اشاعتیں

August, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

درد دل کے واسطے

تصویر
"دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو“ خواجہ میر درد نے یہ بات بڑی سہولت سے شعری قالب میں ڈھال کر انسان کوصبر و تحمل کا درس دیا تھا۔ گویا اس کے تجربات و مشاہدات اور ریاضتوں کا مآحصل یہی سنہری بات تھی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ازل سے ابد تک پھیلے انسانی زندگی کے احوال و آثار اسی حقیقت میںپنہاں ہیں۔ جس نے اس راز کو پا لیا‘ وہ شانت ہوگیا۔ جسے اس کا شعور نہ ملا ‘وہ بے چین ،اور جو جاننے اورنہ جاننے کے درمیان رہا’ وہ مضطرب۔ زندگی کی کہانی میں آنسو زیادہ اور قہقہے کم ہیں، اور ہوں کیوں نہ کہ پانی تو بنائے حیات ہے۔بہتا رہے تو نعمت ‘ رُک جائے تو زحمت۔

Anmol ho joaun

تصویر
Buhat Nayaab Hotey Hain Jinhain Tum Apna Kehte Ho Ijazat Do Ke Main Bhi Is Qadar Anmol Ho Jaoun

کس کا قصور؟

تصویر
'وہ ہر کسی کو اغوا نہیں کرتے صرف خوبصورت لڑکیوں کو اغوا کرتے ھیں۔۔' حیا : 'میں خوبصورت ھوں تو اس میں میرا کیا قصور۔۔؟'
' انھیں یہ پتا چلا کہ آپ خوبصورت ھیں۔۔۔یہ آپکا قصور ھے'
( نمرہ احمد کے ناول “جنت کے پتے“ سے اقتباس)

ماں اور خدا

تصویر
"ماں اور خدا وہ ہستیاں ہیں جن کی محبّت، رحمت اور شفقت بے حساب ہوتی ہے- اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی روز نافرمانی ہوتی ہے- ، لوگ اسکی ذات کو ماننے سے انکاری ہوتے ہیں، مگر کیا وہ انھیں روزی دینا بند کر دیتا ہے؟ کیا چشمے سوکھ جاتے ہیں؟ کا اناج کا قحط پڑ جاتا ہے؟ نہیں نا! وہ اپنے نافرمان بندوں کو بھی رزق دیتا ہے- خدا جب بھی کسی چیز کو واضح کرنا چاہتا ہے تو وہ انتہائی خوبصورت تشبیہات کا استعمال کرتا ہے- قرآن میں جنّت و جہنم، عذاب و ثواب، ہر شے کو مثال دے کر واضح کیا گیا ہے- 
مگر جب بات آتی ہے بنی انسان سے محبّت واضح کرنے کی، وہ فوراً کہتا ہے میں ستّر ماؤں سے زیادہ محبّت کرنے والا ہوں- الله کسی اور کی مثال دیتا، شوہر کی محبّت، بھائی کی محبّت، بہن کی محبّت، بیوی کی محبّت، دوستوں، قرابت داروں کی محبّت سے اپنی محبّت کا موازنہ کرتا مگر نہیں، اس نے ماں کی مثال دی کیوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ بے غرض، بے لوث اور قابل اعتبار محبّت ماں کی ہے-"
تحریر: نمرہ احمد
اقتباس: سانس ساکن تھی

پٹا ہوا مہرہ... ابویحی

تصویر
پٹا ہوا مہرہ

 Abu Yahya
 ابویحی

ایک صاحب اپنی فیملی کے ہمراہ والد صاحب کے ساتھ رہتے تھے اور والد صاحب ہی ان کا خرچہ اٹھاتے تھے۔ ان کے اپنے والد صاحب سے کچھ اختلافات ہو گئے۔ والد صاحب نے اس پر ناراض ہو کر ان کو گھر سے نکل جانے کا حکم دیا ۔ انہوں نے اس کے جواب میں ادب سے عرض کردیا کہ ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔

انسانوں کی کہانی میں ایسے کئی موڑ آتے ہیں جن کا مشاہدہ دن رات اس معاشرے میں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم باپ اور بیٹے کی یہ کہانی بعض اوقات اللہ اور بندے کی کہانی بھی بن جاتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب زندگی میں بندہ اپنے رب سے کچھ مانگتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی دعا و فریاد کا کوئی جواب نہیں آتا۔ بلکہ بارہا انسان کو نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ اللہ سے مایوس اور بد دل ہوجاتے ہیں۔ انہیں رب سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض لوگ غیر اللہ کے در پر جا پڑتے ہیں اور انہی سے حاجت روائی کی درخواست کرتے ہیں۔

تاہم بندوں کی ایک قسم اور بھی ہوتی ہے۔ وہ رب کو پکارتے ہیں اور جب جواب نہ ملے تو ناراض ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں: آپ نے جو کرنا ہے کر لیجیے۔ ہم تو یہیں بیٹھے …

Kon hon??

تصویر
ﮐﻮﻥ ﮨﻮﮞ، ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮞ ، ﮐﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺭﺍﺯ ﯾﮧ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺩﯼ ﺩﺳﺘﮏ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ

جون ایلیا
-----------------------------
Kon hoon, Kiya hoon, Kiya nahi hoon main Raaz yeh kholta nahi hoon main Aik din apne dar pe di dastak Aur phir keh diya nahi hoon main
John Elia

Allah Ki Mohabbat

تصویر
اللہ سے انسان محبت کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اللہ بھی اس سے محبت کرے مگر محبت کے لیے وہ کچھ دینے کو تیار نہیں۔
اللہ کے نام پر وہی چیز دوسروں کو دیتا ہے جسے وہ اچھی طرح استعمال کر چُکا ہو یا پھر جس سے اس کا دل بھر چُکا ہو چایے وہ لباس ہو یا جُو تا ۔
وہ خیرات کرنے والے کے دل سے اُتری ہوئی چیز ہوتی ہے اور اس چیز کے بدلے وہ اللہ کے دل میں اُترنا چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے
اس پُرانے لباس ، گھسی ہوئی چپل یا ایک پلیٹ چاول کے بدلے اسے جنت میں گھر مل جائے ،اللہ اس کی دُعائیں قبول کرنا شروع کردے، اس کے بگڑے کام سنورنے لگیں۔ وہ جانتا ہے، اللہ کو دلوں تک سُرنگ بنانا آتا ہے پھر بھی وہ اللہ کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔

عمیرہ احمد کے ناول شہر ذات سے اقتباس

Sham Ka suraj

تصویر
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤگے
خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
تم ہو اک زندہ و جاوید روایت کے چراغ
تم کوئ شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے
--------------------------
Apne Markaz Se Agar Door Nikal Jao Ge Khwab Ho Jao Ge Afsanon Main Dhal Jao Ge Tum Ho Ik Zinda-o-Javed Riwayat Ke Charagh Tum Koi Shaam Ka Suraj Ho Ke Dhal Jao Ge

Barson Ke Baad

تصویر
برسوں کے بعد دیکھا ای شخص دلربا سا
اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچی کھنچی سی آنکھیں جھکی جھکی سی
باتیں رکی رکی سی لحجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں
بن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا

خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یاد اس کی
نیندوں میں گھل گیا ہو جیسے کہ رت جگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں
وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نامرادیاں دیں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے
کچھ ظاہر میں بجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر یوں ہوا کہ ساون آنکھوں میں آ بسا تھا
پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہنا تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی
بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا

تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا

ہم نے بھی اس کو دیکھا کل شام اتفاقاً
اپنا بھی حال ہے اب لوگو ‘فراز‘ کا سا
(احمد فراز)

Zara Ehd-e-Rafta Ko Awaz Dena

تصویر
ایک خوبصورت تحریر جو آپکو کسی اور ہی دنیا میں لے جائے گی


اپنی ننھی سی انگلی سے اس نے بٹن آن کیا۔ بیٹری والی کار چلنے لگی۔جہاں رکاوٹ ہوتی، کار ذرا سا رُک کر، واپس ہوتی اور پھر کسی دوسرے رخ چل پڑتی۔ اب وہ اس شور مچاتی کار کو روکنا چاہتا تھا لیکن اس سے بٹن آف نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اسے پکڑ کر میرے پاس لے آیا اور اس زبان میں جسے صرف وہ سمجھتا تھا اور فرشتے، مجھے بند کرنے کےلئے کہا اور میں نے بیٹری کا بٹن آف کر د یا۔

لیکن ڈیڑھ سالہ پوتے کے ساتھ کھیلتے ہوئے میں کہیں اور جا پہنچا تھا۔ مجھے لکڑی کا بیل یاد آ رہا تھا۔ لکڑی کا وہ بیل جو مجھے میرے نانا اور ماموں نے بنوا کر دیا تھا اور جو میرے ننھیالی گاﺅں بکھوال کے ترکھان نے بنایا تھا۔ میں اپنے نانا نانی کا پہلا نواسہ تھا۔اس وقت ان کا پوتا بھی نہیں پیدا ہوا تھا۔ میں وی آئی پی تھا اور وی آئی پی کی پہلی نشانی یہ ہوتی تھی کہ گاﺅں کے ترکھان سے، جسے سرکھجانے کی فرصت نہیں ہوتی تھی ، خصوصی طور پر لکڑی کا بیل بنوایا جاتا تھا۔ بیل کے پیچھے ننھا سا چھکڑا تھا۔ نیچے پہیے لگے ہوئے تھے۔ آگے رسی تھی اور میں اسے صحن بھر میں بھگاتا پھرتا تھا۔

ستائیس سال کے بعد میرا بی…

ادب پہلا قرینہ ہے ۔ ۔ ۔ محبت کے قرینوں میں

تصویر
سورت الروم کی آیت نمبر 21 ہے وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ 1۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ 2۔ اس نے تمھارے جوڑے تمھی میں سے پیدا کئے 3۔ تاکہ تم اُن کی طرف سکون کر سکو 4۔ اور پھر تمھارے درمیان موٴدت اور رحمت بنادی (کردی)  5۔ کہ اس میں سوچنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اللہ تعٰالی نے عورت اور مرد کی تخلیق، خلقت اور فطرت کو اپنی نشانی کہا ہے جو ایک عظیم حکمت کی دلالت کرتی ہے۔        * بات کے شروع میں اپنی نشانی قراردے کر باقی بات مکمل کرنا، اس بات کی طرف اشارە ہے کہ اس تمام معاملے کا اللہ کی شان سے خاص تعلق ہے۔    * اندازِ تخاطب اور گرامر کی رُو سےیہاں عورت یا مرد کی تخصیص نہیں۔ یہ ضمیرِ مخاطب (مخاطب کرنے کا یہ لفظ) عورت اور مرد دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔    * اسی طرح لفظ “ازواجاً”، “جوڑا”، ” Spouse” مترادف ہیں یعنی بات ایک ہی وقت میں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے۔    * تمھاری جنس اور سپیشز سے تمھارا جوڑا بنان…

Umeed Abhi Kuch Baqi Hai

تصویر
اُمید ابھی کچھ باقی ہے ۔ اِک بستی بسنے والی ہے
جس بستی میں کوئی ظُلم نہ ہو ۔ اور جینا کوئی جُرم نہ ہو
وہاں پھُول خوشی کے کھِلتے ہوں ۔ اور موسم سارے مِلتے ہوں
بَس رَنگ اور نُور برستے ہوں ۔ اور سارے ہنستے بَستے ہوں
اُمید ہے ایسی بستی کی
جہاں جھوٹ کا کاروبار نہ ہو ۔ اور دہشت کا بازار نہ ہو
جینا بھی دشوار نہ ہو ۔ اور مرنا بھی آزار نہ ہو
وہاں خون کی ہولی عام نہ ہو ۔ اُس آنگن میں غم کی شام نہ ہو
جہاں مُنصف سے انصاف ملے ۔ دل سب کا سب سے صاف ملے
اِک آس ہے ایسی بستی ہو ۔ جہاں روٹی زہر سے سستی ہو
یہ بستی کاش تمہاری ہو ۔ یہ بستی کاش ہماری ہو
اُمید ابھی کچھ باقی ہے ۔ اک بستی بسنے والی ہے

Source: http://www.theajmals.com/blog/2013/03/%D8%A7%D9%8F%D9%85%DB%8C%D8%AF/#comments

Dua-e-Watan

تصویر
یا رب وہ ابر بخش کہ جو ارضِ پاک کو
حدِ نظر تک اُمڈے ھوئے سبزہ زار دے

میدان جو جل چُکے ھیں بُجھا ان کی تشنگی
شاخیں جو لُٹ چُکی ھیں انہیں برگ و بار دے

Jeewy Jeewey Pakistan!!!

تصویر
جیوے جیوے پاکستان
جیوے پاکستان
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

من پنچھی جب پنکھ ہلائے
کیا کیا سر بکھرائے
سننے والے ان میں ایک ہی دھن لہرائے
پاکستان پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

جیوے جیوے پاکستان
جیوے پاکستان
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

بکھرے ہوئے کو بچھڑے ہوئے کو
اک مرکز پہ لایا
اتنے ستاروں کے جھرمٹ میں
سورج بن کر آیا

پاکستان پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

جیوے جیوے پاکستان
جیوے پاکستان
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

جھیل گئے دکھ جھیلنے والے
اب ہے کام ہمارا
ایک رکھیں گے
ایک رہے گا
ایک ہی نام ہمارا
ایک ہی نام ہمارا


پاکستان پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

جیوے جیوے پاکستان
جیوے پاکستان
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

اک خواب ہے ایسی بستی ہو

تصویر
میرے خوابوں کی بستی
اک خواب ہے ایسی بستی ہو جہاں شام بھی ہنستی بستی ہو
نہ خوف کا کوئی پہرا ہو بد وقت جہاں نہ ٹھہرا ہو جہاں روٹی خون سے سستی ہو اک خواب ہے ایسی بستی ہو
ظلمت کا جہاں پر راج نہ ہو کوئی خواب جہاں تاراج نہ ہو بس چین کی بنسی بجتی ہو اک خواب ہے ایسی بستی ہو
نہ خون بہے نہ فاقہ ہو مزدور جہاں پر آقا ہو جہاں نیک سبھی کی ہستی ہو اک خواب ہے ایسی بستی ہو
بس جائیں جا کر ہم بھی وہیں نہ کوئی دُکھی، نہ کوئی حزیں رحمت بھی رب کی برستی ہو اک خواب ہے ایسی بستی ہو اک خواب ہے ایسی بستی ہو
ذاتی کاوش 
(سیما آفتاب)
-------------------------------- Ik Khawab hai aisi basti ho
Jahan shaam bhi hansti basti ho

Na khof ka koi pehra ho
Bad-waqt jahan na thehra ho
Jahan roti khoon se sasti ho
Ik Khwab Hai aisi basti ho

Zulmat ka jahan per raaj na ho
Koi khawab jahan taraaj na ho
Bas chain ki bansi bajti ho
Ik khwab hai aisi basti ho

Na khoon bahey na faqa ho
Mazdoor jahan per aqa ho
Jahan faqa na tangdasti ho
Ik khwab hai aisi basti ho

Jahan phool khilain qariya qariya
Barsey Rehmat Dariya Dariya
Jahan naik sabhi ki hasti h…

Arz-e-Watan

تصویر
میں نے اس عمر میں چاہا تھا تجھے اے ارض وطن
جب شعور آج کی صورت میرا بیدار نہ تھا
----------------------------------
Main Ne Us Umr Main Chaha Tha Tujhey Aye Arz-e-Watan Jab Shaour Aj Ki Surat Mera Bedaar Na Tha

Qom Ki Taqdeer

تصویر
کردار ادا کرنا ہر شخص کو پڑتا ہے
آساں نہیں قوموں کی تقدیر بدل جانا
-----------------------------
Kirdaar Ada Karna Har Shakhs Ko Parta Hai Asaan Nahi Qomom Ki Taqdeer Badal Jana

Toba Ka Dar

تصویر
" توبہ کا در تو ہمیشہ ہی کھلا رہتا ہے ! "

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں پانی کی ان بوندوں کی بھی کیا قسمت ہے جو ہمیں پاک کر کے اور
ہماری نا پاکی اپنے ساتھ بہا کر خود ناپاک ہو کر کسی نالی میں جا ملتی ہیں -

مگر جب میں نے اور تھوڑا غور کیا تو پتا چلا کہ وہ نالی بھی تو ضرور کہیں نہ کہیں ملتی ہوگی کسی ندی میں کسی نالے میں کسی دریا میں کسی سمندر میں جیسے ہی نالی کا وہ پانی کسی بہتے پانی میں ملا تو وہ پھر سے پاک ہو گیا دریا میں مل کر اور وسیع ہوگیا اور سمندر سے مل کر اپنی انتہا کو پہنچا اور خود وہ بوند سمندر ہوگئی

تو سمجھ میں آیا جو دوسروں کو پاک کریگا تو ان کی غلاظت سے خود بھی ناپاک ہو جایئگا -
چونکہ اس نے وہ سفر جاری رکھا تو کسی اور سے مل کر پھر پاک ہوگیا انسان بھی اسی طرح ہے اگر وہ کسی کی خدمت کریگا تو ظاہری طور تھوڑی پریشانی ضرور پیش آئے گی
مگر آگے چل کر اور اگر اس نے خدمات والا سفر جاری رکھا تو ہو سکتا ہے الله اپنے پیاروں میں اسے شمار کر کے سب پریشانیاں دور فرما دے اور اپنا فضل اس پے جاری کر دے کیا پتا ........!

سو ظاہری پریشانیوں سے گھبرا کے سفر رکنا نہیں چاہئے !
توبہ کا د…

Mishal bardari

تصویر
روشنی میں ھر کوئی راہ بتانے کی خواہش رکھتا ھے، مگر مزہ تو تب ھے جب کوئی اندھیروں او مایوسیوں کے دور میں مشعل برداری کرے_
(خلیل جبران)

زمرہ جات

سوئے حرم رمضان غزلیں امید سورہ البقرہ دعا سفرِ حج ایمان، استقبال رمضان، خطبہ مسجد نبوی میرے الفاظ پاکستان شاعری میری شاعری محبت یاد حرم صراط مستقیم لبیک اللھم لبیک خلاصہ قرآن سفرنامہ شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی کچھ دل سے #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل دوستی سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی سورہ المؤمنون عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی ماں معلومات نمرہ احمد یوم دفاع آبِ حیات جنت جنت کے پتے خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 والد پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، سوشل میڈیا سوشل میڈیا، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا مسدس حالی مصحف موسیقی یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل