جمعہ, اگست 26, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ دہم

حصہ دہم


سیاست دانوں کے متعلق ایک چیز تو واضح ہے کہ وہ تقریر بہت اچھی کرتے ہیں مگر، کیا وہ جنگ میں خود حصہ لیتے ہیں یا وطن کے لیے اپنے جوان بیٹے بیٹیاں بھیجتے ہیں؟ کیا وہ اپنے بچے بھیجتے ہیں؟ ہرگز نہیں.
وہ جنگ کیلئے غریبوں کے بچوں کو بھیجتے ہیں. اب جبکہ بدر کا واقعہ ہونے جا رہا تھا. عبداللہ بن اُبئی چونکہ ایک حقیقی سیاستدان تھا. کیا وہ بذات خود جنگ میں حصہ لینے کیلئے تیار بیٹھا تھا؟ ہرگز نہیں. اس کا مطمع ءنظر تو محض سیاست تھا نہ کہ قربانی.
قربانی تو نچلے طبقے کیلئے ہوتی تھی،اور وہ تو یثرب کے اعلٰی طبقے سے تعلق رکھتا تھا. لیکن اسلام آنے کے بعد کوئی اعلٰی اور ادنٰی طبقہ نہیں رہ گیا تھا. اب سب مسلم تھے.وہ بھی اب سب کے ساتھ ہی کھڑا تھا.
پہلے جب قبائل کے سربراہ آتے تھے تو لوگ ان کا شاندار استقبال کرتے تھے، ان کو اسپیشل نشستیں مہیا کرتے تھے. آج کے دور میں بھی ، یہاں تک کہ مسلم دنیا میں بھی، یہ طبقاتی فرق نمایاں طور پر نظر آتا ہے آپکو، ہر جگہ مخصوص نشستیں لگی ہوئی نظر آتی ہیں. آپ کبھی بھی ایک ٹرک ڈرائیور اور ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک ہی جگہ بیٹھا ہوا نہیں پائیں گے. افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ طبقاتی فرق ہمارے مسلم معاشرے میں بھی پایا جاتا ہےآپ کو کسی کلاسیفائیڈ سوسائیٹی میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ امیر لوگوں کو دیکھیں گے(بہترین گاڑیوں کے مالک) ان کے ڈرائیوربھاگ کے آتے ہیں، تیزی سے ان کیلئے کار کا دروازہ کھولتے ہیں. وہ دولتمند اشخاص اپنے ڈرائیور کو سلام تک کرنا گوارہ نہیں کرتے. حالانکہ وہ بھی مسلم ہی ہے. یہ بہت توہین آمیز انداز ہے. میں ایک مسلم ملک میں گیا، نماز جمعہ کے دوران کیا دیکھتا ہوں کہ پہلی تین قطاریں حفاظتی حصار میں تھیں، جناب یہ وی آئی پی سیکشن تھا... الله الله !!!

رسول الله( صلي الله عليه وسلم) کے ہاں تو کوئی وی آئی پی سیکشن نہ تھا. نماز کے دوران قطار بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ تمام گورے/کالے، آزاد /غلام ، امیر/ غریب ، بیمار / صحت مند ،بوڑھے / جوان ، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوں. باقی ہر چیز کو پیچھے چھوڑ دیں. یہی حقیقی مقصد تھا صف بندی کا. مگر کیا کیا جائے کہ کچھ لوگوں کے دماغ میں طبقاتی فرق گھسا ہوا ہوتا ہے. ان کیلئے یہ سب بہت مشکل ہوتا ہے، جیسےعبدالله بن اُبئی کا معاملہ ہے. اس کیلئے اور اس کے ساتھیوں کیلئے یہ بہت مشکل مرحلہ تھا. مدینہ میں ظہور اسلام کے بعد اب مہاجرین بھی برابر درجہ رکھتے تھے. مثلاً نماز میں ایک دن کسی جگہ پر اگر "وہ "کھڑا ہے تو دوسرے دن بلال کھڑے ہیں. اور اگلے دن ایک مہاجر، نہ صرف ایک مہاجر بلکہ ایک غلام (خادم )بھی.
یہ دوسرے طبقے کے لوگ نہ تھے بلکہ درجہ چہارم کے ملازم ان کے برابر کھڑے ہوتے تھے.یہ بات اس کیلئے ناقابل برداشت تھی. 

یہی بات حضرت نوح (عليه السلام)اور حضرت صالح( عليه السلام ) کی قوم نے (جنھوں نے کفر کیا) کہی تھی کہ ہم آپ کی بات سننا چاہتے ہیں. ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں. لیکن مسئلہ آپ کے ارد گرد موجود یہ غریب لوگ ہیں. جو ہر وقت آپ کو گھیرے رکھتے ہیں.
اگر آپ کسی فور سٹار ریستوران میں کسی ایگزیکٹو نشست پر بیٹھے ہوں، یا اپنے آفس میں ہوں اور آپ کا کوئی غریب ہمسایہ مل جائے تو آپ فوراً دوسروں کو بتاتے ہیں کہ یہ مجھ سے کمتر ہے. یا یہ میرے ماتحت ہے.
یہ منافقین کا ایک گروہ ہے جس سے میں آپکو متعارف کروانا چاہتا تھا.
ان لوگوں نے اسلام قبول تو کر لیا تھا. لیکن ان کے قبول اسلام کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ انھوں نے اس لئے نہیں اسلام قبول کیا تھا کہ وہ اسلام کے قائل ہوگئے تھے، ان کا اسلام قبول کرنا، اسلام سے محبت کا نتیجہ نہ تھا بلکہ قبول اسلام ہی ان کے لئے ایک ایسا رستہ تھا جس کے ذریعے وہ اپنا سیاسی کیرئیر بچا سکتے تھے. انھیں امید تھی کہ بالآخر چیزیں ان کے حق میں ہو جائیں گی.
ان کے رسول الله (صلى الله عليه وسلم) کے قریب آنے کی یہی وجہ تھی (وہ ان کو اپنا دشمن ہی سمجھتے تھے). تو یہ منافقین کی ایک قسم تھی

لیکن یہ آیات دوسری قسم سے متعلقہ ہیں. ان کے اسلوب کی خوبصورتی یہ ہے کہ الله عزوجل اپنے بیان میں بہت فصیح ہیں. وہ بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کر تے ہیں. ایک ہی وقت میں بہت سے گروہوں کی نشاندہی کرتے ہیں. یہی قرآن کی خوبصورتی ہے
.
هم ایک کلاس کی مثال لیتے ہیں: آپ کے کافی سارے شاگرد ہیں مختلف طالب علموں نے مختلف غلطیاں کی ہیں. ایک شاگرد ٹیسٹ میں فیل ہے. دوسرے نے ہوم ورک نہیں کیا. ایک اور طالب علم کلاس میں دیر سے آتا ہے. کچھ اور طلبہ کلاس کا ماحول خراب کر رہے ہیں اس طرح ایک ہی کلاس میں طلبہ مختلف جرائم میں ملوث ہیں. اب استاد کہتا ہے کہ "کچھ لوگ آج کلاس میں بڑی مشکل میں ہیں" جب استاد یہ کہتا ہے تو اس کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ استاد نے واضح نہیں کیا. یہاں تک کہ اگر استاد یہ بھی کہہ دے کہ آپ میں سے ایک بڑی مشکل میں ہے. تو اس نے تب بھی خصوصی طور پر کسی ایک طالب علم کا نام نہیں لیا. کلاس میں ہر فرد یہ سوچے گا کہ یہ میرے لئے ہے. دوسرا سوچے گا یہ بات میرے لئے ہے. یعنی سب طالب علموں کی سوچ کچھ ایسی ہی ہو گی.
گفتگو میں عقلمندی یہی ہے کہ چیزوں کو جنرل رکھا جائے. ايسا طرز تخاطب ہو جو زیادہ لوگوں کا احاطہ کرتا ہو.
پہلی بات منافقین کے سرداروں سے متعلق تھی.
اب انھی لوگوں میں ایک اور گروہ بھی موجود ہے جنھوں نے اسلام تو قبول کر لیا ہے. لیکن انھیں اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کہ قبولِ اسلام کے ساتھ انہیں کچھ اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں.
آج کے اسلام میں اور اُس دور کےاسلام میں بہت فرق ہے. آج کے دور میں جب کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو اس کی کہانی کیا ہوتی ہے؟ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص اپنے اپارٹمنٹ میں اکیلا رہتا ہو. اس کے والدین وفات پا چکے ہوں. اس نے کہیں سے اسلام کے بارے میں سنا ہو. وہ یوٹیوب سے اسلام سے متعلق ویڈیوز دیکھے گا. شیخ یوسف کو سنے گا. مفتی مینک کو سنے گا. سوچے گا کہ یہ ایک دلچسپ دین ہے. وہ مسلم بننا چاہے گا. پھر وہ گوگل سے مسجد کو تلاش کرے گا. وہاں جائے گا اور گواہی دے کر مسلمان ہو جائے گا.
اس کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ اس کی روزانہ کی زندگی بدلی ہے: اس کی زندگی سے سؤر کا گوشت نکل گیا ہے، الکوحل نکل گئی ہے، اب وہ صبح سویرے فجر کے لئے جلدی بیدار ہونے لگ گیا ہے، یعنی کچھ تبدیلیاں اس کی زندگی میں لازمی طور نظر آتی ہیں
.
لیکن اسلام کے ابتدائی دور میں کسی شخص کے اسلام قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ اس کی خوراک تبدیل ہوجائے گی ، یا روزے رکھنے پڑیں گے یا روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرنی پڑے گی.
تو پھر ان کے قبول اسلام کا کیا مطلب تھا؟

اس دور میں اس کا مطلب تھا کہ آپ قریش کے خلاف ایک تحریک کا حصہ بننے جا رہے ہیں. آپ براہِ راست قریش کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں. آپ جزیرۂ عرب کے بڑے قبائل کو اپنا دشمن بنانے جارہے ہیں. صرف ایک گواہی دینے کے عمل سے وہ علاقہ کے طاقت ور ترین لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کر رہے تھے. اسلام کے ساتھ اخلاص کا مظاہرہ درحقیقت قریش کے ساتھ اعلان جنگ تھا.
یہ سچ ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا تھا، انہیں بھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا. حالانکہ ابھی تک حلال حرام خوراک کی وضاحت نہیں کی گئی تھی، اس وقت تک پانچ وقت نماز کا حکم بھی نہیں آیا تھا، ابھی تک سود کے قوانین کا نفاذ نہیں ہوا تھا، روزے کی فرضیت بھی نہیں تھی، ابھی تک پردے کے (لباس کے ) احکامات بھی نہیں آئے تھے. وہ ساری چیزیں جن کو آپ اسلام سمجھتے ہیں. مکہ میں ابھی تک ، ان میں سے کوئی بھی لازم نہ ہوئی تھی.  نہ پانچ وقت کی نماز، نہ روزہ، نہ عورتوں کیلئے لباس کی پابندی، اور نہ ہی ابھی شراب حرام ہوئی تھی، تو پھر قبول اسلام کے ساتھ وہ کس مشکل کا شکا ر ہوئے؟ انھوں نے ایک طرف تو رسول الله( صلى الله عليه وسلم)کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا، تو دوسری طرف دیگر قبائل کے ساتھ یہ غیراعلانیہ سرکشی کا قدم تھا۔
.
ان دنوں میں اسلام قبول کرنے کا مطلب تھا کہ آپ ایک ملٹری ( فوجی گروپ) میں شامل ہو رہے ہیں، آپ محض اسلام قبول نہیں کر رہے بلکہ آپ ایک تحریک کے رکن بن رہے ہیں. اب مسئلہ یہ تھا کہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ اس مذہب کامطلب ہے ایک الله پر ایمان، جس کا خوبصورت پیغام وحی کی صورت میں هے. متاثر کن الفاظ، جو پہلے کسی نے کبھی نہ سنےتھے، یہ سب ان لوگوں کے باطن کو متاثر کر رہا تھا، ان کے نفس کو متاثر کر رہا تھا۔
.
یہ ایسی چیز تھی جو ان کی روح میں اتر کر گونج رہی تھی. یہ ایک منطقی عہد وفاداری تھا، جو دلوں کو جوڑ رہا تھا، اب جبکہ انہوں نے دین اسلام قبول کرلیا تو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا پیغام آگیا.. جہاد کرنے کا پیغام آگیا.. ہجرت کا پیغام آگیا.. قریش جنگ بدر کے لیے نکل پڑے، اور اب انہیں ملٹری قائم کرنی تھی.
اس وقت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ان سب مسلمانوں سے فوج میں شامل ہونے کا کہتے ہیں جنہوں نے ابھی اسلام قبول کیا تھا، تو وہ (منافق )لوگ آگے سے منہ بناتے ہیں، کہ ہم تو نماز پڑھنے کیلئے آئے ہیں، ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں، ہم تلاوت کرنا چاہتے ہیں، کوئی کہتا میں تو اپنی تجوید درست کرنا چاہتا ہوں، لیکن جہاں تک یہ بدر کا معاملہ ہے، ہم اس کے لئے نہیں آئے، کوئی کہتا کہ میں تو کسان ہوں، میری لئے پہلے ہی پانچ نمازیں مشکل ہیں۔۔وغیرہ وغیرہ
آپ دیکھیں کہ بدر میں کل کتنی تلواریں تھیں؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان مجاہدین میں سے کتنے لوگوں کا فوجی پس منظر تھا؟
صرف ۳۱۳ کی ملیشیاء تھی، کوئی فوجی پس منظر نہ تھا. یہ لوگ بس ذہنی آمادگی کے ساتھ لڑنے کیلئے نکل کھڑے ہوئے تھے. میں کہتا ہوں کہ یہ وہ لوگ تھے. جن کی روح تک میں اسلام اتر گیا تھا. انھوں نے اسلام کو پوری سچائی کے ساتھ قبول کر لیا تھا.
اور رہے منافقین، تو ان کو جب احساس ہوا کہ اسلام ہم سے بہت ساری قربانیاں چاہتا ہے، مالی اور جانی دونوں طرح سے، تو انھوں نے چند قدم پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا، کہ یہ سب ہمارے لئے نہیں ہے، یہ اچھی بات نہیں ہے. وہ سوچ رہے تھے کہ اسلام سے قبل یثرب میں زندگی نہایت آسان تھی، اب چیزیں مشکل ہوگئی ہیں،
اب ایسی کشمکش میں کون تھا جو ان لوگوں کو اکٹھا کرکے ان کے شک کو اور بڑھا رہا تھا؟
عبداللہ بن اُبئی
اس کےپاس منافقت کی سیاسی وجوہات تھیں. مگر وہ ان لوگوں کو شکار کرکے اپنے گرد اکٹھا کرنے لگ گیا. اس طریقے سے وہ لوگوں کا اعتماد جیتتا تھا.
اس طرح منافقین کے یہ دو گروہ ہوئے.
یہ ایمان کو کمزور کرتے ہیں. نفاق کو پھیلانے کا موجب ہیں.
دو گروہ اور ہیں جن کے بارے میں، میں بات کرنا چاہتا ہوں: ( اس سے قبل کہ ہم اگلی آیات کی طرف جائیں )
درحقیقت مدینہ کے یہود دو گروہوں میں بٹ گئے تھے: (عیسائیوں کا معاملہ الگ ہے )
ایک گروپ ربیوں (یہود کے علماء)کا تھا.
جنھوں نے رسول اللہ کو فوراً پہچان لیا تھا، اور جب انھوں نے پہچان لیا تو وہ خوفزدہ ہوگئے، آپ جانتے ہیں کہ وہ کیوں خوفزدہ ہوئے تھے؟ آپ اس منظر کو دیکھیں کہ جب یہ آیات تیزی سے ان کی طرف نازل ہورہی تھیں وہ اس کا سارا پس منظر پہلے سے جانتے تھے، ربی (تورات کے عالم ) وہ لوگ تھے جو لوگوں کو خطبہ دیتے تھے دینی اور مذہبی لیکچرز دیتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو فتویٰ بھی دیتے تھے. پس ہر وہ شخص جو یہود ازم کا پیروکار تھا. وہ ان کے پاس فتوی کیلئے، خطبہ کیلئے، مذہبی تعلیم کیلئے، غرض ہر بات کیلئے آتا تھا. اب اگر یہ ربی، رسول الله( صلى الله عليه وسلم) کو بحیثیت آخری پیغیمبر کے قبول کر لیتے تو کیا پھر وہ مزید فتاویٰ دے سکتے تھے؟ کیا اس کے بعد پھر کوئی شخص ان کا لیکچر سننے کنیسہ میں آتا؟
رسول الله (صلى الله عليه وسلم) کو ماننے کی صورت میں ان کی حیثیت ایک استاد سے بدل کر ایک شاگرد کی ہو جاتی اور شاگرد بھی کس کے؟
"رسول االله (صلي الله عليه وسلم) کے"
پھر انھیں اپنا منہ بھی بند رکھنا پڑتا کیونکہ یہ "سمعنا واطعنا" والا دین ہے. اب ذرا ایک نظر ان کی معاشرتی پروفائل پر ڈال لیں. اپنی کمیونٹی میں ان کی حیثیت ایک مذہبی عالم، ایک مفتی، ایک خطیب کی ہے. اسلام قبول کرنے کے بعد کیا ہوگا؟ ان کا ان سب حیثیتوں کے ساتھ جو کرئیر ہے وہ ختم ہو جائے گا. ان کی اہمیت ختم ہو کر رہ جائے گی. کسی بھی مذہب میں یہ مذہبی نفسیات ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو مذہبی طور پر نمایاں حیثیت کے حامل ہوں، جو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوں، تعلیم دیتے ہوں، وہ متاثرکن حیثیت کے حامل ہوتے ہیں. یہ سیاست کے بہت قریب ہوتے ہیں. سیاست دان لوگوں کو متاثر کرتا ہے. یہی خاصیت مذہبی سکالر کی ہوتی ہے. جس کی وجہ سے کرپٹ مذہبی لوگ سیاست دانوں کے بہت قریب ہوتے ہیں. گویا کہ یہ ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں. ان کا لوگوں پہ بہت اثر تھا، اور جب آپ کا کسی پہ اثر ہو تو آپ بلا جھجک ان سے پیسے بھی وصول کرلیتے ہیں. اور اگر وہ کرپٹ ہیں تو پیسہ ان کی جیب میں جاتا ہوگا. اس لیے وہ اس قسم کے فتاویٰ دیتے تھے جو لوگوں کے حسب منشاء ہوتے تھے. دین کو ایسے بدل دیں گے جیسا لوگوں کو پسند ہو.
اب جب آخری اور حقیقی پیغمبر آگئے. وہ جانتے تھے کہ اگر وہ ان کو قبول کر لیں گے. تو ان کے زیر سایہ سب لوگ بھی پیغمبر کو قبول کر لیں گے. اس کے نتیجے میں ان کا کاروبار بند ہو جائے گا. ان کا مذہب ان کیلئے ایک کاروبار ہی تھا. میں مدینہ کے یہود کا ذکر کر رہا ہوں. لیکن ہم اس کو صرف انھی تک ہی محدود نہیں کریں گے. بلکہ کسی بھی مذہب کے سکالر کی کرپشن اس کے مذہب کو بہت آسانی سے کاروبار ہی بنا دیتی ہے. اور آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی کاروبار میں مقابلے کا رجحان ہوتا ہے. اگر آپ اس مقابلہ میں سب سے اوپر رہنا چاہتے ہیں. تو اس کیلئے صرف بہترین پراڈکٹ ہی ضروری نہیں. بلکہ آپکو اپنے کسٹمرز کو (اپنے ہاتھ میں رکھنے کیلئے) کبھی کبھی دوسرے لوگوں پہ بھی تنقید کرنی پڑتی ہے.. پھر آپ کے ليكچر میں یہ بات بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ دوسرے علماء کس طرح عوام کی غلط سمت میں رہنمائی کر رہے ہیں. کس طرح عوام کو بھٹکا رہے ہیں. یا یہ کہ وه گروہ راہ سے بھٹک گیا ہے اُن کی بات نہیں سننی چاہئے وغیرہ وغیرہ.
وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
اس لئے کہ وہ خوفزدہ ہیں کہ کہیں وہ اپنے کسٹمرز کھو نہ بیٹھیں.
اور کہیں ان کے کسٹمرز دوسری طرف نہ نکل جائیں. اسی لیے یہودی سکالرز نے اپنے خطبوں اور بحث ومباحث میں اس بات پرزور دینا شروع کردیا کہ "مسلمانوں سے بچ کر رہو، ان کی کوئی بات نہ سنو"
اب مدینہ کے یہود کی دوسری کیٹیگری ہے: مدینہ کا ہر یہودی ربی(عالم) نہ تھا جیسے ہر مسلمان عالم نہیں ہوتا اسی طرح یہود کمیونٹی کا ہر ممبر تورات کا عالم نہ تھا ان لوگوں کا اسلام کے بارے میں علم اپنے علماء کے خطبوں تک ہی محدود تھا وہ اسلام کو سنی سنائی باتوں کے ذریعے سے ہی جانتے تھے.
جیسے کہ آپ اسلام کے متعلق اتنا ہی جانتے ہیں جو کبھی خطبہ میں سن لیا ہو

مدینہ کے تمام یہود، تورات کے عالم نہیں تھے. ان کا مذہب اپنے علماء کے خطبات سننے تک محدود تھا. جیسا کہ مسلمانوں میں سے بہت سے لوگوں کا دینی علم اتنا ہی ہے جو انہوں نے خطبات میں اپنے علماء سے سنا ہے . تو جب ان یہود نے حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام کو وعظ دیتے سنا، تو انہوں نے کہا کہ" یہی تو ہم نے بھی اپنے علماء سے سنا ہے. یہ واقعات اور یہ نشانیاں ظہور پذیر ہوں گی تو آخری نبی کا ظہور ہو گا. اور نبی صل اللہ علیہ والہ و السلام تو ان تمام نشانیوں پر پورا اترتے ہیں. اوہ خدایا! کیا یہ وہی آخری نبی ہیں..؟ اور انہوں نے حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام کی محفل میں بیٹھنا شروع کیا، انہیں سنا اور وہ کہہ اٹھے " واہ! یہی تو ہمیں سکھایا تھا ہمارے علماء نے. یہ تو وہی آخری نبی ہیں. میں ابھی جا کر اپنے عالم کو مبارکباد دیتا ہوں، انہیں جا کے کہتا ہوں کہ جانتے ہیں میں کن سے مل کے آ رہا ہوں ؟ آخری نبی سے. "
لیکن وہ جب اپنے علماء کے پاس گئے اور کہا کہ" پتہ ہے ہم آخری نبی سے ملے. وہ وہی تعلیمات دے رہے ہیں جو آپ ہمیں سکھاتے رہے ہیں. آپ بارہا کہتے تھے کہ آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہے. اور جو بھی نشانیاں آپ بتاتے تھے وہ سو فیصد ان پر پورا اترتے ہیں." تو ان کے علماء نے انہیں کیا جواب دیا.؟
أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ لِيُحَاجُّوکُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّکُمْ أَ فَلا تَعْقِلُونَ
وہ علم جو اللہ نے تم پر کھولا اسے مسلمانوں سے بیان کرتے ہو، کہ اس سے تمہارے رب کے سامنے تمہیں پر حجت لائیں، کیاتم عقل نہیں رکھتے.
ان کے علماء نے کہا نہیں! مسلمانوں کے پاس مت جاؤ. ان سے بات بھی مت کرو. انہیں نہیں بتانا کہ رسول صل اللہ علیہ والہ و السلام آخری نبی کی نشانیوں پر پورا اترتے ہیں. انہیں مت بتاؤ کہ یہی تعلیمات ہمارے علماء ہمیں دیتے رہے ہیں. اگر تم نے انہیں آخری نبی قبول کر لیا، تو تمہیں ان پر ایمان لانا ہو گا. پھر تمہیں جہاد میں بھی ان کا ساتھ دینا ہو گا. اور پھر اگر تم جنگ میں شریک ہو گئے تو مارے جا سکتے ہو. بہتری اسی میں ہے کہ تم کچھ کہو ہی نہ. ورنہ روز قیامت اللہ تعالٰی اسے تمہارے خلاف استعمال کریں گے. ایسا ظاہر کرو کہ تم کچھ جانتے ہی نہیں. ان کی طرف دوبارہ جانا ہی مت کیونکہ اگر تم نے دین اسلام قبول کر لیا تو تمہارے کندھوں پر نہایت بھاری ذمہ داری ڈال دی جائے گی.
اور جانتے ہیں آجکل بہت سے مسلمان ہیں جو کہتے ہیں "میں دینی تعلیم زیادہ حاصل نہیں کرنا چاہتا. کیونکہ اگر میرا دینی علم بڑھ گیا تو میرے دینی فرائض، میری ذمہ داری بھی بڑھ جائے گی. مجھ سے پوچھ گچھ زیادہ ہو گی . بہتر ہے کہ میں زیادہ پڑھوں ہی نہ، اور نہ ہی دینی علم حاصل کروں. بالکل یہی نصیحت یہودی علماء نے اپنے لوگوں کو کی. یہ دوسرا گروہ اصل میں مدینہ کے عام یہودی باشندوں میں سے تھا، انہوں نے جب رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام کا پیغام سنا تو اسے اپنے علماء کی دی گئی تعلیمات سے ملتا جلتا پایا. وہ ایک دم سے اسے جھٹلا نہیں سکتے تھے، تو انہوں نے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ" سنو! ہم ایک ہیں، تم بھی اللہ پر ایمان لاتے ہو، ہم بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں. تم آخرت پر یقین رکھتے ہو تو ہم بھی اسی قسم کے عقیدہ آخرت پر ایمان لاتے ہیں. ہم تو ایک خوش باش فیملی کی طرح ہیں. ہم میں اور تم میں بہت مماثلت ہے. ہم ایک فیملی ہیں، ہم سب جنتی ہیں. "
اور جانتے ہیں انہوں نے کیا چیز حذف کر دی.؟ کیا چھپا لیا؟ اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانا. آخری نبی پر ایمان لانا. کیونکہ اگر وہ آخری نبی پر ایمان لے آئیں تو انہیں آپ صل اللہ علیہ والہ و السلام کے سارے احکامات ماننے ہوں گے. قربانی دینی ہو گی. تو بس نمایاں باتوں کو لے کر جو ہم میں، تم میں یکساں ہیں، ایک ایمان افروز کانفرنس منعقد کرتے ہیں مدینہ میں جس میں ہم غور کرتے ہیں کہ کون کون سی باتیں ہم میں اور آپ میں مشترک ہیں. اور ایک دوسرے سے راضی باضی رہتے ہیں. کیونکہ ہماری قوموں میں بہت مماثلت ہے. بس اتنا کافی ہے.
یہ بھی مدینہ میں منافقت کی ہی ایک قسم تھی. وہ ایمان کے ایک بنیادی عقیدہ کو حذف کرنے کی کوشش میں تھے. یہ آیات منکرین کے لیے ہی نہیں بلکہ منافقین کے لیے بھی تھیں. نہ صرف مدینہ کے یہود کے لیے بلکہ مسلمانوں کی صفوں میں موجود ان منافقین کے لیے بھی جو سمجھتے تھے کہ جتنا وہ ایمان لائے، وہ ان کے لیے کافی ہے.
اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر ان آیات پر غور کریں.
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ
لوگوں میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے ہم ایمان لائے اللہ پر
وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ
اور ایمان لائے آخرت پر.
وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ
اور وہ مومن نہیں ہیں
وہ کسی طرح بھی مسلمانوں میں سے نہیں ہیں. وہ اہل ایمان میں شامل ہی نہیں ہیں.
یہ آیات نہایت وسیع ہیں . ہم ایک ایک کر کے اس کے تمام پہلوؤں پر تدبر کرتے ہیں.
پہلی بات یہ کہ کہا گیا وَمِنَ النَّاسِ. اللہ تعالٰی نے یہ نہیں کہا کہ ومن الذين آمنوا ، اللہ تعالٰی نے فرمایا وَمِنَ النَّاسِ. یہ الفاظ نہایت وسعت رکھتے ہیں. ان میں وہ منافقین بھی شامل ہیں جو ظاہری طور پر اسلام قبول کر چکے ہیں اور وہ لوگ بھی جو کھلے عام اپنی منافقت کا اظہار کرتے ہیں . یعنی وہ یہود جو آ کر آپ صل اللہ علیہ والہ و السلام سے کہتے ہیں کہ نہیں! ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے. ہم بھی اللہ پر ایمان لاتے ہیں. ہم آپ جیسے ہی ہیں. تو کہا گیا وَمِنَ النَّاسِ لوگوں میں سے کوئی ہے.
دوسری بات یہ کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا " مَنْ يَقُولُ ". عربی میں "من " اسم موصول مبح ہے. یعنی یہ دو معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے. دوسرے لفظوں میں مَنْ يَقُولُ کے معنی ہیں لوگوں میں سے کوئی کہتا ہے یا لوگوں میں سے ایک گروہ کہتا ہے. اللہ تعالٰی نے یہ نہیں کہا کہ " الذی یقول " اگر الذی یقول کہا جاتا تو یہ کسی ایک کے لیے مختص ہو جاتا. یعنی اللہ تعالٰی نے ان منافقین کا پردہ رکھا ہے، اللہ تعالٰی نے انہیں ظاہر نہیں کیا. یہ اللہ عزوجل کی حکمت کا ثبوت ہے. قرآن میں کہیں بھی منافقین کا نام لے کر ان کی نشاندہی نہیں کی گئی. اللہ تعالٰی نے قرآن میں کفار کو نام لے کر نامزد کیا. تبت یدا ابی لہب. قرآن میں کافر کا نام ہے، فرعون کا نام ہے، لیکن قرآن میں کسی منافق کا نام شامل نہیں ہے. پتہ ہے اس میں کیا حکمت ہے ؟ اس میں نہایت زبردست حکمت ہے. یہ اللہ تعالٰی کا طریقہ ہے جو قیامت تک کے لیے ہے کوئی بھی مسلمان، کسی بھی دوسرے شخص کو، خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو، منافق نامزد نہیں کر سکتا. مجھے کوئی حق ہے ہی نہیں کہ میں کسی کو منافق کہہ سکوں. اللہ تعالٰی نے فرمایا " فی قلوبھم مرض" ان کا مرض کہا تھا؟ دلوں میں. اور کون جھانک سکتا ہے کسی کے دل کے اندر ؟ کوئی بھی نہیں. آپ امراضِ دل کی ظاہری علامات دیکھ سکتے ہیں. مگر ان علامات کو دیکھ کر بھی آپ کی تشخیص غلط ہو سکتی ہے. کیونکہ جو دل میں ہے وہ یا تو اللہ جانتا ہے یا خود وہ شخص. مجھے کوئی حق ہے ہی نہیں، چاہے میں اپنی نظروں کے سامنے کچھ بھی دیکھوں، مجھے کوئی حق نہیں کسی کو منافق کہنے کا. اصل میں منافقت کے بارے میں آپ جو آیات پڑھیں ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے ارد گرد لوگوں کو منافق نامزد کر دیں نہیں اس کا فائدہ صرف اور صرف یہ ہے کہ آپ شیشے میں اپنا عکس واضح طور پر دیکھ سکیں. بس یہی ایک مقصد ہے منافقت کے بارے میں تعلیمات دینے کا. تاکہ میں اور آپ شیشے میں اپنا عکس دیکھ سکیں کہ یہی مرض مجھے تو لاحق نہیں؟ جب رسول اللہ صل اللہ علیہ و السلام کہتے تھے کہ منافق کی یہ تین چار نشانیاں ہیں تو انہوں نے ہمیں یہ نشانیاں کیوں بتائیں؟ صرف اس لیے تاکہ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ سکیں.

-نعمان علی خان
جاری ہے۔۔۔۔۔

بدھ, اگست 24, 2016

پیر, اگست 22, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ نہم

حصہ نہم


جب اللہ کہتے ہیں
 لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَم
ہم نے آدم کی اولاد کو عزت عطا کی.
ہاں مشرکوں کو ذلیل کیا گیا تھا. ہاں کفار سے قرآن میں نفرت کی گئی ہے. مگر سب کفار سے نہیں. اس دین کے سب سے برے دشمنوں سے کی گئی ہے. ہم ان کے سخت خلاف ہیں جنہوں نے اسلام کے لیے نفرت کا اظہار کیا اور زہر اگلا لیکن پھر بھی جس گھڑی وہ شہادت دیں (اللہ، اسلام کو مانیں) تو
 فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ

وہ شخص جو آپ کو دیکھنا پسند نہ کرتا تھا، جس لمحے اس نے شہادت دی، وہ آپ کا دینی بھائی بن جائے گا.
 میں کچھ سال پہلے پِیس کنوینشن پر تھا اور ایک سوئس سیاستدان جو رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلا کرتا تھا اس نے اسلام قبول کر لیا. میری اس سے ملاقات ہوئی. اور اب وہ اپنے بیٹے کو لے کر آیا تھا، اور اس کے بیٹے نے بھی وہی اسلام قبول کرلیا.
فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّين

 اور یہ وہی انسان ہے کہ جس کی یوٹیوب پر دو، تین سال پہلے کی وڈیوز دیکھیں تو ان (وڈیوز)  کے نیچے مسلمان اسے بد دعائیں دے رہے ہوتے تھے کہ  "اے اللہ اسے جہنم میں ڈال، اسے جلا دے وغیرہ"
 اور اللہ نے کیا کیا؟
 اللہ نے قبل اسلام کے عمر کو بعد از اسلام کا عمر بنادیا. یہ اللہ کی حکمت ہے.

*خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ
اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے.

لفظ خَتَمَ قرآن کے ان دو لفظوں میں سے ایک ہے جو لفظ مہر کے لیے استعمال ہوئے ہیں. دوسرا لفظ طَبَع ہے
َطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ
لفظ تطبع النھار کا مطلب ہے جب دریا خوب بھر جاتا ہے، مزید کی گنجائش نہیں رہتی. مثال کے طور پر، آپ کسی بوتل میں پانی بھرتے ہیں، اور وہ مکمل بھر جائے، اور پانی کی گنجائش نہ بچے تو اسے طبع کہتے ہیں.
 مکلمل بھرا ہوا ہونا. طبع بمنی الملاء او الامتلا مکمل بھرا ہونا.
لیکن لفظ ختم کا ایسا مطلب نہیں ہے. ختم بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے. ختم انگوٹھی پر مہر یا سٹامپ کے لیے استعمال ہوتا ہے. پرانے دور میں جب ای-میل، ٹائپبگ وغیرہ کا رواج نہ تھا تو لوگ خط لکھ کر لفافے میں ڈالتے تھے، اور اس لفافے پر پگھلی ہوئی مائع لگا کر اسے بند کیا کرتے تھے. اس طرح بند کرنے کو بھی ختم کہتے ہیں.. آپ خط کو تب تک بند نہیں کرتے جب تک وہ مکمل نہ لکھا گیا ہو. یعنی بھرا ہوا نہیں بلکہ کام کا مکمل ہوجانا. تو یہ سوچ ہےلفظ ختم کے پیچھے.
لفظ ختم کا لفظی مطلب ہے
الختم حقيقته السد على الإناء
اس لفظ کا اصل مطلب ہے ایک ڈبے پر ڈھکن رکھنا. جیسے آپ چاول ابال رہے ہیں اور جب وہ پک جاتے ہیں تو آپ اسے ٹھنڈا نہیں ہونے دینا چاہتے تو آپ اس پر ڈھکن رکھ دیتے ہیں اس کا اصل مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بھرا ہوا ہے اس لیے آپ نے ڈھکن دے دیا بلکہ اس کا مطلب ہے کہ یہ پک چکا ہے. چاہے مکمل بھرا ہوا نہ ہو. پر جو کرنے والا کام تھا وہ ہو چکا تھااس لیے اس پر ڈھکن دے دیتے ہیں. یہی نظریہ ہے اس لفظ کا. جیسے اب آپ کو خط میں اور لکھنے کی ضرورت نہیں تو آپ اس کو بند کر دیتے ہیں.

تمثیلی طور پر ختم لفظ تب استعمال ہوتا ہے جب کام مکمل ہو چکا ہو مزید کی ضرورت نہ ہو. اللہ تعالی کہتا ہے
خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِم
اللہ نے ان کے دلوں پر تقریباﹰ ایک مہر لگا دی ہے.
  اس کا مطلب ہے کہ ان میں موجود اچھائی کا انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا. اور اب انہیں موقع فراہم کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں،جو کام تھا وہ مکمل ہوچکا ہے، وہ باز نہ آئیں گے.  اسلیے اللہ نے ان کے دلوں پہ مہر لگادی.

میں نے پچھلی آیت میں اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ لوگ ضدی تھے. یاد ہے؟  اللہ کسی کے دل پر مہر نہیں لگاتا جب تک وہ (دل،انسان) خود اپنا اڑیل پن نہ دکھا دیں. اللہ ایسے ہی فیصلے نہیں کرتا کہ فلاں کا دل مہر شدہ ہے، اللہ ایسے ہی جسے چاہے جنت یا جہنم میں نہیں پھینکتا . اصل میں لوگ ہی اپنے دلوں کے حال کے ذمہ دار ہیں، وہ ایسا رویہ ظاہر کرتے ہیں، اور پھر کہیں جا کر اللہ ایسا ہو جانے کی اجازت دیتا ہے.  محمد راتب النابلسي نے کہا، ایک گاڑی پٹرول پہ چلتی ہے، پر اگر آپ اس میں کھانے کا تیل ڈال دیں، اور نمک چینی ڈال کر کہیں کہ اللہ چاہتا ہی نہیں تھا کہ یہ چلے، تو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے.
اس گاڑی کو چلانے کا ایک مخصوص طریقہ تھا، اگر آپ اس طریقے کے خلاف چلیں گے تو ظاہر ہے وہ کیسے چلے گی؟ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے نہیں چلائی. یہ آپ کی اپنی وجہ سے ہوا.
آپ کو شوگر اس لیے نہیں ہوئی کہ اللہ نے کسی فرشتے کو بھیج کر آپ کو اس کا انجیکشن لگوادیا تاکہ آپ کو شوگر ہو جائے بلکہ آپ نے خود پرہیز نہیں کیا. یہ آپ نے خود اپنے ساتھ کیا ہے. جب انسان اس دنیا میں جسمانی نتائج بھگتتا ہے تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ ایسا ہماری ہی وجہ سے ہے. کچھ چیزیں ہیں جو ہمارے قابو میں نہیں ہوتیں،مگر اکثر آپ کو جو آزار رسائیاں پہنچتی ہیں وہ آپ ہی کی وجہ سے ہوتی ہیں. لوگ خود اپنا کولیسٹرول نہیں چیک کرتے، صحت مند کھانا نہیں کھاتے، بیٹھے رہتے ہیں، ورزش نہیں کرتے اور پھر دل کا دورہ پڑتا ہے تو کہتے ہیں " قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ یہ اللہ ہے جو ہمارا امتحان لے رہا ہے."
 جاؤ بھائی جا کر واک کرو پھر اللہ کی قدر پر الزام ڈالنا.
دنیا کی زندگی میں کچھ اصول کارفرما ہیں، جیسے آپ دل کی پرواہ نہیں کرو گے تو اللہ اسے واپس لے لے گا، آپ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھو گے تو اللہ آپ کو بیمار پڑنے دے گا، یہی اصول روحانی دنیا میں بھی لاگو ہوتے ہیں.  جب آپ اللہ کو یاد کرنے کی کوشش نہیں کرتے، جب آپ اللہ کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے، آپ اللہ کو بھلائے رکھتے ہیں تو اس سب کا انجام آپ کے دل پر ہی ہوگا.. ظاہر ہے پھر  اللہ اس پر مہر لگنے کی اجازت دے ہی دے گا..
آپ خود پرہیز نہیں کرتے، اپنا خیال نہیں رکھتے، اللہ کہ عطا کردہ نعمتوں کی پرواہ نہیں کرتے، تو پھر ظاہر ہے بیمار تو ہوں گے ہی.

اب دل کے متعلق کچھ بات کرتا ہیں..
دل میں کیا ہوتا ہے؟ ہم قرآن میں کیا سیکھتے ہیں کہ دلوں میں کون سے جذبات ہوتے ہیں؟ دل میں محبت ہوتی ہے. جب اللہ دلوں پر مہر لگا دیتا ہے تو ہم ان چیزوں سے محبت کرنے کے قابل نہیں رہتے جن سے کرنی چاہیے.
 جو چیزیں محبت کے قابل ہوتی ہیں ہم ان سے نفرت کرتے ہیں. بجائے ایمان والوں سے محبت کرنے کے ہم ان سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں. سچ سے محبت کرنے کی جگہ سچ سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں. انصاف کے لیے محبت کی جگہ انصاف سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں.
دل میں جذبہ رحم بھی ہوتا ہے پر جب دل پر مہر لگتی ہے تو رحمت نکل جاتی ہے. ایسے لوگ شدید ظالمانہ باتیں کہہ بھی سکتے ہیں اور ایسے کام کر بھی سکتے ہیں کیونکہ دل پر مہر جو لگ چکی ہے.
شکر گزاری کی جگہ بھی دل میں ہوتی ہے. پر پھر شکر بھی دل سے نکل جاتا ہے. اور جب دل مہر یافتہ ہوتا ہے تو ایسے لوگ شکرگزاری محسوس نہیں کرتے. وہ کسی کا شکر ادا کرنا ضروری نہیں سمجھتے اور خود کو ہر چیز کے لائق سمجھتے ہیں. دل میں خوف بھی ہوتا ہے. اور جب دل مہر یافتہ ہو تو نہ  وہ کوئی غلط کام کرتے ڈرتے ہیں نہ ہی  اپنے  کسی عمل کے انجام سے ڈرتے ہیں.
امید کی جگہ بھی دل میں ہوتی ہے. ایسے لوگ جو بالکل مایوس ہوتے ہیں انہیں آخرت کی کوئی امید نہیں ہوتی، کسی اور سے اچھائی کی بھی امید نہیں ہوتی، وہ اپنے لیے بھی کسی اچھائی کی امید نہیں رکھتے. وہ بس ہر چیز کو فانی سمجھتے ہیں کہ جو مرضی کرنا ہے کرو جیسے بھی کرو کیونکہ زندگی تو ہے ہی بے کار. ان کی سوچ ایسی ہوتی ہے.
شرمندگی کا احساس بھی دل میں ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کچھ غلط کرتے ہیں تو آپ کو برا محسوس ہوتا ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے اندر فطری طور پر نفس لوامہ رکھا ہے. مگر جب دل پر مہر ہو تو آپ سب سے گھٹیا عمل کر کے بھی اس پر فخر محسوس کرتے ہیں.
َزَﯾﱠﻦَ ﻟَﮭُﻢُ اﻟﺸﱠﯿْﻄَﺎنُ أَﻋْﻤَﺎﻟَﮭُﻢْ
ایسا تب ہوتا ہے جب دلوں پر مہر ہو. شیطان ان کے کاموں کو ان کے لیے سجادیتا ہے.
 جو کچھ اللہ نے ان کے لیے بدصورت بنایا ہوتا ہے،وہ لوگ اپنے لیے اسے خوبصورت بنالیتے ہیں. دل میں ذمہ داری کا احساس بھی ہوتا ہے. آپ اپنے ہمسائے، بچوں، ازواج، والدین کے لیے خود کو زمہ دار محسوس کرتے ہیں. جب دل مہر یافتہ ہو تو کسی زمہ داری کا احساس نہیں رہتا.
میرے نزدیک دل میں سب سے اہم جگہ عزت کی ہوتی ہے. اللہ عزوجل نے لوگوں کو باوقار بنایا ہے. عزت کی جگہ دل میں ہے جیسے آپ اپنے لیے اور اپنے آس پاس موجود لوگوں کی عزت کرتے ہیں، مگر جب میر لگ جائے تو نہ انسان اپنی عزت کرتا ہے نہ کسی اور کی.
لوگوں کے دلوں پر مہر لگ جانا کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہے. یہ بہت بڑی بات ہے. جو نیک عمل دل کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے وہ باقی نہیں رہتا. سب کھو جاتا ہے. ہماری فطرت کھو جاتی ہے. اور ہمیں اس کی فکر کرنی چاہیے.
اب آپ تسلسل پر دھیان دیں.
عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ ۖ
اس نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی سماعت پر بھی.
دل چونکہ پہلے ہی مہر یافتہ تھے اس لیے انہیں کچھ سننے یا نہ سننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا.. کیونکہ جو کچھ بھی وہ سنیں گے اب اس کا اثر دل پہ نہیں ہوگا. کیونکہ جب لوگوں کے دلوں پر مہر ہو اور وہ کچھ اچھا سنیں تو انہیں زحمت لگتی ہے کیونکہ وہ  نیک پیغام اس مہر کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے. وہ کہتے ہیں "رکو، کیا ہم چینل بدل لیں؟چلو کچھ اور سنتے ہیں، کیا ہم موضوع بدل لیں؟ ہم یہ نہیں سن سکتے."
 اللہ نے ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے. وہ خواہ بہت ہی اعلی مجلس میں بیٹھے ہوں جہاں اللہ کا ذکر ہورہا ہو، جہاں اللہ کی محبت، رحمت، اور امید کے لیے لوگ رو رہے ہوں، مگر ان لوگوں کو فرق نہیں پڑتا وہ کہتے ہیں ہم یہاں کیا کر رہے ہیں، ہم کب یہاں سے جائیں گے؟ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی. کیونکہ کانوں کا براہ راست تعلق دل سے ہوتا ہے.
 یہ الفاظ آیت میں آگے پیچھے رکھے گئے ہیں. دلوں پر مہر ہو تو کوئی تعجب نہیں کہ کانوں پر بھی مہر ہے.
اور پھر اللہ کہتا ہے
وَعَلَى أَبْصَارِهِم غِشَاوَةٌ
اور آخرکار ان کی آنکھوں پر پردہ ہے.
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اندھے ہیں. اللہ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال یا ہے.
 سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ جب وہ سچائی، رہنمائی کو دیکھنے سے انکاری ہوتے ہیں جب وہ اپنے ارد گرد دنیا دیکھنے سے انکاری ہوتے ہیں ، یہ خوبصورت آنکھیں جو اللہ نے ہمیں دیں ہیں اس لیے کہ ہم اللہ کی تخلیق کو دیکھیں اور سوچیں. جب آپ اس صلاحیت کو استعمال کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو اللہ آپ کو دنیا تو دیکھنے دیتا ہے مگر اس میں جو رہنمائی ہے وہ نہیں. تمام مخلوقات جو اس نے ہمارے گرد پیدا کیں ہیں اللہ کہتا ہے فيهِ آياتٌ، إنَّ في ذَلكَ لَآيَاتٍ ان میں نشانیاں ہیں. درخت، آسمان ،پرندوں میں نشانی ہے. پر جب آنکھوں پر پردہ ہو تو آپ پرندہ، آسمان، درخت تو دیکھیں گے پر کوئی نشانی نہیں.  یہ ایسا ہی ہے کہ جیسےآپ دروازہ تو دیکھیں پر یہ نا دیکھیں کہ دروازے کے پیچھے کیا ہے. یہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہے. یہ ہوا مطلب عَلَى أَبْصَارِهِم غِشَاوَة کا.
کچھ لوگ بحث کرتے ہیں کہ یہ آیت اصل میں قیامت کے مناظر میں سے ہے. کچھ بحث کرتے ہیں یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب لوگ قیامت کی دن اٹھائے جائیں گے ان کے دل مہر یافتہ ہوں گے، ان کے کان کام نہیں کر رہے ہوں گے اور ان کی آنکھیں اندھی ہوں گی کیونکہ قرآن میں اور جگہوں پر بھی اللہ نے فرمایا کے لوگ اندھے اٹھاۓ جائیں گے.
وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا
(انسان کہے گا) آپ نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا میں تو دیکھ سکتا تھا. وہ قیامت کے دن (یہ) شکایت کریں گے.
پر زیادہ غالب گمان یہ ہے کہ یہ (آیت)اس دنیا کی طرف ہی اشارہ کر رہی ہے.
اب یہاں ایک بات بہت دلچسپ ہے، تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے، دل، کان، اور آنکھیں.
دلوں پر مہر ہے،  سماعت پر مہر ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے.
 لیکن سمع ہی کو بس واحد صیغہ میں بتایا گیا ہے. آنکھیں جمع کا صیغہ ہے ،دل بھی جمع کا صیغہ ہے مگر سماعت ہی بس واحد صیغہ میں ہے. اسے ایک مثال سے سمجھاتا ہوں..  
 مثال کے طور پر آپ سب میری طرف  دیکھ رہے ہیں، آپ سب الگ الگ جگہوں پر بیٹھے ہیں، آپ سب کے سوچنے کا انداز الگ ہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے الگ دیکھتا ہے. ہر کسی کا اپنا سوچنے کا انداز ہے. تو یہ ایک سوچ ہی نہیں مختلف سوچوں کے انداز ہیں. ہمارے دل ایک ہی حالت میں ہیں یا الگ حالتوں میں؟ الگ حالتوں میں.
 کیونکہ دیکھنے کے انداز بھی الگ اور دلوں کی حالتیں بھی الگ ہیں. کچھ دل بہت شوق سے سننا چاہتے ہیں کچھ بالکل بھی نہیں. کچھ دل متوجہ ہیں کچھ نہیں. ہر طرح کے تغیرات ہیں. مگر جب بات سننے کی ہوتی ہے تو ہمارے کان ایک جیسا ہی سن رہے ہوتے ہیں. جو آوازیں ہم تک الگ الگ آتی ہیں وہ دراصل ایک جیسی آوازیں ہی ہوتی ہیں. ہم سب سنتے ہوئے مکمل اتحاد میں ہوتے ہیں. اصل میں یہ قرآن کا اثر/طاقت ہے. یہ سب کی طرف رہنمائی کے لیے آتا ہے خواہ ان کے  نظریے مختلف ہی کیوں نہ ہوں یا ان کے دل کسی بھی حالت میں ہوں مگر پیغام ایک ہی ہے.  اور یہ کس طرح لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے وہ مختلف ہوتا ہے.  بالکل جیسے بارش ایک ہی ہوتی ہے مگر ہر جگہ مختلف چیزیں اگاتی ہے.  یہ ایک ہی پانی ہوتا ہے مگر اس سے مختلف مخلوقات پیدائش پاتی ہیں. سب لوگ ایک ہی بات سنتے ہیں مگر اثر الگ ہوتا ہے. آپ سب جو یہاں بیٹھے درس سن رہے ہیں اگر آپ ان آیات پر غور کر رہے ہیں تو اس کا اثر یہاں بیٹھے ہر شخص پر مختلف ہوگا.
پیغام وہی ہے مگر اثر سب پر مختلف ہے.
یہی قرآن کی خوبصورت عکاسی ہے.

وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے(ان کے انتظار میں).
اللہ لوگوں کو سزا دینا پسند نہیں کرتا. میں اس کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ اللہ پاک سزا دینا بالکل پسند نہیں کرتا.
 مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ
اللہ کو آپ کو سزا دینے سے کیا مل جائے گا؟

اللہ نے انسانیت اس لیے تخلیق کی کہ وہ ان پر رحمت کر سکے. مگر برے اور بد بخت لوگ واقعی بڑی سزا کے مستحق ہیں. اور سزاؤں میں سب سے بڑا عذاب اسی آیت میں بتایا گیا ہے. جب آپ کا دل مہر یافتہ ہو جائے اس سے بڑی کوئی سزا نہیں. جب آپ کے کان قرآن سے فائدہ نہ حاصل کر سکیں تو اس سے بڑی کوئی سزا نہیں. اور میں یہ بھی کہوں گا کہ یہ آیت اصل میں جن لوگوں نے پہلی بار سنی ان کے پاس نہ صرف اپنے دلوں کو اور کانوں کو  پاک کرنے کا موقع ملا تھا بلکہ انہیں اپنی آنکھوں سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا موقع بھی ملا تھا اور وہ پھر بھی اندھے رہے.  وہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو دیکھ بھی سکتے تھے پھر بھی ان کی آنکھوں پر پردہ تھا اس سے بڑا نقصان کیا ہو گا؟
اللہ پاک ہمیں ایسے نقصان سے بچائے.
آمین..
اب ہم ایک ایسی کیٹگری کے متلعق پڑھیں گے، جنہیں پڑھیں گے تو لگے گا کہ یہ متقین اور کافروں کے درمیان کوئی گروہ ہے مگر اللہ کے مطابق یہ کافروں کی ہی ایک کیٹگری ہے جنہیں ہم "منافق" کہتے ہیں. منافق، جو کہتا کچھ، اور کرتا کچھ اور ہے.
پچھلے دو گروہ کی ہر بات واضح تھی. جو ایمان لایا اس کا ایمان واضح تھا، اور جس نے کفر کیا، اس کا کفر بھی واضح تھا. کیونکہ وہ اپنے ایمان یا کفر کا صاف مظاہرہ کرتے تھے.
مگر یہ کیٹگری جن کے متعلق اب ہم پڑھیں گے، پیچیدہ ہے.

اگر ہم پچھلی آیات میں دیکھیں تو ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کے متعلق چند ہی آیات میں بتادیا گیا تھا. ان کا کیس چند ہی آیات میں واضح کردیا گیا پر جب ہم منافقون کے متعلق پڑھیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کے لیے کافی آیات نازل ہوئیں، اور کافی پیچیدہ مثالوں سے اس گروہ کے متعلق سمجھایا گیا.  کیونکہ یہ ایک بہت ہی پچیدہ گروہ ہے.
اللہ نے بھی قرآن میں  ان کے متعلق بہت پیچیدگی سے بیان کیا کیونکہ پہلی بات تو یہ گروہ ہے ہی پیچیدہ، اور دوسری بات اس گروہ کے لوگوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے. نا وہ ایک طرف ہیں، نہ دوسری طرف، کہیں درمیان میں تذبذب کا شکار ہیں. ان کے لیے کوئی دن اچھا ہوتا ہے اور کوئی بُرا، ان میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے.
یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی مریض ہے جو کچھ دن تو صحت یاب نظر آتا ہے، مگر پھر اگلے دن اس کی ایسی حالت ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے بستر سے بھی اُٹھ نہیں پاتا. اور اس کی اس حالت کا معائنہ کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے.

ان آیات پہ بات کرنے سے پہلے میں "نفاق" کے ایک  منظر کے بارے میں بتانا چاہوں گا. کیونکہ اللہ نے یہ لفظ بہت خاص جگہوں پے، خاص حالات میں کسی کے لیے استعمال کیا اور آج ہم مسلمان بہت ہی آرام سے کسی کو بھی منافق کہہ دیتے ہیں. جبکہ یہ ایک بہت سنگین اصطلاح ہے.
ہم آج منافقت پر خطبہ سن رہے ہوتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں چل رہا ہوتا ہے "ہاں! میرا وہ فلاں کزن، وہ سچ میں ایک منافق ہے"
ہم فوراً سے دوسروں کو لیبل کرنے لگ جاتے ہیں.
قرآن میں ایسا کوئی گروہ نہیں جس کے لیے سخت عذاب کا ذکر کیا گیا ہو سوائے اس گروہ کے.
"منافق جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے" اور جتنا نیچے ہوگا اتنا بدترین عذاب ہوگا..اور سب سے نچلا حصہ منافقین کے لیے رکھا گیا ہے.
سو جب ہم کسی کو ایسے ہی منافق کہہ دیتے ہیں وہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی. وہ کسی کو کافر کہنے سے بھی بدترین ہے.

اب ایک اور بات کا فرق جاننا بہت بہت ضروری ہے.
وہ شخص جس کا ایمان کمزور ہے، وہ خود کو بہتر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، مگر کچھ گناہ سرزد ہوجاتے ہیں، اس شخص میں اور منافق میں فرق ہے. یہ دونوں الگ مسائل ہیں..

دوسری بات جو میں کرونگا وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت نفاق، اور آج ہمارے وقت کے نفاق کا موازنہ ہے.
اس بات کو میں کچھ ایسے سمجھاتا ہوں،
کیا آپ اپنے ایمان، یا میرے ایمان کا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان سے موازنہ کرسکتے ہیں؟
نہیں! ہمارا اور ان کا کوئی موازنہ نہیں ہے.
جو قربانیاں حضرت عمر، علی، عثمان، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے دیں، جنہوں نے اپنی زندگی قرآن کے مطابق گزاری، جن حالات کا سامنا انہوں نے کیا، جس طرح انہوں نے زندگی گزاری ہم گمان بھی نہیں کرسکتے. وہ بہترین جنریشن تھی، وہ بہترین لوگ تھے.
بالکل ویسا ہی کفار کے لیے بھی ہے. جیسے ابو لہب، ابو جہل، یا پھر فرعون. ہمیں اب دوبارہ کوئی فرعون نہیں ملے گا. کچھ لوگ ہوں گے جو اس کے قریب ترین ہوں گے، مگر وہ بھی فرعون جیسے نہیں ہوں گے.
سو بُرے لوگ ہوں گے، مگر پچھلے کفار جیسے نہیں ہوں گے، کہ ان کے لیے پوری سورہ نازل ہو. جیسے ابو لھب کے لیے ہوئی. اب ایسا نہیں ہوگا.
تو اُس وقت کے بدترین بھی ہمارے وقت سے زیادہ بدترین ہیں. دونوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا.
 ویسے ہی، اُن کے منافقین اب آنے والے منافقین سے بدتر ہیں.  کیونکہ ان کے حالات ہمارے حالات سے بالکل مختلف ہیں.
اللہ نے انہیں نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم سے براہ راست تعلیم لینے کا موقع فراہم کیا، یہ ہی نہیں بلکہ  وہ بہترین جنریش کی کمپنی میں تھے، انہوں اس سے  بھی فائدہ نہیں حاصل کیا.
آپ اور میں قرآن کو کتاب کی طرح پڑھتے ہیں. انہوں نے قرآن پڑھا نہیں تھا بلکہ "سُنا" تھا. اور وہ بھی اللہ کے رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز میں.
یہ ایسے ہے جیسے دو الگ سیارے ہوں.
میں یہ نہیں کہہ رہا کے نفاق ختم ہوگیا، یہ جاری رہا، مگر اُس لیول کا نہیں جو اُس زمانے میں تھا.

سو جب آپ بغیر صحیح علم کے آیت کو دیکھتے ہوئے کسی پر منافق کا لیبل لگاتے ہیں یہ اس ڈگری سے لاگو نہیں ہوتا. ہمیں ایسے معاملات میں دھیان کرنا چاہیے.

تیسری بات،
اللہ تعالی نے کوشش کی ہے کہ منافقوں کو راز رکھا جائے. یہاں تک کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے بھرپور کوشش کی کہ ان (منافقوں) کا نام نہ لیا جائے. ان کے نام راز رکھے.
بدترین منافق، عبدللہ ابن اُبئی، کے متعلق ہر کوئی جانتا تھا. ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ نہ صرف منافق ہے بلکہ سب سے بڑا دشمن ہے.
وہ خود کو مسلمان کہتا تھا، مسلمانوں کی صفوں میں حصہ لیتا تھا.
یہ مدینہ کا شہری تھا. اور مدینہ کے دو قبیلے تھے. اوس اور خزرج. خزرج اوس سے بڑا تھا، اوس کے آٹھ کاؤنٹیر تھے، اور دوسرے کے چار. کُل ملا کر بارہ. عبدللہ بن اُبئی خزرج سے تھا، اور سب سے بڑے کاؤنٹیر کا گورنر تھا. یعنی سب سے بڑے قبیلے میں سب سے بڑے کاؤنٹیر کا. یہ اسلام سے قبل کا واقعہ ہے، مدینہ کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ ہم دونوں قبیلوں کو ملا کر، کاؤنٹیر کو متحد کر کے ایک شہر "یثرب" بنالیں. اور اس کا ایک بادشاہ مقرر کریں.
سو اب وہ بادشاہ کے لیے لوگوں کو منتخب کرنے لگ گئے اور فیصلہ ہوا کہ سب سے بڑے کاؤنٹیر کے گورنر کو ہی بادشاہ بننا چاہیے. اور وہ عبدللہ بن اُبئی تھا. اب وہ لوگ اپنے بادشاہ یعنی عبدللہ بن اُبئی کے لیے ایک تخت بنانے لگ گئے، اور ایک تقریب منعقد کی گئی اپنے پہلے بادشاہ کی مقرری کی خوشی میں. اور افتتاح کے لیے..یہ مدینہ کے حالات تھے.  کچھ ہی دنوں کے بعد عبدللہ بن اُبئ نے بادشاہ ہونے کا حلف اُٹھانا تھا،مگر اس سے قبل رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ میں تشریف لے آئے. اور ان کی آمد سے یہ ساری تقریب، یہ بادشاہ کی مقرری ختم ہوگئی، سیاسی کیمپین کا اختتام ہوگیا، کیونکہ اب مدینہ کے متفقہ گورنر رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم تھے. عبدللہ بن اُبئی کا تمام سیاسی کریئر منٹوں میں ختم ہوگیا.
اور جب کوئی جیت کر ہار جائے تو بہت صدمہ پہنچتا ہے انسان کو، اور جس شخص کی وجہ سے یہ ہوتا ہے، ظاہر ہے پھر آپ اسے بھی ناپسند کرنے لگ جاتے ہیں.
اب اس کے پاس دو اختیارات تھے،
پہلا، کہ وہ ان کا کھلا دشمن بن جائے، اپنی پارٹی تخلیق کرے اور ان سے مقابلہ کرے.
مگر اس نے سوچا کہ پہلے اکثریت میرے ساتھ تھی، مگر اب ایسا نہیں ہے. اب اکثریت رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہے سو ان کی مخالفت کرنا ایک ہاری ہوئی جنگ لڑنا ہوگا.
اگر میں ان کے خلاف ہوجاؤں گا تو میں کبھی بھی نہیں جیتنے والا.
سو جب آپ انہیں ہرا نہیں سکتے، آپ انہیں جوائن کرلیتے ہو.
یہی کام اس نے کیا. اس نے اسلام قبول کرلیا کیونکہ یہ واحد طریقہ تھا جیتی ہوئی پارٹی کے قریب رہنے کا..وہ اس امید میں تھا کہ اگر میں ایوان صدر نہیں بن سکا تو شاید میں نائب صدر منتخب کرلیا جاوں.
مگر مسئلہ یہ تھا کہ رسول اللہ کے قریب وہ لوگ تھے جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں تھیں. جیسا کہ ابو بکر،عمر رضی اللہ عنہ. آج بھی عرب میں یہ اصول ہے کہ کسی خطے کے بادشاہ کا تعلق اسی خطے سے ہونا چاہیے مگر نا صرف رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم مکہ سے تھے بلکہ ان کے قریبی لوگ بھی مہاجر تھے. اب مدینہ کی صدارت مہاجروں کے ہاتھ میں تھی..اور وہ خود کو ان کے درمیان ملانے کی کوشش کررہا تھا مگر ادھر اسے جگہ ہی نہیں ملتی تھی. کیونکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب ہونے کا طریقہ تھا زیادہ سے زیادہ قربانی، آپ کو پہلے خود کو ثابت کرنا پڑتا تھا.
سو وہ کیا کیا کرتا تھا کہ وہ ہر نماز کے لیے سب سے پہلے، وقت سے پہلے پہنچ جاتا، اور ہر نماز میں پہلی صف میں موجود ہوتا، خاص طور پر فجر کے وقت، اور اگر کبھی رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کوئی اعلان فرمانے لگتے تو وہ ان سے پہلے فوراً کھڑا ہوجاتا اور کہتا "لوگوں! دھیان سے سنو، رسول اللہ فرمانے لگے ہیں".

-نعمان علی خان

جاری ہے.

جمعہ, اگست 19, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ ہشتم

حصہ ہشتم

  آج کل امریکہ میں لوگوں کی سہولت کے لیے ہفتہ وار کورسز کرائے جاتے ہیں کہ وہ آرام سے ہفتہ و اتوار کو  دینی تعلیم حاصل کر سکیں. یہ بہت آسان ہے. آپ کے پاس موبائل کی سہولت موجود ہے، تیز ترین انٹرنیٹ موجود ہے، آپ جب چاہیں موبائل پر ویڈیو دیکھ سکتے ہیں. اور آپ کسی بھی موضوع کا انتخاب کر سکتے ہیں. آپ کو مسجد جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی. حتٰی کہ آپ اسکالر بھی چن سکتے ہیں، جس سے آپ سیکھنا چاہتے ہیں. اور آسانی سے جب آپ کا دل چاہے،تو  کسی ایک موضوع کو چھوڑ کر دوسرے موضوعات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں. جب حصولِ تعلیم کی بات ہو تو ہم پُر آسائش دور میں جی رہے ہیں لیکن اللہ تعالٰی نے اگر آپ کو علم عطا کیا ہے تو یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے آپ کے کندھوں پر. آپ کا کام ہے کہ حصولِ علم کو ان کے لیے آسان بنائیں جن کے لیے علم کا دروازہ ابھی تک کھلا ہی نہیں. وہ لوگ جو بہت مصروف ہیں، جن کے پاس بالکل وقت ہی نہیں ہے.آپ کو وہ بننا ہے جو اسے ان کے لیے آسان بنا سکے.  بجائے اس کے کہ آپ انہیں کمتر سمجھیں، کہ" دیکھو یہ وہ لوگ ہیں جو تجوید سیکھنے نہیں آتے، علم حاصل کرنے نہیں آتے، دیکھو یہ پیسہ کمانے کی دوڑ میں اس قدر مصروف ہیں. "
نہیں بالکل نہیں! آپ کا فرض ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ انتظار کریں کہ وہ آپ کے پاس آئیں، آپ کو ان کے پاس جانا چاہیے. آپ کو ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے . یہ آپ کی معاشرتی ذمہ داری ہے. وہ تمام لوگ جو جس بھی لیول پر حصول علم میں کوشاں ہیں، انہیں اپنے ارد گرد لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہونا چاہیے .

میں نے پہلے بیان کیا کہ أولئك هم المفلحون یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح پا گئے.
آپ غور کریں تو دونوں گروہوں کو آخرت پر ہر حال میں ایمان لانا ہو گا. و بالآخرة هم یوقنون. جو بھی قرآن پر اور اس سے پچلی آسمانی کتابوں پر ایمان لائے اس کے لیے آخرت پر ایمان لانا بھی لازم ہے. حتٰی کہ لفظ "المفلحون " میں بھی عقیدہ آخرت کی طرف اشارہ ہے.
جب ہم آگلی آیات پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے جیسے موضوع بدلنے کو ہے. پچھلی آیات میں اہل ایمان کا تذکرہ تھا لیکن اگلی دو آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو ایمان نہیں لاتے. وہ لوگ جو اہل ایمان کے بالکل الٹ ہیں، وہ لوگ جو منکرین میں سے ہیں. اس سے پہلے کہ میں ان پر بات کروں میں اللہ تعالٰی کے کلام کی خوبصورتی کے متعلق کچھ بتانا چاہوں گا. شروع کی پانچ آیات اہل ایمان کی شان میں کہی گئیں.  ان میں سے پہلی آیت حروف مقطعات پر مشتمل تھی.  لیکن باقی کی آیات میں موضوع واضح ہے.  تو ہم نے شروع کیا

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾

ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾

الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾

اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾


اب غور کریں پہلی آیۃ کا آغاز " ہُدًی" سے ہوا، تو آغاز ہوا ہدایت  سے رہنمائی سے .کیسے؟
ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ

 اور آختتام بھی "ہُدًی " پر ہی ہوا.

اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾

اور درمیان کی آیت اہل ایمان کے متعلق ہے .

الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾

تو اہل ایمان کے لیے  "ہُدًی " آغاز میں بھی ہے اور اختتام پہ بھی. ہدایت و رہنمائی اول و آخر. اور ایمان درمیان میں.  یہ پرفیکٹ سمٹری ہے.  کلام الٰہی میں پرفیکشن ہے. جو ان تھوڑی سی آیات میں بھی ظاہر ہے.  میں صرف کلام الہی کی خوبصورتی و پرفیکشن کی نشاندہی نہیں کرنا چاہ رہا. بلکہ اس کا ایک اور پہلو بھی ملاحظہ فرمائیں. آغاز میں استعمال کردہ "ہُدًی " کا اختتام پر موجود "ہُدًی " سے موازنہ کریں.  دوسری آیت دوبارہ پڑھیں
 ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
یہ کتاب کس کے لیے ہدایت ہے؟  ہدًی للمتقين.  اہل تقوی کے لیے.   یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ صرف متقین کے لیے ہے؟  یہ سب کے لیے نہیں ہے؟  مجھے تو لگا کہ یہ سب کے لیے ہدایت و رہنمائی ہے. کیونکہ اسی سورۃ میں آگے جا کر جب رمضان کا ذکر ہے تو اللہ تعالٰی فرماتے ہیں  ہدی للناس، ہدایت تمام انسانوں کے لیے.  تو یہ قرآن میں دو متضاد باتیں لگتی ہیں. کہ ایک طرف قرآن میں کہا گیا ہے اس میں ہدایت ہے متقین کے لیے. ان لوگوں کے لیے جو نہایت احتیاط سے پھونک پھونک کر زندگی گزار رہے ہیں. اور دوسری طرف ارشاد ہوا کہ یہ قرآن، تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے. اب ان دونوں باتوں کو اکٹھا کیسے لیا جائے؟
میں آپ کو بتاؤں لغت میں اس بات کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہ وہ ہے جس پہ قرآن غوروفکر کرنے کو کہتا ہے.  آپ قرآن کو سطحی طور پر نہیں پڑھ سکتے. کیونکہ اللہ تعالٰی آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتے ہیں. سبحان اللہ.
 آپ غور کریں کہ قرآن، تمام انسانیت کے لیے ہدایت ہے یا نہیں؟ بالکل ہے!  لیکن وہ کون لوگ ہیں جو قرآن سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟  متقین.!   کوئی کالج پڑھنے جاتا ہے. پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ یہ کتاب آپ سب کے لیے نہایت فائدہ مند ہے. اس میں آپ سب کے لیے فائدہ ہے مگر آخر میں یہ انہی کو فائدہ پہنچائے گی جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں.  تو یہ قرآن ہدًی للناس  (تمام انسانوں کیلیے ہدایت) ہے اگر آپ اسے چنتے ہیں.  لیکن اللہ تعالٰی نے بتا دیا کہ آخرت میں اس سے وہی فائدہ اٹھائیں گے جو متقین میں سے ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالٰی نے قرآن کو تمام انسانیت کے لیے ہدایت و رہنمائی بنا کر نازل کیا. بے شک اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ تمام انسانیت کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ متقین میں شامل ہو جائیں. مجموعی طور پر ہم سب الناس میں سے ہیں.  تو سب کے پاس یہ سنہری موقع ہے لیکن اگر آپ واقعی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ آپ متقین میں شامل ہو جائیں. اللھم اجعلنا منھم.

اب اگلی آیت کی طرف چلتے ہیں. جو پچھلی آیات سے بالکل مختلف ہے.

        اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے۔

قرآن اپنے کانٹیکسٹ کے لحاظ سے بہت اعلٰی ہے.  قرآن کے بارے میں آجکی بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ ہم اسے سطحی طور پر پڑھتے ہیں. اس آیت میں ارشاد باری تعالٰی ہے کہ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور عمومی تاثر یہ ہے کہ جب اللہ تعالٰی کفار کی بات کرتے ہیں تو وہ  غیر مسلمین کی طرف اشارہ کرتے ہیں .  وہ ان کے بارے میں کہہ رہے ہیں جو غیر مسلم ہیں اور اللہ تعالٰی غیر مسلموں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
                 سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ( یہ استغناف ہے).
ان کے لیے برابر ہے.  انہیں فرق نہیں پڑتا.
           ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ
      چاہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ.
              
              لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
         وہ ایمان نہیں لائیں گے.

اس آیت کا ترجمہ و تشریح عموماً کس طرح کی جاتی ہے؟     کہ غیر مسلم کبھی ایمان نہیں لائیں گے چاہے تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو. وہ بس ایمان  نہیں لانے والے.  وہ کھو چکے ہیں.

کیا اس آیت کی یہ وضاحت درست ہے؟ نہیں! بالکل نہیں.

"سورت البقرہ آیت نمبر 6- "ان الذين كفرو سوا ء عليهم ءانذرتهم ام لم تنذر هم لا يؤمنون

تر جمہ : کافروں کو آپ (صلي الله عليه وسلم) کا ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے , یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے.
اس آیت کی بارڈر لائن  یہ ہے کہ کیا تمام  غیر مسلم/منکرین اسلام برابر ہیں؟  کیا غیر مسلم کبھی بھی اسلام میں داخل نہیں ہوں گے؟  نہیں , بلکہ وہ اسلام میں کسی بھی وقت داخل ہو سکتے ہیں. اب ہم کیسے اس کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں؟
الله تعالی نے اس طریقے سے بات کیوں کی ہے؟ صرف ایسے کیوں نہ کہہ دیا؟
کہ "ان الذین کفرو لا یؤمنون." بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ کبھی ایمان نہیں لانے والے.
امام الرازی، صاحب الکشاف ، امام ابن کثیر اور دیگر بہت سے آئمہ کرام نے کہا ہے کہ الله تعالی نے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے.
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا. کیا اس کا مطلب ہے کہ یہاں تمام منکرین اسلام کا ذکر ہے؟
اگر آپ زیادہ توجہ نہ کریں تو اس کا یہی مطلب نکلتا ہے. لیکن ہماری دانائی اور ذہنی ترقی کی ساری تاریخ یہ کہتی ہے کہ یہ آیت تمام کافروں کیلئے نہیں ہے.
آپ اکثر اوقات کہتے ہیں ناں کہ لوگوں نے میری بڑی دل آزاری کی ہے. تو کیا اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کرۂ ارض پر پائے جانے والے تمام انسانوں نے ؟  نہیں، ہر گز نہیں. آپ کا مطلب ہوتا ہے کچھ لوگوں نے. بعض اوقات آپ کسی کلاس سے بہت زیادہ مایوسی والی حالت میں باہر آتے ہیں. اور کہتے ہیں کہ طلبہ بہت بے وقوف ہیں. آپ طلبہ کے روئیے سے مایوس ہوتے ہیں. اب کیا آپ کا مطلب 'تمام طلبہ' ہے؟  نہیں بلکہ آپ کا اشارہ کسی خاص کلاس کےطلبہ کے کسی مخصوص گروپ سے ہے. جنھوں نے غلط طرز عمل اپنایا کلاس میں.
ان تمام باتوں میں ہم عام جنرل زبان استعمال کرتے ہیں. یہ حقیقت میں اپنی فرسٹریشن ظاہر کرنے کا ایک انداز ہے. الله  تعالی نے یہ نہیں کہا کہ میں کافروں کے ایک مخصوص گروہ کا ذکر کر رہا ہوں.
بلکہ الله تعالی ناراضی والی ٹون میں بات کر رہے ہیں. (الذين كفروا)
ابن کثیر فرماتے ہیں: کہ یہ یہود کےلیڈرز کی بات ہے. جو حق کو پہچاننے کے بعد چھپاتے ہیں. یہ تمام منکرین کی بات نہیں ہے.
صحابہ کرام (رضوان الله)کا بھی یہی خیال تھا. کہ یہ آیت خصوصی طور پر یہود کمیونٹی کے ان لیڈرز کے بارے میں ہے، جو اسلام کے بد ترین دشمن تھےاور حق بات کا جانتے بو جھتے انکار کر رہے تھے۔
"ولا تلبسو الحق بالباطل وتکتمو الحق وانتم تعلمون"  (البقرہ۔42)
ابن عباس (رضی اللہ) جو مفسر قرآن ہیں. ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ آیت  نمبر 6  تمام منکرین کیلئے نہیں ہے. ان کے ذہن میں بھی یہی بات تھی کہ یہ یہودی کمیونٹی کے سرداروں کے بارے میں تھی.
 یہ بات آپ اُس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ کتاب کے تحریری اور تاریخی متن سے واقف نہ ہوں. جب تک آپ قرآن کے تمام ٹرانزیشن پیریڈ کو نہ سمجھیں.
آئیے ہم دیکھتے ہیں : کفار کے دو گروہ تھے:
۱- ایک وہ جو مکہ میں تھا، اور وہ لوگ اتنے زیادہ منکر تھے کہ رسول الله (صلى الله عليه وسلم )کو نعوذ باللہ مار ڈالنا چاہتے تھے، اور آپ جان بچا کر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے. جب قرآن ان لوگوں کو مایوس کن گروہ قرار دیتا ہےتو کسی حد تک بات سمجھ میں آتی ہے.
۲-دوسرا وه گروہ جو مدینہ میں تھا. الله جن کفار کا اس آیت میں ذکر کر رہے ہیں وہ یہی مدینہ کے کفار ہیں. انہی سے یہ آیت منسوب کی جاتی ہے.

ابن عباس رضي الله کہتے ہیں کہ یہ لوگ یہود کمیونٹی کے سردار ہیں. جو قرآن کا پیغام سمجھتے تھے. قرآن میں بیان کردہ ہر بات کو وہ ایسے سمجھتے تھے جیسے انسان اپنے بچوں کو پہچانتا ہے. لیکن یہ لوگ نہ صرف مسلمانوں کے بد ترین دشمن بن گئے تھے. بلکہ وہ کفار مکہ کے ساتھ مل کر محاذ قائم کر رہے تھے. مسلمانوں کے خلاف حقیقتا ہنگامہ آرائی میں مشغول تھے. یہ بھی  "الذین کفرو "ہیں.
لیکن "کفار مکہ" اور "کفار مدینہ" دو مختلف کیٹگریز ہیں. یہاں اس فرق کو سمجھنا بہت اہم ہے.
1- کیا کفار مکہ پہلے سے وحی کے بارے میں جانتے تھے؟ بالکل نہیں . سو جب انھوں نے وحی، آخرت اورایمان کو رد کیا تھا تو کس وجہ سے کیا تھا؟  جہالت کی وجہ سے یا تکبر کی وجہ سے ؟  ان کے انکار کی وجہ "جہالت" تھی.
2- اب ہم کفار مدینہ کی طرف آتے ہیں. کیا یہ لوگ وحی کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے؟  جی ہاں. انہوں نے تو اپنی الہامی کتب کو فالتو سمجھ کے چھوڑ دیا تھا. انہوں نے اپنی کتب میں آخرت سےانکار کیا تھا. وہ پیغمبروں کا انکار کرتے تھے. انہوں نے پچھلے پیغمبروں کو جھٹلایا اور قتل کیا تو پھر وہ حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم پر بھلا کیسے ایمان لاتے.  ہم ان یہود سے کیسے یہ توقع کر سکتے تھے.  میرا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ تو پہلے ہی نسلی غرور کی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم سے نفرت کرتے تھے، کہ وہ ان کی نسل سے نہ تھے. وہ اپنی کتب کے ساتھ کیا کچھ نہ کر چکے تھے.
انھوں نے اپنے کفر کا مظاہرہ صرف نبی پاک کے سامنے ہی نہیں کیا بلکہ وہ تو اپنی کتابوں میں ایسا کرنے کے عادی تھےاس لئے ان کا اب پھر انکار حیرانی کا باعث نہیں ہے. وہ اپنے کفر میں پختہ ہو چکے ہیں. اب ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا کسی بھی فکر میں مبتلا نہیں کرتا.
اچھا تو پھر کیا چیز ان کو حقیقتًا پریشان کرتی ہے؟ 
آخرت کا ذکر. ان لوگوں نے "آخرت" کو اپنی کتب سے مٹانے کی بہت کوشش کی. لیکن قرآن پاک ان کو اسی بات کے ساتھ نشانہ بنا رہا تھا..
سورت البقرہ( آیت 96 )میں ہے:
" ولتجدنهم احرص الناس على حياة ومن الذين اشركو يود احدكم لو يعمر الف سنة وما هو بمزحزحه من العذاب ان يعمر والله بصير بما تعلمون "
ترجمہ : اے نبی ! زندگی کیلئے سب سے زیادہ حریص آپ ان کو ہی پائیں گے. یہ حرص دنیا میں مشرکوں سے بھی زیادہ ہیں. ان میں سے ہر شخص ہزار سال سے بھی زیادہ عمر چاہتا ہے. یہ عمر دیا جانا بھی ان کو عذاب سے نہیں بچا سکتا. الله ان کے کاموں کو خوب دیکھ رہا ہے.

وہ جتنا اس آخرت کے ٹاپک سے بھاگ رہے تھے، الله اتنا ہی اس کو ڈسکس کر رہے تھے. ذرا یہاں اس آیت 6 کا اسلوب دیکھئے. الله کہتے ہیں:
"ء انذرتھم " آپ تنبیہہ کریں یا نہ کریں.  پیغمبر صرف تنبیہہ کیلئے نہیں ہیں. بلکہ خوشخبری،دعوت،تبلیغ کیلئے بھی ہیں. الله تعالی نے "ءادعوتھم" (تبلیغ کریں ) "ءابشرتھم" ( خوشخبری دیں ) یا "ءعلمتھم" (تعلیم دیں ) جیسے بہت سے ممکنہ الفاظ کیوں استعمال نہیں  کئے؟  الله پاک نے وارن کرنے کا لفظ ہی کیوں استعمال کیا ہے؟
کہ "ان کو وارن کرنا اور نہ کرنا برابر ہے.انھوں نے یقین نہیں کرنا ".
لفظ وارننگ ( تنبیہہ ) کے استعمال کا کیا مقصد ہے؟
  وارننگ "سزا اور نتائج "سے متعلقہ لفظ ہے.  خصوصا آخرت پر ایمان لانے یا نہ لانے کے نتائج . اس آیت کی زبان بہت زیادہ مربوط ہے. یہ آیت انھی لوگوں سے متعلق ہے جو آخرت کے منکر ہیں.
مجھے یاد آرہا ہے کہ یہی چیز سورت بنی اسرائیل( الاسرآء) میں بھی دہرائی گئی ہے. جو کہ ایک مکی سورت ہے. آیت نمبر 9-10
"ان هذا آلقرآن يهدى للتى هى اقوم ويبشر المومنين الذين يعملون  الصلحت ان لهم اجرا كبيرا" ۹
"وان لذين لا يو منون بالاخرة اعتدنا لهم عذابا اليما" ۱۰
ترجمہ : یقینا یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہےاور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں،اس بات کی خوشخبری دیتا ہے،کہ ان کیلئے اجر عظیم ہے،اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے.

اس لئے اس نکتہ کو آرام سے نہیں جانے دینا چاہئے.
ہم دوبارہ کفار مکہ کی طرف آتے ہیں. (یہ بات ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئے ) مکہ کے لوگ قرآن پاک کے پہلے وصول کنندہ ہیں. وہ دو تہائی قرآن وصول کر چکے تھے.  پیارے پیغمبر (صلی الله علیہ وسلم ) نے اپنی زندگی کا بہت زیادہ حصہ مکہ میں گزارا ہے. یعنی پیغمبر منتخب ہونے سے پہلے کا سارا وقت بھی. اور بعد میں بھی بارہ تیرہ برس کا  عرصہ. آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس ایمان لانے کا بہترین موقع تھا. ان کے پاس کرۂ ارض پر موجود کسی بھی قوم سے بڑھ کر موقع تھا، کہ وہ الله تعالی کا دین قبول کرلیتے. لیکن انھوں نے نہیں کیا. بلکہ وہ نبی پاک کو نعوذ باللہ قتل کرنے کے درپے تھے. یہ بد ترین جرائم میں سے تھا. اس لئے اب اگر الله  یہ کہیں کہ ان منکرین سے کوئی امید باقی نہیں ہے. تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے. لیکن نہیں.
مکہ چھوڑنے کے کوئی چھ سات سال کے بعد، حضور پاک پُر امن طریقے سے حج ادا کرنے کیلئے واپس تشریف لائے. (یہ صلح حدیبیہ کے موقع کا ذکر ہے۔) اُس وقت بھی مکہ والے  آپ (صلی الله علیہ وسلم )پر حملہ آور ہوئے. اور مارنے کی کوشش کی. لیکن وہ اپنے مکروہ عزائم میں ناکام رہے. مسلمانوں کو بہت زیادہ غصہ آیا. تب حضرت عثمان (رضی الله) مکہ شہر میں تشریف لے گئے تاکہ معاملات طے کئے جاسکیں. غلط فہمیاں دور کی جاسکیں. لیکن ان کو پکڑ کر ایک گھر میں نظر بند کر دیا گیا. یہاں مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ آپ رضی الله کو شہید کر دیا گیا ہے. مسلمان تو محض ارادۂ حج  سے آئے تھے. کوئی ایذا رسانی ان کا مقصود نہ تھا. اب اگر ان کے سفارت کار کو مار دیا گیا ہے. اس سے قبل وہ ان کے پیغمبر کو مارنے کی کوشش بھی کر چکے تھے. تو اس وقت رسول الله نے سب سے ایک حلف لیا کہ حضرت عثمان( رضی الله ) کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے جنگ کی جائےگی. اس صورت حال میں پُرامن مسلمان جنگ کیلئے تیار ہوگئے. اسی دوران حضرت عثمان (رضی الله )کیمپ کی طرف واپس آتے دکھائی دئیے. انھیں صحیح سلامت دیکھ کر غصہ کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی.
یہاں اس بات کو بیان کرنے کا کیا مقصد ہے؟  اس کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت ایک آیت نازل ہوئی. جس نے مجھے ہلادیا.  اگر اس وقت مسلمان مکہ پر حملہ آور ہو جاتے تو کیا ہوتا ؟  اگر مسلمان جنگ کی نیت سے مکہ میں داخل ہو جاتے تو کیا ہوتا؟
مکہ کے لوگ کون تھے؟  میں پہلے ہی آپ کو بتا چکا ہوں کہ وہ اسلام کے بد ترین دشمن تھے. ان لوگوں نے زیادہ تر قرآن سنا تھا. انھوں نے پیغمبر کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا. وہ کسی بھی رعائیت کے مستحق نہ تھے. بلکہ ان کے خلاف ان سے کچھ زیادہ ہی ہونا چاہئے تھا۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔
دیکھئے الله عزوجل  سورت الفتح (آیت 25)میں کیا فرما رہے ہیں :

ﻫُﻢُ ٱﻟَّﺬِﻳﻦَ ﻛَﻔَﺮُﻭا۟ ﻭَﺻَﺪُّﻭﻛُﻢْ ﻋَﻦِ ٱﻟْﻤَﺴْﺠِﺪِ ٱﻟْﺤَﺮَاﻡِ ﻭَٱﻟْﻬَﺪْﻯَ ﻣَﻌْﻜُﻮﻓًﺎ ﺃَﻥ ﻳَﺒْﻠُﻎَ ﻣَﺤِﻠَّﻪُۥ ۚ ﻭَﻟَﻮْﻻَ ﺭِﺟَﺎﻝٌ ﻣُّﺆْﻣِﻨُﻮﻥَ ﻭَﻧِﺴَﺎٓءٌ ﻣُّﺆْﻣِﻨَٰﺖٌ ﻟَّﻢْ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻫُﻢْ ﺃَﻥ ﺗَﻄَـُٔﻮﻫُﻢْ ﻓَﺘُﺼِﻴﺒَﻜُﻢ ﻣِّﻨْﻬُﻢ ﻣَّﻌَﺮَّﺓٌۢ ﺑِﻐَﻴْﺮِ ﻋِﻠْﻢٍ ۖ ﻟِّﻴُﺪْﺧِﻞَ ٱﻟﻠَّﻪُ ﻓِﻰ ﺭَﺣْﻤَﺘِﻪِۦ ﻣَﻦ ﻳَﺸَﺎٓءُ ۚ ﻟَﻮْ ﺗَﺰَﻳَّﻠُﻮا۟ ﻟَﻌَﺬَّﺑْﻨَﺎ ٱﻟَّﺬِﻳﻦَ ﻛَﻔَﺮُﻭا۟ ﻣِﻨْﻬُﻢْ ﻋَﺬَاﺑًﺎ ﺃَﻟِﻴﻤًﺎ

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے.

 درحقیقت مکہ میں ایسے لوگ موجود تھےجن کے ایمان لانے کا دوسرے لوگوں کو علم نہ تھا. وہ ان سب کے درمیان رہتے ہوئے خاموشی سے پانچ وقت کی نماز ادا کر رہے تھے. مگر کیسے؟ محض اپنی آنکھوں کے اشارے سے. اپنی فیملیز کے ساتھ رہتے ہوئے وہ  سجدہ نہیں کر سکتے تھے. لیکن وہ الله پر ایمان رکھتے تھے  شرک  کو چھوڑ چکے تھے۔لیکن ابھی تک کسی کو بتایا نہ تھا. انھوں نے پیغمبر کے ساتھ ہجرت نہ کی تھی. کبھی غزوات میں حصہ نہ لیا تھا. غزوہ بدر،احد ،احزاب کسی میں بھی شریک نہ ہوئے تھے. لیکن وہ مسلمان تھے. ان میں مرد اور عورتیں دونوں شامل تھے. انھوں نے اپنی جان کے خوف سے کسی کے سامنے کبھی اعتراف نہ کیا تھا. حتٰی کہ دوسرے مسلمان بھی ان کے ایمان لانے کے بارے میں لاعلم تھے.
الله چاہیں تو ان میں سے کسی کو بھی اپنی رحمت میں داخل کرسکتے ہیں.  بھلا میں یہ سب کیوں بیان کر رہا ہوں؟  ویسے تو مکہ کے لوگوں کے بارے میں سب کو واضح ہے کہ وہ کفار ہیں. الله ان کو کبھی ہدایت نہیں دے گا. وہ سزا کے مستحق ہیں. یہاں تک کہ پیغمبرکی تبلیغ  کے آخری دو تین سالوں کی بات آگئی ہے.
ابھی بھی الله فرما رہے ہیں کہ : ہو سکتا ہے ان میں سے کسی کو اللہ نے اپنی رحمت میں داخل کرنا ہو. ہو سکتا ہے ان میں کوئی ایمان لانے والا ہو.
اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب بھی قرآن میں "الذین کفرو" کا ذکر آئے تو اس کو اس کے متن کے ساتھ دیکھا جائے. "کفرو" زیادہ تر ان لوگوں کیلئے استعمال ہو رہا ہے جو بہت ضدی اور بد ترین ہیں. یہ لفظ محض عام غیر مسلم کیلئے نہیں ہے. یہ ضدی ترین لوگوں کیلئے ہے. یہ کوئی نرم لفظ نہیں ہے. جب الله کسی کو کافر کہتے ہیں تو یہ بد ترین لفظ ہے.
"خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں برابر ہے"
آپ کو معلوم ہے کہ پہلی آیات میں ایمان والوں کا جو گروپ بیان ہوا ہے،اس میں ایمان لانےوالے اور جن کے اندر ایمان کا پوٹینشل موجود ہے دونوں شامل ہیں. یعنی تقوی والوں کو بھی قرآن نے کھول کر بیان کر دیا ہے. خواہ وہ متقی لوگ ،عیسائی ہیں یا یہودی ، مگر اپنے دلوں میں تقوی رکھتے ہیں. اور وہ ابھی بعد میں شہادت دینے والے ہیں. لیکن قرآن ان کے بارے میں پہلے ہی تحریری شہادت دے رہا ہے. سورت القصص
آیت نمبر 53…انا کنا من قبله مسلمين  (ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں )
قرآن کہہ رہا ہے کہ اپنی شہادت سے پہلے ہی وہ مسلمان ہیں. کیونکہ وہ پوٹینشلی مسلمان ہیں . اسلام ہمیشہ سے ان کے سینوں میں موجود تھا.
 ہمیں چاہئے کہ ہم معاملات کو ذرا سادہ نظر سے دیکھیں. کیونکہ ایسے تو بہت سارے مسائل پیش آسکتے ہیں. پہلا مسئلہ تو یہ ہو سکتا ہے: کچھ لوگ مسلمان ہیں لیکن ان کی فیملیز غیر مسلم ہیں. وہ لوگ فیملی کے متعلق پریشان ہیں.  ان کے بارے میں سوال کر رہے ہیں.  تو کیا ان کیلئے یہ جواب آیا ہے ؟
"ان الذین کفرو سواء علیھم ءانذرتھم  ام لم تنذرھم لا یومنون"
کیا ہمارا دین یہ کہہ رہا ہے کہ اگر تمہاری فیملی غیر مسلم ہے۔تمہاری والدہ کرسچین ہے تو تم ان سے محبت کرنا چھوڑ دو. ان کی عزت نہ کرو وغیرہ.
یہ ہم کس طرح کا زہر لوگوں کے اندر بھر رہے ہیں؟  کیا ہمارا دین ہمیں یہ سیکھا رہا ہے کہ نان مسلم سے محبت نہیں کرنی چاہئے؟    کیا یہ الله کی کتاب کی تعلیمات ہیں کہ جو اللہ کو نہیں مان رہے ان سے محبت کرنا چھوڑ دو؟
 تاریخ میں موجود ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کے والد مشرک تھے. تو کیا ابراہیم علیہ سلام ان سے محبت نہ کرتے تھے؟  یہاں تک کہ آخر میں الله  نے ان سے کہا کہ اب ان کو چھوڑ دو اور ان کیلئے مزید استغفار کرنا بند کر دو.
کیا نوح علیہ سلام کو اپنے بیٹے سے محبت نہ تھی؟  950 سال کی عمر تک کیا انھیں اپنی فیملی سے محبت نہ تھی؟
آخر کار ان پر بھی الله  نے خود ہی سب کچھ واضح کر دیا اور کہا کہ یہ تمہارا خاندان نہیں ہے.
الله نے ان کو 100-200-500 سال پہلے کیوں نہ بتا دیا؟  اتنا آخر میں جا کر کیوں بتایا؟
یہ ہمارے ہاں کس قسم کی تبلیغ ہوتی ہے؟  جب لوگوں سے کہا جاتاہے کہ اگر آپ ایمان والے ہیں تو غیر مسلمز سے نفرت کریں. اگر وہ آپکی فیملی میں سے ہیں تب بھی. یہ آپ کس قسم کی تعلیم لوگوں کو دے رہے ہیں؟
یہ انتہائی مضحکہ خیز/بے معنی بات ہے.
یہ الله  کا دین ہے. اس کو انسانیت کیلئے پھیلانا ہے. اگر ہم غیر مسلمز سے نفرت کرنے لگ جائیں گے تو یہ مقصد کیسے پورا ہو گا؟  جو شخص اسلام قبول کرتا ہے، وہ کس طرح اپنے آپ کو تمام انسانیت سے کاٹ کے الگ کرسکتا ہے، ان تمام لوگوں سے جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا. یہ دین اسلام تمام بنی نوع انسان کیلئے ہدایت و رہنمائی کا تحفہ ہے. حضرت آدم  علیہ سلام سے کہا گیا تھا کہ آپ کی اور آپکی اولاد کی طرف ہدایت آئیگی. آپ کے تمام بچوں کیلئے. ان میں عیسائی ،ہندو، یہود،مسلمان، ملحد سب شامل ہیں. اس گفٹ آف گائیڈنس کو دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ کون ہے؟ مسلمان. تو پھر مسلمان سے یہ توقع کیوں کہ وہ غیر مسلم سے نفرت کرے؟
حضرت محمد (صلی الله علیہ وسلم )ایک دفعہ ایک یہودی کے جنازہ گزرنے پر کھڑے ہوجاتے ہیں. صحابی کہتے ہیں کہ حضور پاک (صلی الله علیہ وسلم )یہ تو یہودی تھا. آپ (صلی الله علیہ وسلم  ) نے فرمایا: کیا یہ آدم کا بیٹا نہ تھا؟
دیکھئے ہمارے پیارے نبی تو انسانیت کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں.
الله فرماتے ہیں: "ولقد کرمنا بنی آدم "  (بنی اسرائیل۔70)
             ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی.
قرآن میں کفار سے نفرت ضرورکی گئی ہے مگر سب سے نہیں. کفار کی تذلیل کی گئی ہے مگر سب کی نہیں. صرف ان لوگوں کی ، جو دین کے بد ترین دشمن تھے. وہ جن کی نفرت اور زہر فشانی ظاہر تھی. وہ جو مسلمانوں کیلئے مشکلات کھڑی کرتے تھے.

-نعمان علی خان

جاری ہے......

بدھ, اگست 17, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ ہفتم

 حصہ ہفتم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج ہم آیت نمبر 5 کا آغاز کریں گے ان شاءاللہ. مگر.اس سے پہلے میں آیت نمبر 4 کے متعلق کچھ باتیں شیئر کرنا چاہوں گا. پہلی بات، اس آیت میں جن چیزوں کا ذکر کیا گیا  ہے ان کی ترتیب کے بارے میں ہے.

1-والذین یومنون بما انزل الیک وہ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا تمہاری طرف یہاں پر قرآن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے.

2-وما انزل من قبلک اور جو نازل کیا گیا تم سے پہلے یہ تورات،انجیل اور زبور کی طرف اشارہ ہے.

3-وبالاخرہ ھم یوقنون اور وہ آخرت پر مکمل یقین رکھتے ہیں. 

یہاں پر دو باتیں قابل غور ہیں.
اب اگر یہ تاریخی ترتیب سے چل رہا ہوتا تو کچھ یوں ہونا چاہیے تھا کہ سب سے پہلے تورات انجیل وغیرہ کا ذکر ہوتا، پھر قرآن کا، اور پھر یوم آخرت کا.
کیونکہ پہلے تو تورات اور انجیل نازل ہوئی تھی نا،پھر اس کے بعد قرآن. مگر اللہ نے اس کا ذکر قرآن کے بعد کیا. اور پھر آخر میں یوم قیامت کا.
تاریخی ترتیب کے لحاظ سے وما انزل من قبلک پہلے ہونا چاہیے تھا، پھر وما انزل الیک اور آخر میں وبالاخرہ ھم یوقنون.
مگر اللہ عزوجل نے اس تاریخی ترتیب کو جان بوجھ کر توڑا اور قرآن پاک کا ذکر سب سے پہلے کیا،پھر ماضی میں جا کر  پہلی کتابوں کا ذکر کیا، اور آخر میں مستقبل یعنی یوم آخرت کے متعلق ذکر کیا.

اس آیت میں قرآن کو اس ترتیب سے باہر نکالا گیا ہے، اور اس کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے. ورنہ باقی سب ترتیب میں ہے. مگر قرآن کو درمیان سے نکال کر شروع میں رکھ دیا گیا ہے. اور اس سے ایک بات کا پتہ چلتا ہے.
 فرض کرتے ہیں کہ کوئی مدینہ کا رہائشی تھا مگر یہودی یا عیسائی تھا اور وہ بعد میں مسلمان ہوگیا. ظاہر سی بات ہے اس شخص کا پہلا ایمان قرآن پر نہیں تھا بلکہ تورات اور انجیل پر تھا، اور پھر بعد میں وہ قرآن پر ایمان لایا.
اب بات یہ ہے کہ جس چیز پر آپ کا پہلا ایمان ہوتا ہے، آپ باقی سب چیزوں کو اس چیز کی کی رو سے دیکھتے ہیں. بالکل جیسے آپ نے کوئی چشمہ پہن رکھا ہو، اسی کے ذریعے آپ ہر چیز کو دیکھ پاتے ہیں. آپ اس لینز کے ذریعے ہر شے کو جانچتے پرکھتے ہیں.

یہ لوگ جو تورات اور انجیل پر ایمان رکھتے تھے، ان کا اللہ سے تعلق پہلے تورات اور انجیل کے ذریعے سے ہی تھا. ان کی بنیاد تورات اور انجیل ہیں. اور اس کے بعد قرآن آیا. مگر اللہ نے اس ذیلی شعوری ترتیب کو بھی توڑدیا اور کہا نہیں! اب سے تم لوگ تورات اور انجیل کو بنیاد بنا کر  نہیں سوچ  سکتے، اب تم لوگ ہر شے نئے سرے سے سیکھو قرآن کے ذریعے. قرآن کو بائبل کی روشنی میں دیکھنے کے بجائے اب سے تم بائبل کو قرآن کی روشنی میں دیکھوگے. اس لیے قرآن کا ذکر پہلے ہوگا جبکہ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے اُسے آخر میں ہونا چاہیے.
اور یہ قرآن اب  اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ پچھلی کتابوں میں سے اب تم کس چیز پر ایمان لاؤگے اور کس چیز کو مسترد کروگے.
اللہ عزوجل نے قرآن کو "مھیمن الیہ" کہا، کہ یہ دوسری کتابوں پر محافظ/نگران ہے.

ایسا کیوں کیا گیا ہے؟
کیونکہ ہمارے دین کا سب سے اہم تصور "روز آخرت" قیامت کا دن" جو ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، وہ تصور ان کتابوں میں تقریباً مٹ چکا ہے. اس لیے جب آپ ان کتابوں کو پرائمری سمجھیں گے اور قرآن کو ثانوی تو یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ قرآن میں "روز آخرت" کا تصور کیسے پیدا ہوا؟ جبکہ اس سے پہلے کی کتابوں میں تو ہے ہی نہیں. اور پھر ان کتابوں میں اس حد تک تبدیلی آچکی ہے کہ انہیں پرائمری نہیں بنا سکتے.
یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ روز قیامت کا تصور آج بھی یہودیوں میں جھٹلایا جا رہا ہے. ان کے لیے قرآن کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب نہیں ہے. ان کا ماننا ہے کہ یہ بائبل یا تورات سے تیارہ کردہ کوئی عام سی کتاب ہے.
اس لیے جب وہ پرانی کتابوں کی روشنی میں قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ "روز آخرت" کا تصور تو قرآن کا اپنا ایجاد کردہ ہے.

اگر آپ ان کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تمام مذاہب کا فرق جاننے کے لیے، یا پھر یہ جاننے کے لیے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا پس منظر کیا ہے، ان کی ذہنیت کیا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں. مگر انہیں پرائمری نہ سمجھیں . قرآن ہی پرائمری ہے اب.

اب لفظ "یوقنون" پہ بات کرتے ہیں.
یوقنون کے معنی ہیں *کسی چیز پر پوری طرح یقین کرنا". جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا روز آخرت پہ پورا یقین ہے. ان کا یہ یقین پورا ہو چکا ہے. اور یہ ایسا یقین ہے جس طرح آپ نے روز آخرت کو دیکھ رکھا ہو.
اور یہودیوں کے لیے یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے.
ہم مسلمانوں کا بہت سے احکامات پر اختلاف ہوسکتا ہے، مگر قیامت کے دن پر، جہنم، یا جنت پر ہمارا پورا یقین ہے. اس بارے میں ہمیں کوئی اختلاف نہیں.
اس لیے یہاں موجود ترتیب اور لفظ ایقان (جو کہ یقین سے نکلا ہے) اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے.
ایک اور بہت ضروری بات، یہ پہلے بھی ہوتا آیا تھا اور اب بھی ہورہا ہے کہ کچھ لوگ نبی ہونے کا دعوی کرنے لگ جاتے ہیں، جبکہ وہ نبی نہیں ہوتے.
میں یہاں کسی گروہ کو نشانہ نہیں بنارہا  لیکن ایک بات ضرور بتانا چاہوں گا کہ کس طرح قرآن نے اس مسئلے کا حل بتادیا ہے. 
اللہ نے کہا یہ قرآن ہدایت ہے متقین کے لیے، اور متقین وہ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا (یعنی قرآن پر) اور جو ان سے پہلے نازل کیا گیا (یعنی تورات اور انجیل).
قرآن اور پہلے کی کتابوں کے علاوہ مستقبل کی کسی کتاب کا ذکر نہیں ہوا. یہ نہیں کیا گیا کہ "اس پر بھی ایمان لاتے ہیں جو بعد میں آئے گا".
اگر قرآن کے بعد کسی وحی کسی کتاب کے لیے جگہ ہوتی تو اس کا ذکر بھی یہاں موجود ہوتا. مگر ایسا نہیں ہے. اس کتاب کے بعد جس چیز پر ایمان لانا ہے وہ آخرت ہے. اب کسی کتاب نے نہیں آنا، صرف قیامت نے آنا ہے.
اس لیے رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم اپنی انگلیوں کو ساتھ جوڑ کر فرمایا کرتے تھے "میں اور روز آخرت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں". کیونکہ اب انسانوں کے لیے یہی سب سے بڑا واقع ہے. اور اب ایک وہی واقعہ رونما ہونا باقی ہے
        الشمس والقمر بحسبان والنجم والشجر یسجدان
جب قرآن میں ایک جگہ کہا گیا کہ ستارے ڈوب جائیں گے. درخت ٹوٹ کر گر جائیں گے. پہاڑ برابر ہو جائیں گے.  دوسرے لفظوں میں ہر چیز سجدہ ریز ہو جائے گی. یعنی نزول قرآن کے بعد اب قیامت کا دن قریب ہے. یہ دونوں واقعات انسانی تاریخ کے تناظر سے یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہوں گے.

            اب اگلی آیت کی طرف چلتے ہیں.

         أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ

سبحان اللہ!
یہ آیت اللہ کی طرف سے نہایت خوبصورت تحفہ ہے. اگر آپ اس آیت کو پڑھیں تو آپ کو لگے گا کہ یہ بات تو پہلے ہی بتائی جا چکی ہے. اللہ تعالٰی ہمیں پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ قرآن ہدایت ہے. ھدًی للمتقین. یہ اہل تقوٰی کے لیے ہدایت و رہنمائی ہے. اللہ تعالٰی اب بتاتے ہیں کہ

أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

اس کا آسان ترجمہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کی طرف سے ہدایت کی راہ پر گامزن ہیں وہی کامیاب و کامران ہوں گے. آخرت میں وہی کامیاب ہوں گے.
      اس آیت میں ہمارے سمجھنے کے لیے بہت سی نہایت خوبصورت باتیں ہیں.. پہلی تو یہ کہ "ھدًی" کا لفظ اور خاص طور پر عربی گرامر کے طلباء کے لیے یہ سوال ہے کہ "ھدًی"  کے لفظ میں تنوین کیوں استعمال ہوا؟ علی الھدٰی کیوں نہیں کہا گیا. اس کا جواب اما شافعی یوں دیتے ہیں

لو البصرۃ فلا البصرۃ الرجل
کہ جہاں تک نگاہ جائے ہدایت ہی ہدایت ہے.
   عربی میں تنوین کسی چیز کو بڑھانے کیلیے لگائی جاتی ہے.  یعنی اللہ کی طرف سے ہدایت کیا ہے؟ اس آخری کتاب کی روشنی میں پچھلے تمام آسمانی صحیفوں اور آسمانی کتابوں پر یقین. اور اس کے بعد آخرت پر بھی ایمان لانا. یہ ہے ہدایت اللہ کی طرف سے.

 وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

اور وہی ہیں آخرت میں کامیاب ہونے والے. اب لفظ "أفلح" نہایت دلچسپ لفظ ہے. اس سے لفظ فلاح نکلا ہے. "فلاح" کسان کو کہتے ہیں. 
فلاح الدھر بقائه
فلاح کا ایک اور مطلب ہے" بقیة" باقی رہ جانے والا. اور مفلحون میں وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی پا لیں گے. ہمیشہ رہنے والی خوشی. وہ دائمی زندگی جو کامیابیوں اور اللہ کی رحمت سے بھر پور ہو گی. لفظ "فلاح" کا مطلب صرف کامیابی نہیں ہے. اگر آپ صرف اور صرف کامیابی کی بات کرنا چاہیں تو آپ کہتے ہیں  "فائزون". قرآن میں یہ بھی استعمال ہوا ہے. اولئك هم الفائزون.  لیکن جب آپ کہتے ہیں مفلحون  تو یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو نہ صرف کامیاب ہوں گے بلکہ وہ ہمیشہ کامیاب رہیں گے. فلاح کا مطلب کسان بھی ہے کیونکہ 
کسان کٹائی تب کرتا ہے جب فصل تیار ہوتی ہے. تصور یہ ہے کہ ایک کسان سارا سال کام کرتا ہے وہ بہت محنت سے مٹی تیار کرتا ہے اسے نرم کرتا ہے. بیج بوتا ہے، پانی دیتا ہے. لیکن سال کے بیشتر حصہ میں اسے اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا. آخر کار فصل کھڑی ہو جاتی ہے. اور کٹائی کا موسم آتا ہے. دنیا میں جب بھی کٹائی کا موسم آتا ہے تو جشن و تہوار منعقد کیے جاتے ہیں. اس کے برعکس نوکری کرتے ہوئے ہر ہفتے آپ کو چیک مل جاتا ہے. کچھ لوگوں کو ماہانہ چیک ملتے ہیں. لیکن ایک کسان کو نہ تو ہفتہ وار کوئی چیک ملتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی ماہانہ چیک دیتا ہے. کسان کو تنخواہ کب ملتی ہے.؟  سال میں چند دفعہ کٹائی کے موسم میں جب ان کی فصل تیار ہوتی ہے. یہ وہ موسم ہے جب انہیں چیک ملے گا اور تب انہیں کہا جاتا ہے فلاح.  یا پھر مفلح.
تو اس لفظ فلاح کے استعمال سے اللہ تعالٰی ہمیں کیا بتا رہے ہیں.؟اللہ تعالٰی صرف یہی نہیں کہہ رہے کہ دائمی کامیابی یا اخروی کامیابی. وہ یہ بتا رہے ہیں کہ لوگوں کو بہت محنت کرنی ہو گی. اور آخر کار وہ وہی کاٹیں گے جو انہوں نے بویا ہو گا. دوسرے لفظوں میں پورے  دین اسلام کی فلاسفی یہ ہے کہ آپ کو محنت کرنی ہو گی اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کے قابل بنانے کے لیے. اور جنت کے لیے. صرف یہی نہیں ہے اللہ تعالٰی جسے چاہے گا عطا کرے گا. اس کے لیے آپ کو محنت کرنی پڑے گی. اور تب ہی اللہ تعالٰی آپ کو اجر دیں گے. اس پوری بات کو  وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ میں بیان کیا گیا ہے.

اب میرے لیے جو اس آیت کا سب سے دلچسپ پہلو ہے. وہ یہ ہے. میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ جب اللہ تعالٰی نے کہا کہ
 ھدی اللمتقین. یہ کتاب ہدایت ہے اہل تقوی کے لیے تو انہوں نے دو گروہوں کا ذکر کیا. میں دہرا دیتا ہوں . پہلا گروہ ہے.

أَلَّذینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ وَ یُقیمُونَ الصَّلاةَ وَ مِمّا رَزَقْناهُمْ  یُنْفِقُونَ.

 جو غیب پر ایمان لاتے اور  نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 
اور دوسرا گروہ ہے.

وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

 اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں.

میں اسے آپ کے لیے اور آسان طریقے سے بیان کرتا ہوں. پہلا گروہ ان لوگوں کا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور بنیادی نیک اعمال  ضرور سر انجام دیتے ہیں. بنیادی نیک اعمال کون سے ہیں؟ نماز قائم کرنا، لوگوں کی مدد کرنا وغیرہ وغیرہ. 
لیکن اگلی آیت ان لوگوں سے متعلق ہے جو اہل علم ہیں. وہ آسمانی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور  ان کے بارے میں علم رکھتے ہیں. ان کے پاس قرآن کا علم بھی ہے اور قرآن کی روشنی میں قرآن سے پہلے نازل کردہ آسمانی صحیفوں کا بھی.
تو آپ کے سامنے دو گروہ ہیں. میں موجودہ دور کے لحاظ سے آپ کو مثال دہتا ہوں. پہلے گروہ میں شامل ایک عام ٹیکسی ڈرائیور ہے. ایک غریب آدمی، جو دن کے 19 گھنٹے کام کرتا ہے تاکہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکے. اس لے پاس دینی تعلیم کے حصول کے لیے وقت نہیں ہے. اس کو کبھی موقع ہی نہیں ملا عربی زبان سیکنے کا، تجوید سیکھنے کا، مخارج پہ توجہ دینے کا یا حدیث سیکھنے کا. وہ مشکل سے وقت نکال کر اپنی ٹیکسی روکتا ہے، نماز ادا کرتا ہے. اور نماز پڑھنے کے بعد واپس ٹیکسی کے ذریعے فکر معاش میں لگ جاتا ہے اور یہی اس کا معمول ہے.  ہفتے میں اگر اسے ایک دن آرام کا مل بھی جاتا ہے تو وہ اس قدر تھکا ہوا ہوتا ہے کہ وہ کومہ کی حالت میں ہوتا ہے.  بس یہ اس کی زندگی ہے.
اور دوسری طرف ایک شخص ہےجس کے لیے اللہ تعالٰی نے علم کے حصول کے لیے بہت سے مواقع پیدا کیے ہیں. اس کا خاندان اس کی اعلی دینی تعلیم کی راہ میں معاون ہے. اور وہ قرآن کی، شریعہ کی یا کسی بھی طرح کی دینی تعلیم کے حصول کے لیے کوشاں ہے چاہے اس کے لیے اسے ایک ملک سے دوسرے ملک جانا پڑے. اور پھر وہ گریجویشن سے آگے ماسٹرز اور یہاں تک کہ  پی ایچ ڈی کر لے اور اللہ کے فضل سے عالم دین بن جائے.
یہ دونوں لوگ اہل ایمان میں سے ہیں. لیکن آپ کے خیال میں جو اہل علم ہے اور جو دینی تعلیم میں کوشاں ہے وہ شاید برتر ہے. اور آپ کی نگاہ میں ٹیکسی ڈرائیور کا مقام ایک عالم سے کچھ کم ہے. لیکن غور کریں اللہ تعالٰی نے پہلے فرمایا کہ مفلحون میں  سے کوئی بھی ہو سکتا ہے.، کوئی بھی جو غیب پر ایمان لائے، کوئی بھی جو نماز قائم کرے اور کوئی بھی جو اس میں سے خرچ کرے جو اللہ تعالٰی نے اسے عطا کیا ہے. یہ تمام امت مسلمہ کے لیے کھلی دعوت ہے.
اور اگلی آیت میں کہا گیا کہ وہ لوگ جو اس قرآن پر اس سے پہلے نازل کردہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں. یہاں ان کی طرف اشارہ ہے جن کے پاس کتاب کا علم ہے. لیکن اللہ عزوجل ان دونوں کا ایک جگہ ذکر کر کے ان دونوں گروہوں کو کامیابی کی سند تھما دیتے ہیں.  اللہ تعالٰی آگے فرماتے ہیں

اولئك علی ھدی من الربھم
 یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں.

ان دونوں میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو کمتر یا حقیر نہ سمجھے کہ وہ اللہ تعالٰی کی نظر میں کسی سے کم ہیں.

علم کا دروازہ جب کھلتا ہے تو وہ بہت سوں کے لیے مزید در کھول دیتا ہے. عالم بننے کے لیے یہی کافی نہیں ہے کہ آپ ایک کتاب لیں اور اسکو پڑھ ڈالیں. آپ کے اخراجات، رہائش، و خوراک کا خیال کسی کو رکھنا ہو گا. تاکہ آپ بے فکر ہو کر علم حاصل کر سکیں. ایسے نہیں ہے کہ آپ گھر والوں کی کوئی فکر نہ کریں اور کہیں کہ میں تو  علم حاصل کر رہا ہوں تو  میرے اہل وعیال کا اللہ مالک ہے. آپ ایسا نہیں کر سکتے. کچھ لوگ اپنی ساری زندگی لگا دیتے ہیں کہ  کم ازکم وہ اتنا کما لیں کہ اپنے گھر والوں کو دو وقت کی روٹی دے سکیں. یہی ان کی زندگی ہے. اور اس کی بھی   اللہ کے نزدیک اہمیت ہے. جب تک وہ ایمان لانے والوں میں سے ہوں، نماز قائم کرتے رہیں اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے خرچ کرتے رہیں،بس اگر وہ یہی کرتے رہیں تو اللہ تعالٰی کی نگاہ میں ان کی بہت اہمیت ہے.ان کی جن کو علم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا.

-نعمان علی خان

جاری ہے

منگل, اگست 09, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ ششم

حصہ ششم

آگے جانے سے پہلے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے (ینفقون) پر میں اور بھی تفصیل میں جانا چاہتا ہوں.
ایک پرانی مثال ہے مگر آج کے دور میں بھی مفید ہے:
بچے بہت خود غرض ہوتے ہیں. میری بیٹی حسنہ چاکلیٹ کی بہت شوقین ہے. میں چاکلیٹ کھا رہا تھا، وہ مجھے دیکھ رہی تھی. مجھ سے کہنے لگی.
ابا کیا مجھے مل سکتی ہے؟؟
میں نےکہا: نہیں.
ابا کیا تھوڑی سی بھی نہیں ؟
اس پر میں نے اس کو دے دی اور کہا کہ صرف دس سیکنڈز کیلئے. اس کے بعد تم اسے مجھے واپس کر دوگی. اس نے چاکلیٹ پکڑی اور تیزی سے کھانا شروع کردی. وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش میں تھی.
۱۰ سیکنڈ بعد چاکلیٹ ختم نا ہوئی سو میں نے اس سے واپس مانگی. تو پتا ہے اس نے کیا کیا؟
اس نے کہا 'یہ میری ہے.' اور یہ کہہ کر بھاگ گئی.
اسی طرح جب آپ کے بچے کسی کے گھر جاتے ہیں یا کوئی آپ کے گھر آئے، تو کیا کرتے ہیں؟
بچے کبھی بھی اپنے کھلونوں سے نہیں کھیلتے. صرف اسی وقت کھیلتے ہیں، جب کسی دوسرے کے بچے آپ کے گھر آئے ہوئے ہوں. تب وہ کہتے ہیں کہ یہ میرا کھلونا ہے، یہ میرا ہے. جیسے ہی مہمان بچے چلے جائیں،تو کھلونا وہ پھینکا اور یہ جا وہ جا.
مہمان بچے منتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ کیا مجھے کھیلنے کی باری مل سکتی ہے؟
کیا میں ایک دفعہ اس سے کھیل سکتا ہوں؟
آخر کار میزبان بچہ اس کو وہ کھلونا بہت برے انداز میں عنائیت کر دیتا ہے.
اب وہ بچہ تھوڑی دیر ہی اس سے کھیل پاتا ہے کہ گھر جانے کا وقت ہو جاتا ہے،تو جس بچے نے کھلونا (کھیلنے کیلئے) ادھار لیا ہوتا ہے،،،کیا وہ آسانی سے واپس کر دیتا ہے؟ کیا آسانی سے گھر چلا جاتا ہے؟
نہیں ،ہرگز نہیں.. وہ کھلونا دینے سے منع کردیتا ہے یہاں تک کہ میزبان بچے کی ماں آ کر کہتی ہے کہ چلو تم لے جاؤ.
یہاں اب بچوں سے تھوڑا آگے آئیں.
یہ انسانی نفسیات ہے، جب ہمیں وہ چیزیں دی جائیں جو ہماری نہ ہوں تو ہم بہت جلدی بھول جاتے ہیں کہ یہ ہماری چیز نہیں ہے. ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ہمیں دی گئی ہے اور یہ سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ ہماری ہی ہے. اور ہم اسکو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں. جب کوئی مانگے تو ہم کہتے ہیں نہیں نہیں یہ ہماری ہے.
اب اللہ عزوجل کیا کہہ رہے ہیں؟ اللہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ"۔۔ینفقون۔۔"وہ خرچ کرتے ہیں".
لیکن اللہ کہتے ہیں.
"مما رزقنا ھم ینفقون"۔۔وہ خرچ کرتے ہیں اس میں سے ،جو ہم ان نے ان کو دیا ہے۔"
ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ہمارا کچھ بھی نہیں ہے. بینک میں پیسے ہمارے نہیں ہیں، کار جس کو ہم چلا رہے ہیں ،وہ ہماری نہیں ہے، ہم ہر وقت کہتے ہیں میری قمیض، میری کار، میرا والٹ، میرا اکاؤنٹ، میرا گھر. ہم لفظ 'میرا' اتنا زیادہ استعمال کرتے ہیں کہ ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ اللہ کی ملکیت ہیں. میرا جسم، میری آنکھیں، میرے کان، میری ناک سب اللہ کا دیا ہوا ہے.
"انا لله وانا اليه راجعون"
هم سب سارے کے سارے اللہ کے ہیں. اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں. ہم کس طرح اپنی جائیداد کی بات کر سکتے ہیں جب ہمارا جسم ہی اللہ کی پراپرٹی ہے. ہماری جائیداد دراصل اللہ کی جائیداد کی ہی ایکسٹینشن ہے. اسی لئے یہاں اس بات کی خصوصی تلقین کی گئی ہے.
"مما رزقنا ھم ینفقون۔"
جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرنا ہے.
گرائمر کے طالب علموں کی دلچسپی کی بات ہے کہ اس آیت میں صرف 'رزقنا' ہی فعل ماضی ہے.
باقی سب فعل حال ہے. ایمان لانا. نماز قائم کرنا،اور خرچ کرنا.
جبکہ صرف "رزقنا" (ہم نے دیا) فعل ماضی ہے. رزق فعل حال یا فعل مستقبل کے ساتھ نہیں ہے.
اللہ نے یہ نہیں کہا کہ مما نرزقھم ینفقون کہ میں تم کو دوں گا تو تم خرچ کرنا.
تو اسکا یہ مطلب ہے کہ آپ نے اللہ کی طرف سے آئیندہ زندگی میں دینے کا انتظار نہیں کرنا کہ اللہ آپکو دے گا تو پھر آپ خرچ کریں گے. نہیں ہر گز نہیں.
کچھ لوگ کہتے ہیں ناں کہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں جب اللہ مجھے دے گا تب کروں گا.
وہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے رزق تو دیا ہوا ہے اسی میں سے خرچ کرنا ہے.
یہ خرچ کرنے کی بات اللہ ہر ایک انسان سے کہہ رہے ہیں کہ میں نے تمہیں دیا ہے خرچ کرنے کیلیے. اگر تمہارے پاس دو دن ہے تو اس میں سے ایک مجھے دو. اگر ایک سیب ہے تو اسکا ایک ٹکڑا مجھے دو. اگر تمہارے پاس توانائی ہے تو اسکو میرے لیے خرچ کرو. اگر ٹیلنٹ ہے تو مجھے دو. ہر انسان کو کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے. اگر کچھ نہ دیا ہوتا تو آپ آج اس دنیا میں سانس نہ لے رہے ہوتے. اللہ نے یہ آیت صرف ارب پتی لوگوں کے لیے نہیں اتاری. اسکو اس بات کی پرواہ نہیں کہ آپ کتنا خرچ کرتے ہیں. اسکو بس یہ دیکھنا ہے کہ آپ کیسا خرچ کرتے ہیں. جو خرچ کررہے ہیں اسکا معیار اسکی کوالٹی دیکھی جاتی ہے مقدار نہیں. اس سے فرق نہیں پڑتا کوئی بیس ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے یا بس دو ڈالر خرچ کرتا ہے. ہوسکتا ہے جس نے بیس ہزار دیے ہوں اسکے پاس بیس لاکھ ہوں. اور جس نے دو ڈالر دیے ہوں اس کے پاس بس دس ڈالر ہوں. تو دیکھیں وہ دو ڈالر زیادہ قیمتی ہوئے نا. ہم کہتے ہیں اوہ واؤ بیس ہزار کا چیک. اور دو ڈالر کوئی خیرات دے تو اس سے اتنے خوش نہیں ہوتے. لیکن ان دو ڈالرز میں بیس ہزار سے زیادہ برکت ہوسکتی ہے اس نیت اور قربانی کی وجہ سے جو اس کے دینے والے کی ہے.
اللہ عزوجل قرآن میں فرماتے ہیں۔۔سورہ التوبہ 41
"انفرو خفافا وثقالا"
آگے بڑھئیے کم یا زیادہ جو بھی ہے خرچ کریں. اپنے آپ کو کبھی بھی انڈرایسٹیمیٹ نہ کریں کہ آپ نے کم دیا.
مثال کے طور پر چھوٹے بچے سکے جمع کرنے کے شوقین ہوتے ہیں. ان کے پاس پیسے ہوتے ہیں. اور یہی پیسے وہ صدقہ باکس میں ڈال دیتے ہیں. آپ کے لیے شاید یہ سکے اتنے اہم نہ ہوں. بعد میں جو چندہ باکس کھولتے ہیں وہ بھی سوچتے ہوں یہ ایک دو روپے کے سکے کس نے ڈالے. لیکن جس نے یہ چند سکے دیے ہیں اس کے لیے تو یہ سکے اہم تھے ناں. اس کی جمع پونجی تھی یہ. اور اس نے اپنی جمع پونجی اللہ کو دے دی.
سو اپنے صدقہ کو کم نا سمجھیں. یہی ہے مما رزقنھم ینفقون

اب اس سے اگلی آیت ہے..
والذين يومنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالا خرة هم يوقنون
اور وہ لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل ہوا آپ پر اور جو اس سے پہلے نازل ہوا.  اور وہ یوم آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں.  یہ آیت بہت مزے کی ہے. 
امام فخرالدین الرازی کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک اور گروہ کے لوگوں کے بارے میں ہے. پچھلی آیات ساری انسانیت کے لیے تھیں.  لیکن اب اگلی آیت ان لوگوں کے لیے ہے جن پر پہلے انبیاء کرام یا وحی آچکی تھی.  یعنی یہود و نصارٰی.
اس آیت کو حصوں میں پڑھتے ہیں کیونکہ اس میں بہت گہری باتیں ہیں. 
پہلے یہ تھا کہ جو بھی کوئی غیب پر ایمان لائے،  جو بھی کوئی نماز قائم کرے،  اور جو کوئی اللہ کی راہ میں خرچ کرے.  سو یہ سب کی بات ہورہی ہے. 
لیکن اب اہل الکتاب کی بات ہورہی ہے.  یہاں کچھ پس منظر بہت اہم ہے.
 پہلی چیز جو آپ نوٹس کریں گے وہ ہے کہ
ما انزل الیک
جو آپ پر نازل کیا گیا.
یہاں آپ سے مراد آپ صلٰی الله علیہ وسلم ہیں. تو اللہ نے بتایا کہ الل نے وحی نازل کی اور ساتھ اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ کس پر یہ نازل کی. محمد صلٰی اللہ علیہ وسلم پر... لیکن اگر آپ آیت کے اگلے حصے کو دیکھیں.
وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ
اور جو کچھ آپ سے بہت پہلے نازل کیا گیا.
اب یہاں اللہ نے یہ تو بتایا کہ آپ سے پہلے وحی نازل کی گئی لیکن کیا اللہ نے یہ بتایا کہ یہ پر کس پر نازل کیا گیا؟ نہیں.... تو اگر آپ دیکھنا چاہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا دیا گیا تو آپ کس سے پوچھ سکتے ہیں؟ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ سکتے ہیں. انہوں نے ہی اسے وصول کیا. تو آپ جا کر پوچھ سکتے ہیں اور جو دیا گیا وہ اس میں سے آپ کو پڑھ کر سنا سکتے ہیں.
مگر جو اس سے پہلے وحی اتری اس کے بارے میں اللہ پاک کہتا ہے کہ یہ بہت پہلے کہ زمانے میں نازل ہوئی مگر وہ (اللہ)  یہ نہیں بتاتا کہ یہ کس پر نازل ہوئی. کیوں نہیں؟  کیونکہ جن  (انبیاء) پر وحی نازل کی گئی تھی وہ بھلائے جا چکے تھے. انہیں یاد نہیں رکھا گیا تھا. اور وہ کلام  (وحی) میں سے کچھ یا تو زبانی کلامی روایتوں کا حصہ بن کر رہ گئی تھیں یا کچھ یہاں وہاں لکھے گئے حصوں پر مبتلا تھیں. انہوں نے زمانے کے فاصلے طے کیے حتٰی کہ جب کبھی وہ کسی کے ہاتھ لگتیں تو کوئی یقین سے بتا نہیں سکتا تھا کہ یہ کہاں سے آئیں ہیں. جبکہ جب ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا. لیکن بد قسمتی سے جو لوگ ہم سے پہلے تھے خاص طور پر یہودیوں میں جو بھی بہت کچھ پہلے نازل ہوا اس کی تبدیلی کی وجہ سے اس کے اوریجن تک پہنچنا ممکن نہیں رہا.  یہاں تک کہ آج کل کے نئے زمانے کے بہت سے تعلیم یافتہ یہود اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو انہیں پرانا عہد نامہ پڑھایا جاتا یہ یا جو عبرانی بائبل آجکل جس شکل میں ہے اس کا لکھا انبیاء سے نہیں جوڑا جا سکتا. ان کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے. اسکی تمام نقلوں (کاپیوں) کو جلا دیا گیا تھا اور انہیں پھر سے زندہ کیا گیا تھا(لکھا گیا تھا). بائبل کے جمع کی جانے کی تاریخ بہت پیچیدہ ہے. لیکن یہ سمجھ لیں کہ صدیوں تک اس کے کچھ نہ کچھ حصے میں کہیں نہ کہیں کچھ سچ بہرحال زندہ بچ گیا.  اوراگر کسی میں ذرا سا بچا کچھا ایمان تھا وہ اتنا کافی تھا کہ اگر کوئی قرآن سنتا تو کہتا کہ میں نے یہ پہلے پڑھ رکھا ہے. یہی ہے وہ جو مجھ تک آیا تھا(میری کتاب میں). تو ان کے پاس ان کی اصل تعلیمات کا بہت تھوڑا حصہ رہ گیا تھا.

اس موقع پر میں آپ سے  پچھلے صحیفوں کے بارے میں کچھ شئیر کرنا چاہتا ہوں. بنیادی طور پر عبرانی بائبل اور نئے عہد نامے کے بارے میں،  یعنی جو تعلیمات ابتدائی طور پر موسیٰ علیہ السلام کو تورات میں دی گئیں اور پھر انجیل جو عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی یہ دو بنیادی کلام ہیں جو نازل کیے گیے. .اگرچہ داؤد علیہ السلام کو زبور دی گئی پر دو اہم کلام تورات اور انجیل ہیں. تورات کے بارے میں بات کرتے ہیں.
تورات کسے دی گئی؟ موسیٰ علیہ السلام کو. موسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر جاتے ہیں اللہ کے سامنے اور یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اللہ سے بات کرتے ہیں. جب وہ اللہ سے بات کرتے ہیں تو سب سے پہلی چیز جو اللہ پاک انہیں بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ الله کہتا ہے
   إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى (15)  طہ
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے (دھیان سے سنیں) میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے. 
گھڑی کا کیا مطلب ہے؟  قیامت کا دن. سب جانتے ہیں. تو موسٰی کو بتایا جاتا ہے کہ قیامت کا دن قریب آ رہا ہے مگر میں (اللہ)  اسے تقریبًا مخفی رکھ رہا ہوں یعنی کچھ علامات ہیں مگر میں سب علامات تمہارے سامنے نہیں عیاں کر رہا.
لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى
تاکہ ہر ایک انسان کو اس کی کوشش کے مطابق دیا جائے.
اس آیت کو آپ کے سامنے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو دی جانی والی ابتدائی تعلیمات میں سے پہلی تعلیم یہ ہے کہ قیامت کا دن قریب آ رہا ہے اور اللہ نے کہا کہ قیامات کی کچھ علامات ہیں اور اللہ نے یہ بھی کہا کہ قیامت کے دن سب سے اہم کام اس دن کا یہ ہو گا کہ ہر انسان کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے گا.
اب جب آپ یہودیوں کی روایات پر نظر ڈالیں اور اگر آپ کچھ صدیاں حتٰی کہ عیسی علیہ السلام  سے بھی پہلے کے زمانے میں چلے جائیں تو یہودیوں کی بہت سی روایات ابھی بھی دہرائی جارہی ہیں .آپ کو پتا چلے گا کہ یہودی اصل میں دو بڑے مذہبی فرقوں میں بٹ گئے تھے.
the Sadducee and pharisees
(صدوقی اور فریسی)

 شاید آپ نے ان کے بارے میں پہلے نہ سنا ہو، میں بھی اسکی گہرائی میں نہیں جاؤں گا میں بس آپ کو ایک مجموعی جائزہ دینا چاہتا ہوں یہ بہت دلچسپ مواد ہے اور یہ آپ کو اس آیت کی پذیرائی کے کام آئے گا. اس (موضوع) کو آپ سے بیان کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ یہ آپ کو اس آیت کی تعلیمات کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد کرے گا.
یہودی عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے پانچ،چھ یا اس سے بھی زیادہ صدیوں پہلے دو گروہوں میں بٹ چکے تھے. صدوقی بنیادی طور پر اپنے قبلے کے رکھوالے تھے.ان کا قبلہ کیا ہے؟ یروشلم.
 یہ مذہبی لوگ بھی تھے.  یہ لوگ رسموں پر عمل کرتے , عبادات کرتے تھے. ان کا ماننا تھا کہ پورے مذہب کا بنیادی مرکز اپنی عبادت گاہ  (کنیسہ) کی عبادت کرنا اور اس کے سامنے قربانیاں کرنا تھا. اور مزے کی بات کہ یہ صدوقی آخرت کو نہیں مانتے تھے. وہ مانتے تھے کہ وہ مٹی میں تبدیل ہو جائیں گے اور یہی آخری انجام ہے. اسکے بعد کوئی زندگی نہیں. یہ اللہ کے گھر کے رکھوالے جو آخرت میں یقین نہیں رکھتے تھے.
دوسرا گروہ فریسیوں کا تھا.  یہ لوگ راہب (ماہر/استاد) تھے. آجکل  راہب یا آرتھوڈاکس یہودی پائے جاتے ہیں. ان کے آباؤاجداد فریسیوں میں سے تھے. وہ لوگ قیامت کے دن پر یقین رکھتے تھے اور وہ تورات کے اس حصے پر بھی یقین رکھتے تھے جو لکھا نہیں گیا تھا بس زبانی کلامی ان تک پہنچا تھا. یہ ایک چھوٹا مگر اہم گروہ تھا جو آخرت پر  یقین رکھتا تھا. لیکن آپ کو معلوم ہے کہ یہ لوگ ہر ایک نفس کے لیے آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے. یہ سمجھتے تھے کہ لوگوں کا نہیں بلکہ  قوموں کا مجموعی محاسبہ ہو گا. سو آخرت کا بہت مختلف تصور تھا ان کے درمیان. کیا یہ وہ تعلیمات ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کو اس رات اللہ کی طرف سے دی گئی تھی؟ بالکل نہیں . تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ صدیوں کی طویل مدت میں بہت کچھ بدل چکا تھا. حتٰی کہ جو گروہ آخرت کا تصور رکھتا تھا وہ تصور ہی بے ڈھنگا تھا.
جب ان کی عبادت گاہ کو تباہ کیا گیا. بہت سی دشمن قومیں آئیں اور انہوں نے یہودیوں کی عبادت گاہوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور یہودیوں کو جلا وطن کر دیا. کونسا گروہ یقین رکھتا تھا کہ ان کا مذہب مندر کے گرد گھومتا ہے؟ صدوقیوں کا. تاریخ دان کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا  تقریبًا صفایا ہو گیا تھا .اور جو باقی بچے تھے وہ دوسرا گروہ فریسیوں کا تھا جو آخرت کا کچھ تصور رکھتے تھے اگرچہ بہت کمزور.
اگر آپ عبرانی بائبل کو پڑھیں تو آخر تک اپ کہیں  آخرت، یوم القیامت ،جنت کا یا ایسی کسی  چیز کا کوئی ذکر نہیں پائیں گے. جو کہ قرآن کا مرکزی تصور ہے. کیا آپ ایسا سوچ بھی سکتے ہیں؟ قرآن میں ہر دوسری جگہ کسی نا کسی طرح آخرت کے متعلق ہی ذکر  ہے. اور یہودیوں کی روایات میں تو یہ تقریبا ناپید ہو چکی ہے.
پھر دوسری کتابیں ہیں جیسے کہ بک آف جوب (ایوب علیہ السلام) یا پھر بک آف اکلیزیاسٹیس (سلمان علیہ السلام) جو کہ سیدھا سیدھا کہتی ہے کہ ہم مٹی میں مل جائیں گے کوئی آخرت نہیں ہے. ان کی کتابوں میں آخرت سے مکمل انکار کیا گیا ہے کہ آخرت جیسی کوئی چیز ہی نہیں ہے. اگرچہ  الله کے حکم سے یہ تصور زبانی رسومات میں بہت تھوڑا ہے مگر پھر بھی ہے ور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے کچھ عرصہ پہلے اس نے واپس اپنا رستہ بنایا اور آہستہ آہستہ یہودیوں کے کچھ گروہوں نے آخرت کی زندگی پر یقین کرنا پھر سے شروع کیا. درحقیقت بائبل یا بائبل کے نام سے جو بھی مواد ہمارے پاس ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ عیسٰی علیہ السلام نے صدوقیوں سے اس بارے میں مناظرہ بھی کیا. یاد رکھیں کی صدوقی وہ تھے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے. عیسیٰ علیہ السلام ان سے آخرت کے وجود کو لے کر بحث و مباحثہ کرتے ہیں.  تو عیسیٰ علیہ السلام اصل میں اس وقت کے مسلمانوں سے بات کرتے ہیں جو آخرت میں یقین نہیں رکھتے. دوسرے لفظوں میں ہمارے عقیدے  کی بنیاد اللہ پر ایمان، وحی پر ایمان اور آخرت پر ایمان ہے. ان تینوں میں سے سب سے زیادہ جسے انہوں نے بھلا دیا، نظر انداز کیا یا خراب کیا وہ آخرت پر ایمان ہے. اب آپ اس آیت کی حکمت کو سراہیں گے.
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ
اب جو ہمیں بھیجا گیا اور جو ہم سے پہلوں پر بھیجا گیا اس میں اللہ پر ایمان، انبیاء کے قصے، قوانین، احکامات شامل ہیں. مگر الله پاک نے اس آیت کے آخر میں تمام عقیدوں..... میں سے کس پر زیادہ زور دیا؟ 
وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ.
یعنی خاص طور پر جب بات آتی ہے حتمی زندگی کی تو وہ مکمل یقین رکھتے ہیں.وہ مکمل طور پر اس بات پر یقین رکھتے ہیں.
در حقیقت بائبل میں یا جو بھی اس کا ایسا حصہ باقی رہ گیا ہے جس پر ہم انحصار کر سکتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے جنت کا لفظ استعمال کیا ہے جسے بائبل میں فردوس بھی کہا گیا ہے. جیسا کہ میں نے بتایا یہ تصور  کچھ صدیوں پہلے ہی اس (قوم) میں پھر سے زندہ ہوا تھا ان کے پاس دو حوالے ایسے تھے جو قرآن سے مماثلت رکھتے تھے "گیہینا" اور "گین" . جہنم کے لیے "گیہینا" اور جنت کے لیے عبرانی لفظ گین ہے. یہ دونوں الفاظ دوبارہ سے شامل (زندہ) ہوئے. پر تب بھی یہ بہت غیر واضح معنی رکھتے تھے. قرآن میں جو الفاظ ہیں جنت وغیرہ کے لیے وہ یا ان الفاظ سے مماثلت نہیں رکھتے. 
اس لیے جب وہ اس کتاب کے قریب آئے تو جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ تکلیف/غصے میں ڈالا وہ آخرت کا ذکر تھا. یہی ایسی چیز (تصور) تھی جس کا ان پر تقریبًا کوئی اثر نہیں تھا یا بہت غیر واضح تھا. ان کی سوچیں ایسی تھیں کہ ہم (مرنے کے بعد) بھوت نما شکل کے ہوں گے یا سایہ نما ہوں گے اور جسم کو نہیں اٹھایا جائے گا مگر بس روح کو . اور ان میں افلاطون کی فلاسفی کے بھی اثرات پائے جاتے تھے کہ ہمارے جسم تو سڑ ،مر جاتے ہیں تو ہم کیسے پھر سے اٹھیں گے. شاید کچھ روحیں باقی رہ جاتی ہوں اور جسم ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے. ہم جانتے ہیں کہ جسم بھی اٹھائیں جائیں گے. یہ ہمارا ایمان ہے.
میں آج جس چیز کے ساتھ نتیجہ پر پہنچنا چاہتا ہوں وہ ہے آخرت پر ایمان.  کہ انسان کو موت کا تجربہ کرنا ہی ہے اور اس دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جو قبر میں شروع ہو جاتی ہے. اور وہ زندگی جب صور پھونکا جائے گا تب ایک اور شکل لے گی اور آدم کی اولاد پھر سے اٹھے گی اور ان کا باری باری کر کے فیصلہ کیا جائے گا ہر اس چیز کے لیے جو انہوں نے کیا اور تب وہ اس رستے پر چلیں گے جو یا تو انہیں جنت لے جائے گا یا جہنم کی طرف.یہ زندگی کا تمام دور ، جس پر مسلمان پہلے سے یقین رکھتے ہیں، ہر بچہ جانتا ہے.  الله پاک نے اِس قرآن پاک کو اُس ایمان کو واپس بحال کرنے ، آخرت میں ایمان کو زندہ کرنے کو بھیجا.
ان دو منٹ میں، میں آپ سے اس آیت کی اہمیت شئیر کروں گا. اللہ پاک نے اس سے پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو بالغیب پر ایمان لاتے ہیں.
یُؤمِنونَ بِالغَیبِ
وہ غیب کے کس حصے کو بھول بیٹھے تھے؟  وہ آخرت کو بھول گئے تھے. اور جب وہ آخرت کو بھول گئے تب اعمال کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟  آپ اچھے کام کیوں کرتے ہیں؟  آپ برے کاموں سے کیوں رکتے ہیں؟ آپ کے پاس کوئی اصل مقصد نہیں رہ جاتا جب آپ آخرت پر ایمان ہی نا رکھیں. تب کیا إقامة الصلاة ہو پائے گی؟  اگر اپ آخرت کا کوئی تصور نہیں رکھتے  یا نماز چھوڑنے جیسے اعمال کے نتائج کا نہیں سوچتے تو کیا آپ نماز پڑھنے کی پرواہ کریں گے؟  نہیں.  اور جب آپ خرچ کریں گے (کچھ بھی) اور یہ ایمان نہیں رکھیں گے کہ خرچ کرنا آپ  کو دنیا اور آخرت میں بھلائی دے گا تو خرچ کرنے کا کیا تصور باقی رہ جاتا ہے؟
تقویٰ کی بنیاد ایمان بالغیب،  نماز قائم کرنا اور خرچ کرنا ہے.  یہ سب غائب ہو جاتا ہے اگر آخرت کا تصور غائب ہو جائے. یہ ہمارے ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے. ہمارا ایمان اسی سے جُڑا ہوتا ہے.
 وَبِالاٰخِرَةِ همْ یُوْقِنُوْنَ
اب دیکھیں لفظ "یومنون" استعمال ہوا ہے ان کے پاس ایمان تھا. اور آخر کار "یوقنون" استعمال ہوا "یقین". "یقین" کا عربی میں مطلب ہے " مکمل ثبوت،یقین رکھنا" . ان تمام چیزوں میں سے جن پر وہ ایمان لاتے ہیں ایک چیز جو وہ کبھی نہیں بھولتے وہ ہے آخرت کی زندگی. اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خیال.
اور اس شعوری کوشش کے ساتھ انشاء اللہ و تعالی جیسے جیسے ہم یہ سورہ پڑھیں گے آپ اس سورہ کا مختلف رنگ دیکھیں گے . کیونکہ یہ لوگوں کے اس گروہ سے مخاطب ہے جو آنے والی زندگی کے بارے میں بھول چکے ہیں. قرآن کے طالبعلم کا ایک مقصد یہ سمجھنا بھی ہے کہ اللہ تعالی کیسے سب کچھ قرآن میں ایک طرح یا دوسری طرح سے وہ سکھاتا ہے جو ہمیں اللہ سے ملاقات کی یاس دلاتا ہے. یہ زندگی اللہ سے قرب پانے کے لیے ہے اور اگلی زندگی وہ ہے جب آپ  آخرکار قرب پا لیں گے. تو یہ زندگی دراصل اگلی زندگی کی تیاری کے لیے ہے جب ہمیں اصل میں اللہ سے ملنا ہے، ہر نماز قیامت کے دن کے لیے ایک یاد ہے،  ہر جمعہ کا اجتماع یوم الحساب کی طرح ہے ،حج اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی ریہرسل ہے جیسے ہم قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے. اسلام میں عبادت کا ہر ایک  عمل ہمیں کسی نہ کسی طرح اللہ تعالی کے سامنے اس دن کھڑے ہونے کی یاد دلاتا ہے .
اللہ پاک ہم سب کو اس دن کھڑے ہونے کی تیاری کی توفیق دے.آمین

-نعمان علی خان
جاری ہے