بلاگ کا کھوجی

جمعہ, اگست 26, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ دہم

حصہ دہم


سیاست دانوں کے متعلق ایک چیز تو واضح ہے کہ وہ تقریر بہت اچھی کرتے ہیں مگر، کیا وہ جنگ میں خود حصہ لیتے ہیں یا وطن کے لیے اپنے جوان بیٹے بیٹیاں بھیجتے ہیں؟ کیا وہ اپنے بچے بھیجتے ہیں؟ ہرگز نہیں.
وہ جنگ کیلئے غریبوں کے بچوں کو بھیجتے ہیں. اب جبکہ بدر کا واقعہ ہونے جا رہا تھا. عبداللہ بن اُبئی چونکہ ایک حقیقی سیاستدان تھا. کیا وہ بذات خود جنگ میں حصہ لینے کیلئے تیار بیٹھا تھا؟ ہرگز نہیں. اس کا مطمع ءنظر تو محض سیاست تھا نہ کہ قربانی.
قربانی تو نچلے طبقے کیلئے ہوتی تھی،اور وہ تو یثرب کے اعلٰی طبقے سے تعلق رکھتا تھا. لیکن اسلام آنے کے بعد کوئی اعلٰی اور ادنٰی طبقہ نہیں رہ گیا تھا. اب سب مسلم تھے.وہ بھی اب سب کے ساتھ ہی کھڑا تھا.
پہلے جب قبائل کے سربراہ آتے تھے تو لوگ ان کا شاندار استقبال کرتے تھے، ان کو اسپیشل نشستیں مہیا کرتے تھے. آج کے دور میں بھی ، یہاں تک کہ مسلم دنیا میں بھی، یہ طبقاتی فرق نمایاں طور پر نظر آتا ہے آپکو، ہر جگہ مخصوص نشستیں لگی ہوئی نظر آتی ہیں. آپ کبھی بھی ایک ٹرک ڈرائیور اور ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک ہی جگہ بیٹھا ہوا نہیں پائیں گے. افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ طبقاتی فرق ہمارے مسلم معاشرے میں بھی پایا جاتا ہےآپ کو کسی کلاسیفائیڈ سوسائیٹی میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ امیر لوگوں کو دیکھیں گے(بہترین گاڑیوں کے مالک) ان کے ڈرائیوربھاگ کے آتے ہیں، تیزی سے ان کیلئے کار کا دروازہ کھولتے ہیں. وہ دولتمند اشخاص اپنے ڈرائیور کو سلام تک کرنا گوارہ نہیں کرتے. حالانکہ وہ بھی مسلم ہی ہے. یہ بہت توہین آمیز انداز ہے. میں ایک مسلم ملک میں گیا، نماز جمعہ کے دوران کیا دیکھتا ہوں کہ پہلی تین قطاریں حفاظتی حصار میں تھیں، جناب یہ وی آئی پی سیکشن تھا... الله الله !!!

رسول الله( صلي الله عليه وسلم) کے ہاں تو کوئی وی آئی پی سیکشن نہ تھا. نماز کے دوران قطار بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ تمام گورے/کالے، آزاد /غلام ، امیر/ غریب ، بیمار / صحت مند ،بوڑھے / جوان ، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوں. باقی ہر چیز کو پیچھے چھوڑ دیں. یہی حقیقی مقصد تھا صف بندی کا. مگر کیا کیا جائے کہ کچھ لوگوں کے دماغ میں طبقاتی فرق گھسا ہوا ہوتا ہے. ان کیلئے یہ سب بہت مشکل ہوتا ہے، جیسےعبدالله بن اُبئی کا معاملہ ہے. اس کیلئے اور اس کے ساتھیوں کیلئے یہ بہت مشکل مرحلہ تھا. مدینہ میں ظہور اسلام کے بعد اب مہاجرین بھی برابر درجہ رکھتے تھے. مثلاً نماز میں ایک دن کسی جگہ پر اگر "وہ "کھڑا ہے تو دوسرے دن بلال کھڑے ہیں. اور اگلے دن ایک مہاجر، نہ صرف ایک مہاجر بلکہ ایک غلام (خادم )بھی.
یہ دوسرے طبقے کے لوگ نہ تھے بلکہ درجہ چہارم کے ملازم ان کے برابر کھڑے ہوتے تھے.یہ بات اس کیلئے ناقابل برداشت تھی. 

یہی بات حضرت نوح (عليه السلام)اور حضرت صالح( عليه السلام ) کی قوم نے (جنھوں نے کفر کیا) کہی تھی کہ ہم آپ کی بات سننا چاہتے ہیں. ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں. لیکن مسئلہ آپ کے ارد گرد موجود یہ غریب لوگ ہیں. جو ہر وقت آپ کو گھیرے رکھتے ہیں.
اگر آپ کسی فور سٹار ریستوران میں کسی ایگزیکٹو نشست پر بیٹھے ہوں، یا اپنے آفس میں ہوں اور آپ کا کوئی غریب ہمسایہ مل جائے تو آپ فوراً دوسروں کو بتاتے ہیں کہ یہ مجھ سے کمتر ہے. یا یہ میرے ماتحت ہے.
یہ منافقین کا ایک گروہ ہے جس سے میں آپکو متعارف کروانا چاہتا تھا.
ان لوگوں نے اسلام قبول تو کر لیا تھا. لیکن ان کے قبول اسلام کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ انھوں نے اس لئے نہیں اسلام قبول کیا تھا کہ وہ اسلام کے قائل ہوگئے تھے، ان کا اسلام قبول کرنا، اسلام سے محبت کا نتیجہ نہ تھا بلکہ قبول اسلام ہی ان کے لئے ایک ایسا رستہ تھا جس کے ذریعے وہ اپنا سیاسی کیرئیر بچا سکتے تھے. انھیں امید تھی کہ بالآخر چیزیں ان کے حق میں ہو جائیں گی.
ان کے رسول الله (صلى الله عليه وسلم) کے قریب آنے کی یہی وجہ تھی (وہ ان کو اپنا دشمن ہی سمجھتے تھے). تو یہ منافقین کی ایک قسم تھی

لیکن یہ آیات دوسری قسم سے متعلقہ ہیں. ان کے اسلوب کی خوبصورتی یہ ہے کہ الله عزوجل اپنے بیان میں بہت فصیح ہیں. وہ بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کر تے ہیں. ایک ہی وقت میں بہت سے گروہوں کی نشاندہی کرتے ہیں. یہی قرآن کی خوبصورتی ہے
.
هم ایک کلاس کی مثال لیتے ہیں: آپ کے کافی سارے شاگرد ہیں مختلف طالب علموں نے مختلف غلطیاں کی ہیں. ایک شاگرد ٹیسٹ میں فیل ہے. دوسرے نے ہوم ورک نہیں کیا. ایک اور طالب علم کلاس میں دیر سے آتا ہے. کچھ اور طلبہ کلاس کا ماحول خراب کر رہے ہیں اس طرح ایک ہی کلاس میں طلبہ مختلف جرائم میں ملوث ہیں. اب استاد کہتا ہے کہ "کچھ لوگ آج کلاس میں بڑی مشکل میں ہیں" جب استاد یہ کہتا ہے تو اس کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ استاد نے واضح نہیں کیا. یہاں تک کہ اگر استاد یہ بھی کہہ دے کہ آپ میں سے ایک بڑی مشکل میں ہے. تو اس نے تب بھی خصوصی طور پر کسی ایک طالب علم کا نام نہیں لیا. کلاس میں ہر فرد یہ سوچے گا کہ یہ میرے لئے ہے. دوسرا سوچے گا یہ بات میرے لئے ہے. یعنی سب طالب علموں کی سوچ کچھ ایسی ہی ہو گی.
گفتگو میں عقلمندی یہی ہے کہ چیزوں کو جنرل رکھا جائے. ايسا طرز تخاطب ہو جو زیادہ لوگوں کا احاطہ کرتا ہو.
پہلی بات منافقین کے سرداروں سے متعلق تھی.
اب انھی لوگوں میں ایک اور گروہ بھی موجود ہے جنھوں نے اسلام تو قبول کر لیا ہے. لیکن انھیں اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کہ قبولِ اسلام کے ساتھ انہیں کچھ اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں.
آج کے اسلام میں اور اُس دور کےاسلام میں بہت فرق ہے. آج کے دور میں جب کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو اس کی کہانی کیا ہوتی ہے؟ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص اپنے اپارٹمنٹ میں اکیلا رہتا ہو. اس کے والدین وفات پا چکے ہوں. اس نے کہیں سے اسلام کے بارے میں سنا ہو. وہ یوٹیوب سے اسلام سے متعلق ویڈیوز دیکھے گا. شیخ یوسف کو سنے گا. مفتی مینک کو سنے گا. سوچے گا کہ یہ ایک دلچسپ دین ہے. وہ مسلم بننا چاہے گا. پھر وہ گوگل سے مسجد کو تلاش کرے گا. وہاں جائے گا اور گواہی دے کر مسلمان ہو جائے گا.
اس کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ اس کی روزانہ کی زندگی بدلی ہے: اس کی زندگی سے سؤر کا گوشت نکل گیا ہے، الکوحل نکل گئی ہے، اب وہ صبح سویرے فجر کے لئے جلدی بیدار ہونے لگ گیا ہے، یعنی کچھ تبدیلیاں اس کی زندگی میں لازمی طور نظر آتی ہیں
.
لیکن اسلام کے ابتدائی دور میں کسی شخص کے اسلام قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ اس کی خوراک تبدیل ہوجائے گی ، یا روزے رکھنے پڑیں گے یا روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرنی پڑے گی.
تو پھر ان کے قبول اسلام کا کیا مطلب تھا؟

اس دور میں اس کا مطلب تھا کہ آپ قریش کے خلاف ایک تحریک کا حصہ بننے جا رہے ہیں. آپ براہِ راست قریش کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں. آپ جزیرۂ عرب کے بڑے قبائل کو اپنا دشمن بنانے جارہے ہیں. صرف ایک گواہی دینے کے عمل سے وہ علاقہ کے طاقت ور ترین لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کر رہے تھے. اسلام کے ساتھ اخلاص کا مظاہرہ درحقیقت قریش کے ساتھ اعلان جنگ تھا.
یہ سچ ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا تھا، انہیں بھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا. حالانکہ ابھی تک حلال حرام خوراک کی وضاحت نہیں کی گئی تھی، اس وقت تک پانچ وقت نماز کا حکم بھی نہیں آیا تھا، ابھی تک سود کے قوانین کا نفاذ نہیں ہوا تھا، روزے کی فرضیت بھی نہیں تھی، ابھی تک پردے کے (لباس کے ) احکامات بھی نہیں آئے تھے. وہ ساری چیزیں جن کو آپ اسلام سمجھتے ہیں. مکہ میں ابھی تک ، ان میں سے کوئی بھی لازم نہ ہوئی تھی.  نہ پانچ وقت کی نماز، نہ روزہ، نہ عورتوں کیلئے لباس کی پابندی، اور نہ ہی ابھی شراب حرام ہوئی تھی، تو پھر قبول اسلام کے ساتھ وہ کس مشکل کا شکا ر ہوئے؟ انھوں نے ایک طرف تو رسول الله( صلى الله عليه وسلم)کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا، تو دوسری طرف دیگر قبائل کے ساتھ یہ غیراعلانیہ سرکشی کا قدم تھا۔
.
ان دنوں میں اسلام قبول کرنے کا مطلب تھا کہ آپ ایک ملٹری ( فوجی گروپ) میں شامل ہو رہے ہیں، آپ محض اسلام قبول نہیں کر رہے بلکہ آپ ایک تحریک کے رکن بن رہے ہیں. اب مسئلہ یہ تھا کہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ اس مذہب کامطلب ہے ایک الله پر ایمان، جس کا خوبصورت پیغام وحی کی صورت میں هے. متاثر کن الفاظ، جو پہلے کسی نے کبھی نہ سنےتھے، یہ سب ان لوگوں کے باطن کو متاثر کر رہا تھا، ان کے نفس کو متاثر کر رہا تھا۔
.
یہ ایسی چیز تھی جو ان کی روح میں اتر کر گونج رہی تھی. یہ ایک منطقی عہد وفاداری تھا، جو دلوں کو جوڑ رہا تھا، اب جبکہ انہوں نے دین اسلام قبول کرلیا تو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا پیغام آگیا.. جہاد کرنے کا پیغام آگیا.. ہجرت کا پیغام آگیا.. قریش جنگ بدر کے لیے نکل پڑے، اور اب انہیں ملٹری قائم کرنی تھی.
اس وقت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ان سب مسلمانوں سے فوج میں شامل ہونے کا کہتے ہیں جنہوں نے ابھی اسلام قبول کیا تھا، تو وہ (منافق )لوگ آگے سے منہ بناتے ہیں، کہ ہم تو نماز پڑھنے کیلئے آئے ہیں، ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں، ہم تلاوت کرنا چاہتے ہیں، کوئی کہتا میں تو اپنی تجوید درست کرنا چاہتا ہوں، لیکن جہاں تک یہ بدر کا معاملہ ہے، ہم اس کے لئے نہیں آئے، کوئی کہتا کہ میں تو کسان ہوں، میری لئے پہلے ہی پانچ نمازیں مشکل ہیں۔۔وغیرہ وغیرہ
آپ دیکھیں کہ بدر میں کل کتنی تلواریں تھیں؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان مجاہدین میں سے کتنے لوگوں کا فوجی پس منظر تھا؟
صرف ۳۱۳ کی ملیشیاء تھی، کوئی فوجی پس منظر نہ تھا. یہ لوگ بس ذہنی آمادگی کے ساتھ لڑنے کیلئے نکل کھڑے ہوئے تھے. میں کہتا ہوں کہ یہ وہ لوگ تھے. جن کی روح تک میں اسلام اتر گیا تھا. انھوں نے اسلام کو پوری سچائی کے ساتھ قبول کر لیا تھا.
اور رہے منافقین، تو ان کو جب احساس ہوا کہ اسلام ہم سے بہت ساری قربانیاں چاہتا ہے، مالی اور جانی دونوں طرح سے، تو انھوں نے چند قدم پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا، کہ یہ سب ہمارے لئے نہیں ہے، یہ اچھی بات نہیں ہے. وہ سوچ رہے تھے کہ اسلام سے قبل یثرب میں زندگی نہایت آسان تھی، اب چیزیں مشکل ہوگئی ہیں،
اب ایسی کشمکش میں کون تھا جو ان لوگوں کو اکٹھا کرکے ان کے شک کو اور بڑھا رہا تھا؟
عبداللہ بن اُبئی
اس کےپاس منافقت کی سیاسی وجوہات تھیں. مگر وہ ان لوگوں کو شکار کرکے اپنے گرد اکٹھا کرنے لگ گیا. اس طریقے سے وہ لوگوں کا اعتماد جیتتا تھا.
اس طرح منافقین کے یہ دو گروہ ہوئے.
یہ ایمان کو کمزور کرتے ہیں. نفاق کو پھیلانے کا موجب ہیں.
دو گروہ اور ہیں جن کے بارے میں، میں بات کرنا چاہتا ہوں: ( اس سے قبل کہ ہم اگلی آیات کی طرف جائیں )
درحقیقت مدینہ کے یہود دو گروہوں میں بٹ گئے تھے: (عیسائیوں کا معاملہ الگ ہے )
ایک گروپ ربیوں (یہود کے علماء)کا تھا.
جنھوں نے رسول اللہ کو فوراً پہچان لیا تھا، اور جب انھوں نے پہچان لیا تو وہ خوفزدہ ہوگئے، آپ جانتے ہیں کہ وہ کیوں خوفزدہ ہوئے تھے؟ آپ اس منظر کو دیکھیں کہ جب یہ آیات تیزی سے ان کی طرف نازل ہورہی تھیں وہ اس کا سارا پس منظر پہلے سے جانتے تھے، ربی (تورات کے عالم ) وہ لوگ تھے جو لوگوں کو خطبہ دیتے تھے دینی اور مذہبی لیکچرز دیتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو فتویٰ بھی دیتے تھے. پس ہر وہ شخص جو یہود ازم کا پیروکار تھا. وہ ان کے پاس فتوی کیلئے، خطبہ کیلئے، مذہبی تعلیم کیلئے، غرض ہر بات کیلئے آتا تھا. اب اگر یہ ربی، رسول الله( صلى الله عليه وسلم) کو بحیثیت آخری پیغیمبر کے قبول کر لیتے تو کیا پھر وہ مزید فتاویٰ دے سکتے تھے؟ کیا اس کے بعد پھر کوئی شخص ان کا لیکچر سننے کنیسہ میں آتا؟
رسول الله (صلى الله عليه وسلم) کو ماننے کی صورت میں ان کی حیثیت ایک استاد سے بدل کر ایک شاگرد کی ہو جاتی اور شاگرد بھی کس کے؟
 
"رسول االله (صلي الله عليه وسلم) کے"
پھر انھیں اپنا منہ بھی بند رکھنا پڑتا کیونکہ یہ "سمعنا واطعنا" والا دین ہے. اب ذرا ایک نظر ان کی معاشرتی پروفائل پر ڈال لیں. اپنی کمیونٹی میں ان کی حیثیت ایک مذہبی عالم، ایک مفتی، ایک خطیب کی ہے. اسلام قبول کرنے کے بعد کیا ہوگا؟ ان کا ان سب حیثیتوں کے ساتھ جو کرئیر ہے وہ ختم ہو جائے گا. ان کی اہمیت ختم ہو کر رہ جائے گی. کسی بھی مذہب میں یہ مذہبی نفسیات ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو مذہبی طور پر نمایاں حیثیت کے حامل ہوں، جو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوں، تعلیم دیتے ہوں، وہ متاثرکن حیثیت کے حامل ہوتے ہیں. یہ سیاست کے بہت قریب ہوتے ہیں. سیاست دان لوگوں کو متاثر کرتا ہے. یہی خاصیت مذہبی سکالر کی ہوتی ہے. جس کی وجہ سے کرپٹ مذہبی لوگ سیاست دانوں کے بہت قریب ہوتے ہیں. گویا کہ یہ ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں. ان کا لوگوں پہ بہت اثر تھا، اور جب آپ کا کسی پہ اثر ہو تو آپ بلا جھجک ان سے پیسے بھی وصول کرلیتے ہیں. اور اگر وہ کرپٹ ہیں تو پیسہ ان کی جیب میں جاتا ہوگا. اس لیے وہ اس قسم کے فتاویٰ دیتے تھے جو لوگوں کے حسب منشاء ہوتے تھے. دین کو ایسے بدل دیں گے جیسا لوگوں کو پسند ہو.
اب جب آخری اور حقیقی پیغمبر آگئے. وہ جانتے تھے کہ اگر وہ ان کو قبول کر لیں گے. تو ان کے زیر سایہ سب لوگ بھی پیغمبر کو قبول کر لیں گے. اس کے نتیجے میں ان کا کاروبار بند ہو جائے گا. ان کا مذہب ان کیلئے ایک کاروبار ہی تھا. میں مدینہ کے یہود کا ذکر کر رہا ہوں. لیکن ہم اس کو صرف انھی تک ہی محدود نہیں کریں گے. بلکہ کسی بھی مذہب کے سکالر کی کرپشن اس کے مذہب کو بہت آسانی سے کاروبار ہی بنا دیتی ہے. اور آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی کاروبار میں مقابلے کا رجحان ہوتا ہے. اگر آپ اس مقابلہ میں سب سے اوپر رہنا چاہتے ہیں. تو اس کیلئے صرف بہترین پراڈکٹ ہی ضروری نہیں. بلکہ آپکو اپنے کسٹمرز کو (اپنے ہاتھ میں رکھنے کیلئے) کبھی کبھی دوسرے لوگوں پہ بھی تنقید کرنی پڑتی ہے.. پھر آپ کے ليكچر میں یہ بات بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ دوسرے علماء کس طرح عوام کی غلط سمت میں رہنمائی کر رہے ہیں. کس طرح عوام کو بھٹکا رہے ہیں. یا یہ کہ وه گروہ راہ سے بھٹک گیا ہے اُن کی بات نہیں سننی چاہئے وغیرہ وغیرہ.
وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
اس لئے کہ وہ خوفزدہ ہیں کہ کہیں وہ اپنے کسٹمرز کھو نہ بیٹھیں.
اور کہیں ان کے کسٹمرز دوسری طرف نہ نکل جائیں. اسی لیے یہودی سکالرز نے اپنے خطبوں اور بحث ومباحث میں اس بات پرزور دینا شروع کردیا کہ "مسلمانوں سے بچ کر رہو، ان کی کوئی بات نہ سنو"
اب مدینہ کے یہود کی دوسری کیٹیگری ہے: مدینہ کا ہر یہودی ربی(عالم) نہ تھا جیسے ہر مسلمان عالم نہیں ہوتا اسی طرح یہود کمیونٹی کا ہر ممبر تورات کا عالم نہ تھا ان لوگوں کا اسلام کے بارے میں علم اپنے علماء کے خطبوں تک ہی محدود تھا وہ اسلام کو سنی سنائی باتوں کے ذریعے سے ہی جانتے تھے.
جیسے کہ آپ اسلام کے متعلق اتنا ہی جانتے ہیں جو کبھی خطبہ میں سن لیا ہو

مدینہ کے تمام یہود، تورات کے عالم نہیں تھے. ان کا مذہب اپنے علماء کے خطبات سننے تک محدود تھا. جیسا کہ مسلمانوں میں سے بہت سے لوگوں کا دینی علم اتنا ہی ہے جو انہوں نے خطبات میں اپنے علماء سے سنا ہے . تو جب ان یہود نے حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام کو وعظ دیتے سنا، تو انہوں نے کہا کہ" یہی تو ہم نے بھی اپنے علماء سے سنا ہے. یہ واقعات اور یہ نشانیاں ظہور پذیر ہوں گی تو آخری نبی کا ظہور ہو گا. اور نبی صل اللہ علیہ والہ و السلام تو ان تمام نشانیوں پر پورا اترتے ہیں. اوہ خدایا! کیا یہ وہی آخری نبی ہیں..؟ اور انہوں نے حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام کی محفل میں بیٹھنا شروع کیا، انہیں سنا اور وہ کہہ اٹھے " واہ! یہی تو ہمیں سکھایا تھا ہمارے علماء نے. یہ تو وہی آخری نبی ہیں. میں ابھی جا کر اپنے عالم کو مبارکباد دیتا ہوں، انہیں جا کے کہتا ہوں کہ جانتے ہیں میں کن سے مل کے آ رہا ہوں ؟ آخری نبی سے. "
لیکن وہ جب اپنے علماء کے پاس گئے اور کہا کہ" پتہ ہے ہم آخری نبی سے ملے. وہ وہی تعلیمات دے رہے ہیں جو آپ ہمیں سکھاتے رہے ہیں. آپ بارہا کہتے تھے کہ آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہے. اور جو بھی نشانیاں آپ بتاتے تھے وہ سو فیصد ان پر پورا اترتے ہیں." تو ان کے علماء نے انہیں کیا جواب دیا.؟
أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ لِيُحَاجُّوکُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّکُمْ أَ فَلا تَعْقِلُونَ
وہ علم جو اللہ نے تم پر کھولا اسے مسلمانوں سے بیان کرتے ہو، کہ اس سے تمہارے رب کے سامنے تمہیں پر حجت لائیں، کیاتم عقل نہیں رکھتے.
ان کے علماء نے کہا نہیں! مسلمانوں کے پاس مت جاؤ. ان سے بات بھی مت کرو. انہیں نہیں بتانا کہ رسول صل اللہ علیہ والہ و السلام آخری نبی کی نشانیوں پر پورا اترتے ہیں. انہیں مت بتاؤ کہ یہی تعلیمات ہمارے علماء ہمیں دیتے رہے ہیں. اگر تم نے انہیں آخری نبی قبول کر لیا، تو تمہیں ان پر ایمان لانا ہو گا. پھر تمہیں جہاد میں بھی ان کا ساتھ دینا ہو گا. اور پھر اگر تم جنگ میں شریک ہو گئے تو مارے جا سکتے ہو. بہتری اسی میں ہے کہ تم کچھ کہو ہی نہ. ورنہ روز قیامت اللہ تعالٰی اسے تمہارے خلاف استعمال کریں گے. ایسا ظاہر کرو کہ تم کچھ جانتے ہی نہیں. ان کی طرف دوبارہ جانا ہی مت کیونکہ اگر تم نے دین اسلام قبول کر لیا تو تمہارے کندھوں پر نہایت بھاری ذمہ داری ڈال دی جائے گی.
اور جانتے ہیں آجکل بہت سے مسلمان ہیں جو کہتے ہیں "میں دینی تعلیم زیادہ حاصل نہیں کرنا چاہتا. کیونکہ اگر میرا دینی علم بڑھ گیا تو میرے دینی فرائض، میری ذمہ داری بھی بڑھ جائے گی. مجھ سے پوچھ گچھ زیادہ ہو گی . بہتر ہے کہ میں زیادہ پڑھوں ہی نہ، اور نہ ہی دینی علم حاصل کروں. بالکل یہی نصیحت یہودی علماء نے اپنے لوگوں کو کی. یہ دوسرا گروہ اصل میں مدینہ کے عام یہودی باشندوں میں سے تھا، انہوں نے جب رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام کا پیغام سنا تو اسے اپنے علماء کی دی گئی تعلیمات سے ملتا جلتا پایا. وہ ایک دم سے اسے جھٹلا نہیں سکتے تھے، تو انہوں نے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ" سنو! ہم ایک ہیں، تم بھی اللہ پر ایمان لاتے ہو، ہم بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں. تم آخرت پر یقین رکھتے ہو تو ہم بھی اسی قسم کے عقیدہ آخرت پر ایمان لاتے ہیں. ہم تو ایک خوش باش فیملی کی طرح ہیں. ہم میں اور تم میں بہت مماثلت ہے. ہم ایک فیملی ہیں، ہم سب جنتی ہیں. "
اور جانتے ہیں انہوں نے کیا چیز حذف کر دی.؟ کیا چھپا لیا؟ اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانا. آخری نبی پر ایمان لانا. کیونکہ اگر وہ آخری نبی پر ایمان لے آئیں تو انہیں آپ صل اللہ علیہ والہ و السلام کے سارے احکامات ماننے ہوں گے. قربانی دینی ہو گی. تو بس نمایاں باتوں کو لے کر جو ہم میں، تم میں یکساں ہیں، ایک ایمان افروز کانفرنس منعقد کرتے ہیں مدینہ میں جس میں ہم غور کرتے ہیں کہ کون کون سی باتیں ہم میں اور آپ میں مشترک ہیں. اور ایک دوسرے سے راضی باضی رہتے ہیں. کیونکہ ہماری قوموں میں بہت مماثلت ہے. بس اتنا کافی ہے.
یہ بھی مدینہ میں منافقت کی ہی ایک قسم تھی. وہ ایمان کے ایک بنیادی عقیدہ کو حذف کرنے کی کوشش میں تھے. یہ آیات منکرین کے لیے ہی نہیں بلکہ منافقین کے لیے بھی تھیں. نہ صرف مدینہ کے یہود کے لیے بلکہ مسلمانوں کی صفوں میں موجود ان منافقین کے لیے بھی جو سمجھتے تھے کہ جتنا وہ ایمان لائے، وہ ان کے لیے کافی ہے.
اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر ان آیات پر غور کریں.
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ
لوگوں میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے ہم ایمان لائے اللہ پر
وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ
اور ایمان لائے آخرت پر.
وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ
اور وہ مومن نہیں ہیں
وہ کسی طرح بھی مسلمانوں میں سے نہیں ہیں. وہ اہل ایمان میں شامل ہی نہیں ہیں.
یہ آیات نہایت وسیع ہیں . ہم ایک ایک کر کے اس کے تمام پہلوؤں پر تدبر کرتے ہیں.
پہلی بات یہ کہ کہا گیا وَمِنَ النَّاسِ. اللہ تعالٰی نے یہ نہیں کہا کہ ومن الذين آمنوا ، اللہ تعالٰی نے فرمایا وَمِنَ النَّاسِ. یہ الفاظ نہایت وسعت رکھتے ہیں. ان میں وہ منافقین بھی شامل ہیں جو ظاہری طور پر اسلام قبول کر چکے ہیں اور وہ لوگ بھی جو کھلے عام اپنی منافقت کا اظہار کرتے ہیں . یعنی وہ یہود جو آ کر آپ صل اللہ علیہ والہ و السلام سے کہتے ہیں کہ نہیں! ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے. ہم بھی اللہ پر ایمان لاتے ہیں. ہم آپ جیسے ہی ہیں. تو کہا گیا وَمِنَ النَّاسِ لوگوں میں سے کوئی ہے.
دوسری بات یہ کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا " مَنْ يَقُولُ ". عربی میں "من " اسم موصول مبح ہے. یعنی یہ دو معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے. دوسرے لفظوں میں مَنْ يَقُولُ کے معنی ہیں لوگوں میں سے کوئی کہتا ہے یا لوگوں میں سے ایک گروہ کہتا ہے. اللہ تعالٰی نے یہ نہیں کہا کہ " الذی یقول " اگر الذی یقول کہا جاتا تو یہ کسی ایک کے لیے مختص ہو جاتا. یعنی اللہ تعالٰی نے ان منافقین کا پردہ رکھا ہے، اللہ تعالٰی نے انہیں ظاہر نہیں کیا. یہ اللہ عزوجل کی حکمت کا ثبوت ہے. قرآن میں کہیں بھی منافقین کا نام لے کر ان کی نشاندہی نہیں کی گئی. اللہ تعالٰی نے قرآن میں کفار کو نام لے کر نامزد کیا. تبت یدا ابی لہب. قرآن میں کافر کا نام ہے، فرعون کا نام ہے، لیکن قرآن میں کسی منافق کا نام شامل نہیں ہے. پتہ ہے اس میں کیا حکمت ہے ؟ اس میں نہایت زبردست حکمت ہے. یہ اللہ تعالٰی کا طریقہ ہے جو قیامت تک کے لیے ہے کوئی بھی مسلمان، کسی بھی دوسرے شخص کو، خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو، منافق نامزد نہیں کر سکتا. مجھے کوئی حق ہے ہی نہیں کہ میں کسی کو منافق کہہ سکوں. اللہ تعالٰی نے فرمایا " فی قلوبھم مرض" ان کا مرض کہا تھا؟ دلوں میں. اور کون جھانک سکتا ہے کسی کے دل کے اندر ؟ کوئی بھی نہیں. آپ امراضِ دل کی ظاہری علامات دیکھ سکتے ہیں. مگر ان علامات کو دیکھ کر بھی آپ کی تشخیص غلط ہو سکتی ہے. کیونکہ جو دل میں ہے وہ یا تو اللہ جانتا ہے یا خود وہ شخص. مجھے کوئی حق ہے ہی نہیں، چاہے میں اپنی نظروں کے سامنے کچھ بھی دیکھوں، مجھے کوئی حق نہیں کسی کو منافق کہنے کا. اصل میں منافقت کے بارے میں آپ جو آیات پڑھیں ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے ارد گرد لوگوں کو منافق نامزد کر دیں نہیں اس کا فائدہ صرف اور صرف یہ ہے کہ آپ شیشے میں اپنا عکس واضح طور پر دیکھ سکیں. بس یہی ایک مقصد ہے منافقت کے بارے میں تعلیمات دینے کا. تاکہ میں اور آپ شیشے میں اپنا عکس دیکھ سکیں کہ یہی مرض مجھے تو لاحق نہیں؟ جب رسول اللہ صل اللہ علیہ و السلام کہتے تھے کہ منافق کی یہ تین چار نشانیاں ہیں تو انہوں نے ہمیں یہ نشانیاں کیوں بتائیں؟ صرف اس لیے تاکہ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ سکیں.

-نعمان علی خان
 
جاری ہے۔۔۔۔۔

بدھ, اگست 24, 2016

آج کی بات ۔۔۔ 24 اگست 2016


آج کی بات

بہت فرق ہوتا ہے.....
 تعلیم یافتہ لوگوں میں اور.....
 ڈگری یافتہ لوگوں میں...!!!

سوموار, اگست 22, 2016

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ نہم

حصہ نہم


جب اللہ کہتے ہیں
 لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَم
ہم نے آدم کی اولاد کو عزت عطا کی.
ہاں مشرکوں کو ذلیل کیا گیا تھا. ہاں کفار سے قرآن میں نفرت کی گئی ہے. مگر سب کفار سے نہیں. اس دین کے سب سے برے دشمنوں سے کی گئی ہے. ہم ان کے سخت خلاف ہیں جنہوں نے اسلام کے لیے نفرت کا اظہار کیا اور زہر اگلا لیکن پھر بھی جس گھڑی وہ شہادت دیں (اللہ، اسلام کو مانیں) تو
 فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ

وہ شخص جو آپ کو دیکھنا پسند نہ کرتا تھا، جس لمحے اس نے شہادت دی، وہ آپ کا دینی بھائی بن جائے گا.
 میں کچھ سال پہلے پِیس کنوینشن پر تھا اور ایک سوئس سیاستدان جو رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلا کرتا تھا اس نے اسلام قبول کر لیا. میری اس سے ملاقات ہوئی. اور اب وہ اپنے بیٹے کو لے کر آیا تھا، اور اس کے بیٹے نے بھی وہی اسلام قبول کرلیا.
فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّين

 اور یہ وہی انسان ہے کہ جس کی یوٹیوب پر دو، تین سال پہلے کی وڈیوز دیکھیں تو ان (وڈیوز)  کے نیچے مسلمان اسے بد دعائیں دے رہے ہوتے تھے کہ  "اے اللہ اسے جہنم میں ڈال، اسے جلا دے وغیرہ"
 اور اللہ نے کیا کیا؟
 اللہ نے قبل اسلام کے عمر کو بعد از اسلام کا عمر بنادیا. یہ اللہ کی حکمت ہے.

*خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ
اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے.

لفظ خَتَمَ قرآن کے ان دو لفظوں میں سے ایک ہے جو لفظ مہر کے لیے استعمال ہوئے ہیں. دوسرا لفظ طَبَع ہے
َطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ
لفظ تطبع النھار کا مطلب ہے جب دریا خوب بھر جاتا ہے، مزید کی گنجائش نہیں رہتی. مثال کے طور پر، آپ کسی بوتل میں پانی بھرتے ہیں، اور وہ مکمل بھر جائے، اور پانی کی گنجائش نہ بچے تو اسے طبع کہتے ہیں.
 مکلمل بھرا ہوا ہونا. طبع بمنی الملاء او الامتلا مکمل بھرا ہونا.
لیکن لفظ ختم کا ایسا مطلب نہیں ہے. ختم بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے. ختم انگوٹھی پر مہر یا سٹامپ کے لیے استعمال ہوتا ہے. پرانے دور میں جب ای-میل، ٹائپبگ وغیرہ کا رواج نہ تھا تو لوگ خط لکھ کر لفافے میں ڈالتے تھے، اور اس لفافے پر پگھلی ہوئی مائع لگا کر اسے بند کیا کرتے تھے. اس طرح بند کرنے کو بھی ختم کہتے ہیں.. آپ خط کو تب تک بند نہیں کرتے جب تک وہ مکمل نہ لکھا گیا ہو. یعنی بھرا ہوا نہیں بلکہ کام کا مکمل ہوجانا. تو یہ سوچ ہےلفظ ختم کے پیچھے.
لفظ ختم کا لفظی مطلب ہے
الختم حقيقته السد على الإناء
اس لفظ کا اصل مطلب ہے ایک ڈبے پر ڈھکن رکھنا. جیسے آپ چاول ابال رہے ہیں اور جب وہ پک جاتے ہیں تو آپ اسے ٹھنڈا نہیں ہونے دینا چاہتے تو آپ اس پر ڈھکن رکھ دیتے ہیں اس کا اصل مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بھرا ہوا ہے اس لیے آپ نے ڈھکن دے دیا بلکہ اس کا مطلب ہے کہ یہ پک چکا ہے. چاہے مکمل بھرا ہوا نہ ہو. پر جو کرنے والا کام تھا وہ ہو چکا تھااس لیے اس پر ڈھکن دے دیتے ہیں. یہی نظریہ ہے اس لفظ کا. جیسے اب آپ کو خط میں اور لکھنے کی ضرورت نہیں تو آپ اس کو بند کر دیتے ہیں.

تمثیلی طور پر ختم لفظ تب استعمال ہوتا ہے جب کام مکمل ہو چکا ہو مزید کی ضرورت نہ ہو. اللہ تعالی کہتا ہے
خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِم
اللہ نے ان کے دلوں پر تقریباﹰ ایک مہر لگا دی ہے.
  اس کا مطلب ہے کہ ان میں موجود اچھائی کا انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا. اور اب انہیں موقع فراہم کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں،جو کام تھا وہ مکمل ہوچکا ہے، وہ باز نہ آئیں گے.  اسلیے اللہ نے ان کے دلوں پہ مہر لگادی.

میں نے پچھلی آیت میں اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ لوگ ضدی تھے. یاد ہے؟  اللہ کسی کے دل پر مہر نہیں لگاتا جب تک وہ (دل،انسان) خود اپنا اڑیل پن نہ دکھا دیں. اللہ ایسے ہی فیصلے نہیں کرتا کہ فلاں کا دل مہر شدہ ہے، اللہ ایسے ہی جسے چاہے جنت یا جہنم میں نہیں پھینکتا . اصل میں لوگ ہی اپنے دلوں کے حال کے ذمہ دار ہیں، وہ ایسا رویہ ظاہر کرتے ہیں، اور پھر کہیں جا کر اللہ ایسا ہو جانے کی اجازت دیتا ہے.  محمد راتب النابلسي نے کہا، ایک گاڑی پٹرول پہ چلتی ہے، پر اگر آپ اس میں کھانے کا تیل ڈال دیں، اور نمک چینی ڈال کر کہیں کہ اللہ چاہتا ہی نہیں تھا کہ یہ چلے، تو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے.
اس گاڑی کو چلانے کا ایک مخصوص طریقہ تھا، اگر آپ اس طریقے کے خلاف چلیں گے تو ظاہر ہے وہ کیسے چلے گی؟ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے نہیں چلائی. یہ آپ کی اپنی وجہ سے ہوا.
آپ کو شوگر اس لیے نہیں ہوئی کہ اللہ نے کسی فرشتے کو بھیج کر آپ کو اس کا انجیکشن لگوادیا تاکہ آپ کو شوگر ہو جائے بلکہ آپ نے خود پرہیز نہیں کیا. یہ آپ نے خود اپنے ساتھ کیا ہے. جب انسان اس دنیا میں جسمانی نتائج بھگتتا ہے تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ ایسا ہماری ہی وجہ سے ہے. کچھ چیزیں ہیں جو ہمارے قابو میں نہیں ہوتیں،مگر اکثر آپ کو جو آزار رسائیاں پہنچتی ہیں وہ آپ ہی کی وجہ سے ہوتی ہیں. لوگ خود اپنا کولیسٹرول نہیں چیک کرتے، صحت مند کھانا نہیں کھاتے، بیٹھے رہتے ہیں، ورزش نہیں کرتے اور پھر دل کا دورہ پڑتا ہے تو کہتے ہیں " قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ یہ اللہ ہے جو ہمارا امتحان لے رہا ہے."
 جاؤ بھائی جا کر واک کرو پھر اللہ کی قدر پر الزام ڈالنا.
دنیا کی زندگی میں کچھ اصول کارفرما ہیں، جیسے آپ دل کی پرواہ نہیں کرو گے تو اللہ اسے واپس لے لے گا، آپ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھو گے تو اللہ آپ کو بیمار پڑنے دے گا، یہی اصول روحانی دنیا میں بھی لاگو ہوتے ہیں.  جب آپ اللہ کو یاد کرنے کی کوشش نہیں کرتے، جب آپ اللہ کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے، آپ اللہ کو بھلائے رکھتے ہیں تو اس سب کا انجام آپ کے دل پر ہی ہوگا.. ظاہر ہے پھر  اللہ اس پر مہر لگنے کی اجازت دے ہی دے گا..
آپ خود پرہیز نہیں کرتے، اپنا خیال نہیں رکھتے، اللہ کہ عطا کردہ نعمتوں کی پرواہ نہیں کرتے، تو پھر ظاہر ہے بیمار تو ہوں گے ہی.

اب دل کے متعلق کچھ بات کرتا ہیں..
دل میں کیا ہوتا ہے؟ ہم قرآن میں کیا سیکھتے ہیں کہ دلوں میں کون سے جذبات ہوتے ہیں؟ دل میں محبت ہوتی ہے. جب اللہ دلوں پر مہر لگا دیتا ہے تو ہم ان چیزوں سے محبت کرنے کے قابل نہیں رہتے جن سے کرنی چاہیے.
 جو چیزیں محبت کے قابل ہوتی ہیں ہم ان سے نفرت کرتے ہیں. بجائے ایمان والوں سے محبت کرنے کے ہم ان سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں. سچ سے محبت کرنے کی جگہ سچ سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں. انصاف کے لیے محبت کی جگہ انصاف سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں.
دل میں جذبہ رحم بھی ہوتا ہے پر جب دل پر مہر لگتی ہے تو رحمت نکل جاتی ہے. ایسے لوگ شدید ظالمانہ باتیں کہہ بھی سکتے ہیں اور ایسے کام کر بھی سکتے ہیں کیونکہ دل پر مہر جو لگ چکی ہے.
شکر گزاری کی جگہ بھی دل میں ہوتی ہے. پر پھر شکر بھی دل سے نکل جاتا ہے. اور جب دل مہر یافتہ ہوتا ہے تو ایسے لوگ شکرگزاری محسوس نہیں کرتے. وہ کسی کا شکر ادا کرنا ضروری نہیں سمجھتے اور خود کو ہر چیز کے لائق سمجھتے ہیں. دل میں خوف بھی ہوتا ہے. اور جب دل مہر یافتہ ہو تو نہ  وہ کوئی غلط کام کرتے ڈرتے ہیں نہ ہی  اپنے  کسی عمل کے انجام سے ڈرتے ہیں.
امید کی جگہ بھی دل میں ہوتی ہے. ایسے لوگ جو بالکل مایوس ہوتے ہیں انہیں آخرت کی کوئی امید نہیں ہوتی، کسی اور سے اچھائی کی بھی امید نہیں ہوتی، وہ اپنے لیے بھی کسی اچھائی کی امید نہیں رکھتے. وہ بس ہر چیز کو فانی سمجھتے ہیں کہ جو مرضی کرنا ہے کرو جیسے بھی کرو کیونکہ زندگی تو ہے ہی بے کار. ان کی سوچ ایسی ہوتی ہے.
شرمندگی کا احساس بھی دل میں ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کچھ غلط کرتے ہیں تو آپ کو برا محسوس ہوتا ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے اندر فطری طور پر نفس لوامہ رکھا ہے. مگر جب دل پر مہر ہو تو آپ سب سے گھٹیا عمل کر کے بھی اس پر فخر محسوس کرتے ہیں.
َزَﯾﱠﻦَ ﻟَﮭُﻢُ اﻟﺸﱠﯿْﻄَﺎنُ أَﻋْﻤَﺎﻟَﮭُﻢْ
ایسا تب ہوتا ہے جب دلوں پر مہر ہو. شیطان ان کے کاموں کو ان کے لیے سجادیتا ہے.
 جو کچھ اللہ نے ان کے لیے بدصورت بنایا ہوتا ہے،وہ لوگ اپنے لیے اسے خوبصورت بنالیتے ہیں. دل میں ذمہ داری کا احساس بھی ہوتا ہے. آپ اپنے ہمسائے، بچوں، ازواج، والدین کے لیے خود کو زمہ دار محسوس کرتے ہیں. جب دل مہر یافتہ ہو تو کسی زمہ داری کا احساس نہیں رہتا.
میرے نزدیک دل میں سب سے اہم جگہ عزت کی ہوتی ہے. اللہ عزوجل نے لوگوں کو باوقار بنایا ہے. عزت کی جگہ دل میں ہے جیسے آپ اپنے لیے اور اپنے آس پاس موجود لوگوں کی عزت کرتے ہیں، مگر جب میر لگ جائے تو نہ انسان اپنی عزت کرتا ہے نہ کسی اور کی.
لوگوں کے دلوں پر مہر لگ جانا کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہے. یہ بہت بڑی بات ہے. جو نیک عمل دل کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے وہ باقی نہیں رہتا. سب کھو جاتا ہے. ہماری فطرت کھو جاتی ہے. اور ہمیں اس کی فکر کرنی چاہیے.
اب آپ تسلسل پر دھیان دیں.
عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ ۖ
اس نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی سماعت پر بھی.
دل چونکہ پہلے ہی مہر یافتہ تھے اس لیے انہیں کچھ سننے یا نہ سننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا.. کیونکہ جو کچھ بھی وہ سنیں گے اب اس کا اثر دل پہ نہیں ہوگا. کیونکہ جب لوگوں کے دلوں پر مہر ہو اور وہ کچھ اچھا سنیں تو انہیں زحمت لگتی ہے کیونکہ وہ  نیک پیغام اس مہر کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے. وہ کہتے ہیں "رکو، کیا ہم چینل بدل لیں؟چلو کچھ اور سنتے ہیں، کیا ہم موضوع بدل لیں؟ ہم یہ نہیں سن سکتے."
 اللہ نے ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے. وہ خواہ بہت ہی اعلی مجلس میں بیٹھے ہوں جہاں اللہ کا ذکر ہورہا ہو، جہاں اللہ کی محبت، رحمت، اور امید کے لیے لوگ رو رہے ہوں، مگر ان لوگوں کو فرق نہیں پڑتا وہ کہتے ہیں ہم یہاں کیا کر رہے ہیں، ہم کب یہاں سے جائیں گے؟ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی. کیونکہ کانوں کا براہ راست تعلق دل سے ہوتا ہے.
 یہ الفاظ آیت میں آگے پیچھے رکھے گئے ہیں. دلوں پر مہر ہو تو کوئی تعجب نہیں کہ کانوں پر بھی مہر ہے.
اور پھر اللہ کہتا ہے
وَعَلَى أَبْصَارِهِم غِشَاوَةٌ
اور آخرکار ان کی آنکھوں پر پردہ ہے.
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اندھے ہیں. اللہ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال یا ہے.
 سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ جب وہ سچائی، رہنمائی کو دیکھنے سے انکاری ہوتے ہیں جب وہ اپنے ارد گرد دنیا دیکھنے سے انکاری ہوتے ہیں ، یہ خوبصورت آنکھیں جو اللہ نے ہمیں دیں ہیں اس لیے کہ ہم اللہ کی تخلیق کو دیکھیں اور سوچیں. جب آپ اس صلاحیت کو استعمال کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو اللہ آپ کو دنیا تو دیکھنے دیتا ہے مگر اس میں جو رہنمائی ہے وہ نہیں. تمام مخلوقات جو اس نے ہمارے گرد پیدا کیں ہیں اللہ کہتا ہے فيهِ آياتٌ، إنَّ في ذَلكَ لَآيَاتٍ ان میں نشانیاں ہیں. درخت، آسمان ،پرندوں میں نشانی ہے. پر جب آنکھوں پر پردہ ہو تو آپ پرندہ، آسمان، درخت تو دیکھیں گے پر کوئی نشانی نہیں.  یہ ایسا ہی ہے کہ جیسےآپ دروازہ تو دیکھیں پر یہ نا دیکھیں کہ دروازے کے پیچھے کیا ہے. یہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہے. یہ ہوا مطلب عَلَى أَبْصَارِهِم غِشَاوَة کا.
کچھ لوگ بحث کرتے ہیں کہ یہ آیت اصل میں قیامت کے مناظر میں سے ہے. کچھ بحث کرتے ہیں یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب لوگ قیامت کی دن اٹھائے جائیں گے ان کے دل مہر یافتہ ہوں گے، ان کے کان کام نہیں کر رہے ہوں گے اور ان کی آنکھیں اندھی ہوں گی کیونکہ قرآن میں اور جگہوں پر بھی اللہ نے فرمایا کے لوگ اندھے اٹھاۓ جائیں گے.
وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا
(انسان کہے گا) آپ نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا میں تو دیکھ سکتا تھا. وہ قیامت کے دن (یہ) شکایت کریں گے.
پر زیادہ غالب گمان یہ ہے کہ یہ (آیت)اس دنیا کی طرف ہی اشارہ کر رہی ہے.
اب یہاں ایک بات بہت دلچسپ ہے، تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے، دل، کان، اور آنکھیں.
دلوں پر مہر ہے،  سماعت پر مہر ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے.
 لیکن سمع ہی کو بس واحد صیغہ میں بتایا گیا ہے. آنکھیں جمع کا صیغہ ہے ،دل بھی جمع کا صیغہ ہے مگر سماعت ہی بس واحد صیغہ میں ہے. اسے ایک مثال سے سمجھاتا ہوں..  
 مثال کے طور پر آپ سب میری طرف  دیکھ رہے ہیں، آپ سب الگ الگ جگہوں پر بیٹھے ہیں، آپ سب کے سوچنے کا انداز الگ ہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے الگ دیکھتا ہے. ہر کسی کا اپنا سوچنے کا انداز ہے. تو یہ ایک سوچ ہی نہیں مختلف سوچوں کے انداز ہیں. ہمارے دل ایک ہی حالت میں ہیں یا الگ حالتوں میں؟ الگ حالتوں میں.
 کیونکہ دیکھنے کے انداز بھی الگ اور دلوں کی حالتیں بھی الگ ہیں. کچھ دل بہت شوق سے سننا چاہتے ہیں کچھ بالکل بھی نہیں. کچھ دل متوجہ ہیں کچھ نہیں. ہر طرح کے تغیرات ہیں. مگر جب بات سننے کی ہوتی ہے تو ہمارے کان ایک جیسا ہی سن رہے ہوتے ہیں. جو آوازیں ہم تک الگ الگ آتی ہیں وہ دراصل ایک جیسی آوازیں ہی ہوتی ہیں. ہم سب سنتے ہوئے مکمل اتحاد میں ہوتے ہیں. اصل میں یہ قرآن کا اثر/طاقت ہے. یہ سب کی طرف رہنمائی کے لیے آتا ہے خواہ ان کے  نظریے مختلف ہی کیوں نہ ہوں یا ان کے دل کسی بھی حالت میں ہوں مگر پیغام ایک ہی ہے.  اور یہ کس طرح لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے وہ مختلف ہوتا ہے.  بالکل جیسے بارش ایک ہی ہوتی ہے مگر ہر جگہ مختلف چیزیں اگاتی ہے.  یہ ایک ہی پانی ہوتا ہے مگر اس سے مختلف مخلوقات پیدائش پاتی ہیں. سب لوگ ایک ہی بات سنتے ہیں مگر اثر الگ ہوتا ہے. آپ سب جو یہاں بیٹھے درس سن رہے ہیں اگر آپ ان آیات پر غور کر رہے ہیں تو اس کا اثر یہاں بیٹھے ہر شخص پر مختلف ہوگا.
پیغام وہی ہے مگر اثر سب پر مختلف ہے.
یہی قرآن کی خوبصورت عکاسی ہے.

وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے(ان کے انتظار میں).
اللہ لوگوں کو سزا دینا پسند نہیں کرتا. میں اس کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ اللہ پاک سزا دینا بالکل پسند نہیں کرتا.
 مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ
اللہ کو آپ کو سزا دینے سے کیا مل جائے گا؟

اللہ نے انسانیت اس لیے تخلیق کی کہ وہ ان پر رحمت کر سکے. مگر برے اور بد بخت لوگ واقعی بڑی سزا کے مستحق ہیں. اور سزاؤں میں سب سے بڑا عذاب اسی آیت میں بتایا گیا ہے. جب آپ کا دل مہر یافتہ ہو جائے اس سے بڑی کوئی سزا نہیں. جب آپ کے کان قرآن سے فائدہ نہ حاصل کر سکیں تو اس سے بڑی کوئی سزا نہیں. اور میں یہ بھی کہوں گا کہ یہ آیت اصل میں جن لوگوں نے پہلی بار سنی ان کے پاس نہ صرف اپنے دلوں کو اور کانوں کو  پاک کرنے کا موقع ملا تھا بلکہ انہیں اپنی آنکھوں سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا موقع بھی ملا تھا اور وہ پھر بھی اندھے رہے.  وہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو دیکھ بھی سکتے تھے پھر بھی ان کی آنکھوں پر پردہ تھا اس سے بڑا نقصان کیا ہو گا؟
اللہ پاک ہمیں ایسے نقصان سے بچائے.
آمین..
اب ہم ایک ایسی کیٹگری کے متلعق پڑھیں گے، جنہیں پڑھیں گے تو لگے گا کہ یہ متقین اور کافروں کے درمیان کوئی گروہ ہے مگر اللہ کے مطابق یہ کافروں کی ہی ایک کیٹگری ہے جنہیں ہم "منافق" کہتے ہیں. منافق، جو کہتا کچھ، اور کرتا کچھ اور ہے.
پچھلے دو گروہ کی ہر بات واضح تھی. جو ایمان لایا اس کا ایمان واضح تھا، اور جس نے کفر کیا، اس کا کفر بھی واضح تھا. کیونکہ وہ اپنے ایمان یا کفر کا صاف مظاہرہ کرتے تھے.
مگر یہ کیٹگری جن کے متعلق اب ہم پڑھیں گے، پیچیدہ ہے.

اگر ہم پچھلی آیات میں دیکھیں تو ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کے متعلق چند ہی آیات میں بتادیا گیا تھا. ان کا کیس چند ہی آیات میں واضح کردیا گیا پر جب ہم منافقون کے متعلق پڑھیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کے لیے کافی آیات نازل ہوئیں، اور کافی پیچیدہ مثالوں سے اس گروہ کے متعلق سمجھایا گیا.  کیونکہ یہ ایک بہت ہی پچیدہ گروہ ہے.
اللہ نے بھی قرآن میں  ان کے متعلق بہت پیچیدگی سے بیان کیا کیونکہ پہلی بات تو یہ گروہ ہے ہی پیچیدہ، اور دوسری بات اس گروہ کے لوگوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے. نا وہ ایک طرف ہیں، نہ دوسری طرف، کہیں درمیان میں تذبذب کا شکار ہیں. ان کے لیے کوئی دن اچھا ہوتا ہے اور کوئی بُرا، ان میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے.
یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی مریض ہے جو کچھ دن تو صحت یاب نظر آتا ہے، مگر پھر اگلے دن اس کی ایسی حالت ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے بستر سے بھی اُٹھ نہیں پاتا. اور اس کی اس حالت کا معائنہ کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے.

ان آیات پہ بات کرنے سے پہلے میں "نفاق" کے ایک  منظر کے بارے میں بتانا چاہوں گا. کیونکہ اللہ نے یہ لفظ بہت خاص جگہوں پے، خاص حالات میں کسی کے لیے استعمال کیا اور آج ہم مسلمان بہت ہی آرام سے کسی کو بھی منافق کہہ دیتے ہیں. جبکہ یہ ایک بہت سنگین اصطلاح ہے.
ہم آج منافقت پر خطبہ سن رہے ہوتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں چل رہا ہوتا ہے "ہاں! میرا وہ فلاں کزن، وہ سچ میں ایک منافق ہے"
ہم فوراً سے دوسروں کو لیبل کرنے لگ جاتے ہیں.
قرآن میں ایسا کوئی گروہ نہیں جس کے لیے سخت عذاب کا ذکر کیا گیا ہو سوائے اس گروہ کے.
"منافق جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے" اور جتنا نیچے ہوگا اتنا بدترین عذاب ہوگا..اور سب سے نچلا حصہ منافقین کے لیے رکھا گیا ہے.
سو جب ہم کسی کو ایسے ہی منافق کہہ دیتے ہیں وہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی. وہ کسی کو کافر کہنے سے بھی بدترین ہے.

اب ایک اور بات کا فرق جاننا بہت بہت ضروری ہے.
وہ شخص جس کا ایمان کمزور ہے، وہ خود کو بہتر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، مگر کچھ گناہ سرزد ہوجاتے ہیں، اس شخص میں اور منافق میں فرق ہے. یہ دونوں الگ مسائل ہیں..

دوسری بات جو میں کرونگا وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت نفاق، اور آج ہمارے وقت کے نفاق کا موازنہ ہے.
اس بات کو میں کچھ ایسے سمجھاتا ہوں،
کیا آپ اپنے ایمان، یا میرے ایمان کا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان سے موازنہ کرسکتے ہیں؟
نہیں! ہمارا اور ان کا کوئی موازنہ نہیں ہے.
جو قربانیاں حضرت عمر، علی، عثمان، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے دیں، جنہوں نے اپنی زندگی قرآن کے مطابق گزاری، جن حالات کا سامنا انہوں نے کیا، جس طرح انہوں نے زندگی گزاری ہم گمان بھی نہیں کرسکتے. وہ بہترین جنریشن تھی، وہ بہترین لوگ تھے.
بالکل ویسا ہی کفار کے لیے بھی ہے. جیسے ابو لہب، ابو جہل، یا پھر فرعون. ہمیں اب دوبارہ کوئی فرعون نہیں ملے گا. کچھ لوگ ہوں گے جو اس کے قریب ترین ہوں گے، مگر وہ بھی فرعون جیسے نہیں ہوں گے.
سو بُرے لوگ ہوں گے، مگر پچھلے کفار جیسے نہیں ہوں گے، کہ ان کے لیے پوری سورہ نازل ہو. جیسے ابو لھب کے لیے ہوئی. اب ایسا نہیں ہوگا.
تو اُس وقت کے بدترین بھی ہمارے وقت سے زیادہ بدترین ہیں. دونوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا.
 ویسے ہی، اُن کے منافقین اب آنے والے منافقین سے بدتر ہیں.  کیونکہ ان کے حالات ہمارے حالات سے بالکل مختلف ہیں.
اللہ نے انہیں نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم سے براہ راست تعلیم لینے کا موقع فراہم کیا، یہ ہی نہیں بلکہ  وہ بہترین جنریش کی کمپنی میں تھے، انہوں اس سے  بھی فائدہ نہیں حاصل کیا.
آپ اور میں قرآن کو کتاب کی طرح پڑھتے ہیں. انہوں نے قرآن پڑھا نہیں تھا بلکہ "سُنا" تھا. اور وہ بھی اللہ کے رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز میں.
یہ ایسے ہے جیسے دو الگ سیارے ہوں.
میں یہ نہیں کہہ رہا کے نفاق ختم ہوگیا، یہ جاری رہا، مگر اُس لیول کا نہیں جو اُس زمانے میں تھا.

سو جب آپ بغیر صحیح علم کے آیت کو دیکھتے ہوئے کسی پر منافق کا لیبل لگاتے ہیں یہ اس ڈگری سے لاگو نہیں ہوتا. ہمیں ایسے معاملات میں دھیان کرنا چاہیے.

تیسری بات،
اللہ تعالی نے کوشش کی ہے کہ منافقوں کو راز رکھا جائے. یہاں تک کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے بھرپور کوشش کی کہ ان (منافقوں) کا نام نہ لیا جائے. ان کے نام راز رکھے.
بدترین منافق، عبدللہ ابن اُبئی، کے متعلق ہر کوئی جانتا تھا. ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ نہ صرف منافق ہے بلکہ سب سے بڑا دشمن ہے.
وہ خود کو مسلمان کہتا تھا، مسلمانوں کی صفوں میں حصہ لیتا تھا.
یہ مدینہ کا شہری تھا. اور مدینہ کے دو قبیلے تھے. اوس اور خزرج. خزرج اوس سے بڑا تھا، اوس کے آٹھ کاؤنٹیر تھے، اور دوسرے کے چار. کُل ملا کر بارہ. عبدللہ بن اُبئی خزرج سے تھا، اور سب سے بڑے کاؤنٹیر کا گورنر تھا. یعنی سب سے بڑے قبیلے میں سب سے بڑے کاؤنٹیر کا. یہ اسلام سے قبل کا واقعہ ہے، مدینہ کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ ہم دونوں قبیلوں کو ملا کر، کاؤنٹیر کو متحد کر کے ایک شہر "یثرب" بنالیں. اور اس کا ایک بادشاہ مقرر کریں.
سو اب وہ بادشاہ کے لیے لوگوں کو منتخب کرنے لگ گئے اور فیصلہ ہوا کہ سب سے بڑے کاؤنٹیر کے گورنر کو ہی بادشاہ بننا چاہیے. اور وہ عبدللہ بن اُبئی تھا. اب وہ لوگ اپنے بادشاہ یعنی عبدللہ بن اُبئی کے لیے ایک تخت بنانے لگ گئے، اور ایک تقریب منعقد کی گئی اپنے پہلے بادشاہ کی مقرری کی خوشی میں. اور افتتاح کے لیے..یہ مدینہ کے حالات تھے.  کچھ ہی دنوں کے بعد عبدللہ بن اُبئ نے بادشاہ ہونے کا حلف اُٹھانا تھا،مگر اس سے قبل رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ میں تشریف لے آئے. اور ان کی آمد سے یہ ساری تقریب، یہ بادشاہ کی مقرری ختم ہوگئی، سیاسی کیمپین کا اختتام ہوگیا، کیونکہ اب مدینہ کے متفقہ گورنر رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم تھے. عبدللہ بن اُبئی کا تمام سیاسی کریئر منٹوں میں ختم ہوگیا.
اور جب کوئی جیت کر ہار جائے تو بہت صدمہ پہنچتا ہے انسان کو، اور جس شخص کی وجہ سے یہ ہوتا ہے، ظاہر ہے پھر آپ اسے بھی ناپسند کرنے لگ جاتے ہیں.
اب اس کے پاس دو اختیارات تھے،
پہلا، کہ وہ ان کا کھلا دشمن بن جائے، اپنی پارٹی تخلیق کرے اور ان سے مقابلہ کرے.
مگر اس نے سوچا کہ پہلے اکثریت میرے ساتھ تھی، مگر اب ایسا نہیں ہے. اب اکثریت رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہے سو ان کی مخالفت کرنا ایک ہاری ہوئی جنگ لڑنا ہوگا.
اگر میں ان کے خلاف ہوجاؤں گا تو میں کبھی بھی نہیں جیتنے والا.
سو جب آپ انہیں ہرا نہیں سکتے، آپ انہیں جوائن کرلیتے ہو.
یہی کام اس نے کیا. اس نے اسلام قبول کرلیا کیونکہ یہ واحد طریقہ تھا جیتی ہوئی پارٹی کے قریب رہنے کا..وہ اس امید میں تھا کہ اگر میں ایوان صدر نہیں بن سکا تو شاید میں نائب صدر منتخب کرلیا جاوں.
مگر مسئلہ یہ تھا کہ رسول اللہ کے قریب وہ لوگ تھے جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں تھیں. جیسا کہ ابو بکر،عمر رضی اللہ عنہ. آج بھی عرب میں یہ اصول ہے کہ کسی خطے کے بادشاہ کا تعلق اسی خطے سے ہونا چاہیے مگر نا صرف رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم مکہ سے تھے بلکہ ان کے قریبی لوگ بھی مہاجر تھے. اب مدینہ کی صدارت مہاجروں کے ہاتھ میں تھی..اور وہ خود کو ان کے درمیان ملانے کی کوشش کررہا تھا مگر ادھر اسے جگہ ہی نہیں ملتی تھی. کیونکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب ہونے کا طریقہ تھا زیادہ سے زیادہ قربانی، آپ کو پہلے خود کو ثابت کرنا پڑتا تھا.
سو وہ کیا کیا کرتا تھا کہ وہ ہر نماز کے لیے سب سے پہلے، وقت سے پہلے پہنچ جاتا، اور ہر نماز میں پہلی صف میں موجود ہوتا، خاص طور پر فجر کے وقت، اور اگر کبھی رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کوئی اعلان فرمانے لگتے تو وہ ان سے پہلے فوراً کھڑا ہوجاتا اور کہتا "لوگوں! دھیان سے سنو، رسول اللہ فرمانے لگے ہیں".

-نعمان علی خان

جاری ہے.