بدھ, نومبر 22, 2017

تبلیغ (ڈائلاگ از عمر الیاس)

تبلیغ (ڈائلاگ)
بشکریہ: عمر الیاس 

کہاں گئے ہوئے تھے؟؟

تبلیغی دورے پر۔۔

کیسا رہا؟

اپنی پوری کوشش کی ۔۔ پر ایک بندہ بھی مائل نہیں ہوا۔۔ الٹا میں خود تذبذب کا شکار ہو گیا۔۔

اس کوشش کے بارے میں بتاؤ۔۔۔

خطبات دیے ۔۔۔ بیانات ۔۔۔ وعظ ۔۔۔۔  بہت سارے ۔۔ روزانہ کم از کم پانچ

اسی لیے نتیجہ نہیں نکلا تبلیغ کا

کیوں؟؟

"تبلیغ کہہ کے نہیں کی جاتی :) 
اور جو کہہ کے کی جائے وہ تقریر، خطابت، وعظ، تکرار، بحث تو ہو سکتی ہے ۔۔۔ 'تبلیغ" نہیں"۔۔ 

فتویٰ دینے اور سوال پوچھنے کے آداب۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس)

مسجد الحرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید

جمعۃ المبارک 28 صفر 1439ھ بمطابق 17 نومبر 2017ء

ترجمہ: محمد عاطف الیاس
 نظر ثانی:  میاں عتیق الرحمٰن

لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے، اللہ سے ڈرتے رہو اور اس علم سے بچو جس کا اثر آپ کے عمل میں نہیں، اس عبادت سے بچو جس میں اخلاص نہیں، اس مال سے بچو جس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی، اس دل سے بچو جس میں محبت الٰہی اور اسے ملنے کا شوق نہیں، اور اس وقت سے بچو کہ جسے بھلائیوں اور نیک کاموں سے معمور نہیں کیا جاتا۔

یاد رکھو کہ وہ خطرناک ترین چیزیں کہ جن سے بچنا ناگزیر ہے: دل کی بربادی اور وقت کا ضیاع۔ دل کی بربادی تو دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے ہوتی ہے اور وقت کا ضیاع خواہشات کی پیروی اور طویل امیدوں سے ہوتا ہے۔ مکمل نیکی یہ ہے کہ راہ ہدایت پر چلا جائے اور قیامت کی تیاری کی جائے۔

اے مسلمانو!

علم، انبیا کی میراث ہے اور سوال علم کی کنجی ہے۔ شریعت اسلامیہ نے علم سیکھنے کے لیے سوال کا حکم دیا ہے اور کی ترغیب دلائی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
 ’’اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں‘‘ [يونس: 94]۔ 
اسی طرح فرمایا: 
’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے‘‘ [النحل: 43]۔

ابن شہاب کہتے ہیں کہ: ’’علم کئی خزانوں پر مشتمل ہے، ہر خزانے کی کنجی سوال ہے۔‘‘

الخلیل کہتے ہیں: ’’ہر علم پر ایک تالا لگا ہوتا ہے جس کی کنجی سوال ہے۔ جب تمہارے ہاتھ میں کنجیاں آ جائیں تو پھر تم جس تالے کو چاہو، کھول لو‘‘

سوال کرنے والے کے سوال سے اس کی عقل اور اس کا ادب جھلکتا ہے۔ عقل مند ہر چیز کو اپنی زبان پر نہیں لاتا اور جاہل یہ نہیں جان پاتا کہ کون سی چیز کہنی چاہیے اور کون سی نہیں کہنی چاہیے، یا کون سی چیز کب اور کیسے کہنی چاہیے۔

اس حوالے سے چند قاعدے جان لیجیے۔ سوال یوں کرو، گویا کہ تم جاہل ہو۔ عقلمندوں کی طرح جواب کو سمجھو۔ سوال درست ہو تو اسی میں آدھا جواب ہوتا ہے۔ جو استادوں کے سامنے ذلیل ہوتا ہے وہ استاد بن کر بڑی عزت کماتا ہے۔ علم وہی سیکھتا ہے جس کی زبان سوال کرنے والی، دل عقلمند اور بہترین ادب کا حامل ہو۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

چونکہ علم کے میدان میں سوال وجواب کی بڑی اہمیت ہے، تو اہل علم نے سوال پوچھنے اور فتویٰ دینے کے آداب پر طویل تحریریں لکھی ہیں۔

آج کے دور میں اللہ تعالیٰ نے رابطے کے وسائل بڑھا دیے ہیں اور کسی سے بات چیت کرنا انتہائی آسان ہو گیا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ان آداب کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اہل علم نے سوال وجواب کے متعلق بیان کیے ہیں۔

اور جب ہم اخبارات، میگزینز، ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ پر مفتیوں کا حال دیکھتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ فتویٰ واقعتًا ایک اہم اور عظیم ذمہ داری ہے۔

میں اس حوالے سے چند گزاشات پیش کرتا ہوں جن میں چند آداب آ جائیں گے۔

پہلی گزارش: سوال کرنے والے اور فتویٰ پوچھنے والے کے متعلق ہے۔

علماء کرام کا کہنا ہے کہ: سوال کرنے والے اور فتویٰ پوچھنے والے کو چاہیے کہ اپنے سوال میں حقائق کو جوں کا توں، انتہائی باریک بینی کے ساتھ نقل کرے، یہاں تک کہ اسے تسلی ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے یہاں اسے اس کے سوال کی سچائی کے متعلق پوچھا گیا تو وہ سرخرو ہی ہو گا۔

ان مسائل کے متعلق پوچھنا چاہیے جو سائل کو درپیش ہیں۔ جن مسائل کا سامنا ہی نہ ہو، ان کے متعلق پوچھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سوال کرتے وقت حقائق چھپانے، حقائق کو چلاکی سے تبدیل کرنے یا الفاظ کے ہیر پھیر سے غلط مطلب سمجھنے سے بچنا چاہیے۔

ایک ہی سوال کو لے کر مفتیوں میں گھومتے نہیں رہنا چاہیے۔ یہ دیانت داری اور خدا خوفی کے خلاف ہے۔

آسانیاں تلاش کرنے اور مفتیوں کے فتووں سے آسان ترین یا من پسند فتووں کو اپنانے سے بچنا چاہیے۔ اہل علم کہتے ہیں: ’’جو ہر عالم کی دی گئی رخصت پر عمل کرتا ہے اور ہر مفتی کی غلطی ڈھونڈتا رہتا ہے، اس میں ساری برائی جمع ہو جاتی ہے‘‘

جو اپنے لیے بھلائی چاہتا ہے، وہ علما کی باتوں کا تقابل کر کے انہیں غلط ثابت کرنے میں نہ لگے۔ کیونکہ علما تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے دور سے اپنے اجتہاد، رائے اور جوابوں میں اختلاف کرتے رہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ چنانچہ ہمیں خود بری الذمہ ہونے کی فکر کرنی چاہیے تاکہ ہمارا دین بھی سلامت رہے، عبادت بھی درست ہو، معاملات بھی ٹھیک ہو جائیں اور زندگی آگے بڑھ سکے۔

اے میرے بھائیو!

اگر کسی مسئلے میں دو مختلف جواب سامنے آ جائیں تو اس عالم کے جواب پر عمل کرنا چاہیے کہ جو اپنے دین، علم اور خدا خوفی کے اعتبار سے بہتر ہے۔ خواہشات کی پیروی اور رخصتوں کی تلاش سے بچنا چاہیے۔

جو عالم کے امتحان کے لیے سوال کرتا ہے، وہ محرومی، گھاٹے اور دل کی سختی لے کر لوٹتا ہے۔ سوال تو سائل کی ضرورت کے لیے ہوتا ہے اور اس کا مقصد جواب معلوم کرنا، اس سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے، نہ کہ اہل علم سے بحث کرنا اور اپنی علمیت جتانا۔

حدیث میں آتا ہے: ’’جو علماء سے بحث کرنے کے لیے، جاہلوں کے سامنے اپنی علمیت جتانے کے لیے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے اللہ اسے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔‘‘

سوال کو ضرورت سے زیادہ طویل نہیں کرنا چاہیے۔ ضرورت کے بغیر زیادہ سوال بھی نہیں کرنے چاہیں، تاکہ مفتی کے قیمتی وقت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھا جا سکے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں: ’’میں نے صحابہ کرام سے بھلے لوگ کبھی نہیں دیکھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں صرف تیرہ مسئلے ہی پوچھے اور ان سب کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ وہ صرف ضرورت کے وقت سوال کیا کرتے تھے۔‘‘

ادب کا تقاضا یہ ہے کہ سائل اپنے سوال میں یہ نہ کہے: ’’فلاں عالم نے کہا ہے‘‘ یا ’’فلاں عالم آپ کی رائے کی مخالفت کرتے ہیں‘‘ کیونکہ یہ بدتمیزی ہے اور کسی کو یہ پسند ہوتا کہ اس سے سوال کرتے وقت دوسروں کے اقوال نقل کیے جائیں۔

دانشمندوں کا کہنا ہے: ’’ہم عصر لوگوں کی باتیں کتابوں میں ہی رہنی چاہیں۔ انہیں آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔‘‘

علماء کے درمیان اختلاف کو ہوا دینے یا ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے برے جذبات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

دوسری گزارش: عورت کے حوالے سے ہے۔ 
اسے بھی حق کا سوال ہے اور اسے کن آداب کا لحاظ کرنا چاہیے؟

عورت کو بھی دینی مسائل دریافت کرنے کا حق ہے اور مسلمان عورت سوال سے بے نیاز بھی نہیں ہو سکتی۔

امام بخاری کی کتاب میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب بھی کوئی ایسا مسئلہ معلوم ہوتا جس کا جواب نہیں معلوم نہ ہوتا تو وہ اس کے متعلق پوچھتی رہتیں، یہاں تک وہ اس کا جواب معلوم کر لیتیں۔ صحابیات رسول صحابہ کرام سے سلام کرتیں، فتویٰ پوچھتیں، سوال کرتی اور مشورہ طلب کرتی تھیں۔

امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’انصار کی عورتیں بھی خوب عورتیں تھیں۔ حیا نے انہیں دین سیکھنے اور سمجھنے سے نہیں روکا‘‘

سائل کو یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ مفتی کا فتویٰ نہ کسی حرام کو حلال کرے گا اور نہ کسی حلال کو حرام کرے گا۔ اگر سائل سوال میں حیلہ کیا ہو اور سوال کے لفظوں میں ایسے تبدیلی کی ہو کہ معنیٰ اور مفہوم محتمل ہو جائے تو مفتی تو سوال کے مطابق ہی جواب دیتا ہے۔

اسی طرح اگر مفتی اس کا لحاظ کرے یا خاص تعلق کی وجہ سے درست فتویٰ نہ دے تو دونوں گناہ گار ہیں۔

اللہ مفتیوں کو صحیح فتوے  دینے کی توفیق عطا فرمائے، صحیح راستہ دکھائے۔ ہم سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

تیسری گزارش: مفتی کے آداب کے حوالے سے یہ ہے۔

مفتی اللہ رب العالمین کی طرف سے مہر لگانے والا ہے۔ وہ جس چیز کا فتویٰ دیتا ہے وہ اسے شریعت اسلامیہ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ یا تو کسی واضح آیت یا حدیث کی بنا پر، یا پھر اہل علم ہونے کی حیثیت سے مناسب اجتہاد کی بنا پر فتویٰ دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 
’’لوگ تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے‘‘ [النساء: 176]،
 تو گویا مفتی اللہ کی طرف سے لوگوں کو احکام بتاتا ہے اور اللہ کی طرف سے ان احکام پر مہر لگاتا ہے۔

مفتی کو فتویٰ دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ آرام سے اور ٹھنڈے دماغ سے سوال پر غور کرنا چاہیے اور اسے اپنے دماغ میں واضح کر کے صورت حال کا صحیح اندازہ لگانا چاہیے۔

جواب واضح ہونا چاہیے، مکمل اور شامل ہونا چاہیے۔ سائل کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے اور سوال سمجھنے اور جواب سمجھانے میں صبر سے کام لینا چاہیے۔

اسی طرح لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیں، ان کے احوال، عادات اور صورت حال کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ ان سے سختیاں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یاد رہے کہ آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرائض چھوڑنے کی اجازت دے دی جائے یا شرعی احکام کو ختم کر دیا جائے اور لوگوں کی خواہشات کے ساتھ چلا جائے۔

اہل علم فرماتے ہیں: وقت، جگہ، عادات اور حالات کی تبدیلی سے فتویٰ بدل سکتا ہے، مگر لوگوں کی خواہشات کے ساتھ نہیں بدل سکتا، بلکہ یہ ان اصولوں پر قائم رہتا جو شریعت اسلامیہ نے وضع کیے ہیں اور جن میں ہر تبدیلی کی وجہ اور ضرورت کا مکمل طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے، اللہ سے ڈرو۔  ہر مفتی اور سائل اللہ سے ڈرے۔ شریعت کے احکام کی قدر کرو۔ یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرو، خود بریء الذمہ ہو جاؤ، آخرت میں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور حساب کتاب دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

منگل, نومبر 21, 2017

" زندگی کے رنگ امنگوں کے سنگ" ۔۔ خطبہ جمہ مسجد نبوی

خطبہ جمعہ مسجد نبوی
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 28-صفر- 1439 کا خطبہ جمعہ " زندگی کے رنگ امنگوں کے سنگ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی نہ ختم ہونے والی امنگوں سے بھری ہوئی ہے ، ان میں سے جو تمنا نیکی کیلیے ہو تو وہ اچھی ہے اور جو تقدیری فیصلوں سے متصادم ہو تو وہ مذموم ہے، بلند لوگوں کے ارمان بھی انہی کی طرح بلند ہوتے ہیں ، صرف دنیا تک ہی محدود نہیں ہوتے بلکہ آخرت بھی ان میں شامل ہوتی ہے۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}
 اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

اللہ تعالی نے اس وسیع کائنات کو مسخر فرمایا اور اس دنیا کو انسان کی نہ ختم ہونے والی امنگوں کا میدان قرار دیا، تو کچھ لوگوں کی زیادہ تو کچھ کی کم امنگیں ہوتی ہیں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (ابن آدم کھجوروں کی ایک وادی کا مالک ہو تو وہ اس جیسی ایک اور وادی کا ارمان کرنے لگے پھر دوسری کا یہاں تک کہ کئی وادیوں کی خواہش کرنے لگے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو مٹی ہی بھرے گی) اس روایت کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

امنگ نیکی کے لیے ہو تو قابل ستائش ہے، اور جو تمنا تقدیری فیصلوں پر اعتراض اور ناممکن الحصول کے لیے ہوں تو وہ قابل مذمت ہیں، انسان کے ارمان انسان کے ارادوں کے ترجمان ہوتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (انسانی نفس تمنا اور چاہت رکھتا ہے)انہی ارمانوں کی وجہ سے کچھ تو شان و شوکت کی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں اور کچھ ذلت کے گڑھوں میں جا گرتے ہیں۔

اچھی خواہشات اور تمنائیں بھی عظیم ثواب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں، ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے چار قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا: (ایک شخص کو اللہ نے مال اور علم عطا فرمایا تو وہ اپنے علم کے مطابق دولت کو راہِ حق میں خرچ کرتا ہے اور ایک شخص کو اللہ تعالی نے علم دیا لیکن اسے مال نہیں دیا اور وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ اگر اسے بھی دولت مل جائے تو وہ بھی اسی طرح خرچ کرے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: یہ دونوں اجر میں برابر ہیں۔ اور ایک شخص کو اللہ تعالی نے مال دیا لیکن اسے کے پاس علم نہیں ہے اور وہ مال کو ناحق راستوں میں خرچ کرتا ہے ، اور ایک شخص کو اللہ تعالی نے نہ مال دیا اور نہ ہی دولت سے نوازا تو وہ بھی یہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اس کی طرح مال مل جائے تو میں بھی اسی طرح اسے ناحق خرچ کروں گا جیسے یہ کرتا ہے کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں) ابن ماجہ

نیک نیتی کے ساتھ عملی کاوش اور جہدِ مسلسل نہ ہو تو خالی ارمانوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ، اللہ تعالی کا [عملی کاوش کی ترغیب کے لیے ]حکم ہے:
 {وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ}
 اور اپنے رب کی مغفرت کی جانب دوڑ پڑو۔[آل عمران: 133]

بلکہ تمنائیں اور ارمان بھی دعا کی اقسام میں سے ایک ہیں، یہ بھی قبولیت کی بنا پر شرمندہ تعبیر ہو جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کوئی اللہ سے تمنا کرے تو خوب کھل کر مانگے؛ کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے مانگ رہا ہے) اس روایت کو ہیثمی نے روایت کیا ہے اور البانی کے مطابق اس روایت کے راوی صحیح [بخاری] کے ہیں۔

مسلمان کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ارمان پورے ہونے کا تعلق اللہ تعالی کے حکم سے ہے، اس لیے اگر اس کے ارمان ادھورے رہ جائیں تو جھلملاتا نہیں ہے اور نہ ہی افسردہ ہوتا ہے؛ کیونکہ خیر اسی چیز میں جو اللہ تعالی نے اس کے لیے اختیار فرمائی ہے، چنانچہ بندہ ہر حالت میں اپنے پروردگار کا شکر ہی بجا لاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ}
 اور یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی چیز کو تم پسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو۔ اور اللہ ہی خوب جانتا ہے، تم نہیں جانتے [البقرة: 216]

اگر انسان کے ارمان دنیاوی امور تک ہی رہیں آخرت کے لیے ان میں کوئی جگہ نہ ہو تو وہ راہِ راست سے دور اور گمراہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا (18) وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا}
 جو شخص دنیا چاہتا ہے تو ہم جس شخص کو اور جتنا چاہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں پھر ہم نے جہنم اس کے مقدر کر دی ہے جس میں وہ بدحال اور دھتکارا ہوا بن کر داخل ہو گا [19] اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش بھی کرے اور مومن بھی ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ [الإسراء: 18، 19]

اپنے ارمانوں کو پورا کرنے کے لیے جو شخص جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے تعاون لے تو وہ اپنے آپ پر بہت زیادہ ظلم ڈھاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص کسی کاہن یا جادو گر کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کر دے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم - پر نازل شدہ شریعت سے کفر کرتا ہے) اس روایت کو طبرانی نے نقل کیا ہے اور ابن حجر نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔

امنگوں کے اس سفر میں اعلی ترین صورت حال اس وقت پیدا ہو گی جب اہل جنت اپنے ارمانوں کے مطابق جنت کی نعمتیں پا لیں گے، پروردگار بھی ان پر فیاضی فرمائے گا اور انہیں اپنے کرم سے عطا فرمائے گا (جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا جب جنت میں جائے گا تو جنت اس کے لیے وسیع اور خوبصورت بن چکی ہو گی، تو پروردگار فرمائے گا: تم اپنی خواہشیں بتلاؤ، تو بندہ اپنی خواہشات بیان کرنا شروع کرے گا تو اللہ تعالی فرمائے گا: تجھے تیری ساری خواہشات دیتا ہوں اور دنیا سے دس گنا زیادہ بھی)

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے اعمال کی توفیق مانگتے ہیں، نیز جہنم اور اس کے قریب کرنے والے تمام اعمال سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

آمین

سوموار, نومبر 20, 2017

گرین فرائی ڈے

گرین فرائی ڈے
ابو یحییٰ کا ایک اہم مضمون

ماہ نومبر کے آخر میں مغربی دنیا میں بلیک فرائی ڈے منایا جاتا ہے۔یہ دن مغربی دنیا خاص کر امریکہ میں کرسمس کے لیے کی جانے والی خریداری کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ اس موقع پر ہر جگہ زبردست ڈسکاؤنٹ دیے جاتے ہیں۔ اسی کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی پاکستان کی اشرافیہ اور اپر مڈل کلاس نے بلیک فرائی ڈے منانا شروع کردیا ہے۔ اس روز زیادہ تر برانڈز اپنی مصنوعات پر 70 فی صد تک ڈسکاؤنٹ دیتی ہیں اور شاپنگ سنٹر کے اندر خریداروں کا ہجوم رہتا ہے۔

بلیک فرائی ڈے اپنے تصور کے لحاظ سے ایک اچھی چیز ہے۔ کسی تہوار سے پہلے اس طرح رعایتی نرخ پر اشیا کی فروخت اپنی ذات میں ایک اچھا تصور ہے۔ اس کے نتیجے میں غریب اور کم آمدنی والے طبقات بھی تہوار کی خوشیوں میں شریک ہوجاتے ہیں۔ اسے ہمیں ضرور اپنانا چاہیے لیکن کچھ ترمیم کے ساتھ۔

ہمارے ہاں 97 فی صد مسلمان ہیں جن کا تہوار عید ہے، کرسمس نہیں۔ اس لیے بلیک فرائی ڈے جیسی چیز ضرور منائی جائے لیکن اس کا وقت اور نام ٹھیک کرلیا جائے۔ ہم اس کا نام بلیک فرائی ڈے سے بدل کر کچھ اور جیسے گرین فرائی ڈے رکھ سکتے ہیں۔ جبکہ اس دن کا درست موقع محل رمضان سے قبل ہے۔ یہ عید کا تہوار ہے جس میں عام لوگوں کو سستی اشیا کی ضرورت ہوتی ہے، کرسمس نہیں۔ اس لیے تاجر برادری منافع ضرور کمائے لیکن ہماری تہذیبی روایات کو مد نظر رکھے۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ اشرافیہ کے ساتھ عام لوگوں تک اس کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اشیاء کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے بڑھانے کا رواج عام ہے۔ ایسے میں اگر مغربی تہذیب کی پیروی میں کوئی اچھی چیز ہمارے ہاں آرہی ہے تو کم از کم کچھ معقولیت کے ساتھ آئے۔ ہم میں اگر اتنی زندگی بھی نہیں پائی جاتی تو ہماری تہذیب جلد ہی مردہ ہوجائے گی۔

خود میں تبدیلی ۔۔۔ استاد نعمان علی خان ۔۔۔پانچواں حصہ

خود میں تبدیلی (Self- Transformation)
استاد نعمان علی خان
پانچواں حصہ


‎میں مطابقت کے حوالے سے بات کرنا پسند کروں گا. جس سے ان بنیادی تصورات کی وضاحت ہوگی جو یہاں بیان ہوئے ہیں. آپ ذرا پہلے زمانے کے کسی غیر ترقی یافتہ گاؤں کا تصور کریں، جہاں کے رہنے والے بھی زیادہ مہذب نہ ہوں. ان کے پاس قوانین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ بھی نہیں. ایک دن ان کے پاس باوردی فوجیوں پر مشتمل، ایک گھڑسوار وفد آتا ہے، ساتھ ایک منفرد لباس میں ملبوس سفارت کار بھی ہے. واضح رہے کہ یہ سفیر اس علاقے سے تعلق نہیں رکھتا، وہ مقامی لوگوں کے پاس آکر اپنے بادشاہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک لمبا سا فرمان کھول کر پڑھنا شروع کر دیتا ہے- کہ ان کا بادشاہ اس گاؤں کا اپنے ساتھ الحاق کرنا چاہتا ہے اور اپنی سلطنت کا حصہ بنانے کے بعد وہ ان کو کچھ فائدے بھی دے گا- یہاں کے لوگوں پر کچھ قوانین کا اطلاق بھی ہوگا. اب لوگوں کا متوقع ردعمل یہ ہوگا کہ وہ اس سے دریافت کریں گے کہ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تم واقعی کسی بادشاہ کے نمائندے ہو؟ ایسے موقع پر وہ سفیر جواباً کوئی شاہی سکے یا قیمتی چیزیں دکھائے گا جو شاہی دربار سے متعلقہ ہوں گی. اب اگر آپ کو اس شاہی وفد اور سفارت کار پر یقین آجائے، تو پھر آپ کا اگلا لائحہ عمل یہ ہو گا کہ آپ اس بادشاہ سے ملنا چاہیں گے. اس ملاقات کے لئے آپ اپنے آپ کو صاف ستھرا کر کے بہترین لباس زیب تن کریں گے. دربار کے سارے لوازمات کا اہتمام کریں گے - 
‎یہ عرب، اللہ تعالٰی کے معجزانہ الفاظ کا تجربہ کر رہے تھے. وہ الفاظ ان کو حلیم و بردبار بنا رہے تھے. ایسے ثبوت ملتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس بحث و مباحثہ کے لیے آئے. آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) آیات تلاوت کر رہے تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اس آیت پر پہنچے جہاں اللہ تعالٰی کی طرف سے سجدہ کا حکم ہے تو ہر کوئی سجدہ میں گر گیا، کافروں کا وہ سارے کا سارا وفد سجدہ ریز ہوگیا. دیکھئے قرآن کے الفاظ نے ان کو کتنا مغلوب کر دیا تھا، اسی طرح حضور اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے لوگوں کو قرآن کی معجزانہ طاقت سے متعارف کروایا

پہلا کام جو اللہ کے نبی کرتے تھے:
‎1_ يَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِهٖ 
وہ ان پر آیات پڑھتے تھے

‎ وہ لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر رہے ہیں کہ یہ الفاظ کسی انسان کی طرف سے نہیں ہیں، بلکہ ایک بہت عظیم الشان اور طاقتور ہستی سے تعلق رکھتے ہیں. اب کچھ لوگ ان الفاظ کو پہچان کر قبول کر رہے ہیں. یہی لوگ پاک صاف بھی ہونا چاہتے ہیں. اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر وقت حضور اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں، ان لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے گرد ایک سوسائٹی بنا لی ہے. 

دوسرا کام: 
‎ 2_ وَيُزَكّيهِم 
انہیں پاک کرتے تھے

‎چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی طرف سے مسلسل یاد دہانی کا عمل جاری ہے. جس سے ان کو فائدہ پہنچ رہا ہے. 
‎ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ کے الفاظ کے ذریعے لوگوں کو مسلسل نصیحت کر رہے ہیں. 
‎ اس سے دو نتائج مل رہے ہیں، ایک تو ان کے دل لالچ، حسد، مادیت پرستی دنیاوی خواہشات سے پاک ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور دوسرا ان کے دل اللہ کے سامنے جھک جاتے ہیں اور وہ اللہ کے ساتھ جڑنا شروع ہو جاتے ہیں. اور مادی چیزوں سے تعلق کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہے. وہ چیزوں کو زیادہ شائستگی اور خوبصورتی سے دیکھنے لگتے ہیں. ان کے ذہن بھی تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں. یہی ہے "ویزکیہم" ... وہ ان کو پاکیزہ بنا رہا ہے. 

تیسرا کام
‎ 3_ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتابَ
اور انہیں کتاب سکھاتے

‎ اب تبدیلی کا تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے. اب وہ ان چیزوں پر تنقید کر رہے ہیں جن پر پہلے نہیں کرتے تھے. وہ ان چیزوں کی تعریف کرنے لگتے ہیں جن کے وہ پہلے معترف نہ تھے. صفائی/ تطہیر ہو رہی ہے. کیوں کہ وحی ایک تواتر سے مسلسل نازل ہو رہی ہے. جب وہ پاکیزگی کے عروج پر پہنچتے ہیں تو ان کے دل و دماغ مکمل طور پر اللہ کے مطیع ہو چکے ہوتے ہیں. اب اللہ کے معجزات تیار ہیں. یہ لوگ مضبوط ہو چکے ہیں. غلط چیزوں کو پیچھے چھوڑنے پر تیار ہیں. 
‎ آخر کار اللہ رب العزت اپنے قوانین نازل کرنا شروع کرتے ہیں. 
‎ مثلاً کوئی ایسی خوراک جو آپ نے پچھلی ساری زندگی میں کھائی ہے. اب آئندہ نہیں کھانی. 
‎ کچھ ایسے مشروب جن کے آپ عادی تھے. اپنی گزشتہ زندگی میں خوب لطف اندوز ہوتے رہے، اب آج کے دن سے ان کو پینا منع ہے. 
‎ کچھ مخصوص کپڑے، جیسا کہ عموماً خواتین لوگوں کے اجتماع میں خوبصورت لگنے کے لیے اپنے آپ کو مختلف چیزوں سے آراستہ کرتی ہیں، لیکن اب قرآن کہتا ہے کہ آئندہ تم نے ایسا لباس زیب تن نہیں کرنا. یعنی اللہ تعالٰی ہمیں قوانین سے متعارف کروا رہے ہیں. 
‎ جب یہ احکامات بھیجے گئے تو لوگ فوراً ان پر عمل پیرا ہو گئے. یہ سب کیونکر ہوا؟ کیونکہ تبدیلی کے پہلے دو مراحل گزر چکے تھے. یعنی تبدیلی کافی لمبے عرصے سے رواج پا رہی تھی. 

‎يَتلو عَلَيهِم آياتِهِ وَيُزَكّيهِم 

‎کافی عرصہ سے اللہ کے معجزانہ کلام کی ‎تلاوت ہو رہی تھی۔ لوگ اللہ کے الفاظ کے ذریعے حلیم اور بردبار ہو چکے تھے. چونکہ کلام الہی مسلسل ان کی تطہیر کر رہا تھا، اس لیے وہ اب قوانین /احکامات لینے کے قابل ہو گئے تھے

‎حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں 
‎کہ اگر قرآن کا پہلا حکم ہی یہ ہوتا، کہ شراب مت پیو، تو خدا کی قسم لوگ اس کو کبھی نہ چھوڑتے. 

‎ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتابَ 
‎ وہ کتاب سیکھاتا ہے 

‎ہمیں اسلام کے اصولوں کو انٹرنلائز کرنا چاہیے. جیسے آج کل بچوں کو منع کیا جاتا ہے کہ یہ حرام، یہ حرام ہے. ایسا مت کیجئے اگر آپ ان میں واقعی کوئی تبدیلی چاہتے ہیں تو آپ کو بھی اسی طریقہ پر چلنا ہو گا جو قرآن نے بتائے ہیں 

‎اب اس تبدیلی کے عمل کا آخری نکتہ آگیا ‎ہے. جس کا سفر کبھی ختم ہونے والا نہیں 


وَالحِكمَة
‎وہ ان کو حکمت سکھاتا ہے

‎ہم حکمت کو کبھی نہ ختم ہونے والا سفر کیوں کہہ رہے ہیں؟ 
‎ قوانین /احکامات، قواعد و ضوابط کا ایک محدود مجموعہ ہیں. مثلاً یہ منع ہے،یا یہ حرام ہے وغیرہ. 
‎ اسی طرح یہ لازم ہے، یا یہ ضروری ہے. جیسے پانچ وقت کی نماز فرض ہے. زندگی میں ایک دفعہ (اگر آپ استطاعت رکھتے ہیں تو) حج لازم ہے. سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں. یعنی احکامات کی تعداد محدود ہے. یہ بہت منظم ہیں. اسلام میں لامحدود قوانین کا تصور نہیں. 
‎ لیکن حکمت ایک بالکل ہی مختلف چیز ہے. کبھی نہ ختم ہونے والی. زندگی کے ساتھ ساتھ چلنے والی. قرآن کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، کسی مسلمان کی ساری زندگی اس کی حکمتوں کی تلاش میں گزر سکتی ہے اور دنیا سے جاتے وقت اس کے ہاتھ میں حکمت و دانش کے چند موتی ہی آئے ہوں گے. یہی حکمت و دانش کی حقیقت ہے. پس اللہ فرماتے ہیں
‎ وہ حکمت سکھاتے ہیں
‎وہ لوگوں کو اللہ کی کتاب میں مشغول کرتے ہیں اور اس کے پوشیدہ خزانوں کی تلاش سکھاتے ہیں
‎ یہی وہ سارا طریقہ کار ہے جو مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے. قوانین/احکامات کے پیچھے بھی حکمت کار فرما ہے. قوانین محض قواعد و ضوابط نہیں بلکہ ایک اخلاقی کوڈ ہے. روحانی کوڈ ہے. یعنی ان قوانین کے روحانی اور اخلاقی فوائد ہیں. قوانین کے اندر حکمت پوشیدہ ہے. 
‎ یہ تبدیلی کے وہی مراحل ہیں جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو دئیے گئے تھے. یہی چاروں نکات ابھی آپ سے شئیر کئے گئے ہیں. ان نکات پر عمل پیرا ہو کر معاشرتی تبدیلی ممکن ہے. ایک ایسے معاشرے کی تبدیلی جو کئی نسلوں سے بھٹکا ہوا تھا.
‎ یہ قوانین آپکو بتاتے ہیں کہ آپ قرآن کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں. یہ محض پڑھنے کی کتاب نہیں ہے. یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کو آپ نے مکمل تبدیلی کے لئے عمل میں لانا ہے. 
‎ حضور پاک (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو جو چار مشن سونپے گئے تھے.. آئیے ذرا انہیں دہرا لیں

‎ آیات کی تلاوت
‎ پاک کرنے کا عمل (تزکیہ) 
‎ احکامات سکھانے کا عمل 
‎ حکمت و دانش کی تعلیم 

‎ یہ چاروں عوامل اللہ کے چاروں ناموں پر منطبق ہوتے ہیں جو ہم نے اس گفتگو کے شروع میں دیکھے. 

‎1_ الملک (بادشاہ) 
2_القدوس (خالص) 
‎ 3_العزیز (زبردست، مختار، اتھارٹی) 
‎ 4_الحکیم (حکمت والا) 

جاری ہے۔۔۔