکھی گئی. یہ جو تم سن رہے ہو یہ صرف ایک انسان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھ نہیں رہا بلکہ ایک خاص کتاب سے لیا گیا ہے یہ جو بہت دور سے آئی ہے.  یہ ہے پہلی بات. 

-نعمان علی خان

جاری ہے

بدھ, جولائی 27, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ اول

استاد نعمان علی خان کے رمضان میں دیے گیے سورہ بقرہ کے  لیکچرز کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے.

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

 السلام و علیکم 

ہماری کوشش ہے کہ اس رمضان میں سورۃ بقرۃ کی چند  آیات و اسباق پہ جتنا ہو سکے تدبر کیا جائے. میں چاہتا ہوں کہ روز آپ کو پہلے سے بتا دوں کہ آج ہم قرآن کی کتنی آیات پڑھیں گے مگر میں جب بھی قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہوں تو احساس ہوتا کہ کچھ سورتیں، کچھ رکوع، کچھ آیات تاریخی اہمیت کی حامل ہیں اور ان پر زیادہ بات ہونی چاہیے میں چاہتا ہوں کہ سورۃ بقرۃ کی آیات آپ کو نہایت تعمیری طریقے سے اور نہایت دلچسپ معنے میں پڑھاؤں. بجائے اس کے کہ میں آپ کو سورۃ شروع کرنے سے پہلے اسکا تعارف دوں میں چاہوں گا کہ آپ اس سورۃ کا تعارف اس کی آیات پڑھتے ہوئے ساتھ ساتھ حاصل کریں تو ہم سیدھا اس کی آیات سے شروع کریں گے انشاءاللہ.
سورۃ بقرۃ قرآن مجید کی سب سے بڑی سورۃ ہے اور کون سا موضوع اگلی آیات میں زیر بحث آئے گا یہ میں آپ کو وقتاً فوقتاً بتاتا رہوں گا. اللہ تعالٰی نے یہ سورۃ مدینہ میں نازل فرمائی یعنی یہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی تو یہ سورۃ اللہ کے نبی کے مشن کا اگلا حصہ لیے ہوئے ہے.
 یہ بات بہت اہم ہے کہ تمام مدنی سورتیں، قرآن حکیم کا آخری %35 ہیں. زیادہ تر قرآن پہلے ہی نازل ہو چکا تھا. قرآن کا بیشتر حصہ کہاں نازل ہوا؟ مکہ میں. جب رسول اللہ صل اللہ علیہ و السلام مکہ میں تھے تو یہ قرآن کا آخری حصہ ہے اور یہ پہلے حصے سے مختلف ایسے ہے کہ اب آیات طویل تھیں اور موضوع مختلف. کیونکہ جب رسول صل اللہ علیہ و السلام پر قرآن مکہ میں نازل ہوا تب وہ اقلیت میں تھے، مغلوب تھے اور اہل مکہ انہیں ، باغی! لاقانونیت کا حامل! اور معاشرے کے لیے خطرہ سمجھتے تھے اور اگر آپ غور کریں تو مکی سورتوں میں يا ايها الناس! اے تمام لوگوں،  يا عبادى اے میرے بندوں کہہ کے مخاطب کیا گیا ہے یا اللہ کہتے ہیں قل يا أيها الكافرون کہہ دو ان سے جو کفر کرتے ہیں. مکی سورتوں میں آپ کو یہ طرز تخاطب يا أيها الذين آمنوا تقریباً نہیں ملے گا.
جب اللہ کے نبی مدینہ تشریف لائے تو نئی ریاست بنی بے شک وہ ایک طرح سے حالت جنگ میں تھے کیونکہ  اہل مکہ اور اہل مدینہ کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں مگر کم از کم مدینہ میں مسلمان چین سے امن میں تھے. اور یہود و نصارٰی سے معاہدے کر چکے تھے. کچھ یہود و نصارٰی مسلمان ہو چکے تھے اور اب وہ امت مسلمہ کا حصہ تھے. اگرچہ ان کے اہل وعیال ابھی تک غیر مسلم تھے اور اب یہ مسلمان، یہود و نصارٰی ایک معاشرے میں اکٹھے تھے اور انہوں نے مل کر ریاست مدینہ کی حفاظت کا معاہدہ کر رکھا تھا. یہ مسلمانوں کے لیے مدینہ میں نئی زندگی تھی اور اس دوران جو پہلی سورۃ نازل ہوئی وہ تھی سورۃ بقرۃ.
اس وقت جب رسول صل اللہ علیہ و السلام مدینہ میں اسلامی معاشرے کی تشکیل میں مصروف تھے.  مسلمانوں کو پہلے سے تیار کیا جارہا تھا کیسے بھی حالات کے لیے،  کیونکہ اہل مکہ مسلمانوں کو امن میں دیکھ کے خوش نہیں تھے. مکہ کے قریش جنگ کا کوئی بہانہ ڈھونڈ رہے تھے. اور ڈیڑھ سال میں مسلمانوں کو غزوہ بدر کا معرکہ لڑنا تھا تو اس سورۃ میں آپ بہت سی آیات دیکھیں گے کہ یہ آیات مسلمانوں کو پہلے سے جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رہی ہیں. جس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت کے پہلے دو سال میں نازل ہوئی لیکن کچھ آیات ایسی ہیں جو کہ مدینہ میں رسول صل اللہ علیہ و السلام کی زندگی کے آخری ادوار کا احاطہ کرتی ہیں. تو یہ نہیں ہے کہ یہ سورۃ ایک ساتھ پوری نازل ہوئی بلکہ یہ کچھ سالوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتی رہی. اور یہ بھی صرف اسی سورۃ کی خاصیت ہے کہ بے شک یہ مدنی سورۃ ہے مگر اس کی کچھ آیات... آپ اسے مکی سورۃ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ مکی سورۃ کا مطلب ہے کہ اس کی آیات آسمان سے مکہ میں نازل ہوئیں مدنی سورۃ کا مطلب یہ کہ  آیات آسمان سے مدینہ میں نازل ہوئیں. مگر اس سورۃ کی آخری آیات.. وہ تب نازل ہوئیں جب رسول صل اللہ علیہ و السلام معراج کی رات  آسمان پہ گئے تھے تو یہ ہے اس سورۃ کی خاصیت اور اس میں وہ خاص دعا ہے جو میں روز نماز عشاء میں پڑھتا ہوں.

اور ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ سامعین کیسے مختلف ہیں.  عربی کا مشہور قول ہے کہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات کریں.  میں بچوں سے اور طرح بات کرتا ہوں، بڑوں سے اور طرح، کالج کے لڑکوں سے اور طرح، کیونکہ سامعین میں بہت فرق ہے، اس لیے مدینہ کے سامعین اہل مکہ سے بہت مختلف ہیں وہ کچھ نہ کچھ جانتے ہیں. وہ تورات و انجیل سے واقف ہیں کچھ پُشتوں سے یہود ہیں کچھ نصارٰی اور اب وہ قرآن کے سامعین ہیں. اس لیے قرآن صرف مسلمانوں کو نہیں سنایا جا رہا.  آج کے دور میں اگر میں تلاوت کر رہا ہوں اور کوئی پاس سے گزرتا ہے یا کوئی عمارت کے باہر سے ہی چند قرآن مجید کی تلاوت کی آواز سنے تو اسے کچھ پتہ نہیں چلے گا کہ کیا کہا جا رہا ہے.  لیکن جب اس دور میں تلاوت قرآن ہوتی تھی، قرآن عربی زبان میں ان لوگوں کی زبان میں تھا جسے وہ لوگ فوراً سمجھ جاتے تھے. اس کے مفہوم تک پہنچ جاتے تھے چاہے وہ مسلم تھے یا نہیں وہ اسے سمجھ سکتے تھے یہ ان سب کے لیے، یہودی، نصرانی، مسلمان، جو وہاں موجود تھے،ہر ایک کے لیے ریڈیو نشریات جیسا تھا.
تو اس پس منظر میں آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ اس سورۃ میں کیسی آیات شامل ہوں گی. یہ آیات اہل مکہ کے لیے نازل کردہ آیات سے مختلف ہیں کیونکہ اہل مکہ کو آسمانی کتب سے کوئی واقیت نہ تھی. وہ لوگ مشرک تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے. وہ ہزاروں سال پہلے کا دین اسماعیل علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کا دین بھول چکے تھے. انہوں نے قربانی کا دستور جاری رکھا تھا مگر وہ یہ بھول چکے تھے کہ وہ قربانی کرتے کیوں تھے. ان کے ہاں خانہ کعبہ تھا مگر وہ تعمیر کعبہ کا مقصد فراموش کر چکے تھے.  تو آسمانی کتب اور آخرت کا خیال سب کچھ ان کے ذہن سے محو ہو چکا تھا. لیکن یہ معاملہ مدینہ کے سامعین کے ساتھ نہ تھا. جو آخری فرق اہل مکہ اورمدینہ کے درمیان تھا وہ یہ کہ جس طرح ہم جمعہ کا خطبہ سنتے ہیں، اسی طرح نصارٰی کا بھی ان کے گرجا گھروں میں ایک مخصوص دن تھا. یہودی بھی ایک خاص دن اپنا خطبہ سنتے ہیں ویسے ہی جیسے ہم سنتے ہیں. ہاں ان میں بھی یہ رواج ہے اور ان کا خطبہ دینے والا ان کا عالم ہے.  ان کے پاس علماء تھے جن کو وہ سنتے تھے اور مذہب کے بارے میں ان سےسیکھتے تھے اور وہ نہایت عالم فاضل لوگ تھے یہاں تک کہ قرآن انہیں کہتا ہے الاحبار.
 احبار حبر سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں سیاہی. یعنی یہ لوگ اتنا پڑھتے لکھتے تھے کہ ان کے ہاتھ ہما وقت سیاہی سے بھرے رہتے تھے یعنی نہایت عالم فاضل لوگ.
اور اب ان کا موازنہ رسول صل اللہ علیہ و السلام سے کریں جنہیں قرآن بھی نبی الامی کہہ کر پکارتا ہے حضور صل اللہ علیہ و السلام تو تعلیم سے اس قدر نابلد تھے جس طرح ماں کے پیٹ سے نکلا نومولود. دوسرے لفظوں میں وہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن انہیں اُمی کہا گیا ہے جو کہ لفظ اُم سے نکلا ہے کیونکہ ان کی تعلیم اتنی ہی تھی جتنی ماں کے پیٹ سے نکلنے نومولود بچے کی ہو. اور یہ نبی دین سکھارہے ہیں.
 دوسرے جو بھی مدینہ میں دین سکھا رہے ہیں وہ عالم فاضل لوگ ہیں، جنہوں نے کسی عالم سے سیکھا اور اس عالم نے کسی اور عالم سے سیکھا اور اس عالم نے کسی اور عالم سے. چاہے وہ یہودیت کا علم دے رہے ہوں یا عیسائیت کی تبلیغ. اور یہاں ایک انسان ہے جو اللہ کا دین سکھا رہا ہے اور ان دوسرے علماء کے دین پر تنقید بھی کررہا ہے. قرآن عیسائیت اور یہودیت دونوں کو زیر بحث لاتا ہے اور اس انسان کا کوئی تعلیمی پس منظر ہے ہی نہیں. حقیقتاً اُمی کا لفظ استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالٰی فرماتے ہیں هو الذى بعث فى الأميين رسولاً منهم... وہی ہے جس نے امیین میں ان پڑھ لوگوں میں اپنا رسول بھیجا کیونکہ حضور صل اللہ علیہ و السلام کو پہلے مدینہ نہیں بھیجا گیا تھا انہیں کہاں بھیجا گیا تھا؟ مکہ میں.... وہاں ان پڑھ لوگ تھے دین سے بے بہرہ اور رسول اللہ ان کے درمیان تھے.
 یہی لفظ اُمی ہمارے لیے ایک معزز لقب ہے کیونکہ یہ رسول صل اللہ علیہ و السلام کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ ان کا ایک معجزہ بھی تھا.  یہ لفظ یہود و نصارٰی نے طنزاً استعمال کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے.  ان کے علماء، ان کے اسکالر وہ کہتے تھے یہ دین سکھائیں گے.؟ یہ تو پڑھے لکھے ہیں ہی نہیں تو یہ آپ کو کیا سکھائیں گے؟ یہ سب کچھ میں نے آپ کو اس لیے بتایا کیونکہ اس سورۃ کے پہلے تین الفاظ کیا تھے؟ ا ل م اور یہ حروفِ تہجی ہیں.  اگر کوئی بھی بندہ حروف پڑھ رہا ہو تو وہ پڑھنا سیکھ رہا ہوتا ہے. اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں کہ اسے حروف تہجی پتہ ہوں. بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے کبھی تعلیم حاصل نہیں کی، کبھی اسکول نہیں گئے لیکن وہ اردو بولتے ہیں آپ انہیں ا ب پ ت ٹ ث وغیرہ کا بتائیں انہیں سمجھ نہیں آئے گا.  ث؟؟ اس کا کیا مطلب ہے؟  یہ کیا ہے؟ میں نے تو یہ کبھی نہیں سنا.
 حروف سیکھنا صرف تب اہم ہوتا ہے جب آپ نے پڑھنا یا لکھنا ہو. اور یہ کام رسول صل اللہ علیہ و السلام نے کبھی کیا ہی نہیں تھا. تو جب وہ تلاوت کرتے ہیں  ا ل م تو یہ اس معاشرے کے تمام لوگوں کو حیرت زدہ کرنے کے لیے کافی ہے. یہ کیا؟ ان کو حروف کس نے سکھائے؟ میرا خیال تھا کہ یہ پڑھے لکھے نہیں ہیں اگر یہ کہہ رہے ہیں  ا ل م تو ان کا ضرور کوئی سکھانے والا ہے، کوئی استاد ہے. کیونکہ یہ خود بخود تو نہیں سیکھ سکتے انہیں. نہیں پتہ. انہیں تو الم کہنا چاہیے الم تركيف فعل ربك بأصحاب الفيل انہیں اس طرح بولنا چاہیے تھا لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ الف لام میم... تو ضرور ان کا کوئی استاد ہے. یہاں تک کہ جو انہیں سن رہے ہی. وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا سکھانے والا کون ہے؟ وہ انہیں حروف کیوں سکھا رہا ہے؟ تو اس نے سامعین کے دل میں بڑا اہم سوال پیدا کیا. کیونکہ اس سوال کا جواب ہے کہ وہ سکھانے والا اللہ ہے. وہی ہے جنہوں نے حضور صل اللہ علیہ و السلام کو سکھایا ہے اور یہ کہ وہ واقعی اس طرح تعلیم حاصل کر رہے ہیں.
 دوسری چیز جو میں آپ کو الف لام میم کے بارے میں بتانا چاہوں گا. وہ ان حروف کا قرآن میں استعمال ہے. قرآن میں اس طرح کلام کیا گیا جیسا پہلے کبھی نہ کیا گیا تھا. اس طریقے سے کوئی بات نہیں کرتا کبھی بھی. اہل عرب کو اپنی زبان پہ بہت ناز تھا. وہ دوسرے تمام لوگوں کو عجم کہا کرتے تھے یعنی جسے ٹھیک سے بات کرنا نہ آتی ہو، کند ذہن.
وہ ہر عربی سے نابلد شخص کو اپنے سے کم تر سمجھتے تھے لیکن قرآن میں جس طرح کے فعل استعمال ہوئے، جس طرح کے حروف، جس طرح کے جملے قرآن میں استعمال ہوئے، ایسا کلام پہلے کبھی نہ سنا گیا. اس کے قریب ترین بھی کوئی ایسے کلام نہیں کرتا. جانتے ہیں جب بھی کوئی نیا شاعر بہت زبردست شاعری کرتا ہے تب بھی اس کی اسی فیصد بنیاد تقریباً پرانی شاعری پہ ہوتی ہے. آپ اگر شاعری میں دلچسپی نہیں رکھتے تو شاید پاپ میوزک یا ریپ میوزک سے واقف ہوں. اگر آپ غور کریں تو یہ انہوں نے کوئی نئی موسیقی نہیں بنا لی انہوں نے پہلے سے موجود پرانی طرز کی موسیقی کے عناصر لیے اور اس کو ملا کر اس سے کچھ مختلف بنایا. یہ بالکل بھی نیا نہیں ہے زیادہ تر وہی ہے جو کوئی پہلے بھی کبھی کر چکا ہے لیکن جب قرآن کہتا ہے الف لام میم. یہ پہلے کبھی نہیں سنا. اس طرح کون بات کرتا ہے؟ یہ صرف سوال ہی نہیں بلکہ تجسس بھی پیدا کرتا ہے کہ یہ جو بھی استاد ہے اس استاد سے پہلے کبھی یہاں کسی نے نہیں پڑھا.  کسی کو ایسے کبھی تعلیم نہیں ملی.  قرآن کی مدینہ میں رونمائی ا ل م سے کی جا رہی ہے. سو جب الف لام میم کہا جاتا ہے تو یہ صرف ان کے لیے نہیں ہے جو یقین رکھتے ہیں بلکہ یہ ان کی بھی رہنمائی کے لیے ہے جو یقین نہیں رکھتے.  علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ ا ل م کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے. یہ کہنا غلط ہے کہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے جو بھی کہا اس کا کوئی مقصد/مطلب ہوتا ہے، کوئی فائدہ ہے. قرآن میں اللہ نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو ہمیں کچھ سکھاتی نہ ہو.
اللہ تعالٰی یہ نہیں کہتے قال القرآن...  کہ اس نے قرآن بتایا.  اللہ تعالٰی نے کہا علَّم القرآن... اس نے قرآن سکھایا. قال القرآن کے معنی میں نے قرآن کہا ہے مگر نہیں اللہ تعالٰی نے کہا میں نے قرآن سکھایا ہے، میں ہوں استاد.

جاری ہے.

منگل, جولائی 26, 2016

کنویں کا مینڈک


کنویں کا مینڈک
از پروفیسر محمد عقیل

آ پ نے اکثریہ محاورہ سناہوگا۔ایک مینڈک کنویں کے اندرپیداہوا، پلا، بڑھااورپروان چڑھا۔اس نے اپنے اردگردایک تاریک ماحول دیکھا،سیلن، بدبواورایک تنگ سادائرہ۔صبح وشام اس کاگذربسراسی محدوددنیامیں ہواکرتا۔اس کی غذابھی چندغلیظ کیڑے تھے۔ایک دن ایک اورمینڈک باہرسے اس کنویں ایک اور مینڈک گرگیا۔اس نے کنویں کے مینڈک کوبتایاکہ باہرکی دنیابہت وسیع ہے،وہاں سبزہ ہے،کھلاآسمان ہے،وسیع زمین ہے اورآزادزندگی ہے۔لیکن کنویں کامینڈک ان تمام باتوں کوسمجھ ہی نہیں سکتاتھاکیوں کہ وہ توکنویں کامینڈک تھا۔
ہم میں سے اکثرمتمدن شہری بھی کنویں کے مینڈک بنتے جارہے ہیں۔ہم انسانوں کے بنائے ہوئے ماحول میں شب وروزبسرکرتے ہیں۔صبح آفس کے لیے گاڑی لی،شام تک آفس کی چاردیواری میں محدودرہے اورپھرسواری میں گھرآگئے۔کسی چھٹی والے دن اگرکوئی تفریح بھی ہوئی توہوٹل وغیرہ چلے گئے۔اگرہم غورکریں توہماراتمام وقت انسان کی بنائی ہوئی مادی چیزوں کے ساتھ ہی بسرہوتاہے۔جس کے نتیجے میں مادیت ہی جنم لیتی ہے۔ہمارے اردگردفطرت کی دنیابھی ہے۔جس سے روحانیت پیداہوتی ہے۔لیکن ہم اس کی طرف نگاہ بھی نہیں ڈالتے کیونکہ ہم خوفزدہ ہیں کہ کہیں یہ مادی وسائل ہم سے چھن نہ جائیں۔اگرہم اس مادی کنویں سے باہرنکلیں توپتاچلے گاکہ ہمارے اوپرپھیلاہو نیلگوں اآسمان ہے جہاں خدابلندیوں کی جانب دعوت دے رہاہے۔ایستادہ پہاڑہیں جوانسان کومضبوطی کاسبق دے رہے ہیں،شام کے ڈھلتے ہوئے سائے ہیں جوہمیں خداکے حضورجھکناسکھارہے ہیں،بہتے ہوئے دریاہیں جو رواں دواں زندگی کااظہارکررہے ہیں۔ساحل کی ٹکراتی موجیں ہیں جوعمل پیہم کاپیام سنارہی ہیں،پتھرپرگرتاہواپانی کا قطرہ ہے جوناممکن کوممکن بنارہاہے۔


غرض یہ چڑیوں کی چہچہاہٹ،بلبلوں کی نغمگی،شفق کی لالی،درختوں کی چھاؤں اوردیگرمظاہرفطرت انسان کوایک روحانی دنیاکی جانب بلارہے ہیں وہ ایسے خداکی جانب بلارہے ہیں جو اسے ایک کامل تر دنیاکی جانب لے جانا چاہتا ہے۔لیکن انسان نے بھی عزم کرلیاہے کہ وہ ان کی جانب ایک نظربھی نہیں ڈالے گا،وہ ہرگزاس مادی کنویں کی بدبو،سیلن اورمحدودیت کو چھوڑنے کے لیے تیارنہیں کیونکہ وہ توکنویں کامینڈک ہے۔جس کی دماغی صلاحیت کنویں سے باہرکی حسین اورپرسکون زندگی کوسمجھنے سے قاصرہے۔

سوموار, جولائی 25, 2016

آج کی بات ۔۔۔۔ 25 جولائی 2016


حسد، نفرت، کینہ، بغض، اور منفی سوچ جیسی بیماریاں کینسر کی طرح خطرناک ہیں جو شخصیت کو اندر سے چاٹ کر نفسیاتی موت اور پاگل پن کے قریب کردیتی ہیں لیکن انسان کو احساس تک نہیں ہوتا.

جمعہ, جولائی 22, 2016

خطبہ حجتہ الوداع منظوم ​


خطبہ حجتہ الوداع
 منظوم ​

ترجمہ۔۔۔۔۔۔۔مفہوم ومطالب​

صرف ہےاس کے لے حمدو ثنا
وہ جو ہے مشکل کشا ، حاجت روا​
ہم اسی سے طالب امداد ہیں
اس کے آگےمائلِ فریاد ہیں​
یہ ہمارا نفس ہے گم کردہ راہ
اے خدا ، دے ہمیں اس سے پناہ​
میں گواہی دیتا ہوں ، یکتا ہے وہ
بالیقیں معبود ہے ، تنہا ہے وہ​
اور پھر کوئی نہیں اس کا شریک
ہے رسول اس کا محمد ، یہ ہے ٹھیک​
میں تمہیں تاکید کرتا ہوں سنو
تم مگن اس کی عبادت میں رہو​
یہ بھی تم سے کھول کر کہتا چلوں
پھر یہاں تم سے نہ شاید مل سکوں​
جس طرح یہ شہر یہ دن اور یہ ماہ
محترم ہیں اور وجہ عز و جاہ​
یہ بھی تمہارے مال و خون و احتشام
سب یونہی اک دوسرے پر ہیں حرام​
سود بھی ممنوع ہے ، کہتا ہوں صاف
کرتا ہوں عباس کی رقمیں معاف​
جاہلیت کے ہیں خوں سارے معاف
خون عامر کا کیا میں نے معاف​
چوب سے یا سنگ سے ہو قتل اگر
لازمی ہے انتقام اس فعل پر​
صرف ایک سو اونٹ ہے اس کی سزا
وہ ہے جاہل ، اس سے جو مانگے سوا​
ہوگئی شیطاں کی پوجا تو عدم
ہاں بہک سکتا ہے انسان کا قدم​
احمر اسود سے نہیں ہے محترم
اسود احمر سے نہیں عزت میں کم​
اب نہ ہوگی کچھ عرب کو فوقیت
کم نہ ہوگی اب عجم کی اہمیت​
ہوں گے ہم رتبہ عرب ہوں یا عجم
اور ہوں گےدونوں یکساں محترم​
اب نہ ہوگا رنگ و مسکن سے وقار
ہوگا تقوی پر فضیلت کا مدار​
علم دیں ہو یا رموزِ معرفت
ہو معیشت یا امورِ مملکت​
بندگی ہو یا نظام کائنات
ان کو سمجھا دی گئی ایک ایک بات​
اے خدا تو سمیع و غیب داں
کردیا ہے میں حق ان پر عیاں​
سن رہے ہو جو حقائق تم یہاں
جو نہیں ہیں ،ان پہ کردینا عیاں​

از عارف سیمابی

ہفتہ, جولائی 16, 2016

بدھ, جولائی 13, 2016

تمہیں کیسا دوست چاہیے؟


تمہیں کیسا دوست چاہیے؟ ایسا دوست ناں جو مشکلوں میں تمہیں آسانی کی تسلی دے، جو تمہیں تمہاری آںکھوں پر اپنا محبت بھرا ہاتھ دھرتا کہے اس میں نہ الجھو جو نہیں ہے ۔۔ اس روگ سوگ میں نہ پڑو جس کو وجود کچھ نہیں ہے۔۔ ادراک سے ظاہری حواس سے پرے وہ دیکھو جو ہے ۔۔۔ جو پل پل تمہیں تحیر و خود سپردگی میں لیئے آگے آگے سے لیے جائے ۔۔۔ تم پر کائنات کی تم پر تمہاری حقیقت آشکار کرتا جائے ،، جو اپنی خود غرضی کے لیئے، اپنے خوف کے لیئے تمہیں کنٹرول نہ کرے بلکہ تمہاری بہتری کے لیئے تمہاری زندگی کی باگ تھامے رکھے،تمہارے ہاتھ میں دیئے رکھنے کا احساس دیئے۔ جو تمہاری راہ کی دیوار نہ ہو بلکہ تمہیں تمہاری ہر راہ اس سنگ اس تک جاتی لگتی ہو۔۔

جو تمہاری ساری بلائیں ہنسی خوشی لینے کو راضی ہو ،، تمہارے دل کو گداز کیئے رہے۔۔ جو تمہارے لیئے اگر دھوپ بھیجنے پر قادر ہو تو اسی دھوپ میں ابر بھیجنے پر بھی کمال رکھتا ہو، جو اگر رلانے کا اختیار رکھتا ہو تو تمہارے اشکوں کو محبت سے چومتا تمہارے دل کے اضطراب پر سکینت اتارنے پر بھی قادر ہو ۔۔ جو تمہیں اس لیئے نہ چاہے کہ تم اسکی چاہت ہو بلکہ اس لیئے چاہے کہ تم اپنی قدرو قیمت جان جاؤ، جو تمہیں تمہاری بہترئ کے لیئے تمہیں آزمائے اور شکر گزاری کے بہانے دے ۔۔ تم گرنے لگے تو آگے بڑھ کر، پکڑ کر تھامے ۔۔ جو تم سے جان چھڑانے کے بہانے نہ ڈھونڈے، بلکہ اگر تم ہاتھ چھڑانے لگو تو ہاتھ نہ چھوڑے ۔۔

گر تمہاری بہتری کی خاطر کچھ سوچے بھی تو تمہیں پلٹ آنے کے بہانے دے، گر تم جا کر پلٹ آنا چاہو تو خالص پلٹ آنے کے سارے در وا کیئے رکھتا ہو، گر تم اسکی جانب ایک قدم اٹھاو تو وہ دس قدم تمہاری جانب آئے تم چل کر آؤ وہ دوڑ کر آئے ۔۔۔ جو تم پر سارے اختیار رکھتا تم پر تمہارے اختیار کے سراب عیاں کرتا تم میں تمہارا راز کھول سکنے پر قدرت رکھتا ہو، جو تمہیں محبت کی تلاش میں سرگرداں دیکھے تو تمہیں سرتاپا محبت کر دے ۔۔ جو تم سے تمہارا وجود لے کر تمہیں اپنی ذات کا پائیدار تیقن دے دے، پھر تم خلوت میں جلوت جلوت میں خلوت کے مفہوم سے آشنائی پا جاؤ، بارش ہوا چاندنی خوشبو، کھنک، چہک، تمہیں اسکے احساس کا احساس دلائے ۔۔۔ جس کے سامنے تم جج ہونے، ٹھکرا دیئے جانے، دھتکار دئیے جانے کے خوف سے آزاد ہو ۔۔۔ جس کے سامنے تم اپنے سارے خوف ایسے بیان کر دو کہ وہ ان خوف کو تمہاری طاقت بنادے ۔۔۔ سارے اشک ایسے بہا دو کہ وہ ان کو محبت سے چوم لے، سارے وسوسے ایسے بتا دو کہ وہ ان پر مسکراتا محبت سے جھوم اٹھتا تمہیں اپنی پناہِ محبت میں بھر لے ۔۔۔ گر تم حیا ہو تو وہ تمہاری پناہ ہو جائے ۔۔

وہ ایسا اپنا ۔۔ جو سب سے اپنا ہو ۔۔ جس کے ہونے کا احساس تمہاری ذات کو قوس قزح سا کر جائے ۔۔ تم دنیا کی نگاہ کی قید سے آزاد اسکی محبت کے حصار میں محفوظ ہو جاؤِ دنیا تمہاری نگاہ میں کچھ نہیں ہو جائے ۔۔ تم اسکے ذکر میں ایسے ضم ہو کہ وہ تمہاری، تم اسکی پہچان بن جاؤ ۔۔۔ تمہارے ہر خوف میں اسکا ایقان ہو، تمہارے ہر لمحے میں اس پر ایمان ہو، کوئی آزمائش آئے تم اسکا دامن چھوڑے نہ چھوڑو، اور وہ بہانے دے دے تمہیں رجوع کے بہانے دے ،،

 تو بس وہ اللہ ہی تو ہے ۔۔۔
 جو یہ سب ہمارے اور دراصل ہم سب کے لیئے ہے ۔۔ مگر کیا ہم واقعی اسکی محبت کا ذرہ بھی محسوس کر پائے ہیں؟
 کیا ہم واقعی اس میں اصل دوست کو ڈھونڈتے ہیں ۔۔۔

تحریر: حیا ایشم

منگل, جولائی 12, 2016

جمعہ, جولائی 08, 2016