ہفتہ, جولائی 26, 2014

آج کی بات ۔۔ 26 جولائی 2014



ﻧﮧ ﮨﺮ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮﻧــﮯ ﻭﺍﻻ ﺧﻄﺎﻭﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮬـــﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ۔ ﯾﮧ ﺻﻔﺖ ﺗﻮ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬـــﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭼﮭــﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﭘﺎﻧــﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ.

منگل, جولائی 15, 2014

آج کی بات۔۔۔ 15 جولائی 2014


ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﺭﮦ ﺳﮑﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺗﻨﺎ
 ﻇﺮﻑ ﮐﮧ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﯿﮟ

سوموار, جولائی 14, 2014

شیطان کے ممکنہ حملے



آج کا آرٹیکل اسلئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں شیطان کے ممکنہ حملوں کا ذکر ہے کہ انسان کا نفس کب کہاں پاتا ہے وہ . جی ہاں نفس کوئی ایک مخصوس حصے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ آپکے ہر عضو میں پایا جاتا ہے آپکا دل دماغ ہاتھ پیر غرض ہر حصّے کا ایک نفس اور ایک ضمیر ہے ، بعض اوقات ہم دل کے نفس پر قابو پا لیتے ہیں اور دماغ والے سے ہار جاتے ہیں لہٰذا آج تفصیل سے اس پر بات ہوگی ..
جیسا کہ میں نے پہلے پچھلی اقساط میں بیان کیا کہ ابلیس انسان سے زیادہ عمر والا اور تجربہ کار ہے۔ اس نے انسان کو تخلیق ہوتے ہوئے دیکھا ہے اور ہمیں احادیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ جب انسان کا پُتلا بے جان پڑا ہوا تھا تو یہ خبیث اس وقت بھی اس پُتلے کی تحقیر کر تا تھا۔ جسم کے نچلے حصے سے داخل ہو کر منہ سے نکل آتا تو کبھی منہ میں داخل ہوکر نچلے حصے سے باہر آتا۔ٹھٹا کرتا وغیرہ وغیرہ۔ اس کو ہماری کمزوریوں کا بھی علم ہے اور ہماری طاقت اور مضبوطی کا بھی۔اسے علم ہے کہ ہماری کن چیزوں کو چھیڑ کر وہ ہمیں غلط کاموں پر اکسا سکتا ہے اور ہماری کون سی چیزیں ایسی ہیں جن سے ہمیں غافل کردے تو ہم اپنی طاقتوں کا استعمال نہیں کر سکتے۔ اللہ جل شانہ نے انسانی جسم کو اچھائی اور برائی دونوں کے حصول کے قابل بنا یا ہے۔شیطان کو علم ہے کہ ہمارے سفلی جذبات کہاں بھڑکتے ہیں اور روحانی بالیدگی کہاں سے حاصل ہوتی ہے۔ہماری انہی کمزوریوں کو چھیڑتا ہے اور ہمیں اپنا گرویدہ بنائے رکھنا چاہتا ہے تاکہ ہم لذت اور آرام کے حصول کی خاطر اس کے غلام بنے رہیں اور وہ ہمیں بھٹکاتا ہوا وہاں تک لے جائے جہاں جا کر وہ اللہ کی بارگاہ میں یہ کہہ سکے کہ اے مالک میں نے کہا تھا کہ یہ اس قابل نہیں ہے کہ تیری نیابت کرسکے۔
آئیے اب ہم اپنے جسم پر ایک نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ شیطان ہم پر قابو پانے کے لیے ہم پر کہاں کہاں حملے کرتا ہے۔

( الف )جسم کے سب سے نچلے دھڑ پر حملہ یعنی جنسی حملہ۔
 جنسی جذبہ اللہ نے انسان کی افزائش نسل کے لیے رکھا ہے اور اس میں مزہ انسان کو اس کی طرف راغب کرنے کے لیے عطا کیا ہے۔ اس میں لذت بھی ہے اور تخلیق کی کارروائی میں حصہ لینے کا خوش آئند احساس بھی۔ یہ ایک بڑا ہی شدید اور انتہائی طاقت ور جذبہ ہے۔ اگر یہ جذبہ اللہ کے احکامات کے مطابق نکاح کے قیود میں رہے تو کنٹرول میں بھی رہتا ہے اور اللہ کی طرف سے انعام اور روح کی بالیدگی کابھی ذ ریعہ بن جاتا ہے۔ اور پھر یہ کہ انسانی معاشرے کے نقوش بھی اسی سے خوبصورت اور خوشنما ہوتے ہیں۔ اگر میں آپکو آج کے دور کے حوالے سے بتاؤں تو جیسا کہ ہم سب بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ تنہائی میں شیطان بہت تیزی سے حملہ آوڑ ہوتا ہے اسلئے مومن کو "پاک تنہائی" والا کہا گیا ہے ، پر یہ اتنا آسان نہیں ہوتا کہ اپنی تنہائی پاک رکھی جا سکے اور پھر مغرب کی تقلید میں "پرائیویسی" کے نام پر بچوں اور بچیوں کو ایک طرح سے مکمل تنہائی میسر کردی گئی ، مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہمارے والدین کی ہم پر ہر وقت نظر ہوتی تھی ایک لگی بندھی زندگی تھی رات نو بجے تک سلا دیا جاتا تھا ٹی وی جہاں رکھی ہوئی ہوتی تھی وہ ایسی جگہ تھی کہ جہاں تمام گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر ڈرامہ دیکھا کرتے تھے صرف ایک یا دو چینل ہوئے کرتے تھے ، پر آج نہ صرف بچوں کے کمرے میں الگ ٹی وی ہیں اور کمپیوٹر ہیں بلکہ مہنگے موبائل دے کر شیطان کا کام اور بھی زیادہ آسان کردیا گیا آج آپ باوجود کوشش کے اپنے بچوں کے ہر عمل و حرکت پر نظر نہیں رکھ سکتے . اسی سلسلے میں جب سینٹرل جیل کراچی جانا ہوا تو جنسی جرائم میں ملوث قیدیوں سے بات کر کے معلوم پڑا کہ ان میں سے اکثریت گناہ کرنے سے پہلے موبائل یا ٹی وی پر فحش مواد دیکھ رہے تھے اورپھر شیطان کے اشتعال نے انہیں درندگی کی حد تک گرا دیا۔
 .
( ب )جسم کے درمیانی حصے یعنی پیٹ پر حملہ۔ 
اللہ پاک کا حکم ہے کہ حلال اور پاک چیزیں کھاؤاور حرام سے اجتناب کرو۔ اللہ نے ہر دور میں حلال اور حرام میں امتیاز قائم رکھا ہے اور واضح ہدایات دی ہیں۔ حلال کھانا حلال ذرائع سے کمایا ہوا حلال مال عطا کر تا ہے۔ یہ جسمانی ترقی ، روحانی بالیدگی اور معاشرتی حسن پیدا کرتا ہے۔ ابلیس نے پہلے تو حرام مال کمانے پر لگا یا اور پھر پیزا ، میکڈونلڈ ، ہارڈیز ، کے ایف سی اور دیگر نشہ آور اور نقصان دہ چیزوں کی طرف راغب کردیا۔ اور ان کے حصول کے لیے حیلوں بہانوں سے لالچ دلائی کہ وہ رشوت، حرام خوری وغیرہ سے ان کو حاصل کرے۔ میرے باوا جی کہتے ہیں " جہانگیر پتر انسان جو بھی کھاتا ہے اسکی ذات میں اس شے کے خواص آنے لگتے ہیں جیسے شراب کے خواص میں بہادری اور بےشرمی شامل ہے اسلئے تو دیکھے گا کہ شراب پینے کے بعد بزدل سے بزدل آدمی خود کو شیر سمجھنے لگتا ہے اور بےشرمی کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے ماں بہن کی بھی تمیز نہیں رہتی ہے ، مغرب والے اگر بےغیرتی میں عروج پر پہنچے ہوئے ہیں تو صرف انکی خوراک دیکھ وہ شراب پیتے ہیں وہ سور کھاتے ہیں اب سور کے خواص اور ان انسانوں کے خواص میں کیا فرق ہے جو بہن بھائی کے پاکیزہ رشتے پر بھی گندی نظریں ڈالنے سے باز نہیں آتے۔
 "
( ج )جسم کے اہم حصے دل پر حملہ۔  
ہمارا دل حق کی آماجگاہ ہے۔ حق جو عدل ہے ، محبت ہے ، عقل ہے ، عزت ہے اور انسان کی بلندگی اور شرف کی علامت ہے۔آج کے دور میں ہم ان تمام چیزوں سے مکمل طور پر عاری ہوگئے ہیں۔ہم ترقی کی دوڑ میں ایسے بگٹٹ بھاگے جارہے ہیں کہ دوسروں کا دل توڑنا ، دوسروں کی عزتوں کو پامال کرنا ، کوئی مشکل نہیں۔ صرف اپنا فائدہ سب سے اہم ہے۔ اس لیے کہ ابلیس کے نظام میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ 'آپ بھلا توجگ بھلا'۔  محبت ، رواداری ، نرمی ، اخلاص ، اکرام ، ذاتی اغراض سے بالا ہوکر دوسرے کے لیے کچھ کر دینا اب اس معاشرے میں مشکل ہوتا جارہا ہے۔اس کے ساتھ ہی ہماری آنکھیں حق کو دیکھنے سے عاری ہوتی جارہیں۔ہم اللہ کے بتائے ہوئے اصول معاشرت سے دور ہوتے جارہے ہیں پتھر دل ہوتے جارہے ہیں۔ باوا جی کہتے ہیں " جہانگیر پتر آنکھیں حق دیکھنے سے عاری کبھی نہیں ہوتی ہیں آنکھوں کا کام دیکھنا ہے اور وہ بس دیکھتی ہیں پر اسکے دیکھے کو حق اور ناحق میں تولنا دل کے فلٹر کا کام ہے دل ہی حق اور باطل کی سوچ کو الگ الگ کر کے دماغ تک پہنچاتا ہے جو دل ہی پتھر ہوجاۓ کیا وہ کبھی حق اور باطل میں انصاف کرےگا ؟ اسلئے اپنے دل کو پاک رکھ اور قرآن پاک میں دیکھ کے الله پاک نے اندھا گونگا بھرا انہیں نہیں کہا جو آنکھ زبان یا کان سے محروم ہیں بلکہ یہ انہیں ہی کہا ہے جنکے دل کالے ہو چکے ہیں اگر دل کالا ہوجاۓ تو آنکھ کان زبان سب بیکار ہیں کہ وہ کبھی حق کی طرف نہیں جایئں گے۔
 "
( د )جسم کے بالائی حصہ حلق پر حملہ۔ 
ہمارا حلق جو ہمیں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے ابلیس اس کو خاموش کرانا چاہتا ہے۔ ہزاروں برسوں سے ہم اپنی محبت ، شفقت ، نفرت ، غصہ سب کا اظہار اپنی زبان اور حلق سے کرتے چلے آئے ہیں مگر آج کے ابلیسی نظام کے تحت حلق کا استعمال کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔ آج ہم اپنے جذبات دوسروں تک پہنچانے کے لیے انٹر نیٹ کا سہارا لیتے ہیں ، ایس ایم ایس کرتے ہیں ، کسی سے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے اس کے نام ایک گانا نشر کرا دیتے ہیں یا پھر پھول اور کارڈ بھیج دیتے ہیں۔یوں ہم آہستہ آہستہ اپنے ہی خول میں بند ہوتے جارہے ہیں۔ دوسروں سے سروکار رکھنے کا سلسلہ ختم ہورہا ہے۔ خاموش رہو خوش رہو۔ اپنے خول میں بند ہوجانے اور اپنے ارد گرد کے حالات سے غیر دلچسپی شیطان کے اپنے حق میں بہت بہتر ہے۔ انسانیت کمزور پڑتی ہے اور متحدہ محاذ نہیں ملتا۔ باوا جی کہتے ہیں " پتر اپنی بات اپنی آواز میں پہنچایا کر بعض اوقات لکھے الفاظ بولے الفاظ کا نعمل بدل نہیں ہو سکتے تو دیکھنا اگر تو کبھی کسی بہت اپنے سے ناراض ہوجا تو اسکے کسی اور کی طرف سے لاکھ پیغام پر تو جواب نہیں دے گا پر جب اسکی آواز تیرے کان میں پہنچے گی تو بے اختیار تو اس طرف دیکھنے پر مجبور ہوگا . آوازوں کی فریکوئنسی ہوتی ہے جو مختلف دلوں پر مختلف اثر کرتے ہیں جیسے تو ایک بھیڑ میں ہے ہزاروں آوازیں ہوں گی پر انہی ہزاروں آوازوں میں سے ایک تیری ماں کی آواز ابھرے گی تو سب بھول کر تیرے کان کھڑے ہوجائیں گے اور تو بے اختیار اس طرف نظر دوڑا دے گا . اسلام کی تبلیغ کرتے وقت کفار حضور پاک ﷺ کے پاس سے کان بند کر کے گزرا کرتے تھے کہ اگر انکی آواز کان میں پڑ گئی تو کہیں ہم مسلمان نہ ہوجائیں . خود سوچ جہانگیر پتر سوہنے محبوب جاناں ﷺ کی آواز آئے اور دل نہ پگھلے یہ بھلا ممکن ہے ؟ 
 "
( ذ ) تخلیق کے شاہکار دماغ پر حملہ۔
 انسانی دماغ جو سوچ ، فکر ، عمل اور اختیارات کا منبع ہے اس پر حملہ کرکے ابلیس نے اس کو پراگندہ کر دیا ہے۔ وہ دماغ جو اپنی فطری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے خود اپنے اور اپنے خالق کے درمیان رابطے اور سمجھنے کا ایک آلہ ہے اس کو ایسا بے کار اور پراگندہ کر دیا ہے کہ اب یہ دماغ صرف وہ سنتا ہے جو میڈیا سناتا ہے ، وہ دیکھتا ہے جو میڈیا دکھا تا ہے، وہ جانتا ہے جو میڈیا سمجھاتا ہے۔اس کی اپنی ذاتی سوچ اور فکر کی صلاحیتیں معدوم ہو گئی ہیں نتیجہ کے طور پر قوت فیصلہ اور قوت ارادی بھی کمزور پڑ گئی ہے۔اللہ سے رشتہ کاٹ کر یہ سمجھایا جارہا ہے کہ دنیا میں نفرت ، قتل و غارت گری، بدامنی اور پراگندگی صرف مذہب کی وجہ سے ہے۔ مذہب نفرت کرنا سکھاتا ہے اور مخالفین کو مٹا دینے کا سبق دیتا ہے۔اس لیے دنیا کو ایک ایسی اکائی میں تبدیل کردیا جائے جس میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہ ہواور اسی کی بنیاد پر معاشرہ قائم کیا جائے۔ پھر ہر طرف امن و سکون ہوگا، چین و اطمینان ہوگااور ہر انسان خوب ترقی کرے گا۔ہر ایک کو شخصی آزادی ہو جس کا جو دل چاہے کرے۔ یہی سوچ اور یہی تربیت آج کل دی جارہی ہے اور دماغ کو اس پر راضی کیا جا رہا ہے۔ اس بات سے توجہ مکمل طور سے ہٹا لی گئی ہے کہ مذہب انسان کو قوانین و ضوابط کا پابند کرتا ہے اور ایک ایسی زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے جہاں برابری ہو اور بہتر مستقبل اللہ کی حاکمیت اور اس کے بتائے ہوئے راستوں کے ذریعہ حاصل ہو۔آج کے اس دجالی سوچ کے زیر اثر تاریخ انسانی کے بہترین دور یعنی دور خلافت راشدہ کی کوئی بات نہیں کرتاجہاں امن بھی تھا بھائی چارہ بھی تھا، سکون بھی تھا اور انصاف بھی تھا۔ جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت بھی ہوتی تھی۔ ہر کوئی برابر تھا چوری رہزنی بھی نہیں تھی، تجارت آزاد اور شفاف تھی۔ یہ ہمیں آج سکھا رہے ہیں اور سمجھا رہے ہیں کہ تاریخ انسانی کا زریں دور رومیوں یونانیوں کی حکومتوں میں تھا۔ وہ ہمیں روسی سوشلزم کے طریقہ کار کو سمجھا رہے ہیں برطانیہ کی جمہوریت کا سبق دے رہے ہیں اورامریکی صدارتی نظام حکومت پر انگشت بدنداں کررہے ہیں۔ مگر جو ہر لحاظ سے بہترین دور انسانی حکومت تھا اس کا کوئی تذکرہ کیوں نہیں ہوتا۔اس لیے کہ انہیں معلوم ہے کہ خلافت راشدہ کا نظام جس دم قائم ہوگیا شیطان کا پھیلا یا ہوا سودی نظام دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گا۔

سب سے خطرناک حملہ ( روح پر حملہ)
ہماری روح کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ امر ربی ہے خواہ مسلمان کی ہو یا کافر کی۔ انسانی تخلیق کی انتہا اسی روح کا افضل ترین درجہ پر پہنچ جانا ہے۔ روح کا یہی عروج انسان کو اللہ کا نائب بن جانے کے درجہ کا حق دار بنا دیتا ہے۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ اور اس کے برحق رسولوں کی لائی ہوئی شریعت اور تعلیمات پر عمل در آمد ہو۔ اللہ کی نازل کی ہوئی کتابوں سے ہدایت اور روشنی حاصل کرکے اپنی زندگیوں کو ان ہی اصولوں پر استوار کر لیا جائے اور یہی کام ابلیس نے ہونے نہ دیا۔ اس نے سب سے پہلے اللہ کی کتابوں کو غائب کرا دیا اور اس کی جگہ لوگوں سے دوسری کتابیں لکھوادیں تاکہ اللہ کے احکامات سے انحراف ہو جائے اور انسانیت اپنے راستے سے بھٹک جائے۔ نہ ہدایت ہو ، نہ روشنی ہو ، نہ راستہ نظر آئے نہ کوئی سیدھے راستے پر چلے۔ یہی اس کا مطمح نظر تھا۔ انسانی روح کو نیچے گرانے کا ایک اور ذریعہ ذکر سے دوری ہے۔آج ہماری کتاب ہدایت اپنی اصل حالت میں اللہ کے حکم سے موجود ہے۔ الحمد للہ۔ ابلیس اس کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے دوسری چال چلی اور ہمیں ایسا بھٹکا یا کہ کتاب کی موجودگی کے باوجود ہم نہ اس کو کھول کر پڑھیں نہ سمجھیں نہ ہدایت پائیں۔ نہ فکر کریں نہ ذکر کریں۔ ہم لوگوں نے فکر اور ذکر کو یکسر بھلا دیا ہے۔ اس کی یہ خوبی ہے کہ یہ انسان کو اللہ کے نزدیک کردیتا ہے، سوچ کے اوپر قابو پانا سکھاتا ہے ، اُن معاملات کی سمجھ بوجھ عطا کرتا ہے جو سرسری طور پر سمجھ میں نہ آتے ہوں، انسانی ذات میں نکھار پیدا کرتا ہے اور اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تعلق کو واضح کرتا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ہر بڑے آدمی نے ذکر و فکر وغیرہ کے عمل کے ذریعہ بلندی حاصل کی۔ مگر ہم نے ان اعمال کو فضول سمجھ کر ان سے پیچھا چھڑا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک کو زبان کی تسبیح بنالینے اور سوچ کا محور کرلینے سے روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ بقول باوا جی کہ " جب جب آپ جسمانی چیزوں سے خود کو دور کرتے جاؤ گے آپکی روحانیت مضبوط ہوتی جاۓ گی آپ جسم کے لئے اپنا غرض چھوڑیں گے تو آپکی روح میں بے لوثیت آئے گی آپ جسم کا بدلہ چھوڑو گے تو روح میں صبر آئے گا . آپ جسم کے لئے دنیاوی مال چھوڑو گے تو روح میں حق کا کلمہ پڑھنے کی طاقت آئے گی .
اگر اسکے برعکس آپ دنیاوی مال کی طرف جاؤ گے تو آپکی روح سے شکر ختم ہوتا جاۓ گا آپ بدی کی طرف جاؤ گے تو آپکی روح کی فکر ختم ہوجانی اور جب آپ ظلم کی طرف جاؤ گے تو روح سکڑ کر جسم کے ایک کونے میں جا چھپتی ایک بوڑھے ٹی بی زدہ مریض کی طرح اور آپ دیکھو گے کہ ایسا شخص جو برائی میں پڑا ہوا ہوگا وہ کبھی بھی تنہائی پسند نہیں ہوگا کہ جب جسم تنہا ہوتا ہے تو روح اسکی تنہائی دور کرتی ہے پر جب روح ہی آنکھیں بند کر کے ایک کونے میں جا چھپی ہو تو تنہائی وحشت میں بدل جاتی ہے اور انسان جو کہ محض ایک جسم ہی رہ گیا ہوتا ہے دنیاوی چیزوں میں ہی نجات ڈھونڈتا ہے اور جہاں دنیاوی چیزوں کی طرف بڑھا سمجھو وہیں شیطان کے گڑھے میں گرا۔ .. "

تحریر: ملک جہانگیر اقبال

حضرت یونس علیہ السلام کامچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنا۔ جدید واقعات و تحقیقات کی روشنی میں




حضرت یونس علیہ السلام کامچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنا۔ جدید واقعات و تحقیقات کی روشنی میں
کاتب: طارق اقبال بتاريخ:

حضرت  یونس ؑ  کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ (موجودہ عراق کا شہر موصل )کی بستی کی ہدایت کے لیے بھیجا۔نینویٰ میں آپؑ کئی سال تک ان کو تبلیغ کی دعوت دیتے رہے ۔مگر قوم ایمان نہ لائی تو آپ ؑ نے ان کو عذاب کے آنے کی خبر دی اور ترشیش (موجودہ تیونس )کی طرف جانے کے لئے نکلے۔حضرت یونس ؑ جب قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے تو قوم نے آپ ؑ کے پیچھے توبہ کرلی ۔ دوسری طرف آپ ؑ اپنے سفر کے دوران دریا کو عبورکرنے کے لیے اسرائیل کے علاقہ یافا میں کشتی میں سوار ہوئے ۔کچھ دور جاکر کشتی بھنور میں پھنس گئی ۔ اس وقت کے دستور اور رواج کے مطابق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جب کوئی غلام اپنے مالک سے بھاگ کر جارہا ہو اور کشتی میں سوار ہوتو وہ کشتی اس وقت تک کنارے پر نہیں پہنچتی جب

تک اس غلام کو کشتی سے اتار نہ لیں ۔
اب کشتی کے بھنور میں پھنسنے پر ان لوگوں نے قرعہ ڈالا جو حضرت یونس ؑ کے نام نکلا۔تین دفعہ قرعہ آپ ؑ کے نام ہی نکلا تو آ پ ؑ نے فرمایا کہ میں ہی غلام ہوں جو اپنے آقا  کو چھوڑ کا جار ہا ہوں۔ آپ ؑ نے خود ہی دریا میں چھلانگ لگادی تاکہ دوسرے لوگ کنارے پر پہنچ جائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کے دل میں القا ء کیا اور حکم دیا کہ حضرت یونس ؑ کو بغیر نقصان پہنچائے ،نگل لے ۔ اس طرح آپؑ مچھلی کے پیٹ میں آگئے ۔یہ آپ ؑ پر ایک امتحان تھا۔
حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ میں جانے کی وجہ سے ” ذوالنون” اور ” صاحب الحوت” کہا گیا ہے کیونکہ نون اور حوت دونوں کا معنی مچھلی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ  ۔۔ ﴿ الانبیاء ۔87﴾
(اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے)
دوسری طرف مچھلی کے پیٹ میں داخل ہونے کے بعد حضرت یونس ؑ نے یہ سمجھا کہ وہ مرچکے ہیں مگر پاؤں پھیلایا تو اپنے آپ کو زندہ پایا ۔بارگاہ الہی میں اپنی ندامت کا اظہار کیا او ر توبہ استغفار کی ،کیونکہ وہ وحی الہی کا انتظار اور اللہ تعالیٰ سے اجازت لئے بغیر اپنی قوم سے ناراض ہوکر نینویٰ سے نکل آئے تھے ۔ پھر مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس ؑ نے اپنی خطا کی یوں معافی مانگی۔
فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿ الانبیاء ۔87﴾
(آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا “نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا )
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس ؑ کی پرسوز آواز کو سنا اور دعا قبول کی تو مچھلی کو حکم ہوا کہ حضرت یونس ؑ کو جو تیرے پاس ہماری امانت ہے ،اُگل دے۔چناچہ مچھلی نے دریا کے کنارے حضرت یونس ؑ کو 40 روز بعد اُگل دیا۔وہ ایسی ویران جگہ تھی جہاں نہ کوئی درخت تھا نہ سبزہ ،بلکہ بالکل چٹیل میدان تھا ،جب کہ حضرت یونس ؑ بے حد کمزور و نحیف ہوچکے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت یونس ؑ نومولود بچے کی طرح ناتواں کمزور تھے ۔آپ  ؑکا جسم بہت نرم ونازک ہوگیا تھا اورجسم پر کوئی بال نہ تھا۔چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت یونس ؑ کے قریب کدو کی بیل اُگا دی تاکہ اس کے پتے آپ ؑ پر سایہ کئے رہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کےبموجب  ایک جنگلی بکری صبح وشام آپ ؑ کو دودھ پلا کر واپس چلی جاتی ،یہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہی تھا ورنہ آپ ؑ ضعیف اور کمزور تر ہوتے چلے جاتے۔(بحوالہ تفسیر روح المعانی ،ابن کثیر)۔ قرآن مجید مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد حضرت یونس ؑ کی حالت کو اس طرح بیان کرتا ہے:
فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ﴿145﴾ وَأَنبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ ﴿146﴾
آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیااور اُس پر ایک بیل دار درخت اگا دیا۔  (الصافات)
آج کئی سو سال بعد جدید سائنس نے اتنی بڑی مچھلی کے موجود ہونے کی تصدیق کر دی ہے اور کئی تحقیقاتی ادروں نے اتنی بڑی مچھلیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ ذیل میں ہم وہیل یا عنبر مچھلی پر چند تحقیقاتی اداروں  کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔
وہیل  مچھلی کے متعلقہ جدید معلومات
ذیل میں  ہم اس آبی جانور کی قامت وجسامت ،اوصاف و خصائل اور مخصوص عادات میں سے چند ایک کا ذکر کرتے ہیں  تاکہ اس معجزے کے وقوع کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ یہ سب اوصاف وخصائص کسی اور قسم کی وہیل یا مچھلی مثلاً شارک وغیرہ میں بیک وقت نہیں پائے جاتے ۔ اس لیے ان میں سے کسی  ایک کا تعلق بھی اس معجزے سے نہیں ہوسکتا ۔
وہیل دراصل دیوپیکر عظیم الجثہ مچھلیوں کے ایک وسیع خاندان کا نام ہے ۔ جس میں بڑی وہیل ،بوتل کی ناک والی وہیل ،قاتل وہیل ،نیلی وہیل ،ڈولفن، پائلٹ وہیل اور ناروہیل شامل ہیں۔ وہیل عام مچھلیوں سے مختلف ہے ۔ ان کے برعکس یہ اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔جی ہاں !یہ پستان رکھنے والا جانور ہے ۔ یہ انسانوں کی طرح پھیپھڑوں سے سانس لیتی ہے،سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا خون گرم ہوتا ہے۔
وہیل کے منہ کے قریب دو نتھنے ہوتے ہیں جو تیرے وقت عموماًسطح سمندر سے اوپر ہوتے ہیں  ۔چناچہ اسے سانس لینے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ۔ یہ خاصی دیر تک گہرے پانی میں رہ سکتی ہے۔انسان صرف ایک منٹ تک سانس روکے ہوئے پانی میں رہ سکتا ہے ۔ حتیٰ کہ تجربہ کار غوطہ خوروں کو بھی جو سمندر کی گہرائی سے سیپ اور موتی نکالتے ہیں  ،ڈھائی منٹ کے بعد سطح پر آنا پڑتا ہے ۔ اس کے برعکس پور کوئیل وہیل ،جس کی پشت پر پَر ہوتے ہیں ،چالیس منٹ اور سپر م وہیل ایک گھنٹے  سے زائد بغیر سانس لیے گہرے پانی میں رہ سکتی ہے ۔ ایک سپرم وہیل سطح سمندر سے 1134 میٹر نیچے گہرے پانی میں پائی گئی ۔ بالین وہیل کسی وجہ سے خو فزدہ ہ ہو تو چار پانچ سو میٹر گہرائی تک غوطہ لگا سکتی ہے ۔
وہیل کی جسامت چارتا سو فٹ اور وزن ایک سو پونڈ تا ڈیڑہ سو ٹن ہوتا ہے ۔ ایک مرتبہ 98 فٹ لمبی وہیل کو تولا گیا تو اس کا وزن ہاتھی کے وزن کے برابر  نکلا۔ اس کی دم ہوائی جہاز کی طرح ہوتی ہے  جس کا ایک سرا اوپر کی سمت اُٹھا ہوتا ہے۔ اس کی جلد شفاف اور چکنی اور منہ کے قریب مونچھوں کی طرح  لمبے لمبےبال ہوتے ہیں۔وہیل کے دانت یکساں اور ایک ہی قطار میں ہوتے ہیں ۔اکثر اسے شکار کو پکڑنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ اس کے لئے تیرے وقت بس اپنا بڑھا سا منہ کھلا رکھنا ہی کافی ہوتا ہے کیونکہ بے شمار مچھلیاں اور دوسرے آبی جانور اپنے آپ اس کاچارہ بننے کے لیے چلے آتے ہیں ۔ اگر دنیا میں وزنی اور بڑی زبان کا مقابلہ کیا جائے  تو نیلی وہیل سرفہرست رہے گی کیونکہ اس کی زبان کا وزن 6 پونڈ کے لگ بھگ ہوتا ہے اور اس میں بے پناہ قوت ہوتی ہے ۔وہیل گینڈےکی طرح بلا کی پیٹو ہوتی ہے اور مسلسل کچھ نہ کچھ کھاتی رہتی ہے ۔

وہیل کا منہ ہی اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس میں بیس ،پچیس آدمی ایک ساتھ بڑی آسانی سے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ مال گاڑی کا ایک ڈبہ وہیل کے منہ میں باآسانی رکھا جا سکتا ہے ۔ کلکتہ کے عجائب گھر میں وہیل کے گال کے دو کھوپڑے ہیں جو 25-30 ہا تھ لمبے ہیں ۔ وہیل کا جسم جتنا لمبا ہوتا ہے اس کا ایک تہائی منہ ہوتا ہے ۔
جسامت کے لحاظ سے وہیل کی ایک قسم جسے نیلی وہیل یا “بلو وہیل ” کہتے ہیں سب وہیلوں سے بڑی ہوتی ہے اس کی  لمبائی 100-125 فٹ تک ہوتی ہے اور وزن 150 ٹن تک ہوتا ہے ۔ عنبر کی اوسط لمبائی 70- 60 فٹ تک ہوتی ہے  اور اس کا وزن 90 ٹن تک دیکھنے میں آیا ہے ۔ نیلی وہیل کے مقابلے میں عنبر کی لمبائی اور وزن کم ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر بیل اور ڈاکٹر بینٹ نے ایک عنبر کی لمبائی 84 فٹ لکھی ہے ۔ ڈاکٹر بیل کے مطابق 36فٹ اور زمین پر لٹانے  کے بعد اس کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 12 سے 14 فٹ ہوتی ہے ۔ عنبر وہیل کے مشہور شکاری بلن نے اپنی مشہور کتاب (Cruise of the Cacgalot)میں لکھا ہے کہ ایک عبنر کی لمبائی جو اس کے مشاہدے میں آئی 70 فٹ تھی ۔ یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ پیدائش کے وقت عنبر کے بچے کی لمبائی تقریباً 13،14 فٹ اور وزن ایک ٹن سے کچھ زائد ہوتا ہے ۔ دو سال میں اس  کی لمبائی 24 فٹ اور وزن 4 ٹن تک ہو جاتا ہے ۔
اس کاحلق بہت فراخ اور وسیع ہوتا ہے  ،جس سے یہ ایک لحیم و شحیم انسان کو با آسانی نگل سکتی ہے  اور بعد میں خاص حالات میں اسے اگل کر باہر پھینک سکتی ہے ۔ اس کے خلق کے نیچے کئی جھریاں (Folds)بھی ہوتی ہیں اور جب اسے معمول سے زیادہ بڑی چیز نگلنا پڑ جائے تو ا س کا حلق جھریوں کے کھل جانے سے وسیع تر ہوسکتا ہے ۔ اور وہ ایک عام انسان کی جسامت سے بڑی اشیاء کو بھی باآسانی نگل سکتی ہے ۔
قرآن کی تین سورتوں میں حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے نگل لینے کا واقعہ آیا ہے ۔  بعض ماڈرن  حضرات  اس واقعہ کی اصلیت کو شک کی نظر دیکھتے ہیں کہ آخر اتنے دن تک آپ ؑ بغیر کھائے پئے چاروں طرف سے بند ایک اند ھیر ی کوٹھری میں زندہ کیسے رہے ؟بات یہ ہے کہ معجزات ہمیشہ محیر العقول ہوتے ہیں ،جن کو دیکھنے اور سننے والے حیران وششدر رہ جاتے ہیں ،ان کو معجزہ کہا ہی اسی لیے جاتا ہے۔ لیکن بحرحال یہ ایک حقیقت ہے اور زیر نظر واقعات ہم اسی حقیقت کے تناظر میں پیش کررہے ہی ۔ ملاحظہ فرمائیں۔
دور نبوی ﷺ میں دیوقامت مچھلی کا وجود
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں :
حضور نبی کریم ﷺ نے ہم تین سو سواروں کو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ کی قیادت میں کسی مہم  پر روانہ فرمایا۔ہم ساحلی علاقے کی سمت نکل گئے اور ہمارا  راشن ختم ہوگیا ۔غذائی کمی اتنی ہوگئی کہ ہم نے کانٹے دار جھاڑیاں بھی کھائیں ۔کیا دیکھتے ہیں کہ سمندر نے ایک بہت بڑی مچھلی ساحل پر پھینک دی  ہے ۔ہم نے اس مچھلی کو آدھ مہینہ کھایا ۔پھر ابو عبیدہ ؓ نے ایک دن اس مچھلی کی پسلی لی اور اس کو کھڑا کیا ، ایک اونٹ پر سوار آدمی آرام سے اس پسلی کے نیچے سے گذر گیا ۔مدینہ واپس آکر ہم نے اس مچھلی کا کچھ گوشت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا اور انہوں نے اسے قبول فرمایا۔
اس مچھلی کو عنبر کا نام دیا گیا ۔اب کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دواؤں میں استعمال ہونے والا عنبر یا عبنر اشہب اسی مچھلی کا فضلہ ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے عنبر کا سراغ نبی ﷺ نے عطا فرمایا ۔ تین سو فاقہ ذدہ سواروں نے اس مچھلی کو صبح وشام 15 دن تک کھایا ۔جب مدینہ آئے تو ان کے تھیلوں میں ابھی بھی اس کا گوشت کا موجود تھا ۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اس میں سے نوش فرمایا کیونکہ سمندر کا شکار حلا ل ہے ۔ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مچھلی وہیل تھی۔
مچھلی کے پیٹ میں جانے کے جدید واقعات
جناب انتظام اللہ شہابی کی کتاب ’’جغرافیہ قرآن‘‘ (مطبوعہ انجمن ترقی ٔاردو، پاکستان) میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی کو حضرت یوسف علیہ السلام کے چھوٹے بھائی بن یامین کا سبط (نواسہ) لکھا ہے۔ اسی کتاب میں ’’مسلم راج پوت گزٹ‘‘ 1928ء کے حوالے سے لکھا ہے کہ ڈاکٹر امروز جان ولسن، فیلو، کوئنز کالج آکسفورڈ(Dr. Imroz John Wilson, Fellow, Queen’s College Oxford)نے حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنے کے بارے میں ایک مقالہ تھیولوجیکل ریویو میں تحریر کیا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ مچھلی کے پیٹ میں سانس لینے کے لئے کافی آکسیجن ہوتی ہے۔ اس کے پیٹ کا درجہ حرارت 104 ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے جو انسان کے لئے بخار کا درجہ ہے1890ء میں ایک جہاز فاک لینڈ (Falkland) کے قریب وہیل مچھلی کا شکار کر رہا تھا کہ اس کا ایک شکاری جیمس سمندر میں گر پڑا اور وہیل مچھلی نے اسے نگل لیا۔ بڑی کوشش سے دو روز بعد یہ مچھلی پکڑلی گئی۔ اس کا پیٹ چاک کیا گیا تو شکاری زندہ نکلا، البتہ اس کا جسم مچھلی کی اندرونی تپش کی وجہ سے سفید ہوگیا تھا۔ چودہ دن کے علاج کے بعد بالآخر وہ صحت یاب ہوگیا۔
1958ء ’’ستارۂ مشرق‘‘ نامی جہاز فاک لینڈ میں وہیل مچھلیوں کا شکار کررہا تھا اس کا ’’بار کلے‘‘ نامی ملاح سمندر میں گرا، جسے ایک مچھلی نے نگل لیا۔ اتفاق سے وہ مچھلی پکڑی گئی۔ پورا عملہ اسے کلہاڑیوں سے کاٹنے لگا۔ دوسرے دن بھی یہ کام جاری تھا کہ مردہ مچھلی کے پیٹ میں حرکت محسوس ہوئی۔ انہوں نے سمجھا کہ کوئی زندہ مچھلی نگلی ہوئی ہوگی۔ پیٹ چیرا تو اس میں سے ان کا ساتھی بارکلے نکلا جو تیل اور چربی میں لتھڑا ہوا تھا۔ بے ہوش بارکلے دو ہفتوں کے علاج سے ہوش میں آیا اور پھر صحت مند ہوگیا۔ اس نے اپنی بپتا سنائی ’’جب میں سمندر میں گرا تو میں نے پانی میں ایک شدید سرسراہٹ محسوس کی جو ایک وہیل مچھلی کی دم سے پیدا ہورہی تھی۔ میں بے اختیار اس کی طرف کھنچا جارہا تھا۔ اچانک مجھے ایک تہ بہ تہ تاریکی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب میں نے اپنے آپ کو ایک نرم مگر تنگ راستے سے گزرتا ہوا محسوس کیا، یہاں حد درجہ پھسلن تھی۔
کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ میں ایک وسیع تر جگہ میں ہوں۔ اردگرد نرم، گداز اور چکنی دیواریں کھڑی تھیں، جنہیں ہاتھ سے چھوا۔ اب حقیقت کھلی کہ میں وہیل کے پیٹ میں ہوں۔میں نے خوف کی جگہ اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کی۔ موت کو لبیک کہنے کو تیار ہونے لگا۔یہاں روشنی بالکل نہ تھی البتہ سانس لے سکتا تھا۔ سانس لینے پر ہر بار ایک عجیب سی حرارت میرے اندر دوڑ جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ کمزور ہوتا چلا گیا۔ اپنے آپ کو بیمار محسوس کرنے لگا۔ میری بیماری ماحول کی خاموشی تھی۔ اس کے بعد کیا ہوا مجھے کچھ معلوم نہیں۔ اب جو میں نے آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو جہاز کے کپتان کے کمرے میں پایا۔ بارکلے کو ہسپتال میں داخل کردیا گیا جہاں وہ مکمل صحت یاب ہوگیا۔
یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو علم اور سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ کئی نامہ نگاروں نے انٹرویو لیا۔ ایک مشہور سائنسی جرنل کے ایڈیٹر مسٹر ایم ڈی پاول نے تحقیقِ احوال کے بعد واقعہ کی تصدیق کی اور لکھا ’’اس حقیقت کے منکشف ہوجانے پر میں تسلیم کرتا ہوں کہ حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق آسمانی کتابوں میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، وہ حرف بہ حرف صحیح ہے اور اس میں شک کرنا ایک زندہ حقیقت کو جھٹلانے کے برابر ہے۔(ماہنامہ ’’الحرم‘‘ میرٹھ (جنوری1959ء) ماخوذ از ’’دیواریں اور غاریں‘‘ از حافظ نذر احمد)
   1992 ء میں آسٹریلیا کا 49 سالہ ماہی گیر ٹورانسے کائس وہیل مچھلی کے پیٹ میں 8 گھنٹے رہنے کے بعد معجزانہ طور پر بچ گیا ۔وہ بحرہند میں ایک چھوٹے ٹرالر پر مچھلیا ں پکڑ رہا تھا کہ سمندر کی ایک بڑی لہر اس کے ٹرالر کو بہا لے گئی ۔ وہ کئی گھنٹوں تک بے رحم لہروں کے چنگل سے آزاد ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا رہا ،لیکن ساحل تک نہ پہنچ سکا ۔ دن کی روشنی تاریکی میں بدل گئی اور اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اسے روشنی کی کرن دیکھنا کبھی نصیب نہیں ہوگی ۔ اسی اثنا ء میں اس نے خو د کو ایک بھنور میں گرفتار پایا ۔ اسے ایسا لگا جیسے دوتین شارک مچھلیاں اس کی طرف بڑھ رہی ہوں لیکن جلد ہی اسے معلوم ہوگیا کہ وہ ایک بہت بڑی وہیل مچھلی کی زد میں ہے جو منہ کھولے اس کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ وہیل نے جلد ہی اسے اپنے منہ میں دبا لیا لیکن یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ جبڑوں میں ہی چمٹا رہا ،مچھلی کے مضبو ط جبڑے اسے معدے میں پہنچانے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ برابر اس کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے ہوئے تھا اور یہی وجہ تھی کہ اسے آکسیجن مل رہی تھی اور وہ ابھی تک زندہ تھا۔ مچھلی کے پیٹ میں 8 گھنٹے گزرے تھے کہ ٹور انسے نے خود کو آسٹریلیا میں آگسا کے ساحل پر پایا ۔ دراصل مچھلی نے اسے نگلنے میں ناکامی پر اُگل دیا اور اس طرح اسے دوبارہ زندگی مل گئی ۔(مقامات انبیاء  کا تصویری البم۔ از مولانا ارسلان بن اختر میمن۔ ص260-267)

Source: http://ranasillia.blogspot.com/2014/07/blog-post_10.html

جمعہ, جولائی 11, 2014

ہمارا دماغ


۔ دماغ آپ کے وجود کا وہ اہم حصہ جو آپ کو چیزیں سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے ۔ آپ اپنے آس پاس کی چیزوں، حالات و واقعات کے بارے میں جو رائے قائم کرتے ہیں وہ اسی دماغ کےکارخانے میں آپ کی تمام حسوں سے گزر کر قائم ہوتی ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ آپ اور آپکا دماغ دو مختلف چیزیں ہیں ۔ مگر اس دنیا فانی کے اندر آپ کا دماغ ہی آپ کے تمام فیصلوں پر حاوی ہوتا ہے جو مادی وجود رکھنے والی ان تمام چیزوں کے بارے میں آپ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ جو آپ کو اس دنیا میں نظر آتی ہیں ۔ آپکا دماغ دو طریقوں سے کام کرتا ہے ۔ ایک کسی بھی چیز کے بارے میں صرف اس حد تک انفارمیشن لے کر فیصلہ کرلیتا ہے جتنی اسے ضرورت ہوتی ہے مثلاً آپ کسی تحریر کے شروع میں ہی فیصلہ کرلیتے ہیں کے وہ آپکے پڑھنے کے لائق ہے بھی یا نہیں یا کسی بھی سوال کے بارے میں صرف مطلوبہ انفارمیشن لے کر جواب حاصل ہوجاتا ہے اگر میں آپ سے پوچھوں کےموسیٰ ؑ طوفان سے پہلے اپنی کشتی میں ہر اقسام کے جانور کتنی تعداد میں لے کر گئے تھے؟ تو اگر آپ کا جواب بھی دو ہے تو یہ سوال دوبارہ پڑھیں۔ اور دوسرا طریقہ جو ہمارا دماغ استعمال کرتا ہے وہ slow thinking کہلاتا ہے جو ہمارا دماغ صرف خاص مواقعوں پر استعمال کرتا ہے جہاں اسے اس کی ضرورت محسوس ہو جیسے اگر میں کہوں 26x36=اب آپکے دماغ کو پتہ ہے اسے آپ حل کرسکتے ہیں لیکن اس کے لئے اسے ٹائم چاہئے وہ ٹائم لے گا اس کام کے لئے ۔ لیکن زیادہ تر آپکا دماغ جو طریقہ استعمال کرتا ہے وہ fast thinking ہی ہے جس میں کسی بھی چیز کو وہ ساری حصوں سے فوراً پرکھ کر فیصلہ قائم کردیتا ہے ، جسے آپ کو ماننا پڑتا ہے اور اسی کے مطابق آپ کوئی فعل انجام دیتے ہیں ۔ لیکن پہلا والا طریقہ ہر معاملے میں صیح نہیں ہوتا اس کی مثال آپ یوں لے سکتے ہیں " جلدبازی شیطان کا کام ہوتی ہے" دماغ کی اس خرابی پر قابو پانے کے لئے مختلف مذاہب کے لوگ yoga, medidation ,vaspana جیسی چیزیں استعمال کرتے ہیں جس سے وہ اپنے دماغ کی اس جلد بازی کی حرکت پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اچانک ملنے والی خوشی پر جو آپکا ری ایکشن ہوتا ہے بعض اوقات آپکو شرمندہ کردیتا ہے ، کسی غمگین خبر پر بھی کچھ اسطرح کا ری ایکشن کرتے ہیں ہم لوگ ، حتیٰ کے غصہ بھی اچانک اور انتہا کا غصہ بھی دماغ کے اسطرح کام کرنے سے آتا ہے ۔ اور ہم اپنے دماغ کے اس طریقہ کام کرنے کی وجہ سے اپنی بہت ساری انرجی ان جذبات کی نظر کردیتے ہیں جس کا کوئی حاصل نہیں ۔ آج سےچودہ سو سال پہلے ہمارے مذہب نے ہمیں اس خرابی پر قابو پانے کے لئے ایک exercise بتا دی ہے جو بیک وقت آپکی بندگی کے ساتھ ساتھ آپ میں صبر اور تحمل مزاجی پیدا کرتی ہے اگر اسے اسکی اصل روح کے مطابق ادا کی جائے تو یہ ورزش آپکے روز مرہ کی زندگی میں لئے گئے تمام فیصلوں میں مددگار ثابت ہوگی ۔ اور آپ میں صبر اور تحمل مزاجی پیدا کر کے آپ کو اس خرابی پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد دے گی اسی ورزش کو کچھ لوگ extremeلیول تک لے جاتے ہیں جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں کیوں کے ایک مقررہ حد کے بعد آپ کا دماغ بہت بری طرح بغاوت پر اتر آتا ہے اور ایک جنگ عظیم آپ کے وجود میں شروع ہوجاتی ہے جس کے آخر میں وہ یا تو مادیت کے غلام بن جاتے ہیں یا بندگی میں کوئی مقام پا لیتے ہیں ، ظاہر ہے آپکا موجودہ وجود ایک مادی وجود ہے جو جو محض کچھ عرصے کیلئے آپکو عطا کیا گیا ہے اس کے بعد آپ اس مادی وجود کے بغیر ایک ابدی زندگی گزاریں گیں تو اس مادی وجود کی ضرورتیں بھی مادی ہے اور انہی ضرورتوں کے تحت آپکا دماغ آپکو فیصلے عطا کرتا ہے ۔


آپکا دماغ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے شعور اور لاشعور ۔ شعور آپ کے دماغ کا بہت چھوٹا حصہ ہوتا ہے جو آپ کے وجود کو وجود مانتا ہے اور اس طرح آپ کے فیصلے کب کیا کرنا ہے کرتا ہے ۔ جب آپ سائیکل چلانا سیکھتے ہیں تو آپکا شعور اس کام میں پیش پیش ہوتا ہے کہ کس طرح بیلنس کرنا ہے کس طرح پیڈل چلانے ہیں کب بریک مارنا ہے کب رفتار تیز کرنی ہے ان سب کاموں میں جب ہم بہتر طریقے سے مہارت حاصل کرلیتے ہیں تو یہ سارا ڈیٹا ہمارے لاشعور میں منتقل ہوجاتا ہے ۔ جب ہم اگلی بار سائیکل کی سواری کرتے ہیں تو کسی خود کار مشین کی طرح آسانی سے انجام دے دیتے ہیں کیوں کہ ہم اب وہ کام اپنے لا شعور سے کررہے ہوتے ہیں ۔ لاشعور ہمارے دماغ کا بہت بڑا حصہ رکھنے والا حصہ ہوتا ہے جس میں آپ کے گرد و نواح کی تمام انفارمیشن خواہ وہ آپ کے کام کی ہوں یا نہ ہو اسٹور ہوتی جاتی ہیں اتنی باریک باریک ڈیٹیل تک آپ کے لا شعور میں منتقل ہوجاتی ہیں جن کے بارے میں آپ شعوری طور پر وہم و گمان تک نہیں کرسکتے ۔ آپ اپنے شعور میں صرف وہ چیزیں ہی لاتے ہیں جن چیزوں کی جس حد تک آپ کو ضرورت ہو باقی سب آپ کے لاشعور میں saveرہتی ہیں جو آپ کے خیالات ، جذبات اور موڈ تک بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر آپ چاہتے ہوئے بھی قابو نہیں پاسکتے ۔ آپ کا لاشعور لاشعوری طور پر بہت ایسی کام کرتا ہے جس میں آپ کچھ نہیں کرسکتے مثلاً آپ کا سانس لینا ، آپ کے دل کا دھڑکنا، کھانے کا ہضم کرنا اور کسی بھی چیز کے متعلق آپ کے جذبات بنانا کوئی انسان کبھی بھی اپنے لاشعور کے متعلق شعور نہیں رکھ سکتا اور اس پر قابو پانا بھی لوہے کے چنے چبانے کے جیسا ہے ۔ آپ کا لاشعور ارد گرد کے ماحول جو آپ دیکھتے سمجھتے سنتے ہیں اس کے مطابق آپ کا سراپا تعمیر کرتا ہے ۔ جیسے اکثر بچپن سے عام طور پر ایک خؤف بچوں میں پایا جاتا ہے کہ وہ اندھیرے سے ڈرتے ہیں ظاہر ہے یہ خوف کوئی پیدا ہونے کے ساتھ تو نہیں لایا ہوگا نہ یہ خوف بچپن سے آپ کے اندر ڈالا جاتا ہے کبھی ماں باپ بھائی بہنوں یا کسی بڑے کی زبانی آپ کو اندھیرے سے ڈرایا جاتا ہےکوئی خؤفناک فلم ڈرامہ دیکھ کر یہ خوف آپ کے اندر سرایت کرجاتا ہے ایک خاص عمل ہوتا ہے hammering کاجس کے مقصد مسلسل ایک چیز بول بول کر آپ کے لاشعور کو یقین دلانا کہ یہ حقیقت ہے مسلسل ایک چیز سن کر ہمارا لاشعور اس بات پر ایمان لے آتا ہے اور جب اندھیرے سے سامنا ہوتا ہے تو غیر محسوس طریقے سے ہم ڈر جاتے ہیں ۔
بس یہی طریقے استعمال کر کے دجالی قوتیں مسلسل اپنا تسلسل قائم کرنے کے لئے بچپن سے ہمارے ذہنوں کے ساتھ کھیلتی رہتی ہیں یہ گھناؤنا کھیل عمر کے اسی حصہ سے شروع ہوجاتا ہے جب ہم اپنی شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہیں۔ جب ہم کارٹون دیکھنا شروع کرتے ہیں کہانیاں پڑھنا شروع کرتے ہیں جن میں اکثر اوقات ایک سپر ہیرو دکھایا جاتا ہے جو مختلف قوتوں کا حامل ہوتا ہے اور دنیا کا مسیحا ہوتا ہے بچپن میں ہر بچہ خود کو کھیل میں اسی مشہور سپر ہیرو سے تشبیہ دینا شروع کردیتا ہے اور اس جیسا بننا چاہتا ہے اور اس سے کافی انسپائر ہوجاتا ہے اور اس سو کے ساتھ بڑا ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسیحا آئگا دنیا کو بچانے والا تو وہ مختلف قوتوں کا حامل ہوگا۔یہ بھی س ہے کہ ہم میں سے تقریباً سب ہی اسی سو چ کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں ۔ جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا کے اندھرے سے حقیقت سامنا کرنے پرہی وہ ڈر ہمارے اندر غیر محسوس انداز سے سرایت کر کے ہمیں محسوس ہوتا ہے تو اس طرح اللہ ہی بہتر جانتا ہے جب کوئی ایسی عجیب و غریب طاقتوں والا ہمارے سامنے آئے گا تو ہم میں سے کتنے غیر محسوس طریقوں سے اس کو نجات دہندہ مان لیں گیں ۔ اور یہ معاملات صرف ہمارے ساتھ نہیں پوری دنیا کی بات کررہا ہوں میں اس فتنہ سے بچاؤ کا واحد بہترین حل وہی hammering کا طریقہ ہے جو ہم خود پر استعمال کرسکتے ہیں اور وہ صرف ہماری روزانہ کی عبادات سے ہمارے ایمان کے پختہ ہونے پر ہی ممکن ہے۔اس طرح فتنوں کے اس دور میں ٹی وی کے ذریعے اور بہت سی چیزیں ہمارے لا شعور میں ڈالی جاتی ہیں جن میں کچھ خاص گانوں میں میں بیک گراونڈ کے الفاظ ہوتے ہیں جو ہمارا شعور تو نہیں سمجھ پاتا لیکن ہماری لاشعور با خوبی saveکرلیتا ہے جو ہمیں تشدد اور فحاشی کی تعلیم دیتا ہے ۔ اگر اسکی مثال ایسے لی جائے کے کچھ عرصے پہلے تک جو چیزیں ہم فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے جیسے نا چ گانے وہ آج کل اکثریت کا معمول ہے فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ایوارڈ شو دیکھنا ایک نہایت معمولی بات ہے ۔ اس طرح visually ہمارے ذہن میں ایک آنکھ کا نشان اس طرح ڈالا جاتا ہے کے ہمیں محسوس تک نہیں ہوتا اس بات کے ثبوت کے لئے آپ صرف گوگل کریں دیکھیں جو فلمیں ڈرامے اور کارٹون آج تک آپنے دیکھے ان میں کتنوں میں آپ نے اس نشان کو لاشعور میں جانے کی اجازت دی بات پھر وہی ہے جب یہ نشان اپنی پوری طاقت کے ساتھ جلوہ پذیر ہوگا تب اس کے آگے آپ کے لاشعور کی انفارمیشن آپ کو کیا فیصلے اور جذبات عطا کرتی ہے۔ اللہ ہم سب کو اس فتنہ کے دور میں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ایمان کی حالات میں موت عطا کرے آمین ۔۔

تحریر: اُسامہ علی

سورہ کہف بمعہ ترجمہ



اعوذ بالله من الشیطان الرجیم
بسم الله الرحمن الرحيم

سورۃ کھف
ترجمہ : مولا فتح محمد جالندھری

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجَا o
سب تعریف اللہ ہی کو ہے جس نے اپنے محبوب بندے محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔

قَيِّماً لِّيُنذِرَ بَأْساً شَدِيداً مِن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْراً حَسَناً o
بلکہ سیدھی اور سلیس اتاری تاکہ لوگوں کو عذاب سخت سے جو اسکی طرف سے آنے والا ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ انکے لئے ان کے کاموں کا نیک بدلہ یعنی بہشت ہے

مَاكِثِينَ فِيهِ أَبَداً o
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

وَيُنذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَداً o
اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنا لیا ہے۔

مَّا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِباً o
ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ انکے باپ دادا ہی کو تھا۔ یہ بڑی سخت بات ہے جو انکے منہ سے نکلتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں محض جھوٹ ہے۔

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً o
اے پیغمبر اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم انکے پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کر دو گے۔

إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً o
جو چیز زمین پر ہے ہم نے اسکو زمین کے لئے زینت بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔

وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيداً جُرُزاً o
اور جو چیز زمین پر ہے ہم اسکو نابود کر کے بنجر میدان کر دیں گے۔

أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَباً o
کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے؟

إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَداً o
جب وہ نوجوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام میں درستی کے سامان مہیا کر۔

فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً o
تو ہم نے غار میں کئی سال تک انکے کانوں پر نیند کا پردہ ڈالے رکھا یعنی انکو سلائے رکھا۔

ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَداً o
پھر انکو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ غار میں رہے دونوں جماعتوں میں سے اسکی مقدار کس کو خوب یاد ہے۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُم بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى o
ہم انکے حالات تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں۔ وہ کئ نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔ اور ہم نے انکو اور زیادہ ہدایت دی تھی۔

وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَهاً لَقَدْ قُلْنَا إِذاً شَطَطاً o
اور انکے دلوں کو مربوط یعنی مضبوط کر دیا جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اسکے سوا کسی کو معبود سمجھ کر نہ پکاریں گے اگر ایسا کیا تو اس وقت ہم نے بے عقلی کی بات کی۔

هَؤُلَاء قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَّوْلَا يَأْتُونَ عَلَيْهِم بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ
افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً o
ان ہماری قوم کے لوگوں نے اسکے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ انکے معبود ہونے پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔

وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحمته ويُهَيِّئْ لَكُم مِّنْ أَمْرِكُم مِّرْفَقاً o
اور جب تم نے ان مشرکوں سے اور جنکی یہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کر لیا ہے تو غار میں چل رہو۔ تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کر دے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی کے سامان مہیا کرے گا۔

وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَاوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِّنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيّاً مُّرْشِداً o
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ دھوپ انکے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس غار کے کشادہ حصے میں تھے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جسکو اللہ ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے۔ اور جسکو گمراہ رہنے دے تو تم اسکے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔

وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظاً وَهُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَكَلْبُهُم بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَاراً وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْباً o
اور تم ان کے متعلق خیال کرو کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ حالانکہ وہ سوتے ہیں۔ اور ہم انکو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے۔ اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم انکو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آ جاتے۔

وَكَذَلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْماً أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَاماً فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَداً o
اور اسی طرح ہم نے انکو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم یہاں کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اسکو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور احتیاط سے آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔

إِنَّهُمْ إِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَن تُفْلِحُوا إِذاً أَبَداً o
اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ یا پھر اپنے مذہب میں داخل کر لیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔

وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَاناً رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِداً o
اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے خبردار کر دیا تاکہ وہ جانیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور یہ کہ قیامت جس کا وعدہ کیا جاتا ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ انکے بارے میں باہم جھگڑنے لگے۔ اور کہنے لگے کہ ان کے غار پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان کے حال سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ انکے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم انکے غار پر مسجد بنائیں گے۔

سَيَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْماً بِالْغَيْبِ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُل رَّبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاء ظَاهِراً وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِم مِّنْهُمْ أَحَداً o
بعض لوگ اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور بعض کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ اور بعض کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہدو کہ میرا پروردگار ہی انکے شمار سے خوب واقف ہے انکو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ جانتے ہیں تو تم انکے معاملے میں بحث نہ کرنا مگر سرسری سی بحث۔ اور نہ انکے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا۔

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَداً o
اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کر دوں گا۔

إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَى أَن يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَداً o
مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر اللہ چاہے تو کر دوں گا اور جب اللہ کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو۔ اور کہدو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔

وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِئَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعاً o
اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے۔

قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ مَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَداً o
کہدو کہ جتنی مدت وہ رہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں معلوم ہیں۔ وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ اسکے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔

وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَداً o
اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اسکی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اسکے سوا تم کہیں پناہ بھی نہیں پاؤ گے۔

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطاً o
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسکی خوشنودی کے طالب ہیں انکے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں سے گذر کر اور طرف نہ دوڑیں۔ کہ تم دنیاوی زندگی کی رونقوں کے خواستگار ہو جاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا۔

وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاء فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَاراً أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاء كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءتْ مُرْتَفَقاً o
اور کہدو کہ لوگو یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جسکی قناتیں انکو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے انکی داد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح گرم ہو گا اور جو انکے چہروں کو بھون ڈالے گا انکے پینے کا پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلاً o
اور جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

أُوْلَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَاباً خُضْراً مِّن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقاً o
ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ انکو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے۔ اور تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے کیا خوب بدلہ اور کیا خوب آرام گاہ ہے۔

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلاً رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعاً o
اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ عنایت کئے تھے اور انکے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور انکے درمیان کھیتی پیدا کر دی تھی۔

كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئاً وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَراً o
دونوں باغ کثرت سے پھل لاتے۔ اور اسکی پیداوار میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی۔

وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالاً وَأَعَزُّ نَفَراً o
اور اس طرح اس شخص کو انکی پیداوار ملتی رہتی تھی تو ایک دن جبکہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے اور جماعت کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں۔

وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَذِهِ أَبَداً o
اور ایسی شیخیوں سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو۔

وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْراً مِّنْهَا مُنقَلَباً o
اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں۔ تو وہاں ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا۔

قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلاً o
تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس ذات سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا آدمی بنایا۔

لَّكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَداً o
مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔

وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاء اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تُرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالاً وَوَلَداً o
اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ کیوں نہ کہا؟ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو۔

فَعَسَى رَبِّي أَن يُؤْتِيَنِ خَيْراً مِّن جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَاناً مِّنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيداً زَلَقاً o
تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور تمہارے اس باغ پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہو جائے

أَوْ يُصْبِحَ مَاؤُهَا غَوْراً فَلَن تَسْتَطِيعَ لَهُ طَلَباً o
یا اس باغ کی نہر کا پانی گہرائی میں اتر جائے تو پھر تم اسے تلاش نہ کر سکو۔

وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَداً o
اور اسکے میووں کو عذاب نے آ گھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا۔ اس پر حسرت سے ہاتھ ملنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا۔

وَلَمْ تَكُن لَّهُ فِئَةٌ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِراً o
اس وقت اللہ کے سوا کوئی جماعت اسکی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔

هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ هُوَ خَيْرٌ ثَوَاباً وَخَيْرٌ عُقْباً o
یہاں سے ثابت ہوا کہ حکومت سب اللہ کی ہے جو معبود برحق ہے وہی بہترین ثواب عطا کرنے والا اور بہترین انجام لانے والا ہے۔

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاء أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيماً تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِراً o
اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کر دو کہ وہ ایسی ہے جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اسکے ساتھ زمین کی پیدوار ملکر نکلی پھر وہ چورا چورار ہو گئ کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَاباً وَخَيْرٌ أَمَلاً o
مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی رونق و زینت ہیں۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں۔

وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً o
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان لوگوں کو ہم جمع کر لیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفّاً لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّن نَّجْعَلَ لَكُم مَّوْعِداً o
اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے تو ہم ان سے کہیں گے کہ جس طرح ہم نے تمکو پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح آج تم ہمارے سامنے آئے۔ لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے قیامت کا کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔

وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِراً وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَداً o
اور اعمال کی کتاب کھول کر رکھی جائے گی تو تم گناہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہو گا اس سے ڈر رہے ہوں گے۔ اور کہیں گے۔ ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو کوئی بات بھی نہیں مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاء مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلاً o
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہو گیا۔ کیا تم اسکو اور اسکی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ اور شیطان کی دوستی ظالموں کے لئے اللہ کی دوستی کا برا بدل ہے۔

مَا أَشْهَدتُّهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَا خَلْقَ أَنفُسِهِمْ وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُداً o
میں نے انکو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود انکے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا۔

وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقاً o
اور جس دن اللہ فرمائے گا کہ اب میرے شریکوں کو جنکی نسبت تم معبود ہونے کا گمان رکھتے تھے بلاؤ تو وہ انکو بلائیں گے مگر وہ انکو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم انکے درمیان ہلاکت کی ایک جگہ بنا دیں گے۔

وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفاً o
اور گناہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے۔

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً o
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے سمجھانے کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلاً o
اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آ گئ تو انکو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اسکے کہ اس بات کے منتظر ہوں کہ انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے۔ یا ان پر عذاب سامنے سے آ جائے۔

وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنذِرُوا هُزُواً o
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ لوگوں کو اللہ کی نعمتوں کی خوشخبریاں سنائیں اور عذاب سے ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ باطل کی مدد سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے انکو ڈرایا جاتا ہے اسے ہنسی بنا لیا ہے۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْراً وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَن يَهْتَدُوا إِذاً أَبَداً o
اور اس سے بڑھکر ظالم کون جسکو اس کے پروردگار کی آیات کے ذریعے سمجھایا گیا تو اس نے ان سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کر چکا اسکو بھول گیا۔ ہم نے انکے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل پیدا کر دیا ہے کہ سن نہ سکیں اور اگر تم انکو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے۔

وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْئِلاً o
اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ انکے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے مگر ان کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے۔

وَتِلْكَ الْقُرَى أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِم مَّوْعِداً o
اور یہ بستیاں جو ویران پڑی ہیں جب انہوں نے کفر کر کے ظلم کیا تو ہم نے انکو تباہ کر دیا۔ اور انکی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا تھا۔

وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُباً o
اور جب موسٰی نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ٹلنے کا نہیں خواہ صدیوں چلتا رہوں۔

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَباً o
پھر جب وہ دونوں ان دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے پھر اس مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنا لیا۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَذَا نَصَباً o
جب آگے چلے تو موسٰی نے اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارا کھانا لاؤ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہو گئ ہے۔

قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَباً o
اس نے کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے اس چٹان کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس مچھلی نے عجیب طرح سے دریا میں اپنا رستہ بنایا۔

قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصاً o
موسٰی نے کہا یہی تو وہ مقام ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے۔

فَوَجَدَا عَبْداً مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْماً o
وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت خاص سے نوازا تھا اور اپنے پاس سے ایک خاص علم بخشا تھا۔

قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْداً o
موسٰی نے ان سے جن کا نام خضر تھا کہا کہ جو علم اللہ کی طرف سے آپکو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی کی باتیں سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں۔

قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْراً o
خضر نے کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔

وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْراً o
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہو۔

قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ صَابِراً وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْراً o
موسٰی نے کہا اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیے گا۔ اور میں آپکے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا۔

قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْراً o
خضر نے کہا اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو شرط یہ ہے مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں۔

فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئاً إِمْراً o
تو دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ موسٰی نے کہا کیا آپ نے اسکو اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کر دیں۔ یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی۔

قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْراً o
خضر نے کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْراً o
موسٰی نے کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجئے۔ اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے۔

فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلَاماً فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْساً زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئاً نُّكْراً o
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ رستے میں ایک لڑکا ملا تو خضر نے اسے مار ڈالا۔ موسٰی نے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ یہ تو آپ نے بری بات کی۔

قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْراً o
خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں ہو سکے گا۔

قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْراً o
انہوں نے کہا کہ اگر میں اسکے بعد پھر کوئی بات پوچھوں یعنی اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر کے قبول کرنے میں حد کو پہنچ گئے ہیں۔

فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَاراً يُرِيدُ أَنْ يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْراً o
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے انکی ضیافت کرنے سے انکار کیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو خضر نے اسکو سیدھا کر دیا۔ موسٰی نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لے لیتے تاکہ کھانے کا کام چلتا۔

قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْراً o
خضر نے کہا کہ اب مجھ میں اور تم میں علیحدگی۔ مگر جن باتوں پر تم صبر نہ کر سکے میں انکا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں۔

أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْباً o
کہ جو وہ کشتی تھی غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ کرتے تھے۔ اور انکے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں تاکہ وہ اسے غصب نہ کر سکے۔

وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَاناً وَكُفْراً o
اور وہ جو لڑکا تھا اسکے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوگا تو کہیں انکو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔

فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْراً مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْماً o
تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اسکی جگہ انکو اور بچہ عطا فرمائے جو اخلاقی پاکیزگی میں بہتر اور محبت میں زیادہ قریب ہو۔

وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحاً فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْراً o
اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اسکے نیچے انکا خزانہ دفن تھا اور انکا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور پھر اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کر سکے۔

وَيَسْأَلُونَكَ عَن ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُم مِّنْهُ ذِكْراً o
اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہدو کہ میں اسکا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔

إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَباً o
ہم نے اسکو زمین میں بڑا اقتدار دیا تھا اور ہر طرح کا سامان اسکو عطا کیا تھا۔

فَأَتْبَعَ سَبَباً o
تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا۔

حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْماً قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْناً o
یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ والے چشمے میں ڈوب رہا ہے اور اس چشمے کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین! تم انکو خواہ تکلیف دو خواہ انکے بارے میں بھلائی اختیار کرو دونوں باتوں کی تمکو قدرت ہے۔

قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَاباً نُّكْراً o
ذوالقرنین نے کہا کہ جو کفر و بدکرداری سے ظلم کرے گا اسے ہم سزا دیں گے پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا۔ تو وہ بھی اسے بڑا عذاب دے گا۔

وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْراً o
اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اسکے لئے بہت اچھا بدلہ ہے۔ اور ہم اپنے معاملے میں اس سے نرم بات کہیں گے۔

ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَباً o
پھر اس نے ایک اور سامان سفر کیا۔

حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتْراً o
یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع ہوتا ہے جنکے لئے ہم نے دھوپ سے بچاؤ کی کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی۔

كَذَلِكَ وَقَدْ أَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْراً o
حقیقت یوں ہی تھی اور جو کچھ اسکے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی۔

ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَباً o
پھر اس نے ایک اور سفر کا سامان کیا۔

حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوْماً لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلاً o
یہاں تک کہ دو اونچے سیدھے پہاڑوں کے درمیان پہنچا۔ تو دیکھا کہ انکے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے۔

قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجاً عَلَى أَن تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدّاً o
ان لوگوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج اس علاقے میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپکے لئے خرچ کا انتظام کر دیں کہ آپ ہمارے اور انکے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں۔

قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْماً o
ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور اللہ نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت بازو سے مدد دو۔ میں تمہارے اور انکے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ بنا دوں گا۔

آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَاراً قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْراً o
تم لوہے کے بڑے بڑے تختے میرے پاس لاؤ چنانچہ کام جاری کر دیا گیا یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصہ برابر کر دیا اور کہا کہ اب اسے دھونکو۔ یہانتک کہ جب اس کو دھونک دھونک کر آگ کر دیا تو کہا کہ اب میرے پاس تانبا لاؤ کہ اس پر پگھلا کر ڈال دوں۔

فَمَا اسْطَاعُوا أَن يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْباً o
پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں۔ اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں۔

قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي فَإِذَا جَاء وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاء وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقّاً o
بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے پھر جب میرے پروردگار کا وعدہ آ پہنچے گا تو اس کو ڈھا کر ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے۔

وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعاً o
اس روز ہم انکو چھوڑ دیں گے کہ روئے زمین پر پھیل کر ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کر لیں گے۔

وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِّلْكَافِرِينَ عَرْضاً o
اور اس روز ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے۔

الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاء عَن ذِكْرِي وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعاً o
جنکی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔

أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاء إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلاً o
اب کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا اپنا کارساز بنائیں گے تو ہم خفا نہیں ہونگے ہم نے ایسے کافروں کے لئے جہنم کی مہمانی تیار کر رکھی ہے۔

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً o
کہدو کہ ہم تمہیں ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں۔

الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً o
یہ وہ لوگ ہیں جنکی دوڑ دھوپ دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئ۔ اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔

أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْناً o
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو نہ مانا اور اسکے سامنے جانے سے انکار کیا تو انکے اعمال ضائع ہو گئے سو ہم قیامت کے دن انکے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔

ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُواً o
یہ انکی سزا ہے یعنی جہنم۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اڑائی

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً o
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے انکے لئے بہشت کے باغ بطور مہمانی ہوں گے۔

خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلاً o
ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے۔

قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَداً o
کہدو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لئے روشنائی ہو تو قبل اسکے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہو جائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور اسکی مدد کو لائیں۔

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً o
کہدو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ البتہ میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود وہی ایک معبود ہے تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔