اشاعتیں

2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عمر کرتی ہے سفر۔۔

تصویر
عمر کرتی ہے سفر۔۔   خواب وہیں رہتا ہے۔

آج کی بات ۔۔۔ 23 دسمبر 2014

تصویر
ﻟﮩﺠﮧ ﻟﻔﻆ ﮐﺎ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﺭ، ﻧﯿﺖ ﮐﺎ ﮐﮭﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﭼﻮﺭ ﭘﮑﮍﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

اشک حاضر کریں

تصویر
اشک ھرگز مداوا نہیں ھیں مگر
اک دلاسہ تو ھیں
آئیے
اشک حاضر کریں
اُن بلکتے ھوئے خاندانوں کے کٹتے کلیجوں پہ گریہ کریں
جن کے نوخیز پھولوں کو ظلمت کی آندھی اڑا لے گئی
مائیں تکتی رہیں
اور اسکول سے ان کے بچّے تو کیا
ان کے بچّوں کے بستے بھی سالم نہیں آ سکے !!
آئیے
اپنے اپنے گھروں میں چراغوں کو روشن کریں
ان نگاھوں کی بیچارگی
جو قیامت تلک اپنے پیاروں کی تصویر سینے لگائے
"مِری جان" کہ کر بہت روئیں گی
ان کو پرسہ کہیں
آئیے
اُن سخی مرتبت ماوں بہنوں کی ھمت پہ اپنے سروں کو جھکا کر سلامی کہیں
وہ جنھوں نے بنامِ وطن اپنے عثمان و حیدر کو صدقہ کِیا
آئیے
اشک حاضر کریں
سیدہ فاطمہ کی ردائے مقدس کی اجلی قسم کھا کے وعدہ کریں
ان تڑپتی سسکتی بلکتی ھوئی
ماوں بہنوں سے اور اپنے ننھے شہیدوں کی معصوم روحوں سے وعدہ کریں
عصرِ حاضر کی تازہ تریں کربلا ھم نہیں بھولیں گے
بس بہت ھو گیا
ھم مسالک میں بٹ کر تہی ھو گئے
لازمی تھے کبھِی،واجبی ھو گئے
آئیے مل کے وعدہ کریں
سب ارادہ کریں
اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر
مسلکی مذھبی نفرتوں کو دلوں سے روانہ کریں
اِن شہیدوں کی روحوں کو ناظر کریں
اشک حاضر کریں !!!
اشک حاضر…

مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں۔۔۔ ابو یحییٰ

تصویر
مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں
(یہ مضمون سر ابو یحییٰ کی نئی کتاب "ملاقات" میں شامل ہے۔ سر نے یہ مضمون آج پشاور میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کے نام کیا ہے ۔ فیس بک پر یہ مضمون قارئین کے لیے خاص طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ایڈمن)
میری طبیعت اشعار کہنے کے لیے کبھی آمادہ نہیں ہوئی۔ زندگی میں شاید ایک آدھ شعر ہی کبھی کہا ہوگا۔ پچھلے دنوں بیرون ملک مقیم ایک عزیز دوست نے میری خیریت معلوم کی تو میں نے جواب دیا: ’ہماری کیا پوچھتے ہو، ہم تو ایک مقتل میں زندہ ہیں‘۔ اپنے اردگرد پھیلے حالات کی مناسبت سے، جن کے لیے’ مقتل‘ سے زیادہ موضوع تعبیر ملنا مشکل ہے، چند اشعار موزوں ہوگئے ہیں۔ آج کی ملاقات میں بات انھی اشعار سے شروع کررہا ہوں۔
مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں
خونی سمندروں کا ہم رنگ کیا بتائیں
قاتل بھی اپنے پیارے، مقتول بھی ہمارے
کس سے گلہ کریں ہم، کس کو لہودکھائیں
ہر صبح ایک دہشت، ہر شام ایک وحشت
جب گھر ہی جل گیا ہو ،تو آگ کیا بجھائیں
لیکن ہے حکمِ مالک مایوسیاں مٹانے
اس آگ سے ہی پر ہم اپنا دیاجلائیں
تاریکیوں کا کیاغم جب رب کا ہو سہارا
مایوسیوں میں آ…

آج کی بات۔۔۔ 01 دسمبر 2014

تصویر
سب سے آسان کام دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے اور سب سے مشکل کام خود ذمہ داری قبول کرنا ہے۔

ہدایت

تصویر
ہدایت
ہدایت بندوق کی گولی نہیں ہوتی جس سے دوسروں کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ روشنی ہوتی ہے جو دل سے پھوٹتی ہے اورسب سے پہلے ہمارے اپنے وجود کو منور کرتی ہے۔  مگر ہم کبھی اس روشنی کو اپنے رب سے اپنے لیے نہیں مانگتے ۔ کبھی رسمی طور پر مانگ لیا تو اپنی شخصیت اور عادات ایسی نہیں بناتے کہ اس روشنی کے مستحق ٹھہریں ۔ہم اپنے تعصبات، گروہوں ، نظریات اور تصورات کے اسیر ہوتے ہیں اور انھی کو دوسروں پر ٹھونسنا چاہتے ہیں ۔  سو نہ ہم نے ہدایت پانے کو اپنا مقصد بنایا نہ خود کو ہدایت پانے کے قابل بنایا۔ ہم پیغمبر تو ہیں نہیں کہ اللہ پاک ہم پر ہدایت بن مانگے اتار دے ۔ اس لیے ہمارے اندر اندھیرا رہتا ہے اور انھی اندھیروں کو ہم دوسروں میں بانٹتے ہیں ۔ 
ابو یحییٰ


آج کی بات۔۔۔ 25 نومبر 2014

تصویر
دوسروں کی ذندگیوں میں بے جا مداخلت سے آپ کو کچھ نہیں ملنے والا۔۔ یقین مانیے آپ کی اپنی ذندگی میں بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کی توجہ کا محتاج ہے۔

قیادت

تصویر
ﺟﺐ ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺎﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .… ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﺜﺮﺕ  ﻣﻠﺖ ﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﮯ ﺗﻌﯿّﻦ ﮐﻮ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﺑنا ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .… ﻭﺣﺪﺕِ ﻣﻘﺼﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗو ﮐﺜﯿﺮﺍﻟﻤﻘﺼﺪﯾﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮨﯽ ﻣُﺒﮩﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
 ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ

صراحی سرنگوں ہو کر

تصویر
جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانے

رشتے

تصویر
زِندگی کی خُوبصُورتی رِشتوں سے ہے اور رِشتے تب ہی قائم رہتے ہیں جب ھم معاف کرنا اور درگزر کرنا سیکھ جاتے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم صرف ایک قیدی ہیں ان سماجی رسموں کے جو ہمیں ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرادینے پر مجبور کردیتی ہیں

خوشی اور غم

تصویر
خوشی اور غم زندگی کی وہ کیفیات ہیں جو ہر انسان پریکے بعد دیگرے طاری ہوتی رہتی ہیں.
کوئی بھی انسان نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس جس طرح دن اور رات کا سلسلہ جاری و قائم رہے گااسی طرح جب تک یہ زندگی ہے ہر ذی حیات انسان کو کسی نہ کسی صورت خوشی اور غم کی کیفیات سے واسطہ بھی رہے گا
جس طرح نہ ہی ہر وقت دن رہتا ہے اور نہ ہی رات اسی طرح انسان بھی نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس....
یہ خوشی اور غم ہی ہے جوانسان کو اداسی یا مسرت سے دوچار کرتی رہتی ہے اب یہ انسان پر ہے کہ وہ ان دونوں کیفیات میں اپنی شخصیت کا توازن کس طرح برقرار رکھتا ہے سوگواریت کو اپنے اوپر طاری نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ پھر مایوسی کی علامت ہے۔

آج کی بات ۔۔۔ 22 نومبر 2014

تصویر
اگر انسان اپنی انگلیوں کا استعمال اپنی ہی غلطیوں کو گننے کے لیے کرے، تو دوسروں پر انگلی اٹھانے کا وقت ہی نہ ملے۔

زندگی کی قوت

تصویر
~~~ زندگی کی قوت ~~~

گھر کے آنگن میں ایک بیل اُگی ہوئی تھی.. مکان کی مرمت ہوئی تو وہ ملبہ کے نیچے دب گئی...آنگن کی صفائی کرواتے ہوئے مالک مکان نے اس بیل کو کٹوا دیا دور تک اس کی جڑیں بھی کھود کر نکال دی گئیں اس کے بعد صحن میں اینٹیں بچھا کر سیمنٹ سے پختہ کر دیا گیا...

کچھ عرصے بعد بیل کی سابق جگہ پر ایک نیا واقعہ ہوا پختہ اینٹیں ایک مقام پر ابھر آئیں... ایسا لگتا تھا کہ کسی نے دھکا لگا کر ان کو اٹھا دیا ہے کسی نے کہا کہ یہ چوہوں کی کاروائی ہے کسی نے کوئی اور قیاس کرنے کی کوشش کی آخر کار اینٹیں ہٹائی گئیں تو معلوم ہوا کہ بیل کا پودا اس کے نیچے مڑی ہوئی شکل میں موجود ہے...بیل کی کچھ جڑیں زمین کے نیچے رہ گئیں اب وہ اوپر آنے کے لیے زور کر رہی تھیں...

“یہ پتیاں اور انکھوے جن کو ہاتھ سے مسلا جائے تو آٹے کی طرح پِس جائیں ان کے اندر اتنی طاقت ہے کہ اینٹوں کے فرش کو توڑ کر اوپر آجائیں“.. مالک مکان نے کہا کہ میں ان کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتا اگر یہ بیل دوبارہ زندگی کا حق مانگ رہی ہے تو میں اسے زندگی کا حق دوں گا...چناچہ انہوں نے چند اینٹیں نکلوا کر اس کے لیے جگہ بنوا دی...

پ…

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی

تصویر
نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا
سچا کسی کا خواب ہُوا یا نہیں ہُوا

بے داغ کوئی شکل نظر آئی یا نہیں
آئینہ بے نقاب ہُوا یا نہیں ہُوا

لائی گئیں کٹہرے میں کتنی عدالتیں
قانون لاجواب ہُوا یا نہیں ہُوا

جو آج تک کیا گیا احسان کی طرح
اس ظلم کا حساب ہُوا یا نہیں ہُوا

اُس کے بھی دل میں آگ لگی یا نہیں لگی
پتھر بھی آب آب ہُوا یا نہیں ہُوا

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی
ختم اس کا کوئی باب ہُوا یا نہیں ہُوا

قدر اہلِ روشنی کی بڑھی یا نہیں بڑھی
ذرہ بھی آفتاب ہُوا یا نہیں ہُوا

انسانیت سے رابطہ کرنے کے باب میں
انسان کامیاب ہُوا یا نہیں ہُوا

کلام: مظفر وارثی

آج کی بات ۔۔۔ 15 نومبر 2014

تصویر
انسان کے اندر دو کمزوریاں بہت عام ہیں
بھلانے کے قابل باتوں کو 'یاد' رکھنا اور یاد رکھنے کے قابل باتوں کو 'بھلا دینا'۔

نصیب

تصویر
انسان دوسرے کی دولت کو دیکھ کر اپنے حالات پر اس قدر شرمندہ کیوں ہوتا ہے؟ یہ تقسیمِ تقدیر ہے۔ ہمارے لیے ہمارے ماں باپ ہی باعث تکریم ہیں، ہماری پہچان ہمارا اپنا چہرہ ہے، ہماری عاقبت ہمارے اپنے دین میں ہے، اسی طرح ہماری خوشیاں ہمارے اپنے حالات اور ماحول میں ہیں۔ مور کو مور کا مقدر ملا، کوے کو کوے کا۔ ہم یہ نہیں پہچان سکتے کہ فلاں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا اور ہمارے ساتھ ویسا کیوں ہوا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ 'اے رب العالمین آپ نے چھپکلی کو کیوں پیدا فرمایا؟'۔ اللہ نے جواب دیا: 'عجب بات ہے، ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی کہ اے رب! تم نے موسیٰ کو کیوں پیدا کیا؟ '۔
 بات وہی ہے کہ انسان اپنے نصیب پر راضی رہے تو اطمینان حاصل کرے گا۔ نصیب میں تقابلی جائزہ نا جائز ہے۔
واصف علی واصف از دل دریا سمندر

آج کی بات ۔۔۔ 15 نومبر 2014

تصویر
ہر مسئلے کا حل موجود ہے،
 سوائے اس کے جسے انا کا مسئلہ بنا لیا جائے۔

تصویر کا چھوٹا سا ٹکڑا

تصویر
قدیم چینی دور کی کہانی ہے ۔ کہتے ہیں کسی گاؤں میں ایک بوڑھا اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ رہتا تھا۔ پرانا سا ایک مکان تھا، ایک کمرے میں باپ بیٹا رہتے ، دوسرے کمرے کو اصطبل بنایا ہوا تھا، وہاں ان کا گھوڑا رہتا ہے ۔ یہ گھوڑا بڑا شاندار اور نہایت اعلیٰ نسل کا تھا۔ بہت پہلے بوڑھے کسان کے ہاتھ ایک گھوڑے کا بچہ لگا، اس نے باپ کی طرح اسے پالا ۔ بڑا ہو کر اس گھوڑے کی خوبصورتی کی دھوم مچ گئی۔ دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے ۔ گاؤں کے رئیس نے اسے دیکھا تو پہلی نظر میں فریفتہ ہو گیا، اس نے بوڑھے کو بلا کر منہ مانگی قیمت کی پیش کش کی۔ کسان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھوڑا نہیں ، میرا بیٹا ہے ، اپنی اولاد کو کوئی فروخت نہیں کرتا۔اور بھی لوگوں نے خریدنے کی کوشش کی ، سب ناکام رہے ۔ گاؤں کے کچھ سمجھدار لوگوں نے بوڑھے کو سمجھایا کہ تم غریب آدمی ہو، ایسے اعلیٰ گھوڑے کو کتنی دیر تک سنبھال کر رکھ لو گے ، اچھی قیمت مل رہی ہے ، بیچ ڈالو، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی یہ گھوڑا چرا کر لے جائے ۔ ایسے ہر مشورے کے جواب میں وہ بابا جی مسکرا دیتے اور بس، بات ختم ہوجاتی۔

ایک دن بوڑھا کسان اور اس کا بیٹا حسب معمول صبح اٹھے…

آج کی بات ۔۔۔ 11 نومبر 2014

تصویر
"آپ اپنا کام کرتے جائیں، وقت آپ کے لیے دوستیاں اور محبتیں خود پیدا کر لے گا"

آج کی بات۔۔۔ 30 اکتوبر 2014

تصویر
برے کام اس لیے برے نہیں ہوتے کہ وہ منع ہوتے ہیں۔۔ بلکہ اس لیے کہ ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے!!

طوفان اور مزار

تصویر
طوفان اور مزار  (نوٹ یہ مضمون 2010 کے طوفان کے موقع پر لکھا گیا تھا)
بحیرہ عرب میں پیدا ہونے والا پیٹ (Phet) نامی طوفان 6 جون کی رات سندھ کے ساحلی شہر بھنبھور سے ٹکراکر ختم ہوگیا۔ ابتدا میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ طوفان کراچی اور اس کے مضافات سے ٹکرائے گا۔ تاہم مسقط اور گوادر میں تباہی مچانے والا یہ طوفان جو ابتدا میں کیٹگری 3 کا ایک طوفان تھا، پہلے کیٹگری 1 کے ہلکے طوفان میں بدلا اور پھر ہوا کا رخ آخری وقت میں بدلنے کے باعث کراچی سے ٹکرائے بغیر گزر گیا۔ کراچی شہر پر اس کا اثر صرف اتنا ہوا کہ طوفان سے قبل یہاں وقفے وقفے سے تیز بارش ہوئی۔ تاہم طوفان اس شہر سے کنارہ کرکے گزر گیا اور اس کا زیادہ تر نزلہ حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کے دیگر شہروں پر گرا۔
شہر کراچی جو اس طرح کی کسی ناگہانی کو جھیلنے کے لیے آخری درجہ میں ایک ناتواں شہر ہے، تمام تر توقعات کے برخلاف حیرت انگیز طور پر اس پوری آفت سے محفوظ رہا۔ گرچہ تھوڑی بہت بارش بھی اس شہر میں نو انسانی جانوں کا نقصان کرگئی لیکن اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر یہ شہر طوفان کا براہِ راست نشانہ بن جاتا تو یہاں کس درجے کی تباہی…

عالم اور اعتماد

تصویر
عالم اور اعتماد
 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

ایک عالم اور محقق وہ شخص ہوتا ہے جو علم کی روایت کے تمام پہلوؤں سے واقف ہوتا ہے اور پھر کسی معاملے میں اپنے فہم کے مطابق ایک رائے قائم کرتا ہے۔ عالم کا علم اور تحقیق اسے اس بات کا حقدار بناتے ہیں کہ وہ اپنی بات پورے اعتماد کے ساتھ بیان کرے اور دوسرے اہل علم کی غلطی کو واضح کرے ۔ یہ ایک عالم کا حق ہے جو اس سے چھینا نہیں جا سکتا۔ مگر اس سے جو توقع کی جا سکتی ہے وہ  یہ کہ وہ کسی دوسرے کے نیت پر حملہ نہ کرے ، ان کا تمسخر نہ اڑائے اور اس بات کے لیے تیار رہے کہ اس کی غلطی اگر اس پر واضح کر دی جائے تو وہ اپنی رائے سے رجوع کر لے گا۔ معاملات اگر یوں رہیں تو کبھی تعصب پھیلے گا نہ فرقہ واریت وجود میں آئے گی۔

خرابی اس وقت ہوتی ہے جب وہ لوگ کسی معاشرے میں عالم بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو علم کے صرف ایک پہلو سے واقف ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے علاوہ کسی اور نقطہ نظر کو سنجیدگی اور کھلے دل سے پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ درحقیقت جن بزرگوں کے نام پر وہ کھڑے ہوتے ہیں وہ ان کی علمی وراثت اور استدلال سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔

ایسے لوگ عملی زندگی میں اتر کر کبھی کسی دوسرے کانقطہ نظر…

اب سمجھ میں آتا ہے

تصویر
اب سمجھ میں آتا ہے


پیار کی کہانی میں
کس جگہ ٹھہرنا تھا؟
کس سے بات کرنا تھی؟
کس کے ساتھ چلنا تھا؟
کون سے وہ وعدے تھے
جن پہ جان دینا تھی؟
کس جگہ بکھرنا تھا؟
کس جگہ مکرنا تھا؟
کس نے اس کہانی میں
کتنی دور چلنا تھا؟
کس نے چڑھتے سورج کے
ساتھ ساتھ ڈھلنا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے

اُس نے جو کہا تھا سب
ہم نے جو سنا تھا تب
کس طرح ہلے تھے لب
کس طرح کٹی تھی شب
ہم نے ان سنی کر دی
بات جو ضروری تھی
کس قدرمکمل اور
کس قدر ادھوری تھی
وہ جو اک اشارہ تھا
ذکر جو ہمارا تھا
وہ جو اک کنایہ تھا
جو سمجھ نہ آیا تھا
اب سمجھ میں آتا ہے

جان کے ہی دشمن تھے
جان سے جو پیارے تھے
ہم جہاں پہ جیتے تھے
اصل میں تو ہارے تھے
راہ جس کو سمجھے ہم
راستہ نہیں تھا وہ
واسطہ دیا جس کو
واسطہ نہیں تھا وہ
کس نے رد کیا ہم کو؟
کس نے کیوں بلایا تھا؟
جس کو اتنا سمجھے ہم
کیوں سمجھ نہ آیا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے

اب سمجھ میں آیا جب
زندگی اکارت ہے
دیر سے سمجھ آئی
ایسی اک بجھارت ہے
زندگی کے بھیدوں کو
ہم نے اب سمجھنا تھا
تب سمجھ بھی آتی تو
ہم نے کب سمجھنا تھا
آنکھ جب پگھل جائے
اور شام ڈھل جائے
زندگی کی مٹھی سے
ریت جب نکل جائے
بھید اپنے جیون کا
تب سمجھ میں آتا ہے
سب سمجھ میں آتا ہے

رضی الدین رضی

سچ

تصویر
سچ تین مرحلوں سے گزرتا ھے۔

پہلے مرحلے میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ھے،
دوسرے مرحلے اسکی متشدد طریقے سے مخالفت کی جاتی ھے،
اور تیسرے مرحلے میں اسے یوں تسلیم کر لیا جاتا ھے،جیسے اس سچائی کو کبھی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

مثبت شخصیت کی تعمیر

تصویر
انسان کے ذہن کے دو بڑے خانے ہیں ایک شعوری ذہن ... دوسرا لاشعوری ذہن .. جب بھی کوئی بات انسان کے ذہن میں آتی ہے تو پہلے وہ اس کے ذہن کے شعور کے خانے میں آتی ہے اس کے بعد دھیرے دھیرے آگے بڑھ کر اس کے لاشعور کے خانے میں چلی جاتی ہے...

لاشعور انسانی ذہن کا وہ خانہ ہے جہاں ہر بات دوامی طور پر موجود رہتی ہے مگر وہ آدمی کے شعور کی گرفت میں نہیں رہتی.. جو آدمی پھول والی شخصیت بننا چاہے اس کو یہ کرنا ہوگا کہ جب بھی کوئی منفی آئٹم اس کے شعوری ذہن میں آئے تو اسی وقت اپنے ذہن کو متحرک کر کے اس منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے...

تاکہ جب آگے بڑھ کر یہ آئٹم آدمی کے لاشعور کے اسٹور میں محفوظ ہو تو وہاں وہ مثبت آئٹم کے طور پر محفوظ ہو نہ کہ منفی آئٹم کے طور پر...

مثلاً کوئی بات اس کے شعور میں نفرت کے احساس کے طور پر آئے تو وہ اس کو diffuse کر کے محبت کے احساس میں تبدیل کرے...کوئی بات حسد کے احساس کے طور پر اس کے دماغ میں آئے تو وہ اس کو اعتراف کے احساس میں تبدیل کرلے..

کوئی بات پر اس کا ایگو (ego) بھڑکے تو وہ اس کو تواضع کا احساس دے دے..کوئی تجربہ اس کے اندر خودغرضی کا احساس پیدا کرے تو وہ اس کو …

اپنی زمین

تصویر
اپنی زمین
(ابویحییٰ)

یہ تیسری ملاقا ت تھی۔ پہلی دو ملاقاتوں میں وہ اس بات پر قائل ہوچکے تھے کہ حالات گرچہ بہت پریشان کن اور خراب ہیں، لیکن انہی حالات میں بڑابڑی خیر، عافیت اور آسانی بھی پائی جاتی ہے۔ خاص کر کسی شخص کا اصل مقصود اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہو تو یہی بہترین حالات ہیں۔ مگر اب ایک اور مسئلہ آگیا۔ یہ مسئلہ مختصراً انہی کی زبانی سنیے۔
’امریکہ افغانستان میں بیٹھا ہے اور ہم پر ڈرون حملے کررہا ہے۔ حکومت میں سارے کرپٹ لوگ ہیں۔ سیاستدان مخلص نہیں۔ اصلاح کیسے ہوگی؟ کام کیسے شروع ہوگا، کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘
میں نے جواب میں عرض کیا۔ آپ کو معلوم ہے ملک میں ہزاروں لاکھوں ٹن فصلیں کیسے پیدا ہوتی ہیں۔۔۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ہر کسان اپنے حصے کی زمین پر محنت کرکے فصل بوتا ہے۔ زمین کم ہو یا زیادہ ہر کسان کی سار ی توجہ اپنی زمین کی طرف ہوتی ہے۔ اگر کسان اپنی زمین پر کام چھوڑ کر بنجر زمینوں کا رونا رونے لگے تو پھر کوئی فصل بھی پیدا نہیں ہوگی۔
ٹھیک اسی طرح آپ کا مسئلہ، آپ کی اپنی ذات ہے، آپ کے اردگرد کے قریبی لوگ ہیں۔ کام یہاں ہونا ہے۔ اصلاح یہاں سے ہونی ہے۔ یہ سوچنے می…

احسان کی رسی

تصویر
احسان کی رسی
-------------------
" ایک شخص اپنی پالتو بکری کے ساتھ جا رہا تھا۔۔۔۔ اس نے بکری کی رسّی بھی نہیں پکڑی ہوئی تھی۔ کسی نے اس سے کہا:"حیرت ہے، یہ بکری کیوں تمھارے پیچھے آرہی ہے۔۔۔۔ حالانکہ تم نے اس کی رسی بھی نہیں پکڑ رکھی۔"

یہ سن کر بکری والے نے کہا: "یہ میرے پیچھے اس لئے آرہی ہے کہ یہ احسان کی رسی سے بندھی ہوئی ہے جو آپ کو نظر نہیں آرہی۔ جب بکری بھوکی ہوتی ہے تو میں اسے کھلاتا ہوں۔۔۔ جب یہ پیاسی ہوتی ہے تو میں اسے پلاتا ہوں۔۔۔۔ جب اس کا بدن میلا ہو جاتا ہے تو میں اسے نہلاتا ہوں۔۔۔ اسے چھاؤں میں باندھتا ہوں۔ اسے گرمی سردی سے بچاتا ہوں۔۔۔ غرض اس کا ہر طرح خیال رکھتا ہوں۔۔۔ یہ میرا اس پر احسان۔۔۔۔ اسے میرے احسانوں کی رسی نے باندھ رکھا ہے۔"

یہ سُن کر دوسرے آدمی نے ایک سرد آہ بھری اور بولا: "اللہ تعالٰی کے بھی ہم پر ان گنت احسانات ہیں۔۔۔۔ اس کے احسانوں کی رسی نے ہمیں بھی تو باندھ رکھا ہے۔۔۔ لیکن ہائے افسوس۔۔۔ ہم تو اس کے احکامات کے پیچھے نہیں چلتے۔۔۔ ہم تو سرکشی پر اُترے ہوئے ہیں۔"

آج کی بات ۔۔۔ 11 اکتوبر 2014

تصویر
اگر راستہ خوبصورت ہے تو معلوم کیجئے کہ کس منزل کو جاتا ہے
اگر منزل خوبصورت ہو تو راستہ کی پرواہ مت کیجئے

کیونکہ خوبصورت منزل مل جانے پر راستہ کی دُشواریوں کا احساس ختم ہو جاتا ہے
لیکن منزل خوبصورت نہ ہو تو آدمی کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہ جاتا

قربانی : سوچنے کی کچھ باتیں

تصویر
قربانی : سوچنے کی کچھ باتیں
(Abu Yahya ابویحییٰ﴿

عید الاضحٰی کی آمد آمد ہے۔ ہر سال اس موقع پر قربانی کے جانوروں کی بہار آتی ہے۔ ہر گھر میں اِسی بات کا تذکرہ ہوتا ہے کہ گائے خریدی جائے، بکرا لیا جائے یا کہیں حصہ ڈال دیا جائے۔ جہاں قربانی کے جانور آجاتے ہیں وہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں کہ کس کا جانور زیادہ اچھا اور قیمتی ہے۔ جو لوگ مہنگے جانور خرید کر لاتے ہیں وہ بڑے فخر سے اپنے جانوروں کی نمائش کرتے ہیں۔ جبکہ کمزور جانوروں کے مالک ان کی قیمت زیادہ بتا کر اپنا بھرم رکھتے ہیں۔ غرض مقابلہ بازی کی اک فضا ہر جگہ طاری ہوجاتی ہے۔جو لوگ قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ان کا غم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس مقابلے سے کیوں باہر ہیں۔ یا پھر یہ کہ اِس موقع پر’گوشت‘ کی خود کفالت میں وہ دوسروں کے محتاج ہوں گے۔

جانوروں کی خریداری کے بعد گھر کے مردوں کی اگلی فکر قصائی کی تلاش اور قربانی کے دن اُس کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ خواتین کے سامنے قربانی کے بعد گوشت کی جمع وتقسیم اور پھر اُس کے پکانے کے تھکا دینے والے مراحل ہوتے ہیں۔ بچے جانوروں کو گھمانے اور کِھلانے پلانے میں مگن رہتے ہیں…

آزادی

تصویر
آزادی اپنی حد پہچانتے ہوئے اُس کے اندر پروازکرنےکا نام ہے۔

نورین تبسم

خواہش

تصویر
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ جو دیوانہ ہو پاگل ہو اس پر شریعت کا حکم لاگو کیوں نہیں ۔ تو سمجھ آگیا کہ اس میں خواہش بھی نہیں ہوتی ۔ یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں بھکاری بنا رکھا ہے ۔ یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں روگی بنا رکھا ہے ۔ یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں جانور ، درندہ بنا رکھا ہے ۔ اور یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنا رکھا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کون کون سی خواہشوں کے زیر اثر ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

امید کے جگنو

تصویر
کبھی کبھی ہوتا ہے نا کہ ہم خوش اور مگن ہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ زندگی ایک دائرے میں گھومتی محسوس ہوتی ہے اور تب ایک انجانی سی تھکن وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہر سفر بے سمت، ہر کام بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ انہی سوچوں میں گھرا دیکھ کر مایوسی اپنے پر پھیلاتی ہے اور ناامیدی ہمارے دل و دماغ پر اپنے پنجے گاڑھ لیتی ہے۔ ناامیدی ہم سے وہ معمولی خوشیاں بھی چھین لیتی ہے جو ہر ابھرتے سورج کے ساتھ ہمیں چلتے رہنے کی ہمت دیا کرتی ہیں۔ بے انتہا شور میں گھرے ہوئے بھی ہمیں اپنے اندر صرف ایک مہیب سناٹا سنائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ روشنیوں کی چکاچوند میں بھی ہر طرف اندھیرا چھاتا محسوس ہوتا ہے مگر اس اندھیرے میں بھی امید کے جگنو راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہانی کی طرح جس میں اندھیری رات میں بھٹکتے بلبل کو جگنو نے راستہ دکھایا تھا۔ امید کے جگنو زندگی کے بے مقصد دائروں میں بھٹکتے تھکن زدہ انسان کے ہاتھ تھامتے ہیں اور ناامیدی سے امید تک کا سفر طے کرواجاتے ہیں۔ سوچیں تو حیران رہ جائیں کہ ان معمولی، چھوٹی سی جانوں میں اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے کہ یہ میلوں پھیلے سناٹے کو اپنی ذرّوں جیسی روشن…

آج کی بات۔۔۔۔ 25 ستمبر 2014

تصویر
انسان کی زندگی میں رشتے درختوں کی مانند ھوتے ھیں. بعض اوقات اپنے مفاد کی خاطر ھم انہیں کاٹتے چلے جاتے ھیں لیکن جب وقت کی کڑی دھوپ ھمیں جھلسانے لگتی ھے تو سائے کی خاطر پھر کسی رشتے کی طرف ھی بھاگتے ھیں- .

آخری خواہش

تصویر
گارڈین اخبار کی ایک ریسرچ تھی‘ اخبار کے ایک رپورٹر نے آخری سانس لیتے ہوئے مریضوں کی آخری خواہشات جمع کیں‘ یہ بے شمار مرتے ہوئے لوگوں سے ملا اور ان ملاقاتوں کی روشنی میں اس نے اپنی ریسرچ مکمل کی‘ ریسرچ کے مطابق مرنے والوں میں پانچ خواہشیں ’’کامن‘‘ تھیں‘ ان کا کہنا تھا ’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں جو عنایت کیا تھا‘ ہم اسے فراموش کر کے ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہے جو ہمارے نصیب میں نہیں تھیں۔

اللہ تعالیٰ اگر ہماری زندگی میں اضافہ کر دے یا یہ ہمیں دوبارہ زندگی دے دے تو ہم صرف ان نعمتوں کو انجوائے کریں گے جو ہمیں حاصل ہیں‘ ہم زیادہ کے بجائے کم پر خوش رہیں گے‘‘ ان کا کہنا تھا‘ ہم نے پوری زندگی لوگوں کو ناراض کرتے اور لوگوں سے ناراض ہوتے گزار دی‘ ہم بچپن میں اپنے والدین‘ اپنے ہمسایوں‘ اپنے کلاس فیلوز اور اپنے اساتذہ کو تنگ کرتے تھے‘ ہم جوانی میں لوگوں کے جذبات سے کھیلتے رہے اور ہم ادھیڑ عمر ہو کر اپنے ماتحتوں کو تکلیف اور سینئرز کو چکر دیتے رہے‘ ہم دوسروں کے ٹائر کی بلاوجہ ہوا نکال دیتے تھے‘ دوسروں کی گاڑیوں پر خراشیں لگا دیتے تھے اور شہد کے چھتوں پر پتھر مار دیتے تھے‘ ہم …

آج کی بات ۔۔۔ 11 ستمبر 2014

تصویر
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی سو چوں میں گم ہم ہمت ہارنے کے قریب ہوتے ہیں کہ اچانک کچھ ایسے الفاظ پڑهنے کو ملتے ہیں کہ حوصلہ بحال ہو جاتا ہے. یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے وه ہمیں امید کی کرن تهما دیتا ہے

سیلاب : رحمت یا زحمت

تصویر
سیلاب : رحمت یا زحمت
 ( از ابو یحییٰ: ماہنامہ انذار، اکتوبر 2014)

پاکستان ایک دفعہ پھر سیلاب کی زد میں ہے۔سیکڑوں لوگ مارے جاچکے ہیں۔ہزاروں ایکڑ زرعی اور رہائشی زمین زیر آب آچکی ہے ۔ لاکھوں لوگ متاثرہوچکے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا اور آخری سیلاب نہیں ۔ فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق پاکستان میں اب تک دو درجن بڑے سیلاب آئے ہیں ۔ان میں سب سے بڑا سیلاب 2010کا تھا۔ یہ وہی سیلاب تھا جس میں بعض نادان مذہبی دانشوروں نے یہ غیر ضروری بحث اٹھادی کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ہم نے اُس وقت بھی پے در پے مضامین لکھ کر قرآ ن مجید اور عقل عام کی روشنی میں یہ ثابت کیا تھا کہ سیلاب عذاب نہیں ہوتا، اصل عذاب وہ نااہل فکری اور سیاسی قیادت ہوتی ہے جسے لوگ اپنے جذبات و تعصبات کی بنا پر خود اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک زرعی ملک کے لیے بارشیں اور ان سے آنے والا سیلاب اللہ کی عظیم نعمت ہے۔خاص کر ایک ایسے دور میں جب دنیا میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرگیا ہو۔ سیلاب اپنے ساتھ پانی کا ایسا ذخیرہ لاتا ہے جسے ڈیموں میں جمع کرلیا جائے تو کئی برس تک پانی کی کمی کا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے۔سیلاب اپنے سات…

آج کی بات۔۔۔ 08 ستمبر 2014

تصویر
تنقید اور تضحیک میں فرق بنیادی ہے- تنقید ضمیر کو مخاطب کرتی ہے اور تضحیک عزت نفس کو - تنقید کا مقصد جاننا اور تضحیک کا مقصد بھڑاس نکالنا ہے- تنقید جواب کا تقاضہ کرتی ہے اور تضحیک خاموشی کا.

روٹی

تصویر
اسے کاٹا گیا پیسا گیا گوندھا گیا لیکن
سبق گندم سے دنیا لینا پھر بھی بھول جاتی ہے
کسی بھوکے کے کام آنے سے پہلے غور سے دیکھو
دہکتی آگ پر روٹی خوشی سے پھول جاتی ہے

یوم دفاع

تحریر: ملک جہانگیر اقبال
٦ ستمبر١٩٦٥ ..
یعنی یوم دفاع پاکستان . وہ دن جب پاکستانی افواج اور خاص توڑ پر پاک فضائیہ نے بہادری کی عظیم داستانیں رقم کی ، جب اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر یہ باور کرا دیا تھا کہ جنگیں محض اسلحے یا حجم سے نہیں لڑی جاتی ہیں بلکہ افواج میں جان قربان کرنے کا جذبہ ہو اور اسے قوم کی حمایت حاصل ہو تو وہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو زیر کر سکتے ہیں .
میں تاریخ کے واقعات کم لکھتا ہوں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق اور جذبہ تو حاصل کر سکتے ہیں پر یہ یاد رہے ہر آنے والا دن مختلف ہوتا ہے ہر آنے والی جنگ الگ نوعیت کی ہوتی ہے . اور ہمیں یاد رکھنا چاہیئے اب جو جنگ ہوئی وہ حجم میں شاید ١٩٦٥ کی جنگ سے بہت بڑی ہوگی اور بہ یک وقت بہت سے دشمنوں سے بہت سے محاذوں پر لڑنا ہوگا .
اگر آپ گزشتہ ١٠ سال ہی دیکھ لیں تو ہماری افواج دنیا کی مشکل ترین جنگ میں الجھی ہوئی ہیں جس میں دشمنوں کی تعداد اور اقسام بدلتی جارہی ہیں . ایسا لگتا ہے جیسے پوری ترتیب کے ساتھ دشمن نے مہرے کھڑے کر دیے ہیں کہ ایک کے گرتے ہی دوسرا مہرہ آن کھڑ…

اے راہِ حق کے شہیدو

تصویر
"اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لیے تم نے
بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو
سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے
تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسولِ پاکﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا
علیؓ تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے
حسینؓ پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
جنابِ فاطمہؓ جگرِ رسول کے آگے
شہید ہو کے کیا ماں کو سرخرو تم نے
جنابِ حضرتِ زینبؓ گواہی دیتی ہیں
شہیدو رکھی ہے بہنوں کی آبرو تم نے
وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
اے راہِ حق کے شہیدو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں "

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم کچھ دل سے 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ المؤمنون سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل