تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ ہشتم

حصہ ہشتم

  آج کل امریکہ میں لوگوں کی سہولت کے لیے ہفتہ وار کورسز کرائے جاتے ہیں کہ وہ آرام سے ہفتہ و اتوار کو  دینی تعلیم حاصل کر سکیں. یہ بہت آسان ہے. آپ کے پاس موبائل کی سہولت موجود ہے، تیز ترین انٹرنیٹ موجود ہے، آپ جب چاہیں موبائل پر ویڈیو دیکھ سکتے ہیں. اور آپ کسی بھی موضوع کا انتخاب کر سکتے ہیں. آپ کو مسجد جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی. حتٰی کہ آپ اسکالر بھی چن سکتے ہیں، جس سے آپ سیکھنا چاہتے ہیں. اور آسانی سے جب آپ کا دل چاہے،تو  کسی ایک موضوع کو چھوڑ کر دوسرے موضوعات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں. جب حصولِ تعلیم کی بات ہو تو ہم پُر آسائش دور میں جی رہے ہیں لیکن اللہ تعالٰی نے اگر آپ کو علم عطا کیا ہے تو یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے آپ کے کندھوں پر. آپ کا کام ہے کہ حصولِ علم کو ان کے لیے آسان بنائیں جن کے لیے علم کا دروازہ ابھی تک کھلا ہی نہیں. وہ لوگ جو بہت مصروف ہیں، جن کے پاس بالکل وقت ہی نہیں ہے.آپ کو وہ بننا ہے جو اسے ان کے لیے آسان بنا سکے.  بجائے اس کے کہ آپ انہیں کمتر سمجھیں، کہ" دیکھو یہ وہ لوگ ہیں جو تجوید سیکھنے نہیں آتے، علم حاصل کرنے نہیں آتے، دیکھو یہ پیسہ کمانے کی دوڑ میں اس قدر مصروف ہیں. "
نہیں بالکل نہیں! آپ کا فرض ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ انتظار کریں کہ وہ آپ کے پاس آئیں، آپ کو ان کے پاس جانا چاہیے. آپ کو ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے . یہ آپ کی معاشرتی ذمہ داری ہے. وہ تمام لوگ جو جس بھی لیول پر حصول علم میں کوشاں ہیں، انہیں اپنے ارد گرد لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہونا چاہیے .

میں نے پہلے بیان کیا کہ أولئك هم المفلحون یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح پا گئے.
آپ غور کریں تو دونوں گروہوں کو آخرت پر ہر حال میں ایمان لانا ہو گا. و بالآخرة هم یوقنون. جو بھی قرآن پر اور اس سے پچلی آسمانی کتابوں پر ایمان لائے اس کے لیے آخرت پر ایمان لانا بھی لازم ہے. حتٰی کہ لفظ "المفلحون " میں بھی عقیدہ آخرت کی طرف اشارہ ہے.
جب ہم آگلی آیات پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے جیسے موضوع بدلنے کو ہے. پچھلی آیات میں اہل ایمان کا تذکرہ تھا لیکن اگلی دو آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو ایمان نہیں لاتے. وہ لوگ جو اہل ایمان کے بالکل الٹ ہیں، وہ لوگ جو منکرین میں سے ہیں. اس سے پہلے کہ میں ان پر بات کروں میں اللہ تعالٰی کے کلام کی خوبصورتی کے متعلق کچھ بتانا چاہوں گا. شروع کی پانچ آیات اہل ایمان کی شان میں کہی گئیں.  ان میں سے پہلی آیت حروف مقطعات پر مشتمل تھی.  لیکن باقی کی آیات میں موضوع واضح ہے.  تو ہم نے شروع کیا

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾

ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾

الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾

اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾


اب غور کریں پہلی آیۃ کا آغاز " ہُدًی" سے ہوا، تو آغاز ہوا ہدایت  سے رہنمائی سے .کیسے؟
ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ

 اور آختتام بھی "ہُدًی " پر ہی ہوا.

اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾

اور درمیان کی آیت اہل ایمان کے متعلق ہے .

الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾

تو اہل ایمان کے لیے  "ہُدًی " آغاز میں بھی ہے اور اختتام پہ بھی. ہدایت و رہنمائی اول و آخر. اور ایمان درمیان میں.  یہ پرفیکٹ سمٹری ہے.  کلام الٰہی میں پرفیکشن ہے. جو ان تھوڑی سی آیات میں بھی ظاہر ہے.  میں صرف کلام الہی کی خوبصورتی و پرفیکشن کی نشاندہی نہیں کرنا چاہ رہا. بلکہ اس کا ایک اور پہلو بھی ملاحظہ فرمائیں. آغاز میں استعمال کردہ "ہُدًی " کا اختتام پر موجود "ہُدًی " سے موازنہ کریں.  دوسری آیت دوبارہ پڑھیں
 ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
یہ کتاب کس کے لیے ہدایت ہے؟  ہدًی للمتقين.  اہل تقوی کے لیے.   یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ صرف متقین کے لیے ہے؟  یہ سب کے لیے نہیں ہے؟  مجھے تو لگا کہ یہ سب کے لیے ہدایت و رہنمائی ہے. کیونکہ اسی سورۃ میں آگے جا کر جب رمضان کا ذکر ہے تو اللہ تعالٰی فرماتے ہیں  ہدی للناس، ہدایت تمام انسانوں کے لیے.  تو یہ قرآن میں دو متضاد باتیں لگتی ہیں. کہ ایک طرف قرآن میں کہا گیا ہے اس میں ہدایت ہے متقین کے لیے. ان لوگوں کے لیے جو نہایت احتیاط سے پھونک پھونک کر زندگی گزار رہے ہیں. اور دوسری طرف ارشاد ہوا کہ یہ قرآن، تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے. اب ان دونوں باتوں کو اکٹھا کیسے لیا جائے؟
میں آپ کو بتاؤں لغت میں اس بات کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہ وہ ہے جس پہ قرآن غوروفکر کرنے کو کہتا ہے.  آپ قرآن کو سطحی طور پر نہیں پڑھ سکتے. کیونکہ اللہ تعالٰی آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتے ہیں. سبحان اللہ.
 آپ غور کریں کہ قرآن، تمام انسانیت کے لیے ہدایت ہے یا نہیں؟ بالکل ہے!  لیکن وہ کون لوگ ہیں جو قرآن سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟  متقین.!   کوئی کالج پڑھنے جاتا ہے. پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ یہ کتاب آپ سب کے لیے نہایت فائدہ مند ہے. اس میں آپ سب کے لیے فائدہ ہے مگر آخر میں یہ انہی کو فائدہ پہنچائے گی جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں.  تو یہ قرآن ہدًی للناس  (تمام انسانوں کیلیے ہدایت) ہے اگر آپ اسے چنتے ہیں.  لیکن اللہ تعالٰی نے بتا دیا کہ آخرت میں اس سے وہی فائدہ اٹھائیں گے جو متقین میں سے ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالٰی نے قرآن کو تمام انسانیت کے لیے ہدایت و رہنمائی بنا کر نازل کیا. بے شک اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ تمام انسانیت کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ متقین میں شامل ہو جائیں. مجموعی طور پر ہم سب الناس میں سے ہیں.  تو سب کے پاس یہ سنہری موقع ہے لیکن اگر آپ واقعی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ آپ متقین میں شامل ہو جائیں. اللھم اجعلنا منھم.

اب اگلی آیت کی طرف چلتے ہیں. جو پچھلی آیات سے بالکل مختلف ہے.

        اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے۔

قرآن اپنے کانٹیکسٹ کے لحاظ سے بہت اعلٰی ہے.  قرآن کے بارے میں آجکی بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ ہم اسے سطحی طور پر پڑھتے ہیں. اس آیت میں ارشاد باری تعالٰی ہے کہ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور عمومی تاثر یہ ہے کہ جب اللہ تعالٰی کفار کی بات کرتے ہیں تو وہ  غیر مسلمین کی طرف اشارہ کرتے ہیں .  وہ ان کے بارے میں کہہ رہے ہیں جو غیر مسلم ہیں اور اللہ تعالٰی غیر مسلموں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
                 سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ( یہ استغناف ہے).
ان کے لیے برابر ہے.  انہیں فرق نہیں پڑتا.
           ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ
      چاہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ.
              
              لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
         وہ ایمان نہیں لائیں گے.

اس آیت کا ترجمہ و تشریح عموماً کس طرح کی جاتی ہے؟     کہ غیر مسلم کبھی ایمان نہیں لائیں گے چاہے تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو. وہ بس ایمان  نہیں لانے والے.  وہ کھو چکے ہیں.

کیا اس آیت کی یہ وضاحت درست ہے؟ نہیں! بالکل نہیں.

"سورت البقرہ آیت نمبر 6- "ان الذين كفرو سوا ء عليهم ءانذرتهم ام لم تنذر هم لا يؤمنون

تر جمہ : کافروں کو آپ (صلي الله عليه وسلم) کا ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے , یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے.
اس آیت کی بارڈر لائن  یہ ہے کہ کیا تمام  غیر مسلم/منکرین اسلام برابر ہیں؟  کیا غیر مسلم کبھی بھی اسلام میں داخل نہیں ہوں گے؟  نہیں , بلکہ وہ اسلام میں کسی بھی وقت داخل ہو سکتے ہیں. اب ہم کیسے اس کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں؟
الله تعالی نے اس طریقے سے بات کیوں کی ہے؟ صرف ایسے کیوں نہ کہہ دیا؟
کہ "ان الذین کفرو لا یؤمنون." بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ کبھی ایمان نہیں لانے والے.
امام الرازی، صاحب الکشاف ، امام ابن کثیر اور دیگر بہت سے آئمہ کرام نے کہا ہے کہ الله تعالی نے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے.
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا. کیا اس کا مطلب ہے کہ یہاں تمام منکرین اسلام کا ذکر ہے؟
اگر آپ زیادہ توجہ نہ کریں تو اس کا یہی مطلب نکلتا ہے. لیکن ہماری دانائی اور ذہنی ترقی کی ساری تاریخ یہ کہتی ہے کہ یہ آیت تمام کافروں کیلئے نہیں ہے.
آپ اکثر اوقات کہتے ہیں ناں کہ لوگوں نے میری بڑی دل آزاری کی ہے. تو کیا اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کرۂ ارض پر پائے جانے والے تمام انسانوں نے ؟  نہیں، ہر گز نہیں. آپ کا مطلب ہوتا ہے کچھ لوگوں نے. بعض اوقات آپ کسی کلاس سے بہت زیادہ مایوسی والی حالت میں باہر آتے ہیں. اور کہتے ہیں کہ طلبہ بہت بے وقوف ہیں. آپ طلبہ کے روئیے سے مایوس ہوتے ہیں. اب کیا آپ کا مطلب 'تمام طلبہ' ہے؟  نہیں بلکہ آپ کا اشارہ کسی خاص کلاس کےطلبہ کے کسی مخصوص گروپ سے ہے. جنھوں نے غلط طرز عمل اپنایا کلاس میں.
ان تمام باتوں میں ہم عام جنرل زبان استعمال کرتے ہیں. یہ حقیقت میں اپنی فرسٹریشن ظاہر کرنے کا ایک انداز ہے. الله  تعالی نے یہ نہیں کہا کہ میں کافروں کے ایک مخصوص گروہ کا ذکر کر رہا ہوں.
بلکہ الله تعالی ناراضی والی ٹون میں بات کر رہے ہیں. (الذين كفروا)
ابن کثیر فرماتے ہیں: کہ یہ یہود کےلیڈرز کی بات ہے. جو حق کو پہچاننے کے بعد چھپاتے ہیں. یہ تمام منکرین کی بات نہیں ہے.
صحابہ کرام (رضوان الله)کا بھی یہی خیال تھا. کہ یہ آیت خصوصی طور پر یہود کمیونٹی کے ان لیڈرز کے بارے میں ہے، جو اسلام کے بد ترین دشمن تھےاور حق بات کا جانتے بو جھتے انکار کر رہے تھے۔
"ولا تلبسو الحق بالباطل وتکتمو الحق وانتم تعلمون"  (البقرہ۔42)
ابن عباس (رضی اللہ) جو مفسر قرآن ہیں. ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ آیت  نمبر 6  تمام منکرین کیلئے نہیں ہے. ان کے ذہن میں بھی یہی بات تھی کہ یہ یہودی کمیونٹی کے سرداروں کے بارے میں تھی.
 یہ بات آپ اُس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ کتاب کے تحریری اور تاریخی متن سے واقف نہ ہوں. جب تک آپ قرآن کے تمام ٹرانزیشن پیریڈ کو نہ سمجھیں.
آئیے ہم دیکھتے ہیں : کفار کے دو گروہ تھے:
۱- ایک وہ جو مکہ میں تھا، اور وہ لوگ اتنے زیادہ منکر تھے کہ رسول الله (صلى الله عليه وسلم )کو نعوذ باللہ مار ڈالنا چاہتے تھے، اور آپ جان بچا کر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے. جب قرآن ان لوگوں کو مایوس کن گروہ قرار دیتا ہےتو کسی حد تک بات سمجھ میں آتی ہے.
۲-دوسرا وه گروہ جو مدینہ میں تھا. الله جن کفار کا اس آیت میں ذکر کر رہے ہیں وہ یہی مدینہ کے کفار ہیں. انہی سے یہ آیت منسوب کی جاتی ہے.

ابن عباس رضي الله کہتے ہیں کہ یہ لوگ یہود کمیونٹی کے سردار ہیں. جو قرآن کا پیغام سمجھتے تھے. قرآن میں بیان کردہ ہر بات کو وہ ایسے سمجھتے تھے جیسے انسان اپنے بچوں کو پہچانتا ہے. لیکن یہ لوگ نہ صرف مسلمانوں کے بد ترین دشمن بن گئے تھے. بلکہ وہ کفار مکہ کے ساتھ مل کر محاذ قائم کر رہے تھے. مسلمانوں کے خلاف حقیقتا ہنگامہ آرائی میں مشغول تھے. یہ بھی  "الذین کفرو "ہیں.
لیکن "کفار مکہ" اور "کفار مدینہ" دو مختلف کیٹگریز ہیں. یہاں اس فرق کو سمجھنا بہت اہم ہے.
1- کیا کفار مکہ پہلے سے وحی کے بارے میں جانتے تھے؟ بالکل نہیں . سو جب انھوں نے وحی، آخرت اورایمان کو رد کیا تھا تو کس وجہ سے کیا تھا؟  جہالت کی وجہ سے یا تکبر کی وجہ سے ؟  ان کے انکار کی وجہ "جہالت" تھی.
2- اب ہم کفار مدینہ کی طرف آتے ہیں. کیا یہ لوگ وحی کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے؟  جی ہاں. انہوں نے تو اپنی الہامی کتب کو فالتو سمجھ کے چھوڑ دیا تھا. انہوں نے اپنی کتب میں آخرت سےانکار کیا تھا. وہ پیغمبروں کا انکار کرتے تھے. انہوں نے پچھلے پیغمبروں کو جھٹلایا اور قتل کیا تو پھر وہ حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم پر بھلا کیسے ایمان لاتے.  ہم ان یہود سے کیسے یہ توقع کر سکتے تھے.  میرا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ تو پہلے ہی نسلی غرور کی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم سے نفرت کرتے تھے، کہ وہ ان کی نسل سے نہ تھے. وہ اپنی کتب کے ساتھ کیا کچھ نہ کر چکے تھے.
انھوں نے اپنے کفر کا مظاہرہ صرف نبی پاک کے سامنے ہی نہیں کیا بلکہ وہ تو اپنی کتابوں میں ایسا کرنے کے عادی تھےاس لئے ان کا اب پھر انکار حیرانی کا باعث نہیں ہے. وہ اپنے کفر میں پختہ ہو چکے ہیں. اب ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا کسی بھی فکر میں مبتلا نہیں کرتا.
اچھا تو پھر کیا چیز ان کو حقیقتًا پریشان کرتی ہے؟ 
آخرت کا ذکر. ان لوگوں نے "آخرت" کو اپنی کتب سے مٹانے کی بہت کوشش کی. لیکن قرآن پاک ان کو اسی بات کے ساتھ نشانہ بنا رہا تھا..
سورت البقرہ( آیت 96 )میں ہے:
" ولتجدنهم احرص الناس على حياة ومن الذين اشركو يود احدكم لو يعمر الف سنة وما هو بمزحزحه من العذاب ان يعمر والله بصير بما تعلمون "
ترجمہ : اے نبی ! زندگی کیلئے سب سے زیادہ حریص آپ ان کو ہی پائیں گے. یہ حرص دنیا میں مشرکوں سے بھی زیادہ ہیں. ان میں سے ہر شخص ہزار سال سے بھی زیادہ عمر چاہتا ہے. یہ عمر دیا جانا بھی ان کو عذاب سے نہیں بچا سکتا. الله ان کے کاموں کو خوب دیکھ رہا ہے.

وہ جتنا اس آخرت کے ٹاپک سے بھاگ رہے تھے، الله اتنا ہی اس کو ڈسکس کر رہے تھے. ذرا یہاں اس آیت 6 کا اسلوب دیکھئے. الله کہتے ہیں:
"ء انذرتھم " آپ تنبیہہ کریں یا نہ کریں.  پیغمبر صرف تنبیہہ کیلئے نہیں ہیں. بلکہ خوشخبری،دعوت،تبلیغ کیلئے بھی ہیں. الله تعالی نے "ءادعوتھم" (تبلیغ کریں ) "ءابشرتھم" ( خوشخبری دیں ) یا "ءعلمتھم" (تعلیم دیں ) جیسے بہت سے ممکنہ الفاظ کیوں استعمال نہیں  کئے؟  الله پاک نے وارن کرنے کا لفظ ہی کیوں استعمال کیا ہے؟
کہ "ان کو وارن کرنا اور نہ کرنا برابر ہے.انھوں نے یقین نہیں کرنا ".
لفظ وارننگ ( تنبیہہ ) کے استعمال کا کیا مقصد ہے؟
  وارننگ "سزا اور نتائج "سے متعلقہ لفظ ہے.  خصوصا آخرت پر ایمان لانے یا نہ لانے کے نتائج . اس آیت کی زبان بہت زیادہ مربوط ہے. یہ آیت انھی لوگوں سے متعلق ہے جو آخرت کے منکر ہیں.
مجھے یاد آرہا ہے کہ یہی چیز سورت بنی اسرائیل( الاسرآء) میں بھی دہرائی گئی ہے. جو کہ ایک مکی سورت ہے. آیت نمبر 9-10
"ان هذا آلقرآن يهدى للتى هى اقوم ويبشر المومنين الذين يعملون  الصلحت ان لهم اجرا كبيرا" ۹
"وان لذين لا يو منون بالاخرة اعتدنا لهم عذابا اليما" ۱۰
ترجمہ : یقینا یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہےاور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں،اس بات کی خوشخبری دیتا ہے،کہ ان کیلئے اجر عظیم ہے،اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے.

اس لئے اس نکتہ کو آرام سے نہیں جانے دینا چاہئے.
ہم دوبارہ کفار مکہ کی طرف آتے ہیں. (یہ بات ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئے ) مکہ کے لوگ قرآن پاک کے پہلے وصول کنندہ ہیں. وہ دو تہائی قرآن وصول کر چکے تھے.  پیارے پیغمبر (صلی الله علیہ وسلم ) نے اپنی زندگی کا بہت زیادہ حصہ مکہ میں گزارا ہے. یعنی پیغمبر منتخب ہونے سے پہلے کا سارا وقت بھی. اور بعد میں بھی بارہ تیرہ برس کا  عرصہ. آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس ایمان لانے کا بہترین موقع تھا. ان کے پاس کرۂ ارض پر موجود کسی بھی قوم سے بڑھ کر موقع تھا، کہ وہ الله تعالی کا دین قبول کرلیتے. لیکن انھوں نے نہیں کیا. بلکہ وہ نبی پاک کو نعوذ باللہ قتل کرنے کے درپے تھے. یہ بد ترین جرائم میں سے تھا. اس لئے اب اگر الله  یہ کہیں کہ ان منکرین سے کوئی امید باقی نہیں ہے. تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے. لیکن نہیں.
مکہ چھوڑنے کے کوئی چھ سات سال کے بعد، حضور پاک پُر امن طریقے سے حج ادا کرنے کیلئے واپس تشریف لائے. (یہ صلح حدیبیہ کے موقع کا ذکر ہے۔) اُس وقت بھی مکہ والے  آپ (صلی الله علیہ وسلم )پر حملہ آور ہوئے. اور مارنے کی کوشش کی. لیکن وہ اپنے مکروہ عزائم میں ناکام رہے. مسلمانوں کو بہت زیادہ غصہ آیا. تب حضرت عثمان (رضی الله) مکہ شہر میں تشریف لے گئے تاکہ معاملات طے کئے جاسکیں. غلط فہمیاں دور کی جاسکیں. لیکن ان کو پکڑ کر ایک گھر میں نظر بند کر دیا گیا. یہاں مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ آپ رضی الله کو شہید کر دیا گیا ہے. مسلمان تو محض ارادۂ حج  سے آئے تھے. کوئی ایذا رسانی ان کا مقصود نہ تھا. اب اگر ان کے سفارت کار کو مار دیا گیا ہے. اس سے قبل وہ ان کے پیغمبر کو مارنے کی کوشش بھی کر چکے تھے. تو اس وقت رسول الله نے سب سے ایک حلف لیا کہ حضرت عثمان( رضی الله ) کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے جنگ کی جائےگی. اس صورت حال میں پُرامن مسلمان جنگ کیلئے تیار ہوگئے. اسی دوران حضرت عثمان (رضی الله )کیمپ کی طرف واپس آتے دکھائی دئیے. انھیں صحیح سلامت دیکھ کر غصہ کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی.
یہاں اس بات کو بیان کرنے کا کیا مقصد ہے؟  اس کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت ایک آیت نازل ہوئی. جس نے مجھے ہلادیا.  اگر اس وقت مسلمان مکہ پر حملہ آور ہو جاتے تو کیا ہوتا ؟  اگر مسلمان جنگ کی نیت سے مکہ میں داخل ہو جاتے تو کیا ہوتا؟
مکہ کے لوگ کون تھے؟  میں پہلے ہی آپ کو بتا چکا ہوں کہ وہ اسلام کے بد ترین دشمن تھے. ان لوگوں نے زیادہ تر قرآن سنا تھا. انھوں نے پیغمبر کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا. وہ کسی بھی رعائیت کے مستحق نہ تھے. بلکہ ان کے خلاف ان سے کچھ زیادہ ہی ہونا چاہئے تھا۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔
دیکھئے الله عزوجل  سورت الفتح (آیت 25)میں کیا فرما رہے ہیں :

ﻫُﻢُ ٱﻟَّﺬِﻳﻦَ ﻛَﻔَﺮُﻭا۟ ﻭَﺻَﺪُّﻭﻛُﻢْ ﻋَﻦِ ٱﻟْﻤَﺴْﺠِﺪِ ٱﻟْﺤَﺮَاﻡِ ﻭَٱﻟْﻬَﺪْﻯَ ﻣَﻌْﻜُﻮﻓًﺎ ﺃَﻥ ﻳَﺒْﻠُﻎَ ﻣَﺤِﻠَّﻪُۥ ۚ ﻭَﻟَﻮْﻻَ ﺭِﺟَﺎﻝٌ ﻣُّﺆْﻣِﻨُﻮﻥَ ﻭَﻧِﺴَﺎٓءٌ ﻣُّﺆْﻣِﻨَٰﺖٌ ﻟَّﻢْ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻫُﻢْ ﺃَﻥ ﺗَﻄَـُٔﻮﻫُﻢْ ﻓَﺘُﺼِﻴﺒَﻜُﻢ ﻣِّﻨْﻬُﻢ ﻣَّﻌَﺮَّﺓٌۢ ﺑِﻐَﻴْﺮِ ﻋِﻠْﻢٍ ۖ ﻟِّﻴُﺪْﺧِﻞَ ٱﻟﻠَّﻪُ ﻓِﻰ ﺭَﺣْﻤَﺘِﻪِۦ ﻣَﻦ ﻳَﺸَﺎٓءُ ۚ ﻟَﻮْ ﺗَﺰَﻳَّﻠُﻮا۟ ﻟَﻌَﺬَّﺑْﻨَﺎ ٱﻟَّﺬِﻳﻦَ ﻛَﻔَﺮُﻭا۟ ﻣِﻨْﻬُﻢْ ﻋَﺬَاﺑًﺎ ﺃَﻟِﻴﻤًﺎ

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے.

 درحقیقت مکہ میں ایسے لوگ موجود تھےجن کے ایمان لانے کا دوسرے لوگوں کو علم نہ تھا. وہ ان سب کے درمیان رہتے ہوئے خاموشی سے پانچ وقت کی نماز ادا کر رہے تھے. مگر کیسے؟ محض اپنی آنکھوں کے اشارے سے. اپنی فیملیز کے ساتھ رہتے ہوئے وہ  سجدہ نہیں کر سکتے تھے. لیکن وہ الله پر ایمان رکھتے تھے  شرک  کو چھوڑ چکے تھے۔لیکن ابھی تک کسی کو بتایا نہ تھا. انھوں نے پیغمبر کے ساتھ ہجرت نہ کی تھی. کبھی غزوات میں حصہ نہ لیا تھا. غزوہ بدر،احد ،احزاب کسی میں بھی شریک نہ ہوئے تھے. لیکن وہ مسلمان تھے. ان میں مرد اور عورتیں دونوں شامل تھے. انھوں نے اپنی جان کے خوف سے کسی کے سامنے کبھی اعتراف نہ کیا تھا. حتٰی کہ دوسرے مسلمان بھی ان کے ایمان لانے کے بارے میں لاعلم تھے.
الله چاہیں تو ان میں سے کسی کو بھی اپنی رحمت میں داخل کرسکتے ہیں.  بھلا میں یہ سب کیوں بیان کر رہا ہوں؟  ویسے تو مکہ کے لوگوں کے بارے میں سب کو واضح ہے کہ وہ کفار ہیں. الله ان کو کبھی ہدایت نہیں دے گا. وہ سزا کے مستحق ہیں. یہاں تک کہ پیغمبرکی تبلیغ  کے آخری دو تین سالوں کی بات آگئی ہے.
ابھی بھی الله فرما رہے ہیں کہ : ہو سکتا ہے ان میں سے کسی کو اللہ نے اپنی رحمت میں داخل کرنا ہو. ہو سکتا ہے ان میں کوئی ایمان لانے والا ہو.
اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب بھی قرآن میں "الذین کفرو" کا ذکر آئے تو اس کو اس کے متن کے ساتھ دیکھا جائے. "کفرو" زیادہ تر ان لوگوں کیلئے استعمال ہو رہا ہے جو بہت ضدی اور بد ترین ہیں. یہ لفظ محض عام غیر مسلم کیلئے نہیں ہے. یہ ضدی ترین لوگوں کیلئے ہے. یہ کوئی نرم لفظ نہیں ہے. جب الله کسی کو کافر کہتے ہیں تو یہ بد ترین لفظ ہے.
"خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں برابر ہے"
آپ کو معلوم ہے کہ پہلی آیات میں ایمان والوں کا جو گروپ بیان ہوا ہے،اس میں ایمان لانےوالے اور جن کے اندر ایمان کا پوٹینشل موجود ہے دونوں شامل ہیں. یعنی تقوی والوں کو بھی قرآن نے کھول کر بیان کر دیا ہے. خواہ وہ متقی لوگ ،عیسائی ہیں یا یہودی ، مگر اپنے دلوں میں تقوی رکھتے ہیں. اور وہ ابھی بعد میں شہادت دینے والے ہیں. لیکن قرآن ان کے بارے میں پہلے ہی تحریری شہادت دے رہا ہے. سورت القصص
آیت نمبر 53…انا کنا من قبله مسلمين  (ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں )
قرآن کہہ رہا ہے کہ اپنی شہادت سے پہلے ہی وہ مسلمان ہیں. کیونکہ وہ پوٹینشلی مسلمان ہیں . اسلام ہمیشہ سے ان کے سینوں میں موجود تھا.
 ہمیں چاہئے کہ ہم معاملات کو ذرا سادہ نظر سے دیکھیں. کیونکہ ایسے تو بہت سارے مسائل پیش آسکتے ہیں. پہلا مسئلہ تو یہ ہو سکتا ہے: کچھ لوگ مسلمان ہیں لیکن ان کی فیملیز غیر مسلم ہیں. وہ لوگ فیملی کے متعلق پریشان ہیں.  ان کے بارے میں سوال کر رہے ہیں.  تو کیا ان کیلئے یہ جواب آیا ہے ؟
"ان الذین کفرو سواء علیھم ءانذرتھم  ام لم تنذرھم لا یومنون"
کیا ہمارا دین یہ کہہ رہا ہے کہ اگر تمہاری فیملی غیر مسلم ہے۔تمہاری والدہ کرسچین ہے تو تم ان سے محبت کرنا چھوڑ دو. ان کی عزت نہ کرو وغیرہ.
یہ ہم کس طرح کا زہر لوگوں کے اندر بھر رہے ہیں؟  کیا ہمارا دین ہمیں یہ سیکھا رہا ہے کہ نان مسلم سے محبت نہیں کرنی چاہئے؟    کیا یہ الله کی کتاب کی تعلیمات ہیں کہ جو اللہ کو نہیں مان رہے ان سے محبت کرنا چھوڑ دو؟
 تاریخ میں موجود ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کے والد مشرک تھے. تو کیا ابراہیم علیہ سلام ان سے محبت نہ کرتے تھے؟  یہاں تک کہ آخر میں الله  نے ان سے کہا کہ اب ان کو چھوڑ دو اور ان کیلئے مزید استغفار کرنا بند کر دو.
کیا نوح علیہ سلام کو اپنے بیٹے سے محبت نہ تھی؟  950 سال کی عمر تک کیا انھیں اپنی فیملی سے محبت نہ تھی؟
آخر کار ان پر بھی الله  نے خود ہی سب کچھ واضح کر دیا اور کہا کہ یہ تمہارا خاندان نہیں ہے.
الله نے ان کو 100-200-500 سال پہلے کیوں نہ بتا دیا؟  اتنا آخر میں جا کر کیوں بتایا؟
یہ ہمارے ہاں کس قسم کی تبلیغ ہوتی ہے؟  جب لوگوں سے کہا جاتاہے کہ اگر آپ ایمان والے ہیں تو غیر مسلمز سے نفرت کریں. اگر وہ آپکی فیملی میں سے ہیں تب بھی. یہ آپ کس قسم کی تعلیم لوگوں کو دے رہے ہیں؟
یہ انتہائی مضحکہ خیز/بے معنی بات ہے.
یہ الله  کا دین ہے. اس کو انسانیت کیلئے پھیلانا ہے. اگر ہم غیر مسلمز سے نفرت کرنے لگ جائیں گے تو یہ مقصد کیسے پورا ہو گا؟  جو شخص اسلام قبول کرتا ہے، وہ کس طرح اپنے آپ کو تمام انسانیت سے کاٹ کے الگ کرسکتا ہے، ان تمام لوگوں سے جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا. یہ دین اسلام تمام بنی نوع انسان کیلئے ہدایت و رہنمائی کا تحفہ ہے. حضرت آدم  علیہ سلام سے کہا گیا تھا کہ آپ کی اور آپکی اولاد کی طرف ہدایت آئیگی. آپ کے تمام بچوں کیلئے. ان میں عیسائی ،ہندو، یہود،مسلمان، ملحد سب شامل ہیں. اس گفٹ آف گائیڈنس کو دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ کون ہے؟ مسلمان. تو پھر مسلمان سے یہ توقع کیوں کہ وہ غیر مسلم سے نفرت کرے؟
حضرت محمد (صلی الله علیہ وسلم )ایک دفعہ ایک یہودی کے جنازہ گزرنے پر کھڑے ہوجاتے ہیں. صحابی کہتے ہیں کہ حضور پاک (صلی الله علیہ وسلم )یہ تو یہودی تھا. آپ (صلی الله علیہ وسلم  ) نے فرمایا: کیا یہ آدم کا بیٹا نہ تھا؟
دیکھئے ہمارے پیارے نبی تو انسانیت کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں.
الله فرماتے ہیں: "ولقد کرمنا بنی آدم "  (بنی اسرائیل۔70)
             ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی.
قرآن میں کفار سے نفرت ضرورکی گئی ہے مگر سب سے نہیں. کفار کی تذلیل کی گئی ہے مگر سب کی نہیں. صرف ان لوگوں کی ، جو دین کے بد ترین دشمن تھے. وہ جن کی نفرت اور زہر فشانی ظاہر تھی. وہ جو مسلمانوں کیلئے مشکلات کھڑی کرتے تھے.

-نعمان علی خان

جاری ہے......

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں