اشاعتیں

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

تصویر
ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ اقتباس خطبہ جمعہ مسجد نبوی
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 27-شوال- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ پر سکون اور خوشحال زندگی ہر انسان کا ہدف ہے ، لیکن اسے پانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالی کے احکامات کے تابع کر دے، اپنا عقیدہ مضبوط بنائے، اللہ کے فیصلوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
خطبے کا اقتباس پیش ہے:
تمام  تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کے لیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔
ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت ک…

آج کی بات ۔۔۔ 20 جولائی 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
باہر کے اندھیروں کی خیر ہے، بس کبھی اندر اندھیرا نہ ہونے دیں۔

آٹھ مصیبتیں

تصویر
》 وہ آٹھ مصیبتیں جو انسان کی زندگی برباد کر دیتی ہیں 《 منقول
کوئی بندہ جب اللہ تعالیٰ سے غافل ہوتا ہے… یا کوئی گناہ کرتا ہے تو اس پر بہت سی مصیبتیں آتی ہیں…مگر ان مصیبتوں میں سے ’’آٹھ‘‘ بہت خطرناک ہیں …یہ آٹھ مصیبتیں انسان کی زندگی برباد کر دیتی ہیں اور اس کی آخرت کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں…اس لئے ہمیں سکھایا گیا کہ ہر دن صبح اور شام ان آٹھ مصیبتوں سے بچنے کی دعاء مانگا کریں …عجیب بات یہ ہے کہ …شیطان ان آٹھ مصیبتوں کے تیر…ہر صبح اور ہر شام ہم پر چھوڑتا ہے…پس جو انسان صبح شام اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے…وہ بچ جاتا ہے…اور جو یہ پناہ نہیں پکڑتا وہ ان تیروں میں سے کسی ایک یا زیادہ تیروں کا شکار ہو جاتا ہے… وہ آٹھ مصیبتیں یہ ہیں:
(1) ’’الھم ‘‘ یعنی فکر میں مبتلا ہونا (۲)’’الحزن‘‘ یعنی غم میں جکڑا جانا (۳ )’’العجز‘‘ یعنی کم ہمتی ، بے کاری، محرومی (۴)’’الکسل‘‘ یعنی سستی ، غفلت (۵)’’الجبن‘‘ یعنی بزدلی، خوف، دل کا کمزور ہو کر پگھلنا ( ۶) ’’البخل‘‘ یعنی کنجوسی، حرص، لالچ اور مال کے بارے میں تنگ دلی (۷)’’غلبۃ الدین ‘‘ یعنی قرضے میں بری طرح پھنس جانا کہ نکلنے کی صورت ہی نظر نہ آئے …

آج کی بات ۔۔۔ 19 جولائی 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
جتنا آپ ذہنی طور پر پختہ ہوتے ہیں اتنا زیادہ غم اور خوشی کو Manage کرنا سیکھ جاتے ہیں،

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-10

تصویر
تدبرِ القرآن  سورہ الکھف  استاد نعمان علی خان  حصہ-10
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا - 18:65 قَالَ لَهُ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا - 18:66 قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا - 18:67 وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا - 18:68
پس ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا، جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔ اس سے موسیٰ نے کہا کہ میں آپ کی تابعداری کروں؟ کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ اس نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکتے۔ اور جس چیز کو آپ نے اپنے علم میں نہ لیا ہو اس پر صبر بھی کیسے کر سکتے ہیں؟

ہم نے پہلے پڑھا تھا کہ کتنی محنت اور مشکلوں کا سامنا کر کے موسی علیہ اسلام اس مقام تک پہنچے تھے جہاں انہوں نے خضر سے ملنا تھا۔ جب وہ وہاں ہہنچ گئے تو موسی علیہ اسلام نے خضر سے کہا کہ کیا میں آپ سے وہ علم حاصل کرسکتا ہوں جو آپ کے پاس موجود ہے؟  ا…

آج کی بات ۔۔۔ 13 جولائی 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
اگر انسان میں وفاداری ‘ سچائی اور ایمان ہی نہ ہو تو وہ کیسا انسان ہوا ؟  باقی ساری خوبیاں اورڈگریاں سب کے پاس ہوتی ہیں۔  مگر سچائی سیکھی نہیں جاتی ۔ یہ تو انسان کی گھٹی میں ہوتی ہے ۔
نمرہ احمد کے نئے ناول "حالم" سے اقتباس

محبتوں میں سچے

تصویر
منقول
محبت صرف اتنی ہی ہے جو رب کی عطا ہے جتنی ہے ۔۔۔ جس کے لیے ہے۔۔۔۔ جس قدر ہے۔۔۔ اور جب تک ہے۔۔۔۔ اس کے بعد پھر وہی لوگ تضحیک کر کے چلتے نظر آتے ہیں جو اس سے قبل محبتوں کے دعوے دارہوتے ہیں مشکل وقت میں محبتوں کے بھید کھل جاتے ہیں. کون عزت کرتا ہے۔۔۔۔ کب تک کرتا ہے۔۔۔۔ کتنا مشکل میں ساتھ نبھاتا ہے۔۔۔۔ رب کی عطا اس کی تقسیم کے ساتھ ہے جنہیں جدا ہونا ہوتا ہے وہ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں  جنہیں ساتھ دینا ہوتا حالات جیسے بھی ہوں ساتھ دیتے ساتھ چلنے والے بہت سے لوگ مل جاتے ہیں ساتھ ہو کر ساتھ دینے والے لوگ بھی رب کی عطا سے ہیں اور اس سب کے باوجود کچھ محبتیں بے سبب ہوتی ہیں جن سے کچھ درکار نہیں ہوتا کچھ مفاد نہیں ہوتا جنہیں ہم خوش دیکھنا چاہتے اور دعا کو اٹھے ہاتھ بغیر کسی غرض و غایت کے ان کے لیے خیر اور خوشیاں مانگتے ہیں اللہ کے لیے محبتیں رکھنے والے  فقط اللہ کے لیے ملنے والے اور فقط اللہ کے لیے جدا ہونے والے لوگ یہی ہیں جو محبتوں میں سچے ہیں ...

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل