منگل, جنوری 31, 2017

سوموار, جنوری 30, 2017

اس محبت کے بدلے میں کیا نذر دوں


سوچا تھا کچھ اپنے الفاظ میں اپنے عزیز دوستوں کا شکریہ ادا کروں مگر ہمیشہ کی طرح الفاظ گم ہو گئے اور ساحر لدھیانوی کی یہ نظم مجھے اپنے حسبِ حال لگی تو سب کی نذر


آپ کیا جانیں مجھ کو سمجھتے ہیں کیا
میں تو کچھ بھی نہیں
اس قدر پیار ،اتنی بڑی بھیڑ کا میں، میں رکھوں گا کہاں؟
اس قدر پیار رکھنے کے قابل، نہیں میرا دل ،میری جاں
مجھ کو اتنی محبت نہ دو دوستو
سوچ لو دوستو!

پیار اک شخص کا بھی اگر مل سکے
تو بڑی چیز ہے زندگی کے لیے
آدمی کو مگر یہ بھی ملتا نہیں، یہ بھی ملتا نہیں
مجھ کو اتنی محبت ملی آپ سے
یہ میرا حق نہیں میری تقدیر ہے
میں زمانے کی نظروں میں کچھ بھی نہ تھا
میری آنکھوں میں اب تک وہ تصویر ہے
اس محبت کے بدلے میں کیا نذر دوں
میں تو کچھ بھی نہیں

عزتیں، شہرتیں، چاہتیں، الفتیں
کوئی بھی چیز دنیا میں رہتی نہیں
آج میں ہوں جہاں کل کوئی اور تھا
یہ بھی اک دور ہے، وہ بھی اک دور تھا
آج اتنی محبت نہ دو دوستو
کہ میرے کل کی خاطر نہ کچھ بھی رہے
آج کا پیار تھوڑا بچا کر رکھو
میرے کل کے لیے
کل جو گمنام ہے، کل جو سنسان ہے
کل جو انجان ہے، کل جو ویران ہے

ساحر لدھیانوی
 
دعاؤں کی طلبگار :)

ہفتہ, جنوری 28, 2017

سکھ سندیسہ (میرے الفاظ)

~!~ سکھ سندیسہ ~!~

جب ڈھیر اداسی گھیرے تو، اک سکھ سندیسہ آئے
مشکل سے جب میں تھک جاؤں، کچھ غیب سے حل ہو جائے
میرے گمان سے پرے کہیں سے ،حوصلہ یوں مل جائے
جیسے کہ گھور اندھیرے میں، کوئی آس کا دیپ جلائے
میری آس کو نہ وہ ٹوٹنے دے جو ہے اس جگ کا والی
میری ہر دم وہ امداد کرے، اس کی ہر شان نرالی
سیما آفتاب :)

آج کی بات ۔۔۔ 28 جنوری 2017

آج کی بات

انسانی معاشروں کو تمام جنگوں او ربیماریو ں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا 
جتنا نقصان ان کے اس رویے نے انہیں پہنچایا ہے کہ
 وہ اپنے پاس موجود نعمتوں کونعمت نہیں سمجھتے
 بلکہ دوسروں کے پاس موجود نعمتوں کو نعمت سمجھتے ہیں ۔

جمعہ, جنوری 27, 2017

پڑھنے اور سیکھنے کا فرق


جب خود سے قران کو سمجھنے کی کوشش کی تھی تو سورہ مطففین کا ترجمہ کچھ یوں سمجھا تھا:

وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ * الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُواْ عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ * وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ۔

تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلیئے۔ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب لوگوں کو ناپ یا تول کر دیتے ہیں تو کمی کردیتے ہیں۔
سورہ مطففین آیۃ 1 تا 3۔

اور یہ سورت یہ سمجھ کر چھوڑ دی تھی کہ یہ تو تاجر حضرات کے لیے ہے، ہمارے لیے اس میں احکامات نہیں ہیں۔
حضرت جی کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے ایک دفعہ اسی سورت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:
لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سورت صرف تاجر حضرات کے لیے ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔

بلکہ یہ سورت ہر اس شخص کے لیے ہے جو لوگوں سے تو پوری امیدیں رکھے لیکن ان کی امیدوں پر پورا نہ اترے۔

لوگوں سے لیتا ہے تو پورا لیتا ہے ان کو دیتا ہے تو گھٹا کر دیتا ہے

یعنی لوگوں کے جو حقوق اس پر ہیں ان کو تو پورا وصول کرتا ہے، لیکن اس پر جو لوگوں کے حقوق ہیں انہیں پورا پورا ادا نہیں کرتا۔

پڑوسی کی عورتیں تو دیکھتا ہے۔ لیکن چاہتا ہے پڑوسی اس کی عورتوں کو نہ دیکھے۔

رشتہ دار تو اس کا خیال رکھیں۔ ہر خوشی غمی میں شریک ہوں لیکن یہ رشتہ داروں کی خوشی غمی میں شریک نہ ہو تو کوئی مسئلہ نہیں۔

اولاد سے تو خدمت کی امید رکھے لیکن اولاد کے حقوق ادا نہ کرے۔

شوهر بیوی سے خدمت کی امید رکھے لیکن بیوی کے جو حقوق لازمہ ہیں ان میں کوتاہی کرتا ہو۔ بیوی شوهر سے هر طرح کا حق لینا چاهتی هو لیکن اپنا فرض نه پهچانتی هو .
 
اور سب سے بڑی بات

اللہ سے تو پورے پورے انعام کی امید رکھے اور شکوے کرے لیکن اس کی ویسی عبادت اور شُکر نہ کرے جو اسکا حق ہے۔

اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ قران پڑھنے اور سیکھنے میں کیا فرق ہے۔

منقول

جمعرات, جنوری 26, 2017

آج کی بات۔۔۔ 26 جنوری 2017

~!~ آج کی بات  ~!~

اپنے دن کے آغاز اور اختتام پر اپنی زندگی میں موجود
 ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لیے شکر ادا کیجیے۔
آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کس قدر نعمتوں سے نوازے گئے ہیں۔

بدھ, جنوری 25, 2017

آؤ بھلائی کی طرف۔


اللہ رب العزت نے اس کائنات میں جو بھی منصوبہ مکمل کرنا ہوتا ہے اُسے بندوں کے ہا تھوں تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔۔ احکامات الٰہیہ اگرچہ ہمارے نفسوں پر گراں گزررہےہوں مگر ان کی اتنی ہی خیر کیا ھمارے لیے کافی نہیں کہ ہمارے رب نے وہ ہم سے چاہے ہیں۔۔۔۔
اک خیال،سوچ جو ہر لمحہ ذہن پر چھائی رھتی ہے اور یہ اذیت ناک تب ہوتی ہے جب بہت سے اعمال اپنے اِرد گرد اور اپنی ہی ذات سے اس سوچ کے برعکس وقوع پذیر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
کہ
اللہ بھی وُہی،اللہ کا نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی وُہی،اللہ کی کتاب (قرآن پاک )بھی وُھی......دینی تعلیمات بھی وھی۔۔۔۔
یہ زمین،آسمان،پھل،پھول،یہ چاند اور تارے،یہ سورج کی کرنیں ،موسم کی حدتیں،پانی کی فراوانیاں۔۔۔پرندوں کی بولیاں۔۔۔۔
سب وہی ہیں۔۔۔۔۔۔
پر ہم ویسے کیوں نہیں؟
ھم اسے کیا نام دیں بے بسی یا سر کشی۔۔۔۔۔؟
ہماری تڑپ ویسی کیوں نہیں ہے اپنے خالق کی طرف۔۔۔۔۔
حق ،ایمان والوں کی طرح۔۔۔
ہماری محبتیں ویسی بے غرض کیوں نہیں ہیں؟
ذرا تصور میں لائیے۔۔۔
صداقت صدیق رضی اللہ عنہ جیسی۔۔۔۔
محبت و خلافت عمر رضی اللہ عنہ جیسی۔۔۔۔
اطاعت و جراءت علی رضی اللہ عنہ جیسی۔۔۔۔
حیاء و سوچ عثمان رضی اللہ عنہ جیسی۔۔۔۔
لگن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جیسی۔۔۔۔
جستجو سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جیسی۔۔۔۔
اذان بلال رضی اللہ عنہ جیسی۔۔۔۔
ایمان حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسا۔۔۔۔۔
رفاقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی۔۔۔۔
ایثار سودہ رضی اللہ عنہا جیسا۔۔۔
خیرات زینب رضی اللہ عنہا جیسی۔۔۔۔۔
سادگی فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی۔۔۔
اولاد حسن رضی اللہ عنہ،حسین رضی اللہ عنہ جیسی۔۔۔۔۔
کیا ھم اُن جاں نثاروں کی پیروی نہیں کر سکتے جو ھمارے لیے جیتی جاگتی،روشن مثالیں رقم کر گئے عملی صورت میں ....کہ ھماری تربیت ہو سکے۔۔...جن کا اُسوہءِ حسنہ،طریقہء زندگی ھمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔۔۔۔۔ھم پھر بھی بھٹکے ہوئے ہیں ۔۔۔تاریکیوں کے رستوں پر گامزن ہیں جس کی منزل گہری کھائیاں ہیں۔۔۔۔۔
ھمارا بچاؤ ،ھمارا دفاع کرنے والا ماسوائے ھمارے خود کے کوئی نہیں۔۔۔۔۔
آئیے اپنا دفاع کریں یہ عہد لے کر۔۔۔
کہ
اللہ تعالٰی نے میرے اندر محبت و اخلاص کی خوشبو رکھی ہے میں کیوں نفرت و بغض کی مہک پھیلاؤں۔۔۔
اللہ تعالٰی نے میرے اندر اُمید کی جَوت جلا رکھی ہے میں کیوں کوشش کے دِیے بُجھاؤں۔۔۔
اللہ تعالٰی نے میرے اندر صبر کا شجر لگا رکھا ھے میں کیوں جلد بازی، عجلت کا پھل کھاؤں۔۔۔
اللہ تعالٰی نے مجھے ظرف کی وسعتوں سے نوازا ہے میں کیوں تعصب و حقارت کا قیدی بنوں .....
اللہ تعالٰی نے مجھے سراہنے کی ٹھنڈک سے نوازا ہے میں کیوں حسد کی آگ میں جلوں۔۔۔
اللہ تعالٰی نے مجھے مسرتوں، دعاؤں کی سخاوت سے نوازا ھے میں کیوں تھُڑدلی ،بدگمانی کےافلاس کا شکار ہوں
اللہ تعالٰی نے مجھے جن گُنوں /ہنر سے نوازا ھے میں اُنکے صَرف میں کاھلی کیوں بَرتوں۔۔
اللہ تعالٰی نے مجھے درگزرر اور معافی جیسا طرز نوازا ہیے میں کیوں انتقام و بدلہ کی روش اختیار کروں۔۔۔۔
اللہ تعالٰی نے مجھے الفاظ کے مرھم سے نوازا ہے میں کیوں چھُری کی دھار بنوں۔۔۔۔۔
اللہ تعالٰی نے مجھے جوش و جذبے سے، مسلسل جدو جہد سے ھر کٹھنائی کا سامنا کرنےکی قوت عطا کی ہے میں پھر کیوں حالات و واقعات کو پیٹھ دکھاؤں۔۔۔۔
اللہ تعالٰی نے مجھے صراطِ مسقیم پر چلنے کی منشا کا اختیار دیا ہے میں کیوں وسوسوں اورغفلت کے بھول بھولیوں میں بھٹکوں۔۔۔۔
 
جن اختیارات کے بیج رب نے میرے اندربو دیے ہیں ۔اب انکی نشو ونما میری ذمہ داری ہے۔۔ ۔تو پھر
اے میرے مالک میں ان اختیارات کی افزائش و بڑھوتری میں ہر قسم کی بخیلی سے پناہ مانگتی ہوں۔/پناہ مانگتا ہوں ۔۔مجھے خیر کے پودے اُگانے کی توفیق عطا کر دے....میرا وجود ایساپھلدار شجر بنے جو منافع بخش ہو میرے اپنے لیے ،دوسروں کے لیے۔۔۔۔۔۔سیر کرے تیری رحم و کرم کی طبیعت کو...میری آخرت کی کھیتی لہلہلاتی رھے مولا تیری نوازشوں کی زرخیزی سے...آمین
 

منگل, جنوری 24, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 24 جنوری 2017

~!~  آج کی بات ~!~

انسان سے محبت کا ایک ہی طریقہ ہے،
 کیونکہ تم خود بهی ایک انسان ہو، اپنے اپ سے محبت کرو،
 کسی دوسرے کی جو حرکت تمھیں ناپسند ہو اسے اصول بنا لو. 
تم جبر پسند نہیں کرتے تو کرو بهی مت، 
دوسرے کا سچ اگر جھوٹ ہے تو تمہارا کیوں مقدس ہے.
 ہر ایک کو اپنے جھوٹ پر قائم رہنے کا حق دو،
 خدا کے معاملات تم جانو اور وہ جانے
 انسان کے معاملات کا حساب انسان کو دو.

سوموار, جنوری 23, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 23 جنوری 2017

~!~  آج کی بات ~!~

"بعض اوقات ہم دروازے کھولنے کی سوچ میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ شائد کھڑکیاں اور روشن دان بھی موجود ہوں، بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کی بھاگ دوڑ میں ہم چھوٹی کامیابیاں بھول جاتے ہیں۔ ایک بات جو یاد رکھنی چاہییے کہ چھوٹی پگڈنڈی ہی بڑے راستے کا اشارہ کرتی ہے۔
 گاوں کی چھوٹی اور کچی سڑک ہی ہمیں شہر کی مضبوط اور بڑی شاہراہ پر لے کر جاتی ہے۔ چھوٹی کامیابیوں پر افسوس نہ کرو یا انہیں نظر سے نہ ہٹا دو۔ بلکہ انہیں بڑی منزلیں حاصل کرنے کے لئے ایک زینہ بنا لو۔"

تدبرِ قرآن ۔۔۔ سورۃ البقرۃ ۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ- 22

تدبرِ قرآن
سورۃ البقرۃ
نعمان علی خان
حصہ- 22

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُم
جب بجلی چمکتی ہے تو وہ تقریباﹰ اندھے ہو جاتے ہیں.ان کی بصارت تقریباﹰ اچک لی جاتی ہے.

دوسرے لفظوں میں جب آپ اندھیرے میں کچھ نہیں دیکھ سکتے اور اچانک کیمرے کی فلیش لائٹ کی طرح بجلی چمکے تو آپ کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی پر دیکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں. ایک لمحے میں آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے کچھ دیکھا ہے کبھی لگتا ہے جیسے ملک الموت کو تو نہیں دیکھ لیا. اس مکمل اندھیرے میں جب ایک لمحے کے لیے بصارت ملتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ کھائی کے کنارے پر کھڑے ہیں تو ایک دم آپ رک جاتے ہیں کہ یہ میں کہاں جا رہا تھا مجھے تو دوسری طرف جانا تھا.
تو وہ لوگ بھی اسی طرح اندھیری خوفناک جگہ پر ہوتے ہیں انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس سمت میں چل رہے ہیں. ایسی صورتحال میں وہ بجلی کے دوبارہ چمکنے کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ بجلی چمکے تو وہ روشنی میں دیکھ سکیں کہ اگلا قدم کہاں رکھنا ہے. اللہ پاک فرماتے ہیں
يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ
روشنی جو انہیں تقریباﹰ اندھا کر دیتی ہے اور ان کی بصارت لے جاتی ہے
كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم
جب بھی ان کے لیے روشنی ہوتی ہے
 ویسے أَضَاءَ کا مطلب نَارَا جیسا نہیں ہے. ضوا میں حرارت کا عنصر شامل ہے. یہ ایسے ہے جیسے دھماکہ کہیں آس پاس ہی ہوا ہو اور آپ کو اس کی حرارت محسوس ہوتی ہو. اور جب بھی روشنی ہوتی ہے
مَّشَوْا فِيهِ
وہ تھوڑا بہت چل لیتے ہیں
اپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر آپ اس حالت میں ہوں اور تیز بارش ہو رہی ہو اور آپ مکمل بھیگے ہوں اور دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہوں تو آپ چلیں گے نہیں بلکہ وہاں سے بھاگیں گے. جیسے بارش میں آپ اپنی گاڑی کا پاس چل کر نہیں بھاگ کر جاتے ہیں. پر حال یہ ہے کہ وہ لوگ ایسی خطرناک جگہ پر ہیں کہ وہ بھاگنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ وہ کھائی سے بھی گر سکتے ہیں.
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلي‏ حَرْفٍ الحج
دراصل قرآن کی تماثیل آپس میں تعلق رکھتی ہیں جو کہ بہت شاندار ہے مگر اس پر پھر کسی دن بات کریں گے.
تو یہاں کہا جا رہا ہے جب بھی بجلی چمکتی ہے تو وہ اس میں کچھ قدم چل لیتے ییں.
وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُواْ
اور جب واپس اندھیرا ہو جاتا ہے تو وہیں کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں.

اب یہ جو ابتر حالت بیان کی جا رہی ہے اگر آپ اس کا موازنہ پچھلی مثال سے کریں تو وہ لوگ روشنی سے دور ہو گئے تھے. اللہ پاک نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے انہیں بہرا، گونگا اور اندھا بنا دیا. عملی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ مثال کے لوگ پہلے سے ہی اندھے ہیں کیونکہ اس قدر تیز بارش میں آپ ویسے ہی نہیں دیکھ سکتے. دوسرا مسلہ یہ ہے کہ یہ لوگ تقریباﹰ گونگے بھی ہیں کیونکہ ایسے موسم میں آپ بولیں بھی تو کوئی سن نہیں سکتا. اور یہ لوگ بہرے بھی ہیں کیونکہ ایسے موسم میں کوئی آپ سے کچھ بات بھی کرے تو سنائی نہیں دیتا نہ سمجھ آتا ہے. مگر وہ تھوڑا سا تو دیکھ سکتے ہیں. اس لیے اگرچہ یہ حالت بہت بری ہے پھر بھی پچھلے لوگوں کی حالت سے بہتر ہے. بہرحال یہ ایک خوفناک صورتحال ہے پھر بھی یہ لوگ بلکل ناکام لوگ نہیں ہیں. روشنی میں کچھ تو چل ہی لیتے ہیں. اللہ پاک فرماتے ہیں
وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ
اور اگر الله پاک چاہتے تو ان کی سماعت اور بصارت سلب کر لیتے. 

جیسے کے پچھلوں کے ساتھ کیا. پچھلی مثال میں الله پاک نے آنکھیں اور کان چھین لیے تھے. یہاں الله پاک فرماتے ہیں کہ میں ِابھی ایسا نہیں کروں گا.

إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٢٠﴾
بے شک اللہ پاک ہر شئے پر قدرت رکھنے والا ہے.
دوسرے لفظوں میں الله پاک فرما رہے ہیں کہ میں ایسا کر بھی سکتا ہوں، میں یہ طاقت رکھتا ہوں. پر الله پاک نے ابھی انہیں مہلت دے دی ہے کہ شاید وہ عقل کر لیں،شاید وہ الله کی پناہ میں آ جائیں. 

اب یہ دوسری مثال کس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے؟ اگر آپ تھوڑا پیچھے جائیں تو آپ اس مثال کو سراہیں گے. جس پہلے گروہ کے بارے میں بات ہوئی تھی وہ سخت نافرمان لوگ تھے. 

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٦﴾
ضدی نافرمان لوگ. ان کی سماعت، بولنے کی طاقت اور بصارت جا چکی ہے. قرآن کی پہلی مثال میں قریش کے سخت نافرمان لوگ اور یہودیوں کے وہ سربراہان جنہوں نے جانتے بوجھتے انکار کیا کا ذکر کیا گیا ہے.
دوسری مثال میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو تھوڑا تھوڑا بھلائی کی طرف ڈرتے ڈرتے بڑھتے ہیں.
وہ کس چیز سے خوفزدہ ہیں؟ بجلی سے، بادل کی گرج سے. چونکہ صدیوں بعد اترنے والی کتاب قرآن میں یوم آخرت، جہنم کی آگ، اللہ کے سامنے دوبارہ زندہ ہونے کا ذکر تھا اور جب بھی ایسی کوئی آیت نازل ہوتی تھی تو یہ ان کے لیے ایسی ہی ہوتی تھی جیسے بجلی چمکی ہو. اور جب بات آتی ہے تنقید کی تو قرآن سختی اپناتا ہے، احکام ایسے لگتے ہیں جیسے کے بجلی یا بادل کی گرج ہو. اور چونکہ یہ لوگ انہی وحیوں، تنبیہات کو سنتے تھے اس لیے ان کا ڈرنا لازم تھا.
ویسے بجلی کا چمکنا اور بادل کی گرج، تنبیہات کے لیے موزوں الفاظ کیوں ہیں؟  اگر آپ دیکھیں
سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ
کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لَا دَعوَتَہُم کے نہیں. قرآن کے اس حصے میں بار بار تنبیہات کا ہی ذکر ہے. تنبیہ ایسے ہے جیسے کسی پر بجلی گرے.
 میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ وہ لوگ توریت سے قیامت کا ذکر، جہنم کی آگ کا ذکر بالکل سرے سے ہی بھلا چکے تھے. حتی کہ آج بھی اگر کہیں ان باتوں کا ذکر ملے گا تو عبرانی بائبل کے آخر میں ہی ہو گا بس وہ بھی کسی کسی جگہ ورنہ تو وہ لوگ ان باتوں سے بالکل ہی انجان ہیں، بھلا چکے ہیں. اگر آپ اج کسی پختہ عقیدہ کے یہودی سے پوچھیں کہ وہ قیامت میں اور جہنم کی آگ میں یقین رکھتا ہے تو وہ کہے گا کہ
"میں اس بارے میں پریقین نہیں ہوں میں آپ کو پتا کر کے بتاؤں گا." 
إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کیا بھلا آپ نے اب تک اس بارے میں اپنے سکول میں پڑھا نہیں؟
تو وہ کہے گا "یہ موضوع ہمارے دین کا اہم حصہ نہیں ہے."
قرآن تو ان دونوں موضوعات پر بہت فوکس کرتا ہے. تو جب آپ ایسی باتیں سننے ماننے کے عادی نہیں ہوتے اور یہ مسلسل آپ کو سنائی جائیں تو یہ واقعی بجلی کی طرح ہی آپ پر گرتی ہیں. پھر بعض آیات آتی ہیں جن میں تھوڑی بہت امید نظر آتی ہے تو پھر اس ذرا سی روشنی میں ایسے لوگ کیا کرتے ہیں مانتے ہیں اور چل پڑتے ہیں اور پھر کوئی سخت تنبیہ آتی ہے تو پھر ڈر کر کھڑے ہو جاتے ہیں.
منافق کی بھی یہی صورتحال ہوتی ہے جو اسلام کی طرف اتنا ہی بڑھتا ہے جتنی اسے آسانی ہوتی ہے ورنہ تو اسے دین بہت ہی سخت لگتا ہے. اسے لگتا ہے کہ وہ اسلام پر چل ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ اس پر گرفت ہی نہیں کر سکتا. ویسے بہت خوبصورتی سے اس مثال کو بیان کیا گیا ہے.
وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٢٠﴾
یہ جو تصویر آپ دیکھ رہے ہیں یہ قرآن پاک کی پہلی دو مفصل مثالیں ہیں مگر اب میں آپ کو اب تک جو ہم نے پڑھا اس تمام کا خلاصہ دینا چاہتا ہوں. اگر آپ قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں تو آپ کو لگے گا کہ یہ موضوع قرآن کے مختلف حصوں پر ادھر اُدھر پھیلا ہوا ہے. مگر آگر آپ باریک بینی سے دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ موضوع انتہائی مہارت سے ایسے حیرت انگیز انداز میں ترتیب دیا گیا ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں ملے گا. اور ایسی مہارت ایسی چیز نہیں ہے کہ جسے صرف مسلمان ہی جان رہے ہیں بلکہ غیر مسلم بھی اس طریقہ گفتگو کو دریافت کر رہے ہیں اور آجکل کافی یونیورسٹیوں میں قرآن کی ترتیب و تنظیم پر بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا جا رہا ہے. وہ لوگ ایسا قرآن پر منفی طور پر حملہ کرنے کے لیے نہیں کر رہے بلکہ اس لیے مطالعہ کر رہے ہیں کہ ایسی وسعت والی کتاب انہوں نے پہلے کبھی پڑھی ہی نہیں. ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے مغربی یونیورسٹیوں میں اس کتاب کا مطالعہ کیا اور انجام کار اسلام قبول کر لیا.
ریمنڈ فیرن جیسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اسلام قرآن کے مطالعے کے بعد قبول کر لیا وہ میرے دوست بھی ہی. وہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے عربی شاعری کے منظم طریقوں پر PHD کر رہے تھے اور انہوں نے قرآن کو بھی شاعری جیسی ہی عرب کی کوئی رسمی کتاب سمجھ رکھا تھا۔ انہوں نے قرآن اور اس کی تنظیم کا مطالعہ شروع کیا اور اس کے بارے میں ہم ساتھیوں سے بھی کوئی بات نہ کی. انہوں نے کچھ سورتوں کی ترتیب و تنظیم پر اس قدر حیرانی کا اظہار کیا اور سوچا کہ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے. انہوں بے مزید مطالعہ کیا اور بالترتیب سورتوں کی تنظیم دیکھ کر بالآخر وہ اس بات کی گواہی دے بیٹھے کہ لا الہ الا الله. وہ اب کویت کی یونیورسٹی میں عربی زبان کے پروفیسر ہیں. ایک امریکی جو عربوں کو عربی پڑھاتا ہے. نیو جرسی سے ایک گورا کویت میں 4th year طالبعلموں کو پڑھا رہا ہے اور جو ان کے طالبعلم ہیں وہ حیرت آمیز غصہ سے کہتے ہیں "ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم ایک امریکی سے عربی پڑھ رہے ہیں؟ " تو پھر وہ پروفیسر انہیں سمجھاتے ہیں "تو کیا ہوا ! عربی بھی تو یونیوسٹیوں میں انگریزی پڑھاتے ہیں تو ہم بھی عربی پڑھا سکتے ہیں."
خیر میں آپ کو اس سورہ کی پہلی آیات کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو ایمان والوں کے بارے میں ہیں. آپ دیکیھں گے کہ ان آیات میں بھی ایک توازن ہے.
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ﴿٢﴾
اور جب یہ آیات ختم ہوتی ہیں تو
أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ پر ہوتی ہیں.
یعنی یہ ہدایت سے شروع ہو کر ہدایت پر ہی ختم ہوتی ہیں. اور ان کے درمیان میں دو آیات ہیں جن دونوں میں ایمان کا ذکر ہے.
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ...... ﴿٣﴾
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ....... ﴿٤﴾

شروع میں ہدایت،  آخر میں ہدایت اور ان کے درمیان یومنون. یہ ایک مکمل توازن ہوا.
جب آپ دوسری آیات کی طرف آئیں آیت نمبر چھ سے آیت نمبر بیس یہ تمام آیات کفار کے بارے میں ہیں. میں کفار کا لفط اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ میں منافقین اور کفار کو ایک ہی گروہ کی صورت میں پیش کر رہا ہوں. منکر وہ بھی ہوتے ہیں جو کھلم کھلا انکار کرتے ہیں اور وہ بھی جو اس کو چھپاتے ہیں.
اگر آپ تصویر کے پہلے حصے گراف دیکھیں تو یہاں ان کا ذکر ہے جن کے بارے میں ہم نے اس آیت میں پڑھا تھا
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٦﴾
خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان لانے والے نہیں.
پھر ہم نےہم یہ بات کی تھی کہ
خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٧﴾
ان کے دلوں پر مہر ہے. مگر صرف ان کے دلوں پر ہی نہیں ان کی سماعت پر بھی مہر ہے اور ان کی آنکھوں پر بھی پردہ ہے اور ان کے لیے عظیم سزا ہے.
یہ لوگ بالکل بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں. پھر الله پاک فرماتے ہیں
يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿٩﴾
وہ الله اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں. مگر ان کی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کے علاوہ کسی اور کو دھوکا نہیں دے رہے ہوتے.
پھر اللہ پاک فرماتے ہیں
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴿١٠﴾
ان کے دلوں میں بیماری ہے اور الله پاک اس بیماری کو بڑھا دیتے ییں اور ان کے لیے دردناک سزا ہے ان کے جھوٹ کی وجہ سے.
میں آپ کو ان آیات کے ترجمہ کا سرسری سا نمونہ پیش کر رہا ہوں برائے مہربانی ساتھ ساتھ سمجھنے کی کوشش کرئیے گا.. پھر الله پاک فرماتے ہیں
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ﴿١١﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ آگے سے کہتے ہیں ہم تھوڑی نہ فساد پھیلا رہے ہم تو اچھے لوگ ہیں ہم ہی تو بہتری لانا چاہتے ہیں.
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ ﴿١٢﴾
آپ سب جان لیں وہی سب سے بڑے فسادی ہیں.
اب اگر آپ تصویر کے دوسری طرف دیکھیں تو گراف کا آغاز نیچے سے اوپر کو جا رہا ہے.
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ﴿١٣﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لے آؤ تو وہ کہتے ہیں کیا ہمیں بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آنا چاہیے؟ نہیں سن لو بلکہ یہ ہی سب سے بڑے بے وقوف ہیں اور اس کا علم بھی نہیں رکھتے.
اب سورہ کے اگلے حصے میں کہا جا رہا ہے
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ﴿١٤﴾
جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں یم بھی ایمان لائے جب وہ اپنے شیاطین کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو آپ کے ساتھ ہیں ہم تو بس مذاق ہی کر رہے تھے.
اللَّـهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿١٥﴾
الله پاک ان کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں اور وہ ان کو ان کی سرکشی میں بڑھا دیتے ییں اور وہ دل کے اندھے ہی رہ جاتے ہیں.
اب گراف کے آخری حصے میں کہا جا رہا ہے
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾
انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی پر ان کی تجارت ان کے کام نہ آئی اور وہ ہدایت لینے والے تھے بھی نہیں.
ان کی مثال اس انسان کی سی ہے جس نے آگ جلائی اور جب آگ نے اردگرد روشنی کر دی تو الله پاک نے ان کی روشنی اچک لی اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا.
آپ اس تصویر کے رخ دیکھ چکے ہیں اب اس مزے کی بات کو سنیں. اگر آپ سب سے آخری حصے کو غور سے دیکھیں جو کہ یہ ہے أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى کہ یہ وہی ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تب آپ اس گراف کی پہلی آیت کو سمجھ جائیں گے جب الله پاک فرماتے ہیں کہ اس بات سے جو ایمان لانے والے نہیں ہیں انہیں فرق نہیں پڑتا کہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہیں وہ ایمان لانے والے نہیں.
سوال یہ ہے کہ وہ اتنے ضدی کیوں ہیں؟ آخر ایسے لوگ کس طرح ایمان لائیں گے؟  تو آپ کو معلوم پڑے گا کہا اس سوال کا جواب آخر میں دیا گیا ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ انہوں نے ہدایت کو بیچ دیا ہے. الله  پاک فرماتے ہیں ان کے دل مہر یافتہ ہیں. تصویر میں آپ نے دیکھا کہ اللہ پاک نے انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا ہے. روشنی کہاں ہوتی ہے؟ دل میں. پہلے گراف میں بتایا گیا ہے کہ الله پاک نے ان کے دلوں اور سماعت پر مہر لگا دی ہے.
کیا ان کے کانوں کی بارے میں گراف کے آخر میں کوئی بات کی گئی ہے؟ آخر میں الله پاک فرماتے ہیں صُمّ. اللہ پاک نے ان کے کانوں پر مہر کیوں لگائی؟ آپ کو معلوم ہے نا کہ اگر آپ اپنی ٹانگوں کا استعمال نہیں کریں گے تو آپ چلنے کے قابل نہیں رہیں گے. آپ کو کچھ بھی یاد ہے کہ انہوں نے اپنے کانوں سے سننا کیسے بند کیا؟ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں تھیں. اگر ایسا دیر تک کیا جائے تو آخر کار الله پاک سننے کی صلاحیت چھین لیتا ہے پھر احساس ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا.
مجموعی طور پر جو سوال گراف کے شروع میں اٹھے ان کے جوابات آخر میں دئیے جا رہے ہیں. شروعات میں اللہ پاک فرماتے ہیں
وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ
ان کی آنکھوں پر پردہ ہے. اور آخر میں بھی دکھایا جا رہا ہے کہ ہر طرف اندھیرا ہے اور وہ اندھے ہیں بوجہ اس پردے کے جو ان کی آنکھوں پر ہے. یہ پردہ اس اندھیرے کی وجہ سے بھی ہے اور ان کے اپنے اندھے پن کی وجہ سے بھی. سبحان الله
اب تصویر میں دوسرے اور پانچویں پیراگراف کو دیکھیں دونوں آمنے سامنے ہیں.
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ ﴿٨﴾
لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم الله اور آخرت پر یمان لائے.
جب کہ دوسری جانب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے. یعنی انہوں نے دو بار یہ بات کہی. ایک بار رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یقین دلانے کے لیے اور دوسری بار ایمان والوں کو متاثر کرنے کے لیے. جبکہ اللہ پاک فرما رہے ہیں وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ وہ ایمان لانے والے ہیں ہی نہیں. اب ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایمان والے نہیں؟ الله پاک ہمیں بتا دیں گے. الله پاک نے فرمایا "جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے". اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ "وہ واپس اپنے شیاطین کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں نہ نہ ہمارا وہ مطلب نہیں تھا ہم تو بس مذاق کر رہے تھے."
تو الله پاک جب آغاز میں فرماتے ہیں کہ وہ لوگ ایمان لانے والے نہیں تو ہم حیرانی سے کہتے ہیں واقعی وہ ایمان نہیں لائیں گے؟ اور آیات کے آخر تک آتے آپ خود ہی سمجھ جاتے ہیں کہ واقعی وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں کیونکہ وہ تو خود اس بات کا اقرار کرتے پھرتے ہیں کہ وہ ایمان نہیں لاتے وہ تو بس مذاق کرتے ہیں. الله پاک نے تو بس اس بات کو کھول کر سمجھا دیا ہے. سبحان و تعالیٰ.
قرآن پاک کا انداز بہت حیرت انگیز ہے. سبحان الله.
 وہ لوگ دوسروں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر اصل میں خود کو ہی دھوکا دے رہے ہوتے ہیں. آخر میں وہ وہ دوسروں کا مذاق اڑانے کی کوشش کرتے ہیں إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ﴿١٤﴾ مگر مذاق تو خود ان ہی کا بن رہا ہے. آغاز میں بھی ان کا دھوکا انہی پر الٹ پڑتا ہے اور آخر میں ان کا مزاق بھی.
پھر آغاز میں الله پاک فرماتے ہیں
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا
ان کے دلوں میں بیماری ہے اور اللہ اس بیماری کو بڑھائے دیتے ہیں.
ہم سوچتے ہیں کہ الله ان کی بیماری کو کیوں بڑھا دیتے ہیں؟ الله پاک بعد میں کھول کر بیان کرتے ہیں کہ
وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿١٥﴾
الله پاک انہیں ان کے سرکشی میں بڑھا دیتے ہیں. جب وہ سرکشی پر آتے ہیں تو الله پاک انہیں ڈھیل دے دیتے ہیں. اگر آپ کو ٹھیک سے یاد ہو تو يَعْمَهُونَ کا مطلب دل کا اندھا ہونا ہے. اصل میں یہ اس بیماری کا ہی نام ہے جو ان کے دلوں میں ہے. پہلے الله پاک فرماتے ہیں ان کے دل بیمار ہیں یہاں فرما رہے ہیں کہ اصل میں ان کے دل اندھے ہیں کیونکہ روشنی چھین لی گئی ہے. یہی مطلب ہے يَعْمَهُونَ کا.
دوسرے پیراگراف میں بھی ایک دلچسپ حقیقت بیان کرتے ہوئے الله پاک ان کا قصہ ختم کر رہے ہیں کہ "الله انہیں ان کے جھوٹ کی وجہ سے سزا دے گا". ان کے جھوٹ کون سے تھے؟ ان کا جھوٹ یہ تھا کہ جب وہ آئے تو انہوں نے کہا کہ وہ ایمان لائے جبکہ حقیقت میں یہ ان کا مذاق تھا. الله پاک نے فرمایا ہے
وَ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ
 کہ ہم ایسے ہی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں.
اور تصویر کے بالکل درمیان میں جہاں ایک طرف کہا جا رہا ہے
وَإِذَا قِيلَ لَھُم
"اور جب کہا جاتا ہے ان سے" تو دوسری جانب بھی یہی کہا جا رہا ہے
وَإِذَا قِيلَ لَھُم
ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ
لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ
تو دوسری طرف
آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
ایک طرف انہیں کہا جا رہا ہے کہ فساد مت پھیلاؤ اور اگر تم دوسروں کی طرف دیکھ کر بھی چلنا چاہتے ہو تو اچھے رول ماڈل دیکھو. یعنی انہیں کہا جا رہا ہے اچھے لوگوں کی طرح ایمان لے آؤ جبکہ وہ پہلے سے ہی خود کو بہت بہتر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں.
إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ.
جبکہ اگلی آیت میں صحابہ کرام کے بارے میں یہ سوچ رکھتے ہیں کہ
أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاء
کیا ہم ان بےوقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں؟
آخر میں ان آیات ۷-۱۰ تک میں الله پاک  کا غضب نظر آتا ہے ب وہ فرماتے ہیں
 ُأَلا ، أَلَا
سنو، دھیان کرو
إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ ﴿١٢}
إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ﴿١٣﴾
عین وسط میں انتہائی متوازن انداز قرآن ہی کا ہو سکتا ہے. تصویر میں کلی طور پر چھ پیراگراف ہیں پہلا پیراگراف چھٹے سے جڑا ہے دوسرا پانچویں سے اور تیسرا چوتھے سے. ایک مکمل توازن جو کہ پورے قرآن کا ہی انداز ہے. ضروری نہیں کہ بالکل اسی طرح ہر جگہ توازن اختیار کیا گیا ہو الگ بھی ہو سکتا ہے. کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ قرآن پہلے صرف پڑھا جاتا تب لکھا نہیں گیا تھا. رسول الله پر جب یہ آیات نازل ہوتی تھیں تو انہیں لوگوں کو سنا دیتے تھے. اب اگر آپ دھیان سے قرآن کا مطالعہ کریں تو آپ اس توازن کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے. ایسا کچھ جو اپنے آپ میں پرت در پرت حیرتیں رکھنے والا ہو. اس کے ساتھ ہی ہم آج کا لیکچر مکمل کرتے ہیں.
جاری ہے۔

جمعہ, جنوری 20, 2017

تدبرِ قرآن ۔۔۔ سورہ البقرۃ (نعمان علی خان) ۔۔ حصہ 21

تدبرِ قرآن
سورۃ البقرۃ
(حصہ-21)

السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تو اللہ تعالٰی نے انہیں لوگوں میں اپنا کلام نازل کیا. وہ لغت  میں، ماہر تھے.
پہلا منظر یہ تھا کہ ایک شخص نے اندھیرے میں آگ روشن کی. رسول صل اللہ علیہ والہ و السلام جب چالیس برس کی عمر کو پہنچے تو انہیں ابھی تک نبوت نہیں ملی تھی، لیکن پھر بھی وہ اپنے ارد گرد حالات کو دیکھ کر پریشان تھے انہیں دکھ ہوتا تھا کہ ان کے اردگرد کے لوگ بتوں کو پوجتے تھے، جن کو رسول صل اللہ علیہ والہ و السلام کبھی نہیں پوجتے تھے. وہ نہایت دکھی ہوتے تھے لوگوں پر ظلم ہوتا دیکھ کر. یتیموں کو دھکے دیے جاتے تھے. ضرورت مندوں کی کوئی مدد نہ کرتا تھا، بوڑھے حضرات کو سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہ تھا. اور رسول صل اللہ علیہ والہ و السلام نبوت ملنے سے پہلے بھی فلاحِ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے. وہ ہمہ وقت لوگوں کی مدد کو تیار رہتے تھے. اور حضرت خدیجہ رضی اللہ کی دولت کا بڑا حصہ انہی فلاحِ عامہ کے کاموں کے لیے وقف تھا. لیکن وہ اس سے مطمئن نہ تھے کہ وہ مظلوم کی مدد کرتے ہیں اور ظلم ہے کہ بڑھتا ہی چلا جاتا، وہ غریبوں کی مدد کرتے تھے لیکن غربت ختم ہی نہیں ہو رہی تھی. وہ کرپشن ختم کرنے کے لیے سرگرداں تھے مگر کرپشن بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی. اور یہ دنیا میں اس قدر برائیاں کیوں ہیں؟ یہ سب ان پر گراں گزرتا تھا . اور انہیں سکون کے لیے تدبر کے لیے وقت چاہیے تھا تو وہ کیا کرتے تھے کہ وہ مکہ چھوڑ کر ایک پہاڑ پر موجود ایک غار میں جایا کرتے تھے اور وہاں بیٹھ کر تدبر کیا کرتے تھے. اس پہاڑ کو جبل النور کہا جاتا ہے. روشنی کا پہاڑ. یہ نام جبل النور دیا اس لیے ہے کیونکہ اسی پہاڑ پر ایک پر نور فرشتے نے ان کو وحی کی روشنی عطا کی. پرانے دور میں بھی اس پہاڑ کو یہی نام دیا گیا تھا کیونکہ چاند کی روشنی اس پہاڑ کو منور کرتی تھی. اور لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہاں اگر  آگ روشن کی جائے تو وہ ہر طرف سے دیکھی جا سکتی ہے. اب ایسی کوئی روایت تو نہیں ہے کہ رسول صل اللہ علیہ والہ و السلام اوپر پہاڑ پر جا کر آگ روشن کیا کرتے تھے. لیکن یہ نہایت مشکل ہے کہ آپ پہاڑ کے اوپر جائیں اور اندھیرا ہونے پر آگ ہی نہ جلائیں. واللہ اعلم. ہاں وہ تنہا ضرور جایا کرتے تھے، لیکن کیا آپ کو  اس سے کوئی اور بھی یاد آتا ہے جو اوپر پہاڑ پر آگ لینے گیا ہو ؟ 
حضرت موسی علیہ السلام.
  دو گروہ ہیں جو یہاں قابلِ ذکر ہیں، پہلے تو مدینہ کے یہود، جو چھ سو سال سے آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے. اور دوسرے اہل مکہ، عربی زبان کے ماہرینِ لغت، جو ان کا فخر تھا، کہ وہ اپنی زبان کو اچھے سے جانتے ہیں. تو رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام ان لوگوں کے پاس قرآن کی آیات لے کر آئے. اور جب انہوں نے قرآن کی یہی آیات سنائیں تو جن دو گروہوں نے سب سے زیادہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا وہ کون تھے؟ پہلے تو عرب کے سب سے بڑے ماہرین، وہ پہلے لوگ تھے جو جانتے تھے کہ یہ کلام انسانی نہیں ہے. وہ سب سے زیادہ بہتر حال میں تھے کہ قرآن پاک کے کلام برحق ہونے کی گواہی دے سکیں. لیکن ان کے غرور نے ان کو ایسا نہ کرنے دیا. اخمس ابن شریق کی روایات پڑھ لیجیے کہ ابو سفیان اور ابوجہل،صرف یہ کلام سننے کی خاطر چھپ چھپ کر رات کے وقت رسول صل اللہ علیہ والہ و السلام کے گھر کے باہر آیا کرتے تھے، وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام کی زبان سے قیام الیل کے دوران یہ کلام سننے کے نہایت شوقین تھے. لیکن وہ یہ کسی کو بتانا نہیں چاہتے تھے. ایک رات ان سب نے ایک دوسرے کو چوری چھپے قرآن سنتے دیکھ لیا، ڈر گئے اور پوچھا "تم یہاں کیا کر رہے ہو؟" "اوہ........  میں.... وہ، تم خود یہاں کیوں آئے ہو؟ " پھر انہوں نے آپس میں قسم کھائی کہ وہ دوبارہ قرآن سننے نہیں آئیں گے. لیکن انہوں نے اگلی ہی رات اور پھر اس سے اگلی رات اور پھر اس سے اگلی رات بھی ایک دوسرے کو پھر سے قرآن سنتے ہوئے پایا. وہ اپنے آپ کو قرآن سننے سے روک ہی نہیں سکتے تھے. لیکن پھر انہوں نے سنجیدگی سے آپس میں فیصلہ کیا کہ اگر مکہ کے جوانوں کو خبر ہو گئی کہ ہم رات کو شوق سے قرآن سننے آتے ہیں اور دن کے وقت اس کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم اپنا وقار کھو بیٹھیں گے. اور ابو سفیان نے خود مسلمان ہونے کے بعد یہ واقعہ بتایا کہ ہم یوں کیا کرتے تھے.

میں آپ کو ایک نہایت زبردست اور دلچسپ واقعہ بتانا چاہوں گا. ولید بن مغیرہ، عرب کے نامی گرامی شعراء میں سے تھا. اس نے لوگوں سے کہا، تم لوگ کچھ نہیں جانتے، یہ شاعری  میرا شعبہ ہے، میرے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے، تم سب تو قرآن پر تنقید کر ہی نہیں سکتے. میں جا کے قرآن سن کر آتا ہوں اور پھر بتاتا ہوں کہ اس کی تکذیب میں کیا الفاظ استعمال کیے جائیں. تو وہ قرآن سننے گیا اور واپس آیا تو وہ بالکل  خاموش تھا. لوگوں نے اس سے کہا کہ کچھ تو بولو، ہمیں بتاؤ، وہ قرآن پہ تنقید کیا ہوئی جو تم ہمیں سکھانے والے تھے ؟ تو یہ ولید کے خود کے الفاظ تھے.

فو اللہ ما فی کم من رجل اعلم بالاشعار منی

"میں قسم کھا کر کہتا ہوں، تم میں سے کوئی بھی مجھ سے بہتر شاعری نہیں جانتا."

ولا اعلم رجزه ولا بالقصیدة و لا بالاشعار الجن منی

"اور تم میں سے کوئی بھی اشعار کے وزن کے متعلق یا قصیدہ و ہجو کے متعلق کچھ نہیں جانتا، حتی کہ جنات بھی یہ سب نہیں جانتے. "

واللہ ما یشبھون الذی یقول شيئاً من ھذا

"قسم خدا کی، ایسا کچھ نہیں ہے جو تم کہتے ہو."

واللہ ان لقوله الذی یقول حلاوةو ان علیه لا تلاوة

" خدا کی قسم! جو میں نے سنا ہے اس کلام میں نہایت مٹھاس ہے، حلاوت ہے جو کسی کلام میں نہیں دیکھی."

و انه لا مسئله اعله و انه لا يعلى و ما يعلى

" اور اس کے الفاظ کسی لے کی مانند دل میں اترتے چلے جاتے ہیں "

" و مغدق اسئله"  

اور تم لوگ نہیں جانتے

یہ کسی مسلمان کے نہیں بلکہ اسلام کے اولین دشمن ولید بن مغیرہ کے الفاظ ہیں. 

لوگوں نے اسے جواباً کہا کہ سنو جو تم یہ سب کہہ رہے ہو یہ کیا تنقید ہوئی؟ تمہاری یہ شاعری تو لوگوں کو پسند نہیں آنے والی. تم سے تو کچھ اور ہی توقعات تھیں، تو اس نے کہا اچھا مجھے سوچنے دو، پھر اس نے کہا اچھا لوگوں سے کہو کہ یہ جادو ہے، کیونکہ جادو محصور کر دیتا ہے، مغلوب کر دیتا ہے، جادو کی وضاحت نہیں دینی پڑتی، لوگ جانتے ہی نہیں زیادہ جادو کے بارے میں. جادو کیا ہے؟ ایمان لانا ان چیزوں پہ جنہیں آپ نہیں دیکھ سکتے، اور اس کے برعکس ایک ایمان بالغیب ہے جس میں اللہ اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا جاتا ہے تو چلو لوگوں کو غلط قسم کے ایمان بالغیب کی طرف دھکیل دو. 

کیا ان لوگوں نے آ کر کہا کہ قرآن نہایت خوبصورت کلام ہے؟ انہوں نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا. ایک طرف انہوں نے قرآن سننے سے ہی انکار کر دیا. "صم" بہرے ہیں. لیکن اگلی بات نہایت عجیب ہے، "بکم " وہ گونگے ہیں، وہ بولتے ہی نہیں، اور کیا نہیں بولتے؟ وہ جو ان کے دل میں ہے. کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے اور کلام برحق ہے.

"صُمٌّ"سے اگلا طنز کیا ہے؟
 نہائیت عجیب!  ُبکْمٌ۔۔۔ وہ بول ہی نہیں سکتے۔
 کیا نہیں بول سکتے؟
جو ان کے اندر ہے. ان کے دل میں ہے. ان کے اندر کیا ہے؟
الله تعالٰى کے الفاظ جو سچے ہیں. یہ تو وہ کہہ سکتے ہیں ناں...
جیسے پرائیویٹ میڈیا میں تو آپ خوب بول سکتے ہیں کیونکہ الفاظ آپ کے منہ میں ڈالے جاتے ہیں. اور اس سے باہر  کی دنیا میں آپ گونگے ہیں." بکم" یعنی کچھ نہیں کہہ سکتے.
اس کے بعد ہے " عُمُی " وہ اندھے ہیں. اس طرح یہ ساری ترتیب سمجھ میں آجاتی ہے.
اگر آپ الله تعالٰى  کی باتوں کو سن رہے ہوں،  تو یہ ایک لازمی امر ہے کہ آپ مزید جاننا چاہیں گے.
جب کوئی شخص آپ سے کچھ سیکھنا چاہتا ہے. تو وہ آپ کے پاس آئے گا. اور سوالات اور دوسرے لوگوں سے باہم گفتگو سےسیکھنے کے عمل کو بڑھائے گا.
صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين ہر وقت آپ سے سوالات کرتے تھے.  ما ھذا؟ (کہ یہ کیا ہے؟) پس کوئی بھی چیز سیکھنےکیلئےپہلے سننا ضروری ہے. پھر سوالات کی باری آتی ہے، یعنی بولنے کی.
صم:  ان کی سننے کی حس پر مہر لگا دی گئی ہے.
بکم : ان کی بولنے کی صلاحیت صلب کر لی گئی ہے.
عُمْيٌ: اندھے ہیں۔
اگر وہ سن رہے ہوتے، بول رہے ہوتے، اور سیکھ رہے ہوتے تو،  ان کی چیزوں کو دیکھنے کی، مشاہدہ کرنے کی صلاحیت مختلف ہوتی. وہ بصیرت کے حامل ہوتے. لیکن اس وقت اس صورت حال میں، وہ مکمل طور پر اندھے ہیں. ان کے اندھے پن میں کوئی حیرانی کی بات نہیں.

  (صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (18)

اب ہم آتے ہیں اس آیت کے خوبصورت حصے کی طرف 
       
  " فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ"
وہ نہیں ہیں واپس آنے والے. 

کس جگہ واپس آنے والے؟ کس کی طرف واپس نہیں آنے والے؟
اب ان كي اس جگہ، اس فطرت کی طرف واپسی، جس پر اللہ نے ان کو بنایا ہے، نا ممکن ہے.
ان کی سب سے پہلی چیز جو اللہ نے چھین لی ہے وہ ہے روشنی، ان کی بینائی، ان کا نور.
آپ جانتے ہیں كہ جب ایک انسانی بچے کی ڈیویلپمنٹ ہوتی ہے، تو اس کے اندر جو روح ڈالی جاتی ہے،  وہ بھی نور کہلاتی ہے.
 رسول الله صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا کہ
    "اول ما خلق الله نوري "
پہلی روح جو اللہ نے بنائی، وہ میری روح تھی.
آپ  صلي الله عليه وسلم  نے بھی یہاں لفظ نور استعمال کیا ہے،. یہ ہمارے اندر/ ہمارے دل میں رہتی ہے اور "نور" کہلاتی ہے.

قرآن پاک بھی نور ہے. جیسے ہم یہ دعا مانگتے ہیں :
         " اللہم نور قلوبنا بنور القرآن"
اے اللہ ہمارے دلوں کو قرآن کے نور سے منور فرما دے۔
اسی طرح سورت النور اللہ تعالٰى ایک تمثیل میں  فرماتے ہیں کہ الله  نے ان کے دلوں سے نور نکال دیا ہے.
تو وہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ الله  نے ان کے دلوں میں نور ( روشنی) رکھا  تھا، تاکہ وہ وحی کی روشنی کو پہچان لیں اور یہ اس پہچان کیلئے کافی تھا. لیکن ان لوگوں نے وحی کو ماننے سے انکار کیا، تب ان کے غرور نے ان کی اندرونی روشنی کو بھی ڈھانپ دیا اوراس اندرونی روشنی کو باہر نہیں نکلنے دیا. پھر اس وقت الله تعالى نے فیصلہ کیا کہ اگر تم لوگوں کو اس ودیعت کردہ نور کی ضرورت نہیں تو میں اس کو نکال باہر کیے دیتا ہوں.
یہ الله تعالي  کا اصول پیدائش ہے کہ اگر آپ الله  کی دی ہوئی چیزوں کو یا صلاحیتوں کو استعمال نہ کریں. تو الله  اسے واپس لے لیتے ہیں. الله  تعالٰى نے مجھےہاتھ دئیے ہیں، آنکھیں دی ہیں. لیکن اگر میں اپنی آنکھوں پر ایک سال کیلئے بلائنڈز لگا لوں، تو کیا ہوگا؟ اندازہ کریں!!! جب میں بلائنڈز کو ہٹاؤں گا تو میں سمجھوں گا کہ میں اندھا ہو چکا ہوں.
 اسی طرح اگر میں ایک سال تک اپنی ٹانگوں کواستعمال نہ کروں، بستر پر لیٹا رہوں تو کیا ہوگا؟
بھئ جب میں نے پورا سال ٹانگیں استعمال ہی نہیں کیں تو کیا میں کھڑے رہنے کے قابل ہوں گا؟
ہرگز نہیں یہ سب کیا ہے؟ ایٹروفی.(اعضاء کا ناکارہ پن)
الله تعالٰى  طبعی دنیا میں بھی یہی سب کچھ پیدا فرماتے ہیں۔
اگر آپکو کوئی صلاحیت دی گئی ہے اور آپ اس کو بروئے کار نہیں لاتے.  تو آپ اس صلاحیت کو کھو دیتے ہیں.الله  آپ سے اس صلاحیت کو دور لے جاتے ہیں۔ بالکل ایسا ہی ہماری روحانیات کے ساتھ بھی ہے. الله عزوجل نے سچائی قبول  کرنے کی صلاحیت دی ہے. لیکن اگر آپ سالہا سال سچ کو دیکھتے رہیں ، مگر قبول نہ کریں تو کیا ہوگا؟
الله آپ سے سچ قبول کرنے کی صلاحیت ہی واپس لے لے گا۔ 
  ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ (17) 
     الله ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے.
دوسری طرف یہود ہیں جو پیغمبر کا انتظار کر رہے تھے.
وہ روشنی / وحی کے منتظر تھے. لیکن جب وہ وحی / روشنی آگئی تو؟ ان کا رویہ ملاحظہ کیجئے:
قرآن کہتا ہے:
       
 الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (146)
    
 وہ اس کو ایسے پہچانتے تھے جیسے اپنے بچوں کو پہچانتے تھے.

وہ قرآن کو ایسے پہچانتے تھے جیسے اپنے بچوں کو.

اب بظاہر کوئی اندھیرا نہ رہ گیا تھا، شک کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ یہ وہی وحی ہے جس کے وہ صدیوں سے منتظر تھے لیکن ان کا نسلی غرور ان کو یہ قبول نہ کرنے دیتا تھا. وہ کہتے تھے ہم کس طرح ان مغضوب لوگوں کو قبول کر سکتے ہیں؟  جو وراثتی طور پر بھی ہم سے کم تر ہیں. اوران کم تر لوگوں میں سے ہی پیغمبر، جو لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتا.

( آپ گزشتہ آیات میں جان چکے ہیں کہ وہ ان ایمان لانے والے عربوں کو کیا کہتےتھے؟ سفھا= بےوقوف۔ فول)
وہ کہتے تھے کہ ان مغضوب لوگوں کی بات ہم کیسے قبول کر سکتے ہیں؟ کبھی بھی نہیں۔
 تب االله تعالى  فرماتے ہیں: ٹھیک ہے! میں نے تو تمہیں تمہاری اپنی روشنی دی تھی، یعنی تورات تمہارے پاس موجود تھی۔ اس کے ذریعے سے تم قرآن کی سچائی کو جان سکتے تھے، تم نے اس کو دیکھا بھی مگر دیکھنے کے بعد کیا چیز تھی،  جو تمہارے دل میں رہ گئی؟
 اگر آپ سچائی کو دیکھنے کے بعد بھی قبول نہیں کر رہے، اپنی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لا رہے تو کیا ہوتا ہے؟  
   
   ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ (17) 
  (صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (18)
 

 اب تو وہ بہرے بھی ہیں۔ جتنا بھی قرآن سن لیں۔ اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا، کیونکہ وہ ان کے دلوں تک تو پہنچ ہی نہیں رہا۔ وہ سچائی کو سن رہے ہیں، دیکھ رہے ہیں، مگر ان کے اندر اس وحی سے گونج پیدا نہیں ہورہی۔ اس لئے وہ کچھ بھی نہیں کہہ پا رہے۔
اگر وہ صحیح معنوں میں سنتے اور اس کو سمجھتے ہوتے تو ان کو کہنا چاہئیے تھا کہ ہم نے اس کو اپنی کتاب میں پڑھا ہے۔
 مگر وہ اس کو کنفرم کرنے کیلئے بھاگے بھاگے اپنے علماء کے پاس جاتے تھے جو ان کو جواب دیتے کہ اس بات کے بارے ہم  کچھ نہیں کہہ سکتے، اس بات کو اپنے تک ہی محدود رکھو
چلو چلو. اس کو چھوڑو۔  کسی اور موضوع پر بات کرتےہیں. اس لفظ  سے آگے چلتے ہیں۔
 وہ نہ صرف الفاظ کو ہذف کر دیتے تھے، بلکہ وہ الفاظ کو ان کی مقرر کردہ جگہوں سے بدل بھی دیتے تھے.
اللہ نے ان کے اس عمل کیلئے "فعل حال" استعمال کیا ہے. کہ وہ آج بھی الفاظ کو ان کی جگہوں سے مسلسل بدل رہے ہیں
 .وہ یہ سب صرف ماضی میں ہی نہیں کرتے رہے. بلکہ وہ آج بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔
 پچھلی صدی کے ایک مشہور سکالر حمید الدین فراہی رحمتہ اللہ علیہ جو میرے لئے ایک رول ماڈل ہیں انھوں نے ایک امیزنگ کتاب لکھی.
 ’’الرائی الصحیح فی من ھو الذبیح‘‘ اس کتاب میں پہلے قربانی کی حقیقت اور اسلام میں اس کی اہمیت پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد تورات اور قرآن  سے دلائل ہیں.
ان کی تحقیق  قابل تحسین ہے. وہ عربی زبان کے ایک  ذہین عالم تھے. وہ عبرانی کے بھی ماسڑز تھے.  انھوں نے آٹھ سال تک عبرانی سیکھی محض ایک مسئلہ کی تحقیق کیلئے۔  وہ مسئلہ کیا تھا؟ کہ حضرت ابراہیم عليه السلام  کے کون سے صاحبزادے کی قربانی پیش کی گئی تھی؟
 یہود کہتے ہیں کہ وہ اسحاق عليه السلام ہیں.
 .جبکہ زیادہ تر مسلمان کہتے ہیں کہ وہ اسماعیل عليه السلام  ہیں
یہود کیوں حضرت اسحاق پر زور دیتے ہیں؟ اس لئے کہ وہ ان کی نظر میں  مبارك /خوش قسمت  بچے ہیں. اور اسماعیل مغضوب /ملعون ( نعوذبالله) بچے ہیں. اس سے اگلی بات یہ کہ تمام عرب بھی ملعون  ہیں. ان کا مذہب یعنی اسلام بھی کرسڈ ہے. کیونکہ وہ ملعون لوگوں کی طرف آیا تھا.
 یہود کا یہ مسئلہ کہاں سے شروع ہوا تھا؟ قربانی سے. 
حمیدالدین فراہی صاحب نے فیصلہ کیا کہ اس کی تحقیق کی جائے۔
آپ دیکھیں گے کہ ان کی لکھی گئی کتاب کا پہلا حصہ در حقیقت تورات سے متعلقہ ہے. محض عبرانی تورات پر۔ یعنی ان کی کتاب کا ابتدائی حصہ مکمل طور پر تورات کی عبارتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد انھوں نے تقابلی جائزہ پیش کیا۔ كه یہود نے کہاں کہاں تبدیلیاں کی ہیں؟؟؟ مثال کے طور پر: 

۱- ابراہیم علیہ السلام شفاء اور مورہ کے درمیان گئے.
  اب ذرا یہ الفاظ ملاحظہ کریں صفاء اور مروہ کی جگہ پر شفا اور مورہ.

۲- پانی کے چشمے والی، بنجر وادی میں، سلیمان علیہ السلام کی عبادت گاہ کے پاس.
 اوہ میرے خدایا! کیا اس وقت سلیمان عليه السلام کی عبادت گاہ موجود تھی؟
  یہ واقعہ ابراہیم عليه السلام کے دور کا ہے جبکہ سلیمان علیہ السلام  کی عبادت گاہ تو کئی سو سال بعد میں تعمیر ہوئی.
محترم مصنف نے ان کی اس طرح کی کافی باتوں کو بے نقاب کیا ہے.

 ۳- اور قربان گاہ کہاں تھی؟
     مقدس وادی "وادئ  ثقہ"میں.  واہ بھئ! کیا بات ہے؟ مکہ سے محض تھوڑی سی تبدیلی ہی ناں. کوئی زیادہ بڑی بات تو نہیں (طنز)

اس طرح  حمیدالدین صاحب نے ان کی تحریفات پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح یہود نے ایک منظم طریقے سے یہ تصویر پیش کی ہے کہ قربانی اسماعیل علیہ السلام کی نہیں. بلکہ اسحاق عليه السلام کی پیش کی گئی، یعنی ذبیحہ والا واقعہ اسماعیل کا نہ سمجھا جائے۔

اب عرب نسلی طور پر کون ہیں؟ حضرت اسماعیل عليه السلام کی اولاد. ( تو وہ اہل یہود کو کیسے پسند آسکتے تھے)....
  یہود قرآن پاک کی آیات کو پہچانتے تھے۔ وہ آیات کی تعریف بھی کرتے تھے۔
پھر سوال یہ ہے کہ اللہ نے کیوں ان کی بصارت، گویائی اور سماعت چھین لی ہے؟  ان کو کیوں کچھ دکھائی نہیں دے رہا؟
 ان کے پاس پہلے بصارت تھی. تو جب انھوں نے وحی کو پہچاننے سے انکار کیا، اپنی بصارت کو استعمال نہیں کیا، تو اللہ نے کہا: ٹھیک ہے! اگر تمہارا یہی رویہ ہے تو یہی صحیح.
           " وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ"
اللہ نے ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکنے کیلئے چھوڑ دیا ہے.
ان کے دل اندھے ہوچکے ہیں.

اب ہم اس تصویر کے دوسرے بڑے پہلو کی طرف آتے ہیں.
     
 أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ۚ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ (19)

آسمان سے موسلا دھار برستی بارش کو دوبارہ سوچیں۔
رات کا وقت ہے بارش کے ہر قطرے کا سائز مٹھی برابر ہے ( صیب)
یہ بہت شدید ہے. عین اوپر سے برس رہی ہے. جب ایسی شدید بارش ہو تو کیا آپ ڈرائیو کر سکتے ہیں؟
چلیں یہ بتائیے کہ کیا آپ کو ایسی موسلا دھار بارش میں کچھ سجھائی دیتا ہے؟ آپ واقعی اپنے آپ کو اندھا محسوس کرتے ہیں.
اس آیت میں "من السماء یعنی آسمان سے" کیوں استعمال ہوا ہے؟ بارش تو ظاہری بات ہے کہ آسمان سے ہی برستی ہے تو پھر اس لفظ کی کیا ضرورت تھی؟
 اس کا مقصد یہی بتانا ہے کہ یہ عین آپ کے اوپر سے برس رہی ہے، سیدھی اوپر سے، یہ بہت خوفناک بات ہے. 
.اللہ فرماتے ہیں:
      " فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ"
اس بارش میں اندھیروں کی تہیں ہیں، یہ محض رات کا اندھیرا نہیں ہے. بلکہ ساتھ گہرے بادلوں کا اندھیرا بھی ہے، پھر بادلوں سے اوپر اور اندھیرا.
جب کہیں آگ جلائی جائے اور اس پر بارش گر ے تو وہ بجھ جائے گی. یعنی آگ جلانا محال ہے.
    یہ ہے ظلمات، اندھیرے پر اندھیرا.
    اب ساتھ کچھ اور بھی ہے:
   الرعد (دھماکے)
  والبرق (بجلی چمکنا)
اب جبکہ آپ بمشکل دیکھ پا رہے ہیں یعنی بصارت کم ہے،
ساتھ ہی تیز بارش کی آواز میں، بجلی کی گرج اور کڑک کی آواز کانوں کو بہرا کرنے کو کافی ہے( یعنی قوت سماعت بھی کام نہیں کر پارہی)،  ایسے میں ان لوگوں کا فوری ردعمل کیا ہے؟
    " یجعلون اصابعھم فی اذانھم"
وہ اپنی "انگلیاں" اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں "انگلی کی پور" کو عربی میں "انامل" کہتے ہیں. اب دیکھئے کہ یہاں اللہ نے انگلی کی پور کا ذکر نہیں کیا، بلکہ"پوری انگلی" کا ذکر ہے. کیونکہ وہ ان دھماکوں سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو رہے ہیں.
   "صواعق" کیا ہے؟
بجلی زمین پر گرنے سے ہونے والا دھماکہ، جس سے خوفزدہ ہو کر وہ انگیاں کانوں میں ڈال رہے ہیں، اگر تھوڑی سی بھی آواز کان کے اندر جاتی ہے. تو وہ اور زور سے دبا لیتے ہیں. کیونکہ دھماکے مسلسل ہورہے ہیں.
اس لئے "اصابعھم فی اذانھم" استعمال ہوا ہے.
     "حذرالموت"
وہ یہ کان بند کرنے کی احتیاط کیوں کررہے ہیں ؟
یہ سب وہ موت کے خوف سے کر رہے ہیں، یاد رہے موت سے بچنے کیلئے نہیں، بلکہ موت کے خوف سے۔
آپ تصور کریں کہ بجلی چمک رہی ہے.آپ کے ارد گرد دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ آپ کا غیر ارادی فعل کیا ہو گا؟
کیا کانوں میں انگلیاں ڈالنا آپکو ان سب سے بچاسکتا ہے؟بالکل  نہیں۔
 یہ ردعمل اس وقت ہوتا ہے جب ایک شخص کسی جذبے کے تحت بہت زیادہ مغلوب ہو جائے، بے بس ہو جائے۔ 
جب وہ شدید دباؤ والے حالات میں ہو. وہ کوئی جائے پناہ نہ پاتا ہو. اسے کچھ نظر نہ آرہا ہو. کہ میں کیا کروں ؟ کدھر جاؤں؟اور وہ اعصابی طور پر وہ ٹوٹ چکا ہو..۔
تو اس وقت وہ اس طرح کا احمقانہ ردعمل (یعنی انگلیاں کانوں میں ٹھونسنے کا) اپناتا ہے. اسی جگہ کھڑے رہنا اور گمان کرنا کہ کچھ بھی نہیں ہورہا۔

اب اللہ فرماتے ہیں. " والله  محیط بالکافرین"
اللہ کافروں کو واپس کھینچ لیتا ہے، اللہ ان کو احاطہ کئے ہوئے ہے.
یہ کوئی تمثیل، یا تشبیہہ نہیں ہے. بلکہ یہ اصل حقیقت ہے۔

( آپ دوبارہ اسی ماحول میں آجائیے، کیونکہ تصویر ابھی مکمل نہیں ہوئی)

یہاں ان آیات میں کون سے کافر مراد ہیں؟ کس کٹیگری کا ذکر ہے؟ تھوڑا سا یاد کریں.
پہلی مثال مختصر تھی۔
دوسری وسیع ہے۔
پہلے میں رات کا وقت ، صحرا، اور روشنی چلی گئی.
دوسرے میں صحرا، موسلا دھار بارش، بجلی کے دھماکے، جب بجلی چمکتی ہے تو وہ تقریبا تقریبا ان کی بینائی چھین لیتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اندھیرے میں وہ کچھ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ 

-نعمان علی خان

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدھ, جنوری 18, 2017

میں تو ہوں صرف پہنچا دینے والوں میں سے !‘‘

 میں تو ہوں صرف پہنچا دینے والوں میں سے !‘‘

’ میں پناہ چاہتا ہوں الله کی دھتکارے ہوئے شیطان سے۔
 الله کے نام کے ساتھ جو رحمٰن اور رحیم ہے۔

"اور جب ان پر وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں لاتے تھے۔‘‘

AN-NAML : 82

’’النمل کی آخری آیات میں ایک زمین کے جانور کا ذکر ہے جو قربِ قیامت زمین سے نکلے گا‘ اور لوگوں سے باتیں کرے گا۔ ویسے تو یہ ایک قیامت کی نشانی ہے مگر یہ اس سورۃ کے اختتام میں آئی ہے جوچیونٹیوں کی سورۃ ہے ...جس کے ہر واقعے میں ایک ایک چیونٹی اکیلی سارے عالم سے ٹکراتی ہے ‘ ان کو اصلاح کی طرف پکارتی ہے‘ ان کا ہاتھ ظلم سے روکتی نظر آتی ہے ....مگر ہر کوئی اسے نہیں سنتا....ہم چیونٹیوں جیسے لوگوں کی جب متکبر لوگ بات نہیں سنتے تو آخر میں زمین پھٹتی ہے ‘ اور بڑے بڑے جانور نکل کر...انہی جیسے خوفناک جانور نکل کے انہیں عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں....جب چیونٹیوں کو قدموں تلے پیسا جاتا ہے تو وہ کاٹیں یا نہ کاٹیں‘ زمین کے اندر چھپے جانوروں کو باہر نکال لاتی ہیں وہ....‘‘

اور آگے الله فرماتا ہے...’’‘. اورجس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے پھر ان کی جماعت بندی ہو گی یہاں تک کہ جب سب حاضر ہوں گے کہے گا کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم انہیں سمجھے بھی نہ تھے یا کیا کرتے رہے ہو۔اور ان کے ظلم سے ان پر الزام قائم ہو جائے گا پھر وہ بول بھی نہ سکیں گے۔‘
AN-NAML : 83-85

یہ آیات ہر مظلوم کے دل کو ٹھنڈک دیتی ہیں۔ ان کو پڑھ کے ‘ ان کو سمجھ کے میں نے یہ جانا ہے کہ آج عدالتوں میں‘ ٹی وی پہ ‘ چوراہوں اور چوک میں‘ یہ ظالم ‘ بارسوخ کرپٹ لوگ کتنا مرضی جھوٹ بول لیں‘ ابھی قیامت نہیں آئی۔ اور جب آئے گی ‘ تو وہ بول بھی نہیں سکیں گے۔ اس دن ان کی کوئی صفائی ‘ کوئی توجیہہ نہیں سنی جائے گی ۔ ہاں کبھی تو ان ظالموں کی بھی زبان بند ی ہو گی۔ اس لئے ان کی زبانوں سے ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے۔

’’کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات بنائی تاکہ اس میں چین حاصل کریں اور دیکھنے کو دن بنایا البتہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جوکوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے سب ہی گھبرائیں گے مگر جسے الله چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے۔‘‘

AN-NAML : 86-87

یہ آیات سن کر میرے دوستو...کیا ہم صرف اپنے دشمنوں کی عاقبت کا سوچتے ہیں یا اپنا بھی سوچتے ہیں؟ کیا ہم اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہنے والے کام کر تے ہیں؟

’’اور تو جو پہاڑوں کو جمے ہوئے دیکھ رہا ہے یہ تو بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے اس الله کی کاریگری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنا رکھا ہے اسے خبر ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘

AN-NAML : 88

درست فرمایا الله نے ۔ چاہے وہ ظالم لوگ ہوں یا ظالم حالات یوں لگتا ہے وہ پہاڑ جیسے ہیں۔ جمے ہوئے۔ کبھی ہماری زندگیوں سے ‘ ہمارے راستوں سے نہیں ہٹیں گے...مگر ایسا نہیں ہے۔ میں نے ان ظالم لوگوں اور ظالم حالات کو روئی کے گالوں کی طرح دھنکے جاتے دیکھا ہے....باقی رہ جانے والا صرف الله ہے....باقی سب کو زوال آنا ہے....خود ہمیں بھی....

’’جو نیکی لائے گا سواسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے بھی امن میں ہوں گے۔‘‘

AN-NAML : 89

الله تعالیٰ ہمیں اس آیت میں یہ بتاتا ہے کہ ہمیں سکون ‘ انعام ‘ جنت ‘ یہ چیزیں اپنی نیکیوں کے ’’بدلے ‘‘ کے طور پہ نہیں ملیں گی‘ بلکہ جو بھی نیکی کرے گا اس کو اس کی نیکی سے ’’بڑھ کے‘‘ بدلے میں یہ سب ملے گا۔ پھر جب فیصلے کی گھڑی آئے گی ‘ تو یہ ہماری چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوں گی جو ہمارے دل کو دنیا اور آخرت میں گھبراہٹ سے بچائیں گی۔ اگر آپ کا دل بات بہ بات گھبرا جاتا ہے تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر نیکیاں کیا کیجئے ۔ کسی کا دل رکھ لینا ‘ کسی کو پانی پلا دینا‘ زبان پہ طنز آ جانے کے باوجود کسی کو ہرٹ نہ کرنے کے لئے اس کو لبوں سے نہ نکالنا‘ خاموش رہنا....اور ایسے ان گنت کام آپ کے دل کو بہادر بنائیں گے....یاد رکھیں....ہر نیکی دوسری نیکی کا راستہ کھولتی ہے....

’’ اور جو برائی لائے گا سو ان کے منہ آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے تمہیں وہی بدلہ مل رہا ہے جو تم کرتے تھے۔‘‘
AN-NAML : 90

یعنی الله انسان پہ ظلم نہیں کرے گا۔ اس دنیا میں تو ہمیں ہمارے اعمال سے کم یا زیادہ مل جاتا ہے مگر اس بڑے دن ہمیں اس کا بدلہ ملے گا جو ہم کرتے تھے۔ ہم پہ کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ وہ وعدہ کرتا ہے تو اسے سچ کر کے دکھاتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ دعا مانگو ‘ میں قبول کروں گا‘ تو ہم اس وعدے کو سچ کرنے کے لئے دعا میں شدت کیوں اختیار نہیں کرتے؟ ہاں ہمارے ارد گرد کا معاشرہ بدل رہا ہے‘ لوگ بدل رہے ہیں‘ زمانہ بدل رہا ہے‘ مگر الله نہیں بدلے گا۔ الله کا وعدہ نہیں بدلے گا۔ الله اپنے سارے وعدے پورے کرے گا۔ کیا ہم کریں گے؟

’’(کہہ دو) مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر کے مالک کی بندگی کروں جس نے اسے عزت دی ہے اور ہر ایک چیز اسی کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں۔اور یہ بھی کہ قرآن سنا دوں پھر جو کوئی راہ پر آ گیا تو وہ اپنے بھلے کو راہ پر آتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو کہہ دو میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں۔اور کہہ دو سب تعریف الله کے لیے ہے تمہیں عنقریب اپنی نشانیاں دکھا دے گا پھرانہیں پہچان لو گے اور تیرا رب اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو۔‘‘

AN-NAML : 91-93

اور ان آیات کو سنانے کے بعد ...میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں...کہ میں نے یہ جان لیا ہے کہ میرا کام تھاصرف پہنچا دینا ۔ہمارا کام پیغام پہنچا دینا ہوتا ہے۔ اسلام کو زبردستی لوگوں کے اوپر نافذ کرنا نہیں ہوتا۔ آپ دین کو جبر اور سختی سے کسی کے عمل میں شامل نہیں کر سکتے۔آپ ججز سے زبردستی انصاف بھی نہیں کروا سکتے۔ ہم نے صرف سچ کے لئے آواز بلند کرنی ہے ‘ ا سکے لئے لڑنا ہے ‘ کوشش کرنی ہے۔ ہمارے ہاتھ میں صرف کوشش ہے۔ کامیابی صرف الله کے ہاتھ میں ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ہم ہر دفعہ کامیاب بھی ہوں‘ ہم ہر دفعہ جیتیں بھی سہی۔ ہم نے صرف اپنا ہنڈرڈ پرسینٹ دینا ہے۔ کیونکہ ہمارا یہی کام ہت۔ خود عمل کرنا اور صرف دوسروں کو پہنچا دینا۔ آگے کوئی مانے یا نہ مانے ‘ میں تو ہوں صرف پہنچا دینے والوں میں سے !‘

  نمرہ احمد کے ناول نمل کی آخری قسط سے ...

منگل, جنوری 17, 2017

ہمارا حساب ہماری جیومیٹری


"دائرہِ زندگی"
( نورین تبسم )
"ہمارا حساب ہماری جیومیٹری"

ہر انسان آزاد ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے - جس کو چاہے حاصل کر سکتا ہے لیکن اُس کی حد اُس کی اپنی ذات تک ہے جہاں سے کسی دوسرے کی ذات کسی دوسرے کی سوچ کسی دوسرے کے محسوسات ، کسی دوسرے کی عزت ، کسی دوسرے کی ذاتی زندگی اور سب سے بڑھ کر اپنے مالک کی (مقرّر کردہ حدود ) جو کہ اُس کی اپنی بقا کے لیے ہی ہیں -شُروع ہوتی ہیں وہاں اُس کی حد ختم ہو جاتی ہے
ہم میں سے ہر شخص جو مرضی کرے جس طرح کی زندگی کی خواہش رکھتا ہے اُسے گُزارے- جس شے سے اُسے خوشی ملتی ہے اُسے حاصل کرے - دوسروں کے ساتھـ کسی بھی طرح کا رویہ اختیار کرے ، اپنے آپ کو جلا کر تسکین تلاش کرلے- کُچھـ بھی کرے بس ایک کام ضرور کرے کہ جو بھی چاہے اپنے دل کے ساتھـ اپنی عقل کو بھی اس میں شامل کرے - خواہ خود غرض بن جائے کہ کسی کا فائدہ نہ سوچے ، اپنا مفاد عزیز رکھے ، لیکن اپنی آنکھیں کُھلی رکھے ، بند آنکھوں سے کوئی کام نہ کرے ، اُس کام کی پائیداری دیکھـ لے ، یہ دیکھے کہ اس فعل سے اسے کب تک اور کہاں تک سکون ملے گا ، یہ عمل کب تک اس کا ساتھـ دے گا - اس کی اپنی زندگی میں اس سے کیا تبدیلی آئی ہے وہ خود کامیاب ہو گیا یا ناکام - اس کی خوشی بڑھ رہی ہے اور اس سوچ سے اُس کی عمر میں کتنا اضافہ ہوا ہے یہ دیکھے- اگر اس کی عمر کی میعاد بڑھ گئی ہے تو پھر تو بہت اچھی بات ہے اگر ہمیشہ کی بقا حاصل ہو جائے تو پھر کیا غم جب کہہ دیا گیا کہ یہ کائنات انسان کے لیے تخلیق کی گئی "تو یہ حرفِ آخر ہے"
ہمارا سب سے پہلا سبق اپنی عقل کا استعمال کرنا ہے - اپنی سوچ کے 'دائرے ' کا اپنی ذات سے آغاز کرنا ہے پھر یہ دائرہ خود بخود وسیع ہوتے ہوئے کائنات کے سربستہ رازوں کے کھوج تک پُہنچ جائے گا.
المیہ یہ ہے کہ ہم دائرے نہیں بنا تے -ہم لکیریں بناتے ہیں دیواریں بناتے ہیں،جن کے مختلف سائز اور الگ زاویے ہوتے ہیں کوئی صفر سے شُروع ہوکر تین سو ساٹھـ درجے تک کہ پھر صفر سے شروع ہونا پڑتا ہے- کبھی ہم کسی زاویے کو پسند کرتے ہیں اور کبھی کوئی ہماری زندگی ہمارے طرزِ فکر پر حاوی ہو جاتا ہے- اسی بھاگ دوڑ میں پرچہ ختم کرنےکا وقت آجاتا ہے اور ابھی ہم لکیروں اور زاویوں کے پیچ و خم سے ہی باہر نہیں نکلے ہوتے دائرہ صرف اپنے وجود کی شناخت رکھتا ہے- دائرے کا کوئی زاویہ کوئی سِرا نہیں ہوتا،- اس کی کوئی حد نہیں، یہ بڑھتا جائے تو اس کے بہاؤ میں رُکاوٹ نہیں یہ اپنے اندر اتنی گہرائی اتنی معنویت رکھتا ہے کہ سب کُچھـ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے -دائرہ ہی ہماری زندگی ہے کہ اس کی بھی حد ہے ، لائن ہے اور یہی ہماری تقدیر ہے کہ ہم ان لکیروں سے باہر نہیں جا سکتے - ان کے اندر رہ کر ہی ہم نے اپنے آپ کو سنوارنا بھی ہے اور بگاڑنا چاہیں تو اس کے بھی پورے مواقع ہیں -


سوموار, جنوری 16, 2017

دنیا دھوکے میں کیسے ڈالتی ہے


یہ دنیا دھوکے میں کیسے ڈالتی ہے عائشے؟ ۔۔۔۔ "جب یہ اپنی چمکنے والی چیزوں میں اتنا گم کر لیتی ہے کہ اللہ بھول جاتا ہے۔"
"کیا مجھے بھی دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟"
"پہلی دفعہ دھوکا انسان بھولپن میں کھاتا ہے مگر بار بار کھائے تو وہ اس کا گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر احساس ہونے کے بعد نہ کھائے تو اسے ایک بری یاد سمجھ کر بھول جانا چاہیے اور زندگی نئے سرے سے شروع کرنا چاہیے۔"

"نئے سرے سے؟ ایسے یوٹرن لینا آسان ہوتا ہے کیا؟ انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ خوبصورت لگے ، خوبصورت لباس پہنے، کیا یہ بری بات ہے؟" اس کی آواز میں بے بسی در آئی تھی، جیسے وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی۔ کیا غلط تھا کیا صحیح ، سب گڈ مڈ ہورہا تھا۔

"نہیں! اللہ خوبصورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ چیزیں زندگی کا حصہ ہونی چاہئیں۔ مگر ان کو آپ کی پوری زندگی نہیں بننا چاہیے۔ انسان کو ان چیزوں سے اوپر ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ میری طرح ہوتے ہیں جن کی زندگی لکڑی کے کھلونے بنانے ، مچھلی پکڑنے اور سچے موتی چننے تک محدود ہوتی ہے اور کچھ لوگ بڑے مقاصد لے کر جیتے ہیں۔ پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر پریشان نہیں ہوتے۔" ۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جن کی زندگی میں بڑا مقصد نہ ہو وہ کیا کریں؟

وہی جو میں کرتی ہوں۔ عبادت! ہم عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، سو ہمیں اپنے ہر کام کو عبادت بنالینا چاہیے۔ عبادت صرف روزہ، نوافل اور تسبیح کا نام نہیں ہوتا بلکہ ہر انسان کا ٹیلنٹ بھی اس کی عبادت بن سکتا ہے میں بہارے کے لیے پھولوں کے ہار اور آنے کے لیے کھانا بناتی ہوں۔ میری یہ صلہ رحمی میری عبادت ہے۔ میں پزل باکسز اور موتیوں کے ہار بیچتی ہوں۔ میرا یہ رزق تلاشنا میری عبادت ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے انسان بڑے بڑے مقاصد پالیتا ہے۔"

]"اور انسان ان چیزوں کے لیے مضبوطی کہاں سے لائے؟

حیا مجھے لگتا ہے ہم لڑکیوں نے اپنے اوپر Fragile (نازک) اسٹکرز لگا رکھے ہیں۔ فریجائل اسٹکر سمجھتی ہو نا؟ وہ جو نازک اشیاء کی پیکنگ کے اوپر چسپاں ہوتے ہیں کہ "ہینڈل ود کئیر!" وہی اسٹکرز ہم لڑکیاں اپنی پیشانی پہ لگائے رکھتی ہیں۔ پھر کسی کا ذرا طنز ہو یا بے جا پڑی ڈانٹ ، ذرا سا کانٹا چبھ جائے یا دل ٹوٹ جائے ، ہم گھنٹوں روتی ہیں۔ اللہ نے ہمیں اتنا نازک نہیں بنایا تھا ۔ ہم نے خود کو بہت نازک بنا لیا ہے اور جب ہم لڑکیاں ان چیزوں سے اوپر اٹھ جائیں گی تو ہمیں زندگی میں بڑے مقصد نظر آجائیں گے۔"​

(نمرہ احمد کے ناول "جنت کے پتے سے اقتباس) 

آج کی بات ۔۔۔ 16 جنوری 2017

آج کی بات

ہمارے مسئلے اور ہماری پریشانیاں بھی راز ہی ہوتی ہیں۔ ان کا دوسروں کے سامنے اشتہار نہیں لگاتے بیٹا، جو انسان اپنے آنسو دوسروں سے صاف کرواتا ہے وہ خود کو بے عزت کردیتا ہے اور جو اپنے آنسو خود پونچھتا ہے وہ پہلے سے بھی مضبوط بن جاتا ہے۔

(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)

اتوار, جنوری 15, 2017

تدبرِ قرآن۔۔۔ سورہ الرحمٰن ۔۔۔ حصہ آخر

تدبرِ قرآن
سورہ الرحمٰن
(نعمان علی خان)
حصہ آخر

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ڈاکٹر اسرار احمد نے اس سورت پہ درس دیتے ہوئے فرمایا، "آج مسلمان مرد اور عورت ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں یہ سب بہت عام ہے اور اگر وہ خود کو اس چیز سے، ان ترغیبات سے محفوظ رکھتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ وہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
۰پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے؟

كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
۰گویا وہ ہیں یاقوت اور مرجان (۵۸)

جنت میں آپ کے زوج نہ صرف شرم و حیا کے پیکر ہوں گے بلکہ ان کی وہاں قدر بھی ہوگی۔ آج کے زمانے میں لوگ اپنی بیوی/خاوند کی قدر نہیں کرتے مگر جنت میں ایسا نہ ہوگا۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ 
۰پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے؟

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
۰نہیں ہے جزاء عمدہ نیکی کی مگر یہ کہ بدلہ ہے اعلی درجہ کا۔ (۶۰)

کیوں آپ کو کسی چھوٹی سی نیکی کے لیے بہترین اجر دیا جائے گا؟

یہ آیت ہم سب کے لیے ایک پکار ہے، یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنے عمل کو بہترین بنانا چاہیے۔ اللہ نے کہا تھا "جو کوئی اپنے پروردگار کے آگے کھڑا ہونے سے ڈرے گا"

اور اب یہاں اللہ نے ہمیں اس سے بڑا مقصد عطا کیا ہے کہ اپنی نیکیوں، اپنے اعمال کو بہترین درجے کا بنایا جائے۔
اب یہاں سے ہم ایک دوسری جنت کے متعلق بات کریں گے۔ دو جنات کے درمیان موازنہ یاد رکھیے گا۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے.؟

وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ
اور ان کے علاوہ دو جنتیں اور ہیں (۶۲)
سورہ الواقعہ میں جس گروہ کا پہلے ذکر ہوا وہ "السابقون" ہیں۔ اور دوسرا گروہ دائیں ہاتھ والے لوگوں کا ہے۔
دائیں ہاتھ والے لوگ پاس ہوں گے، اور السابقون وہ جنہیں +A ملے گا۔ جیسے دو گروہ ہیں ویسے ہی دو جنتیں ہیں۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ   
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے؟

مُدْهَامَّتَانِ
دونوں گہری سبز رنگ کی شاداب (۶۴)

ہریالی اتنی سرسبز ہے کہ مشکل سے ہی کوئی روشنی وہاں داخل ہوتی ہے۔ دوسری جنت کی تفصیل کا ذکر بھی وہاں کی ہریالی سے شروع ہوا مگر وہ پہلی جنت سے زیادہ سرسبز ہے۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ    
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے.؟

فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ
ان دونوں میں ہیں دو چشمے ابلتے ہوئے (۶۶)

جو فعل پچھلی آیات میں ہوا تھا وہ "بہنا" تھا اور یہاں "اُبلنا" ہے۔ اس سین میں زیادہ شدت ہے۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ     
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے؟

فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ
ان دونوں میں ہیں پھل اور کھجوریں اور انار۔ (۶۸)

پچھلی آیات میں ہر طرح کے پھل کا ذکر تھا۔ یہاں، اللہ نے پہلے پھلوں کا ذکر کیا، جو کہ ایک جنرل فارم ہے اس میں ہر طرح کا پھل آجاتا ہے۔ پھر اللہ نے دو مخصوص قسم کے پھلوں کا ذکر کیا: کھجور اور انار۔ یہ ایک خاص طریقہ ہے بات کرنے کا جس میں پہلے پوری چیز کا ذکر ہوا اور پھر ان میں سے دو خاص اشیاء کا۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ      
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے.؟

فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ
۰ان میں ہونگی نیک سیرت اور خوبصورت عورتیں(70)

عربی میں لفظ "خیر" باطنی خوبصورتی کے لیے استعمال ہوتا ہے، ظاہری نہیں۔ جنت میں موجود عورتیں اس خصوصیت کی حامل ہوں گی، یہاں اللہ تعالی ان کی سیرت کا ذکر کر رہے ہیں۔ پچھلی آیات میں، ان کی شرم و حیا کا ذکر تھا۔ شرم بھی خیر ہی کا حصہ ہے مگر اس آیت کی وسعت زیادہ ہے اور یہ ان عورتوں میں موجود ہر طرح کے خیر کو بیان کرتی ہے۔
"حسان" باطنی اور ظاہری دونوں خوبصورتی کے لیے ہے استعمال ہوا ہے۔ جنت میں آپ کی بیویاں ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہوں گی، اور یہ چیز دنیا میں ممکن نہیں ہے۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ       
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے.؟

حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ
گہری آنکھوں والی حوریں جو محفوظ ہیں خیموں میں (72)

یہاں پر اسم کا استعمال ہوا ہے، جو ان عورتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کی آنکھیں انتہائی خوبصورت ہوں گی۔
اگلی سورت میں اللہ تعالی لوگوں کے دو گروہ کے متعلق بیان کرتے ہیں: السابقون اور دائیں ہاتھ والے لوگ۔ جب اللہ نے السابقون کا ذکر کیا تو ان کے لیے لفظ "حور" کا استعمال کیا۔
اصلاحی نے فرمایا: یہاں پر جس طرح کی زبان استعمال ہوئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوسری جنت عربوں کی پسند کے لیے کافی عجیب ہے۔ کھجور اور انار ان کے پسندیدہ پھل ہیں اور اس آیت میں خیموں کا بھی ذکر ہے۔
السابقون سب سے قریب ہوں گے، اور ان میں سے اکثریت رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھیوں کی ہوگی۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ        
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے؟

لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ
نہ چھوا ہوگا جنکو کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے(74)

وہ پاکیزگی جس کا ذکر جنت کے پہلے لیول کے لیے ہوا تھا اس کا ذکر اب اس آیت میں بھی ہورہا ہے۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ         
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے؟

مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ
تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے مسندوں پر سبز رنگ کے اور خوبصورت نفیس (76)

جنت کے لوگ سبز رنگ کی مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ آپ نے اپنے سی۔ای۔او کے آفس میں ہاتھ سے کڑھائی کیے ہوئے دلکش قالین دیکھے ہوں گے۔

ایسی دلکش اور خوبصورت سجاوٹ کا شوقین ہر انسان ہے۔ اور اللہ اسی لیے ہمیں یہ سب عطا کرے گا۔
"عبقار" عربوں کے کہنے کا طریقہ تھا کہ یہ تو تم جنوں کی وادی سے لائے ہوگے۔ یعنی، یہ چیز بہت دور سے لائے ہو۔ ایسے ہی غیر ملکی، اجنبی چیزوں کو عبقری کہا جاتا ہے۔ جب کسی کے پاس ایسا فرنیچر ہو جو آپ کے لیے اجنبی ہو، پہلے ویسا نہ دیکھا ہو، دلکش ہو، وہ دور سے ہوتا ہے۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پھر کیا کیا رعایتیں، معجزے، عجوبے، قوتیں، احسانات، تحفے، اور رحمتیں ہیں کہ جن کا تم دونوں انکار کرو گے اور جھٹلاؤ گے.؟


اس آیت کو بار بار دہرایا گیا ہے، اس میں سے ہمیں جو ایک سبق حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب ہم جنت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں، تو ہمیں کچھ تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آپ کو بعض چیزوں، آسائشوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اپنے دین پہ ثابت قدم رہنے کے لیے۔ اور اس سب کے بدلے میں جو آپ کو حاصل ہوگا وہ ان سب چیزوں سے بڑھ کر ہے جنہیں آپ نے قربان کیا ہوگا، اس لیے ہمیں کسی طرح کی شکایت نہیں کرنی چاہیے۔ آپ کو اس بات کا احساس کہ آپ کچھ کھوتے جارہے ہیں تب ہوتا ہے جب آپ سے کوئی چیز چھینی جا رہی ہو، لیکن دین پر ثابت قدم رہ کر تو ہمیں بہت کچھ حاصل ہورہا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے آپ سے چھینا جارہا ہے تو آپ میں شکر کی کمی ہے۔ جب آپ دین کو ترک کردیتے ہیں تو آپ دین کے ساتھ ناشکری کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا آپ واقعی یقین رکھتے ہیں کہ آپ کو جنت میں گھر ملے گا؟ اگر یقین ہے، تو آپ کا شکایت کرنا نہیں بنتا۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کسی آنکھ نے اسے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا، اور کسی دل نے ویسا گمان بھی نہ کیا ہوگا۔ یہ جنت کی تفصیل ہے۔ یہ تو بس کچھ دنیاوی چیزیں ہیں جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔ ان سب چیزوں کے جنتی ورژن کا تصور کریں زرا؟ اس دنیا میں موجود ہر چیز میں کوئی نہ کوئی خامی ہے۔ اللہ فرماتے ہیں جو اس نے ہمارے لیے تیار کر رکھی ہے وہ بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس دنیا میں کوئی شے ایسی نہیں جو ہمیشہ رہے۔

تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
بابرکت ہے نام تیرے رب کا جو صاحب عظمت ہے اور احسان کرنے والا ہے۔ (78)

سوال پیدا ہوتا ہے، کونسا نام؟ اللہ نے اس نام کے متعلق بتایا کہ وہ صاحب عظمت اور احسان کرنے والا ہے۔ اللہ نے اس سورت کا آغاز "الرحمن" سے کیا۔ اللہ ہمیں یاد کروا رہے ہیں کہ ہم یہ مت بھولیں کہ سورت کا آغاز کیسے ہوا تھا۔

سورہ القمر کے اختتام پر اللہ ایسے لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو جنت میں اللہ کی کمپنی میں بیٹھیں ہوں گے۔ اللہ اپنی سلطنت اور طاقت کا ذکر کرتے ہیں ان لوگوں کے متعلق فرماتے ہوئے۔ جب آپ اللہ کے نزدیک بیٹھے ہونگے تو وہ اللہ کی رحمت ہی ہوگی، مگر اللہ اپنی رحمت کا سورہ الرحمن میں بتاتے ہیں کہ وہ یہ ہے کہ اس نے قرآن سکھایا ہے۔

ہم اس سے کیا سیکھتے ہیں؟
قرآن کا پڑھنا پروموٹ کریں، اپنے خاندان والوں کے ساتھ پڑھیں۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر اس کا مطالعہ کریں اور اسے سمجھیں۔ اس سورت نے ہمیں کیا کرنے کو کہا ہے؟ شکرگزار بنیں۔ ناشکری نہ کریں۔
ہمیں ناشکری سے کیوں بچنا چاہیے؟ تاکہ ہم اللہ کے اس نام الرحمن کا فائدہ حاصل کرسکیں۔

نعمان علی خان