اتوار, اپریل 07, 2013

Sila Rehmi


رشتے داروں کے ساتھ ویسا ہی رویہ رکھنا چاہیے جیسا وہ ہمارے ساتھ رکھتے ہوں۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرمایا کرتے تھے کہ بدلے کی صلہ رحمی کرنے والا تو صلہ رحمی نہیں کرتا۔ اس پہ تو آپ کو اجر ہی نہیں ملے گا۔ اجر تو تب ملے گا جب آپ بُرے کے جواب میں اچھا کریں۔ تم انہیں معاف کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔
"انہوں نے میری جائیداد کھائی ہے۔ وہ چیخ پڑی تھی۔ ابا اپنی ساری پراپرٹی میرے نام کرکے گئے تھے۔
بہت غلط کر کے گئے تھے پھر۔ انہیں حق نہیں تھا کہ ساری پراپرٹی وصیت کرتے۔ ان کا حق تو بس ایک تہائ پہ تھا، اُس کو بے شک تمہارے نام وصیت کر جاتے، مگر باقی کے دو تہائ حصے کی شرعاً تقسیم کی اجازت دے جاتے، تو شاید تمہارے چچا لوگ اپنے حصے پہ قناعت کر لیتے۔ وارث تو اللہ نے بنائے ہیں۔ جانے والے کو بُرا بھلا نہیں کہہ رہی۔ مگر ایک غلط فیصلہ بہت سوں کی زندگیاں خراب کر دیتا ہے۔
محمل۔ تم کچھ لوگوں کے غلط فیصلے کو بنیاد بنا کر اپنے رشتے داروں پہ ظلم کرو گی تو یہ مت بھولو کہ پل صراطہ پہ رحم اور امانت کے کانٹے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر خائن اور قطع رحمی کرنے والے کو پل سے نیچے جہنم میں گرائیں گے، اور ہر امانت دار اور صلہ رحمی کرنے والا پل پار کر جائے گا، تم وہ پل پار نہیں کرنا چاہتیں؟

( نمرہ احمد کے ناول "مصحف" سے اقتباس)

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں