منگل, اپریل 30, 2013

Mohabbat



زندگی کے تپتے ہوئے ریگزار میں محبّت گویا ایک نخلستان سے کم نہیں۔۔۔
محبّت کے سامنے نا ممکن و محال کچھ نہیں۔۔۔
محبّت پھیلے تو پوری کائنات سمٹے تو ایک قطرہ خون۔۔۔
در حقیقت محبّت ، آرزوئے قرب حسن کا نام ہے - ہم ہمہ وقت جس کے قریب رہنا چاہتے ہیں ، وہی محبوب ہے۔۔۔
محبوب ہر حال میں حسین ہوتا ہے۔۔کیونکہ حسن تو دیکھنے والے کا اپنا انداز نظر ہے۔۔
ہم جس ذات کی بقا کے لیے اپنی ذات کی فنا تک گوارا کرتے ہیں وہی محبوب ہے۔۔۔
محبّت اشتھائے نفس اور تسکین وجود کا نام نہیں۔۔۔
اہل ہوس کی سائیکی اور ہے ، اور اہل دل کا انداز فکر اور۔۔۔
محبّت دو روحوں کی نہ ختم ہونے والی باہمی پرواز ہے۔۔۔

واصف علی واصف

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں