جمعہ, اگست 30, 2013

درد دل کے واسطے


"دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو“ خواجہ میر درد نے یہ بات بڑی سہولت سے شعری قالب میں ڈھال کر انسان کوصبر و تحمل کا درس دیا تھا۔ گویا اس کے تجربات و مشاہدات اور ریاضتوں کا مآحصل یہی سنہری بات تھی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ازل سے ابد تک پھیلے انسانی زندگی کے احوال و آثار اسی حقیقت میںپنہاں ہیں۔ جس نے اس راز کو پا لیا‘ وہ شانت ہوگیا۔ جسے اس کا شعور نہ ملا ‘وہ بے چین ،اور جو جاننے اورنہ جاننے کے درمیان رہا’ وہ مضطرب۔ زندگی کی کہانی میں آنسو زیادہ اور قہقہے کم ہیں، اور ہوں کیوں نہ کہ پانی تو بنائے حیات ہے۔بہتا رہے تو نعمت ‘ رُک جائے تو زحمت۔

بدھ, اگست 28, 2013

کس کا قصور؟


'وہ ہر کسی کو اغوا نہیں کرتے صرف خوبصورت لڑکیوں کو اغوا کرتے ھیں۔۔'
حیا : 'میں خوبصورت ھوں تو اس میں میرا کیا قصور۔۔؟'

' انھیں یہ پتا چلا کہ آپ خوبصورت ھیں۔۔۔یہ آپکا قصور ھے'
( نمرہ احمد کے ناول “جنت کے پتے“ سے اقتباس)

ماں اور خدا


"ماں اور خدا وہ ہستیاں ہیں جن کی محبّت، رحمت اور شفقت بے حساب ہوتی ہے- اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی روز نافرمانی ہوتی ہے- ، لوگ اسکی ذات کو ماننے سے انکاری ہوتے ہیں، مگر کیا وہ انھیں روزی دینا بند کر دیتا ہے؟ کیا چشمے سوکھ جاتے ہیں؟ کا اناج کا قحط پڑ جاتا ہے؟ نہیں نا! وہ اپنے نافرمان بندوں کو بھی رزق دیتا ہے- خدا جب بھی کسی چیز کو واضح کرنا چاہتا ہے تو وہ انتہائی خوبصورت تشبیہات کا استعمال کرتا ہے- قرآن میں جنّت و جہنم، عذاب و ثواب، ہر شے کو مثال دے کر واضح کیا گیا ہے- 

مگر جب بات آتی ہے بنی انسان سے محبّت واضح کرنے کی، وہ فوراً کہتا ہے میں ستّر ماؤں سے زیادہ محبّت کرنے والا ہوں- الله کسی اور کی مثال دیتا، شوہر کی محبّت، بھائی کی محبّت، بہن کی محبّت، بیوی کی محبّت، دوستوں، قرابت داروں کی محبّت سے اپنی محبّت کا موازنہ کرتا مگر نہیں، اس نے ماں کی مثال دی کیوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ بے غرض، بے لوث اور قابل اعتبار محبّت ماں کی ہے-"

تحریر: نمرہ احمد
اقتباس: سانس ساکن تھی

منگل, اگست 27, 2013

پٹا ہوا مہرہ... ابویحی



پٹا ہوا مہرہ

 Abu Yahya
 ابویحی

ایک صاحب اپنی فیملی کے ہمراہ والد صاحب کے ساتھ رہتے تھے اور والد صاحب ہی ان کا خرچہ اٹھاتے تھے۔ ان کے اپنے والد صاحب سے کچھ اختلافات ہو گئے۔ والد صاحب نے اس پر ناراض ہو کر ان کو گھر سے نکل جانے کا حکم دیا ۔ انہوں نے اس کے جواب میں ادب سے عرض کردیا کہ ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔

انسانوں کی کہانی میں ایسے کئی موڑ آتے ہیں جن کا مشاہدہ دن رات اس معاشرے میں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم باپ اور بیٹے کی یہ کہانی بعض اوقات اللہ اور بندے کی کہانی بھی بن جاتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب زندگی میں بندہ اپنے رب سے کچھ مانگتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی دعا و فریاد کا کوئی جواب نہیں آتا۔ بلکہ بارہا انسان کو نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ اللہ سے مایوس اور بد دل ہوجاتے ہیں۔ انہیں رب سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض لوگ غیر اللہ کے در پر جا پڑتے ہیں اور انہی سے حاجت روائی کی درخواست کرتے ہیں۔

تاہم بندوں کی ایک قسم اور بھی ہوتی ہے۔ وہ رب کو پکارتے ہیں اور جب جواب نہ ملے تو ناراض ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں: آپ نے جو کرنا ہے کر لیجیے۔ ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ یہ الفاظ ایک ایسے انسان کے منہ سے نکلتے ہیں جو پٹے ہوئے مہرے کی طرح ہوتا ہے۔ جو اپنی شکست کی آواز آپ ہوتا ہے۔

اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ آسمان سے فرشتے نہیں اترتے۔ زمین پر بھونچال نہیں آتا۔ پٹا ہوا مہرہ درِ مالک پر پڑا رہتا ہے۔ جو سننے والا ہے وہ سب دیکھتا ہے، مگر خاموش رہتا ہے۔ اس کے ہاں سے کوئی جواب نہیں آتا۔ حاملین عرش محو حیرت رہ جاتے ہیں۔ جبریل و میکائیل پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے۔ ملائکہ دم سادھے کھڑے رہتے ہیں۔ زمین و آسمان ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے ہیں۔ شجر و حجر دانتوں تلے انگلیاں دبالیتے ہیں۔ سورج اور ستارے نظریں بچا کر یہ منظر دیکھتے ہیں۔ دن و رات سارے دھندے چھوڑ کر تماشائی بن جاتے ہیں۔ ہوا اور فضا، صحرا اور سمندر، دریا اور جنگل، چرند و پرند، کوہ و چمن سب اس بے رخی پر دم بخود رہ جاتے ہیں کہ مانگنے والا کیسے محروم رہ گیا۔

وقت گزر جاتا ہے۔ کون کسی کے لیے رکتا ہے۔ سو دنیا بھی اپنے اپنے دھندوں میں لگ جاتی ہے۔ ملائکہ فرمانبرداری میں؛ دن رات، سورج چاند، تارے سیارے گردش میں؛ شجر وحجر، ہوا و فضا، صحرا ور سمندر، دریا اور جنگل، چرند و پرند، کوہ و چمن غرض تمام ساکنان ارض معمولات کی ادائیگی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ پٹا ہوا مہرہ درِمالک پر پڑا رہتا ہے۔

پھر ایک روز حاملین عرش سے پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے اور کیا کہتا ہے؟

بہت اعلیٰ مقام والے بہت ادب کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔ یہ ایک پٹا ہوا مہرہ ہے۔اب تو کچھ نہیں بولتا۔ مگر جب تک بول سکتا تھا آپ کا نام لے کر کہتا تھا: ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔

زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ حاملین عرش کے پاس ایک فیصلہ آتا ہے:

اس پٹے مہرے کو تقدیر کی بساط پر دنیا و آخرت کا بادشاہ بنادو۔

حاملین عرش محو حیرت رہ جاتے ہیں۔ جبریل و میکائیل پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے۔ ملائکہ دم سادھے کھڑے رہتے ہیں۔ زمین و آسمان ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے ہیں۔ شجر وحجر دانتوں تلے انگلیاں دبالیتے ہیں۔ سورج اور ستارے نظریں بچا کر یہ منظر دیکھتے ہیں۔ دن و رات سارے دھندے چھوڑ کر تماشائی بن جاتے ہیں۔ ہوا اور فضا، صحرا اور سمندر، دریا اور جنگل، چرند و پرند، کوہ و چمن سب اس عنایت پر دم بخود رہ جاتے ہیں کہ پٹا ہوا مہرہ کیسے بادشاہ بن گیا۔

باپ بیٹے کو نہیں چھوڑسکتا۔ خدا بندے کو کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ پٹا ہوا مہرہ اس لیے بادشاہ بن گیا۔

اتوار, اگست 25, 2013

Kon hon??



ﮐﻮﻥ ﮨﻮﮞ، ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮞ ، ﮐﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺭﺍﺯ ﯾﮧ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺩﯼ ﺩﺳﺘﮏ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ

جون ایلیا

-----------------------------

Kon hoon, Kiya hoon, Kiya nahi hoon main
Raaz yeh kholta nahi hoon main
Aik din apne dar pe di dastak
Aur phir keh diya nahi hoon main

John Elia

Allah Ki Mohabbat



اللہ سے انسان محبت کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اللہ بھی اس سے محبت کرے مگر محبت کے لیے وہ کچھ دینے کو تیار نہیں۔
اللہ کے نام پر وہی چیز دوسروں کو دیتا ہے جسے وہ اچھی طرح استعمال کر چُکا ہو یا پھر جس سے اس کا دل بھر چُکا ہو چایے وہ لباس ہو یا جُو تا ۔
وہ خیرات کرنے والے کے دل سے اُتری ہوئی چیز ہوتی ہے اور اس چیز کے بدلے وہ اللہ کے دل میں اُترنا چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے
اس پُرانے لباس ، گھسی ہوئی چپل یا ایک پلیٹ چاول کے بدلے اسے جنت میں گھر مل جائے ،اللہ اس کی دُعائیں قبول کرنا شروع کردے، اس کے بگڑے کام سنورنے لگیں۔ وہ جانتا ہے، اللہ کو دلوں تک سُرنگ بنانا آتا ہے پھر بھی وہ اللہ کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔

عمیرہ احمد کے ناول شہر ذات سے اقتباس

ہفتہ, اگست 24, 2013

Sham Ka suraj



اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤگے
خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
تم ہو اک زندہ و جاوید روایت کے چراغ
تم کوئ شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے

--------------------------

Apne Markaz Se Agar Door Nikal Jao Ge
Khwab Ho Jao Ge Afsanon Main Dhal Jao Ge
Tum Ho Ik Zinda-o-Javed Riwayat Ke Charagh
Tum Koi Shaam Ka Suraj Ho Ke Dhal Jao Ge

Barson Ke Baad



برسوں کے بعد دیکھا ای شخص دلربا سا
اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچی کھنچی سی آنکھیں جھکی جھکی سی
باتیں رکی رکی سی لحجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں
بن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا

خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یاد اس کی
نیندوں میں گھل گیا ہو جیسے کہ رت جگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں
وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نامرادیاں دیں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے
کچھ ظاہر میں بجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر یوں ہوا کہ ساون آنکھوں میں آ بسا تھا
پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہنا تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی
بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا

تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا

ہم نے بھی اس کو دیکھا کل شام اتفاقاً
اپنا بھی حال ہے اب لوگو ‘فراز‘ کا سا
(احمد فراز)

Zara Ehd-e-Rafta Ko Awaz Dena



ایک خوبصورت تحریر جو آپکو کسی اور ہی دنیا میں لے جائے گی 
 

اپنی ننھی سی انگلی سے اس نے بٹن آن کیا۔ بیٹری والی کار چلنے لگی۔جہاں رکاوٹ ہوتی، کار ذرا سا رُک کر، واپس ہوتی اور پھر کسی دوسرے رخ چل پڑتی۔ اب وہ اس شور مچاتی کار کو روکنا چاہتا تھا لیکن اس سے بٹن آف نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اسے پکڑ کر میرے پاس لے آیا اور اس زبان میں جسے صرف وہ سمجھتا تھا اور فرشتے، مجھے بند کرنے کےلئے کہا اور میں نے بیٹری کا بٹن آف کر د یا۔

لیکن ڈیڑھ سالہ پوتے کے ساتھ کھیلتے ہوئے میں کہیں اور جا پہنچا تھا۔ مجھے لکڑی کا بیل یاد آ رہا تھا۔ لکڑی کا وہ بیل جو مجھے میرے نانا اور ماموں نے بنوا کر دیا تھا اور جو میرے ننھیالی گاﺅں بکھوال کے ترکھان نے بنایا تھا۔ میں اپنے نانا نانی کا پہلا نواسہ تھا۔اس وقت ان کا پوتا بھی نہیں پیدا ہوا تھا۔ میں وی آئی پی تھا اور وی آئی پی کی پہلی نشانی یہ ہوتی تھی کہ گاﺅں کے ترکھان سے، جسے سرکھجانے کی فرصت نہیں ہوتی تھی ، خصوصی طور پر لکڑی کا بیل بنوایا جاتا تھا۔ بیل کے پیچھے ننھا سا چھکڑا تھا۔ نیچے پہیے لگے ہوئے تھے۔ آگے رسی تھی اور میں اسے صحن بھر میں بھگاتا پھرتا تھا۔ 

 
ستائیس سال کے بعد میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں اسلام آباد میں تھا اور سول سروس میں تھا۔ کھلونوں کے ڈھیر لگ گئے لیکن میری سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔ گاﺅں ماموں کو خط لکھا کہ اسرار کےلئے لکڑی کا بیل بنوا کر بھیجیں۔ کہنے لگے یار، وہ ترکھان مر کھپ گئے۔ آج کل بیل کون بنواتا ہے۔ میں نے ضد کی۔ میں بیٹے کو اس عیاشی سے محروم نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔چنانچہ لکڑی کا بیل بن کر آیا اور اسرار اس سے کھیلا۔ 

 
اسرار کے ڈیڑھ سالہ بیٹے نے اپنی کار کی بیٹری مجھ سے بند کروائی تو مجھے پہلے تو لکڑی کا بیل یاد آیا اور پھر اسکے بعد بہت کچھ اور یاد آیا اور یاد آتا چلا گیا۔ اسکے پاس وہ سارے کھلونے ہیں جو کسی بچے کے پاس ہو سکتے ہیں۔ اسکی دادی‘ چاچوں، پھپھیوں‘ مامے، اور اسکے چین نژاد نانا اور نانی کے دیئے ہوئے کھلونوں سے اس کا کمرہ بھرا پڑا ہے اور چھلک رہا ہے لیکن مجھے اس پر ترس آ رہا ہے۔ پاکستان میں اس کا ضدی، روایت پرست دادا، کسی نہ کسی طرح لکڑی کا بیل بنوا لیتا لیکن یہ تو میلبورن ہے۔ ترکھان ڈھونڈوں تو کیسے ڈھونڈوں اور کہاں سے ڈھونڈوں؟


لکڑی کا بیل تو صرف ایک لگژری ہے جس سے یہ بچہ محروم ہے۔ عیاشی اور تفریح کا ایک جہان ہے جسے یہ نہیں حاصل کر سکتا اور جس میں اس کا خوش قسمت دادا خوشیوں کے ہلکورے لیتا رہا۔ رات کو دودھ والی چاٹی میں نانی یا دادی تنور کی روٹی کا ایک بڑا سا ٹکڑا ڈال دیتی تھیں۔ صبح یہ نرم ہو چکا ہوتا تھا اور مٹی کے بڑے سے پیالے میں دہی کے ساتھ ملتا تھا اور مزے لے لے کر کھایا جاتا تھا ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد چینی ملا میٹھا ادھ رِڑکا دیا جاتا تھا۔ روٹی پر مکھن کا بڑا سا پیڑا ہوتا تھا۔ ساتھ شکر ہوتی تھی اور لسی اور یہ گاﺅں کی اپر کلاس کا کھانا تھا! رات کی بچی ہوئی کھیر، مٹی کی پلیٹ میں جو ٹھنڈک بھرا ذائقہ دیتی تھی، اسکے بعد کہیں نہیں ملا۔


سہ پہر کو ٹوکری میں چنے یا مکئی کے دانے ڈال کر بھٹیارن کے پاس جا کر بھنواتے تھے۔ یہ SNACKS آج میرے پوتے کے نصیب میں کہاں! کوئی فاسٹ فوڈ، کوئی چاکلیٹ، بھٹیارن کے بھُنے ہوئے دانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ دوپہر کو جب دادی سوئی ہوتی تھیں تو چھپر میں گھڑونجی کے نیچے، ٹھنڈی گیلی ریت پر پڑی، کڑھے ہوئے دودھ سے بھری دیگچی میں سے بالائی اتار کر کھانے کا کیا لطف تھا اور چونکہ یہ واردات چوری کی ہوتی تھی اس لئے اس کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔


کیا آج میں اپنے پوتے اور نوا سی کو قائل کر سکتا ہوں کہ اس وقت ریفریجریٹر کا نام و نشان نہ تھا۔ جو گوشت پکنے سے بچ جاتا تھا اسے محفوظ رکھنے کی ایک ہی صورت تھی کہ صحن کے درمیان میں کپڑے سکھانے والی تار کے ساتھ باندھ کر لٹکا دیا جاتا۔ تار کے عین نیچے چارپائی پر کوئی نہ کوئی سو رہا ہوتا پھر بھی مہم جو بلی رات کے کسی حصے میں ضرور اس لٹکتے گوشت پر حملہ کرتی۔ کسی کی آنکھ کھل جاتی تو شور برپا ہو جاتا اور ایک ہنگامہ مچ جاتا!


لاﺅنج، ڈرائنگ روم اور بیڈ روموں میں قید، ان بچوں کو کیسے بتایا جائے کہ عصر کے بعد، جب سائے خوب ڈھل جاتے تو بڑے بڑے صحنوں میں صفائی کے بعد پانی کا چھڑکاﺅ ہوتا۔ چارپائیاں باہر نکالی جاتیں، ان پر گدے (تلائیاں) اور گدوں پر چھیبی ہوئی چادریں بچھائی جاتیں۔ ساتھ کڑھے ہوئے غلافوں والے تکیے ہوتے۔ ان بستروں پر لیٹ کر، اچھل کر اور قلابازیاں کھا کر کتنا لطف آتا۔ دوسرے صحن میں بکریوں کےلئے بیری کی کٹی ہوئی جھاڑیاں پڑی ہوتیں جو اسی شام باہر سے چرواہے نے لا کر رکھی ہوتیں۔ ان جھاڑیوں سے میٹھے بیر چن چن کر کھانے میں کیا مزا تھا! اور مویشیوں والے صحن میں کیا مہک ہوتی! میمنے کی خوشبو! جسے ہم بوسہ دیا کرتے۔ گھوڑی کی کھال سے نکلنے والی خوشبو اور تازہ کٹی ہوئی گندم سے نکلنے والی عجیب مست کر دینے والی مہک! کیا خوشبوئیں تھی جو زندگی بھر ساتھ رہیں۔ مٹی کے کورے پیالے سے نکلنے والی سوندھی خوشبو! تنور سے اترنے والی گرم روٹی کی خوشبو! سرسوں کے پھولوں بھرے کھیت میں سے گزرنے وقت ناک سے ٹکرانے والی خوشبو اور گاﺅں سے تھوڑی دور بہنے والی ندی کے مٹیالے پانی کی خوشبو.... وہ پانی جو کسی بھی منرل (Mineral)واٹر سے زیادہ میٹھا ا ور زیادہ صاف تھا!


ہم رات کو سوتے وقت سینکڑوں ہزاروں تارے دیکھتے تھے جو آسمان پر جگمگا رہے ہوتے تھے۔ یہ وہ منظر ہے جسے میرا پوتا شاید ہی دیکھ سکے۔ ہم گاﺅں کے جنوب میں پہرہ دیتی پہاڑیوں کے پار کھلے میدان میں گلی ڈنڈا کھیلتے تھے۔ واپس آتے تھے تو تھکاوٹ اتارنے کےلئے ٹھنڈے میٹھے ستو پیتے تھے۔ ہاتھوں سے بنی ہوئی سویاں کھاتے تھے۔ باجرے کے خوشے ہمارے لئے تنور میں رکھے جاتے تھے تاکہ دانے بھن جائیں۔ گندم کے اور مکئی کے اور جوار کے اور چنوں کے مرنڈے کھاتے تھے۔ کھیتوں سے نکالے ہوئے چنوں کے پودوں سے سبز چنے کھاتے تھے۔ موٹھ اور مونگ کی ادھ پکی پھلیاں کھاتے تھے۔ بیلوں میں چھپے ہوئے اور زمین پر لیٹے ہوئے خربوزے اور تربوز اپنے ہاتھوں سے توڑتے تھے۔ شہر سے ہمارے لئے چاکلیٹیں نہیں بلکہ گنوں کے گٹھے آتے تھے جنہیں ہم دانتوں سے چھیل چھیل کر کھاتے تھے۔


بڑے بڑے شاپنگ مالوں میں آج میرا پوتا، خود کار سیڑھیوں پر خود ہی سوار ہوتا ہے اور خود ہی اتر آتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اس کا دادا جب گھوڑی کو پانی پلانے، گاﺅں سے باہر، تالاب کی طرف لے جانے لگتا تو اس پر زین نہیں صرف تہہ کیا ہوا کمبل ہوتا تھا جس پر اس کا دادا اچھل کر سوار ہوتا اور اپنے نانا کی ہدایت کے بالکل برعکس، گھوڑی کو بھگا کر لے جاتا۔ اسلام آباد کے ایک گھر میں ڈیڑھ سالہ حمزہ کی آبائی زینیں ایک ڈرائنگ روم کی زینت ہیں۔ وہ زینیں جن پر اس کا دادا، پردادا اور لکڑدادا سوار ہوتے رہے‘ آج ANTIQUEبنی ایک کونے میں پڑی ہیں

جمعرات, اگست 22, 2013

ادب پہلا قرینہ ہے ۔ ۔ ۔ محبت کے قرینوں میں



سورت الروم کی آیت نمبر 21 ہے
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
1۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ
2۔ اس نے تمھارے جوڑے تمھی میں سے پیدا کئے
3۔ تاکہ تم اُن کی طرف سکون کر سکو
4۔ اور پھر تمھارے درمیان موٴدت اور رحمت بنادی (کردی)
 5۔ کہ اس میں سوچنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
اللہ تعٰالی نے عورت اور مرد کی تخلیق، خلقت اور فطرت کو اپنی نشانی کہا ہے جو ایک عظیم حکمت کی دلالت کرتی ہے۔
       * بات کے شروع میں اپنی نشانی قراردے کر باقی بات مکمل کرنا، اس بات کی طرف اشارە ہے کہ اس تمام معاملے کا اللہ کی شان سے خاص تعلق ہے۔
   * اندازِ تخاطب اور گرامر کی رُو سےیہاں عورت یا مرد کی تخصیص نہیں۔ یہ ضمیرِ مخاطب (مخاطب کرنے کا یہ لفظ) عورت اور مرد دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
   * اسی طرح لفظ “ازواجاً”، “جوڑا”، ” Spouse” مترادف ہیں یعنی بات ایک ہی وقت میں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے۔
   * تمھاری جنس اور سپیشز سے تمھارا جوڑا بنانے میں اللہ تعٰالی کی حکمت ہے۔ اس نے عورت اور مرد کو ہمزاد بنا کر اُن میں فطری میلان اور جھکاوٴ  ناگریز  بنا دیا۔ یہ انسان کی فطرت کےایسے اسرار ہیں جن کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی کہہ رہا ہے۔
   * اس کے بعد ہم جنس بنائے ہوئے جوڑے کو سکون کا سبب بنایا ہے۔ “لتسکنوا الیہا” کا مطلب ہے کہ تم اس جوڑ سے سکون حاصل کرو۔ یہاں سکون بطور “اسم” ازخود پہلے سے موجود نہیں بتلایا گیا بلکہ “اُن کی طرف سکون کرو” بطور فعل بتایا گیا۔ یہ صفت اور خوبی اس تعلق میں ایسی ہے جس کے لئے مرد اور عورت کو تدبیر کرنی ہے۔
    * “و جعل بینکم” میں “بینکم” کا لفظ استعمال کرکے مرد اور عورت دونوں کے مابین کی طرف اشارە کیا گیا ہے۔ یہاں بھی مرد اور عورت کو بلا تخصیص اوربلا تفضیل برابر مخاطب کیا گیا ہے۔
   * ہم جنس جوڑے میں سکون کے ساتھ دو اور صفات کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی بتاتا ہے کہ اللہ تعٰالی تمھارے مابین 1) مودت اور 2) رحمت جاری کردیتا ہے۔
یہاں شوہر اور بیوی کے تعلق میں لفظ “محبت” کی جگہ موٴدت اور رحمت استعمال کیا گیا ہے۔ بلاشبہ اس میں رب کائنات کی عظیم حکمت ہے۔
اس حکمت پہ غور کرنے کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ لغوی اعتبار سے موٴدت اور محبت میں کیا فرق ہے؟
      * لغت کے اعتبار سے
      محبت:  دل اور نفس کی صفت اور کیفیت (صفہ نفسیہ)
      موٴدت: عمل، رویے اور سلوک کی صفت اور کیفیت (صفہ عملیہ)
 محبت انسان کے دلی جذباتی لگاوٴ کی کیفیت ہے کہ جو کیفیت محبت کی صورت میں دل پہ ہوتی ہے، جبکہ موٴدت انسان کے سلوک اور رویئے کی کیفیت ہے کہ وە سلوک اور برتاوٴ جس سے محبت جھلکتی ہو، ۔ ۔ ۔
  اس بات سے یہ اشارە ملتا ہے کہ ازواج اپنی دلی کیفیت پہ اکتفا نہ کریں، خواە وە محبت کے دعویدار ہیں یا نہیں، اچھی ازدواجی زندگی کے لئے دل میں چھپی محبت کافی نہیں، اور لازم بھی نہیں، لیکن اپنے عمل، سلوک اور رویئے میں محبت کا ظاہر ہونا ضروری ہے، چونکہ مرد اور عورت دونوں کو یکساں مخاطب کیا گیا ہے لہذا موٴدت اور رحمت کا معاملہ دونوں ہی کو یکساں طور پہ کرنا ہے۔
ازواج کے باہمی رویۓ، عمل اور گفتگو میں موٴدت (محبت بھرا برتاو)ٴ اور رحمدلی کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی قرار دے رہا ہے۔ محبت کے اظہار کے لئے اولین قدم عزت ہے۔ ۔ ۔
                  ؂ ادب پہلا قرینہ ہے ۔ ۔ ۔ محبت کے قرینوں میں
گویا یہ رشتہ قانونی اور شرعی بندھن تو اپنی جگہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان کی فطرت سے مطابقت رکھنے والا بھی ہے جس کو انسان کی فطرت بنانے والا خود اپنی نشانی کہہ رہا ہے اور اُن فائدوں کا ذکر کررہا ہے جو اُس نے اِن دونوں ازواج کی فطرت میں سمو دیئے ہیں۔
   * یہ مطالب ان کے لئے ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں اور سوچنے، تدبر کرنے والوں کے لئے ہی یہ بات اللہ تعٰالی کی نشانیوں میں شمار ہوگی۔
      ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔
یہاں تک  سورت الروم کی آیت 21 کے ترجمے اور مفہوم کا ذکر ہوا۔ جس سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آئے۔
  1۔ اللہ تعٰالی اس آیتِ مبارکہ میں مرد اور عورت کی تخلیق، اُن کی باہمی کشش، مطابقت اور کیمسٹری کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دے رہا ہے۔ چنانچہ یہ مطابقت اور موٴدت اپنا وجود رکھتی ہے۔ اگر ہم اِسے مفقود پاتے ہیں تو لازمی طور پہ ہم غلط پیمانے میں اس تعلق کو تول رہے ہیں۔ اور اس ضمن میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وە  توقعات اور ذمہ داریاں وابستہ کرلی یا کردی جاتی ہیں جو خالقِ کائنات نے لاگو نہیں کیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف معاشروں میں مختلف روایتی اثرات کے زیرِ اثر اس تعلق کو مختلف مفہوم پہنادئیے جس کی وجہ اس تعلق کی وە حکمت پس منظر میں چلی گئی جو اللہ تعٰالی نے وضع کی تھی۔
  2۔ ہم جنس جوڑے ہونے کی وجہ سے اللہ تعٰالی نے ازواج کو ایک دوسرے کے لئے سکون کا سبب بنایا۔
  3۔ اور اللہ تعٰالی جوڑوں کے مابین موٴدت اور رحمت پیدا کردیتا ہے، جس کے لئے اُن کو باہمی سلوک میں محبت بھرا رویئہ اپنانا ہے بجائے اس کے کہ زبانی کلامی محبت کا دعوی ہو،( بعض صورتوں میں زبانی دعوے کا تکلف بھی روا نہیں رکھا جاتا) اور عملی رویئے، برتاوٴ، سلوک، محبت کے برعکس اور ناقدری ظاہر کرنے والے ہوں۔
  4۔ یہ بات، یہ نشانی، اس تخلیقی میکنزم کی حکمت صرف اُن ہی کو سمجھ آئےگی جو عقل رکھتے ہیں اورتدبر اور غورو فکر کرتے ہیں۔

Umeed Abhi Kuch Baqi Hai



اُمید ابھی کچھ باقی ہے ۔ اِک بستی بسنے والی ہے
جس بستی میں کوئی ظُلم نہ ہو ۔ اور جینا کوئی جُرم نہ ہو
وہاں پھُول خوشی کے کھِلتے ہوں ۔ اور موسم سارے مِلتے ہوں
بَس رَنگ اور نُور برستے ہوں ۔ اور سارے ہنستے بَستے ہوں
اُمید ہے ایسی بستی کی
جہاں جھوٹ کا کاروبار نہ ہو ۔ اور دہشت کا بازار نہ ہو
جینا بھی دشوار نہ ہو ۔ اور مرنا بھی آزار نہ ہو
وہاں خون کی ہولی عام نہ ہو ۔ اُس آنگن میں غم کی شام نہ ہو
جہاں مُنصف سے انصاف ملے ۔ دل سب کا سب سے صاف ملے
اِک آس ہے ایسی بستی ہو ۔ جہاں روٹی زہر سے سستی ہو
یہ بستی کاش تمہاری ہو ۔ یہ بستی کاش ہماری ہو
اُمید ابھی کچھ باقی ہے ۔ اک بستی بسنے والی ہے


Source: http://www.theajmals.com/blog/2013/03/%D8%A7%D9%8F%D9%85%DB%8C%D8%AF/#comments

بدھ, اگست 14, 2013

Dua-e-Watan



یا رب وہ ابر بخش کہ جو ارضِ پاک کو
حدِ نظر تک اُمڈے ھوئے سبزہ زار دے

میدان جو جل چُکے ھیں بُجھا ان کی تشنگی
شاخیں جو لُٹ چُکی ھیں انہیں برگ و بار دے

Jeewy Jeewey Pakistan!!!



جیوے جیوے پاکستان
جیوے پاکستان
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

من پنچھی جب پنکھ ہلائے
کیا کیا سر بکھرائے
سننے والے ان میں ایک ہی دھن لہرائے
پاکستان پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

جیوے جیوے پاکستان
جیوے پاکستان
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

بکھرے ہوئے کو بچھڑے ہوئے کو
اک مرکز پہ لایا
اتنے ستاروں کے جھرمٹ میں
سورج بن کر آیا

پاکستان پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

جیوے جیوے پاکستان
جیوے پاکستان
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

جھیل گئے دکھ جھیلنے والے
اب ہے کام ہمارا
ایک رکھیں گے
ایک رہے گا
ایک ہی نام ہمارا
ایک ہی نام ہمارا


پاکستان پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان

جیوے جیوے پاکستان
جیوے پاکستان
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان
جیوے پاکستان


منگل, اگست 13, 2013

اک خواب ہے ایسی بستی ہو



میرے خوابوں کی بستی

اک خواب ہے ایسی بستی ہو
جہاں شام بھی ہنستی بستی ہو

نہ خوف کا کوئی پہرا ہو
بد وقت جہاں نہ ٹھہرا ہو
جہاں روٹی خون سے سستی ہو
اک خواب ہے ایسی بستی ہو

ظلمت کا جہاں پر راج نہ ہو
کوئی خواب جہاں تاراج نہ ہو
بس چین کی بنسی بجتی ہو
اک خواب ہے ایسی بستی ہو

نہ خون بہے نہ فاقہ ہو
مزدور جہاں پر آقا ہو
جہاں نیک سبھی کی ہستی ہو
اک خواب ہے ایسی بستی ہو

بس جائیں جا کر ہم بھی وہیں
نہ کوئی دُکھی، نہ کوئی حزیں
رحمت بھی رب کی برستی ہو
اک خواب ہے ایسی بستی ہو
اک خواب ہے ایسی بستی ہو

ذاتی کاوش 
(سیما آفتاب)

--------------------------------
Ik Khawab hai aisi basti ho
Jahan shaam bhi hansti basti ho

Na khof ka koi pehra ho
Bad-waqt jahan na thehra ho
Jahan roti khoon se sasti ho
Ik Khwab Hai aisi basti ho

Zulmat ka jahan per raaj na ho
Koi khawab jahan taraaj na ho
Bas chain ki bansi bajti ho
Ik khwab hai aisi basti ho

Na khoon bahey na faqa ho
Mazdoor jahan per aqa ho
Jahan faqa na tangdasti ho
Ik khwab hai aisi basti ho

Jahan phool khilain qariya qariya
Barsey Rehmat Dariya Dariya
Jahan naik sabhi ki hasti ho
Ik khwab hai aisi basti ho

Bas jayen ja kar ham bhi wahin
Na koi dukhi, na koi hazeen
Rehmat bhi Rab ki barasti ho
Ik khwab Hai aisi basti ho
Ik khwab hai aisi basti ho

Written by Myself (Seema Aftab)


Arz-e-Watan



میں نے اس عمر میں چاہا تھا تجھے اے ارض وطن
جب شعور آج کی صورت میرا بیدار نہ تھا

----------------------------------

Main Ne Us Umr Main Chaha Tha Tujhey Aye Arz-e-Watan
Jab Shaour Aj Ki Surat Mera Bedaar Na Tha

Qom Ki Taqdeer






کردار ادا کرنا ہر شخص کو پڑتا ہے
آساں نہیں قوموں کی تقدیر بدل جانا

-----------------------------

Kirdaar Ada Karna Har Shakhs Ko Parta Hai
Asaan Nahi Qomom Ki Taqdeer Badal Jana

Toba Ka Dar



" توبہ کا در تو ہمیشہ ہی کھلا رہتا ہے ! "

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں پانی کی ان بوندوں کی بھی کیا قسمت ہے جو ہمیں پاک کر کے اور
ہماری نا پاکی اپنے ساتھ بہا کر خود ناپاک ہو کر کسی نالی میں جا ملتی ہیں -

مگر جب میں نے اور تھوڑا غور کیا تو پتا چلا کہ وہ نالی بھی تو ضرور کہیں نہ کہیں ملتی ہوگی کسی ندی میں کسی نالے میں کسی دریا میں کسی سمندر میں جیسے ہی نالی کا وہ پانی کسی بہتے پانی میں ملا تو وہ پھر سے پاک ہو گیا دریا میں مل کر اور وسیع ہوگیا اور سمندر سے مل کر اپنی انتہا کو پہنچا اور خود وہ بوند سمندر ہوگئی

تو سمجھ میں آیا جو دوسروں کو پاک کریگا تو ان کی غلاظت سے خود بھی ناپاک ہو جایئگا -
چونکہ اس نے وہ سفر جاری رکھا تو کسی اور سے مل کر پھر پاک ہوگیا انسان بھی اسی طرح ہے اگر وہ کسی کی خدمت کریگا تو ظاہری طور تھوڑی پریشانی ضرور پیش آئے گی
مگر آگے چل کر اور اگر اس نے خدمات والا سفر جاری رکھا تو ہو سکتا ہے الله اپنے پیاروں میں اسے شمار کر کے سب پریشانیاں دور فرما دے اور اپنا فضل اس پے جاری کر دے کیا پتا ........!

سو ظاہری پریشانیوں سے گھبرا کے سفر رکنا نہیں چاہئے !
توبہ کا در تو ہمیشہ ہی کھلا رہتا ہے !

Mishal bardari



روشنی میں ھر کوئی راہ بتانے کی خواہش رکھتا ھے، مگر مزہ تو تب ھے جب کوئی اندھیروں او مایوسیوں کے دور میں مشعل برداری کرے_
 
(خلیل جبران)