صلاح الدین کی نسل: کیا ہم دوبارہ تاریخ رقم کر سکتے ہیں؟

 


صلاح الدین کی نسل: کیا ہم دوبارہ تاریخ رقم کر سکتے ہیں؟

آج جب ہم دنیا کے حالات دیکھتے ہیں، تو اکثر ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے: "کیا ہم اپنی اسلامی تاریخ کے بدترین دور میں جی رہے ہیں؟" مایوسی کے اس سائے میں کیا ہمارے لیے اپنے شاندار ماضی کی طرف لوٹنا ممکن ہے؟

یقین انسٹیٹیوٹ کی نئی سیریز، "The Salahuddin Generation"، ہمیں اسی سوال کا جواب دینے اور ایک نئی امید دلانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔

اکیلا ہیرو یا پوری نسل؟

ہم اکثر کسی ایسے 'سپر ہیرو' کا انتظار کرتے ہیں جو آئے گا اور سب کچھ بدل دے گا، لیکن تاریخ ہمیں کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ صلاح الدین ایوبی کوئی تنہا معجزہ نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسی نسل کے نمائندے تھے جسے بڑی محنت سے تیار کیا گیا تھا۔

اس عظیم نسل میں شامل تھے:

علماء اور مفکرین جو شعور کی شمع روشن کرتے تھے۔

نوجوان اور بزرگ جنہوں نے اپنے مقصد کو پہچانا۔

مرد اور عورتیں جنہوں نے مل کر بیت المقدس کی آزادی کا خواب دیکھا۔

یہ لوری نہیں، بیداری کی پکار ہے

یہ کہانی محض ماضی کے قصے نہیں ہیں جو بچوں کو سکون کی نیند سلانے کے لیے سنائے جائیں۔ بلکہ یہ پوری امت کے لیے ایک کال ٹو ایکشن (Call to Action) ہے تاکہ ہم بیدار ہوں اور آج کے دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔

بیت المقدس کی آزادی صرف ایک جرنیل کی نہیں، بلکہ ایک ایسی قوم کی جیت تھی جو مل کر کام کرنا جانتی تھی۔ آج بھی راستہ وہی ہے: تعلیم، اتحاد اور یقین۔

کیا آپ تیار ہیں اس سفر کا حصہ بننے کے لیے؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں