اشاعتیں

شکر ہے تیرا خدایا

تصویر
شکر ہے تیرا خدایا، میں تو اس قابل نہ تھا تُو نے اپنے گھر بلایا، میں تو اس قابل نہ تھا
اپنا دیوانہ بنایا ،میں تو اس قابل نہ تھا گِرد کے کعبے کے پھرایا، میں تو اس قابل نہ تھا 
خاص اپنے در کا رکھا تُو نے اے مولا مجھے  یوں نہیں در در پھرایا، میں تو اس قابل نہ تھا
مدتوں کی پیاس کو سیراب تو نے کر دیا  جام زم زم کا پلایا، میں تواس قابل نہ تھا
میری کوتاہی کہ تیری یاد سے غافل رہا پر نہیں تُو نے بھلایا، میں تو اس قابل نہ تھا
بھا گیا میری زباں کو ذکر"الا اللہ" کا یہ سبق کس نے پڑھایا، میں تو اس قابل نہ تھا
مجھ کو بھٹکانے لگے تھے راستے کے پیچ و خم  قافلے سے لا ملایا میں، تو اس قابل نہ تھا
شکر رب کا جس نے مجھ کو بے حسی کے باوجود خوابِ غفلت سے جگایا، میں تو اس قابل نہ تھا
میں کہ تھا بے راہ تو نے دستگیری آپ کی تو ہی مجھ کو در پہ لایا ،میں تو اس قابل نہ تھا
تیری رحمت، تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب گنبدِ خضرا کا سایہ، میں تو اس قابل نہ تھا
بارگاہِ سیدِ کونین ﷺ میں آکر نفیسّ سوچتا ہوں کیسے آیا، میں تو اس قابل نہ تھا
میں نے جو دیکھا سو دیکھا بارگاہ اقدس میں اور جو پایا سو پایا ،میں تو اس قابل ن…

رمضان ایک عبادت، ایک پیغام ... حصہ ہفتم

تصویر
رمضان ایک عبادت، ایک پیغام ... حصہ ہفتم مصنف: حامد کمال الدین ایقاظ میگزین
قارئین ! روزہ رکھ کر بھوکے اور نادار مسلمانوں کااحساس ہوجانا بھی روزے کاایک مقصد ہے ۔صدقہ دراصل اسی احساس کانتیجہ ہوتا ہے۔ مسکینوں کو کھلانا اس مہینے کاایک بہترین عمل ہے۔ مساکین میں رشتہ داروں ، پڑوسیوں اور محلہ داروں کا سب سے بڑھ کرحق ہے۔ پھر ان میں سے جو زیادہ نیک اور اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہوں انکااور بھی بڑا حق ہے۔ اگر کوئی نیکی میں کم ہے تب بھی آپ کے صدقہ و انفاق کے پیچھے اسے مسجد میں لے آنے کا مقصد ، کوشش اور دعا ہونی چاہیے۔ کچھ بھی پکائیں اس کاکچھ حصہ غریب پڑوسی یا پڑوسن کونکال کربھیج دیا کریں۔ کسی کو کچھ دیں تو عزت اور احترام سب سے پہلے دیں۔ جو غریب کو کچھ بھی نہ دے سکتا ہو وہ محبت اور پیارتو دے سکتا ہے۔ یہ نیکی بھی چھوٹی تو نہیں! مسلمان کا مسلمان کومسکرا کر ملنا بھی اللہ کے رسول نے کہا ہے کہ صدقہ ہے۔ بڑی بڑ ی افطاریاں عموما پیسے کی نمائش ہوتی ہیں۔یک مالدار روزہ کھلوانے کی نیکی کرنے پر آئے تو بھی مالداروں کونہیں بھولتا، یاد توبس غریب نہیں رہتے۔ رمضان بھی اگر امیر اور غریب مسلمانوں میں قربت اور اپنائیت پید…

تدبرِ القرآن۔۔۔ سورہ الکھف ۔۔۔۔۔ استاد نعمان علی خان۔۔۔۔۔ حصہ-3

تصویر
تدبرِ القرآن سورہ الکھف استاد نعمان علی خان حصہ-3
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا - 18:10

"جب پناہ لی چند نوجوانوں نے غار میں تو کہنے لگے ہمارے رب عطا فرما ہمیں اپنی جانب سے رحمت۔ اور مہیا کر ہمیں ہمارے معاملات میں درستی"

وہ نوجوان غار میں کس مقصد سے گئے تھے؟
اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے۔
"اور وہ کہنے لگے "ہمارے رب عطا فرما ہمیں اپنی جانب سے رحمت۔ اور مہیا کر ہمیں ہمارے معاملات میں درستی"
یعنی، ہمارے معاملات درست فرمادے، اور ہماری رہنمائی فرما اس تک جو بہترین ہے۔
یہ نوجوان تھے، جوان لڑکے، ایک گروہ تھا لڑکوں کا جنہوں نے اپنا گھر چھوڑدیا تھا، اپنا شہر چھوڑدیا تھا، کیوں؟ صرف اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے۔ کیونکہ اس وقت کے بادشاہ نے اعلان کردیا تھا کہ جو کوئی ایمان لائے گا، بت پرستی سے دستبردار ہوگا اس کا قتل کردیا جائے گا۔ لوگوں کو مارا جارہا تھا۔ سو ایک طرف وہ مرنا نہیں چاہتے تھے اور دوسری طرف وہ اپنے ایمان پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تو پھر انہوں…

استقبالِ رمضان-21

تصویر
استقبالِ رمضان-21  بسم اللہ  اللَّهُمَّ بَلِّغْنا رَمَضَانَ وَأَعِنَّا عَلَى صِيَامِهِ وَقِيَامِهِ عَلَى الوَجْهِ الّذِي يُرْضِيكَ عَنَّا    رَبِّ یَسِّرْ وَلآ تُعَسِّر وَ تَمِّمْ بِا الْخَیَّر  
 السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  
1- آج کی مسنون دعا: '' اللَّهُمَّ ! قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ (أَوْ تَجْمَعُ) عِبَادَكَ '' عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بستر پر تشریف لے جا تے تو اپنا دا یا ں ہا تھ اپنے رخسا ر مبارک کے نیچے رکھتے، پھر ( یہ دعا ) پڑھتے :  '' اللَّهُمَّ ! قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ (أَوْ تَجْمَعُ) عِبَادَكَ ''  اے اللہ ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھا ئے گا یا جمع کرے گا۔ (سنن ابن ماجہ)
2- آج کا مسنون عمل: سورہ الکھف کی تلاوت کریں: جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنے کی فضیلت میں نبیﷺ سے صحیح احادیث وارد ہیں جن میں سےکچھ کا ذکرذیل میں کیا جاتا ہے۔
’’فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے: "جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اسے کے لیے دوجمعوں کے درمیان نورروشن ہوجاتا ہے"۔ (بقیھی) …

استقبالِ رمضان-20

تصویر
استقبالِ رمضان-20
بسم اللہ
اللَّهُمَّ بَلِّغْنا رَمَضَانَ وَأَعِنَّا عَلَى صِيَامِهِ وَقِيَامِهِ عَلَى الوَجْهِ الّذِي يُرْضِيكَ عَنَّا   رَبِّ یَسِّرْ وَلآ تُعَسِّر وَ تَمِّمْ بِا الْخَیَّر 
 السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
1- آج کی مسنون دعا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي ‏
اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتاہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شرسے۔ (ترمذی)
2- آج کا مسنون عمل: زیتون کا تیل استعمال کریں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے:  "زیتون کے تیل کو کھاؤ اور اس سے جسم کی مالش کرو، کہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔ (شمائل ترمذی)
3- کسی کی مشکل میں اس کی مدد کریں: حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے تو ال…

آج کی بات ۔۔۔ 25 مئی 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
انسان عقل کل نہیں رکھتا ۔۔  بلکہ عقلِ قلیل کا مالک ہے  اور اِسی عقل ِقلیل کا غرور اُسے فرعونیت تک پہنچا دیتا ہے۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تدبر القرآن۔۔۔۔ سورۃ البقرہ۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔۔۔۔ حصہ- 41

تصویر
تدبر القرآن  سورۃ البقرہ نعمان علی خان   حصہ- 41
فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من اشیطان الرجیم 
*إِنَّ اللَّـهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ ﴿٢٦﴾ الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ﴿٢٧﴾ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿٢٨﴾*
الله تعالی پچھلی آیات میں جنت کے بیان کے بعد ان آیات میں قرآن کی حقیقت کی طرف واپس آتے ہیں. جیسے کہ پچھلی آیات میں الله تعالی نے فرمایا تھا 
*وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِه وَادْعُوا شُهَدَاءَكُ…

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل