منگل, اپریل 30, 2013

Mohabbat



زندگی کے تپتے ہوئے ریگزار میں محبّت گویا ایک نخلستان سے کم نہیں۔۔۔
محبّت کے سامنے نا ممکن و محال کچھ نہیں۔۔۔
محبّت پھیلے تو پوری کائنات سمٹے تو ایک قطرہ خون۔۔۔
در حقیقت محبّت ، آرزوئے قرب حسن کا نام ہے - ہم ہمہ وقت جس کے قریب رہنا چاہتے ہیں ، وہی محبوب ہے۔۔۔
محبوب ہر حال میں حسین ہوتا ہے۔۔کیونکہ حسن تو دیکھنے والے کا اپنا انداز نظر ہے۔۔
ہم جس ذات کی بقا کے لیے اپنی ذات کی فنا تک گوارا کرتے ہیں وہی محبوب ہے۔۔۔
محبّت اشتھائے نفس اور تسکین وجود کا نام نہیں۔۔۔
اہل ہوس کی سائیکی اور ہے ، اور اہل دل کا انداز فکر اور۔۔۔
محبّت دو روحوں کی نہ ختم ہونے والی باہمی پرواز ہے۔۔۔

واصف علی واصف

Meri duniya



دنیا کتنی چھوٹی ہے نا ۔۔۔
“تم“ پہ آ کے رُک سی گئی ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Duniya Kitni choti Si Hai Na
Tum Pe Aakey Ruk Si Gayi Hai

Raabta


نہیں ہوتا کبھی جو رابطہ اس سے مرا محسن
میں خود میں ڈوب جاتا ہوں، وہ مجھ کو مجھ میں ملتا ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Nahin Hota Kabhi Jo Rabta Us Se Mera MOHSIN
Main Khud Main Doob Jata Hoon, Woh Mujh Ko Mujh Main Milta Hai

Kashish



بعض لوگ اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتے ہیں کہ دِل آپ ہی آپ اُن کی طرف کھنچتا ہے اور پھر وہ اتنے عزیز ہو جاتے ہیں کہ کہیں بھی رہیں، مُحبّت میں کمی نہیں آتی کیونکہ اُن کی ہر ادا دِل پر نقش ہو چُکی ہوتی ہے۔۔۔۔!

از نگہت عبدللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روٹھنے نہ دینا

Dua ki qubooliyat


میرا تجربہ ہے کہ جب کبھی ہماری دعا قبول ہو جائے تو ہمیں اس بات پر خوشی نہیں یوتی کہ دعا قبول ہوگئی اور خوشی نہ ہو تو۔ احساس شکر گزاری پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ الٹا ہمیں یہ غم لگ جاتا یے کہ قبولیت کے اس لمحے میں ہم نے کچھ اور کیوں نہ مانگ لیا۔

(اقتباس: ممتاز مفتی کی کتاب ” لبیک” سے)

tumhian yeh sochna to tha



ہم ایسے بھولنے والے نہیں تھے
ہمیں تم سے نہ ملنے میں کئی مجبوریاں ہونگی ،
 تمہیں یہ سوچنا  تھا
تمہیں یہ سوچنا تو تھا ۔ ۔ ۔

تمہیں ملنا ، نمہارے ساتھ رہنا
بہت آساں تھا دل کا حال کہنا
مگر یہ ہونٹ سلنے میں کئی مجبوریاں ہونگی
تمہں یہ سوچنا  تھا 
، تمہیں یہ سوچنا تو تھا

ملیں گے کب تمہیں اب کیا بتائیں
دلوں میں پھول چاہت کھلائیں جلائیں
مگر یہ پھول کھلنے میں کئی مجبوریاں ہونگی
تمہیں یہ سوچنا تھا
 ، تمہیں یہ سوچنا تو تھا ۔ ۔ ۔
 
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
 
Ham aise bhoolne waley nahi they
Hamain tum se na milne main kayi 
Majbooriyan hongi. Tumhain yeh sochna tha
tumhain yeh sochna to tha

Tumhain milna tumhare saath rehna
Buhat aasan tha dil ka haal kehna
Magar yeh hont silne main kayi majbooriyan hongi
Tumhain yeh sochna tha
tumhain yeh sochna to tha

Milain ge kab tumhain yeh kiya batayen
dilon main phool chahat ke khilayen
Magar yeh phol khilne mian kayi  majbooriyan hongi
tumhain yeh sochna tha
Tumhain yeh sochna to tha

سوموار, اپریل 29, 2013

اتوار, اپریل 28, 2013

Tere ehsaas ko khushboo ka dhara karke dekhain ge




اُٹھا کے راکھ سے ذرّہ، ستارہ کر کے دیکھیں گے
فلک، دریائے حیرت کا کنارہ کر کے دیکھیں گے

کسی دن، آگ کے شعلے سے بادل کو بنائیں گے
کسی دن، برف گالے کو شرارہ کر کے دیکھیں گے

کوئی پل، خواب جگنو روک لیں گے اپنی مٹھی میں
کوئی پل، روشنی کو استعارہ کر کے دیکھیں گے

کبھی، خاموش لمحوں میں کریں گے گفتگو جذبے
کبھی، گویا رُتوں میں حرف اشارہ کر کے دیکھیں گے

تمہارے نام ، کچھ پل کر کے صدیوں کا سکوں پایا
تمہارے نام، جیون اب تو سارا کر کے دیکھیں گے

سنو! ہم کر چکے بیعت، جنوں کو کر چکے مرشد
سنو! کس نے کہا ہم، استخارہ کر کے دیکھیں گے

ترے احساس، میں ضم ہو گیا احساس عاشی کا
ترے احساس کو خوشبو کا دھارا کر کے دیکھیں گے،،!!!
 
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
 
Utha ke raakh se zarra. sitara karke dekhain ge
Falak, darya-e-hairat ka kinara karke dekhain ge
 
Kisi din aag ke sholey se badal ko banain ge
Kisi din barf gaaley ko sharara kar ke dekhain ge
 
Koi pal , khwab, jugnoo rok lain ge apni muthhi main
Koi pal roshni ko iste'ara karke dekhain ge
 
Kabhi khamosh lamhon main karian ge guftagoo jazbey
Kabhi goya ruton main harf ishara karke dekhain ge
 
Tumhare naam kuch pal karke sadiyion ka sukoon paya
Tumhare naam jeewan ab to sara karke dekhain ge
 
Suno ham karchukeu be'at. junoon ko karchuke murshid
Suno kis ne kaha ham istekhara karke dekhain ge
 
Tere ehsaas main zamm ho gaya ehsaas AASHI ka
Tere ehsaas ko khushboo ka dhaara karke dekhain ge

Ta'aruf ke silsiley



اُلجھ جائیں تو سلجھانے کو یہ عمریں بھی ناکافی
تعارف کے اگرچہ سلسلے آسان ہوتے ہیں

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Ulajh Jayen To Suljhaney Ko Yeh Umrain Bhi Na-Kaafi
Ta'aruf Ke Agarcha Silsiley Asaan Hotey Hain

ہفتہ, اپریل 27, 2013

Meri kaainaat


میری کائنات میں کئی ستارے گردش میں
میں جس کی گردشوں میں ہوں وہ اک اکیلا چاند ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Meri kainaat main kayi sitarey gardish main
Main jis ki gardishon main hoon woh ik akela chaand hai

Ishq be-zaabta nahi hota



حادثہ حادثہ نہیں ہوتا
جب تلک واقعہ نہیں ہوتا

بس ذرا وقت پھیل جاتا ہہے
فاصلہ، فاصلہ نہیں ہوتا

عاشقی بے سبب نہیں ہوتی
عشق بے ضابطہ نہیں ہوتا

راستے بھی اُداس پھرتے ہیں
جب کبھی قافلہ نہیں ہوتا

بات بین السطور ہوتی ہے
زیست میں حاشیہ نہیں ہوتا

اُس جگہ بھی خدا ہی ہوتا ہے
جس جگہ پر خدا نہیں ہوتا

زندگی کے نگار خانے میں
رنگ بے مدعا نہیں ہوتا

شمیم احمد*
 
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
 
Haadsa haadsa nahi hota
Jab talak waaqiya nahi hota
 
Bas zara waqt phail jata hai
Faasla, faasla nahi hota
 
Aashiqi be sabab nahi hoti
Ishq be-zaabta nahi hota
 
Raastey bhi udaas phirte hain
Jab kabhi qaafla nahi hota
 
Baat bain-us-sutoor hoti hain
Zeest main haashiya nahi hota
 
Us jaga bhi Khuda hi hota hai
Jis jaga per Khuda nahi hota
 
Zindagi ke nigaar khaney main
Rang be-mudd'ua nahi hota
 
Shameem Ahmed 

Shikayat



دنیا کی زندگی میں کس طرح خدا نے ناخوش گوار چیزوں کے ساتھ خوش گوار چیزیں رکھ دی ہیں۔ جس طرح پھول کے ساتھ کانٹا ہوتا ہے اسی طرح زندگی میں پسندیدہ چیزوں کے ساتھ ناپسندیدہ چیزوں کا جوڑا بھی لگا ہوا ہے۔
موجودہ دنیا میں اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہیں۔۔
دوسروں کی شکایت کرنا صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ یہ دنیا اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہے کہ یہاں لازماً شکایت کے مواقع آئیں گے۔ عقل مند آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو بھول جائے۔ وہ شکایت کو نظر انداز کرکے اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھے۔

Khuda Ke Ehsaanaat


ہروقت خدا کے احسانات یاد کر۔۔غور کر کہ ہر سانس خدا کی عنایت ہے یوں دل میں شکر گزاری پیدا ہوگی۔۔ پھر تو بے بسی محسوس کرے گا کہ اتنے احسانات کا شکر کیسے ادا کیا جاسکتا ہے۔۔ وہ بے بسی تیرے دل میں محبت پیدا کرے گی۔۔ تو سوچے گا کہ مالک نے بغیر کسی غرض کے تجھے نوازا، تجھ سے محبت کی۔۔ تو غور کر کہ اتنی بڑی دنیا میں تو کتنا حقیر ہے ۔ سینکڑوں کے مجمع میں بھی تیری کوئی پہچان نہیں ہے۔۔ کوئی تجھ پر دوسری نظر بھی نہیں ڈالے گا۔۔کسی کو پروا نہیں ہوگی کہ الہٰی بخش بھی ہے۔۔ لیکن تیرا رب کروڑوں انسانوں کے بیچ بھی تجھے یاد رکھتا ہے۔۔ تیری ضروریات پوری کرتا ہے۔۔ تیری بہتری سوچتا ہے تجھے اہمیت دیتا ہے۔۔ ان سب باتوں پر غور کرتا رہے گا تو تیرے دل میں خدا کی محبت پیدا ہوگی۔۔ اس محبت کے ساتھ بھی یہ سوچتا رہے گا تو محبت میں گہرائی پیدا ہوگی۔۔ اور پھر تجھے خدا سے عشق ہو جائے گا۔۔

عشق کا عین از علیم الحق حقی۔۔

جمعہ, اپریل 26, 2013

Ehtiyaat


اسی احتیاط میں وہ رہا, اسی احتیاط میں میں رہی
وہ کہاں کہاں میرے ساتھ ہے, کسی اور کو یہ پتہ نہ ہو

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Isi ehtiyaat main woh raha, isi ehtiyaat main main rahi
Woh kahan kahan mere saath hai, kisi aur ko ye pata na ho

جمعرات, اپریل 25, 2013

Zindagi



انسان وہی چیز مانگتا ہے جس کی اسے کمی لگتی ہو‘ سو میں ہمیشہ زندگی مانگتا ہوں۔ اگر زندگی ہے تو سب خوب صورت ہے‘ نہیں ہے تو سب اندھیر ہے۔

(اقتباس: نمرہ احمد کے ناول "جنّت کے پتے" سے)

سوموار, اپریل 22, 2013

Sukoon


زندگی میں بعض خبریں انسان کو کیسے ملتی ہیں؟ شاید جیسے اوپر سے بہتی کوئ آبشار ہو جس کا دھارا اس کو بھگو دے یا پھر جیسے آسمان سے سونے کے پتنگے گر رہے ہوں یا جیسے لہلہلاتے سبزہ زار کے ساتھ کسی چشمے کے ٹھنڈے پانی میں پائوں ڈال کر بیٹھنا ہو۔
مرہم، ٹھنڈ، سکون۔
(جنت کے پتے)

جمعہ, اپریل 19, 2013

Mohbbat ki tabiyat main



محبت کی طبیعت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اِسے تائیدِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو
ہزاروں طرح کے دلکش حسیں ہالے بناتی ہو
اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یُوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفلِ سادہ شام کو اِک بیج بوئے
اور شب میں اُٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے
کہ پودا اب کہاں تک ہے؟؟؟
محبت کی طبیعت میں عجب تکرار کی خَو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
تمھیں مجھ سے محبت ہے
سمندر سے کہیں گہری
ستاروں سے سوا روشن
ہواؤں کی طرح دائم
پہاڑوں کی طرح قائم
کچھ ایسی بے سکونی ہے وفا کی سرزمینوں میں
کہ جو اہلِ محبت کو سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو کہ جیسے ہاتھ میں تارا
کہ جیسے شام کا تارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
گُمنام کے شاخوں میں آشیانہ بناتی ہے اُلفت کا
یہ عین وصال میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے
محبت کے مسافر زندگی جب کاٹ چکتے ہیں
تھکن کی کرچیاں چنتے وفا کی اجرکیں پہنے
سمے کی راہ گزر کی آخری سرحد پہ رُکتے ہیں
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے کہتا ہے
کہ یہ سچ ہے نا
ہماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی
دُھندلکا سا جو آنکھوں کے قریب و دُور پھیلا ہے
اسی کا نام چاہت ہے
تمھیں مجھ سے محبت ہے
تمھیں مجھ سے محبت ہے

شاعر “امجد اسلام امجد”

جمعرات, اپریل 18, 2013

Rishtey aur Raastey



رشتے اور راستے

زندگی کے دو پہلو ہیں کبھی کبھی رشتے نبھاتے نبھاتے رستے کھو جاتے ہیں اور کبھی کبھی راستوں پہ چلتے چلتے رشتے بن جاتے ہیں۔
کسی کو رشتے راس آتے ہیں اور کسی کو راستے
فرق بس اتنا ہے کہ راستوں کے دُکھ برداشت ہو جاتے ہیں پر رشتوں کے نہیں۔

منگل, اپریل 16, 2013

Koyla Aur Kundan



کچھ لوگ ھوتے ہیں جو زندگی میں نا کام ھوتے ہیں پھر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرتے ہیں اور دنیا میں بڑا نام کماتے ہیں زندگی کے آزمائیش ان کو کندن بنا دیتی ہے یہ بات بھی ہے ہر انسان سونا نہیں ہوتا اور کچھ لوگ ہوتے ہیں ان پہ کوئ مصیبت آتی ہے تو ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اللہ کی ذات پہ یقین نہیں کرتے اپنے دکھوں کی آگ میں جل جل کر کوئلہ بن جاتے ہیں . .

کوئلہ جو خود بھی جلتا ہے اوروں کو بھی جلاتا ہے

اگر آپ کو اللہ پہ یقین ہے تو آپ آزمائیشوں میں جل کر کندن بن جائینگے ورنہ کوئلہ . . .

Mohabbat kis ko kehte hain



تمہیں معلوم کیا جاناں؟کہ الفت اُس کو کہتے ہیں
کسی پہ مر مٹو جانو، محبت اس کو کہتے ہیں

محبت اک حقیقت ہے ، ہزاروں رنگ ہیں اس میں
جو ہیں راہی وفا کے وہ ، تو چاہت اس کو کہتے ہیں

جو بندوں سے خدا کی ہو،تو رحمت ہے سراسر یہ
جو کی جائے خدا سے تو، عبادت اس کو کہتے ہیں

کرے محکوم حاکم سے ، اطاعت ہے یہ کہلاتی
رعایا سے کرے شہ تو، عدالت اس کو کہتے ہیں

جو ہو اولاد سے ماں کی ، تو شفقت ہے سرا سر یہ
جو ہو یاروں میں باہم تو ، رفاقت اس کو کہتے ہیں

کرے گر علم سے طالب ، تو محنت نام ہے اس کا
غلاموں کی ہو آقا سے تو مدحت اس کو کہتے ہیں

جو ہو گم راہ کو رہ سے ہدایت ہے یہ کہلاتی
کرے گر کام سے کوئی مشقت اس کو کہتے ہیں

جو حق پر جان تک اپنی لٹا دیں پر نہ خم ہو سر
صداقت نام ہے اس کا ، شجاعت اس کو کہتے ہیں

کبھی خلوت کبھی جلوت، عجب ہی ڈھنگ ہیں اس کے
محبت یوں ہی ہوتی ہے ، محبت اس کو کہتے ہیں

Zaroorat



بعض دفعہ ساری زندگی گزارنے کے بعد بھی ہم یہ جان پاتے کہ ہمیں آخر زندگی میں کس چیز کی ضرورت تھی....... کسی چیز کی ضرورت تھی بھی یا نہیں اور بعض دفعہ زندگی کے آخری لمحات میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے زندگی کا حاصل بنا رکھا تھا، اس چیز کے بغیر زندگی زیادہ اچھی گزر سکتی تھی۔

(اقتباس: عمیرہ احمد کے ناول "امربیل" کے پیش لفظ "مجھے یہ کہنا ہے"سے)

Sajda



بندہ جب سر جھکا لیتا ہے، جب سجدہ ریز ہو جاتا ہے تو اپنی " میں " کی نفی کا اعتراف کر لیتا ہے۔۔ پھر یہ نفی بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔۔ کبھی وقتی، کبھی مستقل، کبھی آدھی، کبھی پوری۔۔

(عنیزہ سید کے ناول " جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم " سے اقتباس)

Zindagi ke jawaz



زندگی کے جوازتلاش نہیں کیے جاتے صرف زندہ رہا جاتا ہے زندگی گذارتے چلے جاؤ جواز مل جائے گا ۔ اگر آپ کو کسی طرف سے کوئی محبت نہ ملے تو مایوس نہ ہو ، آپ خود ہی کسی سے محبت کرو ۔ کوئی با وفا نہ ملے تو کسی بے وفا سے ہی سہی ۔ محبت کرنے والا زندگی کو جواز عطا فرماتا ہے زندگی نے آپ کو اپنا جواز نہیں دینا بلکہ آپ نے زندگی کو زندہ رہنے کے لیے جواز دینا ہے ۔ آپ کو انسان نظر نہ آئے تو کسی پودے سے پیار کرو۔
اس کی پرورش کرو، اسے آندھیوں سے بچاؤ ، طوفانوں سے بچاؤ، وھوش و طیور سے بچاؤ، تیز دھوپ سے بچاؤ، زیادہ بارشون سے بچاؤ۔ اس کو پالو پروان۔ چڑھاؤ۔ پھل کھانے والے کوئی اور ہوں ، تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں ۔ کچھ نہیں تو یہی درخت کسی مسافر کو دو گھڑی سایا ہی عطا کرے گا۔ کچھ نہیں تو اس کی لکڑی کسی غریب کی سردی گذارنے کے کام آئے گی۔ آپ کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ آپ کو زندہ رہنے کا جواز اور ثواب مل جائے گا ۔اگر آپ کی نگاہ بلند ہونے سے قاصر ہے، تو اپنے پاؤں کے پاس دیکھو۔ کوئی نہ کوئی چیز آپ کی توّجہ کی محتاج ہوگی۔ کچھ نہیں تو محبت کا مارا ہوا کتا ہی آپ کے لیے زندہ رہنے کا جواز مہیا کرے گا ۔

حرف حرف حقیقت- ( واصف علی واصف )

Lafzon ki Mehek



" لفظوں کی مہک"

جس جگہ رہئے جہاں بھی جایئے
سچے لفظوں کی مہک پھیلائیے

زندگی کے لالہ زاروں میں کہیں
دھوپ ہو تو ابر بن کے چھا ئیے

چاند بھی اچھا ہے سورج بھی مگر
آپ رستے کا دیا بن جایئے

لوگ تو صدیوں کو اپنا کر گئے
کوئی لمحہ آپ بھی اپنایئے

آپ کے گھر روشنی کے نام کا
ایک جگنو ہی سہی چمکایئے !

جمعرات, اپریل 11, 2013

Baatin



آپ کا اصل ساتھی اور آپ کا صحیح تشخص
آپ کے اندر کا انسان ہے!
اسی نے عبادت کرنی ہے اور اسی نے بغاوت!
وہی دنیا والا بنتا ہے اور وہی آخرت والا!
اسی اندر کے انسان نے آپ کو جزا اور سزا کا مستحق بنانا ہے

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے!
آپکا باطن ہی آپکا صحیح دوست ہے اور وہی آپ کا بدترین دشمن!
آپ خود ہی اپنے لئے دشواری سفر ہو اور خود ہی شادابی منزل !
باطن محفوظ ہو گیا تو ظاہر بھی محفوظ ہو گا۔

واصف علی واصف

Jannat ke Pattey-iqtebas



انسان کو قابو اس کی کمزوریوں سے کیا جاتا ہے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئ آپ کے معاملے میں دخل نہ دے تو آپ کو نامحسوس طریقے سے اُس شخص کو اس کے اپنے معاملات میں الجھانا اور مصروف کرنا پڑتا ہے۔
(جنت کے پتے)

منگل, اپریل 09, 2013

Khush gumaan



"زندگی خوش گُمان ھو جائے
وقت گر مہربان ھوجائے
تُو اگر ھاتھ تھام لے میرا
یہ زمیں آسمان ھو جائے "

( ناز بٹ )

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Zindagi Khush Gumaan Ho Jaye
Waqt Gar Mehrbaan Ho Jaye
Tu Agar Haath Thaam Le Mera
Yeh Zameen Aasmaan Ho Jaye

(Naz Butt)

ذکر یا منتر



ﺳﯿﮑﻨﮉ ﻣﻨﭧ...ﮔﮭﻨﭩﮯ...ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺫﮨﻦ ﭘﺮ ﺯﻭﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ.ﺻﺎﺋﻤﮧ ﺗﺎئی ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻠﻤﮯ
ﮐﻮ"ﺳﻮﺍ ﻻ ﮐھ"ﺩﻓﻌﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ.ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﺰﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﯼ ﭨﯿﺴﭧ ﯾﺎ ﺍﯾﮉﻣﯿﺸﻦ ﮐﺎ ﻣﺴﻠﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻻﺅﻧﺞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ.ﭼﺎﻧﺪﻧﯿﺎﮞ ﺑﭽﮭﺎ ﮐﺮ گٹھلیوں کے ﮈﮬﯿﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﮯ ﺟﺎﺗﮯ.
ﺍﺏ ﺳﻮﺍ ﻻﮐھ ﺩﻓﻌﮧ ﯾﮧ ﯾﺎ ﯾﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﮨﮯ ،ﭘﮭﺮ ﺳﺎﺮﯼ ﮐﺰﻧﺰ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ.ﺛﻨﺎء ﺗﻮ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻭﺭ ﮔﭩﮭﻠﯿﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ.ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺧﺘﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ.ﺍﻥ ﮐﺰﻧﺰ ﻧﮯ ﺗﻮ آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺬﺍﻕ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ.ﮐﮧ ﺟﺐ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﭩﮭﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺭﻡ ﮐﮩﺘﯽ "ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﺑﮭئی ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﭩﮭﻠﯿﺎﮞ ،ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﮍﮬ ﮔﭩﮭﻠﯿﺎﮞ"
جب تک وہ لوگ اس بابرکت کلام سے بے زار نہ ہو چکے ہوتے،تب تک سوا لاکھ ختم نہ ہوتا.تب کی بات بھلے اور تھی مگر اب بھی وہ یہی سوچ رہی تھی.کہ پتہ نہیں ھم اللہ تعالی' کو گن گن کر یاد کیوں کرتے ھیں؟
اور اگر جو اس نے بھی گن گن کر دینا شروع کر دیا؟
پتہ نہیں ہم اپنی خود ساختہ گنتی سے "ذکر" کو "منتر" کیوں بنا دیتے ہیں؟

(اقتباس: نمرہ احمد کے ناول "جنّت کے پتے" سے)



Paak Bana diya



ایک دفعہ ایک شخص زندگی کی نا مناسب مصروفیات سے یک لخت تائب ہو گیا۔ اس کے دوستوں نے پوچھا:" بھائی، تم کل تک رنگیلے تھے، آج کیا ہوا؟"
وہ بولا: "میں عجیب حال میں پہنچ گا ہوں۔ ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے میری بیٹی کا چہرہ رہتا ہے۔ میری ناپاک نگاہوں کو میری بیٹی نے پاک بنا دیا ہے۔"

از: دل دریا سمندر
واصف علی واصف

Haqeeqi Duniya Vs Cyber Duniya



ایک بندے کو مجبوری میں تقریر کرنی پڑ جاتی ہے، چونکہ اس نے پہلے کبھی مجمع عام کے سامنے تقریر نہیں کی ہوتی اس لئے وہ جھجک محسوس کرتا ہے۔ تقریر سے پہلے تربیت کے لئے ایک استاد اسے گوبھی کی فصل کے کنارے لے جاتا ہے۔ اس کو کہتا ہے کہ سمجھو یہ جو دور تک پھیلی ہوئی گوبھی ہے یہ بندے بیٹھے ہوئے ہیں اور تمہیں ان کے سامنے تقریر کرنی ہے۔ چلو اب تم تقریر کرو۔ بندہ روزانہ گوبھی کو بندے سمجھ کر مشق کرتا ہے۔ اس کی جھجک ختم ہو جاتی ہے اور وہ روانی سے تقریر کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ دن آ جاتا ہے جس دن تقریر کرنی ہوتی ہے۔ جب وہ مجمع کے سامنے جاتا ہے تو بندوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ گھبرا جاتا ہے اور اس کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ استاد اسے اشارہ کرتا ہے کہ بول بول بول۔۔۔ جب اس سے کچھ نہیں بولا جاتا تو نہایت مجبور ہو کر استاد کو جواب دیتا ہے کہ استاد جی! گوبھی گوبھی ہوتی ہے اور بندے بندے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہم لاکھ ”ایڈوانس“ ہو جائیں پھر بھی انٹرنیٹ انٹرنیٹ ہوتا ہے اور حقیقی زندگی حقیقی ہوتی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ انسان تنہا نہیں رہ سکتا اور اگر کوئی رہتا بھی ہے تو پھر وہ انسان کی تعریف پر سوفیصد پورا نہیں اترتا۔ ویسے بھی تنہائی کے نقصانات ہی نقصانات ہے اور سماجی روابط کے فائدے ہی فائدے۔ آپ نے دیکھا ہو گا جو لوگ اپنے خاندان والوں کو وقت نہیں دے پاتے تو ان میں دوریاں اور مسائل جنم لیتے ہیں۔ خونی رشتے ہی خاندان نہیں ہوتے بلکہ ایک انسان کی زندگی میں اس کے کئی خاندان ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے رشتہ داروں کا ایک خاندان ہوتا ہے، پھر دوست احباب کا اور پھر عام معاشرہ بھی ایک خاندان ہوتا ہے۔ مختلف لوگوں کے رہن سہن اور طور طریقوں کی بنیاد پر خاندان کم یا زیادہ بھی ہوتے ہیں۔ جیسے کاروباری بندے کا کاروبار سے متعلقہ ایک خاندان ہو گا۔ طالب علم کا سکول و کالج وغیرہ کا ایک خاندان ہو گا۔ اب ایک انٹرنیٹ کا خاندان بھی وجود میں آ چکا ہے۔ کسی ایک خاندان کو بھی وقت نہ دینے سے زندگی میں بہت کچھ ادھورہ رہ جاتا ہے۔

کسی کام میں زیادتی یا کمی دونوں ہی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ میانہ روی بہت زبردست چیز ہے۔ ضرورت سے زیادہ ملنا یا دوری، دونوں ہی ٹھیک نہیں۔ جس خاندان کو جتنا وقت دینا مناسب ہو اتنا ضرور دینا چاہئے۔ ایک دوسرے سے ملتے رہنا چاہئے۔ ملنے سے محبتیں بڑھتی ہیں، ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ مخلص ہو کر ملنے سے حسن ظن پیدا ہوتا ہے اور بدظنی دور بھاگتی ہے۔

ہم انٹرنیٹ پر بہت باتیں کرتے ہیں۔ عام طور پر تحریری صورت میں رابطہ رکھتے ہیں۔ کسی بات میں لاکھ ”سمائیلی“ ڈالو، لاکھ ”ہا ہا ہا“ لکھو مگر یہ اس قہقے اور تاثرات کو مکمل طور پر دوسرے تک نہیں پہنچا سکتا جو حقیقی زندگی میں ہم آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو کہتے ہیں۔ سالگرہ کیک کی تصویر اور اصلی کیک میں بھی بہت فرق ہوتا ہے۔ بھائی جی! سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر میں بہت فرق ہوتا ہے۔ گوبھی گوبھی ہوتی ہے اور بندے بندے ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ انٹرنیٹ ہوتا ہے اور حقیقی زندگی حقیقی ہوتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جب صرف سائبر دنیا ہی باقی رہ جائے تو انسانوں کے لئے سائبر دنیا ہی حقیقی مزے دینے لگے مگر ہم چونکہ ایسے وقت میں ہیں جب یہ نئی نئی شروع ہوئی ہے۔ ہم سائبر اور حقیقی میں موازنہ کر سکتے ہیں لہٰذا سائبر دنیا ہمارے لئے ویسی بالکل نہیں ہو سکتی جیسی حقیقی دنیا ہے

Source: http://www.mbilalm.com/blog

Khamoshi



وضاحت کبھی سچائی ثابت نہیں کر سکتی، ندامت کبھی نعم البدل نہیں ہو سکتی.
الفاظ کبھی بھی انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس نہین دلا سکتے.
ہاں! خاموشی مزید تذلیل سے بچا لیتی ہے.
بالکل اسی طرح جیسے، جب تک انسان زندہ رہتا ہے ہر طرف سے طنز بھی برداشت کرتا ہے ، شکایات بھی سنتا ہے، مذاق کا نشانہ بھی بنتا ہے، ہر طرف سے برا بھلا بھی سہتا ہے،
لیکن جب وہ موت کی خاموش وادی میں اتر جاتا ہے تو اس ناختم ہونے والی تذلیل سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے.
خاموشی اور موت کا ساتھ بہت قریب کا ہے. خاموشی بھی موت کی سی ہے
~ خلیل جبران ~

اتوار, اپریل 07, 2013

Sila Rehmi


رشتے داروں کے ساتھ ویسا ہی رویہ رکھنا چاہیے جیسا وہ ہمارے ساتھ رکھتے ہوں۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرمایا کرتے تھے کہ بدلے کی صلہ رحمی کرنے والا تو صلہ رحمی نہیں کرتا۔ اس پہ تو آپ کو اجر ہی نہیں ملے گا۔ اجر تو تب ملے گا جب آپ بُرے کے جواب میں اچھا کریں۔ تم انہیں معاف کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔
"انہوں نے میری جائیداد کھائی ہے۔ وہ چیخ پڑی تھی۔ ابا اپنی ساری پراپرٹی میرے نام کرکے گئے تھے۔
بہت غلط کر کے گئے تھے پھر۔ انہیں حق نہیں تھا کہ ساری پراپرٹی وصیت کرتے۔ ان کا حق تو بس ایک تہائ پہ تھا، اُس کو بے شک تمہارے نام وصیت کر جاتے، مگر باقی کے دو تہائ حصے کی شرعاً تقسیم کی اجازت دے جاتے، تو شاید تمہارے چچا لوگ اپنے حصے پہ قناعت کر لیتے۔ وارث تو اللہ نے بنائے ہیں۔ جانے والے کو بُرا بھلا نہیں کہہ رہی۔ مگر ایک غلط فیصلہ بہت سوں کی زندگیاں خراب کر دیتا ہے۔
محمل۔ تم کچھ لوگوں کے غلط فیصلے کو بنیاد بنا کر اپنے رشتے داروں پہ ظلم کرو گی تو یہ مت بھولو کہ پل صراطہ پہ رحم اور امانت کے کانٹے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر خائن اور قطع رحمی کرنے والے کو پل سے نیچے جہنم میں گرائیں گے، اور ہر امانت دار اور صلہ رحمی کرنے والا پل پار کر جائے گا، تم وہ پل پار نہیں کرنا چاہتیں؟

( نمرہ احمد کے ناول "مصحف" سے اقتباس)

Haya






"حیا" عبرانی زبان کے لفظ "حوا" سے نکلا ہے جو کے اماں حوا علیہ السلام کا نام تھا۔ حوا کے معنی ہیں، زندگی۔ سو حیا کے بھی یہی معنی ہیں۔ اسی لیے عربی میں حیا کا لفظی معنی تروتازگی اور شادابی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں زندگی کی علامت ہوتی ہیں۔ اسی سے لفظ "حیات" (زندگی) اور اللہ تعالیٰ کا نام "الحیی" (ہمیشہ زندہ رہنے والا) ہے۔ اس کے اصطلاحی معنی عموماً شرم اور موڈسٹی اس لیے کیے جاتے ہیں کیونکہ شرم انسان کی اخلاقی زندگی اور کردار کو تروتازہ اور زندہ رکھتی ہے۔

("جنت کے پتے" سے اقتباس)

Woh aadat hai




وه عادت هے تو عادت سے کناره هو بھی سکتا هے
مگر اس ساری کوشش میں،خساره هو بھی سکتا هے

کھلی آنکھوں میں ٹھہرا خواب،کیسے ٹوٹ سکتا هے
گماں یه،زندگی بھر کا سهارا هو بھی سکتا هے

جو اتنی جگمگاهٹ دیکھتے هو آس پاس اپنے
یه میری آنکھ سے ٹوٹا ستاره هو بھی سکتا هے

همیں حیرت سے مت دیکھو،اب ایسا کیا ،کیا هم نے؟
زمینی عشق هے صاحب!دوباره هو بھی سکتا هے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Woh aadat hai to aadat se kinara ho bhi sakta hai
Magar is sari koshish main khasara ho bhi sakta hai

Khula aankhon main thehra khwab kaise toot sakta hai
Gumaan yeh, zindagi bhar hai sahaa ho bhi sakta hai

Jo itni jagmagahat dekhte hain aas paas apne
Yeh meri aankh se toota sitara ho bhi sakta hai

Hamain hairat se mat dekho, ab aisa kiya kiya ham ne?
Zameeni ishq hai sahab! dobara ho bhi sakta hai

ہفتہ, اپریل 06, 2013

Kabhi Aisa Bhi Hota Hai



کبھی ایسا بھی ھوتا ھے
بہت کہنے کی چاھت ھو
بھت لکھنے کی خواھش ھو
قلم کو تھام بھی لیں تو ، حرف گمنام ھوتے ھیں
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے

بیان مدعا کر لو ، بہت سی گفتگو کرلو
توکچھ حاصل نہیں ھوتا
 ، کہ لفظو ں کا اثا ثہ پھر یونہی بیکار جاتا ھے
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے
ادا اک لفظ بھی نہ ھو ، کوئ بھی گفتگو نہ ھو
خاموشی بات کرتی ھے،سماعت میں اتر جاتے ھیں لفظوں کے حسیں موتی
( کہ خاموشی بھی گویائ کی دعویدار ھوتی ھے )
خوشی کی ساعتوں کا پھر کوئ اک مہر باں جھونکا
اثاث قیمتی بنکر محیط زیست ھوتا ھے
مہکتی راحتو ں کا خوشنما پیغام ھوتا ھے
گزرتی ساعتوں کا دلربا انجام ھوتا ھے ۔ ۔ ۔
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے
امنگیں مسکراتی ھیں ، بہاریں گنگاتی ھیں ، فضائیں گیت گاتی ھیں
خوشی کی وادیوں میں زندگی بھی کھلکھلاتی ھے
دلوں میں چاہ ھوتی ھے کہ ان لمحوں کو ھاتھوں میں پکڑ کر
زندگی کرلیں ، یہ لمحے قید میں کرلیں ۔ ۔ ۔
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے ۔ ۔
پھسلتی ریت کی صورت ، نکل جاتے ھیں ھاتھوں سے یہ سب انمول سے لمحے
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے
کہ ایسا وقت آتا ھے کہ ۔ ۔ ۔
ساری راحتوں اور الفتوں کو چھین کر ھمکو، تہی دامن بناتا ھے
وفا حیران ھوتی ھے ، جفائیں مسکرا تیں ھیں ،
زخم دیتا ھے ھر لمحہ ، سلگتے پل نہیں کٹتے
دکھوں کی ساعتوں میں پھر یہ منظر ٹھہر جاتاھے
غموں اندوہ کے صحرا میں،کسی قطر ے کی خواھش میں
بھٹکتا ھے بیاباں میں ۔ ۔ ۔ مگر پیاسا ھی جاتا ھے
یہ ھی وہ وقت ھوتا ھے کہ انساں ھارجاتا ھے
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے ۔ ۔
لب دریا پہ رہ کر بھی،تشنگی ساتھ ھوتی ھے
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے
کہ خالی جام ھو پھر بھی،یہ جاں سیراب ھوتی ھے
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے
کہ ساری عمر کا رونا،یونہی بیکار جاتاھے
کوئ آنسو بہاتا ھے، تڑپتا ھے سلگتا ھے، تہی دامن ھی رھتا ھے
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے
کسی کو بھولنا چاھیں، محبت چھوڑنا چا ھیں ۔ ۔ ۔
مگر کچھ کر نہیں سکتے، بھلا ہر گز نہیں سکتے
خوشی اور دکھ کا سنگم ہی ۔ ۔ روانی زندگی کی ھے
صبح اور شام کا چلنا، نظام زندگی ھی ھے
کبھی سایہ کبھی جلنا، دوام زندگی ھی ھے
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے
کسی لمحے میں انساں سوچتا ھے،کیوں وہ بے بس ھے؟
کہ سب کچھ پاس بھی ھو کر، تہی دامن سا جیون ھے
انہی لمحوں میں پھر یہ یاد آتا ھے کہ،کوئی ھے
کہ جسکے اک اشار ے سے ھے کار زیست میں حرکت
اسی کا اک کرم ھو جائے گر بند ے کی ھستی پر
تو دریا ئے غموں میں نازؔ بیڑہ پار ھوجا ئے

اقرا نازؔ

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Kabhi aisa bhi hota hai
Buhat kehne ki chahat ho
Buhat likhne ki khwahish ho
Qalam ko thaam lain bhi to, Harf gumnaam hotey hain
Kabhi aisa bhi hota hai
Bayan mud'aa karlo, buhat si guftagoo karlo
To kuch haasil nahi hota
Ke lafzon ka asasa phir yunhi bekaar jata hai
Kabhi aisa bhi hota hai'
Ada ik lafz bhi na ho, koi bhi guftagoo na ho
Khamoshi baat karti hai, sama'at main urat jatey hain lafzom ke haseen moti
(Ke khamoshi main goya'i ki daawedaar hoti hai)
Khushi ki sa'aton ka phir koi ik mehrbaan jhonka
Asasa qeemti ban ka muheet-e-zeest hota hai
Mehkti rahaton ka khushnuma paigham hota hai
Guzarti sa'aton ka dilruba anjaam hota hai
Kabhi aisa bhi hota hai
Umangain muskurati hain, Baharain gungunati hain. Fizain geet gaati hain
Khushi ki wadiyon main zindagi bhi khilkhilati hai
Dilon main chah hoti hai ke in lamhon ko hathon main pakar kar
Zindagi karlain, Yeh lamhey qaid main karlain
Kabhi aisa bhi hota hai
Phisalti rait ki surat, nikal jatey hain hathon se, yeh sab anmol se lamhey
Kabhi aisa bhi hota hai
Ke aisa waqt ata hai ke..
sari rahaton ko ulfaton ko cheen kar ham ko tahi daman banata hai
Wafa hairaan hoti hai. jafain muskurati hain
Zakham deta hai har lamha. sulagtey pal nahi kat'tey
Dukhon ki sa'aton main phir yeh manzar thehr jata hai
Gham-o-andoh ke sehra main, kisi qatrey ki khwahish main
Bhatakta hain bayabaan main. magar piyasa hi jata hai
Yehi woh waqt hota hai ke insaan haar jata hai
Kabhi aisa bhi hota hai
Lab-e-dariya pe reh kar bhi, tishnagi saath hoti hain
Kabhi aisa bhi hota hai
Ke khaali jaam ho phir bhi yeh jaan seraab hoti hai
Kabhi aisa bhi hota hai
Ke sari umr ka rona yunhi bekar jata hai
Koi aansoo bahata hai, tarapta hai, sulagta hai, Tahi daman hi rehta hai
Kabhi aisa bhi hota hai
Kisi ko bhoolna chahain, mohabbat chorna chahain
Magar kuch kar nahi saktey, bhula hargiz nahi saktey
Khushi aur dukh ka sangam hi, rawani zindagi ki hai
Subah aur shaam ka chalna, nizam-e-zindagi hi hai
Kabhi saya kabhi jalna, dawaam-e-zindagi hi hai
Kabhi aisa bhi hota hai
Kisi lamhe main insaan sochta hai, kyun woh be-bas hai?
Ke sab kuch paas ho kar bhi, tahi daman sa jeewan hai
Unhi lamhon main phir yeh yaad ata hai, ke KOI hai
Ke jis ke ik isharey se hain kaar-e-zeest main harkat
Usi ka ik karam ho jaye gar bandey ki hasti per
To darya-e-ghamon main NAZ bera paar ho jaye



Iqra Naz

Koi aur us ke siwa nahi



مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں
مری زیست کے کسی موڈ پر جو مجھے ملا تھا بہار میں

وہی اک امید ہے آخری اسی ایک شمع سے روشنی
کوئی اور اس کے سوا نہیں، میری خواہشوں کے دیار میں

وہ یہ جانتے تھے کہ آسمانوں، کے فیصلے ہیں کچھ اور ہی
سو ستارے دیکھ کے ہنس پڑے مجھے تیری بانہوں کے ہار میں

یہ تو صرف سوچ کا فرق ہے، یہ تو صرف بخت کی بات ہے
کوئی فاصلہ تو نہیں یہاں، تیری جیت میں میری ہار میں

ذرا دیکھ شہر کی رونقوں سے پرے بھی کوئی جہان ہے
کسی شام کوئی دیا جلا کسی دل جلے کے مزار میں

کسی چیز میں کوئی ذائقہ کوئی لطف باقی نہیں رہا
نہ تیری طلب کے گداز میں نہ میرے ہنر کے وقار میں....

اعتبار ساجد

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
Mujhey sarey ranj qubool hain usi aik shakhs ke piyar main
Meri zeest ke kisi mor per jo mujhey mila tha bahar main

Wohi ik umeed hai aakhri, usi aik shama se roshni
Koi aur us ke siwa nahi, meri khwahishon ke diyar main

Woh yeh jaantey they aasmanon ke faisle hain kuch aur hi
So sitarey dekh ke hans parey mujhey teri baanhon ke haar main

Yeh to sirf soch ka farq hai, yeh to sirf bakht ki baat hai
Koi faasla to nahi yahan, teri jeet main, meri haar main

Zara dekh shehr ki ronaqon se parey bhi koi jahaan hai
Kisi shaam koi diya jala kisi dil jaley ke mazar main

Kisi cheez main koi zaida koi lutf baqi nahi raha
Na teri talab ke gudaaz main, na mere hunar ke waqar main

Aitebaar Sajid

Zindagi Khaak Na Thi





زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری
تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری

دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا
شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری

اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواں
وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری

زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیری
اُس کو آتا ہے نبھانا، سو نبھاتے گزری

زندگی نام اُدھر ہے، کسی سرشاری کا
اور اِدھر دُور سے اک آس لگاتے گزری

رات کیا آئی کہ تنہائی کی سرگوشی میں
ہُو کا عالم تھا، مگر سُنتے سناتے گزری

بار ہا چونک سی جاتی ہے مسافت دل کی
کس کی آواز تھی، یہ کس کو بلاتے گزری


شاعر : نصیر ترابی


~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Zindagi khaak na thi khaak uraatey guzri
Tujh say kya kehtay teray pass jo aatey guzri

Din jo guzra to kisi yaad ki ro main guzra
Shaam aayi to koi khuwaab dikhaatey guzri

Acchay waqton ki tamana main rahi umr-e-rawaan
Waqt aisa tha ke bas naaz uthaatey guzri

Zindagi jis kay muqadar main ho khushiyan teri
Ussko aata hai nibhana so nibhaatey guzri

Zindagi naam udher hai kisi sarshaari ka
Aur udher door say aik aas lagaatey guzri

Raat kiya aayi ke tanhaai ki sarghoshi main
Hoo ka aalam tha magar suntey sunaatey guzri


Baarha choonk si jaati hai musaafat dil ki
Kis ki awaz thi yeh, kis ko bulaatey guzri


Naseer Turabi

Ghar Ki Buniyad





"کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟
تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟"
(عمر ابن الخطاب)
اس نے زیر لب ان الفاظ کو پڑھا۔ اسے وہ واقعہ یاد تھا۔ ایک شخض اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے چھوڑنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔ اس کے جواب میں یہ الفاظ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمائے تھے‘ کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟ تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟
(اقتباس: نمرہ احمد کے ناول "جنّت کے پتے" سے)

Shukriya





شکر ادا نہ کرنا بھی ایک بیماری ہوتی ہے ایسی بیماری جو ہمارے دلوں کو روز بروز کشادگی سے تنگی کی طرف لے جاتی ہے ۔ جو ہماری زبان پر شکوہ کے علاوہ اور کچھ آنے ہی نہیں دیتی ۔اگر ہمیں الله کا شکر ادا کرنے کی عادت نہ ہو تو ہمیں انسانوں کا شکریہ ادا کرنے کی بھی عادت نہیں پڑتی
اگر ہمیں خالق کے احسانوں کو یاد رکھنے کی عادت نہ ہو تو ہم
کسی مخلوق کا احسان بھی یاد رکھنے کی عادت نہیں سیکھ سکتے

“پیر کامل” : عمیرہ احمد

Ta'alluq



تعلق کیا چیز ہے؟

یہ بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضع نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو اندر ہی اندر یہ یقین محکم رہتا ہے کہ "آپ کی آگ" میں سلگنے والا کوئی دوسرا بھی موجود ہے، دہرا وزن آدھا رہ جاتا ہے۔

بانو قدسیہ کے ناول حاصل گھاٹ سے اقتباس

Samandar ka pani



سمندر کا وہ پانی جو سمندر سے باہر ہو، اسے دریا، جھیل، بادل، آنسو، شبنم کچھ بھی کہہ دو، لیکن پانی کا وہ حصہ جو سمندر میں شامل ہو جائے، وہ سمندر ہی کہلائے گا۔

واصف علی واصف

جمعرات, اپریل 04, 2013

بابا جانی!


ِ۔۔۔۔۔۔بابا جانی۔۔۔۔۔۔ِ


بستر پہ بیمار پڑے تھے
بابا جانی کروٹ لے کر
۔۔ہلکی سی آواز میں بولے
۔۔بیٹا کل کیا منگل ہو گا
۔۔گردن موڑے بِن میں بولا۔۔۔
بابا کل تو بُدھ کا دِن ہے
۔۔۔بابا جانی سُن نہ پائے
۔۔۔پھر سے پوچھا کل کیا دِن ہے
۔۔۔تھوڑی گردن موڑ کے میں نے۔۔۔۔
لہجے میں کُچھ زہر مِلا کے
۔۔۔منہ کو کان کی سِیدھ میں لا کے
۔۔۔دھاڑ کے بولا بُدھ ہے بابا
۔۔۔بُدھ ہے بابا۔۔بُدھ ہے بابا۔۔۔
آنکھوں میں دو موتی چمکے
۔۔۔سُوکھے سے دو ہونٹ بھی لرزے
۔۔لہجے میں کُچھ شہد مِلا کے
۔۔۔بابا بولے بیٹھو بیٹا۔۔۔
... چھوڑو دِن کو دِن ہیں پُورے۔
۔۔تُم میں میرا حصہ سُن لو۔
۔۔بچپن کا اِک قِصّہ سُن لو۔
۔۔یہی جگہ تھی میں تھا تُم تھے۔۔۔۔
تُو نے پُوچھا رنگ برنگی۔
۔۔پھولوں پر یہ اُڑنے والی۔۔
۔اِس کا نام بتاؤ بابا۔
۔۔گال پہ بوسہ دے کر میں نے۔۔۔۔۔
پیار سے بولا تِتلی بیٹا۔
۔۔تُو نے پُوچھا کیا ہے بابا۔
۔۔پِھر میں بولا تِتلی بیٹا۔
۔۔تِتلی تِتلی کہتے سُنتے۔۔۔
ایک مہینہ پُورا گُزرا۔
۔۔ایک مہینہ پُوچھ کے بیٹا۔
۔۔تِتلی کہنا تُو نے سِیکھا۔۔
۔ہر اِک نام جو سِیکھا تُو نے۔۔۔۔
کِتنی بار وہ پُوچھا تُو نے۔۔۔
تیرے بھی تو دانت نہیں تھے۔۔
۔میرے بھی اَب دانت نہیں ہیں۔
۔۔تیرے پاس تو بابا تھے نا۔۔
باتیں کرتے کرتے تُو تو۔
۔۔تھک کے گود میں سو جاتا تھا۔
۔۔تیرے پاس تو بابا تھے نا۔
۔۔میرے پاس تو بیٹا ہے نا۔۔۔
بُوڑھے سے اِس بَچے کی بھی۔
۔۔بابا ہوتے سُن بھی لیتے۔۔
۔تیرے پاس تو بابا تھے نا۔۔
۔میرے پاس تو بیٹا ہے نا۔۔
میرے پاس تو بیٹا ہے نا۔۔

۔۔عابی مکھنویؔ

بدھ, اپریل 03, 2013

Toota Hua Bartan


 
انسان جس سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔۔  اللہ اسے اسی کے ہاتھوں سے توڑتا یے۔۔۔ انسان کو اس ٹوٹے ہوئے برتن کی طرح ہونا چاہئیے، جس سے لوگوں کی محبت آئے، اور باہر نکل جائے۔۔۔

مصحف۔۔۔ نمرہ احمد