ہمارا حساب ہماری جیومیٹری


"دائرہِ زندگی"
( نورین تبسم )
"ہمارا حساب ہماری جیومیٹری"

ہر انسان آزاد ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے - جس کو چاہے حاصل کر سکتا ہے لیکن اُس کی حد اُس کی اپنی ذات تک ہے جہاں سے کسی دوسرے کی ذات کسی دوسرے کی سوچ کسی دوسرے کے محسوسات ، کسی دوسرے کی عزت ، کسی دوسرے کی ذاتی زندگی اور سب سے بڑھ کر اپنے مالک کی (مقرّر کردہ حدود ) جو کہ اُس کی اپنی بقا کے لیے ہی ہیں -شُروع ہوتی ہیں وہاں اُس کی حد ختم ہو جاتی ہے
ہم میں سے ہر شخص جو مرضی کرے جس طرح کی زندگی کی خواہش رکھتا ہے اُسے گُزارے- جس شے سے اُسے خوشی ملتی ہے اُسے حاصل کرے - دوسروں کے ساتھـ کسی بھی طرح کا رویہ اختیار کرے ، اپنے آپ کو جلا کر تسکین تلاش کرلے- کُچھـ بھی کرے بس ایک کام ضرور کرے کہ جو بھی چاہے اپنے دل کے ساتھـ اپنی عقل کو بھی اس میں شامل کرے - خواہ خود غرض بن جائے کہ کسی کا فائدہ نہ سوچے ، اپنا مفاد عزیز رکھے ، لیکن اپنی آنکھیں کُھلی رکھے ، بند آنکھوں سے کوئی کام نہ کرے ، اُس کام کی پائیداری دیکھـ لے ، یہ دیکھے کہ اس فعل سے اسے کب تک اور کہاں تک سکون ملے گا ، یہ عمل کب تک اس کا ساتھـ دے گا - اس کی اپنی زندگی میں اس سے کیا تبدیلی آئی ہے وہ خود کامیاب ہو گیا یا ناکام - اس کی خوشی بڑھ رہی ہے اور اس سوچ سے اُس کی عمر میں کتنا اضافہ ہوا ہے یہ دیکھے- اگر اس کی عمر کی میعاد بڑھ گئی ہے تو پھر تو بہت اچھی بات ہے اگر ہمیشہ کی بقا حاصل ہو جائے تو پھر کیا غم جب کہہ دیا گیا کہ یہ کائنات انسان کے لیے تخلیق کی گئی "تو یہ حرفِ آخر ہے"
ہمارا سب سے پہلا سبق اپنی عقل کا استعمال کرنا ہے - اپنی سوچ کے 'دائرے ' کا اپنی ذات سے آغاز کرنا ہے پھر یہ دائرہ خود بخود وسیع ہوتے ہوئے کائنات کے سربستہ رازوں کے کھوج تک پُہنچ جائے گا.
المیہ یہ ہے کہ ہم دائرے نہیں بنا تے -ہم لکیریں بناتے ہیں دیواریں بناتے ہیں،جن کے مختلف سائز اور الگ زاویے ہوتے ہیں کوئی صفر سے شُروع ہوکر تین سو ساٹھـ درجے تک کہ پھر صفر سے شروع ہونا پڑتا ہے- کبھی ہم کسی زاویے کو پسند کرتے ہیں اور کبھی کوئی ہماری زندگی ہمارے طرزِ فکر پر حاوی ہو جاتا ہے- اسی بھاگ دوڑ میں پرچہ ختم کرنےکا وقت آجاتا ہے اور ابھی ہم لکیروں اور زاویوں کے پیچ و خم سے ہی باہر نہیں نکلے ہوتے دائرہ صرف اپنے وجود کی شناخت رکھتا ہے- دائرے کا کوئی زاویہ کوئی سِرا نہیں ہوتا،- اس کی کوئی حد نہیں، یہ بڑھتا جائے تو اس کے بہاؤ میں رُکاوٹ نہیں یہ اپنے اندر اتنی گہرائی اتنی معنویت رکھتا ہے کہ سب کُچھـ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے -دائرہ ہی ہماری زندگی ہے کہ اس کی بھی حد ہے ، لائن ہے اور یہی ہماری تقدیر ہے کہ ہم ان لکیروں سے باہر نہیں جا سکتے - ان کے اندر رہ کر ہی ہم نے اپنے آپ کو سنوارنا بھی ہے اور بگاڑنا چاہیں تو اس کے بھی پورے مواقع ہیں -


تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

سورہ کہف بمعہ ترجمہ

آٹھ مصیبتیں

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل