منگل, دسمبر 23, 2014

عمر کرتی ہے سفر۔۔



 عمر کرتی ہے سفر۔۔
  خواب وہیں رہتا ہے۔

آج کی بات ۔۔۔ 23 دسمبر 2014



ﻟﮩﺠﮧ ﻟﻔﻆ ﮐﺎ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﺭ، ﻧﯿﺖ ﮐﺎ ﮐﮭﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﭼﻮﺭ ﭘﮑﮍﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

جمعرات, دسمبر 18, 2014

اشک حاضر کریں



اشک ھرگز مداوا نہیں ھیں مگر
اک دلاسہ تو ھیں
آئیے
اشک حاضر کریں
اُن بلکتے ھوئے خاندانوں کے کٹتے کلیجوں پہ گریہ کریں
جن کے نوخیز پھولوں کو ظلمت کی آندھی اڑا لے گئی
مائیں تکتی رہیں
اور اسکول سے ان کے بچّے تو کیا
ان کے بچّوں کے بستے بھی سالم نہیں آ سکے !!
آئیے
اپنے اپنے گھروں میں چراغوں کو روشن کریں
ان نگاھوں کی بیچارگی
جو قیامت تلک اپنے پیاروں کی تصویر سینے لگائے
"مِری جان" کہ کر بہت روئیں گی
ان کو پرسہ کہیں
آئیے
اُن سخی مرتبت ماوں بہنوں کی ھمت پہ اپنے سروں کو جھکا کر سلامی کہیں
وہ جنھوں نے بنامِ وطن اپنے عثمان و حیدر کو صدقہ کِیا
آئیے
اشک حاضر کریں
سیدہ فاطمہ کی ردائے مقدس کی اجلی قسم کھا کے وعدہ کریں
ان تڑپتی سسکتی بلکتی ھوئی
ماوں بہنوں سے اور اپنے ننھے شہیدوں کی معصوم روحوں سے وعدہ کریں
عصرِ حاضر کی تازہ تریں کربلا ھم نہیں بھولیں گے
بس بہت ھو گیا
ھم مسالک میں بٹ کر تہی ھو گئے
لازمی تھے کبھِی،واجبی ھو گئے
آئیے مل کے وعدہ کریں
سب ارادہ کریں
اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر
مسلکی مذھبی نفرتوں کو دلوں سے روانہ کریں
اِن شہیدوں کی روحوں کو ناظر کریں
اشک حاضر کریں !!!
اشک حاضر کریں .. !!

شاعر:  علی زریون

بدھ, دسمبر 17, 2014

مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں۔۔۔ ابو یحییٰ



مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں

(یہ مضمون سر ابو یحییٰ کی نئی کتاب "ملاقات" میں شامل ہے۔ سر نے یہ مضمون آج پشاور میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کے نام کیا ہے ۔ فیس بک پر یہ مضمون قارئین کے لیے خاص طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ایڈمن)
میری طبیعت اشعار کہنے کے لیے کبھی آمادہ نہیں ہوئی۔ زندگی میں شاید ایک آدھ شعر ہی کبھی کہا ہوگا۔ پچھلے دنوں بیرون ملک مقیم ایک عزیز دوست نے میری خیریت معلوم کی تو میں نے جواب دیا: ’ہماری کیا پوچھتے ہو، ہم تو ایک مقتل میں زندہ ہیں‘۔ اپنے اردگرد پھیلے حالات کی مناسبت سے، جن کے لیے’ مقتل‘ سے زیادہ موضوع تعبیر ملنا مشکل ہے، چند اشعار موزوں ہوگئے ہیں۔ آج کی ملاقات میں بات انھی اشعار سے شروع کررہا ہوں۔

مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں
خونی سمندروں کا ہم رنگ کیا بتائیں
قاتل بھی اپنے پیارے، مقتول بھی ہمارے
کس سے گلہ کریں ہم، کس کو لہودکھائیں
ہر صبح ایک دہشت، ہر شام ایک وحشت
جب گھر ہی جل گیا ہو ،تو آگ کیا بجھائیں
لیکن ہے حکمِ مالک مایوسیاں مٹانے
اس آگ سے ہی پر ہم اپنا دیاجلائیں
تاریکیوں کا کیاغم جب رب کا ہو سہارا
مایوسیوں میں آؤ روشن دیا جلائیں
روز جزاسے پہلے اُس زندگی سے پہلے
قہرِ خدا سے اپنی اِس قوم کو بچائیں
ریحاں کا ساتھ دے کر خوشبو کو عام کردو
لوگوں میں جوت حق کی دن رات ہم جگائیں

ہم ہی قاتل ہم ہی مقتول
میں جس شہر اور جس ملک میں رہتا ہوں، انسانی جان جس طرح یہاں بے وقعت ہوچکی ہے، کم ہی کسی اور خطۂ ارضی میں ہوئی ہوگی۔ کراچی ہو یا بلوچستان، پنجاب ہو یا خیبر پختونخواہ کا علاقہ، ہر جگہ انسانی خون بے دردی سے بہایا جارہا ہے۔ کہیں جرائم پیشہ افراد معمولی چیزوں کے پیچھے معصوموں کو قتل کرڈالتے ہیں تو کہیں عوام الناس اور قانون کے رکھوالے ہی بے گناہوں کو سرعام وحشیانہ تشدد کی بھینٹ چڑھادیتے ہیں۔ کہیں بم دھماکے ہیں تو کہیں خود کش حملے، کہیں جلوسوں اور مزارات پر خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں تو کہیں بازاروں میں تاجروں کو خون سے نہلایا جارہا ہے۔ کہیں صلحا اور علما کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو کہیں سیاسی اور گروہی مفادات کے کھیل میں عام لوگوں کو کیڑے مکوڑوں کی مانند مارا جارہا ہے۔
یہ سب کچھ مسلمان کررہے ہیں۔ کہیں انتقام کے نام پر تو کہیں اسلام کے نام پر۔ غلط بیانی کررہے ہیں وہ لوگ جو کسی تیسرے ہاتھ یا باہر کی طاقت کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ یہ اللہ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں اور اہل ایمان کو بھی، مگر اپنے سوا یہ کسی اور کو دھوکہ نہیں دے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیسری طاقت اور بیرونی ہاتھ اگر کچھ کرنا بھی چاہیں تو محض سرمایہ وغیرہ ہی فراہم کیا کرتے ہیں۔ خون کی ہولی تو اپنے ہی لوگ کھیل رہے ہیں۔ سارے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ قاتل باہر سے نہیں آرہے، یہ بھی اپنے مسلمان بھائی بند ہیں۔
کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہورہے ہیں ہمیں قتل کررہے ہیں
 
انسانی جان کی حرمت اور اسلام
ہمارے ہاں یہ سب کچھ ہورہا ہے اور مجھے رہ رہ کر قرآن مجید اور حدیث کے وہ احکام یاد آرہے ہیں جو معاشرے میں انسانی جان کی حرمت قائم رکھنے کے لیے دیے گئے ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ یہ مسلمانوں کا معاشرہ ہے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ اللہ رسول اور اسلام کا نام لینے والوں کا معاشرہ ہے۔ یقین نہیں آتا کہ یہاں ہر جمعہ میں کروڑوں مسلمان جمعہ کا خطبہ سنتے ہیں۔ مگر کیا کیجیے، اس معاشرے میں خطباتِ جمعہ کے موضوعات ہی کچھ اور ہوتے ہیں۔ انسانی جان کی حرمت یہاں کبھی زیر بحث نہیں آتی، بلکہ جو تقریریں ہوتی ہیں وہ بارہا نفرت کی ایسی آگ بھڑکاتی ہیں جو فرقہ وارانہ خون ریزی کا باعث بن جاتی ہیں۔
قرآن و حدیث میں انسانی جان کی حرمت اور اس کی اہمیت کے بارے میں اتنی تفصیل سے کلام کیا گیا ہے کہ اگر اس کو بیان کیا جائے تو ایک کتاب تیار ہوجائے گی۔ میں اجمالی طور پر چند باتیں پیش کردیتا ہوں۔ دوسروں کو نہ سہی، مگر مذہب کا نام لے کر خون کی ہولی کھیلنے والوں اور درپردہ ان کی حمایت کرنے والوں کو شاید کچھ حیا آجائے۔
قرآن مجید کے آغاز میں سورۂ بقرہ آیت 84 میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان کی ہے کہ انھوں نے بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہیں بہائیں گے۔ پھر بنی اسرائیل نے اس جرم عظیم کا ارتکاب کیا۔ اس پر قہر الٰہی بھڑکا اور یہ سزا سنائی گئی کہ اس رویے کا بدلہ دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں سخت ترین عذاب ہے۔
اسی سورۂ بقرہ آیت 173 میں جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو احکام شریعت دینا شروع کیے تو پہلا حرام یہ بیان ہوا کہ مردار وغیرہ کو نہ کھایا جائے، مگر انسانی جان اللہ کے نزدیک اتنی قیمتی ہے کہ بھوک سے جان پر بن آئے تو انھیں کھانے کی اجازت دے دی گئی۔ انسانی جان کے تحفظ کے لیے یہ رعایت قرآن مجید میں اور بھی کئی جگہ بیان ہوئی ہے۔ اگلا حکم جو ذرا آگے (آیت 178) میں دیا گیا وہ قصاص کا ہے۔ یعنی حکومتِ وقت مقتول کے قتل کے بدلے میں قاتل کو موت کی سزا دے گی۔ اس قصاص کو معاشرے کی زندگی کا ضامن قرار دیا گیا، (آیت 179)۔ کیونکہ جب ایک قاتل کو سزائے موت ملتی ہے تو کسی اور شخص کے لیے آسان نہیں رہتا کہ وہ دوسرے انسان کو قتل کرنے کی جرأت کرے۔ مگر اس میں بھی یہ رعایت دی گئی کہ مقتول کے ورثا معاف کردیں تو قاتل کی جاں بخشی کردی جائے۔ گویا انسانی جان کی اتنی وقعت ہے کہ اس طرح کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک لازمی حکم واپس لے لیا۔
سورۂ مائدہ (32:5) میں ایک انسانی قتل کو کل انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا اور ایک انسانی جان بچانے کو کل انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ انسانی جان کی حرمت اور عظمت پر اس سے زیادہ بڑی بات کل مذہبی اور قانونی لٹریچر میں کہیں اور نہیں ملتی۔ پھر قتل مؤمن کو تو قرآن مجید نے ایک ایسا جرم قرار دیا ہے جس کی سزا پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وہ شخص جو کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اس کے لیے اللہ نے ایک بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘، (نساء 92:4)
اس آیت سے قبل ہی ایک تفصیلی ضابطہ اس ضمن میں بیان ہوا ہے کہ غلطی سے کسی مسلمان کا قتل ہوجائے تو اس کا کیا کفارہ ہے۔ حالانکہ قرآن مجید غلطی سے کیے گئے اعمال پر کوئی سزا مقرر نہیں کرتا، مگر ایک انسانی جان جانے پر انجانے پن اور غلطی کے باوجود بھی بھرپور سزا رکھی گئی ہے۔ یہ ہے انسانی جان کی اہمیت۔ جسے آج کے مسلمان اور ان کے نام نہاد رہنما مولی گاجر سے زیادہ وقعت دینے کو تیار نہیں۔
سورۂ نحل آیت 105 میں اللہ تعالیٰ اس حد تک گئے ہیں کہ جان بچانے کے لیے کلمۂ کفر کہنے تک کی اجازت دے دی ہے۔ ذرا سوچیے! انسانی جان کی حرمت کے ثبوت میں اس سے زیادہ بڑی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ پھر بنی اسرائیل کی طرح مسلمانوں کو بھی سورۂ نسا آیت 29 میں صراحت سے باہمی خونریزی سے روکا گیا ہے۔ سورۂ حجرات آیت 6 میں سخت تنبیہ ہے کہ غیر معتبر اور غیر مصدقہ اطلاع پر کسی گروہ کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے کہ مبادا معصوم انسانی جانوں کا زیاں ہو۔
پھر دیکھیے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک یکطرفہ معاہدۂ امن قبول کرنے میں کیا مصلحت بیان ہوئی ہے۔ سورۂ فتح آیت 25 میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت جنگ رکوانے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ مکہ میں نومسلم موجود تھے جن کے اسلام کا مدینہ کے مسلمانوں کو علم نہ تھا اور اندیشہ تھا کہ جنگ کی صورت میں لاعلمی کی وجہ سے یہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جاتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر یہ نومسلم الگ ہوتے تو ہم ان کفار مکہ کو زبردست عذاب دیتے۔ گویا چند مسلمانوں کی جان بچانے کے لیے فتح مکہ کو مؤخر کرکے صحابہ کرام کو ایک ایسے معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کیا گیا جو بظاہر ایک شکست تھی۔ اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسانی جان کی کیا وقعت ہے اور اسلام کے نام لیواؤں کی نظر میں یہ کتنی بے وقعت ہے۔
خودکشی کا معاملہ
یہ تو دوسروں کے قتل کا معاملہ تھا۔ لیکن انسان کی اپنی جان تو بہرحال اس کی اپنی چیز سمجھی جاسکتی تھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلط فہمی بھی دور کردی۔ انسانی جان کی حرمت اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک اتنی زیادہ ہے کہ کسی انسان کو یہ حق تک حاصل نہیں کہ وہ اپنی جان خود لے۔ چنانچہ خود کشی کے بارے میں رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’جس نے اپنے آپ کو کسی لوہے سے قتل کیا تو وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا کہ (بطور سزا) جہنم کی آگ میں اس سے اپنے پیٹ کو مارے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو زہر پی کر قتل کیا تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا کہ (بطورِ سزا) جہنم کی آگ میں اس کے گھونٹ بھرے۔‘‘، (مسلم، کتاب الایمان، باب: اپنے آپ کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان(
ایک لمحے کے لیے اس روایت کو دوبارہ پڑھیے، خود کشی کے جرم کی سزا ابدی جہنم بیان ہوئی ہے۔ قرآن و حدیث کے ان احکام کی بنا پر خودکشی کو کوئی جائز قرار نہیں دے سکتا، مگر بدقسمتی سے آج کے دور میں بعض نادان عرب علما نے خود کش حملوں کو ’استشہاد‘ یعنی طلب شہادت کا عمل قرار دے دیا ہے۔ اس سخت وعید کے باوجود اس قسم کے فتوے کا ایک ہی سبب ہے۔ وہ یہ کہ ایسے حملوں سے دشمنوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ مگر دین بتانے کا اگر یہی معیار ہے تو پھر ان نادان عربوں سے بعید نہیں کہ کچھ ہی عرصے میں وہ مسلمان بہن بیٹیوں کو یہ تلقین شروع کردیں کہ وہ دشمنوں کے راز معلوم کرنے اور ان کی صفوں میں داخل ہوکر انھیں نقصان پہنچانے کے لیے خوشی خوشی اپنا جسم انھیں پیش کردیا کریں۔ پھر اسی بنیاد پر اس کے بارے میں بھی عالم عرب کے کسی مفتی کا فتویٰ آجائے گا کہ یہ بدکاری اور زنا نہیں بلکہ طلب جنت کا ’مقدس ‘عمل ہے۔ جس کے بعد جگہ جگہ مسلم خواتین کی بھرتی شروع ہوجائے گی اور انھیں ناز و انداز اور فحاشی کی تربیت اسلام کے مقدس نام پر دی جایا کرے گی۔ جب ہمارے جیسے ’جاہل‘ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس پر تنقید کریں گے تو عالم عرب و عجم کے سارے جذباتی مسلمان ایسے فتووں کی تائید اور ہماری مخالفت میں کھڑے ہوجائیں گے۔
 
پیغمبر انقلاب پیغمبر امن

قرآن مجید کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین یعنی سارے جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ آپ جس دور میں تشریف لائے وہ مذہبی جبر یعنی (Religious Persecution) کا دور تھا۔ یعنی اس دور میں اسلام قبول کرنے کا مطلب یہ تھا کہ مشرک لوگ مسلمانوں پر صرف ان کے ایمان کی وجہ سے بدترین ظلم و ستم شروع کردیتے تھے۔ اس صورتحال میں یہ ضروری تھا کہ جنگ کے ذریعے سے ان مشرکین کی کمر توڑدی جائے تاکہ انسانیت کے ہر فرد کو بلاخوف و تردد یہ فیصلہ کرنے کا موقع مل جائے کہ وہ دلیل کی بنیاد پر دین حق کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کو اس ظلم کے خلاف جنگ و قتال کا حکم دیا گیا۔ مگر جنگ کے احکام اس طرح دیے گئے کہ لڑائی میں کم سے کم جانی نقصان ہو۔ مثلاً جب تک مدینہ میں مسلمانوں کی ریاست قائم نہیں ہوئی، انھیں تلوار اٹھانے کی اجازت نہ تھی۔ حالانکہ مکہ میں مسلمانوں پر بدترین ظلم ہورہے تھے اور عمر، حمزہ، علی اور دیگر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین اتنی تعداد میں موجود تھے کہ ظالموں کو مزہ چکھایا جاسکتا تھا۔ مگر مکہ میں حبشہ اور مدینہ ہجرت کی اجازت تو دی گئی، جنگ کی اجازت کبھی نہیں دی گئی۔ یہ اجازت صرف اس وقت ملی جب مدینہ میں مسلمانوں کا اقتدار قائم ہوگیا اور رسول اللہ ایک ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے مدینہ کے تاجدار بن گئے۔قتال کے لیے ریاست و اقتدار کی یہ شرط اس لیے رکھی گئی ہے کہ ریاست تلوار اٹھانے والے افراد کے تمام اقدامات کی ذمہ دار ہوتی ہے اور اس کا ہر قدم پوری ریاست کے مفاد کو ذہن میں رکھ کر اٹھایا جاتا ہے نہ کہ بعض لوگوں کے احساسات و جذبات کے لحاظ میں ۔ اس اقتدار کے قائم ہونے کے بعد بھی ایک خاص تناسب کے بغیر جنگ فرض نہیں کی گئی، (انفال 66:8)۔ پھر خود نبی رحمت نے انسانی جان کے تحفظ کے لیے جو حکمت عملی مختلف مواقع پر اختیار کی؛ جس کی ایک مثال صلح حدیبیہ کی شکل میں اوپر بیان ہوئی ہے، اس کی بنا پر یہ عظیم اور ناقابل تصور واقعہ پیش آیا کہ پورا عرب مسلمان ہوگیا اور بمشکل ہزار آدمی مارے گئے۔ جبکہ موجودہ زمانے کے انقلاب فرانس، انقلاب روس وغیرہ میں لاکھوں کروڑوں لوگ مارے گئے۔ خدائے رحمن کے احکام اور نبی رحمت کا طریقہ یہ بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جان کتنی محترم تھی۔ مگر آہ! آج ان کے نام لیواؤں کے نزدیک انسانی جان اور کیڑے مکوڑے میں کوئی فرق نہیں رہا۔

منافقین کے بارے میں نبی کریم کے اسوہ حسنہ کی رہنمائی
پاکستان میں قتل و غارتگری کی دیگر وجوہات پر اس مختصر ملاقات میں گفتگو ممکن نہیں کیونکہ اس کی کئی جہتیں ہیں۔ البتہ اس قتل و غارتگری کی ایک وجہ پر میں یہاں مختصراً گفتگو ضرور کرنا چاہوں گا۔ وہ ہے مذہبی وجوہات پر دوسروں کا قتل۔ ہمارے ہاں فکری اور نظری اختلاف کی بنیاد پر کسی کو بھی کافر قرار دے کر اس کے قتل کا فتویٰ جاری ہوجاتا ہے۔ یہ کام اسلام اور علم کے نام پر کھڑے بعض لوگ بے دریغ کرتے ہیں۔ جس کے بعد روبوٹ جتنا عقل و فہم رکھنے والی قتل کرنے کی مشینیں قتل و غارتگری کا طوفان مچادیتی ہیں۔ ان انسان نما روبوٹوں کو تو خیر کیا سمجھایا جائے۔ قتل کا فتویٰ دینے والوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو البتہ سمجھانے کی غرض سے نبی رحمت کا طریقہ ہم ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ شاید کسی کو توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے۔
رسول اللہ کے دور میں عبد اللہ ابن ابی اور دیگر منافقین کا ایک گروہ موجود تھا جو ہر طرح سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے، اذیت دینے اور تباہ کردینے کی کوششوں میں برسہا برس مصروف رہا۔ یہ وہ دور تھا جب وحی نازل ہورہی تھی۔ رسول اللہ کو ان میں سے ہر منافق کے بارے میں نام بنام علم تھا۔ بعض دفعہ ان منافقین کا فساد اتنا بڑھ گیا کہ صحابہ نے حضور سے درخواست کی کہ ان لوگوں کے قتل کا حکم جاری کردیا جائے۔ مگر خدائے رحمن اور نبی رحمت کا طریقہ دیکھیے۔ اس کی کبھی اجازت نہ دی گئی۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ وجہ صرف یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ظاہر میں مسلمان کہتے تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے دعوائے ایمان میں بالکل جھوٹے تھے جن کے جھوٹ کی قلعی قرآن مجید نے بار بار کھولی ہے۔ اس کے باوجود ایک اصول قائم کرنے کی خاطر ان کو قتل نہیں کیا گیا۔ وہ اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص خود کو مسلمان کہہ رہا ہو اور اس نے ان دیگر حدود کو پامال نہ کیا ہو جن کی سزا شریعت میں موت مقرر کی گئی ہے جیسے قصاص وغیرہ، محض منافقت اور دشمنوں کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگاکر اس کو قتل کرنا کسی صورت جائز نہیں۔ یہ وہ اصول ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے خود قائم کیا ہے۔ اگر کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی فرد یا گروہ گمراہی کا شکار ہے تو وہ یقیناًان کی غلطی کو واضح کرے، مگر ان کے قتل کا فتویٰ دینا، اس کی حمایت کرنا، یا ان کو قتل کردینا، یہ سب دراصل اللہ اور اس کے رسول کے طریقے کو چھوڑ کر ابلیس کے اس طریقے کی پیروی کرنے کے مترادف ہے جو سرتاسر سرکشی کا طریقہ ہے۔
 
حضرت اسامہ کا واقعہ
اس ضمن میں کتب احادیث میں بعض واقعات بیان ہوئے ہیں جو انسانی جان کی اس حرمت اور تحفظ کا نہ صرف کھلا بیان ہیں جو ایک شخص کو قانونی طور پرایمان لانے کے بعد حاصل ہوجاتا ہے بلکہ اس میں اس غضب کا بھی بیان ہے جو اس اصول کی خلاف ورزی پر رحمت للعالمین نے ظاہر فرمایا۔ ہم صحیح بخاری و مسلم میں نقل ہونے والا ایک واقعہ نقل کررہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید کے صاحبزادے حضرت اسامہ کا ہے۔ حضرت زید اور ان کے بیٹے اسامہ حضور کو کتنے محبوب تھے یہ بات سیرت نبوی سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں، مگر پھر بھی اس واقعے میں حضور کا ردعمل ملاحظہ فرمائیے:
’’سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا۔ (۔۔۔دوران جنگ) میں نے ایک شخص کو پایا، اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا۔ میں نے برچھی سے اس کو ماردیا۔ اس کے بعد میرے دل میں وہم ہوا (کہ لا الٰہ الا اللہ کہنے پر مارنا درست نہ تھا) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا تھا اور تو نے اس کو مار ڈالا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس نے ہتھیار سے ڈر کرکہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا تاکہ تجھے معلوم ہوتا کہ اس کے دل نے یہ کلمہ کہا تھا یا نہیں؟ (مطلب یہ ہے کہ دل کا حال تجھے کہاں سے معلوم ہوا؟) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں اسی دن مسلمان ہوا ہوتا (تو اسلام لانے کے بعد ایسے گناہ میں مبتلا نہ ہوتا کیونکہ اسلام لانے سے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں)۔‘‘
اس واقعے سے متعلق دیگر روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کافر نے کئی مسلمانوں کو قتل کیا تھا اور قرائن سے واضح تھا کہ اس کافر نے حضرت اسامہ کی زد میں آجانے کے بعد صرف موت کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا۔ مگر پھر بھی آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ کے رسول کا ردعمل کیا تھا۔ بلکہ ایک دوسری روایت میں جو سب سے سنگین پہلو بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جب حضرت اسامہ نے حضور سے درخواست کی کہ آپ ان کی بخشش کی دعا کیجیے تو حضور دعا کرنے کے بجائے بار بار یہی کہتے رہے کہ ’’تم کیا جواب دو گے لا الٰہ الا اللہ کا جب وہ قیامت کے دن آئے گا؟‘‘۔ یہ ہے اللہ اور رسول کے نزدیک انسانی جان کی حرمت۔ اب جس کو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے اس پر فرض ہے کہ وہ انھی کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے انسانی جان اور خاص کر مسلمان کی جان، چاہے وہ مسلمان اس کی نظر میں منافق اور کافر ہی کیوں نہ ہو، کی حرمت کا پاس کرے۔ وگرنہ قیامت کے دن ایسے لوگ خدا کے حضور قاتلوں کے روپ میں پیش ہوں گے اور قاتلوں ہی کے انجام کو پہنچیں گے۔

مسلمان کی جان کی حرمت کے حوالے سے چند احادیث
 
یہ تو ایک واقعہ تھا، مگر انسانی اور خاص کر ایک مسلمان کی جان کی حرمت کے ضمن میں سرکار دوعالم رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد اارشادات ایسے ہیں جو آج ہر مسلمان اور خاص کر اسلام کا نام لے کر معصوم مسلمانوں کی قتل و غارتگری کا بازار گرم کرنے والوں اور ان کی درپردہ حمایت اور فکری پشت پناہی کرنے والوں کو سنانا شاید دین کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ اس ضمن میں چند ارشاداتِ نبوی جو صحیح بخاری سے لیے گئے ہیں،درج ذیل ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:
’’تمہارے (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں، اس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجہ) اور اس شہر (مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچادی؟ صحابہ نے (بیک آواز) عرض کیا: جی ہاں۔‘‘
اسی موقع پر آپ نے مزید ارشاد فرمایا:
’’دیکھو!میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔‘‘
’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔‘‘
’’جس نے ہم (مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
’’تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے۔ اسے کیا معلوم کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے اسے (ہتھیار کو)گرادے (یا چلادے) تو (مسلمانوں کو قتل کرنے کی وجہ سے) وہ جہنم کے ایک گڑھے میں جاگرے۔‘‘
’’جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا: اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔‘‘
 
پس نوشت
میں اس مضمون پر نظر ثانی سے فارغ ہوا ہی تھا کہ درۂ آدم خیل میں نماز جمعہ اور پشاور میں نماز عشا میں خود کش حملوں میں 100 سے زائد نمازیوں کی شہادت کے المناک واقعات پیش آئے۔ ہم کمزور و عاجز لوگ اور اس مقتل کے باسی اپنے ان معصوم اور بے گناہ بھائیوں کا مقدمہ اپنے پروردگار کے حضور پیش کرتے ہیں جنھیں خدا کے نام پر کھڑے لوگوں نے خدا کی عبادت کرتے وقت پورے شعور اور ارادے کے ساتھ مارا۔ ہم اس مقدمے میں صرف قاتلوں کو نہیں بلکہ اسلام کے نام پر کھڑے ان تمام صحافیوں، مذہبی سیاسی جماعتوں کے امرا اور خود کو علما اور اہل حق کہلوانے کے شوقین لوگوں کو بھی نامزد کرتے ہیں جن کے فتووں، تاویلوں اور درپردہ حمایت نے آج مسجدوں کو مقتل میں بدل دیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب تمام مقتولوں کو زندہ کیا جائے گا۔ وہ اذان و اقامت کہتے اور کلمہ پڑھتے ہوئے اللہ تعالی کے حضور پیش ہوں گے۔ قاتلوں اور ان کے حمایتیوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان بے گناہ کلمہ گو مسلمانوں کا مقدمہ خود آقائے دوجہاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کریں گے۔ پروردگار عالم قاتلوں اور ان کے حمایتیوں سے تو کوئی سوال نہیں کرے گا، البتہ معصوم و بے گناہ نمازیوں کو مخاطب کرکے ان سے ضرور پوچھا جائے گا کہ تمھیں کس جرم میں مارا گیا تھا؟
اس روز سب سے زیادہ بدنصیب وہ سفاک قاتل نہیں ہوگا جس نے خدا کے آگے سربسجود ہونے والوں کو ان کی لاعلمی میں خودکش حملوں کا نشانہ بنایا ہوگا، اس لیے کہ اسے تو صرف ان مقتولوں کا حساب دینا ہوگا جن کو اس نے قتل کیا تھا۔ اس روز اصل بدنصیب تو ان کے وہ حمایتی ہوں گے جن کو خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے ہر ہر مقتول کے مقدمے کے موقع پر بلایا جائے گا کیونکہ انھی کے فتووں، تاویلوں ،پردہ پوشی اور خاموش حمایت نے ان مظلوموں کے قتل کی راہ ہموار کی تھی۔ پھر قتل کے ہر جرم کا ایک حصہ ان کے نامۂ اعمال میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جب ان کی کوئی تاویل اور ان کی کوئی چالاکی ان کے کام نہ آئے گی۔ فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا۔
باقی رہے اس مقتل کے باسی تو وہ ہر ظالم اور ہر قاتل کے مقابلے میں صرف اپنے پروردگار کی پناہ چاہتے ہیں۔ اللھم انا نجعلک فی نحورھم و نعوذبک من شرورھم۔ اے اللہ! ہم ان کے مقابلے میں تجھ کو لاتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں، (صحیح الجامع 4706)۔

سوموار, دسمبر 01, 2014

آج کی بات۔۔۔ 01 دسمبر 2014



سب سے آسان کام دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے اور سب سے مشکل کام خود ذمہ داری قبول کرنا ہے۔

بدھ, نومبر 26, 2014

ہدایت

ہدایت

ہدایت بندوق کی گولی نہیں ہوتی جس سے دوسروں کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ روشنی ہوتی ہے جو دل سے پھوٹتی ہے اورسب سے پہلے ہمارے اپنے وجود کو منور کرتی ہے۔
 مگر ہم کبھی اس روشنی کو اپنے رب سے اپنے لیے نہیں مانگتے ۔ کبھی رسمی طور پر مانگ لیا تو اپنی شخصیت اور عادات ایسی نہیں بناتے کہ اس روشنی کے مستحق ٹھہریں ۔ہم اپنے تعصبات، گروہوں ، نظریات اور تصورات کے اسیر ہوتے ہیں اور انھی کو دوسروں پر ٹھونسنا چاہتے ہیں ۔
 سو نہ ہم نے ہدایت پانے کو اپنا مقصد بنایا نہ خود کو ہدایت پانے کے قابل بنایا۔ ہم پیغمبر تو ہیں نہیں کہ اللہ پاک ہم پر ہدایت بن مانگے اتار دے ۔ اس لیے ہمارے اندر اندھیرا رہتا ہے اور انھی اندھیروں کو ہم دوسروں میں بانٹتے ہیں ۔ 

منگل, نومبر 25, 2014

آج کی بات۔۔۔ 25 نومبر 2014



دوسروں کی ذندگیوں میں بے جا مداخلت سے آپ کو کچھ نہیں ملنے والا۔۔
یقین مانیے آپ کی اپنی ذندگی میں بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کی توجہ کا محتاج ہے۔

قیادت



ﺟﺐ ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺎﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .… ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﺜﺮﺕ  ﻣﻠﺖ ﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﮯ ﺗﻌﯿّﻦ ﮐﻮ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﺑنا ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .… ﻭﺣﺪﺕِ ﻣﻘﺼﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗو ﮐﺜﯿﺮﺍﻟﻤﻘﺼﺪﯾﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮨﯽ ﻣُﺒﮩﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

 ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ

اتوار, نومبر 23, 2014

صراحی سرنگوں ہو کر


جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانے

رشتے



زِندگی کی خُوبصُورتی رِشتوں سے ہے اور رِشتے تب ہی قائم رہتے ہیں جب ھم معاف کرنا اور درگزر کرنا سیکھ جاتے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم صرف ایک قیدی ہیں ان سماجی رسموں کے جو ہمیں ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرادینے پر مجبور کردیتی ہیں

ہفتہ, نومبر 22, 2014

خوشی اور غم



خوشی اور غم زندگی کی وہ کیفیات ہیں جو ہر انسان پریکے بعد دیگرے طاری ہوتی رہتی ہیں.
کوئی بھی انسان نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس جس طرح دن اور رات کا سلسلہ جاری و قائم رہے گااسی طرح جب تک یہ زندگی ہے ہر ذی حیات انسان کو کسی نہ کسی صورت خوشی اور غم کی کیفیات سے واسطہ بھی رہے گا
جس طرح نہ ہی ہر وقت دن رہتا ہے اور نہ ہی رات اسی طرح انسان بھی نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس....
یہ خوشی اور غم ہی ہے جوانسان کو اداسی یا مسرت سے دوچار کرتی رہتی ہے اب یہ انسان پر ہے کہ وہ ان دونوں کیفیات میں اپنی شخصیت کا توازن کس طرح برقرار رکھتا ہے سوگواریت کو اپنے اوپر طاری نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ پھر مایوسی کی علامت ہے۔

آج کی بات ۔۔۔ 22 نومبر 2014


اگر انسان اپنی انگلیوں کا استعمال اپنی ہی غلطیوں کو گننے کے لیے کرے، تو دوسروں پر انگلی اٹھانے کا وقت ہی نہ ملے۔

اتوار, نومبر 16, 2014

زندگی کی قوت



~~~ زندگی کی قوت ~~~

گھر کے آنگن میں ایک بیل اُگی ہوئی تھی.. مکان کی مرمت ہوئی تو وہ ملبہ کے نیچے دب گئی...آنگن کی صفائی کرواتے ہوئے مالک مکان نے اس بیل کو کٹوا دیا دور تک اس کی جڑیں بھی کھود کر نکال دی گئیں اس کے بعد صحن میں اینٹیں بچھا کر سیمنٹ سے پختہ کر دیا گیا...

کچھ عرصے بعد بیل کی سابق جگہ پر ایک نیا واقعہ ہوا پختہ اینٹیں ایک مقام پر ابھر آئیں... ایسا لگتا تھا کہ کسی نے دھکا لگا کر ان کو اٹھا دیا ہے کسی نے کہا کہ یہ چوہوں کی کاروائی ہے کسی نے کوئی اور قیاس کرنے کی کوشش کی آخر کار اینٹیں ہٹائی گئیں تو معلوم ہوا کہ بیل کا پودا اس کے نیچے مڑی ہوئی شکل میں موجود ہے...بیل کی کچھ جڑیں زمین کے نیچے رہ گئیں اب وہ اوپر آنے کے لیے زور کر رہی تھیں...

“یہ پتیاں اور انکھوے جن کو ہاتھ سے مسلا جائے تو آٹے کی طرح پِس جائیں ان کے اندر اتنی طاقت ہے کہ اینٹوں کے فرش کو توڑ کر اوپر آجائیں“.. مالک مکان نے کہا کہ میں ان کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتا اگر یہ بیل دوبارہ زندگی کا حق مانگ رہی ہے تو میں اسے زندگی کا حق دوں گا...چناچہ انہوں نے چند اینٹیں نکلوا کر اس کے لیے جگہ بنوا دی...

پہاڑ اپنی ساری وسعت اور عظمت کے ساتھ یہ طاقت نہیں رکھتا کہ ایک پتھر کے ٹکڑے کو ادھر سے ادھر کھسکا دے...مگر درخت کے ننھے سے پودے میں اتنا زور ہے کہ وہ پتھر کے فرش کو دھکیل کر باہر آجاتا ہے یہ طاقت اس کے اندر کہاں سے آئی .. اس کا سرچشمہ عالمِ فطرت کا وہ پر اسرار مظہر ہے جس کو زندگی کہا جاتا ہے...

زندگی اس کائنات کا حیرت آنگیز واقعہ ہے زندگی ایک ایسی طاقت ہے جس کو کوئی دبا نہیں سکتا اس کو کوئی ختم نہیں کرسکتا... اس کو پھیلنے اور بڑھنے کے حق سے کوئی محروم نہیں کرسکتا...

جب زندگی کی جڑیں کھود دی جاتیں ہیں اس وقت بھی وہ کہیں نہ کہیں اپنا وجود رکھتی ہے اور موقع پاتے ہی دوبارہ ظاہر ہوجاتی ہے جب ظاہری طور پر دیکھنے والے یقین کر لیتے ہیں کہ اس کا خاتمہ کیا جاچکا ہے اس وقت بھی وہ عین اس مقام سے اپنا سر نکال لیتی ہے جہاں اسے توڑا اور مسلا گیا ہو....

مولانا وحیدالدین خان...
رازِحیات...
صفحہ 30...

ہفتہ, نومبر 15, 2014

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی



نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا
سچا کسی کا خواب ہُوا یا نہیں ہُوا

بے داغ کوئی شکل نظر آئی یا نہیں
آئینہ بے نقاب ہُوا یا نہیں ہُوا

لائی گئیں کٹہرے میں کتنی عدالتیں
قانون لاجواب ہُوا یا نہیں ہُوا

جو آج تک کیا گیا احسان کی طرح
اس ظلم کا حساب ہُوا یا نہیں ہُوا

اُس کے بھی دل میں آگ لگی یا نہیں لگی
پتھر بھی آب آب ہُوا یا نہیں ہُوا

پڑھتی ہے جس کتاب کو صدیوں سے زندگی
ختم اس کا کوئی باب ہُوا یا نہیں ہُوا

قدر اہلِ روشنی کی بڑھی یا نہیں بڑھی
ذرہ بھی آفتاب ہُوا یا نہیں ہُوا

انسانیت سے رابطہ کرنے کے باب میں
انسان کامیاب ہُوا یا نہیں ہُوا

کلام: مظفر وارثی

آج کی بات ۔۔۔ 15 نومبر 2014




انسان کے اندر دو کمزوریاں بہت عام ہیں

بھلانے کے قابل باتوں کو 'یاد' رکھنا
اور یاد رکھنے کے قابل باتوں کو 'بھلا دینا'۔

نصیب



انسان دوسرے کی دولت کو دیکھ کر اپنے حالات پر اس قدر شرمندہ کیوں ہوتا ہے؟ یہ تقسیمِ تقدیر ہے۔ ہمارے لیے ہمارے ماں باپ ہی باعث تکریم ہیں، ہماری پہچان ہمارا اپنا چہرہ ہے، ہماری عاقبت ہمارے اپنے دین میں ہے، اسی طرح ہماری خوشیاں ہمارے اپنے حالات اور ماحول میں ہیں۔ مور کو مور کا مقدر ملا، کوے کو کوے کا۔ ہم یہ نہیں پہچان سکتے کہ فلاں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا اور ہمارے ساتھ ویسا کیوں ہوا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ 'اے رب العالمین آپ نے چھپکلی کو کیوں پیدا فرمایا؟'۔ اللہ نے جواب دیا: 'عجب بات ہے، ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی کہ اے رب! تم نے موسیٰ کو کیوں پیدا کیا؟ '۔

 بات وہی ہے کہ انسان اپنے نصیب پر راضی رہے تو اطمینان حاصل کرے گا۔ نصیب میں تقابلی جائزہ نا جائز ہے۔

واصف علی واصف از دل دریا سمندر

جمعہ, نومبر 14, 2014

بدھ, نومبر 12, 2014

تصویر کا چھوٹا سا ٹکڑا



قدیم چینی دور کی کہانی ہے ۔ کہتے ہیں کسی گاؤں میں ایک بوڑھا اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ رہتا تھا۔ پرانا سا ایک مکان تھا، ایک کمرے میں باپ بیٹا رہتے ، دوسرے کمرے کو اصطبل بنایا ہوا تھا، وہاں ان کا گھوڑا رہتا ہے ۔ یہ گھوڑا بڑا شاندار اور نہایت اعلیٰ نسل کا تھا۔ بہت پہلے بوڑھے کسان کے ہاتھ ایک گھوڑے کا بچہ لگا، اس نے باپ کی طرح اسے پالا ۔ بڑا ہو کر اس گھوڑے کی خوبصورتی کی دھوم مچ گئی۔ دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے ۔ گاؤں کے رئیس نے اسے دیکھا تو پہلی نظر میں فریفتہ ہو گیا، اس نے بوڑھے کو بلا کر منہ مانگی قیمت کی پیش کش کی۔ کسان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھوڑا نہیں ، میرا بیٹا ہے ، اپنی اولاد کو کوئی فروخت نہیں کرتا۔اور بھی لوگوں نے خریدنے کی کوشش کی ، سب ناکام رہے ۔ گاؤں کے کچھ سمجھدار لوگوں نے بوڑھے کو سمجھایا کہ تم غریب آدمی ہو، ایسے اعلیٰ گھوڑے کو کتنی دیر تک سنبھال کر رکھ لو گے ، اچھی قیمت مل رہی ہے ، بیچ ڈالو، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی یہ گھوڑا چرا کر لے جائے ۔ ایسے ہر مشورے کے جواب میں وہ بابا جی مسکرا دیتے اور بس، بات ختم ہوجاتی۔

ایک دن بوڑھا کسان اور اس کا بیٹا حسب معمول صبح اٹھے تو دیکھا کہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا اور گھوڑا غائب ہے ۔ پریشان ہو کر آس پاس دیکھا، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ بستی والوں کو پتہ چلا تو وہ افسوس کرنے آئے ۔ جن لوگوں نے گھوڑا بیچنے کا مشورہ دیا تھا، انہوں نے فٹ سے طعنہ دیا کہ تمہیں سمجھایا تو تھا کہ گھوڑا بیچ دو ، اس وقت نہیں مانے ۔ اب تمہاری بدقسمتی کہ بغیر کچھ لئے گھوڑا گنوا بیٹھے ۔ کسان یہ سب باتیں سنتا رہا، پھر بڑے اطمینان سے بولا، بھائیو، تمہاری بڑی مہربانی کہ میرے پاس آئے ، اپنی ہمدردی کا اظہار کیا، مگر مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اس میں بدقسمتی کہاں سے آ گئی۔ یہ درست ہے کہ میرے پاس گھوڑا تھا، جو مجھے اپنی اولاد کی طرح عزیز تھا، آج صبح وہ گھوڑا اپنے کمرے سے غائب ہے ۔ اس حد تک تو یہ بات درست ہے، مگر اس کے بارے میں ابھی سے یہ کیسے طے کر لیا گیا کہ یہ بدقسمتی ہے ؟ گاؤں والے بڑے حیران ہوئے ، آپس میں کہنے لگے کہ شائد صدمے کی وجہ سے بابے کا دماغ چل گیا ہے ، یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہزاروں کی مالیت کا گھوڑا چوری ہو گیا۔ بڑبڑاتے ہوئے سب لوگ واپس چلے گئے ۔ دو تین دن بعد اچانک وہ گھوڑا واپس آ گیا، اپنے ساتھ وہ جنگل سے صحت مند، اعلیٰ نسل کے اکیس نوجوان گھوڑے بھی لے آیا۔ گاؤں میں دھوم مچ گئی۔ لوگ آ کر بوڑھے کو مبارکبادیں دینے لگے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے اس روز غلط بات کی تھی، گھوڑے کا چلا جانا بدقسمتی نہیں تھی، اصل میں توتمہاری خوش قسمتی تھی، آج پورے اکیس گھوڑے تمہارے گھر آ گئے ۔ کسان نے حیرت سے یہ سب تبصرے سنے اور پھر کہا، بھائیوِ، مجھے ایک بار پھر تمہاری باتوں کی سمجھ نہیں آئی، میرا گھوڑا واپس آ گیا، یہ درست ہے کہ وہ اکیس گھوڑ ے لے آیا ہے ، مگر اس میں خوش قسمتی کی کیا بات ہے ؟

گاؤں والے یہ سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔ چند دن گزرگئے ، کسان کا بیٹا ان جنگلی گھوڑوں کو سدھانے کی کوششوں میں مصروف تھا، ایک دن ایک سرکش گھوڑے نے اسے ایسی پٹخنی دی کہ اس کی ٹانگ ہی ٹوٹ گئی، طبیب نے دیکھا بھالا اور تین مہینوں کے لئے بستر پر آرام کی ہدایت کی۔ ایک بار پھر گاؤں امنڈ آیا۔ ہر ایک نے بوڑھے کے ساتھ ہمدردی کی۔ چند ایک نے صاف گوئی کے ساتھ اعتراف کیا کہ باباجی آپ ہی ٹھیک تھے ، ان اکیس گھوڑوں کا آنا خوش قسمتی نہیں بلکہ درحقیقت بدقسمتی کا اشارہ تھا۔ آپ کا اکلوتا سہارا ، نوجوان بیٹا زخمی ہو گیا، نجانے اس کی ٹانگ درست طور پر جڑ تی بھی ہے یا نہیں ، آپ بوڑھے بندے ہو، تمام کام کاج بیٹا کرتا تھا، اب مشکل ہو گی، آپ کی قسمت خراب ہے کہ ایسا ہو گیا۔ بوڑھے کسان نے یہ سن کر ٹھنڈی سانس بھری اور قدرے جھنجھلاہٹ کے ساتھ کہا ، یارو ہر واقعے میں خوش قسمتی یا بدقسمتی نہ ڈھونڈ لیا کرو، جو بات جتنی ہے ، اتنی ہی بیان کرو، اتنی قطعیت سے کوئی فیصلہ کن رائے نہ دیا کرو، میرا بیٹا گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھا، اس حد تک تو تمہاری بات درست ہے ، باقی خوش قسمتی یا بدقسمتی کا حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے ، قدرت ہی اس کے بارے میں بہتر جانتی ہے ۔

دو تین ہفتے گزرے ، اچانک ہی جنگ چھڑ گئی، قریبی ملک کی فوج نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے جبری بھرتی کا حکم دیا۔ ریاستی اہلکار دوسرے دیہات کی طرح اس گاؤں میں بھی آئے اور بوڑھے کسان کے زخمی بیٹے کے سوا ہر نوجوان کو پکڑ کر لے گئے ۔ گاؤں والے روتے پیٹتے بابے کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں بےوقوف سمجھتے تھے ، تم تو ہم سب سے زیادہ سیانے نکلے ۔ واقعی تمہارے بیٹے کا حادثہ بدقسمتی نہیں تھا۔ سچ پوچھو تو تمہاری انتہائی خوش قسمتی تھی، ہم سب کے بیٹے جنگ لڑنے چلے گئے ، معلوم نہیں واپس لوٹتے بھی ہیں یا نہیں ، تمہارا بیٹا تو چلو تین چار ماہ میں ٹھیک ہوجائے گا۔ بوڑھے کسان کے پاس سوائے سر پیٹنے کے کوئی چارہ نہیں تھا، بے چارگی سے اس نے کہا، بھائیو اگر تم لوگ اصل بات کو سمجھ لیتے تو کبھی اتنا پریشان نہیں ہوتے ۔ ہم سب بہت جلدی کسی واقعے پر خوش قسمتی ، بدقسمتی کا لیبل لگا دیتے ہیں ، حالانکہ یہ سب تصویر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں ، ہم میں سے کسی کے پاس مکمل تصویر نہیں ، تصویر کا ایک ٹکڑا ہی ہوتا ہے ۔ اسی ٹکڑے کو ہم مکمل تصویر سمجھ لیتے ہیں ۔ ایک ٹکڑا کبھی تصویر کو درست طریقے سے بیان نہیں کر سکتا، اس کے رنگ تک نہیں بتا سکتا۔ ہمیں حتمی رائے دینے کے بجائے انتظار کرنا چاہیے ، جو واقعہ ہوا ہے ، اسے اتنا ہی سمجھنا اور ماننا چاہیے ۔

اقتباس از کالم محمد عامر خاکوانی

منگل, نومبر 11, 2014

آج کی بات ۔۔۔ 11 نومبر 2014



"آپ اپنا کام کرتے جائیں، وقت آپ کے لیے دوستیاں اور محبتیں خود پیدا کر لے گا"

جمعرات, اکتوبر 30, 2014

آج کی بات۔۔۔ 30 اکتوبر 2014



برے کام اس لیے برے نہیں ہوتے کہ وہ منع ہوتے ہیں۔۔ بلکہ اس لیے کہ ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے!!

بدھ, اکتوبر 29, 2014

طوفان اور مزار


طوفان اور مزار
 (نوٹ یہ مضمون 2010 کے طوفان کے موقع پر لکھا گیا تھا)

بحیرہ عرب میں پیدا ہونے والا پیٹ (Phet) نامی طوفان 6 جون کی رات سندھ کے ساحلی شہر بھنبھور سے ٹکراکر ختم ہوگیا۔ ابتدا میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ طوفان کراچی اور اس کے مضافات سے ٹکرائے گا۔ تاہم مسقط اور گوادر میں تباہی مچانے والا یہ طوفان جو ابتدا میں کیٹگری 3 کا ایک طوفان تھا، پہلے کیٹگری 1 کے ہلکے طوفان میں بدلا اور پھر ہوا کا رخ آخری وقت میں بدلنے کے باعث کراچی سے ٹکرائے بغیر گزر گیا۔ کراچی شہر پر اس کا اثر صرف اتنا ہوا کہ طوفان سے قبل یہاں وقفے وقفے سے تیز بارش ہوئی۔ تاہم طوفان اس شہر سے کنارہ کرکے گزر گیا اور اس کا زیادہ تر نزلہ حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کے دیگر شہروں پر گرا۔

شہر کراچی جو اس طرح کی کسی ناگہانی کو جھیلنے کے لیے آخری درجہ میں ایک ناتواں شہر ہے، تمام تر توقعات کے برخلاف حیرت انگیز طور پر اس پوری آفت سے محفوظ رہا۔ گرچہ تھوڑی بہت بارش بھی اس شہر میں نو انسانی جانوں کا نقصان کرگئی لیکن اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر یہ شہر طوفان کا براہِ راست نشانہ بن جاتا تو یہاں کس درجے کی تباہی آتی۔

کراچی ایک ساحلی شہر ہونے کے باوجود اکثر طوفانوں سے بچا رہتا ہے۔ عوام الناس میں اس حوالے سے یہ چیز مشہور ہے کہ اس شہر کے تمام ساحلی علاقوں پر بعض بزرگوں کے مزارات ہیں جو اس شہر کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ تصورات ایک ایسی قوم میں پھیلے ہوئے ہیں جو حاملِ قرآنِ عظیم ہے۔ قرآنِ مجید اس یاددہانی سے بھرا ہوا ہے کہ اللہ کے سوا انسانوں کا نہ کوئی مددگار ہے اور نہ کوئی اور حامی و ناصر اور محافظ۔ اس کا کوئی نیک بندہ کبھی اپنے آپ کو اس حیثیت میں پیش نہیں کرسکتا۔ یہ صرف شیطان ہے جو لوگوں کے ذہن میں مشرکانہ اوہام پیدا کرتا رہتا ہے۔

حالیہ طوفان پیٹ نے قرآنِ مجید کی اس بات کو ایک عجیب انداز سے ثابت کیا ہے۔ کراچی کے متعلق چونکہ ابتدا سے یہ بات معلوم تھی کہ یہ شہر اس طوفان کا متوقع نشانہ بنے گا، اس لیے یہاں رہنے والے صلحا اللہ تعالیٰ سے مسلسل عافیت کی دعا کررہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سن لی اور نسبتاً کم اور خوشگوار بارش کے ساتھ یہ معاملہ ٹل گیا۔ تاہم اس کے ساتھ ایک اور واقعہ بھی ہوا۔ ساحلِ سمندر پر واقع ایک معروف بزرگ کے مزار کے احاطے میں واقع لنگر خانے کی دیوار گرگئی جس کے نتیجے میں 9 زائرین زخمی ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاموش پیغام تھا۔ وہ یہ کہ انسانوں کی پناہ اور عافیت صرف ایک ہستی کے ہاتھ میں ہے، وہ تنہا اللہ کی اپنی ذات ہے۔ اس کے علاوہ کوئی انسان اپنا تحفظ کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتا تو دوسروں کی کیا حفاظت کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسانوں کا ایک ہی حامی و ناصر ہے۔ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے اور ہر کسی کو زندگی دیتا ہے۔ وہ ہر کسی کا سہارا ہے اور ہر شے کو تھامے ہوئے ہے۔ ہر چیز اس کی ملکیت ہے اور اسے ہر چیز کا مکمل علم رہتا ہے۔ تمام طاقت اور اقتدار کا مالک۔ اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ وہ مخلوق کی حفاظت سے لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں تھکتا۔ مخلوق تمام تر اس کی محتاج ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کے کسی فیصلے میں مداخلت کرسکے۔ اس کے حضور اپنی بات پیش کرنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ عاجزی، پستی اور اس کی بڑائی کا اعتراف۔

اللہ کے نیک بندے اس بات کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ ہر مشکل میں اللہ کی طرف گڑگڑاکر رجوع کرتے ہیں۔ اس کے حضور عاجزی اور منت سماجت کے ساتھ فریاد کرتے ہیں۔ خدا کی رحمت ایسے ہی بندوں کی طرف متوجہ ہوتی اور ان کی سمت بڑھنے والے ہر طوفان کا رُخ موڑ دیتی ہے۔ چاہے یہ طوفان ان کی اجتماعی زندگی میں آرہا ہو یا ان کی انفرادی زندگی میں۔

اس کے برعکس جو لوگ غیر اللہ میں جیتے ہیں، وہ سرابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ عنقریب وہ جان لیں گے کہ ان کے حصے میں صحرا کی پیاس کے سوا کچھ نہیں آیا۔
 
ابو یحیٰیٰ

منگل, اکتوبر 28, 2014

عالم اور اعتماد



عالم اور اعتماد
 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

ایک عالم اور محقق وہ شخص ہوتا ہے جو علم کی روایت کے تمام پہلوؤں سے واقف ہوتا ہے اور پھر کسی معاملے میں اپنے فہم کے مطابق ایک رائے قائم کرتا ہے۔ عالم کا علم اور تحقیق اسے اس بات کا حقدار بناتے ہیں کہ وہ اپنی بات پورے اعتماد کے ساتھ بیان کرے اور دوسرے اہل علم کی غلطی کو واضح کرے ۔ یہ ایک عالم کا حق ہے جو اس سے چھینا نہیں جا سکتا۔ مگر اس سے جو توقع کی جا سکتی ہے وہ  یہ کہ وہ کسی دوسرے کے نیت پر حملہ نہ کرے ، ان کا تمسخر نہ اڑائے اور اس بات کے لیے تیار رہے کہ اس کی غلطی اگر اس پر واضح کر دی جائے تو وہ اپنی رائے سے رجوع کر لے گا۔ معاملات اگر یوں رہیں تو کبھی تعصب پھیلے گا نہ فرقہ واریت وجود میں آئے گی۔

خرابی اس وقت ہوتی ہے جب وہ لوگ کسی معاشرے میں عالم بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو علم کے صرف ایک پہلو سے واقف ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے علاوہ کسی اور نقطہ نظر کو سنجیدگی اور کھلے دل سے پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ درحقیقت جن بزرگوں کے نام پر وہ کھڑے ہوتے ہیں وہ ان کی علمی وراثت اور استدلال سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔

ایسے لوگ عملی زندگی میں اتر کر کبھی کسی دوسرے کانقطہ نظر نہیں سمجھ سکتے ۔ اگر کبھی دوسروں کی بات سننا بھی پڑے تو ہمدردری سے سمجھنا تو دور کی بات ہے وہ سنتے ہوئے بھی بات کا جواب سوچتے رہتے ہیں ۔ یہی یکطرفہ علم بلکہ کم ترین علم کے حاملین پھر فروعی اور جزوی اختلاف کی بنیاد پر دوسرے اہل علم کی نیت بلکہ ایمان کا فیصلہ کر دیتے ہیں ۔

یہی پہلے اور دوسرے گرہ کا حقیقی فرق ہے ۔ پہلا گروہ صاحبان علم کا ہوتا ہے جو علم کی پوری روایت سے واقف ہوتے ہیں ۔ دوسرا گروہ علم کی روایت سے تو کیا اپنے بزرگوں کی علمی روایت سے بھی واقف نہیں ہوتا۔ پہلا گروہ اگر پورے اعتماد سے کسی چیز کی تردید کر رہا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے ان کی علم اور تحقیق ہوتی ہے ۔ دوسرا گروہ جب پورے اعتماد سے کسی کی تردید کرتا ہے تو اس کے پیچھے گروہی عصبیت کارفرما ہوتی ہے ۔ پہلا گروہ ایک نئی اور مختلف بات کو بھی ہمیشہ توجہ سے سنتا ہے کہ وہ پہلے ہی علم کی روایت میں بہت سے نئی اور مختلف باتوں سے واقف ہوتا ہے ۔ دوسرا گروہ ایک نئی اور مختلف بات سنتے ہی متوحش ہوجا تا ہے کہ اس نے ساری زندگی اپنے نقطہ نظر کے علاوہ کوئی دوسری بات سنی ہی نہیں ہوتی۔

پہلا گروہ بھی گرچہ اپنی رائے کے دفاع کے لیے تیار رہتا ہے ، مگر جانتا ہے کہ اس کی رائے غلط ہو سکتی ہے ۔ جبکہ دوسرا گروہ اپنی رائے کو آخری حق سمجھ کر دفاع کرتا ہے ۔ پہلا گروہ انسانی علم اور فہم کی محدودیت کا شکار ہوکر غلطی کرسکتا ہے ، مگر واضح دلیل آنے پر اپنی رائے سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے ۔ دوسرا گروہ خود کو نبی اور رسول کے مقام پر سمجھتا ہے اور اپنے فہم کو وحی الٰہی خیال کر کے کسی ترمیم و تبدیلی کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنا دیتا ہے ۔

ایک عام آدمی کے سامنے دونوں گروہوں کے لوگ بظاہر دین کے نمائندوں کے طور پر آتے ہیں ۔ مگر یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ دو طرح کے لوگوں میں فرق کرنا سیکھے ۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ لہجے کے اعتماد سے دھوکہ نہ کھائے ۔ بلند و بالا دعووں سے مرعوب نہ ہو۔ وہ سوال کرے اور جواب چاہے ۔ وہ دریافت کرے اور دلیل مانگے ۔ علما کو انسان سمجھے ، نبی نہ بنائے ۔

اس دنیا میں عالم اور عامی دونوں امتحان میں ہیں ۔ عالم کا امتحان یہ ہے کہ علم کے تمام پہلوؤں سے ابتدائی واقفیت سے قبل کلام نہ کرے اور غلطی واضح ہوجانے پر اپنی رائے سے رجوع  کر لے ۔ عامی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دونوں فریقوں میں فرق کرنا سیکھے اور علما کو نبی اور ان کی آراء کو ایمانیات نہ بنائے ۔ وہ دوسرے اہل علم کو بدنام کرنے کی مہم نہ چلائے ۔

علم روشنی ہے جو نظر آ جاتا ہے ۔ شرط یہ ہے کہ تعصبات کی عینک اتار کر دیکھا جائے ۔

اب سمجھ میں آتا ہے



اب سمجھ میں آتا ہے


پیار کی کہانی میں
کس جگہ ٹھہرنا تھا؟
کس سے بات کرنا تھی؟
کس کے ساتھ چلنا تھا؟
کون سے وہ وعدے تھے
جن پہ جان دینا تھی؟
کس جگہ بکھرنا تھا؟
کس جگہ مکرنا تھا؟
کس نے اس کہانی میں
کتنی دور چلنا تھا؟
کس نے چڑھتے سورج کے
ساتھ ساتھ ڈھلنا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے

اُس نے جو کہا تھا سب
ہم نے جو سنا تھا تب
کس طرح ہلے تھے لب
کس طرح کٹی تھی شب
ہم نے ان سنی کر دی
بات جو ضروری تھی
کس قدرمکمل اور
کس قدر ادھوری تھی
وہ جو اک اشارہ تھا
ذکر جو ہمارا تھا
وہ جو اک کنایہ تھا
جو سمجھ نہ آیا تھا
اب سمجھ میں آتا ہے

جان کے ہی دشمن تھے
جان سے جو پیارے تھے
ہم جہاں پہ جیتے تھے
اصل میں تو ہارے تھے
راہ جس کو سمجھے ہم
راستہ نہیں تھا وہ
واسطہ دیا جس کو
واسطہ نہیں تھا وہ
کس نے رد کیا ہم کو؟
کس نے کیوں بلایا تھا؟
جس کو اتنا سمجھے ہم
کیوں سمجھ نہ آیا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے

اب سمجھ میں آیا جب
زندگی اکارت ہے
دیر سے سمجھ آئی
ایسی اک بجھارت ہے
زندگی کے بھیدوں کو
ہم نے اب سمجھنا تھا
تب سمجھ بھی آتی تو
ہم نے کب سمجھنا تھا
آنکھ جب پگھل جائے
اور شام ڈھل جائے
زندگی کی مٹھی سے
ریت جب نکل جائے
بھید اپنے جیون کا
تب سمجھ میں آتا ہے
سب سمجھ میں آتا ہے

رضی الدین رضی

منگل, اکتوبر 21, 2014

سچ



سچ تین مرحلوں سے گزرتا ھے۔

پہلے مرحلے میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ھے،
دوسرے مرحلے اسکی متشدد طریقے سے مخالفت کی جاتی ھے،
اور تیسرے مرحلے میں اسے یوں تسلیم کر لیا جاتا ھے،جیسے اس سچائی کو کبھی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

جمعہ, اکتوبر 17, 2014

مثبت شخصیت کی تعمیر



انسان کے ذہن کے دو بڑے خانے ہیں ایک شعوری ذہن ... دوسرا لاشعوری ذہن .. جب بھی کوئی بات انسان کے ذہن میں آتی ہے تو پہلے وہ اس کے ذہن کے شعور کے خانے میں آتی ہے اس کے بعد دھیرے دھیرے آگے بڑھ کر اس کے لاشعور کے خانے میں چلی جاتی ہے...

لاشعور انسانی ذہن کا وہ خانہ ہے جہاں ہر بات دوامی طور پر موجود رہتی ہے مگر وہ آدمی کے شعور کی گرفت میں نہیں رہتی.. جو آدمی پھول والی شخصیت بننا چاہے اس کو یہ کرنا ہوگا کہ جب بھی کوئی منفی آئٹم اس کے شعوری ذہن میں آئے تو اسی وقت اپنے ذہن کو متحرک کر کے اس منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے...

تاکہ جب آگے بڑھ کر یہ آئٹم آدمی کے لاشعور کے اسٹور میں محفوظ ہو تو وہاں وہ مثبت آئٹم کے طور پر محفوظ ہو نہ کہ منفی آئٹم کے طور پر...

مثلاً کوئی بات اس کے شعور میں نفرت کے احساس کے طور پر آئے تو وہ اس کو diffuse کر کے محبت کے احساس میں تبدیل کرے...کوئی بات حسد کے احساس کے طور پر اس کے دماغ میں آئے تو وہ اس کو اعتراف کے احساس میں تبدیل کرلے..

کوئی بات پر اس کا ایگو (ego) بھڑکے تو وہ اس کو تواضع کا احساس دے دے..کوئی تجربہ اس کے اندر خودغرضی کا احساس پیدا کرے تو وہ اس کو بدل کر بےغرضی کا احساس بنا دے...کسی واقعے میں اپنی حق تلفی دکھائی دے تو اس کو وہ بدل کر شکر کے احساس میں ڈھال لے...

جو عورت یا مرد اپنے اندر اس طرح کی شخصیت تعمیر کریں تو ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے شعور کا سٹور مکمل طور پر مثبت آئٹم کا خزانہ بن جائے گا جو منفی آئٹم سے پوری طرح خالی ہوگا...

مولانا وحیدالدین...
انسان کی منزل...
صفحہ 54...

جمعرات, اکتوبر 16, 2014

اپنی زمین



اپنی زمین
(ابویحییٰ)

یہ تیسری ملاقا ت تھی۔ پہلی دو ملاقاتوں میں وہ اس بات پر قائل ہوچکے تھے کہ حالات گرچہ بہت پریشان کن اور خراب ہیں، لیکن انہی حالات میں بڑابڑی خیر، عافیت اور آسانی بھی پائی جاتی ہے۔ خاص کر کسی شخص کا اصل مقصود اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہو تو یہی بہترین حالات ہیں۔ مگر اب ایک اور مسئلہ آگیا۔ یہ مسئلہ مختصراً انہی کی زبانی سنیے۔
’امریکہ افغانستان میں بیٹھا ہے اور ہم پر ڈرون حملے کررہا ہے۔ حکومت میں سارے کرپٹ لوگ ہیں۔ سیاستدان مخلص نہیں۔ اصلاح کیسے ہوگی؟ کام کیسے شروع ہوگا، کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘
میں نے جواب میں عرض کیا۔ آپ کو معلوم ہے ملک میں ہزاروں لاکھوں ٹن فصلیں کیسے پیدا ہوتی ہیں۔۔۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ہر کسان اپنے حصے کی زمین پر محنت کرکے فصل بوتا ہے۔ زمین کم ہو یا زیادہ ہر کسان کی سار ی توجہ اپنی زمین کی طرف ہوتی ہے۔ اگر کسان اپنی زمین پر کام چھوڑ کر بنجر زمینوں کا رونا رونے لگے تو پھر کوئی فصل بھی پیدا نہیں ہوگی۔
ٹھیک اسی طرح آپ کا مسئلہ، آپ کی اپنی ذات ہے، آپ کے اردگرد کے قریبی لوگ ہیں۔ کام یہاں ہونا ہے۔ اصلاح یہاں سے ہونی ہے۔ یہ سوچنے میں وقت ضائع نہ کریں کہ دوسرے اپنے دائرۂ عمل میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے۔ یہ دیکھیے کہ آپ اپنے دائرے میں اپنا کام کررہے ہیں یا نہیں۔ آپ کام کررہے ہیں تو یہ سب سے بڑا کا م ہے نہ کہ دوسر ے لوگوں کی بدعملی اور بے عملی دیکھ کر جلتے اور کڑھتے رہنا۔
ہم سب مل کر جب اپنی اپنی زمین پر کام کریں گے تو پھر ساری زمین کی اصلاح ہوجائے گی۔ دوسری صورت میں نہ آپ کی اصلاح ہوگی نہ آپ کے قریبی ماحول کی اورنہ دوسروں کی۔
میں خوش نصیب تھا۔ میری یہ بات بھی ان کی سمجھ میں آگئی

بدھ, اکتوبر 15, 2014

احسان کی رسی


احسان کی رسی
-------------------
" ایک شخص اپنی پالتو بکری کے ساتھ جا رہا تھا۔۔۔۔ اس نے بکری کی رسّی بھی نہیں پکڑی ہوئی تھی۔ کسی نے اس سے کہا:"حیرت ہے، یہ بکری کیوں تمھارے پیچھے آرہی ہے۔۔۔۔ حالانکہ تم نے اس کی رسی بھی نہیں پکڑ رکھی۔"

یہ سن کر بکری والے نے کہا: "یہ میرے پیچھے اس لئے آرہی ہے کہ یہ احسان کی رسی سے بندھی ہوئی ہے جو آپ کو نظر نہیں آرہی۔ جب بکری بھوکی ہوتی ہے تو میں اسے کھلاتا ہوں۔۔۔ جب یہ پیاسی ہوتی ہے تو میں اسے پلاتا ہوں۔۔۔۔ جب اس کا بدن میلا ہو جاتا ہے تو میں اسے نہلاتا ہوں۔۔۔ اسے چھاؤں میں باندھتا ہوں۔ اسے گرمی سردی سے بچاتا ہوں۔۔۔ غرض اس کا ہر طرح خیال رکھتا ہوں۔۔۔ یہ میرا اس پر احسان۔۔۔۔ اسے میرے احسانوں کی رسی نے باندھ رکھا ہے۔"

یہ سُن کر دوسرے آدمی نے ایک سرد آہ بھری اور بولا: "اللہ تعالٰی کے بھی ہم پر ان گنت احسانات ہیں۔۔۔۔ اس کے احسانوں کی رسی نے ہمیں بھی تو باندھ رکھا ہے۔۔۔ لیکن ہائے افسوس۔۔۔ ہم تو اس کے احکامات کے پیچھے نہیں چلتے۔۔۔ ہم تو سرکشی پر اُترے ہوئے ہیں۔"

ہفتہ, اکتوبر 11, 2014

آج کی بات ۔۔۔ 11 اکتوبر 2014



اگر راستہ خوبصورت ہے تو معلوم کیجئے کہ کس منزل کو جاتا ہے
اگر منزل خوبصورت ہو تو راستہ کی پرواہ مت کیجئے

کیونکہ خوبصورت منزل مل جانے پر راستہ کی دُشواریوں کا احساس ختم ہو جاتا ہے
لیکن منزل خوبصورت نہ ہو تو آدمی کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہ جاتا

ہفتہ, اکتوبر 04, 2014

قربانی : سوچنے کی کچھ باتیں


قربانی : سوچنے کی کچھ باتیں
(Abu Yahya ابویحییٰ﴿

عید الاضحٰی کی آمد آمد ہے۔ ہر سال اس موقع پر قربانی کے جانوروں کی بہار آتی ہے۔ ہر گھر میں اِسی بات کا تذکرہ ہوتا ہے کہ گائے خریدی جائے، بکرا لیا جائے یا کہیں حصہ ڈال دیا جائے۔ جہاں قربانی کے جانور آجاتے ہیں وہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں کہ کس کا جانور زیادہ اچھا اور قیمتی ہے۔ جو لوگ مہنگے جانور خرید کر لاتے ہیں وہ بڑے فخر سے اپنے جانوروں کی نمائش کرتے ہیں۔ جبکہ کمزور جانوروں کے مالک ان کی قیمت زیادہ بتا کر اپنا بھرم رکھتے ہیں۔ غرض مقابلہ بازی کی اک فضا ہر جگہ طاری ہوجاتی ہے۔جو لوگ قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ان کا غم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس مقابلے سے کیوں باہر ہیں۔ یا پھر یہ کہ اِس موقع پر’گوشت‘ کی خود کفالت میں وہ دوسروں کے محتاج ہوں گے۔

جانوروں کی خریداری کے بعد گھر کے مردوں کی اگلی فکر قصائی کی تلاش اور قربانی کے دن اُس کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ خواتین کے سامنے قربانی کے بعد گوشت کی جمع وتقسیم اور پھر اُس کے پکانے کے تھکا دینے والے مراحل ہوتے ہیں۔ بچے جانوروں کو گھمانے اور کِھلانے پلانے میں مگن رہتے ہیں۔ ان کے اس شوق کا منتہائے کمال عید کے دن ذبح ہوتے جانوروں کا نظارہ ہے۔ غرض یہ کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر دینِ اسلام کی یہ عظیم عبادت لوگوں میں اگر کسی پہلو سے اہم ہے تو وہ محض ’جانور‘ اور اُن کے’ گوشت‘ کے حوالے سے ہے۔ دین کے حوالے سے اگر کوئی چیز زیرِ بحث آتی بھی ہے تو وہ قربانی کی عبادت کا تاریخی پس منظر اور اُس کے فقہی مسائل ہیں۔

دینِ اسلام میں قربانی کی حیثیت ایک عبادت کی ہے۔ اور دینِ خداوندی میں عبادات کی حقیقت یہ ہے اُن کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق کی یاد دہانی حاصل کرتا ہے۔ چنانچہ قربانی کی یہ عبادت بندہ اور اُس کے رب کے درمیان تعلق کا وہ مظہر ہے جسے سرِ عنوان بنا کر وہ اپنے مالک کی خدمت میں اپنا یہ پیام بندگی بھیجتا ہے۔

’’اے پروردگار! آج میں ایک جانور تیرے نام پر ذبح کررہا ہوں، اگر تیرا حکم ہوا تو میں اپنی جان بھی اِسی طرح تیرے حضور میں پیش کردوں گا۔‘‘

دراصل اِس دنیا میں بدنی اور مالی عبادات کے مواقع نماز و انفاق وغیرہ کی صورت میں کثرت سے سامنے آتے رہتے ہیں، جن سے ہم اپنے پروردگا کے ساتھ اپنے تعلق کی یاد دہانی حاصل کرتے اور اُسے زندہ کرتے ہیں، تاہم خدا کے لیے جان دے دینا ’اسلام‘ (یعنی اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردینے) کا سب سے بلند مقام ہے اور اس کے مواقع شاذ ہی زندگی میں آتے ہیں۔ اِس لیے قربانی کی یہ عبادت اُس کے علامتی اظہار کے طور پر مقرر کی گئی ہے۔ گویا ایک بندۂ مومن اِس عظیم عبادت کے ذریعے اپنے رب کے سامنے یہ اقرار کرتا ہے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب تیرے لیے ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی مشروع کی ہے تا کہ اللہ نے اُن کو جو چوپائے بخشے ہیں، اُن پر وہ (ذبح کرتے ہوئے) اُس کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے چنانچہ تم اپنے آپ کو اُسی کے حوالے کردو۔ اور خوشخبری دو اُن لوگوں کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔‘‘ (الحج ۲۲:۳۴)

یہ آیت بتاتی ہے کہ قربانی کی عبادت اپنی جان کو اپنے معبود کی نذر کردینے کا علامتی اظہار ہے۔ اس کے ذریعے سے بندہ اپنے وجود کو آخری درجہ میں اپنے آقا کے حوالے کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ بندہ مومن کے یہ جذبات اس کے مالک تک پہنچ جاتے ہیں۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ابدی رحمتوں کے لیے چن لیتا ہے۔ مزید براں دنیا میں بھی وہ ان جانوروں کا گوشت انہیں کھانے کی اجازت دے کر انہیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اپنی جان مجھے دے کر بھی تم مجھے کچھ نہیں دیتے۔ بلکہ دینے والا میں ہی رہتا ہوں۔ یہ گوشت کھاؤ اور یاد رکھو کہ مجھ سے سودا کرنے والا دنیا و آخرت دونوں میں نقصان نہیں اٹھاتا۔

ایک طرف قربانی کی یہ عظیم عبادت اور اس میں پوشیدہ قربت رب کی یہ حکمت ہے اور دوسری طرف ہمارا وہ طرزِ عمل ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا جاچکا ہے۔ جس میں ایک عام آدمی کا ذہن کبھی بھولے سے بھی قربانی کی اِس حقیقت کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ ریاکاری اور نمود و نمائش کا وہ شائبہ تعلق باللہ کی یاد دہانی کی اِس عظیم عبادت میں اِس طرح شامل ہوجاتا ہے کہ جس کے بعد لینے کے دینے پڑجاتے ہیں۔ قربانی کے ذریعے اپنی بندگی کا اظہار تو دور کی چیز ہے، رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق تو مخلوق کی نگاہ میں نمایاں ہونے کی نیت سے آدمی اگر حقیقت میں بھی اپنی جان دے دے تب بھی روزِ قیامت میں ایسے ’’شہید‘‘ کو جہنم میں پھینک دیاجائے گا۔

ایک آخری بات اِس ضمن میں یاد رکھنے کی یہ ہے کہ دینِ اسلام کا اصل مقصود انسان کا ’تزکیہ‘ ہے۔ یعنی انسان کو پاکیزہ بنانا۔ تاہم قربانی کے اِس عمل میں ہم لوگ نہ صرف جانور ذبح کرتے ہیں بلکہ اسلام کا یہ مقصود یعنی پاکیزگی بھی ذبح کر دیتے ہیں۔ جگہ جگہ گندگی کے جو مظاہر عید الاضحیٰ کے موقع پر دیکھنے میں آتے ہیں اس کی توقع کسی اچھے مسلمان سے تو کیا ایک اچھے انسان سے بھی نہیں کی جاسکتی۔ قرآن پاک میں قربانی کے جانوروں کے متعلق ارشاد ہوا ہے:

’’اللہ کو تمھاری ان قربانیوں کا گوشت یا خون کچھ بھی نہیں پہنچتا، بلکہ صرف تمھارا تقویٰ پہنچے گا‘‘ (الحج ۲۲:۳۷﴾

تقویٰ اور بندگی کی دلی کیفیات تو ہمارے ہاں پہلے ہی ناپید ہیں۔ اس پر مزید ستم ہم یہ کرتے ہیں کہ گوشت اپنے فرج میں رکھ کر ہم، زبان حال سے، رب العالمین کی بارگاہ اقدس میں صرف گندگی اور غلاظت کے ڈھیر بھیجتے ہیں۔ چنانچہ قربانی کے دنوں میں اس کی حکمت و مصلحت کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے گھر کی طرح اپنے علاقے کو صاف رکھنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ جس کی خلاف ورزی کم از کم ایک دینی تہوار کے موقع پر اور بالخصوص ایک عبادت کو انجام دیتے ہوئے بالکل نہیں ہونی چاہیے۔

بدھ, اکتوبر 01, 2014

آزادی



آزادی اپنی حد پہچانتے ہوئے اُس کے اندر پروازکرنےکا نام ہے۔

نورین تبسم

منگل, ستمبر 30, 2014

خواہش


مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ جو دیوانہ ہو پاگل ہو اس پر شریعت کا حکم لاگو کیوں نہیں ۔
تو سمجھ آگیا کہ اس میں خواہش بھی نہیں ہوتی ۔
یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں بھکاری بنا رکھا ہے ۔ یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں روگی بنا رکھا ہے ۔
یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں جانور ، درندہ بنا رکھا ہے ۔
اور یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنا رکھا ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کون کون سی خواہشوں کے زیر اثر ہیں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم

امید کے جگنو


کبھی کبھی ہوتا ہے نا کہ ہم خوش اور مگن ہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ زندگی ایک دائرے میں گھومتی محسوس ہوتی ہے اور تب ایک انجانی سی تھکن وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہر سفر بے سمت، ہر کام بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ انہی سوچوں میں گھرا دیکھ کر مایوسی اپنے پر پھیلاتی ہے اور ناامیدی ہمارے دل و دماغ پر اپنے پنجے گاڑھ لیتی ہے۔ ناامیدی ہم سے وہ معمولی خوشیاں بھی چھین لیتی ہے جو ہر ابھرتے سورج کے ساتھ ہمیں چلتے رہنے کی ہمت دیا کرتی ہیں۔ بے انتہا شور میں گھرے ہوئے بھی ہمیں اپنے اندر صرف ایک مہیب سناٹا سنائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ روشنیوں کی چکاچوند میں بھی ہر طرف اندھیرا چھاتا محسوس ہوتا ہے مگر اس اندھیرے میں بھی امید کے جگنو راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہانی کی طرح جس میں اندھیری رات میں بھٹکتے بلبل کو جگنو نے راستہ دکھایا تھا۔ امید کے جگنو زندگی کے بے مقصد دائروں میں بھٹکتے تھکن زدہ انسان کے ہاتھ تھامتے ہیں اور ناامیدی سے امید تک کا سفر طے کرواجاتے ہیں۔ سوچیں تو حیران رہ جائیں کہ ان معمولی، چھوٹی سی جانوں میں اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے کہ یہ میلوں پھیلے سناٹے کو اپنی ذرّوں جیسی روشنی سے چیرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ طاقت انہیں امید دیتی ہے۔ امید انہیں یقین بخشتی ہے کہ اجالا کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اندھیرے پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیسے کالی رات میں سورج کی پہلی ننھی سی کرن کچھ سہمی ہوئی سی آگے بڑھنے سے گھبراتی ہے تو امید کے جگنو اس کے ہاتھ تھام کر اسے بھی اس خوف سے نکال لاتے ہیں۔ پھر اسے دیکھتے دیکھتے سورج کی بہت سی کرنیں اندھیرے کو اجالے میں بدلنے میں اس کے ساتھ آکھڑی ہوتی ہیں۔ اصل ہمت پہلی کرن کو کرنی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ دقت کا سامنا اس پہلی کرن کو کرنا پڑتا ہے، مگر پھر امید کے جگنوؤں کے سہارے یہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس اندھیرے سے اجالے کے سفر میں بہت سی کرنیں اس کی ہم سفر ہوجاتی ہیں۔ اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، امید کے جگنو اس اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف ان پر اعتماد کرنے کی ہے۔ ہاتھ بڑھائیے اور امید کے جگنوؤں کے بڑھے ہاتھ تھام کر ان کے ساتھ اجالے کے سفر میں شامل ہوجائیں۔ ۔ ۔ زندگی بہت با مقصد لگنے لگے گی

جمعرات, ستمبر 25, 2014

آج کی بات۔۔۔۔ 25 ستمبر 2014



انسان کی زندگی میں رشتے درختوں کی مانند ھوتے ھیں. بعض اوقات اپنے مفاد کی خاطر ھم انہیں کاٹتے چلے جاتے ھیں لیکن جب وقت کی کڑی دھوپ ھمیں جھلسانے لگتی ھے تو سائے کی خاطر پھر کسی رشتے کی طرف ھی بھاگتے ھیں- .

منگل, ستمبر 23, 2014

آخری خواہش



گارڈین اخبار کی ایک ریسرچ تھی‘ اخبار کے ایک رپورٹر نے آخری سانس لیتے ہوئے مریضوں کی آخری خواہشات جمع کیں‘ یہ بے شمار مرتے ہوئے لوگوں سے ملا اور ان ملاقاتوں کی روشنی میں اس نے اپنی ریسرچ مکمل کی‘ ریسرچ کے مطابق مرنے والوں میں پانچ خواہشیں ’’کامن‘‘ تھیں‘ ان کا کہنا تھا ’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں جو عنایت کیا تھا‘ ہم اسے فراموش کر کے ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہے جو ہمارے نصیب میں نہیں تھیں۔

اللہ تعالیٰ اگر ہماری زندگی میں اضافہ کر دے یا یہ ہمیں دوبارہ زندگی دے دے تو ہم صرف ان نعمتوں کو انجوائے کریں گے جو ہمیں حاصل ہیں‘ ہم زیادہ کے بجائے کم پر خوش رہیں گے‘‘ ان کا کہنا تھا‘ ہم نے پوری زندگی لوگوں کو ناراض کرتے اور لوگوں سے ناراض ہوتے گزار دی‘ ہم بچپن میں اپنے والدین‘ اپنے ہمسایوں‘ اپنے کلاس فیلوز اور اپنے اساتذہ کو تنگ کرتے تھے‘ ہم جوانی میں لوگوں کے جذبات سے کھیلتے رہے اور ہم ادھیڑ عمر ہو کر اپنے ماتحتوں کو تکلیف اور سینئرز کو چکر دیتے رہے‘ ہم دوسروں کے ٹائر کی بلاوجہ ہوا نکال دیتے تھے‘ دوسروں کی گاڑیوں پر خراشیں لگا دیتے تھے اور شہد کے چھتوں پر پتھر مار دیتے تھے‘ ہم بہن بھائیوں اور بیویوں کے حق مار کر بیٹھے رہے‘ ہم لوگوں پر بلاتصدیق الزام لگاتے رہے۔

ہم نے زندگی میں بے شمار لوگوں کے کیریئر تباہ کیے‘ ہم اہل لوگوں کی پروموشن روک کر بیٹھے رہتے تھے اور ہم نااہل لوگوں کو پروموٹ کرتے تھے‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی مل جائے تو ہم عمر بھر کسی کو تکلیف دیں گے اور نہ ہی کسی سے تکلیف لیں گے‘ ہم ناراض ہوں گے اور نہ ہی کسی کو ناراض کریں گے‘‘ زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہماری مذہب کے بارے میں اپروچ بھی غلط تھی‘ ہم زندگی بھر لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے رہے‘ ہم انھیں دوزخی یا جنتی قرار دیتے رہے۔

ہم مسلمان ہیں تو ہم باقی مذاہب کے لوگوں کو کافر سمجھتے رہے اور ہم اگر یہودی اور عیسائی ہیں تو ہم نے زندگی بھر مسلمانوں کو برا سمجھا‘ ہم آج جب زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے دنیا کا ہر شخص ایک ہی جگہ سے دنیا میں آتا ہے اور وہ ایک ہی جگہ واپس جاتا ہے‘ ہم ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں اور قبر کے اندھیرے میں گم ہو جاتے ہیں‘ ہمیں اگر آج دوبارہ زندگی مل جائے یا اللہ تعالیٰ ہماری عمر میں اضافہ کر دے تو ہم مذہب کو کبھی تقسیم کا ذریعہ نہیں بنائیں گے‘ ہم لوگوں کو آپس میں توڑیں گے نہیں‘ جوڑیں گے‘ ہم دنیا بھر کے مذاہب سے اچھی عادتیں‘ اچھی باتیں کشید کریں گے اور ایک گلوبل مذہب تشکیل دیں گے۔

ایک ایسا مذہب جس میں تمام لوگ اپنے اپنے عقائد پر کاربند رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور دنیا میں مذہب کی بنیاد پر کوئی جنگ نہ ہو‘ آخری سانسیں گنتے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہم نے زندگی بھر فضول وقت ضایع کیا‘ ہم پوری زندگی بستر پر لیٹ کر چھت ناپتے رہے‘ کرسیوں پر بیٹھ کر جمائیاں لیتے رہے اور ساحلوں کی ریت پر لیٹ کر خارش کرتے رہے‘ ہم نے اپنی دو تہائی زندگی فضول ضایع کر دی‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی ملے تو ہم زندگی کے ایک ایک لمحے کو استعمال کریں گے‘ ہم کم سوئیں گے‘ کم کھائیں گے اور کم بولیں گے۔

ہم دنیا میں ایسے کام کریں گے جو دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو آسان بنائیں‘ جو محروم لوگوں کو فائدہ پہنچائیں اور زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہم عمر بھر پیسہ خرچ کرتے رہے لیکن ہم اس کے باوجود اپنی کمائی کا صرف 30 فیصد خرچ کر سکے‘ ہم اب چند دنوں میں دوزخ یا جنت میں ہوں گے لیکن ہماری کمائی کا ستر فیصد حصہ بینکوں میں ہو گا یا پھر یہ دولت ہماری نالائق اولاد کو ترکے میں مل جائے گی‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی ملی تو ہم اپنی دولت کا ستر فیصد حصہ ویلفیئر میں خرچ کریں گے‘ ہم مرنے سے قبل اپنی رقم چیریٹی کر جائیں گے۔

یہ مرنے والے لوگوں کی زندگی کا حاصل تھا‘ یہ زندگی میں خوشی حاصل کرنے کے پانچ راز بھی ہیں لیکن انسانوں کو یہ راز زندگی میں سمجھ نہیں آتے‘ ہم انسان یہ راز اس وقت سمجھتے ہیں جب ہم موت کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہیں‘ جب ہمارے ہاتھ سے زندگی کی نعمت نکل جاتی ہے‘ انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے‘ اس کی آنکھ اس وقت تک نہیں کھلتی جب تک اس کی آنکھیں مستقل طور پر بند نہیں ہو جاتیں اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ آنکھیں کھولنے کے لیے آنکھوں کے بند ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

اقتباس ' موت کی دہلیز پہ' از جاوید چوہدری

جمعرات, ستمبر 11, 2014

آج کی بات ۔۔۔ 11 ستمبر 2014



اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی سو چوں میں گم ہم ہمت ہارنے کے قریب ہوتے ہیں کہ اچانک کچھ ایسے الفاظ پڑهنے کو ملتے ہیں کہ حوصلہ بحال ہو جاتا ہے. یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے وه ہمیں امید کی کرن تهما دیتا ہے

سیلاب : رحمت یا زحمت



سیلاب : رحمت یا زحمت
 ( از ابو یحییٰ: ماہنامہ انذار، اکتوبر 2014)

پاکستان ایک دفعہ پھر سیلاب کی زد میں ہے۔سیکڑوں لوگ مارے جاچکے ہیں۔ہزاروں ایکڑ زرعی اور رہائشی زمین زیر آب آچکی ہے ۔ لاکھوں لوگ متاثرہوچکے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا اور آخری سیلاب نہیں ۔ فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق پاکستان میں اب تک دو درجن بڑے سیلاب آئے ہیں ۔ان میں سب سے بڑا سیلاب 2010کا تھا۔ یہ وہی سیلاب تھا جس میں بعض نادان مذہبی دانشوروں نے یہ غیر ضروری بحث اٹھادی کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ہم نے اُس وقت بھی پے در پے مضامین لکھ کر قرآ ن مجید اور عقل عام کی روشنی میں یہ ثابت کیا تھا کہ سیلاب عذاب نہیں ہوتا، اصل عذاب وہ نااہل فکری اور سیاسی قیادت ہوتی ہے جسے لوگ اپنے جذبات و تعصبات کی بنا پر خود اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک زرعی ملک کے لیے بارشیں اور ان سے آنے والا سیلاب اللہ کی عظیم نعمت ہے۔خاص کر ایک ایسے دور میں جب دنیا میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرگیا ہو۔ سیلاب اپنے ساتھ پانی کا ایسا ذخیرہ لاتا ہے جسے ڈیموں میں جمع کرلیا جائے تو کئی برس تک پانی کی کمی کا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے۔سیلاب اپنے ساتھ ایسی زرخیر مٹی لاتا ہے جو مردہ زرعی زمینوں کو دوبارہ زندہ کردیتی ہے۔ مگر ان فوائد سے وہی قومیں فائدہ اٹھاتی ہیں جن کی لیڈر شپ مال بنانے سے زیادہ ڈیم بنانے اور واٹر مینجمنٹ کو اہم سمجھتی ہو۔

مگر جہاں دانشور سیلاب میں چھپے مواقع دیکھنے کے بجائے عذاب کی دہائی دیتے رہیں، جہاں سیاسی رہنماصرف سیلاب کے زمانے میں متحرک ہوتے ہوں وہاں ہر دفعہ سیلاب آنے پر وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمارے ہاں ان دو درجن سیلابوں میں ہوا ہے۔یعنی جان و مال کی بربادی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی دنیا میں ہر مصیبت میں ایک خیر پوشیدہ ہوتی ہے۔ مگر یہ خیر اُسی کو ملتی ہے جو اسے لینے کے لیے تیار ہو۔ باقیوں کو صرف بربادی ملتی ہے۔

سوموار, ستمبر 08, 2014

آج کی بات۔۔۔ 08 ستمبر 2014



تنقید اور تضحیک میں فرق بنیادی ہے- تنقید ضمیر کو مخاطب کرتی ہے اور تضحیک عزت نفس کو - تنقید کا مقصد جاننا اور تضحیک کا مقصد بھڑاس نکالنا ہے- تنقید جواب کا تقاضہ کرتی ہے اور تضحیک خاموشی کا.

اتوار, ستمبر 07, 2014

روٹی



اسے کاٹا گیا پیسا گیا گوندھا گیا لیکن
سبق گندم سے دنیا لینا پھر بھی بھول جاتی ہے
کسی بھوکے کے کام آنے سے پہلے غور سے دیکھو

دہکتی آگ پر روٹی خوشی سے پھول جاتی ہے

ہفتہ, ستمبر 06, 2014

یوم دفاع



تحریر: ملک جہانگیر اقبال

٦ ستمبر١٩٦٥ ..
یعنی یوم دفاع پاکستان . وہ دن جب پاکستانی افواج اور خاص توڑ پر پاک فضائیہ نے بہادری کی عظیم داستانیں رقم کی ، جب اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر یہ باور کرا دیا تھا کہ جنگیں محض اسلحے یا حجم سے نہیں لڑی جاتی ہیں بلکہ افواج میں جان قربان کرنے کا جذبہ ہو اور اسے قوم کی حمایت حاصل ہو تو وہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو زیر کر سکتے ہیں .

میں تاریخ کے واقعات کم لکھتا ہوں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق اور جذبہ تو حاصل کر سکتے ہیں پر یہ یاد رہے ہر آنے والا دن مختلف ہوتا ہے ہر آنے والی جنگ الگ نوعیت کی ہوتی ہے . اور ہمیں یاد رکھنا چاہیئے اب جو جنگ ہوئی وہ حجم میں شاید ١٩٦٥ کی جنگ سے بہت بڑی ہوگی اور بہ یک وقت بہت سے دشمنوں سے بہت سے محاذوں پر لڑنا ہوگا .
اگر آپ گزشتہ ١٠ سال ہی دیکھ لیں تو ہماری افواج دنیا کی مشکل ترین جنگ میں الجھی ہوئی ہیں جس میں دشمنوں کی تعداد اور اقسام بدلتی جارہی ہیں . ایسا لگتا ہے جیسے پوری ترتیب کے ساتھ دشمن نے مہرے کھڑے کر دیے ہیں کہ ایک کے گرتے ہی دوسرا مہرہ آن کھڑا ہوتا ہے ایک نئی شاطر سوچ اور گھناونے منصوبے کے ساتھ .
اگر میں یہ کہوں کے گزشتہ ١٠ سالوں سے اس قوم کا ہر دن یوم دفاع ہے تو غلط نہ ہوگا اور یقیناً مورخ جب تاریخ لکھے گا تو ان دس سالوں میں ہونے والی دس ہزار سازشوں پر اسکا قلم ضرور خشک ہوگا اور وہ بار بار حقائق پلٹ پلٹ کر دیکھے گا کہ کیا واقعی کوئی قوم اور اسکی سپاہ اتنی سازشوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی ہمیشہ کی طرح ہشاش بشاش تھی . کیا واقعی دشمن تیر پر تیر پھینکے جارہا تھا کبھی سرحد پار سے اور کبھی گھر کے اندار سے ہی اور یہ قوم اور اس کی سپاہ اپنے سینوں پر ان تیروں کو روکتے رہے ؟ یہ سب جاننے کے بعد مورخ یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ یقیناً یہ ایک عظیم قوم ہے ..
ستمبر ١٩٦٥ میں دشمن واضح تھا نگاہیں سرحد پر تھیں کہ یہیں سے دشمن حملہ کرے گا . پر آج کے ستمبر کو اگر ستم گر کہا جاۓ تو کچھ غلط نہ ہوگا کہ اس ستم گر میں دشمن چہار سو پھیل چکا ہے اب اگر ایک نگاہ سرحد پر رکھنی ہے تو دوسری نگاہ گھر کے اندر موجود دشمن کے آلہ کاروں پر بھی رکھنی ہے سرکے سامنے اور سر کے پیچھے دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے . یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ اس خطے کے مسلمانوں کے خلاف سازش بنی گئی ہو یا اس خطے کے مسلمانوں کی صفحوں میں غدار پیدا کئے گئے ہوں ، اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو محمود غزنوی کی سپاہ بھی جب ہندوستان آئی تھیں تو اس سازشوں کی حسین سرزمین نے اسکے لوگوں میں بھی سلطان کے خلاف باغی پیدا کے . الله کو اکبر ماننے والے ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوئے آخر میں فتح تو حق کی ہی ہوئی اور سلطان سرخرو ہوا پر یہ حقیقت اسے ماننا پڑی کہ ہندوستان جیسی سازشی زمین اور اس میں رہنے والی برہمن قوم جیسی شاطر سوچ شاید ہی کسی اور قوم میں ہو .
یہی وجہ ہے کہ آج کا ستمبر ١٩٦٥ کے ستمبر سے بہت زیادہ سخت ہے اب قوم بھی مختلف حصّوں میں بٹی ہوئی ہے اور افواج بھی کہیں سیلاب دیکھ رہی ہے کہیں ضرب عضب اور کہیں دیگر اندرونی اور بیرونی خطرات . پہلے دشمن واضح تھا اور دشمن کا نعرہ " بھارت ماتا کی جے ہو " تھا اور اب دشمن واضح نہیں ہے اور اب دشمن بھی اسکو بنا دیا گیا ہے جو نعرہ " الله اکبر " کا لگاتا ہے ، یعنی شاطر سوچ نے ہماری صفحوں میں ہی دشمن پیدا کردیا جو لڑائی وہ دوبدو لڑتا تھا اب اپنے مہروں کے ذریعے ہزاروں میل دور بیٹھ کر لڑ رہا ہے . اسکی سوچ کل بھی پاکستان کی بربادی تھی اور آج بھی پاکستان کی بربادی ہی ہے . ہاں پہلے وہ خود لڑتا تھا اور اب اسکے لئے لڑنے والے بہت سے میر جعفر پیدا ہو چکے ہیں .
سوات آپریشن میں شامل ایک فوجی دوست کے بقول " جب میں سامنے سے الله اکبر کی سدا سنتا تھا تو کچھ دیر کو اپنا فائر بند کردیتا تھا کہ کہیں اسکی صدا ادھوری نہ رہ جاۓ اور بے حرمتی نہ ہوجاۓ ، پر دشمن نے بہت گہری چال چلی تھی ہمارے مخالف سے الله اکبر کی صدا تو آتی تھی پر ان کا کوئی کام ایسا نہیں تھا کہ جس سے یہ کہا جاۓ کہ وہ واقعی الله کو اکبر مانتے ہیں .
ہمارے خلاف جو لڑ رہا تھا وہ ہمارے ہی جیسا تھا پر پھر بھی ہم سا نہیں رہا تھا ...

جس طرح ہم آج ستمبر ١٩٦٥ کے شہیدوں کو یاد کرتے ہیں ٹھیک ویسے ہی پچھلے دس سالوں سے جاری تاریخ کی سب سے عجیب نوعیت کی جنگ میں شہید ہونے والوں کو بھی ہمیں یاد رکھنا ہوگا ، میرے چار دوست سوات آپریشن میں شہید ہوئے ، میں خود ہمیشہ سے ہی ایک ادھورا سا مسلمان رہا ہوں دین کی زیادہ سمجھ نہیں رکھتا پر ان دوستوں کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے بے شک وہ اپنے ایمان میں سچے تھے اسی لئے شہادت کا درجہ پا گئے ، میں کبھی ان کے گھر والوں سے ملنے نہیں گیا ، شاید وہاں جاؤں اور اپنے دوستوں کو نہ دیکھ پاؤں تو اپنے آنسو نہیں ضبط کر پاؤں گا کیوں کہ جوان اولاد کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر منوں مٹی تلے چھوڑ آنا اور پھر بھی چہرے پر اطمینان کا ہونا صرف ایک شہید کے باپ کا ہی طرہ امتیاز ہوسکتا ہے اور اپنے لخت جگر کو یاد کر کے کبھی آنکھیں بھگونا اور کبھی بے اختیار مسکرانا ایک شہید کی ماں کا ہی ہنر ہوسکتا ہے ، مجھ جیسے لوگ اتنا بڑا دل نہیں رکھتے پر بقول استاد جی " یہ جو شہید ہوتے ہیں نہ . انکے والدین پر بھی الله پاک کا خاص کرم ہوتا ہے اور جب وہ پاک ذات کہتی ہے کہ شہید کو مردہ نہ کہو تو پھر بتا وہ شہیدوں کے والدین کے دلوں کو غم میں کیسے ڈال سکتا ہے ؟ جسکی اولاد تا قیامت امر ہوگئی ہو وہ دل بھلا پشیمان کیوں ہو ؟ "
میں آج ان تمام بہنوں کو مبارک باد دیتا ہوں جن کے بھائی ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگئے ان ماؤں اور ہر اس بوڑھے باپ کو سلام جنھوں نے اپنا لخت جگر قربان کر دیا اور اس شہیدوں کی سرزمین کو رونق بخش دی. بیشک ہم اس کا بدلہ نہیں اتار سکتے پر اتنا ضرور پتا ہے کہ الله کے پاس آپکے صبر اور قربانی کا بہت بہترین اجر ہے اور بے شک ایک وہی ذات ہے جو اس قربانی کا ٹھیک ٹھیک اجر دے سکتا ہے . 

اے راہِ حق کے شہیدو



"اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو

لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لیے تم نے
بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو
سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے
تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسولِ پاکﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا
علیؓ تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے
حسینؓ پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو

جنابِ فاطمہؓ جگرِ رسول کے آگے
شہید ہو کے کیا ماں کو سرخرو تم نے
جنابِ حضرتِ زینبؓ گواہی دیتی ہیں
شہیدو رکھی ہے بہنوں کی آبرو تم نے
وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
اے راہِ حق کے شہیدو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں "