~!~ آج کی بات ~!~

عقاب سے پرواز میں کوئی اونچ نیچ ہو بھی جائے تو بھی کینچوے اس پر ہنسنے کا حق نہیں رکھتے ....
~!~ آج کی بات ~!~

بڑے بھائی کا قربانی والا کردار، ہمارے معاشرے کی وہ
 خوبصورتی ہے جس سے مغرب یکسر محروم ہے ۔
~!~ آج کی بات ~!~

انسان اتنا چھوٹا نہیں ہے کہ عقل اور حواس کا محکوم بن کر رہ جائے!

احمد جاوید صاحب
~!~ آج کی بات ~!~

زندگی بارش کے پانی کا بلبلہ ہے نجانے کب نیست ہوجائے۔ 
زندگی سے خوشی کے جتنے لمحے کشید کرسکتے ہیں ضرور کریں ۔

بھلائی کا بدلہ بھلائی اور افغانستان میں امن 
خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)
امام و خطیب: ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی
ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل
بشکریہ: دلیل ویب


فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے " بھلائی کا بدلہ بھلائی اور افغانستان میں امن" کے عنوان پر مسجد نبوی میں 29  شوال 1439 کا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اچھائی کا بدلہ اچھائی کے ساتھ دینا اسلامی اقدار میں سے ایک عظیم قدر ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان کے ساتھ جو بھی خیر خواہی کرے تو اسے کبھی نہیں بھولتا، انبیائے کرام کی زندگی سے بھی احسان مندی کے واقعات ملتے ہیں جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین خدیجہ بنت خویلد کی خوبیوں کا اعتراف ان کے بعد بھی جاری رکھا، اسی طرح مطعم بن عدی جو کہ حالت کفر میں مرا تھا اس کی خوبیوں کا بھی آپ نے اعتراف فرمایا، سیدنا موسی علیہ السلام اور دو عورتوں کے باپ کا واقعہ جن کی بکریوں کو آپ نے پانی پلایا تھا وہ بھی اسی بات کی دلیل ہے۔ دوسروں کے کام آنے والے شخص کا اسلام نے بہت بلند مقام رکھا ہے اور اس کا مالی یا معنوی شکریہ ادا کرنے کی تاکید بھی کی ہے، اگر ہم اس چیز پر عمل پیرا ہو جائیں تو معاشرتی برائیوں میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے بھلائی کرنے پر بھر پور بدلہ دینے کی ترغیب دی، اگر بدلہ دینے کے لیے کچھ پاس نہ ہو تو اس کی نیکی کے مطابق دعائیں لازمی دیں،  اور اسے جزاک اللہ خیرا کہہ دیں۔ حقائق پر مبنی ستائشی کلمات بھی صلہ اور بدلہ بن سکتے ہیں، قرضہ واپس کرتے ہوئے شکریہ ادا کرنا بھی اچھا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ہستیوں کے احسانات ہر وقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں ان ہستیوں میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ آپ کی بدولت ہمیں ہدایت ملی، ان کے بعد والدین اور اساتذہ کا درجہ آتا ہے، اس لیے انہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے۔ خاوند اور بیوی ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کرنے کے لیے خوبیوں کو ذہن میں تازہ رکھیں۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے سعودی عرب کے بریدہ شہر  میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی کی پر زور مذمت کی اور کہا کہ ہم داعشی فتنے کے خاتمے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، اسی طرح انہوں نے خادم حرمین شریفین کے حکم پر اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے منعقد کردہ افغان امن کانفرنس  کے مکہ اعلامیہ  کو امت اسلامیہ کی جانب بھر پور انداز میں سراہا  اور تمام افغانی دھڑوں کو باہمی صلح اور اتحاد کی دعوت دی ، نیز کسی بھی اختلاف کی صورت میں کتاب و سنت کی جانب رجوع کرنے کی ترغیب دلائی ۔ اور آخر میں جامع دعا کروائی۔

منتخب اقتباس

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہی ہیں ، ہمہ قسم کی حمد اور بادشاہی اسی کے لیے ہے،  اسی کا فضل ہم پر ہے، میں خفیہ اور اعلانیہ ہر طرح سے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں،  میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی اطاعت تمام معاملات میں واجب ہے۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے جب تک دن اور رات کا آنا جانا لگا رہے۔

مسلمان کی بنیادی اخلاقی اقدار میں یہ بھی شامل ہے کہ بھلائی کرنے والوں کا بدلہ بھلائی کے ساتھ دے، کسی کی نیکی کا اس سے بڑھ کر صلہ دے؛ یہ باہمی تعامل کے لیے اسلامی اقدار میں سے ایک عظیم قدر ہے اس کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے:
 {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ}
 اچھائی کا بدلہ اچھائی ہی ہوتا ہے۔ [الرحمن: 60]

یہی وجہ ہے کہ مسلمان کے ساتھ کوئی بھلا کرے تو اسے کبھی فراموش نہیں کرتا، مسلمان کے ساتھ جو بھی اچھائی کرے ہمیشہ ان کا تذکرہ خیر کرتا ہے، اس کے حسن سلوک پر اظہار تشکر  اور اس کی نوازشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نیز مسلمان زندگی کے اژدہام اور بدلتے حالات میں ان لوگوں کو نہیں بھولتا جن کے ساتھ محبت اور انس تھا، جن کے ساتھ زندگی کے چند دن گزارے  تھے، چاہے ان گزرے دنوں میں باہمی اختلافات اور نفرتیں بھی پائی گئی ہوں؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ}
 ایک دوسرے کے ساتھ کئے ہوئے احسانات کو مت بھولو[البقرة: 237]

اسی لیے ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفا داروں میں بھی سب سے آگے ہیں؛ آپ نے ہمیں احسان مندی کے خوبصورت مفاہیم عملی طور پر سمجھائے؛ چنانچہ آپ اپنی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی خوبیوں کے معترف تھے اور آپ کی وفات کے بعد بھی ان کا اعتراف کرتے تھے، اسی لیے آپ انہیں بہت زیادہ یاد فرماتے ، ان کا شکریہ ادا کرتے اور ان کے لیے بخشش مانگتے ہوئے فرماتے: (وہ فلاں فلاں خوبیوں کی مالک تھی، پھر بسا اوقات بکری ذبح کر کے گوشت بناتے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھی بھیج دیتے تھے) بخاری، مسلم

انبیائے کرام کے واقعات بھی اعتراف احسانات سے بھرے ہوئے ہیں، انہی واقعات میں سے موسی علیہ السلام اور دو عورتوں کے والد کا واقعہ بھی ہے جن کی بکریوں کو آپ نے پانی پلایا تھا، اسی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:
 {فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا} 
تو ان دونوں عورتوں میں سے ایک موسی کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی  اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ کے پانی پلانے کی اجرت آپ کو دیں ۔ [القصص: 25]،
 تو موسی علیہ السلام کو ان کی نیکی کا صلہ مل گیا، اور ان دو لڑکیوں کے والد نے آپ کے احسان کا بدلہ چکادیا۔

اسلام نے اس شخص کو بہت بلند مقام دیا ہے جو آپ کے ساتھ بھلائی اور اچھائی کرتا ہے، بلکہ اسلام نے اس شخص کو بدلہ دینے کی تاکید بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (وہ شخص اللہ کا شکر ادا ہی نہیں کرتا جو لوگوں کا شکر ادا نہ کرے) اس حدیث کو احمد اور ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اہل وفا کسی کو اچھا صلہ دیتے ہوئے اقوال، افعال اور احساسات تک کا صلہ دیتے ہیں؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا}
 اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو۔ [النساء: 86] 
چنانچہ اگر مسلمان سلام کا جواب انہی کلمات میں یا اس سے احسن کلمات میں دیں، اور بھلائی پر اسی جیسی یا اس سے زیادہ بھلائی صلے میں دیں، اور اچھے بول پر  اسی جیسے یا اس سے بھی اچھے بول کہیں، اور تحفہ ملنے پر اسی جیسا تحفہ دیں یا اس سے بھی اچھا دیں ؛ تو ہمارے دل صاف ہو جائیں، ہمارے رابطے مضبوط ہو جائیں، تعلقات کی گہرائی بڑھ جائے، نیز اختلافات کا دائرہ سکڑ جائے۔

بھلائی کرنے والوں کو صلہ دینے کے لیے سب سے پہلا اقدام : ان کی بھلائی کا اعتراف ہے، پھر ان کے شکریہ کا مستحق ہونے کا اقرار کریں؛ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا  اور اس کی ترغیب دلائی ہے، نیز تعلق داری کا خیال رکھنا ایمانی خوبی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص تمہارے ساتھ بھلائی کرے تو اسے پورا بدلہ دو) اس حدیث کو ابو داود، نسائی اور امام احمد رحمہم اللہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اسلام نے بھلائی کرنے والوں کا بدلہ چکانے کے لیے مسلمان کی استطاعت کے مطابق سہولت رکھی ہے؛ اس لیے مسلمان اچھے بول، اور دعائے خیر کے ذریعے بھی بدلہ چکا سکتا ہے، اسی طرح مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ہشاش بشاش چہرے اور دل کی گہرائی سے ملے  تو اس کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ تمام تر سہولتیں اس دین کے کامل  اور شامل ہونے کی دلیلیں ہیں، اسلامی آداب اور خوبیوں کے مکمل ہونے کی علامات ہیں، انہی کی بدولت مسلم معاشرے میں مودت، الفت اور محبت پروان چڑھتی ہے؛ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم کسی بھی نیکی کو حقیر مت سمجھو، چاہے تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو) مسلم

حقائق پر مبنی تعریف بھی احسان کرنے والوں کو صلہ دینے کا ایک طریقہ ہے؛ جیسے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جسے کوئی چیز تحفہ دی جائے تو وہ اس کا بدلہ چکا دے، اور اگر پاس کچھ نہ ہو تو ستائشی کلمات کہہ دے؛ کیونکہ جس نے ستائشی کلمات کہہ دئیے تو اس نے شکریہ ادا کر دیا۔ اور جس نے ستائشی کلمات بھی نہ کہے تو اس نے نا شکری کی۔ اور جو ایسی چیز زیب تن کرے جو اسے دی ہی نہیں گئی تو وہ ایسے ہی جیسے کوئی [بہروپیا]دو جھوٹے کپڑے زیب تن کر لے) اس حدیث کو ابو داود اور ترمذی  نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

کسی کی نیکی کا بدلہ دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انہیں خاطر خواہ دعائیں دے دی جائیں؛ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (۔۔۔ اگر تمہارے پاس بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو اس کے لیے اتنی دعائیں کر دو کہ تمہیں   یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے) اس حدیث کو ابو داود، نسائی، اور امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اسی طرح سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس کے ساتھ نیکی کی گئی اور اس نے نیکی کرنے والے کو کہا: [جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا] اللہ تمہیں جزائے خیر دے، تو اس نے شکریہ ادا کرنے کی انتہا کر دی) اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

مسلمان کی زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے احسانات ساری زندگی ساتھ رہتے ہیں، ان کے احسانات دائمی اور ابدی نوعیت کے ہوتے ہیں، ان لوگوں کی طرف سے ملنے والی خیر خواہی دائمی ہوتی ہے؛ انہی لوگوں میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لا کھڑا فرمایا۔

اسی طرح لوگوں پر جن کا سب سے زیادہ احسان  ہے، جن کے حقوق کی ادائیگی سب سے زیادہ لازمی ہے  وہ ہیں : والدین، کہ انہوں نے ہی انسان کو بچپن میں پالا پوسا ۔

ایسے ہی طلبہ  پر لازمی ہے کہ اپنے اساتذہ کے لیے دعائیں کریں؛ کہ انہوں نے محنت کے ساتھ پڑھایا ، اسی لیے ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنے استاد حماد رحمہ اللہ کے لیے دعائیں کرتے تھے اور ان کے بعد ابو یوسف رحمہ اللہ اپنے استاد ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کے لیے دعائیں کرتے۔

خاوند اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے یکساں خیر خواہ ہوتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اچھائی کا تبادلہ کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے اپنی جوانی کی زندگی اور خون جگر  تک قربان کر دیتا ہے؛ اس لیے زوجین تعلق داری کا خیال رکھیں، حسن سلوک سے رہیں، نیز غلطیوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کریں تو یہ بھی بہترین صلہ اور بدلہ ہے؛ کیونکہ انسان میں پائی جانے والی اچھائیوں سے برائیوں کے اثرات مندمل ہو جاتے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے کہ: (کوئی مومن کسی مومنہ [بیوی ] سے بغض نہیں رکھتا؛ کیونکہ اگر اسے کوئی بات ناگوار گزرتی ہے تو   وہ اس کی دیگر خوبیوں سے راضی ہو جاتا ہے۔)

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر کام کی توفیق مانگتے ہیں ۔ یا اللہ! ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے ہر عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!




~!~ آج کی بات ~!~

دوستوں کی محبت کبھی کبھی انسان کو خود اپنی حدود کو آزمانے پہ مجبور کر دیتی ہے ۔

حالم از نمرہ احمد
Image result for our prophet our honour
یہ شیخ مصطفی السباعی کی سیرت پر کتا ب: السیرۃ ا لنبویۃ دروس و عبر سے اقتباس ہے۔پڑھیے اور اپنے ایمان کو تازہ کیجیے۔

سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ - کیوں؟
ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔ ہمارا یہ دعوی صرف عقیدت اور محبت کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے اور تاریخ کی گواہی بھی یہی ہے کہ ہر انسان کی کامیابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے۔
سیرت نبوی کی متعدد خصو صیات ہیں جن کے مطالعہ سے نہ صرف یہ کہ تاریخی واقعات سے واقفیت حاصل ہوتی ہے بلکہ روح و عقل کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ یہ مطالعہ جہاں علمائے کرام، دین کے داعیوں اور اجتماعی و سماجی مصلحین کے لیے بے حد ضروری ہے وہیں عام مسلمانوں کے لیے بھی ضروری ہے تاکہ وہ جان لیں کہ مشکلات ومسائل اور دکھوں اور پریشانیوں کا واحد علا ج اسلام ہی ہے۔ہم ذیل میں سیرت نبوی کی چند خصوصیات کا ذکر کرتے ہیں۔

پہلی خصوصیت

یہ ایک نبی، ایک عظیم ترین مصلح کی صحیح تر ین سیرت ہے۔ یہ سیرت ہم تک اس طریقے سے پہنچی ہے جس سے اس نبی کی زندگی کے نمایاں واقعات اور اہم حالات کی سچائی میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جا تا۔ سیرت نبوی کی یہ خصوصیت شک و شبہ سے خالی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اس صفت میں کوئی نبی و رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی سیرت صحیح ڈھنگ میں آج موجود نہیں ہے اور آپ کی سچی سیرت کا پتہ لگانے کے لیے موجودہ تو رات کا سہارا بھی نہیں لیا جاسکتااس لیے کہ علما ئے یہود نے اس میں ترمیم و تبدیلی کر دی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت کا حال بھی یہی ہے۔ چنانچہ جس مجموعے کو انجیل کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے لکھنے والوں کے بارے میں بہت اختلاف ہے کہ وہ کون لوگ تھے اور کس زما نے کی پیداوار تھے؟
یہ تو دنیا کے مختلف مذاہب کے انبیاء اور رسولوں کی سیرتوں کا حال ہے، رہا دوسرے نظریات کے بانی اور فلسفیوں کی سیرتوں کا حال تو بس کاہنوں کی من گھڑت کہانیاں اور کچھ قصے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں جنہیں ضد و عصبیت سے آزاد روشن عقل کبھی صحیح نہیں مان سکتی۔ غرض یہ کہ صحیح تر ین سیرت اور علمی دلائل اور تواتر کی حد تک سچائی کو پہنچی ہوئی زندگی بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی ہے!

دوسری خصو صیت

ہم رسول اللہ علیہ وسلم کی زند گی کے تمام مراحل سے پوری طرح واقف ہیں۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کی شادی سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک پوری زندگی سے آگاہ ہیں۔ ہم آپ کی ولادت، بچپن، جوانی، نبوت سے پہلے کے روز گاراور کمائی، مکہ کے با ہر اس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر کر نا، پھرنبی بننا غرض یہ کہ سا رے حا لا ت اچھی طرح جا نتے ہیں۔ پھر ا س کے بعد سال بہ سال مکمل حالات نہا یت واضح، مکمل اور نمایاں شکل میں ہمارے سا منے ہیں جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سورج سے بھی زیا دہ روشن ہو جاتی ہے۔ آپ کی نجی زندگی، ا ٹھنا بیٹھنا، کھا نا پینا، لباس شکل و صورت، گفتگو، خاندان کے لوگوں سے معاملہ اور برتاؤ، عبادت و نماز، دوستوں کی صحبت و معاشرت غرض یہ کہ پوری زندگی ہماری نگاہوں کے سامنے ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کرنے والوں کی محنت اتنی زیادہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی میں موجود سفید بالوں کی تعداد تک بیان کر ڈالی ہے۔ اس کی مثال کسی دوسرے رسول کی زندگی میں نہیں ملتی۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ آخری نبی ہو کر دنیا میں تشریف لائے تھے۔

تیسری خصوصیت

ﷲ کے رسول کی سیرت ایک ایسے انسان کی سیرت ہے جسے اﷲ نے اپنا رسول بنایا تھا لیکن یہ سیرت انسانی حدود و اختیار سے باہر نہیں ہے۔ مفید نصیحتوں، میٹھی میٹھی باتوں اور اچھی اچھی تعلیمات کی دنیا میں کمی نہیں، کمی جس چیز کی ہے وہ کام اور عمل ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس بات کی دعوت دی خود اپنے عمل سے اس کو قابل عمل ثابت کیا۔ صلح و جنگ، فقر و دولت مندی، بندے اور رب کا تعلق، انسانوں کے آپس کے تعلقات، معاشرتی زندگی، ذاتی زندگی غرض یہ کہ ہر پہلو سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی مثال پیش کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر عمل کیا اور ان کے بعد بھی کروڑوں انسانوں نے اس پر عمل کرکے اس کے عملی ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔در حقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہر اس انسان کے لیے مکمل انسانی نمو نہ اور ا سوہ ہے جو خود شرافت کی زند گی بسر کرنا چاہتا ہے اور اپنے خاندان اور ماحول میں پاکیزہ رہنا چاہتا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں کہتا ہے:
{در حقیقت تم لوگوں کے لیے اﷲ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اﷲ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہو} (احزاب: ۲۱)

چو تھی خصو صیت

یہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے جو ہمیں وہ دلیلیں فراہم کرتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت کی سچائی میں کوئی شبہ باقی نہیں رہنے دیتیں۔ یہ ایک انسان کامل کی سیر ت ہے جو اپنی دعوت کو لے کر مر حلہ وار آگے بڑھا۔ معجزوں کے بل پر نہیں بلکہ فطری طریقے سے سارے مراحل طے کیے۔ دعوت دی تو ستا ئے گئے۔ تبلیغ کی تو ساتھیوں کی جماعت فراہم ہوئی۔ فاقے کیے، وطن چھوڑا۔جنگ پر مجبور ہوئے تو اس سے بھی نہ رکے۔ خود زخم کھائے ساتھیوں نے جانیں قربان کیں، آپ کی قیادت حکمت اور عقلمندی کا شاہکار تھی۔ چنانچہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے آپ کی دعوت تلوار کے زور پر نہیں بلکہ دعوت و عمل کے راستے سے پورے عر ب پر چھا چکی تھی۔ جس شخص کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تاریخ معلوم ہے وہ جانتا ہے کہ عربوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس طر ح مخالفت کی، آپ کو قتل کرنے کی جو سازشیں کیں، آپ پر جنگ مسلط کی۔ اس کے باوجود ہر معرکہ میں افرا د اور اسلحہ کی کمی کے باوجود آپ کو فتح نصیب ہوئی، صلح اور معاہدوں کو تا وفات آپ نے جس طرح نبھایا اور تئیس (23) سال کی مختصر مدت میں جس طرح آپ کی دعوت پھیلی، اور جو قوت و طاقت حاصل ہوئی وہ اس وجہ سے ہوئی کہ آپ درحقیقت اﷲ کے نبی تھے اور یہ کہ جو شخص جھوٹا ہو اس کی اس طرح کی مدد اللہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت عقل کی بنیاد پر بھی اپنی نبوت کی سچائی و حقانیت ثابت کرتی ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جو معجزات آپ سے صادر ہوئے، وہ عربوں کے ایمان لانے کا بنیادی سبب نہیں تھے بلکہ ہمیں کوئی ایسا معجزہ نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے کافروں نے اسلام قبول کر لیا ہو، بلکہ جو لوگ بھی مسلمان ہوئے عقل و وجدان کے اطمینان کے ذریعہ ہی مسلمان ہوئے۔ اور جب کفار قریش نے پچھلی قوموں کی طرح معجزات کا مطالبہ کیا تو اﷲ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ جواب میں کہیں:
{اور انھوں نے کہا ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں نکال دے۔ یا تو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا اللہ اور فر شتوں کو ہمارے سامنے لے آئے یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے پاس ایک ایسی تحریر نہ ا تار لائے جسے ہم پڑھیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہو: پاک ہے میرا پروردگار،کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور کچھ بھی ہوں۔} (بنی اسرائیل:۹۰تا۹۳)
مزید یہ کہ معجزات بس دیکھنے والوں کے خلاف ہی دلیل بن سکتے ہیں اور بعد کے جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا، نہ آپ کے معجزات کو دیکھا وہ محض عقلی و قطعی دلائل کی وجہ سے آپ پر ایمان لائے اور ان عقلی دلائل میں سرفہرست قرآن کر یم ہے۔ یہ کتاب ایک عقلی معجزہ ہے جو ہر انصاف پسند اور صاحب عقل کو اس امر پر مجبور کر دیتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صدق و سچّائی اور نبوت و رسالت کی صداقت پر ایمان لائے۔ سورہ عنکبوت میں اﷲ تعالیٰ صاف کہتا ہے :
{یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہ ا تاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے؟ کہو نشانیاں تو اﷲ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر۔ اور کیا ا ن لوگوں کے لیے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟ درحقیقت اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لیے جوایمان لاتے ہیں۔} (عنکبوت:۵۰،۵۱)
جو شخص قرآن کا مطالعہ گہرائی سے کرے گا وہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کتاب نے اطمینان وسکون بخشنے کے لیے عقل کے فیصلے، محسوس و نظر آنے والے مناظر اور مکمل معرفت کا سہارا لیا ہے کیونکہ رسول امی تھے اور اس ا میّت کو قرآن نے آپ کی نبوت کی صداقت پر دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
آپ کی سیرت اس حوالے سے تمام دوسرے انبیاء کی سیرتوں سے قطعی مختلف ہے جن کی سیرتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ عوام ان پر ایمان اسی وقت لا ئے جب ان کے ہاتھوں انہوں نے معجزات و خوارق دیکھ لیے۔ ان کی دعوت کے اصولوں اور قواعد کی سچائی میں انہوں نے عقل کے فیصلہ کو نہیں مانا۔ اس کے برخلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایک فرد بھی معجزات یا خارق عادت کسی چیز کو دیکھ کر ایمان نہیں لایا اسی طرح قرآن بالکل واضح اعلان کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں، رسول ہیں اور یہ کہ رسالت کے دعوے میں معجزات و خوارق پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تو عقلوں اور دلوں کو مخاطب کرتا ہے:
{پس جسے اﷲ ہدا یت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔} (انعام:۱۲۵)

پا نچویں خصوصیت 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت انسانی زندگی کے تمام گوشوں اور شعبوں کے لیے تعلیمات دیتی ہے۔ یہ ہما رے سامنے اس نو جوان کی زندگی پیش کرتی ہے جو رسالت سے پہلے سچے اور امانت دار کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔ اس رسول کی زندگی ہمارے سامنے رکھتی ہے جو ایک اﷲ کی دعوت دیتا تھا اور اپنی دعوت کو پھیلانے کے لیے بہترین طریقے اختیار کرتا تھا۔ اپنے پیغام کو پہنچا نے میں ا نتہا درجہ کی طاقت اور صلاحیت اور محنت صرف کر تا تھا۔ اسی طرح ہمارے سامنے ایک ایسے سربراہ مملکت کی تصویر آ تی ہے جو اپنی مملکت کے لیے بہترین اور صحیح ترین انتظام کرتا تھا اور اپنی سمجھداری اور ہوش مندی، اخلاص و صداقت کے ذریعہ اس کی حفاظت کرتا تھا جس سے اس کی کا میابی یقینی ہو جاتی تھی۔ اسی طرح ہمارے سامنے ایک ایسے نبی کی زندگی ہے جو شوہر تھا، باپ تھا، شفقت و محبت کا پیکر، معاملات کا درست شوہر، بیوی بچوں کے تمام حقوق و ذمہ داریوں کو ادا کرنے والا تھا۔ ا یسا رسول جو مرشد مربی تھا، اپنے ساتھیو ں کی ایسی مثالی تربیت کرتا تھا کہ اپنا دل ان کے دلوں میں اتار دیتا اور اپنی روح ا ن کی ارواح میں بسا دیتا تھا جس کی وجہ سے چھوٹے بڑ ے تما م معاملات میں اس کے حکم کی اتباع کرتے تھے۔ بہترین دوست جو دوستی کی ذمہ داریاں پہچانتا اور انہیں اچھی طرح ادا کرتا تھا جس کی وجہ سے اس کے ساتھی اس سے اپنی جان سے ز یادہ محبت کرتے تھے، ا پنے اہل عیال اورعزیزوں سے زیادہ اسے محبوب رکھتے تھے۔ ایک سپہ سالار، ایک کامیاب جج، ایک کامیاب معلم، ایک کامیاب رہبر، ایک کامیاب سیاسی قائد، امانت دار تاجر اور سچا معاہدہ کرنے والا، غرض یہ کہ اللہ کے رسول کی سیرت زندگی کے تمام گوشوں پر محیط ہے اور ہر داعی، ہر رہبر، ہر باپ، ہر شوہر، ہر دوست، ہر مربی، سیا ستداں، سربراہ مملکت وغیرہ کے لیے بہترین نمو نہ ہے۔
ہم اس درجہ مکمل یا اس سے ملتی جلتی جامعیت کہیں نہیں پاتے۔ تاریخ ہمارے سامنے جن افراد کو کامیاب بنا کر پیش کرتی ہے وہ زندگی کے کسی ایک ہی میدان میں نمایاں ہوئے اور اس میں شہرت پائی۔ وہ تنہا انسان جو تمام طبقوں، گروہوں اور ہر فرد کے لیے نمونہ بن سکتا ہے بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔ 

بذریعہ: اردو محفل